কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৪৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٨١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے ایک روایت میں ہے جب مکہ تشریف لائے تو قیس بن سعد (رض) پولیس افسر کے طور پر آگے آگے تھے سعد (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی کہ قیس کو اس عہدہ سے ہٹادیں چونکہ سعد (رض) کو خوف دامنگیر تھا کہ انھیں کوئی مسئلہ نہ پیش آجائے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پیچھے ہٹا دیا۔ (رواہ ابویعلی وابن مندہ وابن عساکر)
37482- عن أنس قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة - وفي لفظ: مكة - كان قيس بن سعد على مقدمته بمنزلة صاحب الشرطة، فكلم سعد النبي صلى الله عليه وسلم في قيس أن يصرفه عن الموضع الذي وضعه مخافة أن يقدم على شيء، فصرفه. "ع" وابن منده، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٤٨٢۔۔۔ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ (رض) کی روایت ہے کہ دس سال تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں رہا۔ (رواہ ابن عساکر)
37483- عن قيس بن سعد بن عبادة قال: صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قثم بن عباس (رض)
٣٧٤٨٣۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں سب سے آخر میں آنے والے قثم بن عباس ہیں۔ (رواہ احمد بن حنبل والضیاء)
37484- عن علي قال: أحدث الناس عهدا برسول الله صلى الله عليه وسلم قثم بن عباس. "حم، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن کعب (رض)
٣٧٤٨٤۔۔۔ عبدالرحمن بن عابس نحغی قیس بن کعب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ وفد کی شکل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیس (رض) کے ساتھ ان کا بھائی ارطاۃ بن کعب (رض) اور ارقم (رض) بھی تھے یہ دونوں حضرات اپنے زمانہ کے حسین ترین لوگوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلا کی قوت گویائی عطا کر رکھی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو دعوت السام دی انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ نے ان کے لیے دعائے خیر کی اور ارطات (رض) کے لیے نوشۃ تحریر کیا اور انھیں ایک جھنڈا بھی عطا کیا۔ چنانچہ حضرت ارطات (رض) یہی جھنڈٖا لے کر جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے۔ (رواہ ابن شاھین بسند ضعیف) حضرت قیس بن ابی حازم بجلی احمسی (رض)

اس کا نام عوف ہے انھیں عوف بن الحارث بھی کہا جاتا ہے۔ ابن عساکر کہتے ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے لیکن آپ کا دیدار نہیں ہوسکا بعض کہتے ہیں قیس (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے البتہ ان کے والد کو صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے۔
37485- عن عبد الرحمن بن عابس النخعي عن قيس بن كعب قيس بن أبي حازم واسمه عوف ويقال له عوف ابن عبد الحارث البجلي الأحمسي رضي الله عنه قال ابن عساكر: أدرك النبي صلى الله عليه وسلم ولم يره، وقيل: إنه رآه ولأبيه صحبة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن کعب (رض)
٣٧٤٨٥۔۔۔ اسماعیل بن ابی خالد کی روایت ہے کہ قیس بن ابی حازم (رض) کہتے ہیں میں بچہ تھا میرے والد مجھے ہاتھ سے پکڑ کر مسجد میں لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا اور منبر پر چڑھ گیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور منبر سے نیچے اتر آیا۔ میں نے والد صاحب سے پوچھا : یہ کون ہے ؟ جواب دیا : یہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اس وقت میں سات یا آٹھ سال کا تھا۔ (رواہ ابن مندہ وقال ھذا حدیث جدا تفردبہ اہل، خراسان ولم اکتبہ الامن ھذا الوجہ وابن عساکر)
37486- عن إسماعيل بن أبي خالد قال: قال قيس بن أبي حازم كنت صبيا فأخذ أبي بيدي فذهب بي إلى المسجد فخرج رجل فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ونزل، فقلت لوالدي: من هذا؟ قال: هذا نبي الله صلى الله عليه وسلم، وأنا إذ ذاك ابن سبع سنين أو ثمان سنين ابن منده وقال: هذا حديث غريب جدا، تفرد به أهل خراسان، ولم أكتبه إلا من هذا الوجه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن کعب (رض)
٣٧٤٨٦۔۔۔ قیس بن ابی حازم (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے جب کہ ابوبکر (رض) کھڑے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کررہے تھے اور میں نے انھیں بہت روتے ہوئے دیکھا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37487- عن قيس بن أبي حازم قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجئت وقد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر قائم في مقامه فأطاب الثناء وأكثر البكاء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت قیس بن مخرمہ (رض)
٣٧٤٨٧۔۔۔ مطلب بن عبداللہ بن قیس بن مخرمہ اپنے والد اور دادا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھیوں والے سال پیدا ہوئے اس اعتبار سے ہم دونوں ہم عمر ہیں۔ (رواہ ابن اسحاق والبغوی وابن عساکر)
37488- عن المطلب بن عبد الله بن قيس بن مخرمة عن أبيه عن جده قال ولدت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل فنحن لدان1 "ابن إسحاق والبغوي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف کاف۔۔۔ حضرت کا بس بن ربعیہ (رض)
٣٧٤٨٨۔۔۔” مسند انس “ عبادہ بن منصور کی روایت ہے کہ ہمارا ایک شخص تھا جسے کا بس بن ربیعہ کہا جاتا تھا اسے حضرت انس بن مالک (رض) نے دیکھا تو انس (رض) نے اسے گلے لگالیا، رونے لگے پھر کہا : جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنا چاہے وہ کا بس بن ربیعہ (رض) کو دیکھ لے۔ (رواہ ابن عساکر)
37489- "مسند أنس" عن عباد بن منصور قال: كان رجل منا يقال له كابس بن ربيعة، فرآه أنس بن مالك فعانقه وبكى وقال: من أحب أن ينظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلينظر إلى كابس بن ربيعة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت کثیر بن عباس (رض)
٣٧٤٨٩۔۔۔ کثیر بن عباس کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے عبداللہ عبیداللہ اور قثم کو جمع کرتے اور پھر اپنی بانہیں کھول لیتے اور فرماتے ! جو سب سے پہلے میرے پاس پہنچے گا اسے یہ اور یہ چیز (انعام میں) ملے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37490- عن كثير بن العباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمعنا أنا وعبد الله وعبيد الله وقثم فيفرج يديه هكذا ويمد بباعيه ويقول : من سبق إلي فله كذا وكذا (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت کعب بن عاصم اشعری (رض)
٣٧٤٩٠۔۔۔ حضرت کعب بن عاصم اشعری (رض) کہتے ہیں : میں نے ایک مرتبہ سفید گندم خریدی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی بقیدحیات تھے میں یہ گندم لے کر اپنے گھر والوں کے پاس آیا گھروالوں نے کہا : تم عمدہ اور اچھی گندم چھوڑ آئے ہو اور یہ ردی قسم کی گندم خریدلائے ہو۔ (بیوی نے کہا) اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھ سے میرا نکاح کروایا ہے حالانکہ تم گفتگو میں عاجر ہو حقیر وبدصورت ہو اور تمہاری قوت بھی ماند پڑگئی ہے کعب (رض) کہتے ہیں : میں نے اسی گندم سے روٹی پکائی میں نے اپنے ہاں اسے اشعری دوستوں کو کھانے پر مدعو کرنا چاہا میں نے سوچا : میں پیٹ بھر کر ڈکار مارنے لگوں گا جب کہ میرے دوست بھوکے ہوں گے۔ میری بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میری شکایت کرنے آئی اور عرض کیا : آپ نے مجھے جہاں چھوڑا ہے وہاں سے میری جان چھڑائیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب (رض) کو پیغام بھیجواکر اپنے پاس بلایا پھر آپ نے دونوں میاں بیوی کو جمع کیا اور بات کی پھر آپ نے فرمایا : تو نے اپنے خاوند سے اس کے علاوہ کوئی اور بری بات تو نہیں دیکھی ؟ بولی : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم چاہتی ہو کہ اس سے اپنی جان چھڑالے اور یوں گدھے کی لاش بن جائے یا تو کسی مالدار کی خواہشمند ہے جس کے برتن پر شیطان بھی بیٹھا ہو۔ کیا تم راضی نہیں ہو کہ ہم نے ایسے شخص سے تمہاری شادی کی ہے جس سے افضل کوئی شخص نہیں جس پر سورج طلوع ہوتا ہو ؟ وہ بولی : میں راضی ہوں پھر اٹھی اور اپنے خاوند کا سر چوما اور پھر کہا : میں اپنے خاوند سے کبھی بھی جدا نہیں ہوں گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37491- عن كعب بن عاصم الأشعري قال: ابتعت قمحا أبيض ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي فأتيت به أهلي فقالوا تركت القمح الأسمر الجيد وابتعت هذا؟ والله لقد أنكحني رسول الله صلى الله عليه وسلم إياك وإنك لعي اللسان دميم الجسم ضعيف البطش، فصنعت منه خبزة، فأردت أن أدعو عليها أصحابي الأشعريين أصحاب العقبة، فقلت: أتجشأ من الشبع وأصحابي جياع؟ فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو زوجها وقالت: انزعني من حيث وضعتني، فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع بينهما، فحدثه حديثها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم تنقمي منه شيئا غير هذا؟ قالت: لا، قال: فلعلك تريدين أن تختلعي منه فتكوني كجيفة الحمار أو تبغين ذا جمة فينانة على كل جانب من قصته شيطان قاعد! ألا ترضين أني أنكحتك رجلا من نفر ما تطلع الشمس على نفر خير منهم؟ قالت: رضيت، فقامت المرأة حتى قبلت رأس زوجها وقالت: لا أفارق زوجي أبدا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت کعب بن مالک (رض)
٣٧٤٩١۔۔۔ حضرت جابربن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت کعب بن مالک (رض) سے فرمایا : تمہارے رب نے وہ شعر نہیں بھولا عرض کیا : وہ کون ساشعر ہے ؟ آپ نے فرمایا اے ابوبکر اسے وہ شعر سناؤ۔ ابوبکر (رض) بولے :

زعمت سخیۃ ان ستغلب ربھا ولیغلبن مغالسب الغلاب
37492- عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لكعب بن مالك ما نسي ربك - أو ما كان ربك نسيا - شعرا - وفي لفظ: بيتا - قلته، قال: ما هو؟ قال: أنشده يا أبا بكر! فقال:

زعمت سخينة أن ستغلب ربها. ...وليغلبن مغالب الغلاب ابن منده، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت کعب بن مالک (رض)
٣٧٤٩٢۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کہتے ہیں : جب میری توبہ کا حکم نازل ہوا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ چوم لیے۔ (رواہ ابن عساکر)
37493- عن كعب بن مالك قال: لما نزلت توبتي قبلت يد النبي صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف لام۔۔۔ حضرت لجلاج زہری (رض)
٣٧٤٩٣۔۔۔ عبدالرحمن بن علاء بن الجلاج اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں ان کے دادا کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسلام قبول کیا اس وقت میری عمر پچاس سال تھی چنانچہ الجلاج (رض) نے ١٢٠ سال کی عمر میں وفات پائی لجلاج (رض) کہتے ہیں : جب میں نے اسلام قبول کیا ہے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا صرف اتنا کھاتا اور پیتا تھا جس سے گزارا ہوسکے۔ (رواہ ابن عساکر)
37494- عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن أبيه عن جده قال: أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ابن خمسين سنة، ومات اللجلاج وهو ابن عشرين ومائة سنة، قال: ما ملأت بطني من طعام منذ أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، آكل حسبي وأشرب حسبي."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف میم۔۔۔ حضرت مصعب بن عمیر (رض)
٣٧٤٩٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مصعب بن عمیر (رض) کی طرف دیکھا معصب (رض) سامنے سے آرہے تھے اور انھوں نے اپنے اوپر مینڈھے کی کھال لپیٹ رکھی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی طرف دیکھ جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے منور کردیا ہے میں نے اس کی یہ حالت بھی دیکھی ہے کہ والدین اسے چھے سے اچھا کھانا کھلاتے تھے اور اچھے سے اچھا مشروب پلاتے تھے میں نے اسے ایسے ایسے جوڑے زیب تن کیے ہوئے دیکھا ہے جنکی قیمت دو دو سو درہم تھی چنانچہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے اسے اس حالت کی طرف بلایا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو عبدالرحمن السلمی فی الاربعین و ابونعیم فی الاربعین الصوفیۃ والبیھقی فی شعب الایمان والدیلمی والحاکم)
37495- عن عمر قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مصعب بن عمير مقبلا عليه إهاب كبش قد تنطق به فقال النبي صلى الله عليه وسلم: انظروا إلى هذا الذي نور الله قلبه، لقد رأيته بين أبوين يغذوانه أطيب الطعام والشراب، لقد رأيت عليه حلة اشتريت بمائتي درهم، فدعاه حب الله وحب رسوله إلى ماترون. "الحسن بن سفيان وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين، وأبو نعيم في الأربعين الصوفية، هب والديلمي، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف میم۔۔۔ حضرت مصعب بن عمیر (رض)
٣٧٤٩٥۔۔۔” مسند خباب بن الارت “ حضرت خباب بن ارت (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی ہم صرف اضائے الہٰی کے جویاں تھے لہٰذا ہمارا اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے چنانچہ ہم میں سے کچھ ہستیاں ایسی بھی ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں ان میں سے ایک ہستی مصعب بن عمیر (رض) کی بھی ہے۔ انھیں احد کے دن قتل کیا گیا ان کے لیے اتنا کپڑا بھی دستیاب نہیں تھا جس میں انھیں کفن دیا جائے صرف چھوٹی سی ایک چادر تھی جس میں انھیں کفن دیا گیا جسے صحابہ (رض) اگر سر کی طرف کھینچتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے اگر پاؤں ڈھانپتے سر ننگا ہوجاتا تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چادر سے اس کا سرڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو ۔ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جس کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے ہدیہ میں ملا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37496- "مسند خباب بن الأرت" قال: هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتغي وجه الله فوجب أجرنا على الله، فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئا، منهم مصعب بن عمير، قتل يوم أحد فلم يوجد له شيء يكفن فيه إلا نمرة، كانوا إذا وضعوها على رأسه خرجت رجلاه وإذا وضعوها على رجليه خرج رأسه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجعلوها مما يلي رأسه واجعلوا على رجليه من الإذخر ومنا من أينعت له ثمرته فهو يهديها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف میم۔۔۔ حضرت مصعب بن عمیر (رض)
٣٧٤٩٦۔۔۔” مسند علی “ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں : مجھے ایک شخص نے حدیث بیان کی ہے اس نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے یکایک حضرت مصعب بن عمیر (رض) ہمارے اوپر نمودار ہوئے انھوں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھ رکھی تھی جسمیں موٹے کپڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا تو ان کی پرانی عیش و عشرت اور آج کی حالت کو دیکھ کر رو پڑے۔ (رواہ ابونعیم فی الاربعین الصوفیۃ
37497- "مسند علي" عن محمد بن كعب القرظي قال:حدثني من سمع علي بن أبي طالب يقول: إنا لجلوس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ طلع علينا مصعب بن عمير ما عليه إلا بردة مرقوعة بفرو، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى للذي كان فيه من النعيم والذي هو فيه اليوم."أبو نعيم في الأربعين الصوفية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت محمد بن مسلمہ (رض)
٣٧٤٩٧۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ کوئی شخص نہیں جسے فتنہ پیش آئے گا مگر مجھے اس کے مبتلائے فتنہ ہونے کا ازحد خوف ہے سوائے محمد بن مسلمہ کے چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ :(اے محمد بن مسلمہ) تجھے فتنہ کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37498- عن حذيفة قال: ما أحد تدركه الفتنة إلا وأنا أخافها عليه إلا محمد بن مسلمة، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تضرك الفتنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت محمد بن مسلمہ (رض)
٣٧٤٩٨۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) بن عفان (رض) نے پچاس شہسواروں کا ایک دستہ روانہ کیا۔ (میں بھی ان میں شامل تھا) ہمارے امیر محمد بن مسلمہ (رض) تھے چنانچہ محمد بن مسلمہ (رض) نے مصر سے آنے والے لوگوں سے بات کی چنانچہ ہمارا استقبال ایک شخص نے کیا اس کے ہاتھ میں قرآن مجید تھا اور گلے میں تلوار لٹکا رکھی تھی اس نے کہا : یہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اس قرآن کے حکم کے مطابق ضرب لگائیں۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37499- عن جابر بن عبد الله قال: بعثنا عثمان بن عفان في خمسين راكبا أميرنا محمد بن مسلمة، فتكلم الذين جاؤوا من مصر، فاستقبلنا رجل في يده مصحف متقلد سيفا فقال: إن هذا يأمرنا أن نضرب بهذا على ما في هذا قبل أن تولد."ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٤٩٩۔۔۔ ابوسفیان بعض شیوخ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند عرصہ دو سال سے گھر سے غایب رہا جبکہ وہ عورت حاملہ تھی اس عورت کا کیس حضرت عمر (رض) کی عدالت میں پیش کیا گیا آپ (رض) نے عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا عمر (رض) سے حضرت معاذ (رض) نے کہا، ! اگر آپ عورت کو رجم کریں گے تو اس کے پیٹ میں کو کچھ ہے اس کا کیا بنے گا حضرت عمر (رض) نے حکم دیا : عورت کو وضع حمل تک روکے رکھو چنانچہ عورت نے بچہ جنم دیا اس کے دو دانت نکلے ہوئے تھے جب عورت کے خاوند نے بچہ دیکھا فوراًاپنی شیبہ پہچان گیا اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ میرا بیٹا ہے۔ جب حضرت عمر (رض) کو اس کی خبر ہوئی فرمایا : عورتیں معاذ جیسا انسان پیدا کرنے سے عاجر ہیں اگر معاذنہ ہوتے عمر ہلاک ہوجاتا۔ (رواہ البیھقی وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)
37500- عن أبي سفيان عن أشياخ منهم أن امرأة غاب عنها زوجها سنتين ثم جاء وهي حامل، فرفعها إلى عمر فأمر برجمها، فقال له معاذ: إن يكن لك عليها سبيل فلا سبيل لك على ما في بطنها، فقال عمر احبسوها حتى تضع، فوضعت غلاما له ثنيتان، فلما رآه أبوه عرف الشبه فقال : ابني ابني ورب الكعبة ! فبلغ ذلك عمر ، فقال : عجزت النساء أن تلدن مثل معاذ ! لولا معاذ لهلك عمر (ق ، عب ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٠۔۔۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : قیامت کے دن جب علماء جمع کیے جائیں گے معاذبن جبل (رض) علماء کے درمیان ایسے نمایاں ہوں گے جیسے پہاڑ کا کنگرا نمایاں ہوتا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37500 عن شهر بن حوشب قال : قال عمر : إن العلماء إذا اجتمعوا يوم القيامة كان معاذ بن جبل بين أيديهم قذفة بحجر (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক: