কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৫৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢١۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعزین مالک کو رجم کرنے کا حکم دینے کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ (رواہ ابن جریر)
37521 عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم استغفر لماعز بن مالك بعد ما رجمه (ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٢۔۔۔ بریرہ (رض) کہتے ہیں حضرت ماعزین مالک (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے پاک کریں حکم ہوا تجھ پر افسوس ہے واپس جاؤ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ماعز (رض) تھوڑے آگے تک چلے پھر واپس لوٹ آئے اور عرض کیا : یارسول اللہ مجھے پاک کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے کی طرح انھیں واپس کردیا حتیٰ کہ چوتھی بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز سے میں تمہیں پاک کروں ؟ عرض کیا : مجھے زنا سے پاک کریں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر بےہوشی کا حملہ تو نہیں ہوتا۔ خبردی گئی کہ اس پر بیہوشی طاری نہیں ہوتی۔ فرمایا : کیا اس سے شراب تو نہیں پی ؟ چنانچہ ایک آدمی نے بوسونگھی اور اس نے شراب کی بونہ پائی فرمایا : کیا تم نے واقعی زنا کیا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں ۔ آپ نے انھیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں ان کے متعلق لوگوں کی دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت کہتی تھی ماعزبہت ہی بری حالت میں ہلاک ہوا ہے اس کے گناہ نے اس کا احاطہ کرلیا ہے بعض کہتے تھے ماعز کی توجہ سے بڑھ کر کسی اور کی بھی تو نہ افضل واعلی ہوسکتی ہے چونکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ہاتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس میں دے دیا اور عرض کیا مجھے پتھر مار مار کر قتل کردیں۔ صحابہ (رض) دو تین دن تک اسی بحث و مباحثہ میں رہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جبکہ صحابہ (رض) بیٹھے ہوئے تھے آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے پھر فرمایا : ماعز کے لیے استغفار کرو صحابہ (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ ماعزبن مالک کی مغفرت کرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماعزنے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر امت میں اس کی توبہ تقسیم کی جائے انھیں کافی ہو۔
بریدہ (رض) کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبیلہ غامد بن ازد کی ایک عورت آئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے پاک کریں آپ نے فرمایا : تجھ پر افسوس ہے واپس جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اس کے حضور توبہ کرو غامد یہ (رض) نے عرض کیا شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرف واپس کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا : کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا : میں تو زنا سے حاملہ ہوچکی ہوں آپ نے پوچھا : واقعی تم سے زنا سرزد ہوا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں فرمایا : ہم تمہیں اس حالت میں رجم نہیں کرسکتے حتیٰ کہ تو وضع حمل نہ کردے چنانچہ ایک انصار نے غامدیہ (رض) کی ذمہ داری چنانچہ کچھ عرصہ بعد انصاری آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! غامدیہ نے وضع حمل کرلیا ہے آپ نے فرمایا : ہم اسے اس حالت میں بھی رحم نہیں کرسکتے کہ وہ دودھ پیتا بچہ چھوڑ جائے اور اسے کوئی دودھ بھی پلانے والا نہ ہو۔ انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! بچے کو دودھ پلانے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ۔ آپ نے غامدیہ (رض) کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ (رواہ ابونعیم واخرجہ مسلم فی صحیحۃ کتاب الحدودباب من اعترف علی نفسہ بالزنا۔ اس معنی میں بہت ہی احادیث کتاب الحدود میں گزرچکی ہیں دیکھیں حدیث نمبر ١٣٤٥٠)
بریدہ (رض) کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبیلہ غامد بن ازد کی ایک عورت آئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے پاک کریں آپ نے فرمایا : تجھ پر افسوس ہے واپس جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اس کے حضور توبہ کرو غامد یہ (رض) نے عرض کیا شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرف واپس کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا : کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا : میں تو زنا سے حاملہ ہوچکی ہوں آپ نے پوچھا : واقعی تم سے زنا سرزد ہوا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں فرمایا : ہم تمہیں اس حالت میں رجم نہیں کرسکتے حتیٰ کہ تو وضع حمل نہ کردے چنانچہ ایک انصار نے غامدیہ (رض) کی ذمہ داری چنانچہ کچھ عرصہ بعد انصاری آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! غامدیہ نے وضع حمل کرلیا ہے آپ نے فرمایا : ہم اسے اس حالت میں بھی رحم نہیں کرسکتے کہ وہ دودھ پیتا بچہ چھوڑ جائے اور اسے کوئی دودھ بھی پلانے والا نہ ہو۔ انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! بچے کو دودھ پلانے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ۔ آپ نے غامدیہ (رض) کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ (رواہ ابونعیم واخرجہ مسلم فی صحیحۃ کتاب الحدودباب من اعترف علی نفسہ بالزنا۔ اس معنی میں بہت ہی احادیث کتاب الحدود میں گزرچکی ہیں دیکھیں حدیث نمبر ١٣٤٥٠)
37522 عن بريدة قال : جاء ماعز بن مالك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله طهرني ، قال : ويحك ! ارجع واستغفر الله وتب إليه ، فرجع غير بعيد ، ثم جاء فقال : يا رسول الله ! طهرني ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك ، حتى إذا كانت الرابعة قال له النبي صلى الله عليه وسلم فمم أطهرك ؟ قال : من الزنا ، فسأل النبي صلى الله عليه وسلم : أبه جنون ؟ فأخبر أنه ليس بمجنون ، فقال : أشرب خمرا ؟ فقال رجل فاستنكهه فلم يجد منه ريح خمر ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أثيب أنت ؟ قال : نعم ، فأمر به فرجم ، فكان الناس فيه فرقتين ، تقول فرقة : لقد هلك ماعز على أسوء عمله ، لقد أحاطت به خطيئته ، وقال يقول : أتوبة أفضل من توبة ماعز ! إذ جاء النبي صلى الله عليه وسلم فوضع يده في يده فقال : اقتلني بالحجارة ، فلبثوا بذلك يومين أو ثلاثا.ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم وهم جلوس فسلم ثم جلس ثم قال : استغفروا لما عز بن مالك ، فقالوا : يغفر الله لماعز بن مالك ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لقد تاب توبة لو قسمت بين أمة لوسعتها ، قال : ثم جاءته امرأة من غامد بن الازد فقالت : يا رسول الله طهرني ، قال ويحك ! ارجعي فاستغفري الله وتوبي إليه ، فقالت : لعلك تريد أن ترددني كما رددت ماعز بن مالك ! قال : وما ذاك ! قالت : إنها حبلى من الزنا ، فقال : أثيب أنت ؟ قالت : نعم ، قال : إذن لا نرجمنك حتى تضعي ما في بطنك. فكفلها رجل من الانصار حتى وضعت ، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : قد وضعت الغامدية ، قال : إذن لا نرجمها وندع ولدها صغيرا ليس له من ترضعه ، فقام رجل من الانصار فقال : إلي رضاعه يا نبي الله ! فرجمها (أبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٣۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ماعزبن مالک (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زنا کا اقرار کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں واپس کردیا ماعز (رض) پھر واپس لوٹ آئے اور زناکا اقرار کیا : پھر چوتھی بار آپ نے ماعز (رض) کی قوم سے پوچھا : کیا تم اس کی عقل میں کوئی فتور تو نہیں پاتے ؟ قوم نے جواب دیا نہیں۔ آپ نے رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا : چنانچہ ماعزکوایسی جگہ رجم کیا گیا جہاں پتھر کم تھے جس کی وجہ سے موت واقع ہونے میں تاخیر ماعز (رض) ایسی جگہ کی طرف بھاگنے لگے جہاں پتھر زیادہ تھے لوگ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہوئے لوگوں نے ان پر پتھر برسائے حتیٰ کہ انھیں قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام (رض) نے ماعز (رض) کی کارگزاری سنائی آپ نے فرمایا : تم نے اس کا راستہ چھوڑ کیوں نہیں دیا پھر ان کی قوم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انھیں دفن کرنے اور نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت کی آپ نے انھیں اجازت دی اور فرمایا : ماعزنے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کی توبہ لوگوں کی مختلف جماعتوں میں تقسیم کی جائے سب کو کافی ہو۔ (رواہ البزار)
37523 عن بريدة أن ماعز بن مالك أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأقر بالزنا فرده ، ثم عاد فأقر بالزنا فرده.ثم عاد فأقر بالزنا فرده ، فلما كان في الرابعة سأل عنه قومه : هل تنكرون من عقله شيئا ؟ قالا : لا ، فأمر به فرجم في موضع قليل الحجارة فأبطأ عليهالموت ، فانطلق يسعى إلى موضع كثير الحجارة فاتبعه الناس فرجموه حتى قتلوه ، ثم ذكروا شأنه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وما صنع ، فقال : فلولا خليتم سبيله ! فسأل قومه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنوه في دفنه والصلاة عليه ، فأذن لهم في ذلك وقال لقد تاب توبة لو تابها فئام من الناس قبل منهم (ز).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٤۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز (رض) کو نہ برابھلا کہا اور نہ ہی ان کے لیے استغفار کیا۔ (رواہ ابن جریر)
37524 عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسب ماعزا ولم يستغفر له (ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٥۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ماعزبن مالک (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : مجھ سے برائی سرزد ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں باربار کردیتے بالآخر آپ نے ماعز (رض) کی قوم سے پوچھا : کیا اسے کوئی بیماری تو ہیں ؟ جواب دیا گیا کہ اسے کوئی بیماری نہیں۔ آپ نے ہمیں رجم کرنے کا حکم دیا ہم ماعز (رض) کو لے کر بقیع غرقد میں چلے گئے ہم نے گھڑاکھودا اور نہ ہی انھیں ایک جگہ کھڑا ہونے پر مجبور کیا۔ ہم نے انھیں چھوٹے چھوٹے پتھر اور ٹھیکریاں ماریں پھر وہ دوڑ پڑے ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیے، چنانچہ وہ مقام صرہ میں آگئے اور کھڑے ہوگئے وہاں ہم نے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائے حتیٰ کہ خاموش ہوگئے یعنی اللہ کو پیارے ہوگئے (رواہ ابن عساکر)
37525 عن أبي سعيد أن ماعز بن مالك أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني أصبت فاحشة ! فردده مرارا ، فسأل قومه أبه بأس ؟ قيل : ما به بأس ، فأمرنا فانطلقنا به إلى بقيع الغرقد فلم نحفر ولم نوقفه ، فرميناه بجندل وخزف فسعى وابتدرنا خلفه ، فأتى الحرة فانتصب لنا فرميناه بجلاميد حتى سكت (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٦۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ ماعز (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انھیں چار مرتبہ واپس کردیا اور پھر رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا : چنانچہ جب ان پر پتھر برسائے گئے تو وہ گھومنے لگے اور آہ وبکا شروع کردی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی فرمایا : تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37526 عن مجاهد قال : جاء ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فرده أربع مرات ثم أمر به فرجم ، فلما مسته الحجارة جال وجزع فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال : هلا تركتموه (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ماعزبن مالک (رض)
٣٧٥٢٧۔۔۔ ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری (رض) کی روایت ہے کہ جس دن ماعز (رض) رجم کیے گئے اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی اور پہلی دو رکعتیں بہت طویل کردیں حتیٰ کہ حضرت عمر (رض) نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سر پر ماری جس سے ان کی جان نکل گئی جب ان کی جان نکلی ایک شخص نے کہا : تو بدنصیب ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا۔ یارسول اللہ ! ہم اس پر نماز پڑھیں ؟ فرمایا : جی ہاں دوسرے دن پھر آپ نے ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتیں طویل کیں جب نماز سے فارغ ہوئے فرمایا : اپنے صاحب پر نماز پڑھو چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز جنازہ پڑھی اور لوگوں نے بھی پڑھی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37527 عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف الانصاري أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر يوم ضرب ماعز فطول الاوليين من الظهر حتى كاد الناس يعجزون عنها من طول القيام ، فلما انصرف أمر أن يرجم ، فرجم فلم يقتل حتى رماه عمر بن الخطاب بلحي بعير فأصاب رأسه فقتله ، فقال رجل حين فاظ لماعز : تعست ! فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله ! نصلي عليه ؟ قال : نعم ، فلما كان الغد صلى الظهر فطول الركعتين الاوليين كما طولها بالامس أو أدنى شيئا ، فلما انصرف قال : صلوا على صاحبكم ، فصلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم والناس (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موسیٰ و عمران ابن طلحہ (رض)
٣٧٥٢٨۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دو بیٹیوں کا نام موسیٰ اور عمران رکھا۔ (رواہ ابن مندہ ابن عساکر)
37528 عن موسى بن طلحة عن أبيه قال : سمى رسول الله صلى الله عليه وسلم ابني موسى وعمران (ابن منده ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن فضالہ بن انس بقول بعض محمد بن انس بن فضالہ (رض)
٣٧٥٢٩۔۔۔ محمد بن فضالہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری ملاقات فتح مکہ والے سال ہوئی ہے اس وقت میری عمر دس سال تھی۔ (رواہ ابونعیم)
37529 عن محمد بن فضالة قال وافيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة الفتح وأنا ابن عشر سنين (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن فضالہ بن انس بقول بعض محمد بن انس بن فضالہ (رض)
٣٧٥٣٠۔۔۔ یونس بن محمد بن فضالہ ظفری اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میری والدہ مجھے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میرے لیے دعائے برکت کرنے کے لیے عرض کیا : آپ نے میرے لیے دعا فرمائی اور آپ نے دست اقدس میری گدی پر رکھا یونس کہتے ہیں : میرے والد کے جسم کے سب بال سفید ہوگئے تھے مگر ہو بال جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست اقدس پھیرا تھا وہ سفید نہیں ہوئے۔ (رواہ الحسن بن سفیان اوبونعیم)
37530 عن يونس بن محمد بن فضالة الظفري عن أبيه قال : جاءت بي أمي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألته أن يبرك علي ، ففعل ووضع يده على قفاي. قاله يونس : فشاب كل شعرة من جسده ورأسه إلا ما مرت عليه يد رسول الله صلى الله عليه وسلم (الحسن بن سفيان وأبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن فضالہ بن انس بقول بعض محمد بن انس بن فضالہ (رض)
٣٧٥٣١۔۔۔ یونس بن محمد بن فضالہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میں پندرہ دنوں کا تھا مجھے آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا آپ نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا : اس کا نام میرے نام پر رکھو لیکن میرے کنیت مت رکھو مجھے آپ کے ساتھ حجۃ الوادع کرایا گیا اس وقت میں دس سال کا تھا اور میری زلفیں تھیں یونس کہتے ہیں : محمد کے سر اور جسم کے تمام بال سفید ہوگئے تھے مگر وہ بال جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیرا تھا وہ سفید نہیں ہوئے۔ (رواہ ابونعیم)
37531 عن يونس بن محمد بن فضاله عن أبيه قال : قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن اسبوعين فأتي بي إليه فمسح رأسي وقال : سموه باسمي ولا تكنوه بكنيتي ، وحج بي معه في حجة الوداع وأنا ابن عشر سنين ولي ذؤابة ، قال : فشاب محمد في رأسه ولحيته ما خلا موضع يد رسول الله صلى الله عليه وسلم من رأسه (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن فضالہ بن انس بقول بعض محمد بن انس بن فضالہ (رض)
٣٧٥٣٢۔۔۔ عمروبن انس ظفری لائے گئے آپ نے انھیں کھجوروں کا خوشہ صدقہ کیا جو نہ بیچا گیا تھا اور نہ ہی ہبہ کیا گیا تھا۔ (رواہ ابونعیم)
37532 عن عمرو بن أبي فروة عن مشيخة أهل بيته قال : قتل أنس بن فضالة يوم أحد فأتي بمحمد بن أنس الظفري إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فتصدق عليه بعذق لا يباع ولا يوهب (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت محیصہ بن مسعود بن کعب انصاری اوسی (رض)
٣٧٥٣٣۔۔۔ بنت محیصہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہودی مردوں میں سے جسے بھی قتل کرنے کا تمہیں موقع میسر ہوا سے قتل کردوچنانچہ محیصہ (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور یہودیوں کے ایک تاجر شیبہ کو قتل کردیا۔ محیصہ (رض) اس سے خریدو فروخت کرتے تھے محیصہ (رض) کے بھائی خویصہ (رض) نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا : خویصہ (رض) کو مارتے تھے اور کہتے : اے اللہ کے دشمن تو نے اسے قتل کیا ہے بخدا ! تیرے پیٹ میں جڑی ہوئی بیشتر چربی اسی کے مال سے ہے محیصہ (رض) کہتے ہیں میں نے بھائی کو جواب دیا : اللہ کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تجھے قتل کرنے کا حکم دین اس سے بھی گریز نہیں کروں گا محیصہ (رض) کہتے ہیں بخدا ! یہی واقعہ خویصہ کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بناکہا : بخدا ! اگر محمد تجھے میرے قتل کا حکم دیں تو مجھے قتل کردوگے ؟ محیصہ (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم جی ہاں خویصہ بولے : بخدا ! تمہارے نزدیک دین کا معاملہ یہاں تک پہنچا ہے یہ تو عجیب بات ہے۔ (رواہ ابونعیم)
ابوسفیان کہتے ہیں : مدلوک (رض) کو صحبت کا شرف حاصل ہے۔
ابوسفیان کہتے ہیں : مدلوک (رض) کو صحبت کا شرف حاصل ہے۔
37533 عن بنت محيصة عن أبيها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من ظفرتم به من رجال يهود فاقتلوه ، فوثب محيصة على ابن شيبة رجل من تجار يهود وكان يلابسهم ويبايعهم فقتله وكان حويصة إذ ذاك لم يسلم ، وكان أسن من محيصة ، فلما قتله جعل حويصة يضربه ويقول : أي عدو الله قتلته ! أما والله لرب شحم في بطنك من ماله ! فقلت : والله لو أمرني بقتلك لضربت عنقك ، قال : فو الله إن كان لاول إسلام حويصة ! قال : والله إن أمرك محمد بقتلي لتقتلني ؟ قال محيصة : نعم والله ؟ قال حويصة فو الله إن دينا بلغ بك هذا إنه لعجب (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مدلوک ابوسفیان (رض)
٣٧٥٣٤۔۔۔ آمنہ بنت ابی شعثاء اور ان کی آزادکردہ باندی قطبہ کہتی ہیں کہ ان دونوں نے مدلوک ابوسفیان (رض) کو دیکھا ہے وہ کہتی ہیں ہم نے مدلوک کو کہتے سنا ہے کہ میں اپنی مالک کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر دست شفت پھیرا آمنہ کہتی ہیں میں نے مدلوک کے سر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک کا نشان دیکھا ہے بایں طور کہ سرکاوہ حصہ پر آپ کے دست اقدس پھیرا تھا وہ سیاہ تھا اور باقی حصہ سفید تھا۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر)
37534 عن آمنة ابنة أبي الشعثاء وقطبة مولاتها أنهما رأتا مدلوكا أبا سفيان ، قالتا ، فسمعناه يقول : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم مع مولاتي فأسلمت ، فمسح رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على رأسي.قالت آمنة : فرأيت أثر ما مسح رسول الله صلى الله عليه وسلم من رأسه أسود وسائره أبيض قد شاب (أبو نعيم كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مدلوک ابوسفیان (رض)
٣٧٥٣٥۔۔۔ آمنہ یا امیہ ابی شعثاء اور ان کی آزاد کردہ باندی قطبہ کہتی ہیں : ہم نے ابوسفیان کو کہتے سنا کہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور میں نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا فرمائی اور میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور میرے لیے دعائے برکت فرمائی۔ آمنہ کہتی ہیں : ابوسفیان کے سرکامقدم حصہ تھا جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیرا تھا جبکہ باقی حصہ سفید تھا۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ)
37535 عن آمنة أو أمية بنت أبي الشعثاء وقطبة مولاة لها قالتا : سمعنا أبا سفيان يقول : ذهبت مع موالي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأسلمت معهم ، فدعا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ومسح رأسي بيده ودعا لي بالبركة. قالت : فكان مقدم رأس أبي سفيان أسود ما مسته يد النبي صلى الله عليه وسلم وسائره أبيض (خ في تاريخه ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسلمہ بن مخلد (رض)
٣٧٥٣٦۔۔۔ ابوقتیل کہتے ہیں میں نے مسلمہ بن مخلد انصاری (رح) کو کہتے سنا جبکہ وہ بحری مہم پر کثرت سے آتے جاتے تھے اور لشکر اسے ناپسند کرتا تھا۔ تو مسلمہ (رض) نے کہا : اے اہل مصر ! تم مجھ سے کیوں انتقام لینا چاہتے ہو جان لو میرے بعد کچھ ہونے والا ہے وہ بہتر ہے آخر تو آخر ہے۔ (رواہ ابونعیم)
عن أبي قتيل قال : سمعت مسلمة بن مخلد الانصاري وكان زاد في بعث البحر فكره الجند ذلك فقال : يا أهل مصر ما تنقمون مني ! اعلموا أني خير ممن يأتي بعدي ، والآخر فالآخر (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مسلمہ بن مخلد (رض)
٣٧٥٣٧۔۔۔ مسلمہ بن مخلد کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو میں پیدا ہوا اور جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے اس وقت میری عمر دس (١٠) سال تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37537 عن مسلمة بن مخلد قال : ولدت حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم وقبض وأنا ابن عشر سنين (ش)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت مطاع (رض)
٣٧٥٣٨۔۔۔ عبدالرحمن بن مثنی بن مطلاع بن عیسیٰ بن مطاع بن زیادہ بن مسلم بن مسعود بن ضحاک بن جابربن عدی ابومسعود نحمی اپنے آباء اجداد کسی سند سے اپنے دادا مسعود بن ضحاک کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام مطاع رکھا اور ان سے فرمایا : تم اپنی قوم کے مطاع ( فرمان بردار) ہو آپ نے مطاع (رض) کو ابلق گھوڑا سواری کے لیے دیا اور جھنڈا بھی عطا کیا اور فرمایا : اے مطاع اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلے جاؤ جو شخص بھی میرے جھنڈے تلے آئے گا وہ عذاب سے مامون رہے گا۔ (قال الطبرانی : لایروی الابھذا الا سناد ورواہ ابن عساکر)
37538 حدثنا عبد الرحمن بن المثنى بن مطاع بن عيسى بن مطاع بن زيادة بن مسلم بن مسعود بن الضحاك بن جابر بن عدى أبو مسعود اللخمي ، حدثنا أبي المثنى عن أبيه مطاع عن أبيه عيسى عن أبيه مطاع عن أبيه زيادة عن جده مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم سماه مطاعا وقال له : يا مطاع ، أنت مطاع في قومك ، وحمله على فرس أبلق وأعطاه الراية ، وقال له : يا مطاع ! امض إلى أصحابك فمن دخل تحت رايتي هذا أمن من العذاب (قال ط : لا يروى إذا بهذا الاسناد ، كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت معین بن یزید بن احسن بن حبیب سلمی (رض)
٣٧٥٣٩۔۔۔ حضرت معن بن یزید بن اخنس بن حبیب (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک کیس لے کرگیا۔ آپ نے مجھے میرے مدقابل پر غلبہ دیا پھر مجھے نکاح کی پیش کش کی جسے میں نے قبول کیا اور آپ نے میرا نکاح کرادیا پھر میں نے اور میرے باپ دادا نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
37539 عن معن بن يزيد بن الاخنس بن حبيب قال : خاصمت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأفلجني وخطب علي فأنكحني وبايعته نا وأبي وجدي (طب وأبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت محمد بن حاطب (رض)
٣٧٥٤٠۔۔۔ عبدالرحمن بن عثمان بن ابراہیم بن محمد بن حاطب اپنے والد اور دادا محمد بن حاطب سے روایت نقل کرتے ہیں اور وہ اپنی والدہ ام جمیل بنت مجلل (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں : میں تجھے (یعنی محمد بن حاطب (رض) کو) سرزمین حبشہ سے لے کر آئی اور مدینہ سے ایک یا دو دن کی مسافت پر تھی میں تمہارے لیے کھانا پکارہی تھی کہ لکڑیاں ختم ہوگئیں میں لکڑیاں لینے گئی اور ہنڈیاں چولہے سے نیچے اتارنے لگی۔ ہنڈیا الٹ گئی جو تیرے بازوں پر آن گری جب مدینہ پہنچی میں تجھے لیکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یہ محمد بن حاطب ہے یہ پہلا بچہ ہے جس کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے منہ میں تھتکارا ، تمہارے سر پر دست شفقت پھیرا اور تمہارے لیے دعائے لیے دعائے برکت فرمائی۔ دوران دعا تمہارے ہاتھوں پر تھتکارتے رہے اور یہ دعا پڑھتے رہے۔
اذھب الباس رب الناس ! واشف۔
انت الشافی لاشفاء الاشفاءک شفاء لایغادر سقما۔
اے لوگو کے پر مددگاردکھ تکلیف دور فرمادے اور شفاء عطا فرماتو ہی شفا بخشنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی شفاء بخشنے والا نہیں ہے ایسی شفاجو بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
اس کے بعد میں تمہیں لیکر اٹھ گئی تمہارے ہاتھ بالکل صحیح ہوچکے تھے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابویعلی وابن مندہ ابونعیم وابن عساکر)
اذھب الباس رب الناس ! واشف۔
انت الشافی لاشفاء الاشفاءک شفاء لایغادر سقما۔
اے لوگو کے پر مددگاردکھ تکلیف دور فرمادے اور شفاء عطا فرماتو ہی شفا بخشنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی شفاء بخشنے والا نہیں ہے ایسی شفاجو بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
اس کے بعد میں تمہیں لیکر اٹھ گئی تمہارے ہاتھ بالکل صحیح ہوچکے تھے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابویعلی وابن مندہ ابونعیم وابن عساکر)
37540 عن عبد الرحمن بن عثمان بن إبراهيم بن محمد بن حاطب عن أبيه عن جده محمد بن حاطب عن أمه أم جميل بنت المجلل قالت : أقبلت بك من أرض الحبشة حتى إذا كنت من المدينة على ليلة أو ليلتين طبخت لك طبيخا ففني الحطب فذهبت أطلبه فتناولت القدر فانكفأت على ذراعيك فقدمت بك المدينة فأتيت بك النبي صلى الله عليه وسلم فقلت بأبي أنت وأمي يا رسول ! هذا محمد بن حاطب وهو أول من سمي بك ، فتفل النبي صلى الله عليه وسلم في فيك ومسح على رأسك ودعا لك بالبركة وجعل يتفل على يديك ويقول : أذهب البأس رب الناس ! واشف أنت الشافعي لا شفاء إلا شفاءك شفاء لا يغادر سقما فما قمت بك من عنده حتى برأت يدك (حم ، ع وابن منده وأبو نعيم ، كر) .
তাহকীক: