কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩২৩১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32299 ۔۔۔ فرمایا جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو کہا حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ (حلیة الاولیاء بروایت علی (رض) موقوفا)
32301- لما ألقي إبراهيم في النار قال: حسبي الله ونعم الوكيل. "حل - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32300 ۔۔۔ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ علیھا السلام کو ساتھ لے کر سفر کیا ایک گاؤں میں پہنچے جہاں ایک ظالم بادشاہ تھا اس سے لوگوں نے کہا کہ ابراہیم ایک حسین عورت لے کر آیا ہے ابراہیم (علیہ السلام) کو بلوایا اور پوچھا تمہارے ساتھ یہ کون ہے جواب دیا کہ یہ میری بہن ہے پھر رہ کے پاس جا کر کہا کہ میں نے تمہارے متعلق کہا ہے کہ یہ میری بہن ہے تم میری بات کونہ جھٹلانا اللہ کی قسم اس وقت روئے زمین پر میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی مومن نہیں پھر سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا اور خودوضوکرکے نماز کے لیے کھڑے ہوگئے توسارو نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ میرا آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان ہے میں نے اپنی شرمگاہ کو شوہر کے علاوہ دوسروں سے بچا کر رکھا مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ فرما اس پر غشی طاری ہوگئی حتی کہ زمین پر پاؤں رگڑنے لگا پھر دعا کی اے اللہ اگر اس حالت میں مرگیا تو لوگ میرے اوپر قتل کا الزام لگائیں گے پھر ٹھیک ہوگیا برا ارادہ کیا پھر وہی حالت ہوگئی دوسری یا تیسری مرتبہ میں اہل دربار سے کہا تم نے میرے پاس شیطان بھیجا ہے اس کو ابراہیم کو واپس کردو اور اس کو ایک خادمہ بھی دیدو میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس و اپس گئی کہنے لگی تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو رسواء کیا اور خدمت کے لیے ایک کنیز مل گئی۔ (بخاری بروایت ابی ہریرة (رض))
32302- هاجر إبراهيم بسارة فدخل بها قرية فيها ملك من الملوك أو جبار من الجبابرة فقيل: دخل إبراهيم بامرأة هي من أحسن النساء فأرسل إليه أن يا إبراهيم! من هذه التي معك؟ قال: أختي، ثم رجع إليها فقال لا تكذبي حديثي فإني أخبرتهم أنك أختي، والله إن على الأرض من مؤمن غيري وغيرك، فأرسل بها إليه فقام إليها فقامت توضأ وتصلي فقالت: اللهم! إن كنت آمنت بك وبرسولك وأحصنت فرجي إلا على زوجي فلا تسلط علي الكافر، فغط حتى ركض برجله فقالت: اللهم: إن يمت يقال: هي قتلته، فأرسل ثم قام إليها، فقامت توضأ وتصلي وتقول: اللهم! إن كنت آمنت بك وبرسولك وأحصنت فرجي إلا على زوجي فلا تسلط علي هذا الكافر، فغط حتى ركض برجله فقالت: اللهم! إن يمت يقال هي قتلته، فأرسل في الثانية أو في الثالثة فقال: والله! ما أرسلتم إلي إلا شيطانا، ارجعوها إلى إبراهيم وأعطوها آجر فرجعت إلى إبراهيم فقالت: أشعرت أن الله كبت الكافر وأخدم وليدة. "خ - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت ہر مشرک پر حرام ہے
32301 ۔۔۔ فرمایا ایک شخص قیامت کے دن اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر جہنم سے بچانا چاہیں گے اور جنت میں داخل کرنا چاہیں گے جنت کی طرف سے آواز آئے گی کہ اس میں کسی مشرک کے داخلہ کی گنجائش نہیں اللہ جل جلالہ نے جنت کو ہر مشرک پر حرام کردیا ہے اے رب میرے والد اے رب میرے والد اے رب میرے والد تو باپ کی صورت بدلی جائے گی بدصورت اور بدبودار ہوجائے گا تو اس کو چھوڑ دیں گے۔ (طبرانی ابویعلی ابن حبان مستدرک بزار ضیاء مقدسی بروایت ابی سعید)
32303- ليأخذن رجل بيد أبيه يوم القيامة فليقطعنه النار، يريد أن يدخله الجنة فينادى إلى الجنة لا يدخلها مشرك، إن الله عز وجل قد حرم على كل مشرك فيقول: رب! أبي، رب! أبي، رب! أبي، فيحول في صورة قبيحة وريح منتنة فيتركه. "ط، ع، حب، ك،بز، ض - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت ہر مشرک پر حرام ہے
32302 ۔۔۔ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سال کی عمر کے بعد اپنا ختنہ خود کیا استرہ سے ۔ (ابن عساکر بروایت ابوہریرہ )
32304- اختتن إبراهيم خليل الرحمن بعد أن مرت عليه ثمانون سنة واختتن بالفأس. "كر - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت ہر مشرک پر حرام ہے
32303 ۔۔۔ فرمایا قیامت کے روز ایک شخص اپنے والد سے ملاقات کرے گا اور کہے گا اے اباجان تھا آپ کا بیٹا کیسا تھا ؟ باپ کہے گا ، بہت بہتر تھا پھر سوال کیا آج آپ میری اطاعت کرنے کے لیے تیار ہیں وہ کہے گا ہاں تو کہا جائے گا کہ میرا بازو پکڑلے تو باپ بازو پکڑے گا وہ چل کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پہنچیں گے اللہ تعالیٰ مخلوق میں فیصلہ فرما رہے ہوں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے جنت کے جس دروازے سے جا ہو داخل ہوجاؤ عرض کریں گے اے اللہ میرے ساتھ میرے والد بھی ہیں آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے روز رسوا نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے والد کی صورت مسخ کردیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے ناک پکڑ کر پوچھیں گے اے میرے بندے آپ کے والد یہی ہیں تو عرض کریں گے نہیں آپ کی عزت کی قسم۔ (بزار مستدرک بروایت ابوہریرہ (رض))
32305- يلقى رجل أباه يوم القيامة فيقول له: يا أبت! أي ابن كنت لك؟ فيقول: خير ابن، فيقول: هل أنت مطيعي اليوم؟ فيقول: نعم، فيقول: خذ بازرتي، فيأخذ بازرته ثم ينطلق حتى يأتي الله وهو يعرض الخلق فيقول: يا عبدي! ادخل من أي أبواب الجنة شئت، فيقول: أي رب! وأبى معي فإنك وعدتني أن لا تخزني، فيمسخ الله أباه ضبعا فيهوي في النار فيأخذ بأنفه فيقول: يا عبدي! أبوك هو؟ فيقول: لا وعزتك. "بز، ك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس علیہ الصلوة والسلام
32304 ۔۔۔ ابراہیم (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے مبلقس روئی حاصل کی۔
32306- أول من اتخذ الخبز المبلقس إبراهيم الخليل. "الديلمي - عن نبيط بن شريط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس علیہ الصلوة والسلام
32305 ۔۔۔ فرمایا معراج کی رات میں نے ادریس (علیہ السلام) کو چوتھے آسمان پر دیکھا۔ (ترمذی بیہقی بروایت انس (رض))
32307- لما عرج بي السماء رأيت إدريس في السماء الرابعة. "ت 1 هب - عن أنس".1 أخرجه الترمذي كتاب تفسير القرآن باب ومن سورة مريم 157" وقال: هذا حديث حسن. ص.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسحاق (علیہ السلام)
32306 ۔۔۔ فرمایا ذبیح اللہ اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ دارقطنی فی الافراد بروایت ابن مسعود (رض) البزار ابن مردویہ بروایت عباس بن عبدالمطلب ابن مردویہ بروایت ابوہریرہ (رض) اسنی المطالب 692 التحدیث 231
32308- الذبيح إسحاق. "قط في الأفراد - عن ابن مسعود؛ البزار وابن مردويه - عن العباس بن عبد المطلب؛ ابن مردويه - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماعیل علیہ الصلوة والسلام
32307 ۔۔۔ فرمایا سب سے پہلے جس کی زبان عربی میں کھلی گئی وہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں ان کی عمر چودہ سال تھی۔ (الشیرازی فی الالقاب بروایت علی (رض))
32309- أول من فتق لسانه بالعربية المبينة إسماعيل وهو ابن أربع عشرة سنة. "الشيرازي في الألقاب - عن علي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماعیل علیہ الصلوة والسلام
32308 ۔۔۔ فرمایا تمام عرب اسماعیل بن ابراہیم کی اولاد ہیں۔ (ابن سعد بروایت علی بن رباح مرسلا ضعیف الجامع 4714 بیہقی بروایت جابر (رض))
32310- كل العرب من ولد إسماعيل بن إبراهيم. "ابن سعد - عن علي بن رباح - مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماعیل علیہ الصلوة والسلام
32311 ۔۔۔ یہ عربی زبان حضرت اسماعیل کو الہام کی گئی۔ مستدرک ، بیہقی ، فی شعب الایمان بروایت جابر۔
32311- ألهم إسماعيل هذا اللسان العربي إلهاما. "ك، هب عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32309 ۔۔۔ فرمایا اسماعیل (علیہ السلام) کی قبر حطیم میں ہے۔ الحاکم فی الکنی بروایت عائشہ (رض) ضعیف الجامع 1907)
32312- إن قبر إسماعيل في الحجر. "الحاكم في الكنى - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32310 ۔۔۔ فرمایا عربی مٹ چکی تھی پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس کو میرے پاس تروتازہ کرکے لائے جیسے اسماعیل (علیہ السلام) کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔ ( ابن عساکر بروایت ابراہیم بن ہدیہ وہ بروایت انس (رض)) صحابہ (رض) نے کہا یارسول کیا وجہ ہے کہ آپ (ہمارے مقابلے میں) کی زبان بہت فصیح ہے تو یہ ذکر کیا۔
32313- إن العربية اندرست فجاءني بها جبريل غضة طرية كما شق على لسان إسماعيل عليه السلام. "كر - عن إبراهيم بن هدبة عن أنس" قال: قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! مالك أفصحنا لسانا وأبيننا بيانا قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32311 ۔۔۔ فرمایا میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے اسماعیل (علیہ السلام) کی لغت سکھائی۔ ( الدیلمی بروایت ابن عمرالشذ 420 المقاصد الحسة 45)
32314- جاءني جبريل فلقنني لغة أبي إسماعيل. "الديلمي - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32312 ۔۔۔ فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے درست نہیں کہ اولاد اسماعیل میں سے کسی کی قیمت کھائیں۔ (احمد بروایت اعرابی)
32315- إنه لا يصلح لنا آل محمد أن نأكل ثمن أحد من ولد إسماعيل. "حم - عن اعرابي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایوب (علیہ السلام)
32313 ۔۔۔ فرمایا ایوب (علیہ السلام) لوگوں میں بہت ہی بردبار اور بہت صابر تھے اور غصہ کو پینے والے۔ (الحکیم براویت ابن ابری ضعیف الجامع 4152)
32316- كان أيوب أحلم الناس وأصبر الناس وأكظم الناس لغيظ. "الحكيم - عن ابن ابزى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایوب (علیہ السلام)
32314 ۔۔۔ فرمایا اس دوران کہ ایوب (علیہ السلام) کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش ہوئی توایوب (علیہ السلام) ان کو کپڑے میں ڈالنے لگے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندلائی اے ایوب کیا میں نے آپ کو اس سے مستغنی نہیں بنایا جیسا کہ دیکھ رہے ہو ؟ تو عرض کیا ضرور آپ کی عزت کی قسم لیکن آپ کی برکت سے استغناء نہیں ہے۔ (احمد بخاری نسانی بروایت ابوہریرہ (رض))
32317- بينا أيوب يغتسل عريانا خر عليه جراد من ذهب فجعل أيوب يحتثي في ثوبه فناداه ربه تبارك وتعالى: يا أيوب! ألم أكن أغنيتك كما ترى؟ قال: بلى، وعزتك! ولكن لا غنى بي عن بركتك. "حم، خ، ن - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایوب (علیہ السلام)
32315 ۔۔۔ اللہ عزوجل نے ایوب (علیہ السلام) سے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا کیا جرم ہے جس کی وجہ سے میں نے تمہیں آزمائش میں ڈالا ؟ کہا اے رب نہیں تو فرمایا تم فرعون کے پاس گئے اور وہ کلموں میں مداہنت ہوئی۔ (الدیلمی ابن النجار بروایت عقبہ بن عامر وثیہ الکدیمی تذکرة لموضوعات 183 التزیہ 1471)
32318- قال الله عز وجل لأيوب: أتدري ما كان جرمك إلي حتى ابتليتك؟ قال: يا رب! قال: لأنك دخلت على فرعون فادهنت بكلمتين. "الديلمي وابن النجار - عن عقبة بن عامر؛ وفيه الكديمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایوب (علیہ السلام)
32316 ۔۔۔ فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو شفادی تو ان پر سونے کی ٹڈی کی بارش برسائی تو ان کو اپنے ہاتھ سے سمیٹنے لگے اور کپڑے میں ڈالنے لگے ان سے کہا گیا اے ایوب کیا تم سر نہیں ہوئے ؟ تو عرض کیا آپ کی رحمت سے کون سیر ہو۔ (مستدرک بروایت ابی ہریرة (رض))
32319- لما عافى الله عز وجل أيوب أمطر عليه جرادا من ذهب فجعل يأخذه بيده ويجعل في ثوبه، فقيل له: يا أيوب! أما تشبع؟ قال: ومن يشبع من رحمتك. "ك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایوب (علیہ السلام)
32317 ۔۔۔ فرمایا اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش کا زمانہ آٹھ سال تھا ان کے قریب اور دور کے رشتہ داروں نے ان کو الگ کردیا مگر ان کے دوبھائی جوان کے خواص میں سے تھے صبح وشام ان کے پاس آتے تھے ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ایوب نے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا گناہ کیا کہ دنیا میں اتنا بڑ ا گناہ کسی اور نے نہیں کیا تو دوسرے ساتھی نے اس سے پوچھا وہ کونسا گناہ ہی ؟ فرمایا اٹھارہ سال سے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں فرمایا اور اس کی تکلیف کو دور نہیں فرمایا جب شام کو یہ دونوں ان کے پاس پہنچے تو اس شخص نے ایوب (علیہ السلام) پر باتیں ذکر کردیں تو ایوب (علیہ السلام) نے کہا مجھے تم دونوں کی گفتگو کا تو علم نہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے میرا ایسے دو آدمیوں پر گذر ہوا جو عجز کا اظہار کررہی اللہ کو یاد کررہے تھے میں واپس اپنی گھر لوٹا تاکہ ان دونوں کی طرف سے کفارہ اداکروں کہیں ایسا نہ ہوا کہ ناحق اللہ کا ذکر کرے۔
ایوب (علیہ السلام) قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر جاتے تھے جب قضاء حاجت سے فارغ ہوجاتے اور بیوی ہاتھ پکڑکرسہارا دیتی یہاں تک گھر پہنچ جاتے ایک دن ایسا ہوا کہ قضائے حاجت کے بعد آنے میں دیرلگائی تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی طرف اسی جگہ وحی بھیجا۔
قضائے حاجت سے آنے میں دیر لگائی پھر بیوی کی طرف توجہ کی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرما دی وہ پہلے سے زیادہ حسین ہوگئے جب بیوی نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی میں برکت نازل فرمائے کیا تم نے اللہ کی طرف سے آزمائش میں مبتلاء نبی کو دیکھا ہے اللہ کی قسم میں آپ کو اس نبی کے ساتھ جب وہ صحت کی حالت میں تھے زیادہ مشابہ دیکھتی ہوں تو ایوب (علیہ السلام) نے کہا وہ میں ہوں ان کے پاس دوتھیلیاں تھیں ایک گندم کی ایک جو کی اللہ تعالیٰ نے دوبدلیاں بھیجیں ایک ایک گندم کی تھیلی کے مقابل آئی اس سونا بھردی یہاں تک بہہ پڑی اور جو کی تھیلی میں چاند ی بھر دی وہ بھی بہنے لگی۔ (سمویہ ابن حبان مستدرکو الدیلمی بروایت انس (رض))
ایوب (علیہ السلام) قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر جاتے تھے جب قضاء حاجت سے فارغ ہوجاتے اور بیوی ہاتھ پکڑکرسہارا دیتی یہاں تک گھر پہنچ جاتے ایک دن ایسا ہوا کہ قضائے حاجت کے بعد آنے میں دیرلگائی تو اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی طرف اسی جگہ وحی بھیجا۔
قضائے حاجت سے آنے میں دیر لگائی پھر بیوی کی طرف توجہ کی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرما دی وہ پہلے سے زیادہ حسین ہوگئے جب بیوی نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی میں برکت نازل فرمائے کیا تم نے اللہ کی طرف سے آزمائش میں مبتلاء نبی کو دیکھا ہے اللہ کی قسم میں آپ کو اس نبی کے ساتھ جب وہ صحت کی حالت میں تھے زیادہ مشابہ دیکھتی ہوں تو ایوب (علیہ السلام) نے کہا وہ میں ہوں ان کے پاس دوتھیلیاں تھیں ایک گندم کی ایک جو کی اللہ تعالیٰ نے دوبدلیاں بھیجیں ایک ایک گندم کی تھیلی کے مقابل آئی اس سونا بھردی یہاں تک بہہ پڑی اور جو کی تھیلی میں چاند ی بھر دی وہ بھی بہنے لگی۔ (سمویہ ابن حبان مستدرکو الدیلمی بروایت انس (رض))
32320- إن نبي الله أيوب عليه السلام لبث به بلاؤه ثماني عشر سنة فرفضه القريب والبعيد إلا رجلين من إخوانه كانا من أخص إخوانه به كانا يغدوان إليه ويروحان فقال أحدهما لصاحبه ذات يوم: تعلم والله أن أيوب قد أذنب ذنبا ما أذنبه أحد من العالمين، فقال له صاحبه: وما ذاك؟ قال: منذ ثماني عشرة سنة لم يرحمه الله فيكشف ما به؛ فلما راحا إلى أيوب لم يصبر الرجل حتى ذكر له ذلك فقال أيوب: ما أدري ما تقولان غير أن الله تعالى يعلم أني كنت أمر بالرجلين يتراغمان فيذكران الله فأرجع إلى بيتي فأكفر عنهما كراهية أن يذكر الله إلا في حق، وكان يخرج لحاجته فإذا قضى حاجته أمسكت امرأته بيده حتى يبلغ، فلما كان ذات يوم أبطأ عليها فأوحى الله تعالى إلى أيوب في مكانه: {ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ} فاستبطأته فأقبل عليها قد أذهب الله ما به من البلاء وهو أحسن ما كان، فلما رأته قالت: أي بارك الله فيك! هل رأيت نبي الله هذا المبتلى؟ والله على ذلك ما رأيت أشبه به منك إذ كان صحيحا قال: فإني أنا هو وكان له أندران : أندر القمح، وأندر للشعير، فبعث الله سحابتين، فلما كانت إحداهما على أندر للقمح، أفرغت فيه الذهب حتى فاض، وأفرغت الأخرى في أندر الشعير الورق حتى فاض. "سمويه، حب، ك والديلمي - عن أنس"
তাহকীক: