কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৩৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦١۔۔۔ عامر شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار (رض) سے فرمایا : تمہیں اپنے سے دور رکھنا تمہیں برا لگتا ہے ؟ عمار (رض) نے جواب دیا : اگر آپ یہی کہتے ہیں تو جب آپ نے مجھے عامل مقرر کیا مجھے برا لگا اور جب آپ نے مجھے معزول کیا اس وقت بھی برا لگا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
37362- عن عامر الشعبي قال: قال عمر لعمار: أساءك عزلنا إياك؟ قال لئن قلت ذاك لقد ساءني حين استعملتني وساءني حين عزلتني."ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت عمار (رض) آئے اور اجازت طلب کی آپ نے عمار (رض) کی آواز پہچان لی اور فرمایا : اسے اندر آنے کی اجازت دو جب عمار (رض) اندر داخل ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم پاکیزہ شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ (رواہ الطبرانی وابن شیبہ واحمد بن حنبل والترمذی وقال حسن صحیح وابن ماجہ وابویعلی وابن جریر وصححہ والحاکم والشاشی و ابونعیم فی الحلیۃ و سعید بن المنصور)
37363- عن علي قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاء عمار يستأذن، فعرف صوته فقال: ائذنوا له، فلما دخل قال مرحبا بالطيب المطيب. "ط، ش، حم، ت": حسن صحيح، "هـ، ع" وابن جرير وصححه "ك" والشاشي، "حل، ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٣۔۔۔” مسند عمر “ حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار (رض) کو معزول کیا عمار (رض) جب حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو عمر (رض) ان سے معذرت کرنے لگے عمار (رض) نے کہا : اللہ کی قسم آپ نے مجھے عامل مقرر کیا اور ہی مجھے معزول کیا۔ عمر (رض) نے فرمایا : پھر کس نے آپ کو عاقل مقرر کیا اور کس نے معزول کیا عمار (رض) نے جواب دیا : سب کچھ اللہ نے کیا ہے۔ حضرت عمر رضی للہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! اسی طرح کہا کرو جس طرح عمار (رض) نے کہا ہے کہ بخدا ! آپ نے عامل مقرر کیا اور نہ ہی مجھے آپ نے معزول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37364- "مسند عمر" عن حبيب بن أبي ثابت قال: نزع عمر عمارا، فلما قدم عليه جعل عمر يعتذر إليه من نزعه، فقال عمار: والله! ما أنت استعملتني ولا أنت نزعتني، قال فمن استعملك ومن نزعك؟ قال: الله! قال عمر: أيها الناس! قولوا كما قال: والله! ما أنت استعملتني ولا أنت نزعتني.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٤۔۔۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے حضرت عمار (رض) کے متعلق سوال کیا لوگوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! آپ نے عمار (رض) کو ہم پر امیر مقرر نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر انھیں امیر مقرر کیا ہے امارت کے عہدے پر میری تقرری اگر درست تھی تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر اس میں خطا تھی تو وہ میری طرف سے ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37365- عن حبيب بن أبي ثابت قال: سألهم عمر عن عمار فأثنوا عليه وقالوا: والله! ما أنت أمرته علينا ولكن الله أمره، فقال عمر: اتقوا الله وقولوا كما يقال، فوالله! لأنا أمرته عليكم، فإن كان صوابا فإنه من قبل الله، وإن كان خطأ فإنه لمن قبلي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٥۔۔۔” مسند عثمان (رض) “ سلام بن ابی جعد کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کو اپنے پاس بلایا ان میں حضرت عمار بن یاسر (رض) بھی تھے عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کو سب لوگوں پر فوقیت و ترجیح دیتے تھے صحابہ (رض) خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا : عثمان (رض) نے فرمایا : بالفرض اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوتیں تو میں وہ بنی امیہ کودے دیتا حتیٰ کہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہوجاتے۔ پھر عثمان (رض) نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کو پیغام بھیجا : کیا میں تمہیں عمار (رض) سے مروی حدیث نہ سناؤں ؟ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا رکھا تھا آپ بطحاء میں چل رہے تھے۔ حتیٰ کہ آپ عمار (رض) کے والد والدہ اور خود عمار (رض) کے پاس تشریف لائے انھیں سخت تکلیفیں دی جارہی تھیں پھر عمار (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا زمانہ ایسا ہی ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبر کرو پھر فرمایا : یا اللہ ! یاسر کی آل اولاد کی مغفرت فرما اور تو ایسا ہی کرتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبیھقی والبغوی فی مسند عثمان والعقیلی وابن الجوزی فی الواھیات وابن عساکر)
37366- "مسند عثمان" عن سالم بن أبي الجعد قال: دعا عثمان ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم عمار بن ياسر فقال: نشدتكم بالله! أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤثر قريشا على سائر الناس ويؤثر بني هاشم على سائر قريش؟ فسكت القوم فقال عثمان: لو أن بيدي مفاتيح الجنة لأعطيتها بني أمية حتى يدخلوها من عند آخرهم، وبعث إلى طلحة والزبير فقال: ألا أحدثكما عنه - يعني عمارا؟ أقبلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم آخذا بيدي يمشي في البطحاء حتى أتى على أبيه وأمه وعليه وهم يعذبون. فقال عمار: يا رسول الله الدهر هكذا فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اصبر، ثم قال: اللهم اغفر لآل ياسر وقد فعلت. "حم" والبيهقي والبغوي في مسند عثمان، "عق" وابن الجوزي في الواهيات، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٦۔۔۔” ایضا “ حضرت عثمان (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری ملاقات ہوگئی آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑلیا اور میں آپ کے ساتھ چل دیا آپ کا حضرت عمار اور ان کی والدہ کے پاس سے گزر ہوا انھیں مکہ میں (اسلام قبول کرنے پر) سخت تکلیفیں دی جارہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ بلاشبہ تمہارا ٹھکانا جنت میں ہے۔ (رواہ الحارث والبغوی فی مسند عثمان وابن مندہ وابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر)
37367- "أيضا" لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبطحاء فأخذ بيدي فانطلقت معه فمر بعمار وأم عمار وهم يعذبون بمكة فقال: صبرا آل ياسر! فإن مصيركم إلى الجنة. "الحارث والبغوي في مسند عثمان وابن منده، حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٧۔۔۔ “ ایضا “ زید بن وہب کی روایت ہے کہ قریش نے حضرت عمار بن یاسر (رض) پر بہت سختیاں کی ہیں۔ چنانچہ قریش عمار (رض) پر دوڑے اور انھیں خوب مارا رمار (رض) اپنے گھر بیٹھ گئے حضرت عثمان (رض) بن عفان (رض) آپ کی عیادت کرنے آئے پھر عثمان (رض) باہر تشریف لے گئے اور منبر پر چڑھے پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ : اے عمار ! تجھے باغی جماعت قتل کرے گی عمار کا قاتل دوزخ میں جائے گا۔ (رواہ ابونعیم فی الحلیۃ وابن عساکر)
37368- "أيضا" عن زيد بن وهب قال: عمار بن ياسر ولع بقريش وولعت به فعدوا عليه فضربوه، فجلس في بيته فجاء عثمان بن عفان يعوده، فخرج عثمان وصعد المنبر فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعمار: تقتلك الفئة الباغية، قاتل عمار في النار. "حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٨۔۔۔” ایضا “ حضرت عثمان (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بطحاء میں چل رہا تھا یکایک ہم عمار ان کے والد اور والدہ کے پاس جاپہنچے انھیں دھوپ میں سخت تکلیفیں دی جاری تھیں تاکہ اسلام سے پھرجائیں ابوعمار پولے : یارسول اللہ ! یہ وفا ہے۔ آپ نے فرمایا : اے آل یاسر صبر کرو یا اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما اور تو نے ایسا کر بھی دیا ہے۔ (رواہ الحاکم فی الکنی وابن عساکر)
37369- "أيضا" عن عثمان قال: بينما أنا أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبطحاء إذ بعمار وأبيه وأمه يعذبون في الشمس ليرتدوا عن الإسلام، فقال أبو عمار: يا رسول هكذا فقال: صبرا يا آل ياسر؟ اللهم اغفر لآل ياسر وقد فعلت. "الحاكم في الكنى، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٦٩۔۔۔” ایضا “ حضرت عثمان (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ عمار ، ام عمار اور ابوعمار (رض) سے فرما رہے تھے اے آل یاسر ! صبر کرو ! تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37370- "أيضا" عن عثمان قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأبي عمار وأم عمار وعمار: اصبروا يا آل ياسر! فإن موعدكم الجنة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٠۔۔۔ حضرت جابربن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار (رض) سے فرمایا : تجھے باغی جماعت قتل کرے گی ایک روایت میں ہے عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ حضرت عمار (رض) جنگ صفیں میں حضرت علی (رض) کا ساتھ دیتے ہوئے قتل کیے گئے ہیں چونکہ جنگ جمل ہو یا جنگ کا فتنہ بھڑکانے کے اعتبار سے مرکزی کردار عبداللہ بن سبا اور اس کی ذریت کا ہے بلاشبہ خوارج اور سبائی لوگ فتنہ باغیہ۔ (یعنی باغی جماعت) تھے۔ اور عمار (رض) کا قتل بھی ابن سبا کی ذریت کے ہاتھوں ہوا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتنہ سبائیت اور سبائی فتنہ۔ (از مترجم تنولی)
فائدہ :۔۔۔ حضرت عمار (رض) جنگ صفیں میں حضرت علی (رض) کا ساتھ دیتے ہوئے قتل کیے گئے ہیں چونکہ جنگ جمل ہو یا جنگ کا فتنہ بھڑکانے کے اعتبار سے مرکزی کردار عبداللہ بن سبا اور اس کی ذریت کا ہے بلاشبہ خوارج اور سبائی لوگ فتنہ باغیہ۔ (یعنی باغی جماعت) تھے۔ اور عمار (رض) کا قتل بھی ابن سبا کی ذریت کے ہاتھوں ہوا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتنہ سبائیت اور سبائی فتنہ۔ (از مترجم تنولی)
37371- عن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمار: تقتلك - وفي لفظ: تقتل عمارا - الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧١۔۔۔” مسند جابربن عبداللہ (رض) “ حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمار اور ان کے گھر والوں کے پاس سے گزرے انھیں سخت تکلیفیں دی جارہی تھیں آپ نے فرمایا : اے آل عمار ! خوش ہوجاؤ ! تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والحاکم والبیھقی وابن عساکر والضیاء)
37372- "مسند جابر بن عبد الله" عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بعمار وأهله وهم يعذبون فقال: أبشروا آل عمار وآل ياسر! فإن موعدكم الجنة. "طس، ك، ق" في ... ، "كر، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٢۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان (غزوہ احزاب کے موقع پر) خندق کھود رہے تھے جب کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) خندق سے باہر مٹی اور پتھر نکال کر کنارے ڈال رہے تھے عمار (رض) بیماری کی وجہ سے رنجور تھے پھر اس دن روزہ بھی رکھا تھا کمزوری کی وجہ سے بےہوش ہوگئے عمار (رض) کے پاس ابوبکر (رض) تشریف لائے اور فرمایا : اے عمار ! اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو۔ تم نے اپنے آپ کو قتل کردیا ہے حالانکہ تم بیماری سے رنجور ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کی باتیں سن کر کھڑے ہوگئے اور عمار (رض) کے پاس تشریف لائے پھر آپ نے عمار (رض) کے سر اور کاندھوں سے مٹی جھاڑنی شروع کردی آپ فرما رہے تھے : بلاشبہ تم نے مرنا ہے حالانکہ تم نے اپنے آپ کو قتل کردیا تھا اللہ کی قسم ہرگز نہیں ایک روایت میں ہے نہیں اللہ کی قسم۔ تم نہیں مروگے حتیٰ کہ تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37373- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمين لما أخذوا في حفر الخندق جعل عمار بن ياسر يحمل التراب والحجارة في الخندق فيطرحه على شفيره وكان ناقها1 من مرض صائما فأدركه الغشي فأتاه أبو بكر فقال: اربع2 على نفسك يا عمار! فقد قتلت نفسك وأنت ناقه من مرض، فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قول أبي بكر فقام فجعل يمسح التراب عن رأس عمار ومنكبه وهو يقول: أنك ميت وأنت قد قتلت نفسك! كلا والله - وفي لفظ: ولا والله - ما أنت بميت حتى تقتلك الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٣۔۔۔ عبداللہ بن مسلمہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) کی دو شخصوں سے ملاقات ہوئی جو تیل لگائے حمام سے باہر آرہے تھے حضرت علی (رض) نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : ہم مہاجرین میں سے ہیں حضرت علی (رض) نے فرماہا : تم جھوٹ بولتے ہو مہاجرین تو عمار بن یاسر ہے۔ (رواہ ابونعیم والحلیۃ وابن عساکر)
37374- عن عبد الله بن مسلمة قال: لقي علي رضي الله عنه رجلين قد خرجا من الحمام مدهنين فقال: من أنتما؟ قال: من المهاجرين، قال: كذبتما، المهاجر عمار بن ياسر. "حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٤۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے ابن سمیہ ! تیرا ناس ہو ! تجھے ایک باغی جماعت قتل کرے گی دنیا میں تمہارا آخری توشہ پانی ملایا گرم دودھ ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
37375- عن عمار بن ياسر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: وي حك ابن سمية! تقتلك الفئة الباغية، آخر زادك من الدنيا ضياح1 لبن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٥۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی آزاد کردہ باندی سے مروی ہے کہ حضرت عمار (رض) بیمار پڑگئے اور ان پر غشی طاری ہوگئی عمار (رض) نے کہا : کیا تمہیں خدشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مرجاؤں گا ؟ میرے حبیب (رض) نے مجھے خبردی ہے کہ مجھے باغی جماعت قتل کرے گی اور دنیا میں پر آخری توشہ پانی دودھ ہوگا ۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37376- عن مولاة لعمار بن ياسر قالت: اشتكى عمار فغشي عليه فقال: أتخشون أن أموت على فراشي؟ أخبرني حبيبي صلى الله عليه وسلم أنه تقتلني الفئة الباغية، وأن آخر زادي من الدنيا مزقة من لبن. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٦۔۔۔ ابوالبختری کی روایت ہے کہ صفین کے دن جب لڑائی زوروں ہر تھی حضرت عمار (رض) نے گھونٹ بھر دودھ منگوایا اور اسے پی لیا۔ اور پھر کہا : جناب کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا ہے : دنیا میں تمہاری آخری پینے کی چیز گھونٹ پھر دودھ ہوگا جسے تم پیوگے اور پھر مرجاؤ گے پھر عمار (رض) آگے بڑھے اور قتل کردیئے گئے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمدبن حنبل ومسلم و یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37377- عن أبي البختري قال: لما كان يوم صفين واشتدت الحرب دعا عمار بشربة لبن فشربها وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي: إن آخر شربة تشربها من الدنيا شربة لبن حتى تموت. ثم تقدم فقتل. "ش، حم، م" ويعقوب بن سفيان، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٧۔۔۔ حضرت عمار (رض) کی آزاد کردہ باندی لؤلؤہ کہتی ہے میں نے حضرت عمار (رض) کو کہتے سنا ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے نہیں مرونگا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے صفین میں قتل کیا جائے گا (رواہ ابن عساکر
37378- عن لؤلؤة مولاة عمار قالت: سمعت عمارا يقول: لا أموت في مرضي هذا، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إني أقتل بين صفين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٨۔۔۔ ام عمار حضرت عمار (رض) کی آیا کہتی ہیں : حضرت عمار (رض) بیمار ہوگئے : کہنے لگے : میں اس بیماری سے نہیں مروں گا چونکہ میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا ہے کہ مومنین کی دو جماعتوں کے درمیان مجھے قتل کیا جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ یہی حدیث اصل الاصول ہے کہ نہ یہ جماعت قاتل ہوگی اور نہ ہی یہ بلکہ کوئی تیسرا گروہ جو باغی ہے اس نے حضرت عمار (رض) کو مومنین کی دو جماعتوں کے درمیان قتل کردیا۔ (از مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہی حدیث اصل الاصول ہے کہ نہ یہ جماعت قاتل ہوگی اور نہ ہی یہ بلکہ کوئی تیسرا گروہ جو باغی ہے اس نے حضرت عمار (رض) کو مومنین کی دو جماعتوں کے درمیان قتل کردیا۔ (از مترجم)
37379- عن أم عمار حاضنة لعمار قالت: اشتكى عمار قال: لا أموت في مرضي هذا، حدثني حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم أني لا أموت إلا قتيلا بين فئتين مؤمنتين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٧٩۔۔۔ حضرت عمار (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی تھی کہ دنیا میں تمہارا آخری توشہ پانی ملا ہوا دودھ ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
37380- عن عمار قال: عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن آخر زادك من الدنيا ضيح من لبن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৩৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٣٨٠۔۔۔ قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ حضرت عمار (رض) نے فرمایا : مجھے کپڑوں سمیت دفن کرو میں جھگڑا کروں گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37381- عن قيس بن أبي حازم قال قال عمار: ادفنوني في ثيابي فإني مخاصم. "كر".
তাহকীক: