কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭২৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض)
٣٧٢٨١۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی گئی کہ وہ مزاح کرتے رہتے ہیں اور کچھ باطل امور کا ان سے ظہور ہوتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو چونکہ اسمیں ایک پوشیدہ بات ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37282- عن الزهري قال: شكي عبد الله بن حذافة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه صاحب مزاح وباطل، فقال: اتركوه فإن له بطانة يحب الله ورسوله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض)
٣٧٢٨٢۔۔۔ ابورفع کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے روم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اس میں ایک شخص تھا جسے عبداللہ بن حذافہ (رض) کہا جاتا تھا اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے تھا اتفاقارومی اسے قید کرکے اپنے ملک میں لے گئے وہاں جاکر انھوں نے اپنے بادشاہ سے کہا یہ شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریبی ساتھیوں میں سے ہے روم کے سرکش گمراہوں نے حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) سے کہا : اگر تم نصرانی ہوجاؤ تو ہم تمہیں اپنی حکومت اور سلطنت میں شامل کرلیں گے حضرت عبداللہ (رض) نے جواب دیا : اگر تم مجھے اپنی حکومت کا سب کچھ دے دو اور ہر وہ چیز دے دو جس کے عرب مالک ہیں میں پل بھرکے لیے بھی دین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روگرسانی نہیں کروں گارومیوں نے آپ (رض) کو دھمکی دی ہم تمہیں قتل کردیں گے فرمایا : تم اس سے اپنا جی بھرلو۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم سے انھیں سولی پہ لٹکادیا گیا اور تیراندازوں کو حکم دیا کہ اسے قریب سے ہاتھوں اور ٹانگوں کے درمیان تیرمارو۔ وہ برابر نصرانیت کی پیشکش کرتا رہا لیکن آپ برابر انکار کرتے رہے تاہم آپ کو تختہ دار سے گلے میں رسی ڈالنے سے قبل اتار دیا گیا پھر روم کے بادشاہ نے ایک بڑی دیگ منگوائی اسمیں پانی بھروایا پھر اس کے نیچے آگ جلوائی جب پانی خوب کھول گیا تو بادشاہ نے دو مسلمان قیدی طلب کیے اور پھر ان میں سے ایک کھولتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا آپ (رض) کو ایک بار پھر نصرانیت کی پیشکش کی گئی مگر آپ انکار پر مصر رہے پھر بادشاہ نے آپ (رض) کو دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جب آپ (رض) کو لے جایا جانے لگا تو آپ (رض) رو پڑے ، بادشاہ کو آپ (رض) کے رونے خبردی گئی وہ سمجھا شاید دیگ کو دیکھ کر گھبرا گیا ہو واپس کرنے کا حکم دیا ایک بار پھر نصرانیت کی پیشکش کی آپ نے انکار کردیا بادشاہ نے پوچھا : پھر تم روئے کیوں ہو ؟ فرمایا : مجھے اس چیز نے رلایا ہے کہ میری ایک ہی جان ہے جو دیگ میں پڑتے ہی ختم ہوجاوے گی میں چاہتا ہوں کہ میرے جسم پر جتنے بال ہیں ان کے بقدر مجھے ہر بارنئی جان ملتی رہے جو اللہ کی راہ میں قربان ہوتی رہے۔ رومیوں کے بادشاہ نے کہا : کیا تم میرے سر کا بوسہ لے سکتے ہو میں تمہارا راستہ چھوڑدوں گا (یعنی تمہیں رہا کردوں گا) عبداللہ (رض) نے فرمایا : میرا یہ بوسہ سب مسلمان قیدیوں کی طرف سے ہوگا (لہذا تمہارا ی قید میں جو مسلمان ہیں وہ تمہیں رہا کرنے ہوں گے) بادشاہ نے آپ (رض) کے اس مطالبہ کو منظور کرلیا۔ عبداللہ (رض) کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا یہ کافر اللہ کا دشمن ہے اگر اس کے سر کا بوسہ لے کر میں اپنی اور مسلمان قیدیوں کی جان بخشی کرالوں اس میں کیا حرج ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ (رض) بادشاہ کے قریب ہوئے اور اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور اس کے بدلہ میں مسلمان قیدی آپ (رض) کے سپرد کردیئے گئے جب حضرت عمر (رض) کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو انھوں نے فرمایا : ہر مسلمان کا حق بنتا ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ (رض) کے سرکا بوسہ لے میں اپنے سے ابتداء کرتا ہوں حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن حذافہ (رض) کے سر کا بوسہ لیا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان وابن عساکر)
37283- عن أبي رافع قال: وجه عمر بن الخطاب جيشا إلى الروم وفيهم رجل يقال له عبد الله بن حذافة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فأسره الروم فذهبوا به إلي ملكهم فقالوا له: إن هذا من أصحاب محمد، فقال له الطاغية: هل لك أن تنصر وأشركك في ملكي وسلطاني؟ فقال له عبد الله: لو أعطيتني جميع ما تملك وجميع ما ملكته العرب على أن أرجع عن دين محمد صلى الله عليه وسلم طرفة عين ما فعلت! قال: إذن أقتلك، قال: أنت وذاك! فأمر به فصلب، وقال للرماة: ارموه قريبا من يديه قريبا من رجليه، وهو يعرض عليه وهو يأبى، ثم أمر به فأنزل، ثم دعا بقدر فصب فيها ماء حتى احترقت، ثم دعا بأسيرين من المسلمين فأمر بأحدهما فألقي فيها وهو يعرض عليه النصرانية وهو يأبى ثم أمر به أن يلقى فيها، فلما ذهب به بكى، فقيل له إنه قد بكى فظن أنه جزع فقال: ردوه فعرض عليه النصرانية فأبى، قال: فما أبكاك إذن؟ قال: أبكاني أني قلت في نفسي: تلقى الساعة في هذه القدر فتذهب، فكنت أشتهي أن يكون بعدد كل شعرة في جسدي نفس تلقى في الله،قال له الطاغية: هل لك أن تقبل رأسي وأخلي عنك؟ فقال له عبد الله: وعن جميع أسارى المسلمين؟ قال: وعن جميع أسارى المسلمين، قال عبد الله: فقلت في نفسي عدو من أعداء الله أقبل رأسه يخلي عني وعن أسارى المسلمين لا أبالي، فدنا منه فقبل رأسه فدفع إليه الأسارى فقدم بهم على عمر فأخبر عمر بخبره، فقال عمر: حق على كل مسلم أن يقبل رأس عبد الله بن حذافة وأنا أبدأ، فقام عمر فقبل رأسه. "هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبدالجبار بن حارث (رض)
٣٧٢٨٣۔۔۔” مسند عبدالجبار (رض) “ عبداللہ بن کریر بن ابی طلاسہ بن عبدالجبار بن حارث بن مالک الجدسی ثم المنادی اپنے والد اور داد کے واسطہ سے حضرت عبدالجباربن مالک (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : میں سرزمین ” سراۃ “ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عربوں کا مروجہ سلام انعم صباحا “ کہا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے محمد اور اس کیا امت کو اس کے علاوہ اور الفاظ میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ میں نے فوراً کہا : یارسول اللہ ! السلام علیک ! آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور پھر مجھ سے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے اسلام عرض کیا : میرا نام جباربن حارث ہے۔ فرمایا : تمہارا نام عبدالجبار بن حارث ہے میں نے عرض کی : جی ہاں میں عبدالجبار بن حارث ہوں ؟ میں نے اسلام قبول کرلیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کرلی۔ پھر آپ کو اطلاع کی گئی کہ یہ منادی اپنی قوم کے شہسوراوں میں سے ایک شہسوار ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سواری کے لیے ایک گھوڑا عطا کیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیام کیا اور آپ کی معیت میں لڑتا رہا ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز نہ سنی فرمایا : کیا وجہ ہے میں حدسی کے گھوڑے کی ہنہناہٹ نہیں سن رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے خبر ملی تھی کہ آپ کو ہنہناہٹ سے اذیت ہوتی ہے اس لیے میں نے گھوڑا خصی کردیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کے خصی کرنے سے منع فرمایا مجھے کہا گیا : اگر تم بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک نوشتہ کا سوال کرو جس طرح تمہارا ے چچازاد بھائی تمیم داری نے کیا تھا۔ میں نے کہا : ابھی سوال کروں یا بعد میں ؟ صحابہ (رض) نے کہا : بلکہ ابھی سوال کرو میں نے کہا : ابھی نہیں کرتا ہوں لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کل میری فریاد کریں۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر وقال حدیث غریب لااعلم انی کتبتہ الامن ھذا الوجہ)
37284- "مسنده" عن عبد الله بن الكدير بن أبي طلاسة بن عبد الجبار بن الحارث بن مالك الحدسي ثم المنادى عن أبيه عن جده أبي طلاسة عن عبد الجبار بن الحارث بن مالك قال: وفدت على رسول الله صلى الله عليه وسلم من أرض سراة فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فحييته بتحية العرب فقلت: أنعم صباحا! فقال: إن الله عز وجل قد حيا محمدا وأمته بغير هذه التحية بالتسليم بعضها على بعض، فقلت: السلام عليك يا رسول الله! فقال لي: وعليك السلام، ثم قال لي: ما اسمك؟ قلت: الجبار بن الحارث، فقال: أنت عبد الجبار بن الحارث فقلت: وأنا عبد الجبار بن الحارث، فأسلمت وبايعت النبي صلى اله عليه وسلم،فلما بايعت قيل له: إن هذا المنادى فارس من فرسان قومه، فحملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على فرس، فأقمت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أقاتل معه، ففقد رسول الله صلى الله عليه وسلم صهيل فرسي الذي حملني عليه فقال: مالي لا أسمع صهيل فرس الحدسي؟ فقلت: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم! بلغني أنك تأذيت من صهيله فأخصيته، فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن إخصاء الخيل، فقيل لي: لو سألت النبي صلى الله عليه وسلم كتابا كما سأله ابن عمك تميم الداري! فقلت: أعاجلا سأله أم آجلا؟ فقالوا: بل عاجلا سأله، فقلت عن العاجل رغبت ولكن أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يغيثني غدا بين يدي الله عز وجل."ابن منده، كر وقال: حديث غريب لا أعلم أني كتبته إلا من هذا الوجه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عروہ بن ابی جعد البارقی (رض)
٣٧٢٨٤۔۔۔ عروہ بارتی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک دینار دیا اور حکم دیا کہ اس سے ایک بکری خریدلاؤ عروہ (رض) نے ایک دینار سے دو بکریاں خرید لائیں اور ان میں سے ایک پھر ایک دینار کے بدلہ میں بیچ دیا یوں ایک بکری اور ایک دینار (نقد) لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیع کے لیے دعا فرمائی۔ چنانچہ عروہ (رض) اگر مٹھی بھی خریدتے اس میں انھیں نفع ہوتا۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)

فائدہ :۔۔۔ عروہ بن ابی جعد (رض) نے کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی جب کہ حدیث مذکور بالا بخاری نے بھی روایت کی ہے۔ دیکھئے صحیح البخاری کتاب علامات النبوۃ اور ابوداؤد نے کتاب البیوع باب فی المصائب یخالف میں ذکر کی ہے۔
37285- عن عروة البارقي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطاه دينارا يشتري له بها شاة، فاشترى له شاتين، فباع إحداهما بدينار وأتى النبي صلى الله عليه وسلم بدينار وشاة، فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم بالبركة في بيعه، فكان لو اشترى ترابا لربح فيه. "عب، ش
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت غرفہ بن حارث کندی (رض)
٣٧٢٨٥۔۔۔ کعب بن علقمہ کی روایت ہے کہ حضرت غرفہ بن حارث کندی (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کا شرف حاصل ہے ایک مرتبہ غرفہ (رض) ایک شخص کے پاس گزرے اس شخص سے ان کا عہدوپیماں تھا غرفہ (رض) نے اسے اسلام کی دعوت دی اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دیں غرفہ (رض) نے اسی جگہ اسے قتل کردیا۔ حضرت عمروبن العاص (رض) نے کہا : یہ لوگ عہدوپیماں کی وجہ سے ہمارے اوپر بھروسہ کرتے ہیں غرفہ (رض) نے جواب دیا : ہم نے کافروں کے ساتھ یہ عہد نہیں کیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرکے ہمیں اذیت پہنچائیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے ابوحارث ! میں نے تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فلاں اور فلاں دن ایک فرمان بردار گھوڑے پر سوار دیکھا تھا کیا میں تمہیں ایک اور گھوڑے پر سوار نہ کروں ؟ غرفہ (رض) نے کہا اے عمرو ! مجھے نہیں لگتا کہ تم گھوڑوں پر وار کرسکتے ہو اور یہ کہاں ہوسکتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37286- عن كعب بن علقمة أن غرفة بن الحارث الكندي له صحبة من النبي صلى الله عليه وسلم مر على رجل كان له عهد فدعاه غرفة إلى الإسلام، فسب النبي صلى الله عليه وسلم فقتله غرفة، فقال له عمرو بن العاص: إنما يطمئنون إلينا للعهد! قال: وما عاهدناهم على أن يؤذونا في الله ورسوله، فقال له عمرو: يا أبا الحارث! قد رأيتك مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم كذا وكذا على فرس ذلول أفلا نحملك على فرس؟ فقال: ما عهدي بك يا عمرو تحمل على الخيل فمن أين هذا. "كر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض)
٣٧٢٨٦۔۔۔ عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کی خبر پہنچی میں اپنی بکریوں میں تھا میں نے وہیں بکریاں چھوڑیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے بیعت کے لیں ارشاد فرمایا : بیعت اعرابیہ چاہتے ہو یا بیعت ہجرت ؟ میں نے عرض کیا : نہیں بلکہ میں بیعت ہجرت چاہتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے بیعت لی اور میں نے آپ کے ساتھ قیام کرلیا پھر آپ نے فرمایا : جو شخص معد کی اولاد میں سے یہاں ہو وہ کھڑا ہوجائے کچھ لوگ کھڑے ہوئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا آپ نے فرمایا : تو بیٹھ جا۔ آپ نے تین مرتبہ یہی کیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں معد کی اولاد میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ میں نے عرض کیا : پھر میں کس کی اولاد سے ہوں ؟ فرمایا : تم فضاعہ بن مالک بن حمیر کی اولاد میں سے ہو۔ (رواہ ابن

مندہ وابن عساکر)
37287- عن عقبة بن عامر قال: بلغني قدوم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا في غنيمة لي، فرفضتها وقدمت المدينة على النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت يا رسول الله! بايعني، قال: بيعة إعرابية تريد أو بيعة هجرة؟ قلت: لا، بل بيعة هجرة، فبايعني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقمت معه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا! من كان هنا من معد فليقم، فقام رجال وقمت معهم، فقال: اجلس أنت، فصنع ذلك ثلاث مرات، فقلت: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم! أما نحن من معد؟ قال: لا، قلت: ممن نحن؟ قال: أنتم من قضاعة بن مالك بن حمير. "ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن حریث (رض)
٣٧٢٨٧۔۔۔ حضرت عمروبن حریث (رض) کہتے ہیں : میرے والد حریث (رض) مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے آپ نے میرے لیے دعائے برکت کی اور میرے لیے مدینہ میں کمان کے ساتھ ایک دائرہ کھینچا اور فرمایا : میں تمہیں اضافہ کروں گا۔ میں اضافہ کروں گا۔ (رواہ ابونعیم)

عجلی کہتے ہیں : عمروبن حمق (رض) سے صرف دوحدیثیں مروی ہیں۔
37288- عن عمرو بن حريث قال: انطلق بي أبي حريث إلى النبي صلى الله عليه وسلم فمسح رأسي ودعا لي بالبركة، وخط لي دارا بقوس بالمدينة فقال: أزيدك أزيدك."أبو نعيم"."قال العجلي: لم يرو عنه غير حديثين"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن حمق (رض)
٣٧٢٨٨۔۔۔ عمروبن حمق (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پلایا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! اسے لازوال شباب سے نواز، چنانچہ اسی (٨٠) سال ان کی عمر ہوچکی تھی اور ان کا ایک بال بھی سفید نہیں دیکھا گیا۔ (رواہ البغوی والدیلمی وابن عساکر)
37289- عن عمرو بن الحمق أنه سقى رسول الله صلى الله عليه وسلم لبنا،فقال : اللهم ! متعه بشبابه ، فمرت عليه ثمانون سنة لم ير شعرة بيضاء (البغوي والديلمي ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن حمق (رض)
٣٧٢٨٩۔۔۔ اجلح بن عبداللہ کندی کہتے ہیں میں نے زید بن علی عبداللہ بن حسن وجعفر بن محمد ومحمد بن عبداللہ بن حسن (ان سب) کو ان لوگوں کا تذکرہ کرتے سنا ہے جو حضرت علی (رض) کے ساتھ شریک تھے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے تھے یہ سب اپنے آباؤ اجداد اور اپنے خاندان والوں کا تذکرہ کررہے تھے میں نے ان کے علاوہ ایک اور شخص کو حضرت علی (رض) کے رفقاء کا تذکرہ کرتے سنا اور ان میں اس نے حضرت عمروبن حمق (رض) خذاعی کا ذکر بھی کیا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا : کیا میں تمہیں جنت کی نشانی نہ بتلادوں ؟ عرض کیا : یارسول اللہ ضرور بتلائیں۔ اتنے میں حضرت علی (رض) سامنے سے گزرے آپ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم جنت کی نشانی ہیں چنانچہ جب حضرت عثمان (رض) قتل کردیئے گئے اور لوگوں نے حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو عمرو بن حمق (رض) حضرت علی (رض) کے ساتھ لازم ہوگئے حضرت علی (رض) کے ساتھ رہے۔ حتیٰ کہ حضرت علی (رض) شہید کردیئے گئے پھر حضرت معاویہ (رض) نے اپنی فوج کو عمروبن حمق (رض) کی تلاش کا حکم دیا اور اپنے پاس لانے کو کہا۔ اجلح کہتے ہیں مجھے عمران بن سعید نے حدیث سنائی ہے جب کہ ان کے اور عمران بن سعید (رض) کے درمیان مواخات قائم کی تھی۔ عمران بن سعید (رض) کہتے ہیں : جب ان کی تلاش جاری تھی وہ ان کے ساتھ چل پڑے اور عمرو (رض) نے مجھے کہا : اے رفاعہ ! لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خبر کی ہے کہ میرے خون میں جنات اور انسان دونوں شریک ہوں گے مجھے کہا : اے عمرو ! اگر تم کسی آدمی پر گرفت پالو تو اسے قتل نہ کرنا کہیں تم اللہ تعالیٰ سے دھوکا دینے والے کی صورت میں نہ ملو، رفاعہ کہتے ہیں : عمرو کی بات پوری نہ ہونے پائی تھی میں نے کچھ سواروں کے سر ہلتے دیکھے میں نے اسے الوداع کہا اور یکایک ایک سانپ نے چھلانگ لگائی اور انھیں ڈس لیا اتنے میں سوار بھی پہنچ گئے اور انھوں نے عمرو (رض) کا سرتن سے جدا کتدیا اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو۔ (کسی مسلمان کا) تن سے جدا کیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37289 عن الاجلح بن عبد الله الكندي قال : سمعت زيد بن علي وعبد الله بن الحسن وجعفر بن محمد ومحمد بن عبد الله بن الحسن يذكرون تسمية من شهد مع علي من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم ذكره عن آبائه وعمن أدرك من أهله ، وسمعته أيضا من غيرهم فذكرهم وذكر فيهم عمرو بن الحمق الخزاعي ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : يا عمرو ! أتحب أن أريك آية الجنة.قال : يا رسول الله ! فمر علي ، فقال : هذا وقومه آية الجنة.

فلما قتل عثمان وبايع الناس عليا لزمه فكان معه حتى أصيب ، ثم كتب معاوية في طلبه وبعث من يأتيه به.قال الاجلح : فحدثني عمران بن سعيد البجلي وكان مؤاخيا لعمرو بن الحمق أنه خرج معه حين طلب فقال لي ، يا رفاعة ! إن القوم قاتلي ، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرني أن الجن والانس يشترك في دمي ، وقال لي : يا عمرو ! إن آمنك رجل على دمه فلا تقتله فتلقى الله بوجه غادر ، قال رفاعة : فما أتم حديثه حتى رأيت أعنة الخيل فودعته وواثبته حية فلسعته ، وأدركوه فاحتزوا رأسه ، فكان أول رأس أهدر في الاسلام (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن حمق (رض)
٣٧٢٩٠۔۔۔ عبداللہ بن ابی رافع کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے عمروبن حمق (رض) کی تلاش میں اپنے آدمی بھیجے تاکہ مل جانے پر انھیں قتل کریں عمرو (رض) جزیرہ کی طرف بھاگ گئے ان کے ساتھ حضرت علی (رض) کے ساتھیوں میں سے ایک شخص بھی تھا۔ اے زاہر کہا جاتا تھا جب یہ دونوں کسی وادی میں اترے عمرو (رض) کو سانپ نے ڈس لیا رات کا وقت تھا صبح ہوئی تو ان کا بدن پھول چکا تھا زہر سے کہا : مجھ سے الگ ہوجاؤ چونکہ میں نے اپنے خلیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خبر کی ہے کہ میرے خون میں جن وانس شریک ہوں گے لہٰذا ضروری ہے کہ مجھے قتل کیا جائے گا اس وادی میں جن نے مصیبت پہنچادی ہے وہ دونوں حضرات اسی شش وپنچ میں تھے کہ یکایک انھوں نے گھڑسواروں کے سر ہلتے ہوئے دیکھے جو ان کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ زاہر سے کہا تم چپ جاؤ اور جب مجھے قتل کردیا جائے یہ لوگ میرا سرتن سے جدا کرکے لیتے جائیں گے تم میرے جسد کی طرف لوٹ آناوارا سے دفن کردینا۔ زاہر نے کہا : بلکہ میں ان پر تیروں کی بارش کروں گا جب میرے تیر ختم ہوجائیں پھر بھلے مجھے تمہارے ساتھ قتل کردیا جائے عمرو (رض) نے کہا : نہیں لیکن میں تمہیں اپنی طرف سے ایک چیز زادراہ کی طور پردوں گا کو تمہیں نفع پہنچائے گی مجھ سے جنت کی نشانی سن لوجو مجھے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی۔ وہ نشانی علی بن ابی طالب (رض) ہیں چنانچہ زاہر روپوش ہوگئے تلاش کرنے آئے ان میں سے گندمی رنگ کا ایک شخص نیچے اترا اور عمرو (رض) کا سر تن سے جدا کرددیا اسلام میں یہ پہلا سر ہے جس کی لوگوں میں تشہیر کی گئی۔ لوگوں کے چلے جانے کے بعد زاہر باہر نکلے اور لاش دفنا دی۔ (رواہ ابن عساکر)
37290 عن عبد الله بن أبي رافع أن معاوية طلب عمرو بن الحمق ليقتله فهرب منه نحو الجزيرة ومعه رجل من أصحاب علي يقال له زاهر ، فلما نزلا الوادي نهشت عمرا حية من جوف الليل فأصبح منتفخا ، فقال لزاهر : تنح عني فان خليلي رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أخبرني أنه سيشترك في دمي الانس والجن ولابد لي من أن أقتل فقد أصابتني بلية الجن بهذا الوادي ، فبينما هما على ذلك إذ رأيا نواصي الخيل في طلبه ، فأمر زاهرا أن يتغيب ، قال : فإذا قتلت فانهم يأخذون رأسي فارجع إلى جسدي فادفنه ، فقال له زاهر : بل أنثر نبلي ثم أرميهم حتى إذا فنيت نبلي قتلت معك ، قال : لا ، ولكني سأزودك مني ما ينفعك الله به فاسمع مني آية الجنة محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلامتهم علي بن أبي طالب ، وتوارى زاهر فأقبل القوم فنظروا إلى عمرو فنزل إليه رجل منهم آدم فقطع رأسه ، وكان أول رأس في الاسلام نصب في الناس ، وخرج زاهر إليهفدفنه (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن حبیب بن عبد شمس (رض)
٣٧٢٩١۔۔۔” مسند ثعلبہ بن عبدالرحمن بن ثعلنہ انصاری “ ثعلبہ (رض) اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمروبن حبیب بن عبد شمس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے بنی فلاں کا ایک اونٹ چوری کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کے مالکوں کو اپنے پاس بلایا حاضر ہونے پر انھوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے اپنا ایک اونٹ کم پایا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ ثعلبہ (رض) کہتے ہیں : جس وقت عمرو (رض) کا کٹا ہوا ہاتھ زمین پر گرا میں اسے دیکھ ریا تھا جب کہ عمرو (رض) کہہ رہے تھے۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے مجھے اس چوری سے پاک کردیا ورنہ یہ مجھے دوزخ میں لے جانے کے درپے تھی۔ (رواہ الحسن ابن سفیان وابن مندہ والطبرانی و ابونعیم)
37292- "مسند ثعلبة بن عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري" عن أبيه أن عمرو بن خبيب بن عبد شمس جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إني سرقت جملا لبني فلان! فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنا افتقدنا جملا لنا، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم فقطعت يده، قال ثعلبة: أنا أنظر إليه حين وقعت يده وهو يقول: الحمد لله الذي طهرني منك، أردت أن تدخلي جسدي النار."الحسن بن سفيان وابن منده، طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن مرہ جہنی (رض)
٣٧٢٩٢۔۔۔ حضرت عمرو بن مرہ جہنی (رض) کہتے ہیں : ہم جاہلیت میں اپنی قوم کی ایک جماعت کی ساتھ صبح کے لیے روانہ ہوئے ط جب ہم مکہ پہنچے میں نے خواب دیکھا گویا ایک نور ہے جو مکہ سے نکل رہا ہے اس سے یثرب کے پہاڑ روشن ہوئے اور میں نے جہینہ کی بستی دیکھ لی، اس نور میں میں نے ایک آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا تاریکیاں چھٹ گئی ہیں روشنی چمک اٹھی ہے اور خاتم الانبیاء مبعوث ہوچکے ہیں پھر ایک روشنی بلند ہوئی جس میں میں نے حیرہ کے محلات اور مدائن کی سفیدی دیکھی اس نور میں بھی ایک آواز سنی کہہ رہا تھا : اسلام ظاہر ہوچکا ہے اور بت ٹوٹ چکے ہیں صلہ رحمی کا وقت آن پہنچا میں گھبراکر اٹھ بیٹھا اور میں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا : اللہ کی قسم ! قریش کی اس بستی میں کوئی نیا حادثہ رونما ہونے والا ہے میں نے اپنی قوم کو کو خواب سنایا جب ہم اپنے علاقہ میں پہنچے خبر آگئی کہ ایک شخص جسے احمد کے نام سے پکارا جاتا ہے مبعوث ہوچکا ہے میں اس شخص سے ملنے اپنے گھر سے چل پڑا جب اس کے پاس پہنچا میں نے اسے خواب سنایا اس نے کہا : اے عمرو بن مرہ ! میں نبی مرسل ہوں اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے میں انھیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں میں انھیں جانوں کی حفاظت اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہوں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتا ہوں اور بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہوں میں انھیں بیت اللہ کے حج اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ رمضان کے روزوں کا حکم دیتا ہوں جس نے میری دعوت قبول کرلی، اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے دوزخ ہے اے عمرو ! ایمان لے آؤ اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ کی ہول ناکی سے محفوظ فرمائے گا میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں آپ حلال و حرام کی جو تعلیمات بھی لائے ہیں ان پر ایمان لاتا ہوں اگرچہ یہ بہت ساری اقوام کو براہی کیوں نہ لگے۔ پھر میں نے آپ کی مدح میں بہت سارے اشعار کہے۔ ہمارا ایک بت تھا میرا باپ اس کا منتظم تھا میں نے اسے توڑدیا پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جاملا اور میں نے یہ اشعار کہے :

شھدت بان اللہ حق و اننی

لا الھۃ الاحجار اول تارک

وشمرت عن ساقی الازارمھا جرا

اجوب الیک الوعث بعد الرکادک

لا صحب نیر الناس نفساو والدا

رسول ملیک الناس فوق الجائک

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے چونکہ میں پتھر کے معبودین کو سب سے پہلے ترک کرچکا ہوں اور اپنی پنڈلیوں سے شلوار اوپر کرلی ہے میں سختیوں اور مشقتوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں میں اس شخص کی صحبت میں رہوں گا جو اپنی ذات اور ولدیت میں سب سے افضل ہے وہ رسول ہے اور لوگوں پر اس کی حکمرانی ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمرو ! مرحبا میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ مجھے اپنی قوم کی طرف روانہ کردیں یا اللہ میرے ذریعے ان پر احسان فرمائے آپ نے مجھے بھیج دیا اور مجھے نصیحت کی۔ تمہیں مہربانی اور نرمی سے کام لینا چاہیے بات سچی کرنا تندخو، متکبر اور حاسد نہیں ہونا، میں اپنی قوم کے پاس آگیا اور کہا : اے نبی رفاعہ (رح) بلکہ اے قبیلہ کی جماعت ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور بتوں کو چھوڑنے کو کہتا ہو میں تمہیں بیت اللہ کے حج رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ جس نے میری دعوت قبول کی اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے دوزخ ہے اے جہینہ کی جماعت ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہترین قوم بنایا ہے۔ جاہلیت اور اس کے رسول کو ناپسند کیا ہے جو کہ عربوں میں مشہور ہیں بلاشبہ عرب دوسگی بہنوں کو نکاح میں جمع کرلیتے ہیں اور حرمت والے مہینوں میں جنگیں کرتے ہیں آدمی اپنے باپ کی منکوحہ سے شہوت پوری کرلیتا ہے لہٰذا اس نبی مرسل کی دعوت کو قبول کرو تمہیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں میسر آئیں گی میرے پاس ان میں سے صرف ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اے عمرو بن مرہ ! اللہ تمہاری زندگی میں بدمزگی لائے کیا تم ہمیں اپنے معبود ان کے چھوڑنے کا حکم دیتے ہوتا کہ ہم اپنی جمعیت میں تفرقہ ڈالیں اپنے آباء کے دین کی مخالفت کریں عمدہ اخلاق ترک کریں صرف ایک قریشی کے کہنے پر جو اہل تہامہ میں سے ہے ؟ اس میں کوئی پسندیدگی اور بھلائی نہیں پھر اس خبیث نے یہ اشعار پڑھے :

ان ابن مرب قدانی بمقالۃ

لیست مقالۃ من یرید صلاحا

انی لاحسب قولہ وفعالہ

یسومساوان طال الزمان ذبساحآ

لیسفہ الا شیاخ ممن قدمضی

من رام ذالک لا اصاب فلاحا

ابن مرہ ایک بات لے کر آیا ہے جو مجھے کسی مصلح کا قول نہیں لگتا میں تو اس کے قول وفعل کو کسی دن کا سمجھتا ہوں اگرچہ زمانہ میں لڑائیاں زیادہ ہوں۔ پر وہ بزرگوں کو بیوقوف بنانا چاہتا ہے اور وہ گزشتہ زمانے کے بزرگ ہیں جو بھی یہ کرنے کا قصد کرے گا کامیابی سے دور رہے گا۔

حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : یہ واضح ہوجائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تو اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کو بدمزگی سے دوچار کرے۔ تیری زبان کو گنگ کرے اور تیری آنکھوں کو اندھا کرے عمرو (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم یہ خبیث اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس کے دانت گر نہیں گئے چنانچہ اندھا ہوگیا اور اسے کھانے کا ذائقہ نہیں محسوس ہوتا تھا حضرت عمر (رض) اپنی قوم کے چند اسلام قبول کرنے والوں کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انھیں مرحبا کہا اور خراج تحسین پیش کیا پھر ان کے لیے ایک خط تحریر کیا جس کا مضمون یہ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ خط اللہ تعالیٰ کی طرف سے امان ہے جو اس کے رسول حق اور سچے کی زبان سے جاری ہوا ہے اور کتاب باطق نازل فرمائی جو عمروبن مرہ کے ساتھ جہینہ بن زید کے لیے ہے بلاشبہ زمین کے نشیب و فراز تمہارے لیے ہیں وادیوں کے پوشیدہ اور ظاہری حصے تمہارے لیے ہیں کہ تم ان کی نباتات کو چراؤ اور ان کا پانی پئیو اس شرط پر کہ تم ان کا خمس ادا کرو اور پنجگانہ نمازیں ادا کتو بھیڑبکریاں جب دونوں اکٹھی ہوں ان میں دو بکریاں ہیں اگر الگ الگ ہوں تو ایک ایک بکری ہے کھیتی جو تنے والے بیلوں میں صدقہ نہیں ہے تو وارد پر صدقہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان گواہ ہے۔ (رواہ کتاب قیس بن شماس الرویانی وابن عساکر)
37293- عن عمرو بن مرة الجهني قال: خرجنا حجاجا في الجاهلية في جماعة من قومي فرأيت في المنام وأنا بمكة نورا ساطعا من الكعبة حتى أضاء لي جبل يثرب وأشعر جهينة، وسمعت صوتا في النور وهو يقول: انقشعت الظلماء، وسطع الضياء، وبعث خاتم الانبياء ! ثم أضاء لي إضاءة أخرى حتى نظرت إلى قصور الحيرة وأبيض المدائن ، وسمعت صوتا في النور وهو يقول : ظهر الاسلام ، وكسرت الاصنام ، ووصلت الارحام ، فانتبهت فزعا فقلت لقومي : والله ليحدثن في هذا الحي من قريش حدث ، فأخبرتهم بما رأيت ، فلما انتهيت إلى بلادنا جاء الخبر أن رجلا يقال له أحمد قد بعث ، فخرجت حتى أتيته وأخبرته بما رأيت ، فقال : يا عمرو بن مرة ! أنا النبي المرسل إلى العباد كافة ، أدعوهم إلى الاسلام ، وآمرهم بحقن الدماء وصلة الارحام ، وعبادة الله وحده ورفض الاصنام ، وبحج البيت وصيام شهر رمضان من اثني عشر شهرا ، فمن أجاب فله الجنة ومن عصى فله النار ! فآمن يا عمرو يؤمنك الله من هول جهنم ، فقلت : أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله ، آمنت بكل ما جئت به من حلال وحرام ،

وإن رغم ذلك كثير من الاقوام ، ثم أنشدته أبياتا قلتها حين سمعت به ، وكان لنا صنم وكان أبي سادنه ، فقمت إليه فكسرته ثم لحقت بالنبي صلى الله عليه وسلم وأنا أقول : شهدت بأن الله حق وإنني * لآلهة الاحجار أول تارك وشمرت عن ساقي الازار مهاجرا * أجوب إليك الوعث بعد الدكادك لاصحب خير الناس نفسا ووالدا * رسول مليك الناس فوق الحبائك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : مرحبا بك يا عمرو ! فقلت : بأبي أنت وأمي ! ابعث بي إلى قومي لعل الله أن يمن بي عليهم كما من بك علي ، فبعثني فقال : عليك بالرفق والقول السديد ولا تكن فظا ولا متكبرا ولا حسودا ، فأتيت قومي فقلت : يا بني رفاعة ! بل يا معشر جهينة ! إني رسول رسول الله إليكم أدعوكم إلى الاسلام ، وآمركم بحقن الدماء وصلة الارحام ، وعبادة الله وحده ورفض الاصنام ، وبحج البيت وصيام شهر رمضان شهر من اثني عشر شهرا ، فمن أجاب فله الجنة ومن عصى فله النار ، يا معشر جهينة ! إن الله جعلكم خيار من أنتم منه ، وبغض إليكم في جاهليتكم ما حبب إلى غيركم من العرب ، فإنهم كانوا يجمعون بين الاختين ، والغزاة في الشهر الحرام ، ويخلف الرجل على امرأة أبيه ، فأجيبوا هذا النبي المرسل من بني لؤي بن غالب تنالوا شرف الدنيا وكرامة الآخرة ، فما جاءني إلا رجل منهم فقال : يا عمرو بن مرة ! أمر الله عيشك ! أتأمرنا برفض آلهتنا وأن نفرق جمعنا وأن تخالف دين آبائنا الشيم العلى إلى ما يدعونا إليه هذا القرشي من أهل تهامة ؟ لا حبا ولا كرامة ، ثم أنشأ الخبيث يقول : إن ابن مرة قد أتى بمقالة * ليست مقالة من يريد صلاحا إني لاحسب قوله وفعاله * يوما وإن طال الزمان ذباحا ليسفه الاشياخ ممن قد مضى * من رام ذلك لا أصاب فلاحا فقال عمرو : الكاذب مني ومنك أمر الله عيشه وابكم لسانه واكمه إنسانه ! قال : فوالله ما مات حتى سقط فوه وعمي وخرف وكان لا يجد طعم الطعام ، فخرج عمرو بمن أسلم من قومه حتى اتوا النبي صلى الله عليه وسلم ، فحياهم ورحب بهم وكتب لهم كتابا هذه نسخته : (بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا كتاب أمان من الله العزيز على لسان رسوله بحق صادق وكتاب ناطق مع عمرو بن مرة لجهينة بن زيد ، إن لكم بطون الارض وسهولها وتلاع الاودية وظهورها عن أن ترعوا نباتها وتشربوا ماءها ، على أن تؤدوا الخمس وتصلوا الخمس ، وفي الغنيمة والصريمة شاتان إذا اجتمعتا ، فان فرقتا فشاة شاة ، ليس على أهل المثيرة صدقة ولا على الواردة لبقة ، والله شهيد على ما بيننا ومن حضر من المسلمين (كتاب قيس بن شماس ، الروياني ، كر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروطائی (رض)
٣٧٢٩٣۔۔۔” مسند عمروطائی (رض) “ تمام ، ابوالحسن عمروبن عتبہ بن عمارہ بن یحییٰ بن عبدالحمید بن یحییٰ بن عبدالحمید بن محدم بن عمروبن عبداللہ روافع بن عمرو طائی نے حجر بستی میں محرم الحرام ٣٨٠ ھ میں املاکرایا ان کا کہنا تھا کہ ان کی ١٢٠ سال عمر ہے انھوں نے سندذیل سے حدیث بیان کی میرے والد کے چچا مسلم بن یحییٰ بن عبدالحمید طائی اپنے والد سے اور وہ محمد بن عمرو بن عبداللہ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے داد سے ابورافع بن عمرو وہ اپنے والد عمروطائی (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ عمرو (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انھیں اپنے ساتھ چٹائی پر بٹھایا عمرو (رض) نے اسلام قبول کیا اور ان کا اسلام بہت اچھا رہا پھر اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ گئے اور ان کی قوم نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37294- "مسنده" قال تمام أنا أبو الحسن عمرو بن عتبة بن عمارة بن يحيى بن عبد الحميد بن يحيى بن عبد الحميد بن محمد بن عمرو بن عبد الله بن رافع بن عمرو الطائي بقرية حجرا إملاء في المحرم سنة خمسين وثلاثمائة، وزعم أن له مائة وعشرين سنة حدثني عم أبي السلم بن يحيى ابن عبد الحميد الطائي عن أبيه حدثني أبي عن أبيه عن محمد بن عمرو بن عبد الله عن أبيه عن جده حدثني أبي رافع بن عمرو عن أبيه عمرو الطائي أنه قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فأجلسه معه على البساط وأسلم وحسن إسلامه ورجع إلى قومه فأسلموا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٤۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) سے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ہم مسجد میں اضافہ کریں گے جب کپ آپ کا گھر مسجد کے زیادہ قریب ہے لہٰذا اپنا گھر ہمین دے دیں تاکہ ہم مسجد میں توسیع کریں اور اس گھر کے بدلے میں آپ کو اس سے کشادہ گھر دوں گا عباس (رض) نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں آُ سے زبردستی لوں گا عباس (رض) نے کہا : آپ کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ میں اپنے اور آپ کے درمیان کسی ثابت کو قائم کرتا ہوں جو ہمارے درمیان برحق فیصلہ کرے گا، عمر (رض) نے فرمایا : وہ کون ہوگا ؟ عباس (رض) نے کہا : وہ حذیفہ بن الیمان ہے چنانچہ دونوں حضرات حذیفہ (رض) کے پاس آئے اور مسئلہ بیان کیا حذیفہ (رض) نے کہا : میرے پاس اس مسئلہ میں ایک حدیث ہے پوچھا وہ کونسی ؟ حذیفہ (رض) نے کہا : داؤد (علیہ السلام) نے بیت المقدس میں توسیع کرنی چاہی بیت المقدس کے قریب ایک یتیم کا گھر تھا داؤد (علیہ السلام) نے یتیم سے گھر طلب کیا لیکن اس نے دینے سے انکار کردیا داؤد (علیہ السلام) نے زبردستی گھر لینا چاہا اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی کہ میرا گھر ظلم سے پاک ہے داؤد (علیہ السلام) نے گھر کا خیال چھوڑ دیا عباس (رض) بولے : کیا کچھ باقی رہا ؟ حذیفہ (رض) نے کہا : نہیں ۔ حضرت عمر (رض) مسجد میں داخل ہوئے دیکھتے ہیں کہ عباس (رض) کے گھر کا پرنالہ مسجد میں گرتا ہے حضرت عمر (رض) نے اپنے ہاتھ سے پرنالہ اکھاڑ پھینکا اور فرمایا : یہ پرنالہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں پانی نہ بہائے عباس (رض) نے یہ دیکھنے کے بعد کہا : قسم اس ذات کی جس نے محمد کو برحق مبعوث کیا ہے یہ نالہ خودرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی جگہ لگایا تھا اور اے عمر تم نے اسے اکھاڑ پھینکا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنے پاؤں میرے کاندھے پر رکھو اور پرنالہ اسی جگہ پر دوبارہ لگا دو عباس (رض) نے ایسا ہی کیا اور فرمایا : میں نے آپ کو یہ گھر دے دیا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں توسیع کردیں عمر (رض) نے مسجد میں توسیع کردی اور عباس (رض) کو مقام ” زوراء “ میں پہلے گھر سے کہیں زیادہ کشادہ گھر جائیداد میں دیا۔ (رواہ الحاکم وابن عساکر اور دالحاکم والبیھقی لہ شاھدا)
37295- عن أسلم أن عمر بن الخطاب قال للعباس بن عبد المطلب: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول نزيد في المسجد ودارك قريبة من المسجد فأعطناها نزدها في المسجد وأقطع لك أوسع منها قال: لا أفعل، قال: إذن أغلبك عليها، قال: ليس ذاك لك، فاجعل بيني وبينك من يقضي بالحق، قال: ومن هو؟ قال: حذيفة بن اليمان، فجاؤوا إلى حذيفة فقصوا عليه، فقال حذيفة: عندي في هذا خبر، قال: وما ذاك؟ قال: إن داود عليه السلام أراد أن يزيد في بيت المقدس وقد كان بيت قريب من المسجد ليتيم، فطلب إليه فأبى، فأراد داود أن يأخذها منه، فأوحى الله إليه أن أنزه البيوت عن الظلم لبيتي، فتركه، فقال له العباس: فبقي شيء؟ قال: لا، فدخل المسجد فإذا ميراث للعباس شارع في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم يسيل ماء المطر منه في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عمر بيده فقلع الميزاب فقال: هذا الميزاب لا يسيل في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له العباس: والذي بعث محمدا بالحق! إنه هو الذي وضع هذا الميزاب في هذا المكان ونزعته أنت يا عمر! فقال عمر: ضع رجليك على عنقي لنرده إلى ما كان، ففعل ذلك العباس ثم قال العباس: قد أعطيتك الدار تزيدها في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فزادها عمر في المسجد، ثم قطع للعباس دارا أوسع منها بالزوراء. "ك، كر وأورد ك، ق له شاهدا". أراد أن يأخذ من العباس داره، فقال: لا أبيعها. قال: إذن آخذها منك، قال: ليس ذاك لك، قال: فاجعل بيني وبينك أبي بن كعب، فجعل بينهما فقضى بها للعباس، قال: أما إذا قضيت بها لي فهي للمسلمين صدقة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٥۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) نے مسجد میں توسع کرنا چاہا۔ حدیث بالا ذکر کی یہ پوری حدیث خطیب نے متفق میں بیان کی ہے احمد ابن عساکر نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے عباس (رض) سے ان کا گھر لینا چاہا عباس (رض) نے کہا : میں گھر نہیں بیچتا حضرت عمر (رض) بولے : تب تو میں زبردستی لوں گا عباس (رض) نے کہا : آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں : عمر (رض) نے کہا : میرے اور اپنے درمیان ابی بن کعب (رض) کو منصف مقرر کرو، ابی (رض) نے دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور فیصلہ عباس (رض) کے حق میں دیا۔ عباس (رض) بولے : جب تم نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اسے مسلمانوں کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔
37296 عن سعيد بن المسيب : ان عمر لما أراد أن يزيد قال فذكر الحديث بنحوه وتمامه عند خط في المتفق ، كر في المسجد أراد أن يأخذ من العباس داره ، فقال : لا أبيعها.قال : إذن آخذها منك ، قال : ليس ذاك لك ، قال : فاجعل بيني وبينك أبي بن كعب ، فجعل بينهما فقضى بها للعباس ، قال : أما إذا قضيت بها لي فهي للمسلمين صدقة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب لوگوں کو قحط کا سامنا ہوتا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) حضرت عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے مینہ طلب کرتے تھے اور کہتے : یا اللہ ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے تو ہمیں بارش سے سیراب کردیتا تھا اور آج ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے ہیں چنانچہ بارش لوگوں کو سیراب کردیتی۔ (رواہ البخاری وابن سع وابن خزیمۃ وابو عوانۃ وابن حبان والطبرانی والبیھقی)
37297- عن أنس أن عمر بن الخطاب كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال؛ اللهم! إنا كنا إذا قحطنا على عهد نبينا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك اليوم بعم نبينا فاسقنا، فيسقون. "خ وابن سعد وابن خزيمة وأبو عوانة، حب، طب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٧۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ قحط والے سال حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے بارش طلب کی اور فرمایا : یا اللہ ! یہ شخص تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا ہے ہم تیرے حضور اس کا وسیلہ پیش کرتے ہیں لہٰذا ہمیں بارش عطا فرماچنانچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بارش فرمادی۔ ایک مرتبہ عمر (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) کو ایسا ہی سمجھتے تھے جیسا کہ بیٹا اپنے والد کو سمجھتا ہے اور اس کی عزت و احترام کرتا ہے اور اس کی قسم پوری کرتا ہے اے لوگو ! عباس (رض) کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کرو اور قرب الہٰی کے لیے انھیں اپنا وسیلہ بناؤ۔ (رواہ الحاکم والبانیاسی فی جزیہ وابن عساکر وابن النجار)
37298- عن ابن عمر قال: استسقى عمر بن الخطاب عام الرمادة بالعباس بن عبد المطلب فقال: اللهم! هذا عم نبيك صلى الله عليه وسلم نتوجه إليك به فاسقنا، فما برحوا حتى سقاهم الله، فخطب عمر الناس فقال: أيها الناس! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرى للعباس ما يرى الولد لوالده يعظمه ويفخمه ويبر قسمه، فاقتدوا أيها الناس برسول الله صلى الله عليه وسلم في عمه العباس واتخذوه وسيلة إلى الله عز وجل فيما نزل بكم. "ك والبانياسي في جزئه، كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٨۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) کے گھر کا پرنالہ حضرت عمر (رض) کے راستے میں پڑتا تھا ایک دن عمر (رض) نے جمعہ کے دن کپڑے زیب تن کئے عباس (رض) کیلئے دو چوزے ذبح کیے کئے تھے جب عمر (رض) پرنالے کے عین نیچے تو پرنالے میں چوزوں کا خون بہادیا گیا جو حضرت عمر (رض) پر آن پڑا عمر (رض) نے پرانالہ اکھاڑنے کا حکم دیا اور خود کپڑے تبدیل کرنے واپس لوٹ آئے پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی عمر (رض) کے پاس عباس (رض) آئے اور کہا : اس جگہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پر نالہ لگایا تھا عمر (رض) نے عباس (رض) کہا : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں کہ میرے کاندھوں پرچڑھو اور اسی جگہ دربارہ پرنالہ لگادو جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لگایا تھا عباس (رض) نے ایسا ہی کیا ۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل وابن عساکر)
37299- عن عبد الله بن عباس قال: كان للعباس ميزاب على طريق عمر فلبس عمر ثيابه يوم الجمعة، وقد كان ذبح للعباس فرخان، فلما وافى الميزاب صب فيه من دم الفرخين فأصاب عمر، فأمر عمر بقلعه ثم رجع فطرح ثيابه ولبس غيرها ثم جاء فصلى بالناس، فأتاه العباس فقال: والله إنه للموضع الذي وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال عمر للعباس: عزمت عليك لما صعدت على ظهري حتى تضعه في الموضع الذي وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم! ففعل ذلك العباس."ابن سعد، حم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٢٩٩۔۔۔ سالم ابونضر کی ہدایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے دور میں جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور مسجد تنگ پڑنے لگی حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس کے گھر کے علاوہ اور امہات المومنین کے حجروں کے علاوہ بقیہ گھر مسجد میں توسیع کرنے کی غرض سے خرید لیے حضرت عمر (رض) عباس (رض) سے فرمایا : اے ابولفضل ! مسجد مسلمانوں کو تنگ پڑگئی ہے اس کی خاطر میں نے مسجد کے آس پاس کے گھر خرید لیے ان میں آپ کا گھر اور امہات المومنین کے حجرے باقی رہ گئے ہیں رہی بات حجروں کی سو ان کے خریدنے میں کوئی گنجائش نہیں رہا آپ کا گھر تو آپ سرکاری خزانہ میں سے قیمت کے کر مجھے بیچ دیں تاکہ اسے بھی مسجد میں شامل کرکے توسیع کرلی جائے۔ عباس (رض) نے جواب دیا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس تین اختیارات ہیں ان میں سے ایک اپنے لیے پسند کرلو۔ یا تو سرکاری مال میں سے جس چیز کے بدلہ میں چاہو مجھے بیچ دو یا مدینہ میں تم جہاں چاہو بتاؤ میں سرکاری مال سے تمہارے لیے جگہ خرید کر گھر تعمیر کروادوں گا یا مسلمانوں پر صدقہ کردو تاکہ مسجد میں توسیع ہوسکے۔ عباس (رض) نے ٹکا سا جواب دیا اور کہا ان میں سے ایک اختیار بھی مجھے پسند نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر کسی کو منصف مقرر کرو جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کردے۔ عباس (رض) نے منصف کے طور پر حضرت ابی بن کعب (رض) کا نام لیا دونوں حضرات ابی (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور پورا قصہ انھیں سنایا ابی (رض) نے کہا : تم اگر چاہو تو میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے دونوں نے حدیث سننے کی فرمائش کی ابی (رض) بولے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے دوؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل کی کہ میرے لیے ایک گھر بناؤ جس میں میرا ذکر کیا جائے چنانچہ داؤد (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی جگہ میں خطوط کھینچے ناپ تول کی جگہ میں ایک شخص کا گھر پڑتا تھا داؤد (علیہ السلام) نے اس سے کہا : یہ گھر مجھے بیچ دو لیکن اس نے بیچنے سے انکار کردیا داؤد (علیہ السلام) نے زبردستی اس کا گھر ہتھیا کر بیت المقدس میں شامل کرنا چاہا تاہم اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی کہ میں نے تمہیں گھر بنانے کا حکم دیا ہے جس میں میرا ذکر کیا جائے اور تم کسی کا گھر غصب کرکے اس میں شامل کرنا چاہتے ہو جو میرے گھر کے شایان شان نہیں۔ حضرت عمر (رض) ابی (رض) کو پکڑ کرلیتے آئے اور فرمایا : میں تمہارے پاس ایک مسئلہ لے کر آیا اور تم نے اس پر شدت کا مظاہرہ کیا بہرحال تمہیں اس کی سچائی سے بازیاب ہونا ہوگا عمر (رض) ابی (رض) کو کھینچے ہوئے مسجد میں لے آئے اور مسجد میں صحابہ کرام (رض) کا ایک حلقہ بیٹھا ہوا تھا ان میں حضرت ابوذغفاری (رض) بھی تھے عمر (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو واسطہ دیتا ہوں جس نے بہت المقدس والی حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بیت المقدس کے تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس نے یہ سنی ہو وہ بیان کرے۔ ابوذر (رض) بولے : میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے دوسرا بولا میں نے بھی سنی ہے تیسرا بولا : میں نے بھی سنی ہے عمر (رض) نے حضرت ابی (رض) کو چھوڑ دیا پھر ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہا : آپ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث پر تہمت زدہ کرنا چاہتے ہیں ؟ عمر (رض) نے فرمایا : اے ابومنذر ! اللہ کی قسم میں تمہیں تہمت نہیں لگانا چاہتا ، لیکن مجھے اعتراض نہیں کرتا عباس (رض) نے فرمایا : جب آپ نے یہ کیا ہے میں بھی اس گھر کو مسلمانوں کے لیے صدقہ کرتا ہوں تاکہ مسلمانوں کی مسجد میں توسیع ہوجائے رہی بات آپ کی خدمت کی خصوصیت کی (یعنی کیس لڑ کر اگر آپ لینا چاہیں) تو آپ کو اس کا اختیار ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے عباس (رض) کیلئے ایک گھر بنایا جو آج تک باقی ہے حضرت عمر (رض) نے وہ گھر سرکاری مال سے بنوایا تھا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر وسندہ صحیح الاان سالما اباالنصرلم یدرک عمر)
37300- عن سالم أبي النضر قال: لما كثر المسلمون في عهد عمر ضاق بهم المسجد فاشترى عمر ما حول المسجد من الدور إلا دار العباس بن عبد المطلب وحجر أمهات المؤمنين، فقال عمر للعباس: يا أبا الفضل! إن مسجد المسلمين قد ضاق بهم وقد ابتعت ما حوله من المنازل نوسع به على المسلمين في مسجدهم إلا دارك وحجر أمهات المؤمنين، فأما حجر أمهات المؤمنين فلا سبيل إليها، وأما دارك فبعنيها بما شئت من بيت مال المسلمين أوسع بها في مسجدهم! فقال العباس: ما كنت لأفعل، قال فقال له عمر: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن تبعنيها بما شئت من بيت مال المسلمين. وإما أن أخطك حيث شئت من المدينة وأبنيها لك من بيت مال المسلمين، وإما أن تصدق بها على المسلمين فتوسع بها في مسجدهم، فقال: لا ولا واحدة منها، فقال عمر: اجعل بيني وبينك من شئت، فقال أبي بن كعب، فانطلقا إلى أبي فقصا عليه القصة، فقال أبي إن شئتما حدثتكما بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقالا: حدثنا! فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله أوحى إلى داود أن ابن لي بيتا أذكر فيه، فخط له هذه الخطة بيت المقدس فإذا تربيعها يزريه بيت رجل من بني إسرائيل فسأله داود أن يبيعه إياه فأبى فحدث داود نفسه أن يأخذه منه فأوحى الله إليه: يا داود! أمرتك أن تبني لي بيتا أذكر فيه فأردت أن تدخل في بيتي الغصب وليس من شأني الغصب وإن عقوبتك أن لا تبنيه؛ قال: يا رب! فمن ولدي؟ قال: من ولدك؟ فأخذ عمر بمجامع ثياب أبي بن كعب وقال: جئتك بشيء فجئت بما هو أشد منه لتخرجن مما قلت، فجاء يقوده حتى أدخله المسجد فأوقفه على حلقة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم أبو ذر: فقال: إني نشدت الله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر حديث بيت المقدس حين أمر الله داود أن يبنيه إلا ذكره! فقال أبو ذر: أنا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال آخر: أنا سمعته وقال آخر: أنا سمعته يعني من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال فأرسل أبيا، قال وأقبل أبي على عمر فقال: يا عمر! أتتهمني على حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: يا أبا المنذر! لا والله ما اتهمتك عليه ولكني كرهت أن يكون الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير ظاهر، وقال عمر للعباس: اذهب فلا أعرض لك في دارك! فقال العباس: أما إذا فعلت هذا فأنا قد تصدقت بها على المسلمين أوسع بها عليهم في مسجدهم، فأما وأنت تخاصمني فلا، فخط عمر له داره التي هي له اليوم، وبناها من بيت مال المسلمين."ابن سعد، كر وسنده صحيح إلا أن سالما أبا النضر لم يدرك عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٨٠٠٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) کا مدینہ میں ایک گھر تھا جو مسجد کے پڑوس میں تھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ گھر مجھے ہبہ کردو یا مجھے بیچ دو تاکہ میں اسے مسجد میں شامل کردوں۔ عباس (رض) نے گھر دینے سے انکار کردیا عمر (رض) نے کہا : کوئی ثالث مقرر کرو جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کرے چنانچہ دونوں نے حضرت ابی بن کعب (رض) پر اتفاق کرلیا حضرت ابی (رض) نے عمر (رض) کے خلاف فیصلہ دیا۔ عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں ابی بن کعب سے بڑھ کر مجھ پر جرات کرنے والا کوئی نہیں ابی (رض) بولے : اے امیر المومنین مجھ سے زیادہ آپ کے لیے کوئی خیرخواہ بھی نہیں ہے۔ کیا آپ کو ایک عورت کا قصہ معلوم نہیں ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے جب بیت المقدس تعمیر کرنا چاہا اس میں ایک عورت کا گھر اس کی اجازت کے بغیر داخل کرلیا جب لوگوں کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے عمارت کھڑی کرنے میں رکاوٹیں ڈال دیں داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب جب تو نے بیت المقدس کی عمارت میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے تو اسے میرے بعد میری اولاد میں بھی رکھ اسی وجہ سے بعد میں بھی رکاوٹ ہوئی عباس (رض) نے کہا : کیا تم نے میرے حق میں فیصلہ نہیں دیا ہے۔ ابی (رض) نے جواب دیا : جی ہاں عباس (رض) نے کہا : اے عمر ! یہ گھر میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں۔ (رواہ ابن سعد و یعقوب بن سفیان والبیھقی وابن عساکر وسند حسن)
37301- عن ابن عباس قال: كانت للعباس بن عبد المطلب دار بالمدينة إلى جنب المسجد فقال: هبها لي أو بعنيها حتى أدخلها في المسجد، فأبى، قال: فاجعل بيني وبينك رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعلا أبي بن كعب بينهما، قال فقضى أبي على عمر: قال فقال عمر: ما من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا أجرأ علي من أبي قال: أو أنصح لك مني يا أمير المؤمنين! أما علمت قصة المرأة أن داود لما بني بيت المقدس أدخل فيه بيت امرأة بغير إذنها فلما بلغ حجر الرجال منع بناءه فقال: أي رب إذ منعتني بناءه فاجعله من عقبي من بعدي، فلما كان بعد قال له العباس: أليس قد قضيت لي بها؟ قال: بلى، قال؟ فهي لك قد جعلتها لله."ابن سعد ويعقوب بن سفيان، ق، كر وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক: