কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৪৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤٢١۔۔۔ زکہری مصعب بن عبداللہ بن ابی امیہ ، ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ جب عکرمہ بن ابی جہل مدینہ آئے انصار کے پاس سے گرزتے وہ کہتے : یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا بیٹا ہے عکرمہ (رض) نے ام سلمہ (رض) سے شکایت کی اور کہا : میرے خیال میں مجھے واپس مکہ لوٹ جانا چاہے۔ چنانچہ ام سلمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کردی آپ لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگ معاون (کانیں) ہیں جو جاہلیت میں سب سے بہتر تھا وہ اسلام میں بھی سب سے بہتر ہے بشرطیکہ جب وہ دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرلے کسی مسلمان کو کافر کی وجہ سے اذیت نہ پہنچائی جائے۔ (رواہ ابن عساکر)
37422- عن الزهري عن مصعب بن عبد الله بن أبي أمية عن أم سلمة قالت: لما قدم عكرمة بن أبي جهل جعل يمر بالأنصار فيقولون: هذا ابن عدو الله أبي جهل، فشكا ذلك إلى سلمة وقال: ما أظنني إلا راجع إلى مكة، فأخبرت أم سلمة ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب الناس فقال: إنما الناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا، لا يؤذين مسلم بكافر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤٢٢۔۔۔” مسند عکرمہ “ عکرمہ بن ابی جہل (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا جس دن میں ہجرت کرکے آپ کے پاس پہنچا : ہجرت کرکے آنے والے کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے آپ کی مخالفت میں جس قدر اخراجات کئے ہیں اس سے دگنا اللہ کی راہ میں خرچ کردوں گا۔ (رواہ الرمذی وقال : ھکذا حدیث البغوی وابن مندہ وابن و عساکر)
37423- "مسند عكرمة" قال كر: روى عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا روى عنه مصعب بن سعد وأظنه لم يلقه. عن مصعب بن سعد عن عكرمة بن أبي جهل قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جئته مهاجرا: مرحبا بالراكب المهاجر! قلت: والله يا رسول! لا أدع نفقة أنفقتها عليك إلا أنفقت مثلها في سبيل الله. "ت" وقال: هكذا حديث البغوي وابن منده، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤٢٣۔۔۔ عامر بن سعد ، عکرمہ بن ابوجہل (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب عکرمہ (رض) کو دیکھا فرمایا : راکب مہاجر کو ہم مرحبا کہتے ہیں۔ پھر عکرمہ (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا کہوں ؟ فرمایا : تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ عرض کیا : میں اس کے بعد اور کیا کہوں ؟ فرمایا : تم کہو : یا اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں مہاجرومجاہد ہوں عکرمہ (رض) نے اس کا اقرار کیا : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مجھ سے جو چیز مانگو گے میں تمہیں عطاکروں گا۔ عرض کیا : میں آپ سے مال نہیں مانگتا میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ لیکن میری آپ سے صرف ایک گزارش ہے کہ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں پھر عکرمہ (رض) نے عرض کیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو اخراجات کئے ہیں اللہ کی قسم اگر میری عمر دراز ہوئی میں اس سے دگنا چوگنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کروں گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37424- عن عامر بن سعد عن عكرمة بن أبي جهل عن النبي صلى الله عليه وسلم لما رآه مقبلا قال: مرحبا بالراكب المهاجر - أو: المسافر - ثم قال له: ما أقول يا نبي الله؟ قال: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، قال: ثم ماذا؟ قال: تقول: اللهم! إني أشهدك أني مهاجر مجاهد، ففعل، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: ما أنت سائلي شيئا أعطيه أحدا من الناس إلا أعطيتك! فقال: أما إني لا أسألك مالا، إني أكثر قريش مالا، ولكن أسألك أن تستغفر لي، وقال: كل نفقة أنفقتها لأصد بها عن سبيل الله فوالله لئن طالت بي حياة لأضعفن ذلك كله في سبيل الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عکرمہ (رض)
٣٧٤٢٤۔۔۔” مسند انس (رض) شعبہ، خالد خداء کی سند سے حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ عکرمہ (رض) نے صخر انصاری کو قتل کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ہنس پڑے انصار نے کہا : یارسول اللہ ، آپ ہنس رہے ہیں کہ آپ کی قوم کے ایک شخص نے ہماری قوم کے ایک شخص کو قتل کردیا آپ نے فرمایا : مجھے اس چیز نے نہیں ہنسایا لیکن اس نے اسے قتل کیا ہے اور وہ اس کے درجہ میں ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37425- "مسند أنس" عن شعبة عن خالد الحذاء عن أنس قال: قتل عكرمة بن أبي جهل صخرا الأنصاري فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فضحك، فقال الأنصار: يا رسول الله! تضحك أن قتل رجل من قومك رجلا من قومنا؟ قال: ما ذاك أضحكني ولكنه قتله وهو معه في درجته. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن اسود (رض)
٣٧٤٢٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کو دیکھنا چاہے وہ عمر وبن اسود کی سیرت دیکھ لے۔ (رواہ احمد بن حنبل)
37426- عن عمرو قال: من سره أن ينظر إلى هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فلينظر إلى هدي عمرو بن الأسود. "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان ابوقحافہ (رض)
٣٧٤٢٦۔۔۔ قاسم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا (رض) نے فرمایا : میں ابوقحافہ کو لیکر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : تم نے اس بزرگ کو گھر پر ہی کیوں نہیں رہنے دیا حتیٰ کہ میں خود اس کے پاس آجاتا۔۔ میں نے عرض کیا : بلکہ یہی آپ کے پاس حاضر ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے آپ نے فرمایا : ہمیں اس کے بیٹے کے احسانات اچھی طرح یاد ہیں۔ (رواہ البزار والحاکم)
37427- عن القاسم عن أبيه عن جده قال: جئت بأبي قحافة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هلا تركت الشيخ في بيته حتى آتيه! فقلت: بل هو أحق أن يأتيك، قال: إنا لنحفظه لأيادي ابنه عندنا. "البزار، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان ابوقحافہ (رض)
٣٧٤٢٧۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ابوقحافہ (رض) لائے گئے تاکہ بیعت کریں جب کہ ابوقحافہ کا سر اور داڈھی بالکل سفید ہوچکا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی چیز سے اس کا سر اور داڑھی تبدیل کردو۔ یعنی مہندی وغیرہ سے بال سرخ کردو۔ (رواہ ابن عساکر)
37428- عن جابر قال: أتي يوم الفتح بأبي قحافة ليبايع وإن رأسه ولحيته كالثغامة1 فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: غيروه بشيء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان ابوقحافہ (رض)
٣٧٤٢٨۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (گھر میں ) داخل ہوئے اور اطمینان سے بیٹھ گئے آپ کے پاس ابوبکر (رض) اپنے والد ابوقحافہ (رض) کو لائے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا فرمایا : اے ابوبکر ! اس بزرگ کو گھر پر ہی کیوں نہیں رہنے دیا حتی کہ خود چل کر اس کے پاس آجاتا۔ ابوبکر (رض) نے جواب دیا : یارسول اللہ ! یہ آپ کی طرف چل کر آنے کا زیادہ حقدار ہے چنانچہ ابوقحافہ (رض) نے اسلام قبول کیا اور شہادت حق کا اقرار کیا۔ (رواہ ابن النجار)
37429- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم واطمأن وجلس في المجلس أتاه أبو بكر بأبيه أبي قحافة، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا أبا بكر! ألا تركت الشيخ حتى أكون أنا الذي أمشي إليه! قال: يا رسول الله! هو أحق أن يمشي إليك قبل أن تمشي إليه، فأسلم وشهد شهادة الحق."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان ابوقحافہ (رض)
٣٧٤٢٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ابوبکر (رض) کی باپ کے سوا کسی مہاجر کے باپ نے اسلام قبول نہیں کیا۔ (رواہ ابن مندہ وموسی بن عفیہ)
37430- عن عائشة قالت: ما أسلم أبو أحد من المهاجرين إلا أبو أبي بكر."ابن منده، موسى بن عقبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان ابوقحافہ (رض)
٣٧٤٣٠۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن جب ابوقحافہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے گئے ان کا سر سفید پھول کی مانند تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے بوڑھے بزرگ کو اس کے گھر میں کیوں ٹھہرنے دیا تاکہ ہم ابوبکر کی عظمت و اکرام کی خاطر خود آجائے آپ نے حکم دیا کہ اس کے بالوں کا رنگ تبدیل کردو پھر آپ نے ابوقحافہ (رض) سے بیعت لے لی۔ ابوقحافہ مدینہ آئے حتیٰ کہ ابوبکر (رض) کے دور خلافت کو پایا ہے جب کہ ابوبکر (رض) ان سے پہلے وفات پاگئے ابوبکر (رض) کے مال میں سے چھٹے حصہ کے وارث بنے جو انھوں نے ابوبکر (رض) کی اولاد کو واپس دے دیا۔ ابوقحافہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کے دور خلاف میں ١٤ ھ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر ستانوے (٩٧) سال تھی۔ (رواہ عبدالرزق)
37431- عن الزهري قال: لما كان يوم فتح مكة أتي بأبي قحافة إلى النبي صلى الله عليه وسلم وكأن رأسه ثغامة بيضاء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هلا أقررتم الشيخ في بيته حتى كنا نأتيه تكرمة لأبي بكر! وأمر بأن يغيروا شعره، وبايعه، وأتى المدينة وبقي حتى أدرك خلافة أبي بكر، ومات أبو بكر قبله وورثه أبو قحافة السدس فرده على ولد أبي بكر، وكانت وفاته سنة أربع عشرة في خلافة عمر بن الخطاب وله يومئذ سبع وتسعون سنة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣١۔۔۔ حضرت براء عازب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! عمروبن العاص نے میری ہجو کی ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ میں شاعر نہیں ہوں تو بھی اس کی ہجو کر اور اس پر لعنت کر اسی بقدر جتنی اس نے میری ہجو کی یا فرمایا : میری ہجو کی جگہ۔ (رواہ الرویانی وابن عساکر وقال : فی اسنادہ مقال)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے ابن عساکر کے بقول اس کی سند میں مقال ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے ابن عساکر کے بقول اس کی سند میں مقال ہے۔
37432- عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم! إن عمرو بن العاص هجاني وهو يعلم أني لست بشاعر فاهجه والعنه عدد ما هجاني أو مكان ما هجاني.
الروياني، "كر" وقال: في إسناده مقال.
الروياني، "كر" وقال: في إسناده مقال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣٢۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمروبن العاص کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ابوعبداللہ ام عبداللہ اور عبداللہ اچھے گھر والے ہیں۔ (رواہ بن عساکر)
37433- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على عمرو بن العاص فقال: نعم أهل البيت أبو عبد الله وأم عبد الله وعبد الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣٣۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر اوڑھے سو رہے تھے یا سونے کے قریب تھے فرمانے لگے : یا اللہ ! عمرو کی مغفرت فرما۔ تین بار فرمایا : صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کون سا عمرو ؟ فرمایا : عمروبن العاص میں نے جب بھی اسے صدقہ کی پیشکش کی وہ میرے پاس صدقہ لیتا آیا (رواہ ابن عدی وابن عساکر
37434- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم وهو مسجى بثوبه نائما أو كالنائم: اللهم اغفر لعمرو - ثلاثا، فقال أصحابه: من عمرو يا رسول الله؟ قال: عمرو بن العاص، كنت إذا ناديته للصدقة جاءني بها. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣٤۔۔۔ عمروبن مرہ کی روایت ہے کہ صحابہ (رض) نے حضرت نے حضرت عمر وبن العاص (رض) سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے مشورہ لیتے تھے اور تمہیں لشکروں کا امیرمقرر کرکے بھیجتے تھے عمر وابن العاص (رض) نے فرمایا : تمہیں کیسے پتہ چلا شاید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے میرے ساتھ الفت کرنا چاہتے ہوں (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37435- عن عمرو بن مرة قال قالوا لعمرو بن العاص: قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستشيرك ويؤمرك على الجيوش، فقال: وما يدريكم لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتألفني بذلك. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣٥۔۔۔” مسند عقلمہ بلوی “ علقمہ بن رمشہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کو بحرین بھیجا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی ایک سریہ کے ساتھ چل پڑے ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے چانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ لگ گئی اور پھر بیدار ہوگئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے : ہم آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ عمرو کس کا نام ہے۔ ایک بار پھر آپ کی آنکھ لگ گئی اور پھر بیدار ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمروکون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عمروبن العاص۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : ان کا کیا حال ہے ؟ میں نے عمرو کو اس کیے یاد کیا ہے کہ جب بھی میں نے صدقہ لانے کا اعلان کیا عمرو نے صدقات دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ میں عمرو سے کہتا اے عمرو ! یہ کہاں سے لے آئے ہو ؟ وہ کہتا : اللہ تعالیٰ کے پاس سے لایا ہوں ۔ عمرو نے سچ کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمرو کیلئے بہت خیروبھلائی ہے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن مندہ وابن و عساکر والدیلمی وسندہ صحیح)
37436- "مسند علقمة البلوي" عن علقمة بن رمثة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمرو بن العاص إلى البحرين، ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية وخرجنا معه، فنعس رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ فقال: رحم الله عمروا! فتذاكرنا كل إنسان اسمه عمرو، ثم نعس ثانية ثم استيقظ فقال: رحم الله عمروا! فقلنا: من عمرو يا رسول الله؟ قال: عمرو بن العاص، قالوا: ما باله؟ قال ذكرته أني كنت إذا ندبت الناس للصدقة جاء من الصدقة فأجزل، فأقول له: من أين لك هذا يا عمرو؟ فيقول: من عند الله، وصدق عمرو. إن لعمرو عند الله خيرا كثيرا. يعقوب بن سفيان وابن منده، "كر" والديلمي وسنده صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن العاص (رض)
٣٧٤٣٦۔۔۔” مسندعمر “ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ حضرت بن خطاب (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) سے فرمایا : مجھے تمہاری ذہانت اور عقلمندی پر تعجب ہے پھر تم کیسے مہاجرین اولین کی صف میں شامل نہیں ہوسکے ؟ حضرت عمرو (رض) نے جواب دیا : آپ کو یہ بات عجیب نہ لگے چونکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جس کا دل کسی اور ذات کے قبضہ قدرت میں سے چھٹکارا پاننے کی کوئی صورت نہیں بن پڑتی الایہ کہ اللہ تعالیٰ خود کوئی ارادہ کر فرمائے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ (رواہ ابن عساکر)
37437- "مسند عمر" عن زيد بن أسلم قال قال عمر بنالخطاب لعمرو بن العاص: لقد عجبت لك في ذهنك وعقلك! كيف لم تكن من المهاجرين الأولين؟ فقال له عمرو: وما أعجبك يا عمرو من رجل قلبه بيد غيره لا يستفز التخلص منه إلا إذا أراد الله الذي هو بيده! فقال عمر: صدقت. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عویمربن عبداللہ بن زید ابوالدرداء (رض)
٣٧٤٣٧۔۔۔ جویریہ مندرجہ ذیل حدیث کا کچھ حصہ نافع سے روایت کرتے ہیں اور کچھ حصہ ابودرداء کی اولاد میں سے ایک شخص سے کہتے ہیں : ابودرداء (رض) نے حضرت عمر (رض) سے شام جانے کے لیے اجازت طلب کی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اجازت نہیں دے سکتا الایہ کہ تم عامل کا عہدہ قبول کرو ابودرداء (رض) نے کہا : میں عامل۔ (گورنر) نہیں بننا چاہتا۔ حضرت عمر (رض) فرمایا : تب میں تمہیں شام جانے کی اجازت بھی نہیں دے سکتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : شام میں جاؤں گا تاکہ وہاں لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت تعلیم کروں اور ان کے ساتھ نماز پڑھوں۔ تاہم انھیں اجازت دے دی۔ چنانچہ عمر (رض) شام کی طرف روانہ ہوگئے جب شام میں مسلمانوں کی چھاؤنی نے قریب پہنچے تو باہر ہی قیام کیا حتیٰ کہ جب شام ہوئی اور رات چھاگئی فرمایا : اے یرفاء۔ (خادم کا نام تھا) مجھے یزید بن ابی سفیان کے پاس لے چلوتا کہ میں دیکھوں کہ اس کے پاس رات کو باتیں کرنے والے ہیں چراغ جل رہے ہیں یا نہیں اور وہ مسلمانوں کے مال غنیمت سے لیے دریباج وریشم کے بچھونے پہ سویا ہے تم اسے سلام کرنا وہ تجھے سلام کا جواب دے گا تم اس سے اجازت طلب کرنا وہ تمہیں اجازت نہیں دے گا حتیٰ اسے معلوم ہوجائے کہ تم کون ہو چنانچہ ہم چل پڑے جب دروازے پر پہنچے یرفا نے کہا : السلام علیکم ! یزید بن ابی سفیان (رض) بولے : وعلیکم السلام بولا : کیا میں اندر داخل ہوجاؤں ؟ جواب ملا : تو کون ہے۔ کہا میں ترفاء ہوں اور یہ وہ شخص ہے جس کا آنا تمہیں اچھا نہیں لگتا اور یہ امیرالمومنین ہیں۔ یزید بن ابی سفیان (رض) نے دروازہ کھولا کیا دیکھتے ہیں کہ رات کو باتیں کرنے والے موجود ہیں چراغ جل رہا ہے اور وہ خود دیباج وریشم کا بچھونا لگائے بیٹھے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے یرفاء دروازے پر رہو۔ پھر آپ (رض) نے درہ مارنے کے لیے کان میں رکھ لیا پھر ساز و سامان جمع کیا اور کمرے کے درمیان رکھ دیا پھر گھر میں جاضرین سے فرمایا، تم میں سے کوئی شخص یہاں سے ہلنے نہ پائے حتیٰ کہ مٰن واپس لوٹ آؤں۔ پھر دونوں وہاں سے نکل پڑے اور آپ (رض) نے فرمایا : اے یرفاء ! ہمیں عمرو بن العاص (رض) کے پاس لے جاؤ تاکہ ہم اس کے پاس رات کے قصہ گود دیکھیں چراغ اور دیباج وریشم کا بچھونا دیکھیں جو کہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے ہیں۔ تم اس پر سلام کروگے وہ تمہیں سلام کا جواب دے گا تم اندر جانے کی اجازت طلب کرنا وہ تمہیں اجازت نہیں دے گا حتیٰ کہ اسے معلوم ہوجائے تم کون ہو چنانچ ہم عمرو و (رض) دروازے پر پہنچے عمر (رض) نے کہا : السلام علیکم ! جواب ملاو علیکم السلام کہا : میں داخل ہوسکتا ہوں جو اب دیا : تم کون ہو ؟ یرفا نے جواب دیا : یہ وہ شخص ہے جس کا آنا تمہیں اچھا نہیں لگے یہ امیرالمومنین ہیں عمر (رض) نے دروازہ کھولا کیا دیکھتے ہیں کہ رات کے قصہ گویا چراغ اور دیباج وریشم کے بچھونے موجود ہیں۔ عمر (رض) نے فرمایا : اے یرفاء ! دروازے پر رہو پھر آپ (رض) نے سازوسامان جمع کیا اور گھر کے درمیان رکھ دیا آپ نے درہ کان میں رکھ دیا فرمایا : تم لوگ یہاں سے ہرگز ہلنے نہ پاؤ تاوقتیکہ میں واپس لوٹ آؤں۔ فرمایا : اے یرفاء ہمیں ابوموسیٰ کے پاس لے جاؤ تاکہ میں وہاں رات کے قصہ گو چراغ اور صوف کے بچھونے دیکھوں جو کہ مسلمانوں کے مال غنیمت سے ہیں۔ تم اس سے اجازت طلب کرو گے وہ تمہیں اجازت دے گا حتیٰ کہ اسے معلوم ہوجائے گا کہ تم کون ہو۔ چنانچہ ہم چل پڑے ہم نے ابوموسیٰ (رض) کے پاس رات کے قصہ گو چراغ اور صوف (اون) کے بچھونے دیکھے عمر (رض) نے مارنے کے لیے درہ کان میں رکھ لیا اور فرمایا : اے ابوموسیٰ تم بھی ایسے ہوگئے ہو ابوموسیٰ (رض) نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نے یہ جو کچھ دیکھا ہے میرے ساتھیوں نے کیا ہے۔ اللہ کی قسم مجھے بھی وہی کچھ مل پایا ہے جو کچھ دوسرے لوگوں کو ملا ہے۔ فرمایا : یہ کیا ہے جواب دیا : شہراوالوں کو خیال ہے یہ ہی چیز اصلح اور زیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے سامان لپیٹا اور گھر کے درمیان رکھ دیا حاضرین سے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص یہاں سے نکلنے نہ پائے تاوقتیکہ میں تمہارے پاس لوٹ نہ آؤں۔ جب ہم ان کے پاس سے نکلے عمر (رض) بولے : اے یرفاء اب ہمیں ہمارے بھائی کے پاس لے چلو ہم اسے ضرور دیکھیں گے اس کے پاس رات کی قصہ گوئی ہوگی اور نہ ہی چراغ جل رہا ہوگا اس کے دروازہ پر تالہ بھی نہیں ہوگا اس کا بچھونا کنکریاں ہوں گی اس نے عام سی گدڑی کا تکیہ بنا رکھا ہوگا اور اپنے اوپر باریک سی چادر اوڑھی ہوگی وہ سردی سے ٹھٹھر رہا ہوگا تو اسے سلام کرے گا وہ تجھے سلام کا جواب دے گا اس سے اجازت طلب کرے گا وہ تجھے اجازت دے دے گا قبل ازیں کہ اسے معلوم ہو تم کون ہو ہم چل پڑے حتیٰ کہ جب اس کے دروازے پر پہنچے عمروضی اللہ نے کہا : السلام علیکم جواب ملا وعلیکم والسلام کہا : میں اندر آجاؤں ؟ جواب ملا اندر آجاؤ چنانچہ عمر (رض) دروازہ کھول کر اندر گئے دروازے پر کوئی رکاوٹ نہیں ہم تاریک گھر میں داخل ہوئے عمر (رض) اسے تلاش کرنے لگے بالاخر ان کا ہاتھ اس پر جالگا تکیہ ٹٹول کر دیکھا وہ عام سی گڈری کا بنا تھا ان کا بچھونا دیکھا تو وہ کنکریوں کا تھا اوڑھنی دیکھی تو وہ عام باریک سی چادر تھی۔ ابودرداء (رض) بولے : یہ کون ہے ؟ کہا امیرالمومنین ہیں فرمایا : جی ہاں کہا بخدا میں آپ کو اس سال سے موخر کرتا رہا ہوں عمر (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کیا میں تمہیں وسعت نہ دے دوں ؟ کیا میں تمہیں آسودگی میں نہ کردوں ؟ ابودرداء (رض) بولے : کیا آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیان کردہ حدیث یاد ہے عمر (رض) نے پوچھا : کونسی حدیث کہا : وہ یہ ہے کہ ” تمہیں دنیا میں اتنا گزارہ ہے کافی ہے جتنا کہ مسافر کا زادراہ عمر (رض) بولے : جی ہاں ابودرداء (رض) نے کہا : اے عمر ! پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کیا کرنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ کہ مسافر کا زادراہ عمر (رض) بولے : جی ہاں ابودرداء (رض) نے کہا : اے عمر ! پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کیا کرنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ دونوں صبح تک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ (رواہ الیشکری فی الیشکریات وابن عساکر)
37438- عن جويرية قال بعضه عن نافع وبعضه عن رجل من ولد أبي الدرداء قال: استأذن أبو الدرداء عمر في أن يأتي الشام، فقال: لا آذن لك إلا أن تعمل، قال: فإني لا أعمل، قال: فإني لا آذن لك، قال: فانطلق فأعلم الناس سنة نبيهم صلى الله عليه وسلم وأصلي بهم، فأذن له، فخرج عمر إلى الشام فلما كان قريبا منهم أقام حتى أمسى، فلما جنه الليل قال: يا يرفأ! إنطلق إلى يزيد بن أبي سفيان أبصره عنده سمار ومصباح مفترشا ديباجا وحريرا من فيء المسلمين فتسلم عليه فيرد عليك السلام وتستأذن فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت؟ فانطلقنا حتى انتهينا إلى بابه فقال: السلام عليكم، فقال وعليكم السلام، قال: أدخل؟ قال: ومن أنت؟ قال يرفأ: هذا من يسوءك، هذا أمير المؤمنين! ففتح الباب فإذا سمار ومصباح وإذا هو مفترش ديباجا وحريرا لم فقال: يا يرفأ! الباب الباب! ثم وضع الدرة بين أذنيه ضربا، وكور1 المتاع فوضعه وسط البيت، ثم قال للقوم: لا يبرح منكم أحد حتى أرجع إليكم، ثم خرجا من عنده، ثم قال: يا يرفأ! انطلق بنا إلى عمرو بن العاص أبصره عنده سمار ومصباح، مفترش ديباجا من فيء المسلمين، فتسلم عليه فيرد عليك وتستأذن عليه فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت. فانتهينا إلى بابه فقال عمر: السلام عليكم، قال: وعليكم السلام، قال: أدخل! قال: ومن أنت؟ قال يرفأ: هذا من يسوءك هذا أمير المؤمنين! ففتح الباب فإذا سمار ومصباح وإذا هو مفترش ديباجا وحريرا، يا يرفأ! الباب الباب! ثم وضع الدرة بين أذنيه ضربا، ثم كور المتاع فوضعه في وسط البيت، ثم قال للقوم: لا تبرحن حتى أعود إليكم، فخرجا من عنده فقال: يا يرفأ! انطلق بنا إلى أبي موسى أبصره عنده سمار ومصباح مفترشا صوفا من مال فيء المسلمين فتستأذن عليه فلا يأذن لك حتى يعلم من أنت. فانطلقنا إليه وعنده سمار ومصباح مفترشا صوفا فوضع الدرة بين أذنيه ضربا وقال: أنت أيضا يا أبا موسى! فقال: يا أمير المؤمنين! هذا وقد رأيت ما صنع أصحابي، أما والله لقد أصبت مثل ما أصابوا، قال: فما هذا؟ قال: زعم أهل البلد أنه لا يصلح إلا هذا؛ فكور المتاع فوضعه في وسط البيت، وقال للقوم: لا يخرجن منكم أحد حتى أعود إليكم، فلما خرجنا من عنده قال: يا يرفأ! انطلق بنا أخي لنبصرنه ليس عنده سمار ولا مصباح وليس لبابه غلق1 مفترشا بطحاء متوسدا بردعة2 عليه كساء رقيق قد أذاقه البرد فتسلم عليه فيرد عليك السلام وتستأذن فيأذن لك من قبل أن يعلم من أنت، فانطلقنا حتى إذا قمنا على بابه قال: السلام عليكم، قال: وعليك السلام، قال: أأدخل؟ قال: ادخل، فدفع الباب فإذا ليس له غلق، فدخلنا إلى بيت مظلم فجعل عمر يلمس حتى وقع عليه، فجس وسادة فإذا بردعة، وجس فراشه فإذا بطحاء، وجس دثاره3 فإذا كساء رقيق، فقال أبو الدرداء: من هذا؟ أمير المؤمنين؟ قال: نعم، قال: أما والله لقد استبطأتك منذ العام، قال عمر: رحمك الله ألم أوسع عليك؟ ألم أفعل بك؟ فقال له أبو الدرداء، أتذكر حديثا حدثناه رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عمر! قال: أي حديث؟ قال: ليكن بلاغ أحدكم من الدنيا كزاد الراكب، قال: نعم، قال: فماذا فعلنا بعده يا عمر؟ قال: فما زالا يتجاوبان بالبكاء حتى أصبحا."اليشكري في اليشكريات، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عویمربن عبداللہ بن زید ابوالدرداء (رض)
٣٧٤٣٨۔۔۔ حوشب فزاری کی روایت ہے کہ انھوں نے ابودرداء (رض) کو منبر پر خطاب کرتے سناوہ فرما رہے تھے : جتنا تمہیں علم ہے اس پر کتنا عمل کیا ؟ کتاب اللہ کی ہر آیت یا تو ڈانٹنے والی ہے یا کسی چیز کا حکم دیتی ہے ہر آیت اپنے فریضہ کا مجھ سے سوال کرتی ہے میرے خلاف والی آیت گواہی دیتی ہے کہ میں عمل نہیں کرتا ڈانٹنے والی آیت گواہی دیتی ہے کہ میں باز نہیں آرہا تو کیا میں چھوڑدوں ۔ (رواہ ابن عساکر)
37439- عن حوشب الفزاري أنه سمع أبا الدرداء على المنبر يخطب ويقول: كيف عملت فيما علمت؟ فتأتي كل آية في كتاب الله زاجرة وآمرة فتسألني فريضتها فتشهد علي الآمرة أني لم أفعل، وتشهد علي الزاجرة أني لم أنته، أفأترك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن طفیل (رض)
٣٧٤٣٩۔۔۔” مسند عمر “ عبدالواحدبن ابی عون دوسی کہتے ہیں : حضرت طفیل بن عمرو (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدینہ ہی میں آپ کے ساتھ ٹھہرگئے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پیارے ہوگئے آپ کی رحلت کے بعد عرب مرتد ہوگئے طفیل (رض) مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو کر جہاد کے لیے روانہ ہوئے حتیٰ کہ طلیحہ اور سرزمین نجد سے فارغ ہوئے پھر مسلمانوں کے ساتھ یمامہ کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ ان کا بیٹا عمروبن طفیل (رض) بھی تھا چنانچہ جنگ یمامہ میں طفیل (رض) شہید ہوئے اور ان کا بیٹا عمروبن طفیل (رض) زخمی ہوا ان کا ہاتھ کٹ گیا اور بری طرح متاثر ہوا بعد میں ہاتھ صحیح ہوگیا : چنانچہ ایک مرتبہ عمروبن طفیل (رض) حضرت عمربن خطاب (رض) کے پاس تھے اتنے میں کھانا لایا گیا عمرو (رض) اس سے الگ حضرت عمر (رض) الگ ہوجانے کی وجہ دریافت کی اور فرمایا : کیا تم اپنے ہاتھ کی وجہ سے الگ ہوگئے ہو عرض کیا : جی ہاں عمر (رض) نے فرمایا : بخدا میں کھانا چھکوں گا بھی نہیں جب تک تم اپنے پاتھ سے کھاؤ گے نہیں عمرو (رض) نے کھانا شروع کیا : عمر (رض) نے فرمایا : بخدا ! قوم میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے بدن کا کچھ حصہ جنت میں پہنچ گیا ہو بجز تمہارے پھر عمرو (رض) نے حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں جنگ یرموک میں حصہ لیا اور اسی میں شہید ہوئے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
37440- "مسند عمر" عن عبد الواحد بن أبي عون الدوسي قال: رجع الطفيل بن عمرو إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معه بالمدينة حتى قبض، فلما ارتدت العرب خرج من المسلمين فجاهد حتى فرغوا من طليحة وأرض نجد كلها ثم سار مع المسلمين إلى اليمامة ومعه ابنه عمرو ابن الطفيل فقتل الطفيل باليمامة شهيدا وجرح ابنه عمرو بن الطفيل وقطعت يده ثم استبل وصحت يده فبينا هو عند عمر بن الخطاب إذ أتي بطعام فتنحى عنه، فقال عمر: ما لك؟ لعلك تنحيت لمكان يدك، قال: أجل، قال لا والله لا أذوقه حتى تسوطه بيدك، ففعل ذلك فوالله ما في القوم أحد بعضه في الجنة غيرك، ثم خرج عام اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب مع المسلمين فقتل شهيدا."ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৪৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن طفیل (رض)
٣٧٤٤٠۔۔۔ حضرت عمروبن طفیل ذولفورین دوسی (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے کوڑے کے لیے دعا کی تھی جس سے ان کا کوڑا چمک اٹھا عمرو (رض) اپنے کوڑے کی روشنی میں رات کو چلتے تھے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37441- عن عمرو بن الطفيل ذي النورين الدوسي وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا له في سوطه فنور له سوطه فكان يستضيء به.
ابن منده، "كر".
ابن منده، "كر".
তাহকীক: