কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৩১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠١۔۔۔ ابوجعفر محمد بن علی کو روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بحرین میں جائیداد دی ہے عمر (رض) نے کہا : تمہارے اس دعوی کی سچائی کا کسے علم ہے عباس (رض) نے جواب دیا : مغیرہ بن شعبہ کو اس کا علم ہے۔ عباس (رض) مغیرہ (رض) کو لے آئے اور انھوں نے ان کے حق میں گواہی دی عمر (رض) نے اس جائیداد کے صدور کا نفاذ نہ کیا ہ گویا عمر (رض) نے مغیرہ (رض) کی گواہی قبول نہ کی عباس (رض) حضرت عمر (رض) پر غصہ ہوگئے عمر (رض) نے فرمایا : اے عبداللہ ! اپنے والد کا ہاتھ پکڑلو، اے ابوالفضل تمہارے اسلام پر جتنی مجھے خوشی ہوئی ہے بخدا ! اگر میرا باپ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کے لیے اسلام قبول کرتا اتنی خوشی اس پر نہ ہوتی۔ (رواہ ابن سعد وابن راھویہ)
37302- عن أبي جعفر محمد بن علي أن العباس جاء إلى عمر فقال له، إن النبي صلى الله عليه وسلم أقطعني البحرين، قال: من يعلم ذلك؟ قال: المغيرة بن شعبة، فجاء به فشهد له، قال فلم يمض له عمر ذاك كأنه لم يقبل شهادته، فأغلظ العباس لعمر. فقال عمر: يا عبد الله! خذ بيد أبيك، وقال عمر: والله يا أبا الفضل لأنا بإسلامك كنت أسر مني بإسلام الخطاب لو أسلم لمرضاة رسول الله صلى الله عليه وسلم."ابن سعد وابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٢۔۔۔ موسیٰ بن عمر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ قحط پڑگیا حضرت عمر (رض) استسقاء کے لیے باہر تشریف لائے اور عباس (رض) کو ہاتھ سے پکڑ کر قبلہ رو ہوئے اور کہنے لگے : یا اللہ ! یہ شخص تیرے نبی کا چچا ہے ہم تیرے حضور اس کا وسیلہ لے کر آئے ہیں، موسیٰ بن عمر کہتے ہیں لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹے تھے کہ زوردار بارش برسنے لگی۔ (رواہ ابن سعد)
37303- عن موسى بن عمر قال: أصاب الناس قحط فخرج عمر بن الخطاب يستسقي فأخذ بيد العباس فاستقبل به القبلة فقال: هذا عم نبيك جئنا نتوسل به إليك فاسقنا، قال فما رجعوا حتى سقوا."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٣۔۔۔ عبدالرحمن بن حاطب کی روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عباس (رض) کو ہاتھ سے پکڑ رکھا ہے ایک جگہ کھڑے ہوئے ہیں اور فرمایا : یا اللہ ! ہم تیرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کی تیرے حضور سفارش لائے ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
37304- عن عبد الرحمن بن حاطب قال: رأيت عمر آخذا بيد العباس فقام به فقال: اللهم! إنا نستشفع بعم رسولك صلى الله عليه وسلم إليك."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٤۔۔۔ احنف بن قیس کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : قریش لوگوں کے رؤسا (سردار) ہیں، ان میں سے جو بھی کسی باب میں داخل ہوتا ہے لوگوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ شریک ہوجاتی ہے۔ احنف بن قیس کہتے ہیں : حضرت عم (رض) کو تین دن تک نماز پڑھانے کا حکم دیا نیز آپ نے حکم دیا کہ لوگوں کو کھانا کھلایا جائے حتیٰ کہ کسی شخص کو لوگ اپنا خلیفہ نامزد کرلیں۔ جب لوگ جنازے سے واپس لوٹے کھانا لایا گیا اور دسترخوان لگائے گئے لوگوں نے غم وحزن کی وجہ سے کھان کھانے سے ہاتھ روک لیے جب حضرت عباس (رض) نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا : اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے ہم ان کے بعد کھاتے پیتے رہے ابوبکر (رض) دنیا سے رخصت ہوئے ہم ان کے بعد بھی کھاتے پیتے رہے کھانے پینے کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں لہٰذا یہ کھانا کھاؤ پھر عباس (رض) نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کھانا شروع کیا لوگوں نے بھی انھیں دیکھ کر کھانا شروع کردیا اب مجھے عمر (رض) کا فرمان سمجھ آیا کہ قریش لوگوں کے سردار ہیں۔ (رواہ ابن سعید وابن منیع و ابوبکر فی العیلانیات وابن عساکر)
37305- عن الأحنف بن قيس قال سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن قريشا رؤوس الناس، لا يدخل أحد منهم في باب إلا دخل معه فيه طائفة من الناس، فلم أدر ما تأويل قوله في ذا حتى طعن، فلما احتضر أمر صهيبا أن يصلي بالناس ثلاثة أيام، وأمر أن يجعل للناس طعام فيطعموا حتى يستخلفوا إنسانا، فلما رجعوا من الجنازة جيء بالطعام ووضعت الموائد، فأمسك الناس عنها للحزن الذي هم فيه، فقال العباس عبد النطلب: أيها الناس! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات فأكلنا بعده وشربنا ومات أبو بكر فأكلنا بعده وشربنا وإنه لا بد من الأجل فكلوا من هذا الطعام، ثم مد العباس يده فأكل ومد الناس أيديهم فأكلوا، فعرفت قول عمر إنهم رؤوس الناس."ابن سعد وابن منيع وأبو بكر في الغيلانيات، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٥۔۔۔ عامر شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) حضرت عمر (رض) کی بہت عزت کرتے تھے عباس (رض) نے کہا اے امیر المومنین ! مجھے بتائیں اگر آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا اسلام قبول کرکے آجائے آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے ؟ عمر (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم میں اس کے ساتھ احسان و بھلائی کروں گا۔ عباس (رض) نے کہا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا ہوں۔ عمر (رض) نے کہا : اے ابوالفضل تمہاری کیا رائے ہے ؟ اللہ کی قسم آپ کا باپ مجھے اپنے باپ سے زیادہ محبوب ہے، کہا : اللہ میں جانتا ہوں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے باپ سے زیادہ محبوب تھا میں اپنے محبوب پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب کو ترجیح دیتا ہوں۔ (رواہ ابن سعد)
37306- عن عامر الشعبي أن العباس تحفى1 عمر في بعض الأمر فقال له: يا أمير المؤمنين! أرأيت لو جاءك عم موسى مسلما ما كنت صانعا به؟ قال: كنت والله محسنا إليه، قال: فأنا عم محمد النبي! قال: وما رأيك يا أبا الفضل؟ فوالله لأبوك أحب إلي من أبي! قال: الله الله! لأني كنت أعلم أنه أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أبي فإني أوثر حب رسول الله صلى الله عليه وسلم على حبي."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٦۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے بیت المال سے لوگوں میں مال تقسیم کیا اور کچھ تھوڑا ساباقی بچ گیا حضرت عباس (رض) نے حضرت عمر (رض) اور لوگوں سے کہا : مجھے بتاؤ اگر تمہارے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا موجود ہوتا تم اس کا اکرام کرتے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں عباس (رض) نے کہا : پھر اکرام کا میں زیادہ حقدار ہوں چونکہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا ہوں حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے بات کی اور اجازت لے کر بقیہ مال جو بچا تھا وہ حضرت عباس (رض) کودے دیا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
37307- عن الحسن قال: بقي في بيت المال على عهد عمر شيء بعدما قسم بين الناس فقال العباس لعمر وللناس: أرأيتم لو كان فيكم عم موسى أكنتم تكرمونه؟ قالوا: نعم، قال: فأنا أحق به، أنا عم نبيكم صلى الله عليه وسلم، فكلم عمر الناس فأعطوه تلك البقية التي بقيت."ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٧۔۔۔ عباس بن عبداللہ بن معبد کہتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دیوان مرتب کیا تو ابتداء بنی ہاشم سے کی جاتی تھی اور نبی ہاشم میں سے ابتدا حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) کو بلا کر کی جاتی تھی حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) کے در میں یہی ہوتا رہا۔ (رواہ ابن سعد)
37308- عن العباس بن عبد الله بن معبد قال: لما دون عمر بن الخطاب الديوان كان أول من بدأ به في المدعي بني هاشم، ثم كان أول بني هاشم يدعى العباس بن عبد المطلب في ولاية عمر وعثمان.

"ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جگہ تشریف فرماہوتے تو ابوبکر (رض) آپ کی دائیں طرف بیٹھتے تھے ایک دن ابوبکر (رض) نے حضرت عباس (رض) کو سامنے سامنے دیکھا ابوبکر (رض) اپنی جگہ سے کھسک گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) کو نہیں دیکھا تھا فرمایا : اے ابوبکر آپ کیوں اپنی جگہ سے کھسک گئے ابوبکر (رض) نے جواب دیا یارسول اللہ ! یہ آپ کے چچا آرہے ہیں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) کے اس رویہ سے ازحد خوش ہوتے حتیٰ کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرہ اقدس پر نمایاں دکھائی دیتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر وقال لم ارفی سندہ من تکلم فیہ)
37309- عن ابن العباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا جلس جلس أبو بكر عن يمينه، فأبصر أبو بكر العباس بن عبد المطلب يوما مقبلا فتنحى له عن مكانه ولم يره النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما نحاك يا أبا بكر؟ فقال: هذا عمك يا رسول الله! فسر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم حتى رؤي ذلك في وجهه. "كر ولم أر في سنده

من تكلم فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٠٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عباس (رض) کی قرابتداری کو برا بھلا کہتا تھا عباس (رض) نے اسے تھپڑ دے مارا اس شخص کی قسم آگئی اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ہم بھی عباس کو تھپڑ مادیں گے جس طرح انھوں نے ہمارے آدمی کو مارا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں ہمارے مردوں کو گالیاں دے کر ہمارے زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ۔
37310- عن ابن عباس أن رجلا وقع في قرابة للعباس كان في الجاهلية فلطمه العباس فجاء قومه فقالوا والله لنلطمنه كما لطمه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: العباس مني وأنا منه، لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا أحياءنا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عباس (رض) کے باپ کو گالیاں دیں عباس (رض) نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا اس شخص کی قوم دوڑتی ہوئی آگئی اور کہنے لگی : بخدا ! ہم بھی طمانچہ ماریں گے حتیٰ کہ قوم نے اسلحہ تان لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ سخت غصہ میں آگئے اور منبر پر تشریف لے گئے فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : آپ اللہ کے رسول ہیں فرمایا : آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے ہمارے مردوں کو گالیاں دے کر ہمارے زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم آپ کے غصہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ہمارے لیے استغفار کریں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے استغفار کیا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف النسائی ٣٢٨ والضعیفۃ ٢٣١٥۔
37311- عن ابن عباس أن رجلا وقع في أب للعباس كان في الجاهلية فلطمه العباس فجاء قومه فقالوا: والله لنلطمنه كالطمه! حتى لبسوا السلاح، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فغضب فجاء فصعد المنبر فقال: من أنا! فقالوا: أنت رسول الله، قال: فإن عم الرجل صنو1 أبيه، لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا أحياءنا، فقالوا: يا رسول الله! نعوذ بالله من غضبك فاستغفر لنا! فاستغفر لهم.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١١۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے حضرت عباس (رض) کی گستاخی کی۔ (رواہ احمد بن حنبل)
37312- عن ابن عباس أن رجلا من الأنصار وقع في العباس كان في الجاهلية. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٢۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! اس امر میں ہمارے لیے کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے نبوت ہے اور تمہارے خلافت ہے تمہیں سے اس امر کی ابتدا ہوگی اور تمک ہی پر اس کی انتہا ہوگی ابن عباس (رض) کہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی فرمایا : جو شخص تم سے محبت کرے گا میرے شفاعت اسے حاصل ہوگی اور جو تم سے بغض و عداوت رکھے گا اسے میری شفاعت نہیں ملے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37313- عن ابن عباس قال: قال العباس: يا رسول الله! ما لنا في هذا الأمر؟ قال: لي النبوة ولكم الخلافة، بكم يفتح هذا الأمر وبكم يختم، قال: وقال النبي صلى الله عليه وسلم للعباس: من أحبك نالته شفاعتي ومن أبغضك فلا نالته شفاعتي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کا محاصرہ کیا تو قلعہ سے ایک شخص باہر نکلا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کو اٹھا کرلے گیا تاکہ اسے قلعہ میں داخل کرلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اس کو چھڑالائے گا اس کے لیے جنت ہے عباس (رض) اس کام کے لیے کمر بستہ ہوگئے اور چل پڑے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آپ کے ساتھ جبرائیل ومیکائیل ہیں عباس (رض) گئے اور دونوں کو اٹھا لائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37314- عن ابن عباس قال: لما حاصر النبي صلى الله عليه وسلم الطائف خرج رجل من الحصن فاحتمل رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ليدخله الحصن فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يستنقذه فله الجنة! فقام العباس فمضى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: امض ومعك جبريل وميكائيل، فمضى فاحتملهما جميعا حتى وضعهما بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٤۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : آپ نے جب سے یہ کام کیا جو کیا آپ نے ہمارے اندر کمینہ چھوڑ دیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ لوگ خیرو بھلائی۔ (یا فرمایا ایمان) کو نہیں پاسکتے حتیٰ کہ تم سے محبت اللہ کے لیے اور میری قرابت کے لیے قبیلہ بنوسلیم مراوی میری شفاعت کی امید رکھے گا اور بنو عبدالمطلب امیدوار نہیں ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
37315- عن ابن عباس قال: جاء العباس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنك قد تركت فينا ضغائن منذ صنعت الذي صنعت! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يبلغون الخير - أو قال: الإيمان - حتى يحبوكم لله ولقرابتي، أترجو سليم وهم حي من مراد - شفاعتي ولا ترجوا بنو عبد المطلب شفاعتي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٥۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) کے پاس ان کی عبادت کرنے تشریف لائے عباس (رض) چار پائی پر تھے عباس (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : میرے چچا اللہ تعالیٰ آپ کو بلند مقام عطا فرمائے ۔ (رواہ ابن عساکر)
37316- عن ابن عباس قال: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى العباس يعوده فدخل عليه والعباس على سرير فأخذ بيد النبي صلى الله عليه وسلم فأقعده في مكانه، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: رفعك الله يا عم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٦۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین و انصار کو حکم دیا کہ دو صفیں بنالیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) کا ہاتھ پکڑا اور ان کے درمیان چلنے لگے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جبرائیل امین نے مجھے خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ مہاجرین و انصار پر اہل آسمان میں فخر کررہے ہیں اور اے علی وعباس ! تم دونوں پر حاملین عرش میں فخر کررہے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37317- عن ابن عباس قال: أمر النبي صلى الله عليه وسلم المهاجرين والأنصار أن يصفوا صفين ثم أخذ بيد علي وبيد العباس ثم مشى بينهم، ثم ضحك النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له علي: مم ضحكت يا رسول الله؟ قال إن جبريل أخبرني أن الله باهى بالمهاجرين والأنصار أهل السماوات السبع، وباهى بك يا علي وبك يا عباس حملة العرش. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٧۔۔۔ اعمش اضحاک سے ابن عباس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد فرمایا سفاح، منصور اور مہدی ہم میں سے ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
37318- "أيضا" عن الأعمش عن الضحاك عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: منا السفاح ومنا المنصور ومنا المهدي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٨۔۔۔ مہدی امیرالمومنین اپنے آباء کی سند سے ابن عباس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر دنیا میں رہنے کا صرف ایک ہی دن باقی ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور بنی امیہ دکھائے گا البتہ سفاح، منصور اور مہدی ہم میں سے ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
37319- عن المهدي أمير المؤمنين حدثني أبي عن أبيه عن جده عن ابن عباس قال: والله! لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لأراك الله من بني أمية! ليكونن منا السفاح والمنصور والمهدي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣١٩۔۔۔ ابراہیم بن سعدی ، مامون ، رشید ، مہدی ، منصور محمد بن علی ، اپنے والد سے عبداللہ کی سند سے عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت منقول ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : پیر کی صبح اپنے گھر رہو میں آپ کے پاس آؤں گا چنانچہ حسب وعدہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ نے کتان اور قطن کی ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور آپ دروازے کے دونوں پٹ پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور بھی ہے ؟ عرض کیا : یارسول اللہ کوئی نہیں صرف ہمارے غلام ہیں آپ نے فرمایا : قوم کے غلام اسی قوم کے افراد ہوتے ہیں ہم آپ کے قریب جمع ہوگئے آپ نے ہمارے اوپر اپنی چادر تان لی اور فرمایا : یا اللہ ! یہ میرے چچا ہیں جو میرے باپ کی مانند ہیں یا اللہ دوزخ کی آگ سے انھیں اسی طرح پوشیدہ رکھ جس طرح میں نے انھیں چادر سے چھپالیا ہے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم ہر چیز نے آمین کہا حتی کہ چوکھٹ کے بالائی حصہ نے بھی آمین کہا۔ (رواہ ابن النجار)
37320- عن إبراهيم بن سعيد حدثنا المأمون حدثنا الرشيد حدثنا المهدي حدثنا المنصور حدثنا محمد بن علي عن أبيه علي بن عبد الله عن عبد الله بن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للعباس: إذا كان غداة يوم الإثنين فكن في منزلك حتى آتيك؛ فغدا عليه النبي صلى الله عليه وسلم ملاءة له من الكتان والقطن فأخذ بعضادتي الباب فقال: هل فيكم غيركم؟ قالوا: لا يا رسول الله إلا موالينا، قال: موالي القوم منهم، فجمعنا إليه، فقال: تدانوا، فشملنا بملاءته ثم قال: اللهم! هذا عمي وصنو أبي فاستره وولده من النار كستري إياهم بملاءتي هذه! قال عبد الله بن عباس: فوالله لقد أمن كل شيء حتى أسكفة1 الباب."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! چند واقعات کی وجہ سے ہم لوگوں کے دلوں میں کینہ دیکھتے ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا ! وہ لوگ بھلائی نہیں پاسکتے حتیٰ کہ تم سے میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کریں۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبیلہ بنوسلیم میری شفاعت کا امیدوار ہے اور عبدالمطلب امیدوار نہیں ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
37321- عن عائشة قالت: أتى العباس بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إنا لنعرف الضغائن في أناس من وقائع أوقعناها! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما والله إنهم لا يبلغون خيرا حتى يحبوكم لقرابتي! ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ترجو سليم شفاعتي ولا يرجوها بنو عبد المطلب. "كر".
tahqiq

তাহকীক: