কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৪১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠١۔۔۔ ابن شہاب بویسر اور زیادبن فرد سے روایت نقل کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمار بن یاسر (رض) سے فرمایا : دراں حالیکہ عمار (رض) تعمیر مسجد کے لیے دو دوآینٹیں اٹھا رہے تھے فرمایا : تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ عرض کیا : یارسول اللہ ! میں اجر وثواب حاصل کرنا چاہتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمار (رض) کے کاندھوں اور پیٹھ سے مٹی صاف کرنی شروع کردی اور آپ نے فرمائے جارہے تھے : اے عمار تجھ پر افسوس ہے ! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37402- عن ابن شهاب عن أبي اليسر وعن زياد بن الفرد أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعمار بن ياسر وهو يحمل لبنتين لبناء المسجد: ما دأبك إلى هذا؟ قال: يا رسول الله! أريد الأجر، فجعل يمسح التراب عن منكبيه وظهره وهو يقول: ويحك يا عمار! تقتلك الفئة الباغية."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٢۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار بن (رض) سے فرمایا : تجھے باغی گروہ قتل کرتے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37403- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمار بن ياسر: تقتلك الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہتے ہیں : عمار بن یاسر کو دیکھو اسے فطرت پر موت آئے گی الایہ کہ تکبر کی وجہ سے اس میں تھوڑی سی پھسلن آجائے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37404- عن عائشة قالت: انظروا عمار بن ياسر فإنه يموت على الفطرة إلا أن تدركه هفوة من كبر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد کی تعمیر شروع کی تو لوگ ایک ایک پتھر لائے اور عمار بن یاسر (رض) دو دو پتھر لاتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمار (رض) کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : یا اللہ ! عمار کو برکت عطا فرمااے ابن سمیہ ! تجھ پر افسوس ہے تجھے باغی گروہ قتل کرے گا اور دنیا میں تیرا آخری توشہ پانی ملاہوا دودھ ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
37405- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أخذ في بناء المسجد جعل الناس ينقلون حجرا حجرا وعمار حجرين، فمسح النبي صلى الله عليه وسلم يده على ظهر عمار فقال: اللهم! بارك في عمار، ويحك ابن سمية! تقتلك الفئة الباغية، وآخر زادك من الدنيا صياح من لبن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٥۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمار (رض) کو دیکھا وہ خندق کے دن پتھر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جارہے تھے فرمایا : اے ابن سمیہ پر افسوس ہے۔ اسے باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37406- عن أم سلمة قالت: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم عمارا وهو ينقل الحجارة يوم الخندق، قال: ويح ابن سمية! تقتله الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا آپ عمار (رض) سے فرما رہے تھے تجھے باغی گروہ قتل کرے گا عمار کے قاتل کو دوزخ کی خبر دے دو ۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37407- عن عبد الله بن عمرو قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعمار: تقتلك الفئة الباغية، بشر قاتل عمار بالنار. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٧۔۔۔ عبداللہ بن حارث بن نوفل کی روایت ہے کہ میں حضرت معاویہ (رض) کے ساتھ صفین سے واپس لوٹا تو میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کو کہتے سنا : اے اباجان ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں سنا جب مسجد کی تعمیر ہورہی تھی آپ نے عمار (رض) سے فرمایا : ت، اجر وثواب کے بڑے حریص ہو بلاشہ تو اہل جنت میں سے تجھے باغی گروہ قتل کرے گا ؟ حضرت عمرو (رض) نے کہا : جی ہاں میں نے سنا ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37408- عن عبد الله بن الحارث بن نوفل قال: رجعت مع معاوية من صفين فسمعت عبد الله بن عمرو يقول: يا أبت! أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعمار حين كان يبني المسجد: إنك الحريص على الأجر وإنك من أهل الجنة ولتقتلنك الفئة الباغية؟ قال: بلى قد سمعته. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٨۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو فرمایا : ہمارے لیے مسجد بناؤ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ کیسے بنائیں ؟ ارشاد فرمایا : اس کی چھت ایسی ہوجسی موسیٰ (علیہ السلام) کی چھت تھی چنانچہ صحابہ (رض) نے مسجد کی تعمیر شروع کردی جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ (رض) کو اینٹیں پکڑاتے جاتے تھے اور یہ شعر پڑھتے رہے : اللھم ان العیش عیش الاخیرۃ
فاغفر الانصار والمھاجرہ
یا اللہ اس زندگی تو آخرت کی زندگی ہے مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما۔
اتنے میں عمار بن یاسر (رض) آپ کے پاس سے گرزے آپ نے عمار (رض) کے سر سے مٹی جھاڑنا شروع کردی اور فرمایا : اے ابن سمیہ ! تجھ پر افسوس ہے ! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
فاغفر الانصار والمھاجرہ
یا اللہ اس زندگی تو آخرت کی زندگی ہے مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما۔
اتنے میں عمار بن یاسر (رض) آپ کے پاس سے گرزے آپ نے عمار (رض) کے سر سے مٹی جھاڑنا شروع کردی اور فرمایا : اے ابن سمیہ ! تجھ پر افسوس ہے ! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37409- عن الحسن قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة قال: ابنوا لنا مسجدا، قالوا: كيف يا رسول الله؟ قال: عرش كعرش موسى ابنوا لنا بلبن، فجعلوا يبنون ورسول الله صلى الله عليه وسلم يعاطيهم اللبن على ما دونه ثوب وهو يقول: اللهم إن العيش عيش الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة، فمر عمار بن ياسر فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينفض التراب عن رأسه ويقول: ويحك يا ابن سمية! تقتلك الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤٠٩۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) مٹی اور پتھر مسجد کی طرف لارہے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی نے آکر کہا : پتھر گرکر لگنے کی وجہ سے عمار (رض) وفات پاگئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمار نہیں مرا سے تو باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37410- عن سعيد بن جبير قال: كان عمار بن ياسر ينقل التراب والحجارة إلى المسجد، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له: مات عمار، وقع عليه حجر فقتله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما مات عمار تقتله الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٠۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ مجھے خندق کا دن نہیں بھولنے پاتا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ (رض) کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور آپ کا سینہ غبار آلود ہوگیا تھا جب کہ آپ یہ شعر پڑھ رہے تھے :
الا ان الخیر خیر الاخرہ
فاغفرللانصار والمھاجرۃ
خبردار ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے یا اللہ انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔ اتنے میں عمار بن یاسر (رض) آئے ان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمار پر افسوس ہے یا فرمایا : ابن سمیہ پر افسوس ہے۔ اسے باغی ٹولہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
الا ان الخیر خیر الاخرہ
فاغفرللانصار والمھاجرۃ
خبردار ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے یا اللہ انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔ اتنے میں عمار بن یاسر (رض) آئے ان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمار پر افسوس ہے یا فرمایا : ابن سمیہ پر افسوس ہے۔ اسے باغی ٹولہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37411- عن ابن مسعود قال: لا نسيت يوم الخندق والنبي صلى الله عليه وسلم يناولهم اللبن وقد اغبر شعر صدره وهو ينادي: ألا إن الخير خير الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة، فجاء عمار بن ياسر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ويح عمار - أو: ويح ابن سمية! تقتله الفئة الباغية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١١۔۔۔” مسند علی “ سعد، محمد بن عمر وغیرہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمار (رض) قتل کردئیے گئے حضرت علی (رض) نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جو شخص حضرت عمار (رض) کے قتل کو عظیم تر نہیں سمجھتا اور انھیں پیش آنے والی مصیبت کو گراں تر نہیں سمجھتا وہ رشد و ہدایت سے کوسوں دور ہے جس دن عمار نے اسلام قبول کیا اللہ نے ان پر رحم فرمایا جس دن قتل ہوئے اللہ نے ان پر رحم فرمایا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھائے جائیں گے اس دن بھی اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چار صحابہ (رض) کا ذکر کیا جائے تو ان میں سے چوتھے عمار ہوتے پانچ کا ذکر کیا جائے تو پانچویں عمار ہوتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قد ماء صحابہ میں سے کسی نے بھی شک نہیں کیا کہ عمار (رض) جنتی ہیں پس عمار کو جنت مبارک ہو۔ البتہ کہا جاتا ہے عمار حق کا ساتھ دیتے ہیں اور حق ان کے ساتھ گھوم جاتا ہے عمار حق کے ساتھ ہوتے ہیں خواہ حق جہاں بھی دوران کرے عمار کا قاتل دوزخ میں جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37412- "مسند علي" عن سعد أنبأنا محمد بن عمر وغيره قالوا: قال علي حين قتل عمار: إن امرأ من المسلمين لم يعظم عليه قتل ابن ياسر ويدخل عليه المصيبة الموجبة لغير رشيد، رحم الله عمارا يوم أسلم ورحم الله عمارا يوم قتل ورحم الله عمارا يوم يبعث حيا! لقد رأيت عمارا وما يذكر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة إلا كان رابعا ولا خمسة إلا خامسا، وما كان أحد من قدماء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يشك أن عمارا قد وجبت له الجنة في غير موطن ولا اثنين فهنيئا لعمار بالجنة، ولقد قيل: إن عمارا مع الحق والحق معه يدور، عمار مع الحق أينما دار، وقاتل عمار في النار. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٢۔۔۔” ایضا “ اوس بن ابی اوس کہتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے انھیں کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمارکا خون اور گوشت پوست آتش دوزخ پر حرام ہے کہ آگ اسے کھاجائے یا چھو جائے۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع ٢٩٩١۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع ٢٩٩١۔
37413- "أيضا" عن أوس بن أبي أوس قال: كنت عند علي فسمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: دم عمار ولحمه حرام على النار أن تأكله أن تمسه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٣۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام (رض) کو دیکھ رہے تھے صحابہ کرام (رض) عمار (رض) پر پتھر لاد رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد تعمیر کررہے تھے آپ نے فرمایا : صحابہ اور عمار کو کیا ہوا وہ انھیں جنت کی طرف بلاتا ہے اور صحابہ اسے دوزخ کی طرف بلا رہے ہیں یہ تو بدبخت برے لوگوں کے فعل ہے ایک روایت ہے کہ یہ بدبخت گناہ گاروں کی عبادت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37414- عن مجاهد قال: رآهم النبي صلى الله عليه وسلم وهم يحملون الحجارة على عمار وهو يبني المسجد فقال: ما لهم ولعمار، يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار، وذلك فعل الأشقياء الأشرار - وفي لفظ: دأب الأشقياء الفجار. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٤۔۔۔” مسند علی “ محمد بن ابی سعد بن ابی وقاص انہی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حق عمار کے ساتھ ہے جب تک اس پر تکبر کا غلبہ نہ ہوجائے۔ (رواہ سیف وابن عساکر)
37415- "مسند علي" عن محمد بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحق مع عمار ما لم يغلب عليه ولهة الكبر1 "سيف، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٥۔۔۔ مجاہد اسامہ بن شریک سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں اور عمار کو کیا ہوا ؟ عمار انھیں جنت کی طرف بلاتا ہے اور لوگ اسے دوزخ کی طرف بلا رہے ہیں۔ عمار کا قاتل اور اس کا سازوسامان چھیننے والا دوزخ میں جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر وقال ھذادوی موصولا والحفوظ عن مجاھد ومرسلا)
37416- عن مجاهد عن أسامة بن شريك - وقال مرة عن أسامة بن زيد - قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ما لهم ولعمار؟ يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار، قاتله وسالبه في النار. "كر" وقال: هكذا روي موصولا، والمحفوظ عن مجاهد مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمار (رض)
٣٧٤١٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمار کو باغی ٹولا قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37417- عن أنس قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقتل عمارا الفئة الباغية. "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤١٧۔۔۔ مصعب بن عبداللہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رض) کو دیکھا تو آپ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور انھیں گلے لگالیا اور فرمایا : سوار ہو کر ہجرت کرنے والے کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں مصعب کہتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عکرمہ (رض) کی طرف کھڑے ہونے اور ان پر خوش ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے خواب دیکھا گویا آپ جنت میں داخل ہوگئے ہیں اور آپ نے جنت میں کھجوروں کا خوشہ لٹکا دیکھا جو آپ کے دل کو بہت بھایا آپ نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ جواب ملا : یہ ابوجہل کا ہے آپ پر یہ بہت ہی گراں گزرا اور فرمایا : ابوجہل کا جنت سے کیا تعلق اللہ کی قسم ابوجہل جنت میں داخل نہیں ہوگا چنانچہ جب آپ نے عکرمہ (رض) کو بحالت مسلمان دیکھا تو خواب میں دکھائی دہنے والے خواشے کی تعبیر عکرمہ بن ابی جہل (رض) سے لی۔ عکرمہ (رض) آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ فتح مکہ کے بعد مدینہ واپس لوٹ آئے تھے عکرمہ (رض) جب بھی انصار کی مجلسوں کے پاس سے گزرتے انصار کہتے یہ ابوجہل کے بیٹے ہیں ابوجہل کو گالیاں دیتے عکرمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کو گالیاں دے کر زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ۔ (رواہ الزبیروابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا :” لاتسبوا الاموات “ مرد کو گالیاں مت دو ۔ ایک اور حدیث ہے ” لاتسبو الاموات فانھم افضوالی ماقدموا “ مردوں کو گالیاں مت دو گالیاں مت دو چونکہ وہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا بھگتنے آگے پہنچ چکے ہیں۔ انہی دلائل کی روشنی میں علماء نے یزید بن معاویہ کو برا بھلا اور سب وشتم کرنے ست منع فرمایا ہے۔ لہٰذا یزید پر لعن طعن کرنے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا تعلیمات ہیں۔
فائدہ :۔۔۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا :” لاتسبوا الاموات “ مرد کو گالیاں مت دو ۔ ایک اور حدیث ہے ” لاتسبو الاموات فانھم افضوالی ماقدموا “ مردوں کو گالیاں مت دو گالیاں مت دو چونکہ وہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا بھگتنے آگے پہنچ چکے ہیں۔ انہی دلائل کی روشنی میں علماء نے یزید بن معاویہ کو برا بھلا اور سب وشتم کرنے ست منع فرمایا ہے۔ لہٰذا یزید پر لعن طعن کرنے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا تعلیمات ہیں۔
37418- عن مصعب بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم لما رأى عكرمة بن أبي جهل قام إليه فاعتنقه وقال: مرحبا بالراكب المهاجر! قال مصعب: وزعم بعض من يعلم أن قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم وفرحه به أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى في منامه أنه دخل الجنة فرأى فيها عذقا مذللا فأعجبه فقال: لمن هذا؟ فقيل: لأبي جهل، فشق ذلك عليه وقال: ما لأبي جهل والجنة! والله لا يدخلها أبدا! فلما رأى عكرمة أتاه مسلما تأول ذلك العذق عكرمة بن أبي جهل، وقدم عليه عكرمة بن أبي جهل منصرفه من مكة بعد الفتح المدينة، فجعل عكرمة كلما مر بمجلس من مجالس الأنصار قالوا: هذا ابن أبي جهل، فسبوا أبا جهل، فشكا ذلك عكرمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تؤذوا الأحياء بسب الأموات. الزبير، "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤١٨۔۔۔ ثابت بنانی کی روایت ہے کہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رض) فلاں فلاں جنگوں میں پیادہ پاحملہ آور ہوتے حضرت خالد بن ولید (رض) کہتے : ایسا مت کرو چونکہ تمہارا قتل ہوجانا مسلمانوں پر بہت گراں گزرے گا عکرمہ (رض) نے جواب دیا : اے خالد ! میرا رستہ چھوڑو، تم نے پہلے السام قبول کیا ہے اس اعتبار سے تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سبقت حاصل ہے جب کہ میں اور میرا باپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر بہت سختیاں کرتے تھے چنانچہ عکرمہ (رض) پیدل تھے ، آگے حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے۔ (رواہ یعقوب بن ابی سفیان وابن عساکر)
37419- عن ثابت البناني أن عكرمة بن أبي جهل ترجل يوم كذا وكذا فقال له خالد بن الوليد: لا تفعل فإن قتلك على المسلمين شديد، فقال: خل عني يا خالد! فإنه قد كان لك من رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم سابقة، وإني وأبي كنا من أشد الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فمشى حتى قتل."يعقوب بن أبي سفيان، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤١٩۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ بن ابی جہل (رض) کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے اسلام قبول کرلیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! عکرمہ آپ سے ڈر کر یمن کی طرف بھاگ گیا ہے اسے خوف ہے کہ آپ اسے قتل کردیں گے آپ اسے امن دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے امن ہے ام حکیم (رض) عکرمہ کی تلاش میں نکل پڑیں ان کے ساتھ ان کا ایک رومی غلام بھی تھا رومی غلام خواہش نفس کے لیے ام حکیم کو پھسلانے لگا ام حکیم اسے تمنا دلواتی رہی حتیٰ کہ قبیلہ عک کی ایک بستی پر پہنچیں بستی والوں سے غلام کے خلاف مدد چاہی بستی والوں نے غلام باندھ دیا ام حکیم تہامہ کے ساحل کی طرف آئیں جب کہ عکرمہ (رض) ساحل پر پہنچ کر کشتی میں سوار ہوئے کشتی ڈگمگانے لگی کشتی بان نے کہا : یہاں اخلاص سے رب کو پکارو عکرمہ (رض) بولے : میں کیا کہوں ؟ کشتی بان نے کہا : لاالہ الا اللہ کہو عکرمہ بولے : میں تو اسی کلمہ سے بھاگ کر یہاں پہنچا ہوں لہٰذا مجھے ہیں اتاردو۔ اتنے میں ام حکیم (رض) نے عکرمہ (رض) کو آن لیا اور بولیں : اے میرے چچا کے بیٹے میں تیرے پاس ایسی ہستی کے پاس سے آئی ہوں جو سب سے زیادہ صلہ رحم لوگوں پر سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا اور لوگوں میں سب سے افضل ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ام حکیم (رض) نے خوب اصرار کیا عکرمہ رک گئے جب ام حکیم پاس پہنچیں بولیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمہاری بخشی کر والی ہے عکرمہ بولے : یہ کام تم نے کیا ہے ؟ بولیں : جی ہاں میں نے ہی آپ سے بات کی آپ نے تمہیں امان دیا ہے۔ ام حکیم کے ساتھ عکرمہ واپس لوٹ آئے ام حکیم نے رومی غلام کی بدکرداری کا ذکر کیا عکرمہ (رض) نے اسے قتل کردیا حالانکہ ابھی عکرمہ (رض) نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے قریب ہوئے تو فرمایا : عکرمہ بن ابی جہل مومن و مہاجر ہو کر آئے گا لہٰذا تم اس کے باپ کو گالیاں مت دو چونکہ مردے کو گالی دینا زندہ کو اذیت پہنچانا ہے جب کہ وہ گالی مردے کو نہیں پہنچی عکرمہ (رض) نے اپنی بیوی سے قضائے حاجت کا مطالبہ شروع کردیا مگر وہ مسلسل انکار کرتی رہی اور کہہ دیتی تو کافر ہے میں تو مسلمان ہوں وہ کہتے تجھے کسی عظیم تر معاملہ نے مجھ سے روک دیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) کو دیکھا تو آپ ان کی طرف کو دپڑے آپ کو مارے خوشی کے اپنے اوپر لینے کا بھی خیال نہیں رہا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور عکرمہ (رض) آپ کے سامنے کھڑے رہے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی نقاب کیے ہوئے تھی عکرمہ بولے : یا محمد ! اس عورت نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے میری جان بخش دی ہے حکم ہوا ! یہ سچ کہتی ہے تمہیں امان ہے۔ عکرمہ بولے : اے محمد ! کس کی دعوت دیتے ہو فرمایا : میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو ” اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں یہ کہ نماز قائم کروزکوۃ دو اور فلاں فلاں کام کرو ” حتیٰ کہ آپ نے اسلام کی چند خصلتیں گنیں عکرمہ (رض) نے کہا : اللہ کی قسم آپ کو دعوت حق دیتے ہیں بخدا ! قبل ازیں بھی آپ نے ہمارے اندررہتے ہوئے اس کی دعوت دی جب کہ آپ سب سے سچے اور سب سے زیادہ مہربان تھے بولے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اقرار شہادت سے بہت خوش ہوئے عرخ کیا : یارسول اللہ ! مجھے سب سے بہترین چیز کی تعلیم دیں جسے میں کہوں فرمایا تم کلمہ شہادت کہو عکرمہ (رض) نے کلمہ شہادت دھرایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج تم مجھ سے جو چیز مانگوں گے میں تمہیں ضروردوں گا۔ عکرمہ (رض) نے عرض کیا : میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میں جو آپ سے جس طرح کی بھی عداوت کی ہے یا کوئی بھی آپ کے خلاف سفر کیا ہے یا جہاں کہیں بھی آپ سے جنگ کی ہے یا آپ کی شان میں جو بھی گستاخی کی ہے خواہ آپ حاضر تھے یا غائب ان سب امور کی اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کردے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ اس نے جو بھی مجھ سے عدوات کی اور تیرے نور کو مٹانے کے لیے جہاں بھی اس نے سفر کیا اس میرے سامنے جو بھی میری گستاخی کی یا غائبانہ طور پر گستاخی کی اسے معاف فرما عکرمہ بولے : یارسول اللہ میں راضی ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے جو اخراجات کیے میں ان کا دگنا اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا میں نے اللہ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے جس جو انمرادی سے لڑا ہوں اس کا دگنا اللہ کی راہ میں لڑوں گا پھر عکرمہ (رض) نے ہتھلی پر جان رکھ کر اسلام کے لیے بےدریغ لڑے آخر (یرموک میں ) شہید ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) کی بیوی پہلے نکاح ہی میں انھیں واپس کردی واقدی اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں کہ سہیل بن عمرو نے حنین کے دن کہا : محمد اور اس کے ساتھیوں نے عکرمہ اور اس کی بیوی کا امتحان نہیں لیا عکرمہ نے اس سے کہا : وہ یہ کچھ نہیں چاہتے۔ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے محمد کے ہاتھ میں تو نہیں ہے اگر میں آج پہلو تہی کروں گا تو کل اس کا انجام مجھے ہی بھگتنا پڑے گا سہیل نے کہا : بخدا تمہارا واقعہ تو اس کے خلاف ہے۔ عکرمہ (رض) بولے : اے ابویزید ! ہم اس سے قبل بخدا ! غیر موزوں مقام میں تھے ہمارے عقلیں الٹی پڑی تھیں ہم پتھروں کی پوجا کرتے تھے جو نہ نفع کے مالک تھے نہ نقصان کے۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
37420- عن عبد الله بن الزبير قال: لما كان يوم الفتح أسلمت أم حكيم بنت الحارث بن هشام امرأة عكرمة بن أبي جهل، ثم قالت أم حكيم: يا رسول الله! قد هرب عكرمة منك إلى اليمن وخاف أن تقتله فآمنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هو آمن، فخرجت في طلبه ومعها غلام لها رومي فراودها عن نفسها فجعلت تمنيه حتى قدمت به حي من عك، فاستعانتهم عليه فأوثقوه رباطا، وأدركت عكرمة وقد انتهى إلى ساحل من سواحل تهامة فركب البحر فجعل نوتى السفينة يقول له: أخلص، قال: أي شيء أقول؟ قال: قل: لا إله إلا الله، قال عكرمة: ما هربت إلا من هذا، فجاءت أم حكيم على هذا الأمر فجعلت تلح عليه وتقول: يا ابن عم! جئتك من عند أوصل الناس وأبر الناس وخير الناس، لا تهلك نفسك، فوقف لها حتى أدركته، فقالت: إني قد استأمنت لك رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: أنت فعلت؟ قالت: نعم أنا كلمته فآمنك، فرجع معها، وقالت ما لقيت من غلامك الرومي - وخبرته خبره، فقتله عكرمة وهو يومئذ لم يسلم، فلما دنا رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: يأتيكم عكرمة بن أبي جهل مؤمنا مهاجرا، فلا تسبوا أباه فإن سب الميت يؤذي الحي ولا يبلغ الميت، قال: وجعل عكرمة يطلب امرأته يجامعها فتأبى عليه وتقول: إنك كافر وأنا مسلمة، فيقول: إن أمرا منعك مني لأمر كبير، فلما رأى النبي صلى اله عليه وسلم عكرمة وثب إليه وما على النبي صلى الله عليه وسلم رداء فرحا بعكرمة، ثم جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم فوقف بين يديه ومعه زوجته متنقبة، فقال: يا محمد! إن هذه أخبرتني أنك آمنتني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صدقت فأنت آمن.قال عكرمة فإلى م تدعو يا محمد؟ أدعوك إلى أن تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وأن تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتفعل وتفعل، حتى عد خصال الإسلام فقال عكرمة: والله! ما دعوت إلا إلى الحق وأمر حسن جميل، قد كنت والله فينا قبل أن تدعو إلى ما دعوت إليه وأنت أصدقنا حديثا وأبرنا برا، ثم قال عكرمة: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فسر بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله! علمني خير شيء أقوله، فقال: تقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، فقال عكرمة: ثم ماذا؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقول: أشهد الله وأشهد من حضر أني مسلم مجاهد مهاجر، فقال عكرمة ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسألني اليوم شيئا أعطيه أحدا إلا أعطيتكه، قال عكرمة: فإني أسألك أن تستغفر لي كل عداوة عاديتكها أو مسير أوضعت فيه أو مقام لقيتك فيه أو كلام قلته في وجهك أو أنت غائب عنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اغفر له كل عداوة عادانيها وكل مسير سار فيه إلى موضع يريد بذلك المسير إطفاء نورك، واغفر له ما نال مني من عرض في وجهي أو غائب عنه، فقال عكرمة: رضيت يا رسول الله، ثم قال عكرمة: أما والله يا رسول الله! لا أدع نفقة كنت أنفقتها في صد عن سبيل الله إلا أنفقت ضعفها في سبيل الله ولا قتالا كنت أقاتل في صد عن سبيل الله إلا أبليت ضعفه في سبيل الله؛ ثم اجتهد في القتال حتى قتل شهيدا، فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأته بذلك النكاح الأول. قال الواقدي عن رجاله: وقال سهيل بن عمرو يوم حنين: لا يختبرهما محمد وأصحابه، قال: يقول له عكرمة: إن هذا ليس يقول إنما الأمر بيد الله وليس إلى محمد من الأمر شيء، إن أديل عليه اليوم فإن له العاقبة غدا. قال يقول سهيل: والله إن عهدك بخلافة لحديث، قال: يا أبا يزيد! إنا كنا والله نوضع في غير شيء وعقولنا عقولنا نعبد حجرا لا يضر ولا ينفع."الواقدي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤٢٠۔۔۔ زہر بن موسیٰ مصعب بن عبداللہ بن ابی امیہ ام سلمہ (رض) سے روایت منقول ہے۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (خواب میں) ابوجہل کے لیے کھجوروں کا ایک خوشہ دیکھا جب عکرمہ بن ابی جہل (رض) ایمان لائے تو آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! میرے خواب کی تعبیر عکرمہ ہے ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : عکرمہ (رض) نے رسول اللہ صلی اللہ سے شکایت کی کہ جب میں مدینہ میں چلتا پھرتا ہوں لوگ کہتے ہیں : یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا بیٹا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے گھڑے ہوئے حمدوثناء کے بعد فرمایا : لوگ معاون۔ (معدن یمن کان کی جمع معاون) ہیں جو جاہلیت میں افضل تھا وہ اسلام میں افضل ہے بشرطیکہ جب دین میں سمجھ بوجھ بیدار کرلے۔۔ (رواہ ابن عساکر)
37421- عن الزبير بن موسى عن مصعب بن عبد الله بن أبي أمية عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت لأبي جهل عذقا في الجنة، فلما أسلم عكرمة بن أبي جهل قال: يا أم سلمة هذا هو، قالت: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وشكى إليه عكرمة أنه إذا مر بالمدينة قالوا: هذا ابن عدو الله أبي جهل، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فحمد الله وأثنى عليه فقال: الناس معادون، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا. "كر
তাহকীক: