কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩২৩৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤدعلیہ الصلوة والسلام
32318 ۔۔۔ فرمایا داؤد (علیہ السلام) کے لیے کلام الہیٰ کی تلاوت آسان بنادی گئی تھی وہ جانوروں پر دین باندھتے تھے اور زین ڈالنے سے پہلے کلام الہی کی تلاوت فرماتے اور ہمیشہ ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ۔ احمد بخاری بروایت ابی ہریرة (رض)
32321- خفف على داود القرآن فكان يأمر بدوابه فتسرج فيقرأ القرآن قبل أن تسرج دوابه، ولا يأكل إلا من عمل يده. "حم، خ - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤدعلیہ الصلوة والسلام
32319 ۔۔۔ فرمایا داؤد (علیہ السلام) انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گذار تھے ۔ (ترمذی مستدرک بروایت ابی الدداء)
32322- كان داود أعبد البشر. "ت، ك - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤدعلیہ الصلوة والسلام
32320 ۔۔۔ لوگ داؤد (علیہ السلام) کی عیادت کیلئے آتے تھے سمجھ کر کہ بیمار ہیں حالانکہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الہی سے حالت ایسی ہوجاتی تھی۔ (ٕابن عساکر بروایت ابن عمر (رض))
32323- كان الناس يعودون داود ويظنون أنه به مرضا وما به إلا شدة الخوف من الله تعالى. "ابن عساكر - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32321 ۔۔۔ فرمایا لوگ داؤد (علیہ السلام) کی عیادت کے لیے آتے تھے یہ سمجھ کر کہ بیامر ہیں حالانکہ شدة خوف اور حیاء سے ایسی حالت ہوجاتی تھی۔ (ٕابوعنیم وتمام وابن عساکر اور رافعی بروایت ابن عمر وابن عسا کرنے کہا غریب جدا اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن غزواں بن ابی قرار الضبی ضعیف ہے)
32324- كان الناس يعودون داود ويظنون أن به مرضا وما به إلا شدة الخوف من الله تعالى والحياء. "أبو نعيم وتمام وابن عساكر والرافعي عن ابن عمر؛ قال ابن عساكر: غريب جدا وفيه محمد بن عبد الرحمن بن غزوان بن أبي قراد الضبي ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32322 ۔۔۔ فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) سے اللہ نے تعالیٰ نے ایک سوال کیا توعر ض کیا کہ مجھے ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق اور یعقوب کی طرح بنادے تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال کر آزمایا تو انھوں نے صبر کیا اسحاق کو ذبح سے تو انھوں نے صبر کیا کو یعقوب ۔ (بینائی سے ) انھوں نے صبر کیا۔ (ابن عساکر والدیلمی بروایت ابی سعید)
32325- إن داود سأل ربه مسألة فقال: اجعلني مثل إبراهيم وإسحاق ويعقوب، فأوحى الله إليه إني ابتليت إبراهيم بالنار فصبر، وإسحاق بالذبح فصبر، ويعقوب ... 1 فصبر. "كر والديلمي - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32323 ۔۔۔ فرمایا داؤد (علیہ السلام) پر وحی آئی وہ بکریوں کے چرانے والے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی آئی وہ بکریوں کے چرانے والے تھے اور میرے اوپر وحی آئی میں بھی محلہ جیاد میں بکریوں کو چرایا کرتا تھا۔ (ٕطبرانی و ابونعیم والبغوی ابن مندہ ابن عساکر ابی اسحاق بشربن حزن نصری کے طریق سے ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے بعض نے کہا عبدہ بن حززابن بعد بطریق ابی اسحاق اور کہا ہمیں خبر پہنچی ہے)
32326- بعث داود وهو راعي غنم، وبعث موسى وهو راعي غنم وبعثت أنا وأنا أرعى غنما لأهلي بجياد. "ط وأبو نعيم والبغوي وابن منده، كر من طريق أبي إسحاق عن بشر بن حزن النصرى؛ وهو مختلف في صحبته وقيل نصر بن حزن وقيل عبدة بن حزن؛ ابن سعد عن أبي إسحاق قال: بلغنا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32324 ۔۔۔ فرمایا داؤد (علیہ السلام) میں سخت غیرت تھی جب گھر سے نکلتے تو دروازہ بند کردیتے تھے ۔ ان کے واپس آنے تک کوئی دوسرا فردان کے گھر میں داخل نہیں ہوتا ایک دن نکلا گھر کا دروازہ بند کردیا ان کی بیوی نے گھر میں جھانک کر دیکھا تو گھر کے درمیان میں ایک شخص گھر اسے پوچھا گھر میں کون ہے یہ شخص کہاں سے داخل ہوا جب کہ دروازے بند ہیں اللہ کی قسم تم توداؤد (علیہ السلام) کو رسواء کروگے داؤد (علیہ السلام) گھر آئے وہ آدمی درمیان میں کھڑا ابوداؤد (علیہ السلام) نے پوچھاتم کون ہو ؟ تو جواب دیا میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور کوئی حجاب مجھ سے مانع نہیں تو داؤد نے کہا پھر تم اللہ کی قسم ملک الموت ہو اللہ کے حکم کو مرحباکہتاہوں توداؤد (علیہ السلام) کو اسی جگہ چادروں میں لپیٹا گیا جہاں ان کی روح قبض ہوئی یہاں تک کفن سے فارغ ہوئے سورج طلوع ہوا تو سلیمان (علیہ السلام) نے ہوا کو حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) پر سایہ کرو تو پرندوں نے سایہ کیا یہاں تک ان پر زمین اندھیری ہوگئی تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا ایک ایک پر سمٹ لواس دن ان پر قبرکھودنے والے غالب آگئے۔ (احمد بروایت ابی ہریرة (رض))
32327- كان داود فيه غيرة شديدة وكان إذا خرج أغلقت الأبواب فلم يدخل على أهله أحد حتى يرجع فخرج ذات يوم وغلقت الأبواب فأقبلت امرأته تطلع إلى الدار فإذا رجل قائم وسط الدار فقالت لمن في البيت: من أين دخل هذا الرجل والدار مغلقة؟ والله لتفتضحن بداود فجاء داود فإذا الرجل قائم وسط الدار! فقال له داود: من أنت؟قال: أنا الذي لا أهاب الملوك ولا يمنع مني الحجاب، قال داود: أنت إذا والله ملك الموت! مرحبا بأمر الله! فزمل 1 داود مكانه حيث قبضت نفسه حتى فرغ من شأنه، فطلعت عليه الشمس فقال سليمان للطير: أظلي على داود، فأظلت الطير عليه حتى أظلمت عليهم الأرض، فقال لها سليمان: أقبضي جناحا جناحا، وغلبت عليه يومئذ المضرحية. 2 "حم - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32325 ۔۔۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے داؤد السلام کو ان کے ساتھیوں کے درمیان سے اٹھایا نہ وہ فتنہ میں گرفتار ہوئے نہ ان کی حالت تبدیل ہوئی اور عیسیٰ علیہ السلام کے صحابہ ان کے بعد دوسوسال تک ان کے طریقہ پر قائم رہے۔ (ابویعلی طبرانی ابن عساکر بروایت ابی درداء ذخیرة الحفاظ 4481)
32328- لقد قبض الله داود عليه السلام من بين أصحابه فما فتنوا وما بدلوا، ولقد مكث أصحاب المسيح من بعده على سنته وهديه مائتي سنة. "ع، طب وابن عساكر - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زکریا علیہ الصلوة والسلام
32326 ۔۔۔ فرمایا زکریا (علیہ السلام) بڑھئی تھے۔ (احمد مسلم بروایت ابی ہریرة (رض))
32329- كان زكرياء نجارا. "حم، م 3 - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32327 ۔۔۔ فرمایا نبی اسرائیل زکریا (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے تاکہ ان کو قتل کریں وہ بھاگ کر نگل کی طرف نکل گئے ان کے لیے ایک درخت شق ہوگیا اس میں داخل ہوگئے لیکن کپڑے کا ایک پوباہر رہ گیا بنی اسرائیل وہاں پہنچے اور آرمی سے درخت کو چیردیا۔ (الدیلمی بروایت ہریرة (رض))
32330- خرجت بنو إسرائيل في طلب زكريا ليقتلوه فخرج هاربا في البرية، فانفرجت له شجرة فدخل فيها فبقيت هدبة 1 من ثوبه، فجاؤا حتى قاموا عليها فنشروه بالمنشار. "الديلمي - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32328 ۔۔۔ فرمایا اللہ تعالیٰ زکریہ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کا کوئی وارث نہیں تھا اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر وہ کسی مضبوط قبیلہ کی پناہ دیتے۔ (عبدالرزاق فی التفسیر وابن عساکر بروایت فتادہ مرسلا)
32331- يرحم الله زكريا! ما كان عليه من ورثة، ويرحم الله لوطا! إن كان يأوي إلى ركن شديد. "عبد الرزاق في التفسير وابن عساكر عن قتادة مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام
32329 ۔۔۔ فرمایا سلیمان (علیہ السلام) نے کبھی اپنی نظر آسمان پر نہیں جمالی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اس پر خوف کی وجہ سے۔ (ابن عساکر بروایت ابن عمرو ضعیف الجامع 5082)
32332- ما شد سليمان طرفه إلى السماء تخشعا حيث أعطاه الله ما أعطاه. "ابن عساكر - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام
32330 ۔۔۔ فرمایا سلیمان بن داؤد نے جب بیت المقدس بنایا اللہ تعالیٰ سے تین درخواستیں کین (1) اپنے فیصلہ میں حکمت (٢) اور ایسی حکومت جو اس کے بعد کسی اور کونہ ملے اور مسجد تیار ہونے کے بعد دعاء کی کہ جو شخص بیت المقدس میں محض نماز پڑھنے کی غرض سے آئے تو اس کے گناہوں کو اس طرح بخش دے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہے پہلی دو دعائیں قبول ہوئیں امید ہے کہ تیسری دعا بھی قبول ہوئی ہوگی ۔ (احمد نسائی ابن ماجہ ابن حبان مستدرک بروایت ابن عمر (رض))
32333- إن سليمان بن داود لما بني بيت المقدس سأل الله عز وجل خلالا ثلاثة: سأل الله حكما يصادف حكمه، وسأل الله ملكا لا ينبغي لأحد من بعده فأوتيه، وسأل الله حين فرغ من بناء المسجد أن لا يأتيه أحد لا ينهزه إلا الصلاة فيه أن يخرجه من خطيئته كيوم ولدته أمه أما اثنتان فقد أعطيهما وأرجو أن يكون قد أعطي الثالثة. "حم، ن، هـ حب، ك - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام
32331 ۔۔۔ فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے ایک بھیڑیا ایک عورت کا بچہ لے کر چلا گیا اب ایک بچہ جو رہ کیا اس کے متعلق دونوں عورتیں لڑپڑیں ایک نے کہا بھیڑیا تیرا بچہ لے گیا یہ میرا بچہ ہے دوسری نے کہا تیرا بچہ لے گیا یہ میرا بچہ ہے دونوں (علیہ السلام) کے پاس فیصلہ لے کر گئیں تو انھوں نے بڑی کے حق میں فصلہ دیا بچہ اس کودے دیا پھر دونوں گذر سلیمان (علیہ السلام) پر ہو اور ان کو پورا واقعہ سنایا تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے پاس چھری لے کر آؤ تاکہ اس بچہ کو دوحصے کرکے تم میں سے ہر ایک ایک حصہ دو تو چھوٹی نے کہا اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسانہ کرین یہ بچہ بڑی کا ہے اسی کو دیدیں تو سلیمان (علیہ السلام) نے بچہ چھوٹی کو دے دیا (کیونکہ ماں ہونے کی وجہ اسی کو رحم آیا بڑی کو نہیں آیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ اس کا بیٹا نہیں)
32334- كانت امرأتانه معهما ابناهما جاء الذئب فذهب بابن إحداهما فقالت صاحبتها، إنما ذهب بابنك، وقالت الأخرى: إنما ذهب بابنك، فتحاكمتا إلى داود فقضى به للكبرى، فخرجتا به على سليمان بن داود فأخبرتاه فقال: ائتوني بالسكين أشقه بينهما، فقالت الصغرى: لا تفعل يرحمك الله! هو ابنها، فقضى به للصغرى. "حم، ق، ن - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام
32332 ۔۔۔ فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کی چار سو بیویاں اور چھ سوباندیاں تھیں ایک رات فرمایا کہ سب عورتوں سے ہمبستری کروں گا ہر ایک سے ایک گھرسوار مجاہد پیدا ہوگا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا لیکن انشاء اللہ نہیں کہا تمام عورتوں سے ہمبستری کی لیکن صرف ایک عورت سے ایک ناقص بچہ پیدا ہوا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میری جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو ہر ایک سے مجاہد بچہ پیدا ہوتا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔ الخطیب ابن عساکر بروایت ابی ہریرة (رض) اس کی سند میں بشربن اسحاق جھوٹا ہے حدیث 470 میں بھی گذر چکی ہے۔
32335- إن سليمان بن داود كان له أربعمائة امرأة وستمائة سرية فقال: لأطوفن الليلة على ألف امرأة فيحمل كل واحدة منهن بفارس يجاهد في سبيل الله ولم يستثن، فطاف عليهن فلم يحمل واحدة منهن إلا امرأة واحدة جاءت بشق إنسان، والذي نفسي بيده! لو استثنى فقال: إن شاء الله، لولد له ما قال فرسان ويجاهدوا في سبيل الله. "الخطيب وابن عساكر - عن أبي هريرة؛ وفيه بشر بن إسحاق كذاب". مر برقم [5470] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32336 ۔۔۔ فرمایا کہ سلیمان داؤد (علیہ السلام) اپنے مویشیوں کے ساتھ تھے ایک عورت پر گذرا ہواجو اپنے بیٹے سے کہہ رہی تھی یالادین اے بےدین سلیمان (علیہ السلام) گئے اور کہا اللہ کا دین تو ظاہر ہے اور عورت کے پاس پیغام بھیج کر وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اس کا شوہر سفر پر گیا اور اس کا ایک شریک سفر تھا اس کا خیال یہ ہے کہ شوہر کا انتقال ہوگیا اور اس نے مرتے وقت وصیت کی اگر میرا کوئی لڑکا پیدا ہو تو اس کا نام لادین رکھنا سلیمان (علیہ السلام) نے شریک کے پاس قاصد بھیجا کر پوچھا تو اسنی اس کا اعتراف کیا کہ اس نے ہی اس عورت کے شہور کو قتل کیا تو سلیمان (علیہ السلام) نے اس شریک قاتل کو قصاصا قتل کرادیا ۔ (حلیة الاولیا بروایت ابی ہریرة (رض))
32336- بينا سليمان بن داود يسعى في موكبه إذ مر بامرأة تصيح بابنها: يا لا دين! فوقف سليمان فقال: إن دين الله ظاهر، وأرسل إلى المرأة فسألها فقالت: إن زوجها سافر وله شريك فزعم شريكه أنه مات وأوصى إن ولدت غلاما أن أسميه يا لادين، فأرسل إلى الشريك فاعترف أنه قتله، فقتله سليمان. "حل - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32337 ۔۔۔ فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا نقش محمد رسول اللہ تھا (عدی ابن عساکر بروایت جابر (رض) اس کی سند میں شیخ بن خالد حدیث گھڑنے کے ساتھ مہتم ہے اور اس حدیث کو ابن جوزی موضوعات میں اباطیل میں ذکر کیا تذکرة الموضوعات 108 المعقبات 50)
32337- كان نقش خاتم سليمان بن داود لا إله إلا الله محمد رسول الله. "عد وابن عساكر - عن جابر؛ وفيه شيخ بن أبي خالد متهم بالوضع، قال الذهبي: هذا الحديث من أباطيله وأورده ابن الجوزي في الموضوعات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32338 ۔۔۔ فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا نگینہ آسمانی تھا جو ان کی طرف ڈالا گیا سلیمان (علیہ السلام) نے اٹھایا اور اپنی انگوٹھی کا نگینہ بنالیا تو اس پر نقش تھا انا اللہ الاالہ الا اللہ محمد عبدی ورسولی۔ (طبرانی وابن عساکر بروایت عبادہ بن صامت لتنزیہ 237 الضعیفہ 703)
32338- كان فص خاتم سليمان بن داود سماويا فألقي إليه فأخذه فوضعه في خاتمه وكان نقشه أنا الله لا إله إلا أنا محمد عبدي ورسولي. "طب وابن عساكر - عن عبادة بن الصامت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت شعیب علیہ الصلوة والسلام
32339 ۔۔۔ فرمایا شعیب (علیہ السلام) اللہ کی محبت میں روتے رہے یہاں تک ان کی بینائی چلی گئی پھر اللہ تعاٰ نے ان کی بینائی واپس کردی اور ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے شعیب یہ روناکس قسم کا ہے کہ جنت کی شوق سے یا جہنم کے خوف سے تو عرض کیا باری تعالیٰ آپ کو معلوم ہے کہ نہ میں جنت کی شوق سے روتا ہوں نہ جہنم کے خوف سے بلکہ آپ سے قلبی محبت میں روتا ہوں جب میں آپ کو ایک نظردیکھ لوں گا اس کے بعد میرے ساتھ جو معاملہ کیا جائے مجھے کوئی پروا نہیں اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ اے شعیب یہ دعوت برحق ہے تو تمہیں مبارک ہو تم نے مجھ میری ملاقات کا قصد کیا اس لیے میں نے موسیٰ بن عمران کلیم اللہ کو تمہارا خادم بنایا۔ (الخطیب وابن عساکر بروایت شداد بن او س اس کی سند میں اسماعیل بن علی بن حسن بن بنداری بن مثنی استرآبادی واعظ ابوسعید نے کہا کہ خطیب روایت میں ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے یہ حدیث منکر ہے ذھبی نے میزان نے کہا کہ یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ابن عساکر نے کہا اس کو واقدی نے روایت کیا ابن الفتح محمد بن علی الکوفی سے انھوں نے علی بن حسن سے جیسا کہ ان کے بیٹے اسماعیل نے ان سے روایت کی لہٰذا وہ اپنی ذمہ دار سے بری ہوگیا خطیب نے اس لیے ذکر کیا کہ اس میں اسماعیل پر الزام ہے۔ (العدسیة الضعفہ 34 الضعیفہ 998)
32339- بكى شعيب النبي من حب الله عز وجل حتى عمي فرد الله إليه بصره وأوحى إليه: يا شعيب! ما هذا البكاء؟ أشوقا إلى الجنة أو فرقا من النار؟ قال: إلهي وسيدي! أنت تعلم ما أبكي شوقا إلى جنتك ولا فرقا من النار ولكن حبك بقلبي فإذا أنا نظرت إليك فما أبالي ما الذي صنع بي، فأوحى الله إليه: يا شعيب! إن يك ذاك حقا فهنيئا لك اعتقدت لقائي يا شعيب! ولذلك خدمتك موسى بن عمران كليمي. "الخطيب وابن
عساكر - عن شداد بن أوس؛ وفيه إسماعيل بن علي بن الحسن بن بندار بن المثنى الإستراباذي الواعظ أبو سعيد قال الخطيب: لم يكن موثوقا به في الرواية والحديث منكر، وقال الذهبي في الميزان 1: هذا حديث باطل لا أصل له، وقال ابن عساكر: رواه الواحدي عن ابن الفتح محمد بن علي الكوفي عن علي بن الحسن بن بندار كما رواه ابنه إسماعيل عنه فقد برئ من عهدته قال: والخطيب إنما ذكره لأنه حمل فيه على إسماعيل".
عساكر - عن شداد بن أوس؛ وفيه إسماعيل بن علي بن الحسن بن بندار بن المثنى الإستراباذي الواعظ أبو سعيد قال الخطيب: لم يكن موثوقا به في الرواية والحديث منكر، وقال الذهبي في الميزان 1: هذا حديث باطل لا أصل له، وقال ابن عساكر: رواه الواحدي عن ابن الفتح محمد بن علي الكوفي عن علي بن الحسن بن بندار كما رواه ابنه إسماعيل عنه فقد برئ من عهدته قال: والخطيب إنما ذكره لأنه حمل فيه على إسماعيل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صالح علیہ الصلوة السلام الاکمال
32340 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو بھیجا اس کے دودھ خود بھی پیتے اور قوم کے مومن بندوں کو پلاتے اور میرا ایک حوض ہے (کوثر) جو عدن سے عمان تک بڑا ہے اس کے پیالوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے اس سے انبیاء (علیہم السلام) سیراب ہوں گے اللہ تعالیٰ صالح (علیہ السلام) کو اپنی اونٹنی پر زندہ فرمائیں گے تو پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ عضباء اونٹی پر زندہ کئے جائیں گے میں براق پر زندہ ہوں گا اللہ تعالیٰ اور انبیاء کی علاوہ مجھے باق کے ساتھ خاص فرمایا میری بیٹی فاطمہ عضباء پر ہوگی بلال (رض) کو ایک جنتی اونٹ ملے گا اس پر سوارہوں گے اور زو ر سے اذان کہیں گے اور جو مومن بھی اذان سنے گا ان کی تصدیق کرے گا یہاں تک حشر کے میدان میں جمع ہوں گے بلال (رض) کو دوجنتی چادریں ملینگی ان کو پہنایا جائے گا موذنین میں سب سے پہلے بلال (رض) کو کپڑا پہنایا جائے گا ۔ اس کے بعد صالح مومنین کو۔ (ابونعیم ابن عساکر بروایت عبداللہ بن بریدة (رض) وہ اپنے والد سے الضعیفہ 772)
32340- يبعث الله ناقة صالح فيشرب من لبنها هو ومن آمن به من قومه، ولي حوض كما بين عدن إلى عمان أكوابه عدد نجوم السماء فيستسقي الأنبياء، ويبعث الله صالحا على ناقته، قيل: يا رسول الله! وأنت على العضباء؟ قال: أنا أبعث على البراق يخصني الله به من بين الأنبياء وفاطمة ابنتي على العضباء، ويؤتى بلال بناقة من نوق الجنة فيركبها وينادي بالأذان فيصدقه من سمعه من المؤمنين حتى توافى المحشر، ويؤتى بلال بحلتين من حلل الجنة فيكساهما، فأول من يكسي من المؤذنين بلال وصالح المؤمنين بعد. "أبو نعيم وابن عساكر - عن عبد الله بن بريدة عن أبيه".
তাহকীক: