কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৪৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن طفیل (رض)
٣٧٤٤١۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمروبن طفیل (رض) کو خبیر سے اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ جانے کا حکم دیا عرض کیا : یارسول اللہ ! جنگ پورے زور پر ہے کہ آپ مجھے جنگ سے غائب کرنا چاہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم خوش نہیں ہو کہ تم اللہ کے رسول کے قاصد ہو۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37442- عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وجه عمرو بن الطفيل من خيبر إلى قومه فقال عمرو: قد شب القتال يا رسول الله! تغيبني عنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما ترضى أن تكون رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ صامت (رض)
٣٧٤٤٢۔۔۔” مسند عمر “ قبیصہ بن ذویب کی روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے حضرت معاویہ (رض) کو کسی چیز سے روکنا چاہانہ ماننے پر کہا : میں ایسی سرزمین پر نہیں رہ سکتا چنانچہ مدینہ پہنچ گئے حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تم کیوں آگئے ہو ؟ عبادہ (رض) نے ماجرا سنایا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنی جگہ واپس لوٹ جاؤ اللہ تعالیٰ اس سرزمین کا براکرے جس پر تو اور تجھ جیسے لوگ نہ ہوں معاویہ کو تمہارے اوپر حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37443- "مسند عمر" عن قبيصة بن ذؤيب أن عبادة بن الصامت أنكر على معاوية شيئا فقال: لا أساكنك بأرض، فرحل إلى المدينة فقال له عمر: وما أقدمك؟ فأخبره فقال له عمر: أرحل إلى مكانك، قبح الله أرضا لست فيها وأمثالك! فلا إمرة له عليك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ صامت (رض)
٣٧٤٤٣۔۔۔ عبادہ بن محمد صامت کی روایت ہے کہ جب حضرت عبادہ (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ (رض) نے فرمایا : میرا بستر گھر کے صحن میں نکالو۔ پھر حکم دیا کہ میرے غلاموں خادموں اور پڑوسیوں کا جمع کرو چنانچہ گھر والوں نے مذکورہ لوگوں کو جمع کیا جب لوگ جمع ہوگئے عبادہ (رض) نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں دنیا میں میرا یہ آخری دن ہوگا اور آنے والی رات آخرت کی میری پہلی رات ہوگی مجھے معلوم نہیں شاید میرے ساتھ یا میری زبان سے کسی کے حق میں زیادتی ہوئی لہٰذا اسے چاہیے کہ میری روح قبض ہونے سے پہلے پہلے مجھ سے قصاص لے لے۔ حاضرین نے کہا : بلکہ آپ والد ہیں اور آپ نے ہمارے تربیت کی ہے عبادہ بن محمد کہتے ہیں : عبادہ بن صامت (رض) نے خادم کو کبھی بری بات نہیں کہی عبادہ (رض) نے فرمایا : کیا تم معاف کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں فرمایا : یا اللہ ! گواہ رہ پھر فرمایا خبردار ! میری وصیت یاد رکھنا میں ہر انسان کو منع رونے سے کرتا ہوں جب میری روح قبض ہوجائے تو اچھی طرح سے وضو کرو اور پھر ہر شخص مسجد میں داخل ہوجائے نماز پڑھے عبادہ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے استغفار کرے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔” استعینوا بالصبر والصلوٰۃ “ صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو مجھے قبر میں جلدی دفن کرنا اور میرے نیچے سرخ کپڑا نہ پھیلانا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان وابن عساکر)
37444- عن عبادة بن محمد بن عبادة بن الصامت قال: لما حضرت عبادة الوفاة قال: أخرجوا فراشي إلى صحن الدار، ثم قال: اجمعوا لي موالي وخدمي وجيراني ومن كان يدخل علي، فجمعوا له، فقال: إن يومي هذا لا أراه إلا آخر يوم يأتي علي من الدنيا وأول ليلة من الآخرة، وإني لا أدري لعله قد فرط مني إليكم بيدي أو بلساني شيء وهو الذي نفسي بيده القصاص يوم القيامة! وأحرج1 إلى أحد منكم في نفسه شيء من ذلك إلا اقتص مني من قبل أن تخرج نفسي، فقالوا: بل كنت والدا وكنت مؤدبا، قال: وما قال لخادم سوءا قط فقال: أعفوتم ما كان من ذلك؟ قالوا: نعم، قال: اللهم اشهد! ثم قال: أما لا فاحفظوا وصيتي، أحرج على إنسان منكم يبكي علي، فإذا خرجت نفسي فتوضؤا وأحسنوا الوضوء ثم ليدخل كل إنسان منكم مسجدا فيصلي ثم يستغفر لعبادة ولنفسه فإن الله تعالى قال: {اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ} أسرعوا بي إلى حفرتي ولا تتبعوني نارا ولا تضعوا تحتي أرجوانا 1 "هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ صامت (رض)
٣٧٤٤٤۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بدری صحابی ہیں اور نقباء انصار میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدسن پر بیعت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (رواہ البخاری ومسلم)
37445- عن قتادة قال: كان عبادة بن الصامت بدريا عقيبا أحد نقباء الأنصار، وكان بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن لا يخاف في الله لومة لائم. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیربن سعد انصاری (رض)
٣٧٤٤٥۔۔۔” مسند عمر “ محمد بن مزاحم کی روایت ہے کہ حضرت عمروبن خطاب (رض) نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کی وفات کے بعد حضرت عمیر بن سعد (رض) کو حمص کا گورنر بنا کر بھیجا ایک سال تک حضرت عمر (رض) کے پاس ان کی کوئی خیر خبر نہیں آئی حضرت عمر (رض) نے ایک دن اپنے کاتب کو حکم دیا عمیر کو خط لکھو اللہ کی قسم میرا قسم میرا خیال ہے کہ عمیر نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے۔ خط کا مضمون یہ تھا۔

” جونہی میرا خط تمہیں ملے فورا میرے پاس آجاؤ اور میرا خط پڑھتے ہی تم وہ سارا مال ساتھ لے کر آؤ جو تم نے مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے جمع کررکھا ہے “۔

چنانچہ خط پڑھتے ہی حضرت عمیر (رض) مدینہ کے لیے تیار ہوئے اپنا چمڑے کا تھیلالیا اور اس میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھا چمڑے کا لوٹا تھیلے سے باندھ کر لٹکا لیا اپنی لاٹھی لی اور حمص سے پیدل چل کر مدینہ منورہ پہنچے مدینہ پہنچے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا چہرہ غبار آلود تھا بال لمبے ہوچکے تھے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : السلام علیک یا امیرالمومنین حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارا کیا حال ہے ؟ عمیر (رض) بولے : آپ مجھے کس حال حال میں دیکھ رہے ہیں کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں صحتمند اور پاکیزہ صاف وستھرے خون والا ہوں اور میرے ساتھ میری دنیا ہے جس کی باگ پکڑ کر میں کھینچ لایا ہوں حضرت عمر (رض) سمجھے یہ اپنے ساتھ بہت سامال لائے ہوں گے جو ابھی پہنچے ہیں اس لیے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا مال ہے حضرت عمیر (رض) نے جواب دیا : میرے پاس میرا تھیلا ہے جس میں میں اپنا توشہ اور پیالہ رکھتا ہوں پیالہ میں کھا بھی لیتا ہوں سردھولیتا ہوں اور اسی میں کپڑے بھی وھولیتا ہوں ایک لوٹا ہے جس میں وضو کرتا ہوں اور پیسے رکھتا ہوں میری ایک لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اگر کوئی دشمن سامنے آجائے تو اس سے اس کا مقابلہ بھی کرتا ہوں اللہ کی قسم دنیا میرے اس سامان کے علاوہ ہے (یعنی میری دنیاوی ضروریات اس سے پوری ہوجاتی ہیں) پھر حضرت عمر (رض) عہ نے پوچھا : حمص سے تم پیدل چل کر آئے ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا : کیا وہاں تمہارا کوئی تعلقدار نہیں جس سے سواری کے کر آجاتے ؟ عرض کیا : وہاں کے لوگوں نے مجھے سواری نہیں دی اور نہ ہی میں نے ان سے سواری کا طالبہ کیا ہے۔ عمر (رض) نے فرمایا : بہت برے مسلمان ہیں وہ جنہوں نے اپنے گورنر کا خیال نہیں رکھا عمیر (رض) نے کہا : اے عمر ! اللہ سے ڈریئے اللہ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے جب کہ میں نے وہاں کے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھتے دیکھا ہے (جو شخص نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے تمہیں کہاں بھیجا تھا اور تم نے کیا کیا ؟ عمیر (رض) نے کہا : امیرالمومنین آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں میں سمجھا نہیں ہوں۔ عمر (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ (سوال تو واضح ہے) حضرت عمیر (رض) نے کہا : اگر یہ ڈرنہ ہو تاکہ بتانے سے آپ غم گین ہوں گے تو میں آپ کو نہ بتاتا آپ نے جہاں مجھے بھیجا تھا وہاں پہنچ کر میں نے نیک لوگوں کو جمع کیا اور مسلمانوں سے مال غنیمت جمع کرنے کا ان کو ذمہ دار بنایا چنانچہ جب وہ مال جمع کرکے لے آئے میں نے وہ مال صحح مصرف میں خرچ کیا اگر شرعا اس میں آپ کا حصہ ہوتا میں آپ کے پاس ضرور لے کر آتا عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم ہمارے پاس کچھ نہیں لائے ؟ حضرت عمیر (رض) نفی میں جواب دیا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ تو اچھے گورنر ہیں جو اپنے ساتھ کچھ نہیں لے کر آئے لہٰذا ان کے لیے دوبارہ حمص کی گورنری کا عہدنامہ لکھ دو حضرت عمیر (رض) نے کہا : اب میں آپ کی طرف سے گورنر بننے کو تیار نہیں ہوں اور نہ ہی آپ کے بعد کسی اور کی طرف سے کیونکہ اللہ کی قسم ہیں۔ (اس گورنری میں خرابی سے) بچ نہ سکا۔ میں نے ایک نصرانی سے۔ (امارت کے زعم میں) کہا تھا : اے فلاں اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل کرے جب کہ ذمی کو تکلیف پہنچانا برا کام ہے اے عمر آپ نے مجھے گورنر بنا کر بڑی خرابیوں میں مبتلا کیا ہے۔ اے عمر میری زندگی کے سب سے برے دن وہ ہیں جن میں میں آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا (اور دنیا سے چلا نہیں گیا) پھر عمیر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے اجازت طلب کی حضرت عمر (رض) نے انھیں اجازت دے دی چنانچہ عمیر (رض) مدینہ سے اپنے گھر واپس لوٹ آئے ان کا گھر مدینہ سے چندمیل کے فاصلہ پر تھا۔

جب حضرت عمیر (رض) چلے گئے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا تو یہی خیال ہے کہ عمیر نے ہم سے خیانت کی ہے (یہ حمص سے ضرور مال لے کر آیا ہے جو میرے پاس نہیں لایا بلکہ سیدھا اپنے گھر بھیج دیا ہے) پھر عمر (رض) نے حارث نامی آدمی کو سو (١٠٠) دینار دے کر کہا یہ لے جاؤ اور عمیر کے پاس جاکر اجنبی مہمان بن کر ٹھہرجاؤ اگر اس کے گھر میں مال کی فراوانی دیکھو تو فورا میرے پاس لوٹ آؤ اور اگر اس تنگی کی حالت میں میں دیکھو تو سو (١٠٠) دینار اسے دے دینا۔ حارث جب حضرت عمیر (رض) کے پاس پہنچے دیکھا کہ عمیر (رض) ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے اپنی قمیص سے جوئیں نکال رہے ہیں حارث نے کہا : السلام علیکم ! عمیر (رض) نے سلام کا جواب دیا : عمیر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے آجاؤ اور ہمارے مہمان بن جاؤ حارث سواری سے اترا اور ان کے یہاں ٹھہرگئے پھر حضرت عمیر (رض) نے پوچھا : آپ سے آئے ہیں ؟ جواب دیا : مدینہ سے فرمایا : امیرالمومنین کو کس حال میں چھوڑا ہے ؟ جواب دیا : اچھے حال میں تھے پوچھا : مسلمانوں کا کیا حال ہے ؟ جواب دیا : وہ بھی ٹھیک ہیں عمیر (رض) نے پوچھا کیا امیر المؤمین شرعی حدود قائم نہیں کرتے ہیں : حارث نے جواب دیا : امیرالمومنین کے بیٹے سے کبیرہ گناہ ہوگیا تھا امیرالمومنین نے اس پر حد شرعی قائم کی کوڑے سے اس کی پٹائی کی جس سے اس کا انتقال ہوگیا تھا عمیر (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! عمر کی مدد فرما جہاں تک میں جانتا ہوں وہ تجھ سے بےانتہامحبت کرتے ہیں۔

چنانچہ حارث عمیر (رض) کے ہاں تین دن تک رہے ان کے ہاں جو کی صرف ایک روٹی ہوتی تھے جسے مہمان کھا لیتا اور میزبان بھوکے رہ جاتے جب بہت زیادہ ہوگیا تو حارث سے کہا : تمہاری وجہ سے ہمارے گھر میں فاقوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اگر مناسب سمجھوتو کہیں اور چلے جاؤ اس پر حارث نے سو دینار نکالے اور پیش کیے ساتھ کہا : یہ دینار امیرالمومنین نے آپ لے لیے بھیجے ہیں۔ آپ انھیں اپنے کام میں لائیں عمیر (رض) نے کہا : یہ واپس لے جاؤ ہمیں ضرورت نہیں اتنے میں بیوی بولی : دینار لے لو اگر ضرورت پڑی تو اس میں سے خرچ کرلینا ورنہ مناسب جگہ خرچ کردینا عمیر (رض) فرمایا : اللہ کی قسم میرے پاس کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں میں انھیں رکھوں گا اس پر ان کی بیوی نے اپنی قمیص کا نیچے والا دامن پھاڑ کر دیا جس میں انھوں نے دینار رکھ لیے پھر باہر تشریف لائے دو دوچار چار کرکے سب کے سب فقراء، مساکین اور محتاجوں میں تقسیم کردیئے حارث کا خیال تھا کہ عمیر (رض) انھیں بھی کچھ دیں گے مگر عمیر (رض) نے رخصت کرتے وقت اتنا کہا کہ

امیر المومنین کو ہمارا سلام کہنا۔

حارث جب حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچے تو آپ (رض) نے پوچھا : عمیر کا کیا حال ہے ؟ حارث نے جواب دیا : وہ تو بہت سختی میں ہیں پوچھا : دیناروں کا کیا بنا ؟ حارث نے کہا : مجھے نہیں پتہ حضرت عمر (رض) نے خط لکھا کہ : اے عمیر یہ خط پاتے ہی فورا ! میرے پاس آجاؤ چنانچہ عمیر (رض) مدینہ آگئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا ہم نے جو دینار بھیجے تھے ان کا کیا کیا ؟ عمیر (رض) نے جواب دیا : مجھے جو مرضی آئی کیا آپ ان دیناروں کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں مجھے ضرور بتاؤ دیناروں کا کیا کیا ؟ حضرت عمیر (رض) نے جواب دیا : میں نے ان کو اپنے لیے اگلے جہاں میں بھیج دیا ہے (یعنی ضرورت مندوں میں تقسیم کردیئے ہیں)

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ حضرت عمیر (رض) کو ایک وسق (یعنی پانچ من دس سیر) غلہ اور دو کپڑے دیئے جائیں حضرت عمیر (رض) نے فرمایا : مجھے غلہ کی ضرورت نہیں چونکہ میں گھر پر دو صاع (سات سیر) جو چھوڑ کر آیا ہوں ان دوصاع کے کھانے سے قبل اللہ تعالیٰ اور رزق پہنچادیں گے چنانچہ عمیر (رض) نے غلہ تو نہ لیا البتہ دو کپڑے لیتے گئے اور فرمایا : فلاں ام فلاں کے پاس کپڑے نہیں ہیں (اسے دوں گا) پھر اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور تھوڑے عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے حضرت عمر (رض) کو جب ان کی وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا : اللہ تعالیٰ عمیر کو غریق رحمت کرے پھر آپ (رض) نے حاضرین سے کہا : ہر شخص اپنے دل میں تمنا و آرزو کرے۔ فرمایا : لیکن میں تمنا کرتا ہوں کہ میرے پاس عمیر (رض) جیسے لوگ ہوں جن کے ذریعے میں مسلمانوں کے امور (سرکاری کاموں) میں مددلوں۔ (رواہ ابن عساکر)
37446- "مسند عمر" عن محمد بن مزاحم أن عمر بن الخطاب كان استعمل بعد موت أبي عبيدة بن الجراح على حمص عمير بن سعد الأنصاري فأقام بها سنة فكتب إليه عمر بن الخطاب: إنا بعثناك على عمل من أعمالنا فما ندري أوفيت بعهدنا أم خنتنا؟ فإذا جاءك كتابي هذا فانظر ما اجتمع عندك من الفيء فاحمله إلينا والسلام. فقام عمير حين انتهى إليه الكتاب فحمل عكازته وعلق فيها إداوته وجرابه فيه طعامه وقصعته فوضعها على عاتقه حتى دخل على عمر فسلم فرد عليه السلام - وما كاد أن يرد - فقال: يا عمير! ما لي أرى بك من سوء الحال! أمرضت بعدي أم بلادك سوء أم هي خديعة منك لنا؟ فقال عمير: ألم ينهك الله عن التجسس؟ ما ترى في سوء الحال؟ ألست طاهر الدم صحيح البدن قد جئتك بالدنيا أحملها على عاتقي؟ قال: يا أحمق! وما الذي جئت به من الدنيا؟ قال: جرابي فيه طعامي، وإداوتي فيها وضوئي وشرابي، وقصعتي فيها أغسل رأسي، وعكازتي بها أقاتل عدوي وأقتل بها حية إن عرضت لي؛ قال صدقت يرحمك الله! فما فعل المسلمون؟ قال: تركتهم يوحدون ويصلون، ولا تسأل عما سوى ذلك، قال: فما فعل المعاهدون؟ قال: أخذنا منهم الجزية عن يد وهم صاغرون، قال فما فعلت فيما أخذت منهم؟ وما أنت وذاك يا عمر! اجتهدت واختصصت نفسي ولم آل أني لما قدمت بلاد الشام وجمعت من بها من المسلمين فاخترنا منهم رجلا فبعثناهم على الصدقات فنظرنا إلى ما اجتمع فقسمناه بين المهاجرين وبين فقراء المسلمين، فلو كان عندنا فضل لبلغناك، فقال: يا عمير! جئت تمشي على رجليك؟ أما كان فيهم رجل يتبرع لك بدابة؟ فبئس المسلمون وبئس المعاهدون! أما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليلينهم رجال إن هم سكتوا أضاعوهم، وإن هم تكلموا قتلوهم وسمعته يقول: لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليسلطن الله عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلا يستجاب لهم فقال: يا عبد الله بن عمر! هات صحيفة نجدد لعمير عهدا، قال: لا والله! لا أعمل لك على شيء أبدا: قال: لم؟ قال: لأني لم أنج، وما نجوت لأني قلت لرجل من أهل العهد: أخزاك الله! وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أنا ولي خصم المعاهد واليتيم، ومن خاصمته خصمته. فما يؤمنني أن يكون محمد صلى الله عليه وسلم خصمي يوم القيامة، ومن خاصمه خصمه، فقام عمر وعمير إلى قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمير: السلام عليك يا رسول الله! السلام عليك يا أبا بكر! ماذا لقيت بعدكما! اللهم الحقني بصاحبي لم أغير ولم أبدل! وجعل يبكي عمر وعمير طويلا، فقال: عمير! الحق بأهلك، ثم قدم على عمر مال من الشام فدعا رجلا من أصحابه يقال له حبيب فصر مائة دينار فدفعها إليه فقال: ائت بها عميرا وأقم ثلاثة أيام ثم ادفعها إليه وقل: استعن بها على حاجتك - وكان منزله من المدينة مسيرة ثلاثة أيام - وانظر ما طعامه وما شرابه, فقدم حبيب فإذا هو بفناء بابه يتفلى، فسلم عليه فقال: إن أمير المؤمنين؟ يقرئك السلام، قال: عليك وعليه السلام، قال: كيف تركت أمير المؤمنين؟ قال: صالحا، قال: لعله يجور في الحكم؟ قال: لا، قال: فلعله يرتشي؟ قال: لا، قال: فلعله يضع السوط في أهل القبلة، قال: لا إلا أنه ضرب ابنا له فبلغ به حدا فمات فيها، اللهم اغفر لعمر فإني لا أعلم إلا أنه يحبك ويحب رسولك ويحب أن يقيم الحدود، فأقام عنده ثلاثة أيام يقدم إليه كل ليلة قرصا بإدامه زيت، حتى إذا كان اليوم الثالث قال: ارحل عنا فقد أجعت أهلنا، إنما كان عندنا فضل آثرناك به، فقال: هذه الصرة أرسل بها إليك أمير المؤمنين أن تستعين بها على حاجتك، فقال: هاتها، فلما قبضها عمير قال: صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أبتل بالدنيا، وصحبت أبا بكر فلم أبتل بالدنيا، وصحبت عمر وشر أيامي يوم لقيت عمر - وجعل يبكي، فقالت امرأته من ناحية البيت: لا تبك يا عمير! ضعها حيث شئت: فاطرحي إلي بعض خلقانك1 فطرحت إليه بعض خلقانها فصر الدنانير بين أربعة وخمسة وستة فقسمها بين الفقراء وابن السبيل حتى قسمها كلها، ثم قدم حبيب على عمر فأخبره الخبر، قال ما فعلت الدنانير؟ قال: فرقها كلها، قال: فلعل على أخي دينا! قال: فاكتبوا إليه حتى يقبل إلينا، فقدم عمير على عمر، فسأله فقال: يا عمير! ما فعلت الدنانير؟ قال: قدمتها لنفسي وأقرضتها ربي، وما كنت أحب أن يعلم بها أحد، قال: يا عبد الله بن عمر! قم فارحل له راحلة من تمر الصدقة فأعطها عميرا، وهات ثوبين فتكسوهما إياه فقال عمير: أما الثوبان فنقبلهما، وأما التمر فلا حاجة لنا فيه. فإني تركت عند أهلي صاعا من تمر وهو يبلغهم إلى يوم ما، قال: فانصرف عمير إلى منزله فلم يلبث إلا قليلا حتى مات فبلغ ذلك عمر فقال: رحم الله عميرا! ثم قال لأصحابه تمنوا، فتمنى كل رجل أمنيته فقال عمر: ولكني أتمنى أن يكون رجال مثل عمير فاستعين بهم على أمور المسلمين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبدالرحمن بن ابزی (رض)
٣٧٤٤٦۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا مکہ پہنچنے پر مکہ کے امیر نافع بن حرث نے ہمارا استقبال کیا نافع بن حرث نے کہا : میں اہل مکہ پر کسے نائب مقرر کروں عمر (رض) نے جواب دیا : عبدالرحمن بن ابزی کو نائب مقرر کرو : نافع نے کہا : آپ نے تو آزاد کردہ غلام کو نائب مقرر کردیا ہے جب کہ مکہ میں قریش رہتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب رہتے ہیں فرمایا : جی ہاں میں عبدالرحمن کو قرآن مجید کا سب سے بڑا قاری پایا ہے جب کہ مکہ میں لوگ حاضری دینے کے لیے آتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ لوگ کسی کو بصورت آواز والے قاری سے کتاب اللہ سنیں ۔ کہا جی ہاں : میں عبدالرحمن بن ابزی کو ان لوگوں میں دیکھ رہا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے بلندی عطا فرمائی ہے۔ (رواہ ابویعلی)
37447- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: خرجت مع عمر بن الخطاب إلى مكة فاستقبلنا أمير مكة نافع بن الحرث فقال: من استخلفت على أهل مكة؟ قال: عبد الرحمن بن أبزى، قال: عمدت إلى رجل من الموالي فاستخلفته على من بها من قريش وأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم! قال: نعم، وجدته أقرأهم لكتاب الله. ومكة أرض محتضرة فأحببت أن يسمعوا كتاب الله من رجل حسن القراءة،قال: نعم ما رأيت إن عبد الرحمن بن أبزى ممن يرفعه الله بالقرآن. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عدی بن حاتم (رض)
٣٧٤٤٧۔۔۔” عن عمر “ حضرت عدی بن حاتم (رض) کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں میں تجھے جانتا ہوں تم نے اس وقت ایمان لایا ہے جس وقت لوگ کفر کررہے تھے اس وقت تم دین اسلام کی طرف متوجہ ہوئے جب لوگ پیٹھ پھیرکرجا رہے تھے تم نے اس وقت وفا کی جب لوگوں نے دھوکادیا۔ سب سے پہلا صدقہ جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس کو خوش کیا ہے اور صحابہ (رض) کو خوش کیا ہے وہ قبیلہ بنی طے کا صدقہ ہے جو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابن سعد والبخاری ومسلم والبیھقی)
37448- "مسند عمر" عن عدي بن حاتم قال: أتيت عمر فقلت: يا أمير المؤمنين! أتعرفني؟ قال: نعم والله! إني لأعرفك، آمنت إذ كفروا، وأقبلت إذ أدبروا، ووفيت إذ غدروا وإن أول صدقة بيضت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ووجوه أصحابه صدقة طيئ وجئت بها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش، حم" وابن سعد، "خ، م، ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عدی بن حاتم (رض)
٣٧٤٤٨۔۔۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں : جب بھی کسی نماز کا وقت آیا میں پہلے سے اس کے لیے تیار رہا ہوں اور پورے شوق سے اس نماز کو ادا کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37449- عن عدي بن حاتم قال: ما جاء وقت صلاة قط إلا وقد أخذت لها أهبتها، وما جاءت إلا وأنا إليها بالأشواق. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمروبن معاذ (رض)
٣٧٤٤٩۔۔۔ بریدہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمروبن معاذ (رض) کا پاؤں کٹ گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زخم پر تھوکا جس سے زخم ٹھیک ہوگیا۔ (رواہ ابن جریر)
37450- عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم تفل على جرح عمرو بن معاذ حين قطعت رجله فبرأ."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عقیل بن ابی طالب (رض)
٣٧٤٥٠۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عقیل (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابویزید ! ہم تمہیں مرحبا کہتے ہیں : تم نے کس حال میں صبح کی ہے عرض کیا : میں نے صبح خیریب سے کی ہے۔ اے ابوقاسم ! میں آپ کے حضور صبح کا سلام بجالاتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر والدیلمی)
37451- عن جابر أن عقيلا دخل على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له: مرحبا بك أبا يزيد! كيف أصبحت؟ قال: بخير، صبحك الله يا أبا القاسم. "كر" والديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عقیل بن ابی طالب (رض)
٣٧٤٥١۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ موتہ میں حضرت عقیل (رض) نے ایک کافر کو مقابلہ کے لیے للکارا جب کافر مقابلہ کے لیے اترآیا تو عقیل (رض) نے اسے قتل کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عقیل (رض) کو اس کی تلوار اور ڈھال انعام میں دی۔ (رواہ البیھقی وابن عساکر)
37452- عن جابر قال: بارز عقيل بن أبي طالب رجلا بمؤتة فقتله فنفله رسول الله صلى الله عليه وسلم سيفه وترسه. "ق. كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عقیل بن ابی طالب (رض)
٣٧٤٥٢۔۔۔ عبدالرحمن بن سابط کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عقیل (رض) سے فرمایا کرتے تھے : میں تجھ سے دوگنی محبت کرتا ہوں۔ ایک محبت تجھ سے کرتا ہوں اور دوسری محبت ابوطالب کی بھی تیرے لیے ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37453- عن عبد الرحمن بن سابط قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول لعقيل: إني لأحبك حبين: حبا لك وحبا لحب أبي طالب لك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت غلبہ بن زید (رض)
٣٧٤٥٣۔۔۔ عبدالمجید عیسیٰ عن ابیہ عن جدہ کی سند سے غلبہ بن زید جو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا : یا اللہ میں عزت صدقہ کرتا ہوں تیری مخلوق میں جو اسے لینا چاہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کو اپنی عزت صدقہ کرنے والا کہاں ہے ؟ حضرت غلبہ (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میں یہ ہوں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرلیا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
37454- عن عبد المجيد بن عيسى عن أبيه عن جده عن علبة بن زيد أخي بني حارثة رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: اللهم! إني تصدقت بعرضي على من ناله من خلقك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أين المتصدق بعرضه البارحة؟ فقام علبة فقال: يا رسول الله! أنا، قال: إن الله قد قبل صدقتك. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمارہ بن احمر مازنی (رض)
٣٧٤٥٤۔۔۔ عمارہ بن احمر مازنی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہسواروں نے ہمارے اوپر غارت گری ڈالی آپ کے آدمی ہمارے اونٹ لے گئے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا آپ نے اونٹ مجھے واپس کردیئے جب کہ آپ کے آدمیوں نے اونٹ ابھی تک تقسیم نہیں کیے تھے۔ (رواہ ابویعلی والبغوی وابن مندہ)
37455- عن عمارة بن أحمر المازني قال: أغارت علينا خيل النبي صلى الله عليه وسلم فطردوا الابل ، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأسلمت فردها علي ، ولم يكونوا اقتسموها بعد (ع والبغوي وابن منده).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر بن وھب جمحی (رض)
٣٧٤٥٥۔۔۔ عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ جنگ بدر کے بعد عمیربن وہب صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر میں مل بیٹھے عمیر قریش کے شیاطین میں سے ایک شیطان تھا اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو اذیتیں پہنچاتے تھے جب آپ مکہ میں تھے ہر وقت آپ کے پیچھے پڑے رہتے تھے عمیر کا بیٹا دھب بن عمیربدر کے قیدیوں میں سے تھا چنانچہ عمیر نے قلیب کنویں میں دفنائے جانے والے کفار اور پیش آنے والی مصیبت کا تذکرہ کیا صفوان نے کہا : اللہ کی قسم رؤساء قریش کے مرنے کے بعد زندگی میں لطف ومزہ نہیں رہا : عمیر نے بھی کہا : بخدا تم نے سچ کہا : اللہ کی قسم اگر مجھ پر قرض نہ ہوتا جب کہ میرے پاس ادائیگی کا سامان نہیں میرا عیال بھی ہے جس کے ضائع ہونے کا مجھے خدشہ ہے تو میں سوار ہو کر محمد تک پہنچ جاتا حتیٰ کہ اسے قتل کردیتا حالانکہ وہ میرے دادا کی اولاد ہے۔ میرا بیٹا مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ لہٰذا اسے چھڑالاؤ۔ تمہارا قرضہ میرے ذمہ ہے تمہاری طرف سے میں اسے ادا کروں گا تمہارا عیال میرے عیال کے مساوی ہوگا جب تک زندہ رہیں گے انھیں کسی چیز کی کمی نہیں لگے گی عمیر (رض) نے کہا : ہماری طے ہونے والی بات کو ہر صورت پوشیدہ رکھو بولا : میں یہی کروں گا۔

پھر عمیر نے اپنی تلوار منگوائی اسے تیز کیا اور زہر آلود کرکے نکل پڑا حتیٰ کہ مدینہ پہنچ گیا اس دورن حضرت عمر (رض) مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے اور غزوہ بدر کے متعلق آپس میں تبادلہ خیال کررہے تھے یکایک حضرت عمر (رض) کی نظرعمیر بن وہب پر پڑی جب اس نے مسجد کے دروازہ پر اپنا اونٹ بٹھایا عمیر نے اپنی تلوار گلے رکھی تھی عمر (رض) نے فرمایا : یہ کتا اللہ کا دشمن ہے گلے میں تلوار لٹکائے یہاں پہنچ گیا ہے عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور انھیں عمیر کے آنے کی خبردی آپ نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے تلوار کے حمائل سے عمیر کو پکڑا اور گھسٹتے ہوئے اندر لے آئے عمر (رض) نے انصار سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ اور انہی کے پاس بیٹھو کہیں یہ خبیث آپ کو کوئی گزندنہ پہنچائے چونکہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں جب حضرت عمر (رض) نے عمیر کو حمائل سے پکڑے ہوئے اندر داخل ہوئے اور آپ نے عمیر کو بحالت تذلیل دیکھا فرمایا اے عمر اسے چھوڑدو۔ اے عمیر میرے قریب آجاؤ عمیر قریب چلا گیا اور کہا : تمہاری صبح اچھی ہو (یہ جاہلیت کا سلام تھا) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمارا ” سلام “ سے اکرام کیا ہے جو کہ اہل جنت کا سلام ہے عمیر بولا : اللہ کی قسم اے محمد میں ابھی نیاہوں آپ نے فرمایا : اے عمیر کیوں آئے ہو ؟ وہ بولا : میں اس قیدی کو لینے آیا ہوں جو آپ کے قبضہ میں ہے اس کے متعلق احسان کرو آپ نے فرمایا : تم نے اپنے گلے میں ننگی تلوار کیوں لٹکا رکھی ہے ؟ وہ بولا : اللہ تعالیٰ تلواروں کا براکرے کیا تلوار بھی کسی چیز سے بےنیاز کرسکتی ہے فرمایا : تم نے سچ کہا بھلا آئے کیوں ہو ؟ جواب دیا : صرف اسی کام کے لیے آیا ہوں (جو ذخر کردیا ہے) ارشاد فرمایا : کیوں تم اور صفواب بن امیہ مقام حجر میں مشورہ کرنے نہیں بیٹھے تھے تم نے قلیب کنویں میں پڑے قریش کا ذکر کیا پھر تو نے کہا : مجھ پر قرضہ نہ ہوتا اور میرے عیال کی بات نہ ہوتی میں چل پڑتا حتیٰ کہ محمد کو قتل کردیتا چنانچہ مجھے قتل کرنے کی اجرت پر صفوان نے تمہارا اہل و عیال کو سنبھالنے کی ذمہ داری قبول کی حالانکہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہے عمیربولا : میں گواہی دیتا ہوں آپ اللہ کے رسول ہیں یا رسول اللہ ! ہم آپ کی تکذیب کرچکے وجہ اس کی صرف اتنی تھی کہ آپ ہمارے پاس آسمان کی خبریں لاتے تھے اور وحی کی بات ہم تک پہنچاتے تھے : جب کہ یہ معاہدہ صرف میرے اور صفوان کے درمیان طے پایا تھا تیسرے شخص کو قطعا اس کا علم نہیں تھا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس معاملہ کی خبر آپ کو صرف اور صرف میرے اور صفوان کے درمیان طے پایا تھا تیسرے کو قطعا اس کا علم نہیں تھا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس معاملہ کی خبر آپ کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ نے کی ہے تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے مجھے اسلام کی ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس راستے پر چلایا پھر عمیر (رض) نے شہادت حق کا اقرار کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بھائی کو دین کی تعلیم دو اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کا قیدی واگزار کرو صحابہ (رض) نے آپ کا حکم بجالایا پھر عمیر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانے کے لیے ازحد کوشش کی ہیں اور اللہ کے دین کا اقرار کرنے والوں کو سخت اذیتیں پہنچائی ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے مکہ واپس جانے کی اجازت دیں تاکہ میں اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دوں شاید اللہ تعالیٰ انھیں راہ راست پر لے آئے ورنہ میں انھیں اسی طرح اذیتیں پہچاؤں گا جس طرح آپ کے ساتھیوں کو پہنچاتا رہا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمیر (رض) کو اجازت دے دی چنانچہ وہ مکہ چلے گئے۔

جب عمیربن وہب (رض) صفوان کے پاس سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تھے صفوان قریش سے کہتا تھا : واقعہ بدر کے نعم البدل سے خوش ہوجاؤ۔ صفوان ان دنوں مسافروں سے عمیر (رض) کے متعلق سوال کرتا حتیٰ کہ ایک مسافر آیا اس نے صفوان کو عمیر کے قبول اسلام کی خبردی صفوان نے قسم کھائی کہ عمیر (رض) سے بات نہیں کرے گا اور اسے کوئی نفع نہیں پہنچائے گا جب عمیر (رض) مکہ پہنچے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور جو ان کی مخالفت کرتا اسے سخت اذیتیں دیتے چنانچہ ان کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ (رواہ اسحاق وابن جریر)
37456- عن عروة بن الزبير قال: جلس عمير بن وهب الجمحي مع صفوان بن أمية بعد مصاب أهل بدر بيسير في الحجر، وكان عمير شيطانا من شياطين قريش وكان ممن يؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ويلقون منه عناء وهم بمكة، وكان ابنه وهب بن عمير أسارى بدر، فذكر أصحاب القليب ومصابهم فقال صفوان: والله إنه ليس في العيش خير بعدهم، فقال له عمير: صدقت والله! أما والله لولا دين علي ليس له عندي قضاء وعيال أخشى عليهم الضيعة1 بعدي لركبت إلى محمد حتى أقتله فإن لي قبله علة2، ابني أسير في أيديهم، فاغتنمها صفوان منه فقال: فعلي دينك أنا أقضيه عنك وعيالك مع عيالي أسوتهم ما بقوا لا يسعهم شيء ويعجز عنهم، قال عمير: فاكتم علي شأني وشأنك، قال: أفعل، ثم إن عميرا أمر بسيفه فشحذ1 له وسم ثم انطلق حتى قدم المدينة فبينا عمر بن الخطاب في نفر من المسلمين في المسجد يتحدثون عن يوم بدر ويذكرون ما أكرمهم الله به وما أراهم من عدوهم إذ نظر عمر إلى عمير بن وهب حين أناخ بعيره على باب المسجد متوشحا السيف فقال: هذا الكلب عدو الله قد جاء متوشحا سيفه، فدخل عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره خبره، قال: فأدخله علي فأقبل عمر حتى أخذ بحمالة سيفه في عنقه فلببه2 بها وقال لرجال ممن كان معه من الأنصار: ادخلوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلسوا عنده واحذروا هذا الخبيث عليه فإنه غير مأمون، ثم دخل به على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر آخذ بحمالة سيفه في عنقه قال: أرسله يا عمر! ادن يا عمير! فدنا ثم قال: أنعموا صباحا - وكانت تحية أهل الجاهلية بينهم - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد أكرمنا الله بتحية خير من تحيتك يا عمير بالسلام تحية أهل الجنة، قال: أما والله إن كنت يا محمد لحديث عهد بها، قال ما جاء بك يا عمير؟ قال: جئت لهذا الأسير الذي في أيديكم فأحسنوا فيه، قال: فما بال، السيف في عنقك؟ قال: قبحها الله من سيوف وهل أغنت شيئا! قال: صدقني ما الذي جئت له! قال: ما جئت إلا لذلك، فقال: بلى قعدت أنت وصفوان بن أمية في الحجر فذكرتما أصحاب القليب من قريش ثم قلت: لولا دين علي وعيالي لخرجت حتى أقتل محمدا، فتحمل لك صفوان بدينك وعيالك على أن تقتلني له، والله حائل بيني وبينك! فقال عمير: أشهد أنك رسول الله، قد كنا يا رسول الله نكذبك بما كنت تأتينا من خبر السماء وما ينزل عليك من الوحي، وهذا أمر لم يحضره إلا أنا وصفوان، فوالله إني لأعلم أن ما أتاك به إلا الله! فالحمد لله الذي هداني للإسلام وساقني هذا المساق! ثم تشهد شهادة الحق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقهوا أخاكم في دينه وأقرؤه وعلموه القرآن وأطلقوا له أسيره، ففعلوا، ثم قال: يا رسول الله! إني كنت جاهدا في إطفاء نور الله، شديد الأذى لمن كان على دين الله، وإني أحب أن تأذن لي فأقدم مكة فأدعوهم إلى الله وإلى الإسلام، لعل الله أن يهديهم، وإلا آذيتهم في دينهم كما كنت أوذي أصحابك في دينهم، فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فلحق بمكة، وكان صفوان حين خرج عمير بن وهب يقول لقريش: أبشروا بوقعة تأتيكم الآن في أيام تنسيكم وقعة بدر! وكان صفوان يسأل عنه الركبان حتى قدم راكب فأخبره بإسلامه، فحلف أن لا يكلمه أبدا ولا ينفعه بنفع أبدا، فلما قدم عمير مكة أقام بها يدعو إلى الإسلام ويؤذي من خالفه أذى شديدا، فأسلم على يديه أناس كثير.

"إسحاق وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس بن مرداس (رض)
٣٧٤٥٦۔۔۔ اصمعی کی روایت ہے کہ نائل بن مطرف بن عباس اپنے دادا عباس سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ نے ان سے مطالبہ کیا کہ دثینہ مقام میں ان کے لیے کنویں کھودیں چنانچہ عباس (رض) نے کنواں کھودا شرط یہ طے پائی کہ ان کے لیے مسافروں کا بچا ہوا پانی ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
37457- الأصمعي حدثنا نائل بن مطرف بن العباس بن مرداس السلمي عن أبيه عن جده العباس أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فطلب إليه أن يحفره ركية بالدثينة1 فأحفره إياها على أنه ليس له منها إلا فضل ابن السبيل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیینہ (رض)
٣٧٤٥٧۔۔۔ عامربن ابومحمد کی راویت ہے کہ عیینہ (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اے امیرالمومنین یا آپ اپنے لیے پہرے کا بند و بست کریں یا مدینہ سے نکل جائیں چونکہ مجھے خوف ہے کہ غیر مسلموں میں سے کوئی شخص آپ کو اس جگہ زخمی نہ کردے عیینہ (رض) نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھا جہاں ابولؤلؤنے آپ (رض) کو زخم لگایا تھا : جب عمر (رض) زخمی کئے گئے فرمایا : عیینہ نے کیا کیا ؟ یہاں بھی ایک رائے تھی۔ (رواہ ابن سعد)
37458- عن عامر بن أبي محمد قال عيينة لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين! احترس أو أخرج العجم من المدينة، فإني لا آمنك أن يطعنك رجل منهم في هذا الموضع، ووضع يده في الموضع الذي طعنة أبو لؤلؤة ، فلما طعن عمر قال : ما فعل عيينة ؟ قالوا : بالعجم أو بالحاجر ، فقال : إن هناك لرأيا (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیاش بن ابی ربعیہ (رض)
٣٧٤٥٨۔۔۔ عبداللہ بن عباس بن ابی ربیعہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آل ربیعہ کے کسی گھر میں داخل ہوئے کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لائے تھے یا کسی اور کام کے لیے اسماء بنت مخرمہ تممیہ یعنی ام جلاس جو کہ عیاش بن ابی ربیعہ ہیں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے وصیت نہیں کرتے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی بہن کے پاس جاؤجب کہ وہ تیرے پاس نہیں آنا چاہتی اپنی بہن کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو وہ تمہارے لیے پسند کرتی ہو پھر عیاش (رض) کی والاد میں سے ایک بچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا ام جلاس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بچے کے کسی مرض کا ذکر کیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچے پر دم کرنا شروع کردیا اور آپ اس پر پھونک مار دیتے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچے پر پھونک مارتے اسی طرح آپ پر پھونک مارتا گھروالوں میں سے بعض نے بچے کو ایسا کرنے سے روکنا چاہا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر والوں کو منع کردیا یعنی بچے کو اپنے حال پر رہنے دو ۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37459- عن عبد الله بن عياش بن أبي ربيعة قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض بيوت آل ربيعة إما لعيادة مريض وإما لغير ذلك، فقالت له أسماء بنت مخرمة التميمية وكانت أم الجلاس وهي أم عياش بن أبي ربيعة: يا رسول الله! ألا توصيني؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أم الجلاس! ائتي إلى أختك ما تحبين أن تأتي إليك، وأحبي لأختك ما تحبين لك، ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي من ولد عياش وكانت أم الجلاس ذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم مرضا بالصبي أو علة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يرقى الصبي ويتفل عليه وجعل الصبي يتفل على رسول الله صلى الله عليه وسلم كما تفل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل بعض أهل البيت ينهى الصبي ويكفهم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك."ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عیاش بن ابی ربعیہ (رض)
٣٧٤٥٩۔۔۔ عطا کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیاش بن ابی ربیعہ کے لیے دعا فرمائی اور آپ رکوع میں تھے جب رکوع سے سر مبارک اوپر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہوگئے فرمایا : یا اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ ولید بن ولید بن مغیرہ سلمہ بن ہشام اور اپنے کمزور بندوں کو نجات عطا فرما۔ (رواہ عبدالرزاق)
37460- عن عطاء قال: دعا النبي صلى الله عليه وسلم لعياش بن أبي ربيعة وركع، فلما رفع رأسه من الركعة قال وهو قائم: اللهم! انج عياش بن أبي ربيعة والوليد بن الوليد بن المغيرة وسلمة بن هشام والمستضعفين من عبادك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامربن واثلہ ابوطفیل (رض)
٣٧٤٦٠۔۔۔ مہدی بن عمرانن حنفی کی روایت ہے کہ میں ننے عامر بن واثلہ ابوطفیل (رض) کو فرماتے سنا : میں بدر کے موقع پر (نابالغ) لڑکا تھا اس وقت میں تہبند اپنے اوپر کس لیتا تھا اور میں پہاڑ سے نیچے ہموار زمین کی طرف گوشت منتقل کرتا تھا۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر وقال : ھذا یضاوھم)
37461- عن مهدي بن عمران الحنفي قال: سمعت أبا الطفيل يقول: كنت يوم بدر غلاما قد شددت علي الإزار وأنقل اللحم من الجبل إلى السهل."يعقوب بن سفيان، كر وقال: هذا أيضا وهم".
tahqiq

তাহকীক: