কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৪৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عامربن واثلہ ابوطفیل (رض)
٣٧٤٦١۔۔۔ حضرت ابوطفیل (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے میں اس وقت لڑکا تھا اور تہبند۔ (ازار) پہنتا تھا۔ (رواہ البخاری فی تاریخ وابن عساکر)
37462- عن أبي الطفيل قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا غلام في إزار. "خ في تاريخه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبدالرحمن بن صخرابوہریرہ (رض)
٣٧٤٦٢۔۔۔” مسند ابوہریرہ “ ہشام بن حسان محمد کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے محمد کہتے ہیں : ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انھوں نے کتان کے باریک دو کپڑے پہن رکھے تھے پھر انھوں نے ایک اور کپڑے سے ناک صاف کی اور فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ابوہریرہ کو کتان کے کپڑے سے ناک صاف کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر اور عائشہ (رض) کے حجرے کے درمیان غشی طاری ہوجانے کی وجہ سے گرجاتا تھا غشی مجھے بھوک کی وجہ سے طاری ہوتی تھی چنانچہ کوئی شخص میرے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جاتا میں کہتا : مجھے مرگی نہیں بلکہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں ابن عفان اور بنت غزوان کا مزدور ہوتا تھا میری مزدوری صرف یہ تھی کہ میں نوبت بہ نوبت اونٹ پر سواری کروں گا اور پیٹ بھر کر کھانا کھاؤں گا جب وہ کسی جگہ اترتے میں ان کی خدمت کرتا اور جب کوچ کرتے میں ان کی سواریاں پیچھے سے ہنکاتا تھا ایک دن بنت غزوان بولی : تم اسے کھڑے کھڑے سوار کرو اور ننگے پاؤں ساتھ چلو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنت غزوان سے میری شادی کرادی میں نے یہ بات اسے یاد کرائی محمد کہتے ہیں : ابوہریرہ (رض) مزاح بھی کرتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37463- "مسند أبي هريرة" أنبأنا هشام بن حسان عن محمد عن أبي هريرة قال: كنا عنده وعليه ثوبان ممشقان فتمخط ثم مسح أنفه بثوبه ثم قال: الحمد الله يتمخط أبو هريرة في الكتان، لقد رأيتني وأ؟؟؟ ي لأخر فيما بين منبر النبي صلى الله عليه وسلم وحجرة عائشة مغشيا علي من الجوع فيجيء الرجل فيقعد على صدري فأقول: ليس بي ذاك إنما هو من الجوع، وقال: إني كنت أجيرا لابن عفان وابنة غزوان على عقيبة رجلي وشبع بطني أخدمهم إذا نزلوا وأسوق بهم إذا ارتحلوا ، فقالت يوما : لتركبنه قائما ولتردنه حافيا ، فزوجنيها الله بعد فقلت لتردنه حافيا ولتركبنه وهو قائم ! قال : وكانت في أبي هريرة مزاحة (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبدالرحمن بن صخرابوہریرہ (رض)
٣٧٤٦٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : کوئی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقررکردہ ایک کلمہ یادوکلموں یا تین یا چار یاپانچ کلمات کو حاصل کرلے اور اپنی چادر کے کونے میں باندھ لے پھر ان پر عمل کرے اور دوسروں کو سکھائے ؟ میں نے عرض کیا : اس کے لیے میں تیار ہوں۔ میں نے اپنی چادر پھیلادی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان فرمانے لگے حتیٰ کہ جب خاموش ہوگئے میں نے اپنی چادر لپیٹ کر اپنے سینے سے لگالی مجھے امید ہے کہ اس کے بعد میں نے آپ سے جو حدیث بھی سنی ہے مجھے نہیں بھولی۔ (رواہ ابن عساکر)
37464 عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : هل من رجل يأخذ مما فرض الله ورسوله كلمة أو ثنتين أو ثلاثا أو أربعا أو خمسا فيجعلهن في طرف ردائه فيعمل بهن ويعلمهن ؟ قلت : أنا وبسطت ثوبي وجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث حتى سكت ، فضممت ثوبي إلى صدري ، فاني أرجو أن أكون لم أنس حديثا سمعته منه بعد (كر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبدالرحمن بن صخرابوہریرہ (رض)
٣٧٤٦٤۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ جب وہ (ابوہریرہ (رض)) مدینہ آئے تو ان کا غلام جو ان کے ساتھ تھا کہیں گم ہوگیا رات کی تاریکی میں اس کا کہیں پتہ نہ چلا اور راستے سے بھٹک گیا۔ ابوہریرہ (رض) بولے یالیلۃ من طولھا و عنائھسا

علسی انھا من دارۃ الکفرنجت

اے تاریک رات تیرا طول اور تیری شفقت بہت ہے لیکن اسی رات نے مجھے دارکفر سے نجات دی ہے چنانچہ ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے یکایک ان کا غلام سامنے سے نمودار ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! یہ رہا تمہارا غلام ابوہریرہ (رض) بولے : یارسول اللہ ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں یہ خالصتہً للہ آزاد ہے۔ (رواہ البزار)
37465 عن أبي هريرة أنه لما أقبل المدينة ضل معه غلامه فتعسف الليل أجمع لا يدري أين يذهب فقال : يا ليلة من طولها وعنائها على أنها من دارة الكفر نجت فبينما هو جالس عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أقبل غلامه فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يا أبا هريرة ! هذا غلامك ، قال : فاني أشهدك يا رسول الله أنه لله عزوجل
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عتبہ بن عبدسلمی (رض)
٣٧٤٦٥۔۔۔ عتبہ بن عبدسلمی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کپڑے طلب کیے آپ نے مجھے دوخیش پہنائے چنانچہ میں نے دیکھا کہ میرے ساتھیوں میں سب سے زیادہ کپڑا میرے پاس تھا (رواہ ابن عساکر)
37466- عن عتبة بن عبد السلمي قال: استكسيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكساني، خيشين2، ولقد رأيتني ألبسهما وأنا أكسى أصحابي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عتبہ بن عبدسلمی (رض)
٣٧٤٦٦۔۔۔ عتبہ بن عبدسلمی (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھوٹی سی تلوار عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا : اگر تم اس سے ضرب نہ لگاسکو تو اس سے کچوکے تو لگاسکتے ہو۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن عساکر)
37467- عن عتبة بن عبد السلمي قال: أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم سيفا قصيرا قال: إن لم تستطع أن تضرب به فاطعن به طعنا. "خ" في تاريخه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عتبہ بن غزوان (رض)
٣٧٤٦٧۔۔۔ حضرت عتبہ بن غزوان (رض) کہتے ہیں میں نے اپنے آپ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات کا ساتواں دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)

فائدہ :۔۔۔ یعنی چھ صحابہ (رض) اور تھے اور ساتویں حضرت عتبہ بن غزوان (رض) تھے یا انھوں نے ساتویں نمبر پر اسلام قبول کیا۔
37468- عن عتبة بن غزوان قال: لقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سابع سبعة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عاصم بن ثابت بن ابی افلح (رض)
٣٧٤٦٨۔۔۔ عاصم بن عمر کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) فرماتے تھے : اللہ تعالیٰ مومن کی حفاظت فرمائے عاصم بن ثابت ابن ابی فلح (رض) نے ندر مان رکھی تھی کہ وہ کسی مشرک کو نہیں چھوئیں گے اور نہ ہی کوئی مشرک انھیں کبھی چھوئے گا چنانچہ بعد از وفات اللہ تعالیٰ نے ان کا بھرپوردفاع کیا جیسا کہ زندگی میں ان کا دفاع کیے رکھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والبیھقی فی الدلائل)
37469- عن عاصم بن عمر قال: كان عمر يقول: يحفظ الله المؤمن، وكان عاصم بن ثابت بن أبي الأقلح نذر أن لا يمس مشركا ولا يمسه مشرك: فمنعه الله بعد وفاته كما امتنع منهم في حياته."ش، ق" في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف الفاء۔۔۔ حضرت فروہ بن عامر جذامی (رض)
٣٧٤٦٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فروہ بن عامر جذامی (رض) کو ممیرے پاس بھیجا انھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سفید خچر ہدیہ کیا اسلام قبول کرنے سے پہلے فروہ (رض) روم کے بادشاہ قیصر کے عرب کے بعض زیرنگیں علاقوں پر عامل تھے ان کا ٹھکانا عجان تھا جب روم کے بادشاہ کو ان کے اسلام کی خبر پہنچی تو اس نے انھیں قتل کروادیا۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37470- عن ابن عباس قال: بعث إلي النبي صلى الله عليه وسلم فروة بن عامر الجذامي بإسلامه وأهدى له بغلة بيضاء وكان عاملا لقيصر ملك الروم على من يليه من العرب وكان منزله عمان وما حولها، فلما بلغ الروم ذلك من أمره قتلوه."ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فیروزدیلمی (رض)
٣٧٤٧٠۔۔۔ عبداللہ دیلمی کی روایت ہے کہ مجھے ابی فیروز نے حدیث سنائی ہے کہ یمن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث میں حاضر ہونے والے وفد میں میں بھی شامل تھا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ ہمیں جانتے ہیں اور ہم کن لوگوں کے درمیان سے آئے ہیں آپ یہ بھی جانتے ہیں ہمارا تعلق کس علاقہ سے ہے آپ یہ بھی جانتے ہیں ہمارا امیر کون ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ اور اس کا رسول وفد بولا : ہمیں کافی ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37471- عن عبد الله الديلمي قال: حدثني أبي فيروز قال: كنت في وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن فقلت: يا رسول الله! أنا من قد علمت: وجئنا من بين ظهراني من قد علمت، ونحن حيث علمت فمن ولينا؟ قال: الله ورسوله، قالوا: حسبنا. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فیروزدیلمی (رض)
٣٧٤٧١۔۔۔ کثیر بن ابی الزقاق کہتے ہیں : فیروز دیلمی (رض) حضرت عائشہ (رض) کے پاس سے گذرگئے اور ان کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے وہ شام میں حضرت معاویہ (رض) کے پاس جانا چاہتے تھے جب شام سے واپس لوٹے اور حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اے ابن دیلمی : تم میرے پاس کیوں نہیں آئے اور یوں گزر گئے کیا تم معاویہ سے ڈرتے تھے ؟ اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے نہ سنا ہوتا کہ کذاب اور اس کا قاتل ایک ہی جگہ میں داخل نہیں ہوتے “ تو میں تمہیں اندر آنے کی اجازت نہ دیتی۔ (رواہ ابن عساکر)
37472۔۔۔عن كثير بن أبي الزقاق : مر فيروز الديلمي يريد الشام إلى معاوية فلم يدخل على عائشة ، فلما أقبل من الشام دخل عليها فقالت : يا ابن الديلمي ! ما منعك أن تمر بي أرهبة معاوية ؟ لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا يدخل الكذاب وقاتله مدخلا واحدا ، ما أذنت لك (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فیروزدیلمی (رض)
٣٧٤٧٢۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جس رات اسود عنسی قتل کیا گیا آسمان سے خبر آئی آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اسود آج رات قتل کردیا گیا ہے اسے ایک مبارک شخص نے قتل کیا ہے جو مبارک گھر کا فرد ہے آپ سے پوچھا گیا وہ کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : وہ فیروز دیلمی (رض) ہے۔ (رواہ الدیلمی)
37473۔عن ابن عمر قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم الخبر من السماء الليلة التي قتل فيها الاسود العنسى فخرج علينا فقال : قتل الاسود البارحة ، قتله رجل مبارك من أهل بيت مباركين ، فقيل : ومن هو ؟ قال : فيروز الديلمي (الديلمي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فیروزدیلمی (رض)
٣٧٤٧٣۔۔۔” مسند عمر “ حرمازی کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) فیروز دیلمی (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے : امابعد ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم شہد کے ساتھ مغز کھانے میں مشغول رہتے ہو جو نہی میرا خط پہنچے فورا میرے پاس آجاؤ۔ چنانچہ فیروز (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت کی حضرت عمر (رض) نے اجازت دی لیکن اندر داخل ہونے میں قریش کے ایک نوجوان نے مزاحمت کردی فیروز (رض) نے ہاتھ اٹھا کر طمانچہ دے مارا قریشی حضرت عمر (رض) کے پاس خون آلودناک لیے داخل ہوا عمر (رض) نے پوچھا : یہ کس نے کیا : جواب دیا : فیروز دیلمی نے اور وہ دروازے پر کھڑے ہیں حضرت عمر (رض) نے فیروز (رض) کو داخل ہونے کی اجازت دی وہ اندر داخل ہوئے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اے فیروز یہ کیا معاملہ ہے ؟ جواب دیا : امیرالمومنین ! ہمارا بادشاہ کے ساتھ نیا نیا بارانہ ہے آپ نے مجھے خط لکھا مگر اسے خط نہیں لکھا مگر اسے خط نہیں لکھا آپ نے مجھے داخل ہونے کی اجازت دی اور اسے اجازت نہ دی وہ میری اجازت سے قبل داخل ہونا چاہتا تھا تو پھر مجھ سے وہ ہوا جس کی آپ کو خبر ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم سے قصاص لیا جائے گا فیروز (رض) بولے : کیا اس کے سوا کوئی چارہ کا رہے۔ فرمایا اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں فیروز (رض) گھنٹوں کے بل بیٹھ گئے اور نوجوان قصاص لینے کھڑا ہوگیا حضرت عمر (رض) نے لڑکے سے کہا : اے نوجوان ذرہ ٹھہروتا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صبح فرمایا : آج رات اسودعنسی کذاب قتل کردیا گیا ہے۔ اسے بندہ صالح فیروز دیلمی نے قتل کیا ہے۔ اے نوجوان یہ سن لینے کے بعد بھی تم اس شخص سے قصاص لینے کے لیے آمادہ ہو۔ نوجوان بولا : میں نے یہ سننے کے بعد اسے معاف کردیا فیروز (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا : اس کے بعد میں اپنے صنیع سے باہر نکل گیا : فرمایا جی ہاں فیروز (رض) نے کہا : میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میری تلوار گھوڑا اور میرے مال میں سے تیس ہزار اس نوجوان نے لیے ہبہ ہیں پھر بولے : اے قریشی ! تو نے معاف کرکے اجر وثواب حاصل کیا اور مال لیتا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37474۔(مسند عمر) عن الحرمازي قال : كتب عمر بن الخطاب إلى فيروز الديلمي : أما بعد فقد بلغني أنه قد شغلك أكل اللباب بالعسل ، فإذا أتاك كتابي هذا فاقدم على بركة الله فاغز في سبيل الله ، فقدم فيروز فأستأذن على عمر ، فاذن له ، فزاحمه فتى من قريش ، فرفع فيروز يده فلطم أنف القرشي ، فدخل القرشي على عمر مستدميا ، فقال له عمر : ما فعل بك ؟ قال : فيروز وهو على الباب ، فأذن لفيروز بالدخول فدخل ، فقال : ما هذا يا فيروز ؟ قال : يا أمير المؤمنين ! إنا كنا حديث عهد بملك وإنك كتبت إلي ولم تكتب إليه وأذنت لي بالدخول ولم تأذن له ،فأراد أن يدخل في أذني قبلي فكان مني ما قد أخبرك ، قال عمر : القصاص : قال قيروز : لابد ، قال : لابد ، فجثى فيروز على ركبتيه وقام الفتى ليقتص منه ، فقال له عمر : على رسلك أيها الفتى حتى أخبرك بشئ سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة وهو يقول : قتل الليله الاسود العنسي الكذاب قتله العبد الصالح فيروز الديلمي ، أفترى مقتصا منه بعد إذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال الفتى : قد عفوت عنه بعد إذ أخبرتني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا ، فقال فيروز لعمر : أفترى هذا مخرجي مما صنعت إقراري له وعفوت غير مستكره ؟ قال : نعم ، قال فيروز : فأشهدك أن سيفي وفرسي وثلاثين ألفا من مالي هبة له ، قال : عفوت مأجورا يا أخا قريش وأخذت مالا (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فرات بن حیان (رض)
٣٧٤٧٤۔۔۔ حارثہ بن مضرب ، فرات بن حیان (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرات (رض) کو قتل کرنے کا حکم دیا چونکہ فرات (رض) ابوسفیان کے جاسوس تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ فرات (رض) انصار کے حلقہ کے پاس گزرے اور کہا : میں مسلمان ہوں ایک انصاری بولا : یا رسول اللہ ! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کردیتے ہیں ان میں سے ایک فرات بن حیان بھی ہے۔ (رواہ ابونعیم فی الحلیۃ)
37475- عن حارثة بن مضرب عن فرات بن حيان وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أمر بقتله وكان عينا لأبي سفيان وحليفا فمر على حلقة من الأنصار فقال: إني مسلم، فقال رجل منهم: يا رسول الله! يقول: إني مسلم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن منكم رجالا نكلهم إلى إيمانهم، منهم الفرات بن حيان. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف قاف۔۔۔ حضرت قتادہ بن نعمان (رض)
٣٧٤٧٥۔۔۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) قتادہ بن نعمان (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں۔ (ابوسعید خدی (رض) قتادہ (رض) کے ماں شریک بھائی تھے) کہ قتادہ (رض) کی آنکھ غزوہ احد کے دن جاتی رہی وہ اپنی آنکھ باتھ میں اٹھائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آنکھ اپنی جگی رکھی اور آنکھ بالکل درست ہوگئی۔ (رواہ البیھقی فی وابن و عساکر)
37476- عن أبي سعيد الخدري عن قتادة بن النعمان وكان أخاه لأمه أن عينه ذهبت يوم أحد فجاء بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فردها فاستقامت في. "ق.... كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن مکشوح مراری (رض)
٣٧٤٧٦۔۔۔ محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت کی روایت ہے کہ حضرت عمروبن معدیکرب (رض) نے قیس بن مکشوح سے کہا : اے قیس تم اپنی قوم کے آج سردار ہوشنید ہے کہ قریش کا ایک شخص ” جیسے محمد کہا جاتا ہے “ حجاز میں اس کا ظہور ہوا ہے وہ کہتا ہے کہ میں سنی ہوں لہٰذا ہمارے ساتھ اس کے پاس چلو تاکہ ہم اس کے علم کا جائزہ ہیں ، اگرچہ وہ واقعۃ نبی ہے جیسا کہ اس کا دعوی ہے تو حقیقت حال ہمارے اوپر مخفی نہیں رہے گی جب ہم اس سے ملاقات کریں گے سب کچھ واضح ہوجائے گا اور ہم اس کی پیروی کرلیں گے اگر معاملہ اس کے خلاف ہوتب بھی ہم اس کے علم کا جائزہ لے لیں گے اگر تمہاری قوم کا کوئی شخص اس تک رائے کو نامعقول سمجھا۔ چنانچہ حضرت عمروبن معدیکرب (رض) اپنی قوم کے دس آدمیوں کے ساتھ مدینہ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرکے اپنے وطن واپس چلے گئے جب قیس بن مکثوح (رض) کو حضرت عمرو (رض) کے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کی خبر ہوئی تو قیس (رض) نے انھیں دھمکی دی اور کہا : اس نے میری مخالفت کی ہے اور میری رائے کی مطلق پاسداری نہیں کی۔ جب کہ حضرت عمرو (رض) کہتے جارہے تھے : اے قیس میں نے تجھے خبردی ہے کہ فروہ بن مسیک کی تابع فرمان دم ہے فروہ نے قیس بن مکشوح کی تلاش شروع کردی بالاخر قیس بن مکشوح اپنے ملک سے بھاگ سے بھاگ نکلا اور اس کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ جب اسود عنسی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو قیس اس سے خوفزدہ ہو کر اس کے پاس آنے لگا اسے سلام کرتا اور اس کی گھات میں لگارہتا اور اس کا اظہار کسی سے نہ کرتا۔ حتیٰ کہ ایک دن عنسی کے پاس داخل ہوا دراں حالیکہ فیروز دیلمی (رض) نے اس کی گردن میں چادر ڈال رکھی تھی اور اس کا چہرہ گردن کی طرف موڑ رکھا تھا بالآخر اسے قتل کردیا اور قیس نے اس کا سرکاٹ کر اس کے حمایتیوں کی طرف پھینک دیا پھر قیس عنسی کی قوم سے خوفزدہ ہوا اور داذویہ پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا تاکہ عنسی کی قوم کو خوش کردے داذویہ ان لوگوں میں سے تھا جو عنسی کے قتل میں شامل تھے جب ابوبکر (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے مہاجرین ابی امیہ کو خط لکھا کہ قیس کو بیریوں میں جکڑ کر میرے پاس بھیج دو چنانچہ اسے بھیج دیا حضرت عمر (رض) نے اس کے قتل کے متعلق بات کی اور فرمایا : میں اسے بندہ صالح یعنی داذویہ کے بدلہ میں قتل کروں گا یہ تو سرکش چور ہے قیس نے قسمیں اٹھانی شروع کردیں میں نے اسے قتل نہیں کیا ابوبکر (رض) نے قیس سے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پچاس قسمیں لیں کہ میں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اس کے قاتل کا مجھے علم ہے پھر ابوبکر (رض) نے اسے معاف کردیا حضرت عمر (رض) اس سے فرمایا کرتے اگر ابوبکر (رض) نے تجھے معاف نہ کیا ہوتا میں تجھے داذیہ کے بدلہ میں قتل کردیتا قیس جواب دیتا امیرالمومنین ! اللہ کی قسم آپ نے مجھے پہچان لیا تھا جو شخص بھی یہ بات آپ کے منہ سے سنے گا وہ مجھ پر جرات کرے گا اور مجھے قتل کردے گا حالانکہ میں اس کے قتل سے بری ہوں۔ عمر (رض) اس کے بعد اس کے ذکر سے باز رہتے تھے عمر (رض) جب اپنے لشکروں کو بھجتے تھے تو قیس سے مشورہ لیتے اور اسے کوئی سرکاری عہدہ سونپتے تھے اور فرماتے تھے ! یہ فنون حرب کا ماہر ہے لیکن امانتدار ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
37477- عن محمد بن عمارة بن خزيمة بن ثابت قال: كان عمرو بن معد يكرب قال لقيس بن مكشوح المرادي حين انتهى إليهم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا قيس! أنت سيد قومك اليوم، وقد ذكر لنا أن رجلا من قريش يقول له "محمد" خرج بالحجاز يقول: إنه نبي فانطلق بنا إليه حتى نعلم علمه. فإن كان نبيا كما يقول فإنه لن يخفى علينا إذا لقيناه فاتبعناه، وإن كان غير ذلك علمنا علمه ، فانه إن سبق إليه رجل من قومك سادنا وترأس علينا وكنا له أذنابا ! فأبى عليه قيس وسفه رأيه ، فركب عمرو بن معد يكرب في عشرة من قومه حتى قدم المدينة فأسلم ، ثم انصرف إلى بلاده ، فلما بلغ قيس بن مكشوح خروج عمرو أوعد عمرا وتحطم وقال : خالفني وترك رأيي ، وجعل عمرو يقول : يا قيس ! قد خبرتك أنك تكون ذنبا تابعا لفروة بن مسيك ، وجعل فروة يطلب قيس ابن مكشوح كل الطلب حتى هرب من بلاده وأسلم بعد ذلك ، ولما ظهر العنسي خافه قيس على نفسه فجعل يأتيه ويسلم عليه ويرصد له في نفسه ما يريد ولا يبوح به إلى أحد حتى دخل عليه وقد وثق فيروز الديلمي عنقه وجعل وجهه في قفاه وقتله فجز قيس رأسه ورمى به إلى أصحابه ، ثم خاف من قوم العنسى فعدا على داذويه فقتله ليرضيهم بذلك ، وكان داذويه فيمن حضر قتل العنسي أيضا فكتب أبو بكر إلى المهاجر بن أبي أمية أن ابعث إلي بقيس في وثاق ، فبعث به إليه فكلمه عمر في قتله وقال ، اقتله بالرجل الصالح يعني داذويه فان هذا لص عاد ، فجعل قيس يحلف ما قتله ، فأحلفه أبو بكر خمسين يمينا عند منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما قتلته ولا أعلم له قاتلا ، ثم عفا عنه ، وكان عمر يقول : لولا ما كان من عفو أبي بكر لقتلتك بداذويه ، فيقول قيس : يا أمير المؤمنين ! قد والله أشعرتني ! ما يسمع هذا منك أحد إلا اجترأ علي وأنا براء من قتله ، فكان عمر يكف بعد عن ذكره ويأمر إذا بعثه في الجيوش أن يشاور ولا يجعل إليه عقد أمر ويقول : إن له علما بالحرب وهو غير مأمون (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٧٧۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا جن پر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کو امیر مقرر کیا لشکر نے جہاد کیا اور اس دوران (اشیاء خوردونوش کی قلت پڑجانے کی وجہ سے ) قیس بن سعد (رض) نے نو (٩) سواریاں ذبح کرکے کھائیں واپسی پر ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا ساحل پر انھیں بڑی محھلی (وہیل) اڑی ہوئی ملی تین دن تک اس پاس ٹھہرے اور خوب کھائی مچھلی کے گوشت اور چرجی سے مشکیزے بھرلیے جب مدینہ واپس پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مچھلی کا ذکر کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ہمیں اس کا علم ہوجاتا اور ہم اسے پالیتے تو ہم اس کے پاس کے پاس سے نہ ہٹتے ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس ہو۔ شرکائے لشکر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیس (رض) کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : سخاوت تو اس گھر کی عادت ہے۔ (رواہ ابوبکر فی العیلانیات عن جابر بن سمرۃ نحوہ وابن عساکر)
37478- عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثهم في بعث عليهم قيس بن سعد بن عبادة فجهدوا فنحر لهم تسع ركائب، ومروا بالبحر فوجدوه قد ألقى دابة حوتا عظيما فمكثوا عليه ثلاثة أيام يأكلون منه ويغترفون شحمه في قربهم، فلما قدموا ذكروا الحوت لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو نعلم أنا ندركه لم يروح لأحببنا لو كان عندنا منه، وذكروا شأن قيس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الجود من شيمة أهل ذلك البيت. "أبو بكر في الغيلانيات عن جابر بن سمرة نحوه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٧٨۔۔۔ رافع بن حدیج (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوعبیدہ (رض) (غزوہ ذات الخبط کے دوران) قیس (رض) کے پاس آئے اور ان کے ساتھ عمر (رض) بھی تھے قیس (رض) سے کہا : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں کہ سواریاں ذبح مت کرو بالاآخر سواریاں ذبح کردی گئیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو فرمایا : یہ تو سخاوت کے گھر میں رہتا ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا وابن عساکر)
37479- عن رافع بن خديج قال: أقبل أبو عبيدة ومعه عمر بن الخطاب فقال لقيس بن سعد: عزمت عليك أن لا تنحر، فلما نحروا بلغ النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنه في بيت جود - يعني في غزوة الخبط. "ابن أبي الدنيا كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٧٩۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انصار کا جھنڈا حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) اٹھاتے تھے ان کا شمار ذی رائے لوگوں میں ہوتا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
37480- عن ابن شهاب قال: كان حامل راية الأنصار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قيس بن سعد بن عبادة، وكان من ذوي الرأي من الناس. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٨٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعد (رض) کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں پولیس افسر کا عہدہ تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37481- عن أنس قال: كان قيس بن سعد من النبي صلى الله عليه وسلم بمنزلة صاحب الشرطة من الأمير. "كر".
tahqiq

তাহকীক: