কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৫১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠١۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے : معاذ (رض) شام کی طرف روانہ ہوگئے چنانچہ ان کا شام کی طرف جانا اہل مدینہ کے لیے نقصان تھا چونکہ معاذاہل مدینہ کو فتویٰ دیتے تھے میں نے ابوبکر (رض) (اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے) سے بات کی کہ وہ معاذ (رض) کو لوگوں کی ضرورت پر روک لیں لیکن ابوبکر (رض) نے انکار کردیا اور فرمایا : ایک شخص شہادت سے اپنے کو سرفراز کرنا چاہتا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ میں نے کہا : بخدا اللہ تعالیٰ آدمی کو اس کے گھر پر بھی شہادت عطا کرسکتا ہے۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کہتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق کے زندہ ہوتے ہوئے بھی اہل مدینہ کو فتویٰ دیتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)

کلام :۔۔۔ حدیث ضیعف ہے چونکہ اس کی سند میں واقدی ہے۔
37501 عن كعب بن مالك قال : كان عمر بن الخطاب يقول : خرج معاذ إلى الشام لقد أخل خروجه بالمدينة وأهلها في الفقه وما كان يفتيهم به ، ولقد كنت كلمت أبا بكر رحمه الله أن يحبسه لحاجة الناس إليه فأبى علي وقال : رجل أراد وجها يريد الشهادة فلا أحبسه ، فقلت : والله ! إن الرجل ليرزق الشهادة وهو على فراشه وفي بيته عظيم الغنى عن مصره ، قال كعب بن مالك : وكان معاذ بن جبل يفتي الناس بالمدينة في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر (ابن سعد ، وفيه الواقدي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٢۔۔۔ حارث بن عمیرہ کہتے ہیں جب حضرت معاذ (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ان کے پاس بیٹھے ہوئے لوگ روپڑے معاذ (رض) نے فرمایا : کیوں رو رہے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہم اس علم پر رو رہے ہیں جو آپ کی موت کے ساتھ ہی منقطع ہونے والا ہے معاذ (رض) نے فرمایا : علم اور ایمان تاقیامت اپنی جگہ پر رہیں گے جو علم و ایمان کو تلاش کرے گا انھیں کتاب وسنت میں پالے گا ہر مسئلہ کو کتاب اللہ پر پیش کرونہ کہ کتاب اللہ کو مسئلہ پر پیش کرو۔ عمر عثمان اور علی (رض) سے علم حاصل کرو اگر تم انھیں گم پاؤں تو ان چار اشخاص سے علم حاصل کروعویمرابن سلمان ، ابن جو کہ یہودی تھے پھر اسلام قبول کرلیا (رض) میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ابن سلام (رض) جنت میں دس کا دسواں ہوگا عالم کے پھسل جانے سے ڈروحق جہاں بھی ملے اسے مضبوطی سے پکڑلو جب کہ باطل اور پیش خیمہ

باطل کو روکرو خواہ جس حال میں بھی ہو۔ (رواہ سعید وابن عساکر)
37502 عن الحارث بن عميرة قال لما حضر معاذا الوفاة بكى من حوله ، فقال : ما يبكيكم ؟ قالوا : نبكي على العلم الذي ينقطع عنا عند موتك ، قال : إن العلم والايمان مكانهما إلى يوم القيامة ، ومن ابتغاهما وجدهما الكتاب والسنة ، فاعرضوا على الكتاب كل الكلام ولا تعرضوه على شئ من الكلام ، وابتغوا العلم عند عمر وعثمان وعلي ، فان فقدتموهم فابتغوه عند أربعة : عويمر وابن مسعود وسلمان وابن سلام الذي كان يهوديا فأسلم ، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : هو عاشر عشرة في الجنة ، واتقوا زلة العالم ، خذوا الحق مما جاء به ، وردوا الباطل على من جاء به كائنا من كان به (سيف ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٣۔۔۔ عمروبن میمون کہتے ہیں ہم یمن میں تھے کہ حضرت معاذبن جبل (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسلام قبول کرو اور اپنے آپ کو سلامتی میں کرلو۔ میں اللہ کے رسول کا تمہارے پاس قاصد آیا ہوں عمروبن میمون کہتے ہیں تب سے میرے دل میں معاذ (رض) کی محبت رچ بس گئی پھر دنیا سے رخصت ہونے تک میں نے ان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا چنانچہ معاذ (رض) جب قریب الوفات ہوئے میں روپڑا معاذ (رض) نے مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی میں نے عرض کیا : آپ کے ساتھ ساتھ علم بھی ختم ہورہا ہے فرمایا : علم اور ایمان تا قیامت باقی رہیں گے علم تو عبداللہ بن مسعود عبداللہ بن سلام جو کہ جنت میں دس کے دسویں ہوں گے سلمان الخیر اور عویمر ابودرداء (رض) کے پاس ہے۔ چنانچہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ جاملا میں نے نماز کا تذکرہ کیا عبداللہ بن مسعود (رض) نے مجھے وہی حکم دیا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا ہے کہ وقت پر نماز پڑھوں اور نفلی نماز کا بھی اہتمام کروں۔ میں نے عبداللہ (رض) سے جماعت کی فضیلت بیان کی انھوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تجھ پر افسوس ہے ! لوگوں کی اکثریت جماعت سے الگ ہے جماعت تو وہی ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت کے موافق ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
37503 عن عمرو بن ميمون قال : قدم معاذ بن جبل ونحن باليمن فقال : يا أهل اليمن ! أسلموا تسلموا ، إني رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم ، قال عمرو : فوقع له في قلبي حب فلم أفارقه حتى مات ، فلما حضره الموت بكيت فقال معاذ : ما يبكيك ؟ قلت : أبكي على العلم الذي يذهب معك ، فقال : إن العلم والايمان ثابتان إلى يوم القيامة ، العلم عند عبد الله بن مسعود وعبد الله بن سلام فانه عاشر عشرة في الجنة وسلمان الخير وعويمر أبي الدرداء ، فلحقت بعبد الله بن مسعود فذكر وقت الصلاة فذكرت ذلك لعبد الله بن مسعود فأمرني بما أمره به رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أصلي لوقتها وأجعل صلاتهم تسبيحا ، فذكرت له فضيلة الجماعة ، فضرب على فخذي وقال : ويحك ! إن جمهور الناس فارقوا الجماعة ، إن الجماعة ما وافق طاعة الله عزوجل (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٤۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا ارشاد فرمایا میں جانتا ہوں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملہ میں کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حتیٰ کہ تمہارا مال بھی ختم ہوگیا میں نے تمہارے لیے اچھا ہدیہ تیار کررکھا ہے لہٰذا جو چیز بھی میں تمہیں ہدیہ کروں وہ تمہاری ہی ہوگی۔ (رواہ ابن جریر)

کلام :۔۔۔ ابن جریر نے حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
37504 عن معاذ بن جبل قال : لما بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن قال : إني قد علمت ما لقيت في الله ورسوله وما ذهب من مالك وقد طيبت لك الهدية ، فما أهدي لك من شئ فهو لك (ابن جرير ، وضعفه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٥۔۔۔” مسند ابن مسعود “ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابن مسعود مجھ سے قرآن سننا چاہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قرآن سناو میں نے انھیں قرآن سنایا پھر میں اور معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو معاذ (رض) نے آپ کو قرآن سنایا : چنانچہ معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں معلم تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37505 (مسند ابن مسعود) جاء معاذ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ! أقرئني ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أقرئه ، فأقرأته ما كان معي ، ثم اختلفت أنا وهو إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأه معاذ ، وكان معلما من المعلمين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٧٥٠٦۔۔۔” مسند عمر “ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت معاذ (رض) کو نبی کلاب سے وصولی صدقات کے لیے بھیجا چنانچہ معاذ (رض) نے کوئی چیز نہ چھوڑی حتیٰ کہ وہ کمبل جو ساتھ لیتے گئے تھے اسے بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا کرلیتے آئے معاذ (رض) کی بیوی نے ان سے کہا : تم کہاں سے آرہے ہیں عاملین جو چیز لاتے ہیں پہلے اپنے گھر والوں کو پیش کرتے ہیں ؟ معاذ (رض) نے کہا میرے ساتھ ضاعط (نگہبان تھا) بیوی بولی ! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے ہاں امانتدار سمجھے جاتے تھے جبکہ عمر نے تمہارے ساتھ ضاعط “ کو بھی بھیج دیا معاذ (رض) کی بیوی عورتوں میں کھڑی ہوئی اور حضرت عمر (رض) سے شکایت کردی حضرت عمر (رض) نے معاذ (رض) کو بلایا اور کہا : کیا میں نے تمہارے ساتھ ضاعط بھیجا تھا معاذ (رض) نے کہا : میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی عذر نہیں تھا جسے میں اپنی بیوی کے سامنے ظاہر کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) ہنس پڑے اور کوئی چیز دے کر فرمایا ! یہ پیتے جاؤ اور اس سے اپنی بیوی کو راضی کرلو۔ ابن جریر کہتے ہیں : معاذ (رض) نے جو ضاعظ کہا اس کا معنی نگہبان ہے اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ تھا۔ (رواہ عبدالرزاق والمحاملی فی امالیہ)
37506 (مسند عمر) عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب بعث معاذا ساعيا على بني كلاب فقسم فيهم حتى لم يدع شيئا حتى جاء بحلسه الذي خرج به يحمله على رقبته ، فقالت له امرأته : أين ما جئت به مما يأتي به العمال عراضة أهليهم ؟ فقال : كان معي ضاغط ، فقالت : قد كنت أمينا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر فبعث عمر عمك ضاغطا ! فقامت بذلك في نسائهاواشتكت عمر ، فبلغ ذلك عمر فدعا معاذا فقال : أنا بعثت معك ضاغطا ؟ فقال : لم أجد شيئا أعتذر به إليها إلا ذلك ، فضحك عمر وأعطاه شيئا فقال : أرضها به. قال ابن جرير : قول معاذ : الضاغط ، يريد به ربه عزوجل (عب والمحاملي في أماليه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥٠٧۔” مسند عمر “ محمد بن سلام کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے معاویہ بن ابی سفیان کا ذکر کیا اور فرمایا قریش کے گندم گوں سے بچو جو کہ مطابق رضارات گزارتا ہے غصہ میں بھی ہنستا ہے وہ اس سب کے باوجود اپنے سر کے اوپر کی چیز قدموں تلے سے پالیتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم آیا کہ وہ اسے بلند کرتا ہے یا نہیں (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس)
37507 (مسند عمر) عن محمد بن سلام قال : ذكر عمر ابن الخطاب معاوية بن أبي سفيان يوما فقال : احذروا آدم قريش وابن كريمتها ، من لا يبيت إلا على الرضا ويضحك عند الغضب وهو مع ذلك يتناول ما فوق رأسه من تحت قدمه. لا أدري رفعه أم لا (الديلمي في مسند الفردوس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥٠٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اے معاویہ کھڑے ہوجاؤ اور اس سے کشتی لڑو۔ چنانچہ معاویہ (رض) نے اعرابی سے کشتی کی اور اسے بچھاڑدیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاویہ جس شخص سے بھی کشتی کرتا ہے اسے بچھاڑ دیتا ہے۔ (رواہ الدیلمی)
37508 عن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال قم يا معاوية فصارعه ! فصارعه فصرعه معاوية ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أن معاوية لا يصارع أحدا إلا صرعه معاوية (الديلمي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥٠٩۔۔۔ ابواسود کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے اہل عذراء حجر اور اس کے ساتھیوں کو کیوں قتل کیا ہے ؟ حضرت معاویہ (رض) نے جواب دیا : اے ام المومنین ! میں نے امت کی بہتری کے لیے ان کا قتل روا سمجھا ہے چونکہ ان کے زندہ رہنے سے امت میں فساد پھیلنے کا خدشہ تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے عنقریب عذراء میں لوگوں کو قتل کیا جائے گا ان پر اللہ اور اہل آسمان غضبناک ہیں۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37509 عن أبي الاسود قال : دخل معاوية على عائشة فقالت : ما حملك على قتل أهل عذراء حجر وأصحابه ؟ فقال : يا أم المؤمنين ! إني رأيت قتلهم صلاحا للامة وبقاءهم فسادا للامة ، فقالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : سيقتل بعذراء ناس يغضب الله لهم وأهلالسماء (يعقوب بن سفيان ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥١٠۔۔۔ سعید بن ابی ہلاک کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) حج کے لیے آئے اور حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اے معاویہ (رض) تم نے حجر بن ادبر اور اس کے ساتھیوں کو قتل کردیا ہے۔ اللہ کی قسم ! مجھے حدیث پہنچی ہے کہ عذراء میں سات آدمی قتل کیے جائیں گے جن پر اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان کا سخت غضب نازل ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37510 عن سعيد بن أبي هلال أن معاوية حج فدخل على عائشة فقالت : يا معاوية ! قتلت حجر بن الادبر وأصحابه ! أما والله ! لقد بلغني أنه سيقتل بعذراء سبعة نفر يغضب الله لهم

وأهل السماء (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥١١۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی عمیر مزنی کی روایت ہے کہ رسول اللہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاویہ (رض) کے لیے دعا کی اور فرمایا : یا اللہ ! معاویہ کو حساب وکتاب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچالے۔ (رواہ ابن عساکر)
37511 عن عبد الرحمن بن أبي عميرة المزني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لمعاوية : اللهم ! علمه الكتاب والحساب ، وقه العذاب (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥١٢۔۔۔ حضرت عرباض (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاویہ (رض) کے لے یہ دعا فرماتے ہوئے سنا : یا اللہ ! اسے حساب وکتاب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچالے۔ (رواہ ابن النجار)
37512 عن العرباض قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لمعاوية : اللهم ! علمه الكتاب والحساب ، وقه العذاب (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاویہ (رض)
٣٧٥١٣۔۔۔ سری بن اسماعیل شعبی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مجھے سفیان ابن لیل نے حدیث سنائی ہے کہ جب حضرت حسن (رض) کوفہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں کے کہا : اے المومنین کے رسوا کرنے والے ! حسن (رض) نے کہا : یہ مت کہو میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : سن اور راتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک کہ ایک شخص بادشاہ نہ بن جائے اور وہ معاویہ ہے۔ اللہ کی قسم مجھے پسند نہیں کہ میرے لیے دنیا ومافیھا ہو اس کے بعد جب میں نے یہ حدیث سن لی کہ میں مدینہ میں لوٹ کے نہ آیا ہوتا۔ (رواہ اسمویہ ورواہ تعیم بن حماد فی الفتن والعقیلی بلفظ) اللہ کی قسم مجھے پسند نہیں ہیں کہ میرے لیے دنیا ومافیھا ہو اور ایک بھی کھوپڑی کا خون بہایا جائے۔ اس میں بھی اضافہ ہے کہ میں نے والد کو کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے دل سے ہمارے ساتھ محبت کی اپنی زبان سے ہماری مدد کی اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھا وہ اس جگہ میں ہوگا جو ہمارے ساتھ ملا ہوا ہے عقیلی کہتے ہیں۔ میزان میں ہے : شعبی سے یہ حدیث روایت کرنے میں سری بن سفیان متفرد ہے اور یہ ہلاک شرگاہ میں سے ایک ہے۔ ابولفتح ازدی کہتے ہیں : سفیان بن لیل کی ایک حدیث یہ بھی ہے : امت کا خاتمہ اس وقت تک ہیں ہوگا جب تک کہ اس کا حکمران وہ شخص نہ ہوجائے جو کشادہ حلقوم والا ہوگا وہ کھاتا جائے گا لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرے گا یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد ابوالفتح کہتے ہیں : سفیان مجہول روای ہے جبکہ حدیث منکر ہے۔ (انتھیٰ )
37513 عن السرى بن إسماعيل عن الشعبي قال حدثني سفيان ابن الليل قال : لا قدم الحسن بن علي المدينة من الكوفة أتيته فقلت له : يا مذل المؤمنين ! قال : لا تقل ذلك فاني سمعت أبي يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تذهب الايام والليالي حتى يملك رجل وهو معاوية ، والله ما أحب أن لي الدنيا وما فيها بعد ما سمعت هذا الحديث أن لا أكون رجعت في المدينة (سمويه ، ورواه نعيمابن حماد في الفتن ، عق بلفظ : والله ما أحب أن لي الدنيا وما فيها وأنه يهراق في محجمة من دم وزاد : قال وسمعت أبي يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أبحنا بقلبه وأعاننا بلسانه وكف يده فهو في الدرجة التي تلينا. قال عق : سفيان بن الليل كوفي ممن يغلو في الرفض ، لا يصح حديثه ، وقال في الميزان : تفرد بحديثه هذا السرى بن إسماعيل أحد الهلكى عن الشعبى ، وقال أبو الفتح الازدي : سفيان بن الليل له حديث : لا تمضي الامة حتى يليها رجل واسع البلعوم وفي لفظ آخر : واسع السرم يأكل ولا يشبع. قال : وسفيان مجهول والخبر منكر انتهى).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن ثابت بن قیس (رض)
٣٧٥١٤۔۔۔” مسند ثابت بن قیس “ اسماعیل بن محمد بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد (ثابت بن قیس (رض)) نے جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سے علیحدگی اختیار کرلی جبکہ وہ حاملہ تھی اور اس کے بطن میں محمد بن ثابت (رض) تھے جب اس نے وضع حمل کیا قسم کھالی کہ وہ اسے دودھ نہیں پلائے گی ، چنانچہ حضرت ثابت (رض) بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں لے آئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا : اسے میرے قریب لاؤ کہتے ہیں میں نے بچہ قریب کیا : آپ نے بچے کے منہ میں تھوکا اور اس کا نام محمد رکھا اور عجوہ کھجور سے اس کی گھٹی دی پھر فرمایا : اسے لے جاؤ اللہ ہی اسے رزق دینے والا ہے چنانچہ ایک دو دن ہی گزرنے پائے تھے کہ عرب کی ایک عورت مجھ سے ملنے آئی اور وہ لوگوں سے ثابت بن قیس بن شماس کے متعلق پوچھتی رہی میں نے عورت سے کہا : تجھے اس سے کیا کام ہے ؟ وہ بولی : آج رات میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو دودھ پلارہی ہوں اور اس کا نام محمد ہے وہ بولے : میں ہی ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے چنانچہ وہ عورت بچے کو لیتی گئی۔ (رواہ ابن مندہ والبغوی و ابونعیم فی المعرفہ وابن عساکر)
37514 (مسند ثابت بن قيس) عن إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شماس عن أبيه أن أباه فارق جميلة بنت عبد الله بن أبي وهي نسوء حامل بمحمد بن ثابت ، فلما وضعت حلفت أن لا تلبنه من لبنها ، فجاء به ثابت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خرقة فأخبره بالقصة ، فقال : ادنه مني ، قال : فأدنيته منه فبزق في فيه وسماه محمدا وحنكه بتمرة عجوة وقال : اذهب به فان الله رازقه ، فاختلفت به اليوم الاول والثاني فلقيتني امرأة من العرب تسأل عن ثابت بن قيس بن شماس قلت : وما تريدين منه ؟ أنا ثابت ، فقالت : رأيتني في ليلتي هذه كأني أرضع ابنا له يقال له محمد ! قال : فأنا ثابت وهذا ابني محمد ، قال : فأخذته (ابن منده والبغوي وأبو نعيم في المعرفة ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن حنفیہ (رض)
٣٧٥١٥۔۔۔ محمد بن حنفیہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمربن خطاب (رض) ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور اپنی بہن ام کلثوم کے پاس تھا عمر (رض) نے مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور فرمایا : اے کلثوم ! اس پر مہربان رہنا۔ (رواہ ابن عساکر)
37515 (مسند عمر) عن ابن الحنفية قال : دخل عمر بن الخطاب وأنا عند أختي أم كلثوم بنت علي فضمني وقال : الطفيه يا كلثوم (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن طلحہ (رض)
٣٧٥١٦۔۔۔ عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں : مجھے محمد بن طلحہ کی آیا نے حدیث سنائی ہے کہ جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے میں انھیں لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا : اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اس کا نام محمد رکھا ہے۔ فرمایا : یہ میرا ہم نام ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ)
37516 عن عيسى بن طلحة قال : حدثتني ظئر بن محمد بن طلحة قالت : لما ولد محمد بن طلحة اتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فقال : ما سموه ؟ قلت : محمدا ، قال : هذا سميي وكنيته أبو القاسم (أبو نعيم في المعرفة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن طلحہ (رض)
٣٧٥١٧۔۔۔ ابراہیم بن محمد بن طلحہ اپنے والد کی آیا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں : جب محمد بن طلحہ بن عبیداللہ پیدا ہوئے میں انھیں لیکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ آپ انھیں گھٹی دیں اور دعا فرمائیں ۔ آپ کے پاس دعائے برکت کے لیے بچے لے جائے جاتے تھے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ یہ کون ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا : یہ محمد بن طلحہ ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ میرا ہم نام ہے اور یہ ابوالقاسم بھی ہے۔ (رواہ ابونعم)
37517 عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن ظئر أبيه محمد قالت : لما ولد محمد بن طلحة بن عبيد الله أتيت به النبي صلى الله عليه وسلم ليحنكه ويدعو له وكان يفعل ذلك بالصبيان ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : من هذا يا عائشة ؟ قالت : هذا محمد بن طلحة ، قال : سميي هذا أبو القاسم (أبو نعيم) المنذر رضي الله عنه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت منذر (رض)
٣٧٥١٨۔۔۔” مسند جویریہ عصری؛جو یریہ عصری (رض) کہتے ہیں : میں وفد عبدالقیس کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ہمارے ساتھ منذر بھی تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منذر دے فرمایا : تمہارے اندردو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے حلم اور بردباری۔ (رواہ ابن مندہ و ابونعیم)
37518 (مسند جويرية العصري) عن جويرية العصري قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في وفد عبد القيس ومعنا المنذر قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : فيك خلتان يحبهما الله : الحلم والاناة (ابن منده وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥١٩۔۔۔ بریدہ کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ماعزبن مالک (رض) کو رجم کرنے کا حکم دیا تو (ان کے زجم ہوجانے کے بعد) لوگ دوجماعتوں میں منقسم کہتے : ماعزبہت بری حالت میں ہلاک ہوا ہے اور اس کے گناہ نے اس کا احاطہ کرلیا ہے۔ بعض کہتے : ماعزبن مالک کی توبہ سے بڑھ کر افضل واعلی توبہ کسی کی نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ماعز (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا ہاتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس میں تھمادیا اور عرض کیا : مجھے پتھروں سے قتل کریں صحابہ (رض) نے ایسی حالت میں دو یاتین دن گزاردیئے پھر آپ تشریف لائے صحابہ کرام (رض) بیٹھے ہوئے تھے آپنے سلام کیا اور بیٹھ گئے پھر فرمایا : ماعزبن مالک کیلئے استغفار کرو صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے ماعز کی مغفرت کردی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماعزنے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر کسی امت میں تقسیم کی جائے تو انھیں کافی ہو (رواہ ابن جریر والحدیث فی صحیح البخاری کتاب الجدوباب من اعترف علی نفسہ بالزنا)
37519 عن بريدة قال : لما رجم النبي صلى الله عليه وسلم ماعز بن مالك كان الناس فيه فرقتين : قائل يقول : لقد هلك على أسوء حالة ، لقد أحاطت به خطيئته ، وقال يقول : أتوبة أفضل من توبة ماعز بن مالك ! إنه جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فوضع يده في يده وقال : اقتلني بالحجارة ، فلبثوا كذلك يومين أو ثلاثا ، ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم جلوس فسلم ثم جلس فقال : استغفروا لماعز بن مالك ، فقالوا : غفر الله لماعز بن مالك ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لقد تاب توبة لو قسمت بين أمة لوسعتهم (ابن جرير)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٠۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ جب ماعز (رض) رجم کردیئے گئے تو بعض لوگوں نے کہا : یہ ماعز ہے جس نے اپنے آپ کو ہلاک کردیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماعزنے اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی توبہ کی ہے کہ اگر لوگوں کی ایک جماعت ایسی توبہ کرتی تو انھیں کافی ہوتی۔ (رواہ ابن جریر)
37520 عن بريدة قال : لما رجم ماعز قال ناس من الناس : هذا ماعز أهلك نفسه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لقد تاب إلى الله توبة لو تابها فئة من الناس لقبل منهم (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক: