কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৩৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤١۔۔۔ حضرت سہل بن سعد (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے پر تھے اس دن زور کی گرمی پڑی آپ ایک جگہ اترے اور پانی طلب کیا تاکہ غسل کرلیں عباس (رض) صوف کی ایک چادر لے کر آپ آگے ستر کرنے کی عرض سے کھڑے ہوگئے سہل (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چادر کی جانب سے دیکھا آپ ہاتھ اٹھائے یہ دعا مانگ رہے تھے : یا اللہ ! عباس اور اس کی ولاد کی دوزخ سے پردہ پوشی فرما۔ (رواہ الدوپانی والشاشی وابن عساکر)
37342- عن سهل بن سعد قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوما بطريق مكة في يوم صائف قائظ شديد حره فنزل منزلا فدعا بماء ليغتسل، فقام العباس بن عبد المطلب بكساء من صوف فستره، قال سهل: فنظرت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من جانب الكساء وهو رافع رأسه - وفي لفظ: يديه - إلى السماء يقول: اللهم! استر العباس وولد العباس من النار. "الروياني والشاشي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٢۔۔۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ سے واپس تشریف لارہے تھے گرمی شدت پر تھی آپ کے لیے پانی کا ٹب رکھ دیا گیا تاکہ آپ ٹھنڈک حاصل کرلیں عباس (رض) نے آپ کی طرف پیٹھ کرکے چادر پھیلادی تاکہ آپ کا ستر ہوجائے جب آپ غسل سے فارغ ہوئے پوچھا یہ کون ؟ جواب ملا کہ آپ کے چچا عباس ہیں۔ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے حتیٰ کہ ہم نے چادر کے اوپر سے ہاتھ دیکھ لیے ایک روایت میں ہے کہ آپ چادر کے اوپر سے ہماری طرف جھانکے اور فرمایا : اے چچا ! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی اولاد کو آتش دوزخ سے مستور رکھے۔ (رواہ الرویانی)
37343- "أيضا" قال: أقبل النبي صلى الله عليه وسلم من غزاة له في يوم حار فوضع له ماء في جفنة يتبرد به، فجاء العباس فولاه ظهره وستره بكساء كان عليه، فلما فرغ قال: من هذا؟ قال: عمك العباس! فرفع يديه إلى السماء حتى أطلعنا عليه من الكساء - وفي لفظ: حتى طلع علينا من الكساء - وقال: سترك الله يا عم وستر ذريتك من النار. "الروياني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٣۔۔۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ہمیں ابو صالح شعیب بن مثلمہ ننے حدیث بیان کی۔ (ابویعلی) شعیب اسماعیل بن قیس ابوحازم (ابن عساکر) کی سند ہے ابورافع (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عباس (رض) کے اسلام قبول کرنے کی بشارت آپ نے مجھے گلے لگالیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37344- حدثنا ابن إسحاق حدثنا أبو صالح شعيب بن سلمة "ع" حدثنا شعيب حدثنا إسماعيل بن قيس عن أبي حازم عنه "كر" عن أبي رافع قال: بشرت النبي صلى الله عليه وسلم بإسلام العباس فأعتقني. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٤۔۔۔ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد اور دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عباس (رض) سے فرمایا : اے چچا میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا رہوں گا حتیٰ کہ آپ کو خوش ہوجائیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37345- عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس: ولك يا عم من الله حتى ترضى. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٥۔۔۔ ابورافع کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو وصولی صدقات کا ذمہ بنا کر بھیجا حضرت عمر (رض) عباس (رض) کے پاس آئے اور ان سے صدقات کا مطالبہ کیا۔ عباس (رض) نے آگے سے غصہ کا اظہار کیا عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (رض) کے پاس آئے اور ان کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے عباس (رض) نے ہمیں ایک سال کا پیشگی صدقہ دے دیا ہے۔
(رواہ ابن عساکر)
(رواہ ابن عساکر)
37346- عن أبي رافع قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم عمر ساعيا على الصدقة، فأتى العباس يطلب صدقة ماله، فأغلظ له، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ذلك، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أما علمت أن عم الرجل صنو أبيه؟ إن العباس أسلفنا صدقة العام عام أول.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٦۔۔۔ ابوھیاج اپنے والد ابوسفیان بن حارث سے روایت نقل کرتے ہیں انھوں نے کہا : مجھے آج یقین ہوا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت عباس (رض) عرب کی سردار ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ان کا مرتبہ عظیم تر تھا جب قریش آپ کے درپے ہوگئے تھے عباس (رض) نے کہا : اگر قریش نے انھیں قتل کردیا میں ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑوں گا جب حمزہ (رض) کو قتل کرنے کے بعد مثلہ کیا گیا فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو قریش کے تیس آدمیوں کا مثلہ کروں گا بعض نے ستر کا قول کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37347- عن أبي هياج عن أبيه أبي سفيان بن الحارث قال: اليوم علمت أن العباس سيد العرب بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنه أعظم الناس منزلة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أخطره قريشا بأصلها فقال: لئن قتلوه لا أستبقي منهم أحدا أبدا، وقال في حمزة حين قتل ومثل به: لئن بقيت لأمثلن بثلاثين من قريش! وقال المكثر سبعين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ عباس (رض) سے پوچھا گیا : آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جواب دیا : وہ مجھ سے بڑے ہیں لیکن میں ان سے پہلے پیدا ہوا ہوں (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
37348- عن عبد الله بن عباس قال: قيل للعباس: أنت أكبر أم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: هو أكبر مني وأنا ولدت قبله. "كر وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٨۔۔۔ حضرت عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا : تمہارے لیے خوشخبری ہے میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور تم عرب کے سردار ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
37349- عن العباس قال: جئت أنا وعلي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما رآنا قال: بخ لكما؟ أنا سيد ولد آدم وأنتما سيدا العرب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٤٩۔۔۔ اسحاق بن ابراہیم بن عبداللہ بن حارثہ بن نعمان ابراہیم بن عبداللہ بن حارثہ کی روایت ہے کہ جب صفوان بن امیہ بن خلف (رض) مدینہ آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے پوچھا : اے ابو وہب ! کس کے پاس ٹھہرے ہو عرض کی : میں عباس (رض) کے پاس ٹھہرا ہوا ہوں۔ فرمایا تم ایسے قریشی کے پاس ٹھہرے ہو جو قریش کے لیے سب سے زیادہ حیاء کرنے والا ہے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37350- عن إسحاق بن إبراهيم بن عبد الله بن حارثة بن النعمان عن أبيه عن عبد الله بن حارثة قال: لما قدم صفوان بن أمية بن خلف المدينة أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: على من نزلت يا أبا وهب؟ قال: على العباس بن عبد المطلب، قال: نزلت على أشد قريش لقريش حياء. "يعقوب بن سفيان كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٠۔۔۔ ابن مسعود (رض) کہ روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو وصولی صدقات کے لیے بھیجا حضرت عمر (رض) کی سب سے پہلے عباس (رض) سے ملاقات ہوئی اور ان سے مطالبہ کیا کہ اے ابوالفضل اپنے مال کی زکوۃ لائیں عباس (رض) نے حضرت عمر (رض) کو سختی سے چند باتیں سنائیں حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں تمہارا مرتبہ نہ ہوتا میں تمہیں اس کا ضرور بدلہ دیتا۔ پھر دونوں حضرات اپنے اپنے راستے پر الگ الگ ہوگئے حضرت عمر (رض) حضرت علی کے پاس آئے اور انھیں ماجرا سنایا حضرت علی (رض) حضرت عمر (رض) کا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے مجھے صدقات کا عامل مقر کرکے بھیجا تھا عباس (رض) سے میری ملاقات ہوئی میں نے ان سے کہا : اے ابوالفضل ! اپنے مال کا صدقہ لائیں انھوں نے مجھے ایسی ایسی باتیں سنائیں اور مجھ پر غصہ کیا۔ میں نے کہا : بخدا ! اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہا اں تمہارا مقام نہ ہوتا میں تمہیں اس کا بدلہ دیتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عباس اکا اکرام کرو اللہ تعالیٰ تمہارا کرام کرے گا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے صدقات کے معاملہ میں عباس (رض) سے بات مت کرو چونکہ ہم نے ان سے دو سالوں کا صدقہ پیشگی لے لیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37351- عن ابن مسعود قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب ساعيا على صدقة، فأول من لقيه العباس بن عبد المطلب، فقال له: يا أبا الفضل هلم صدقة مالك، فقال له: لو كنت وكنت! وأغلظ له في القول، فقال له عمر: أما والله لولا الله ومنزلتك من رسول الله صلى الله عليه وسلم لكافيتك ببعض ما كان منك! فافترقا وأخذ هذا في طريق وهذا في طريق، فجاء عمر حتى دخل على علي بن أبي طالب فذكر له ذلك، فأخذ علي بيد عمر حتى دخلا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر: يا رسول الله بعثتني عاملا على الصدقة، فأول من لقيت عمك العباس، فقلت: يا أبا الفضل! هلم صدقة مالك فقال لي وكيت وكيت وأنبني وأغلظ لي القول، فقلت: أما والله لولا الله ومنزلتك من رسول الله صلى الله عليه وسلم لكافأتك ببعض ما كان منك! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أك رمه أكرمك الله! أما علمت أن عم الرجل صنو أبيه، لا تكلم العباس فإنا قد تعجلنا منه صدقة سنتين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥١۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما ہوئے ابوبکر (رض) آپ کی دائیں جانب بیٹھے عمر (رض) بائیں جانب اور عثمان (رض) آپ کے سامنے بیٹھے تھے عثمان (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاتب تھے چنانچہ جب عباس (رض) آتے ابوبکر (رض) اپنی جگہ سے ہٹ جاتے اور عباس (رض) بیٹھ جاتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37352- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا جلس جلس أبو بكر عن يمينه وعمر عن يساره وعثمان بين يديه - وكان كاتب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا جاء العباس بن عبد المطلب تنحى أبو بكر وجلس العباس مكانه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں خواب میں دیکھا گویا میں ابوبکر (رض) عمر، عثمان (رض) بیٹھے ہوئے ہیں یکایک ہمارے اوپر آسمان سے ایک دسترخوان نازل ہوا حتیٰ کہ ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں آن لگا انھوں نے اس سے تناول کیا اور پھر اپنی جگہ سے ہٹ گئے پھر عمر آئے انھوں نے کھایا اور اپنی جگہ سے ہٹ گئے پھر آئے اور وہ بھی کھا کر ہٹ گئے پھر میں آگے بڑھا اور کھایا اس دوران میری قوم آگئی انھوں نے مجھے پلٹ دیا میں مسلسل کھانے پر ان سے لڑتا رہا لیکن وہ مجھ پر غالب آگئے اور کھانے لگے پھر یکایک میرے چچا عباس (رض) کی اولاد آگئی اور اس نے قوم کا پانسہ پلٹ دیا اور خوددسترخوان سے کھانے بیٹھ گئے میں نے اس کی تعبیر خلافت سے لی ہے۔ اور یہ کہ میرے چچا کی اولاد ان کی خبر لے گی مجھ سے یہ حدیث یاد رکھو۔ (رواہ الحسن بن بدر فی کتاب مارواہ الخلفاء)
37353- عن علي قال: رأيت في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم في منامي كأني جالس أنا وأبو بكر وعمر وعثمان إذ نزلت علينا مائدة من السماء حتى صارت في يد أبي بكر فأكل منها وتنحى، فقدم عمر فأكل منها ثم تنحى، فقدم عثمان فأكل منها ثم تنحى، فقدمت فأكلت، فبينا أنا كذلك إذا أنا بقومي فأقلبوني عنها، فما زلت أقاتلهم على الطعام حتى غلبوا فأكلوا، وإذا ببني عمي العباس قد جاؤوا فأقلبوهم عنها وجلسوا فأكلوا منها، فكنت معهم على القوم، فأولت ذلك الخلافة وأن بني عمي العباس تنالهم، فاحفظوا عني ذلك. "الحسن بن بدر في كتاب ما رواه الخلفاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! قریش اپنی سرشت کی بناپر ہم سے مختلف وجوہ پر ملیں گے آپ نے فرمایا : ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ میرے لیے تم سے محبت نہ کرلیں۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٣٧٢٥۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٣٧٢٥۔
37354- عن علي قال: قال العباس: يا رسول الله! إن قريشا تلقانا فيما بينهم بوجوه لا تلقاها بها، فقال: أما الإيمان لا يدخل أجوافكم حتى يحبوكم لي. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٤۔۔۔ حضرت علی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) سے ملے آپ سفید خچر پر سوار تھے فرمایا : اے چچا جان ! کیا میں کو خوشخبری نہ سناؤں ۔ جواب دیا جی ہاں یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ۔ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس امر (معاملہ دین اسلام) کی مجھ سے ابتداء کی ہے اور آپ کی اولاد سے اس کا خاتمہ فرمائے گا۔ (رواہ ابوبکر فی العنیلانیات والخطیب ووابن عساکر وابن النجار)
37355- عن علي قال: لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم العباس يوم فتح مكة وهو على بغلته الشهباء فقال: يا عم! ألا أحبوك؟ ألا أجيزك؟ قال: بلى فداك أبي وأمي يا رسول الله! فقال: إن الله فتح هذا الأمر بي ويختمه بولدك. "أبو بكر الغيلانيات، خط، كر وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا : کیا آپ کو یاد ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تھا اور آپ عباس (رض) کے پاس گئے انھوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا اور آپ کو بتایا کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو سالوں کا پیشگی صدقہ دے دیا ہے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اوعر ض اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے۔ (رواہ ابن جریر وابن عساکر)
37356- عن علي قال لعمر: أما تذكر حين بعثك رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعيا على الصدقة فأتيت العباس تسأله زكاة ماله فمنعك الصدقة وأعلمك أنه قد أعطاكها النبي صلى الله عليه وسلم لسنتين فانطلقت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إن العباس منعني الصدقة! فقال: إن عم الرجل صنو أبيه. "ابن جرير، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض)
٣٧٣٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کرلیا تو دوسرے دن آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ہنس دیئے صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ہم نے آپ کو اس طرح ہنستے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : یہ جبرائیل امین ہیں۔ انھوں نے مجھے خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے چچا عباس اور میرے بھائی علی بن ابی طالب پر اہل فضاء حاملین عرش ارواح انبیاء اور چھ آسمانوں کے فرشتوں نے فخر کیا ہے اور میری امت پر اہل دنیا پر فخر کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37357- عن علي قال: لما فتح الله على رسوله صلى الله عليه وسلم مكة صلى بالناس الفجر من صبيحة ذلك فضحك حتى بدت نواجذه، فقالوا: يا رسول الله! ما رأيناك ضحكت مثل هذه الضحكة!ومالي لا أضحك وهذا جبريل يخبرني عن الله أن الله تعالى باهى بي وبعمي العباس وبأخي علي بن أبي طالب سكان الهواء وحملة العرش وأرواح النبيين وملائكة ست سماوات، وباهى بأمتي أهل سماء الدنيا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان بن مظعون (رض)
٣٧٣٥٧۔۔۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی روایت ہے کہ انھیں خبر پہنچی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون (رض) عہ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : عثمان بن مظعون (رض) شہید نہیں ہوئے جس سے میرے دل سے ان کا مقام جاتا رہا میں نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو وہ ہم سے زیادہ دنیا سے کنارہ کش رہتا تھا اور وہ اس حالت میں مرا کہ شہید نہیں ہوا میرے دل میں عثمان کے متعلق یہی خطرہ رہا یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی میں نے کہا : اے عمر ! تجھ پر افسوس ہے ہمارے بہترین لوگ مرتے ہیں شہید نہیں ہوتے پھر ابوبکر (رض) کی وفات ہوئی تو میں نے کہا : اے عمر ! تجھ پر افسوس ہے ہمارے بہترین لوگ مرتے ہیں اس کے بعد عثمان بن مظعون (رض) کا مقام میرے دل میں پہلے کی طرح جاگزیں ہوگیا۔ (رواہ ابن سعد وابو عبید فی العزیب)
37358- عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أنه بلغه أن عمر بن الخطاب قال لما توفي عثمان بن مظعون وفاة لم يقتل هبط من نفسي هبطة ضخمة فقلت: انظروا إلى هذا الذي كان أشدنا تخليا من الدنيا ثم مات ولم يقتل، فلم يزل عثمان بتلك المنزلة من نفسي حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: ويك! 1 إن خيارنا يموتون، ثم توفي أبو بكر فقلت: ويك! إن خيارنا يموتون، فرجع عثمان في نفسه إلى المنزلة التي كان بها قبل ذلك."ابن سعد وأبو عبيد في الغريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان بن مظعون (رض)
٣٧٣٥٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون (رض) نے وفات پائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور بہت روئے پھر فرمایا : اے عثمان ! تمہارے لیے خوشخبری ہے دنیا نے تجھے التباس میں ڈال ہے اور نہ تو دنیا کو ملتبس کیا ہے۔ (رواہ الدیلمی)
37359- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما مات عثمان بن مظعون كشف الثوب عن وجهه وقبله بين عينيه وبكى بكاء طويلا ثم قال: طوبى لك يا عثمان! لم تلبسك الدنيا ولم تلبسها. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان بن مظعون (رض)
٣٧٣٥٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان (رض) کو موت کے وقت بوسہ دیا۔ حتیٰ کہ آپ کے آنسو چہرہ اقدس پر بہہ رہے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37360- عن عائشة قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل عثمان بن مظعون عند موته حتى سالت دموعه على وجهه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٠۔۔۔ ابویعلی کندی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خباب بن ارت (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے عمر (رض) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، بجزعماربن یاسر کے اس جگہ پر بیٹھنے کا آپ سے زیادہ کوئی حق نہیں رکھتا۔ چنانچہ جناب (رض) نے حضرت عمر (رض) کو اپنی پشت پر وہ نشانات دکھانے لگے جو مشرکین نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دینے پر لگائے تھے۔ (رواہ ابن سعد وابن ابی شیبۃ و ابونعیم فی الحلیۃ)
37361- عن أبي ليلى الكندي قال: جاء خباب بن الأرت إلى عمر فقال: ادنه! ّفما أحد أحق بهذا المجلس منك إلا عمار بن ياسر، فجمل خباب يريه آثارا في ظهره مما عذبه المشركون."ابن سعد، ش، حل".
তাহকীক: