কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৩৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ کی ایک جانب ابوبکر (رض) بیٹھے تھے اور دوسری جانب حضرت عمر (رض) اتنے میں عباس (رض) آئے ان کے لیے ابوبکر (رض) کھسک گئے عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے درمیان بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل فضل ہی فضلیت والوں کا مقام جانتے ہیں پھر عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہو کر گفتگو کرنے لگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی آواز بہت دھیمی کرلی۔ ابوبکر (رض) کے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے جس نے میرا دل مشغول کرلیا ہے عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے رہے حتیٰ کہ جب اپنے کام سے فارغ ہوئے اور اٹھ کر چلے گئے ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ابھی کوئی نئی بات ہوئی ہے ؟ فرمایا نہیں عرض کیا : میں نے آپ کو دوران گفتگو آواز دھیمی کیے ہوئے دیکھا ہے آپ نے فرمایا : جبرائیل امین نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب عباس (رض) تشریف لائیں میں آواز دھیمی کرلوں جس طرح تمہیں میرے پاس آواز دھیمی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37322- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا مع أصحابه وبجنبه أبو بكر وعمر، فأقبل العباس فأوسع له أبو بكر، فجلس بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين أبي بكر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: إنما يعرف الفضل لأهل الفضل أهل الفضل، ثم أقبل العباس على النبي صلى الله عليه وسلم يحدثه، فخفض النبي صلى الله عليه وسلم صوته شديدا، فقال أبو بكر لعمر: قد حدث برسول الله صلى الله عليه وسلم علة قد شغلت قلبي، فما زال العباس عند النبي صلى الله عليه وسلم حتى فرغ من حاجته وانصرف، فقال أبو بكر: يا رسول الله! حدثت بك علة الساعة؟ قال: لا، قال: فإني قد رأيتك قد خفضت صوتك شديدا، قال: إن جبريل أمرني إذا حضر العباس أن أخفض صوتي كما أمركم أن تخفضوا أصواتكم عندي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٢۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) وسعی کے لیے بھیجا (کسی سرکاری کام کے لیے ) عمر (رض) عباس (رض) کے پاس سے گزرے انھوں نے غصہ کردیا عمر نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایت کردی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! آدمی کا چچا باپ کیہ مانند ہوتا ہے ہم نے عباس (رض) سے دو سالوں کا پیشگی صدقہ لے لیا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
37323- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث عمر بن الخطاب ساعيا، فمر بالعباس فأغلظ له، فشكاه عمر إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عمر! إن عم الرجل صنو أبيه، وإنا قد تعجلنا من العباس صدقته لعامين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٣۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) کا ہاتھ دیکھا جو کم گوشت تھا آپ نے فرمایا : یہ میرے چچا ہیں اور میرے باپ کی مانند ہیں۔ عربوں کے سردار ہیں جنت کے اعلیٰ درجے میں میرے ساتھ ہوں گے۔ (رواہ ابن النجار)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف سے اس کی سند میں زکریا بن یحییٰ الرقاشی ہے جو کہ ضعیف ہے) ۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف سے اس کی سند میں زکریا بن یحییٰ الرقاشی ہے جو کہ ضعیف ہے) ۔
37324- عن ابن مسعود قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم انتشل يد العباس بن عبد المطلب قال: هذا عمي وصنو أبي وسيد عمومتي من العرب وهو معي في السنام الأعلى من الجنة."ابن النجار وفيه زكريا بن يحيى الرقاشي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٤۔۔۔ سعید بن امسیب کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : اے ابو الفضل ! کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ جی ہاں فرمایا : اگر آپ پیش رفت کردیں اللہ تعالیٰ آپ کو عطا کرے گا حتی کہ آپ راضی ہوجائیں ۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضیعف ہے دیکھے الالحفاظ ٨٠٧
کلام :۔۔۔ حدیث ضیعف ہے دیکھے الالحفاظ ٨٠٧
37325- عن سعيد بن المسيب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس: يا أبا الفضل! ألا أبشرك؟ قال: بلى يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم! قال: لو قدمت أعطاك الله حتى ترضى. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٥۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ اگر عباس (رض) میں موجود ہوتے تو صحابہ کرام (رض) میں کوئی شخص رائے اور عقلمندی کے اعتبار سے ان پر فضیلت نہ لے جاتا۔ (رواہ ابن عساکر)
37326- عن الشعبي قال: إن العباس لو شهد بدرا ما فضلهأحد من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم رأيا وعقلا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٦۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے واپس تشریف لائے آپ کے ساتھ عباسی (رض) بھی تھے انھوں نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں واپس مکہ جاؤں اور پھر مہاجرین کی طرح ہجرت کرکے آؤں آپ نے فرمایا : اے ابوالفضل بیٹھ جائیں : آپ خاتم مہاجرین ہیں جس طرح میں خاتم الانبیاء ہوں۔ (رواہ الدعیانی وابن عساکر)
37327- عن ابن شهاب قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر ومعه العباس أتاه العباس فقال: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم! ائذن لي أن أرجع إلى مكة حتى أهاجر كما هاجر المهاجرون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجلس أبا الفضل فأنت خاتم المهاجرين كما أنا خاتم النبيين. "الروياني، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : آپ میرے چچا ہیں اور باپ کی مانند ہیں جو شخص چاہے وہ اپنے چچا ہر فخر کرے۔ (رواہ ابوالحسن الجوھری فی امالیہ)
37328- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بن عبد المطلب: عمي وصنو أبي، من شاء فليباه بعمه. "أبو الحسن الجوهري في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٨۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ جب قحط میں مبتلا ہوجائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے اور خوب بارش برستی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں جب لوگ قحط میں مبتلا ہوئے عمر (رض) حضرت عباس (رض) کو لیکر باہر تشریف لائے اور ان کے وسیلہ سے بارش طلب کی اور فرمایا : یا اللہ ! جب ہم تیرے نبی کے عہد میں قحط زدہ ہوتے تو انہی کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ لائے ہیں لہٰذا ہمیں بارش عطا فرما چنانچہ بارش برس پڑتی۔ (رواہ ابن عساکر)
37329- عن أنس قال: كانوا إذا قحطوا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم استسقوا بالنبي صلى الله عليه وسلم فسقوا، فلما كان بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم في إمارة عمر قحطوا، فأخرج عمر العباس يستسقي به، فقال: اللهم إنا كنا إذا قحطنا على عهد نبيك استسقينا به فسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبيك فاسقنا! قال: فسقوا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٢٩۔۔۔ صہیب (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو حضرت عباس (رض) کے ہاتھ پاؤں چومتے دیکھا ہے۔ (رواہ النجاری فی الادب وابن المصری فی الرؤصۃ قتی تقبیل الید)
37330- عن صهيب قال: رأيت عليا يقبل يد العباس ورجله. "خ في الأدب، ابن المقرى في الرخصة في تقبيل اليد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٠۔۔۔” مسند عمر “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت (رض) نے عباس (رض) سے فرمایا : بخدا ! آپ کا اسلام قبول کرنا مجھے خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ وہ آپ کی سبقت کو محبوب سمجھتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37331- "مسند عمر" عن ابن عباس قال: قال عمر للعباس: أسلم فوالله لأن تسلم كان أحب إلي من أن يسلم الخطاب! وما ذاك إلا ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب أن يكون لك سبقا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣١۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر عمر (رض) اپنے اپنے دور خلافت میں جب کبھی حضرت عباس (رض) سے ملاقات کرتے اپنی سواری سے اترپڑتے اور عباس (رض) کے ساتھ ان کے گھر تک پیدل چلتے اور انھیں گھر پہنچا کر جدا ہوتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37332- عن ابن شهاب قال: أبو بكر وعمر في ولايتهما لا يلقى العباس منهما واحد وهو راكب إلا نزل عن دابته وقادها ومشى مع العباس حتى بلغه منزله أو مجلسه فيفارقه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٢۔۔۔ عدی بن سہیل کی روایت ہے کہ جب اہل شام نے حضرت عمر (رض) سے اہل فلسطین کے خلاف مدد طلب کی تو عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو بنائب مقرر کیا اور خود مدد لے کر روانہ ہوگئے حضرت علی (رض) نے کہا : کیا آپ خود جارہے ہیں ؟ آپ تو کتانما دشمن کے ارادہ پر چل رہے ہیں۔ فرمایا : میں عباس (رض) کی وفات سے قبل جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں چونکہ تم لوگوں نے اگر عباس (رض) کو گم پایا تمہارے اندر زشر پھوٹ پڑے گا، جیسا کہ رسی ٹوٹ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) کی امارت کے چھ سال گزرنے پائے تھے کہ حضرت عباس (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ کی قسم لوگوں میں ان کے جاتے ہی شر پھوٹ پڑا۔ (رواہ اسیف وابن عساکر ولہ حکم الرفع)
37333- عن عدي بن سهيل قال: لما استمد أهل الشام عمر على أهل فلسطين استخلف عليا وخرج ممدا لهم، فقال له علي: أين تخرج بنفسك؟ إنك تريد عدوا كلبا، فقال: إني أبادر بجهاد العدو موت العباس، إنكم لو فقدتم العباس لانتقض بكم الشر كما ينتقض الحبل. فمات العباس لست سنين خلت من إمارة عثمان، فانتقض والله بالناس الشر. سيف، "كر"؛ وله حكم الرفع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٣۔۔۔ ابوجزہ سعدی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بارش طلب کرتے ہوئے فرمایا : یا اللہ ! میں لوگوں سے عاجز آپ کا ہوں جب کہ تیرے پاس وسعتیں ہیں عمر (رض) نے حضرت عباس (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : یہ تیرے نبی کا چچا ہے ہم تیرے حضور اس کا وسیلہ پیش کرتے ہیں جب عمر (رض) منبر سے نیچے اترنا چاہتے تو اپنی چادر الٹتے تھے اور پھر نیچے اتر آتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37334- عن أبي وجزة السعدي عن أبيه قال: استسقى عمر بن الخطاب فقال: اللهم! قد عجزت عنهم وما عندك أوسع لهم، وأخذ بيد العباس فقال: هذا عم نبيك ونحن نتوسل به إليك فلما أراد عمر أن ينزل قلب رداءه ثم نزل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٤۔۔۔ مسلم کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو محصب وادی میں دیکھا میں نے انھیں لیے ہوئے دیکھا آپ (رض) افق میں دیکھ رہے تھے آپ کے ساتھ مختلف قسم کے سوالات کئے جارہے تھے مگر آپ کچھ جواب نہیں دیتے تھے لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین آپ سوچکے ہیں ؟ فرمایا : بخدا میں سویا نہیں ہوں لیکن میرے دل میں چند باتیں آئی ہیں جنہوں نے مجھے پریشان کردیا ہے میں نے چند چیزیں دیکھیں کہ وہ ترقی کرتی جارہی ہیں اور جب اپنے عروج پر پہنچتی ہیں وہاں سے واپس لوٹ آتی ہیں اور کچھ بھی نہیں ہوتیں مجھے خوف ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسلام کمزور تو نہیں ہوگیا۔ حتیٰ کہ عباس بھی دنیا سے جاتے رہیں۔ (رواہ الترقفی فی جزہ )
37335- عن مسلم قال: رأيت عمر بن الخطاب بالمحصب فرأيته اضطجع ونظر في الأفق فسأله أصحاب له عن أشياء فلم يجب في ذلك شيئا. فقالوا: أرقدت يا أمير المؤمنين؟ قال: والله! ما رقدت ولكن أشياء حدثتها نفسي حتى والله غمتني، فنظرت في الأشياء كلها فإذا هي تمضي صعدا وتبدأ حتى إذا بلغت أناها رجعت فلم يكن شيئا، فتخوفت أن يكون هلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعف الإسلام حتى يهلك العباس."الترقفي في جزئه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٥۔۔۔” مسند عثمان “ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے دور میں جو واقعہ پیش ہوا اور وہ اس سے راضی بھی رہے وہ یہ کہ حضرت عثمان (رض) نے ایک شخص کو مارا اس نے حضرت عباس (رض) گستاخی کی تھی عثمان (رض) سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کی کوئی عزت نہیں یا ان کی تحقیر کی اجازت دی گئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخالفت کی اس شخص کی جو اس فعل سے خوش ہوا ہو۔ (رواہ اسیف وابن عساکر)
37336- "مسند عثمان" عن القاسم بن محمد قال: كان مما أحدث عثمان فرضي به منه أنه ضرب رجلا في منازعة استخف فيها بالعباس بن عبد المطلب فقيل له، فقال: أيفخم رسول الله صلى الله عليه وسلم عمه وأرخص في الاستخفاف به؟ لقد خالف رسول الله صلى الله عليه وسلم، من رضي فعل ذلك فرضي به منه."سيف، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
37337 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عباس (رض) پر غصہ کیا رسول اللہ نے اس شخص پر غصہ کرکے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے۔ رواہ ابن عساکر۔
37337- عن جابر أن رجلا أغلظ للعباس فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال للرجل: أما علمت أن عم الرجل صنو أبيه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٦۔۔۔” مسند خلاد انصاری “ وحیہ کلبی کہتے ہیں : میں شام سے آیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خشک میوے پستہ، بادام اور کیک بطور ہدیہ پیش کیے اور آپ کے سامنے رکھ دیئے آپ نے فرمایا : یا اللہ میرے اہل میں جو شخص آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اسے لائیں تاکہ میرے سا تھے میوے کھائے چنانچہ عباس (رض) نمودار ہوئے آپ نے فرمایا : چچا جان قریب ہوجائیں میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ میرے اہل میں سے محبوب شخص کو لائے جو میرے ساتھ میوے کھائے تاہم آپ آئے ہیں عباس (رض) بیٹھ گئے در اور میرے ساتھ کھانے لگے۔ (رواہ ابن عساکر)
37338- "مسند خلاد الأنصاري" عن دحية الكلبي قال: قدمت من الشام فأهديت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فاكهة يابسة من فستق ولوز وكعك فوضعته بين يديه فقال: اللهم ائتني بأحب أهلي إليك - أو قال: إلي - يأكل معي من هذا! فطلع العباس، فقال: ادن يا عم! فإني سألت الله أن يأتيني بأحب أهلي إلي - أو إليه - يأكل معي من هذا فأتيت، فجلس فأكل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٨۔۔۔ نبی طہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا ! اے چچا آپ مجھ سے بڑے ہیں عباس (رض) نے جواب دیا : میں عمر میں بڑا ہوں اور اللہ کا رسول بہت بڑا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وفیہ احمد بن اسحاق بن ابراھیم بن نبی ط وقل فی المغنی متروک لہ نسخۃ وکل مایاتی منھا ورواہ ابن عساکر)
37339- عن نبيط قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس: يا عماه! أنت أكبر مني! قال العباس: أنا أسن ورسول الله أكبر. "ش"، وفيه أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن نبيط، قال في المغنى: متروك، له نسخة وكل ما يأتي منها، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٣٩۔۔۔ حضرت سہل بن ساعدی (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے واپس لوٹے تو آپ سے عباس (رض) نے اجازت طلب کی کہ مکہ واپس چلے جائیں اور پھر وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ آئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چچا جان تسلی رکھیں آپ خاتم المہاجرین جیسے میں خاتم الانبیاء ہوں ۔ (رواہ الشاشی وابن عساکر)
37340- عن سهل بن سعد الساعدي قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر استأذنه العباس أن يأذن له أن يرجع إلى مكة حتى يهاجر منها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اطمئن يا عم فإنك خاتم المهاجرين في الهجرة كما أنا خاتم النبيين في النبوة."الشاشي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٠۔۔۔” ایضا “ حضرت عباس (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہجرت کی اجازت طلب کی آپ نے عباس (رض) کو لکھ بھیجا : اے چچا ! آپ اپنی جگہ اقامت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہجرت کا خاتمہ کرنا ہے جس طرح مجھ سے نبوت کا خاتمہ کیا۔ (رواہ ابویعلی والطبرانی و ابونعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر وابن النجار و مدار الحدیث علی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید بن ثابت ضعفوہ) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الالحافظ ٨٢١۔
37341- "أيضا" قال: استأذن العباس النبي صلى الله عليه وسلم في الهجرة فكتب إليه: يا عم! أقم مكانك الذي أنت به فإن الله قد ختم بك الهجرة كما ختم بي النبوة. "ع، طب" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر" وابن النجار، ومدار الحديث على إسماعيل بن قيس بن سعد بن
زيد بن ثابت، ضعفوه".
زيد بن ثابت، ضعفوه".
তাহকীক: