কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৫৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف نون۔۔۔ حضرت نابغہ جعدی (رض)
٣٧٥٤١۔۔۔ یعلی بن اشدق سے مروی ہے کہ نابغہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اشعار سنائے جب کہ میں آپ کی دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔
بلغنا السماء مجدناوجدودنا
وانالنزجوفوق ذالک مظھرا
ہم اپنی بزرگی و شرافت میں آسمان تک جاپہنچے ہیں اور ہم اس سے بھی کہیں اوپر جانے کی امید رکھتے ہیں آپ نے فرمایا :
اے ابولیلی۔ اس سے اوپر کہاں کا ارادہ ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں گم پائے میں نے عرض کیا : جنت میں فرمایا : جی ہاں انشاء اللہ میں نے کہا :
ولاخیرفی علم اذالم یکن لہ
بوادرتحمی صفوہ ان یکدرا
ولاخیرفی جھل اذالم یکن لہ
حلیم اذا ما اور دالامراصدرا
اس علم میں کوئی خیروبھلائی نہیں جو صاف اور مکدر میں فرق نہ کرسکے اور اس جہالت میں بھی کوئی خیروبھلائی نہیں کا واسطہ کسی بردبار سے نہ پڑے اور وہ معاملہ کو جانچ نہ سکتا ہو۔
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت اچھا اللہ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ یعلی بن اشدق کہتے ہیں میں نے نابغہ (رض) کو دیکھا اس وقت ان کی عمر ایک سو بیس (١٢٠) سال تھی کہ ان کے منہ میں دانت نولی کے تھے اور یوں لگتے تھے جیسا کہ اولے ہوں۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
بلغنا السماء مجدناوجدودنا
وانالنزجوفوق ذالک مظھرا
ہم اپنی بزرگی و شرافت میں آسمان تک جاپہنچے ہیں اور ہم اس سے بھی کہیں اوپر جانے کی امید رکھتے ہیں آپ نے فرمایا :
اے ابولیلی۔ اس سے اوپر کہاں کا ارادہ ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں گم پائے میں نے عرض کیا : جنت میں فرمایا : جی ہاں انشاء اللہ میں نے کہا :
ولاخیرفی علم اذالم یکن لہ
بوادرتحمی صفوہ ان یکدرا
ولاخیرفی جھل اذالم یکن لہ
حلیم اذا ما اور دالامراصدرا
اس علم میں کوئی خیروبھلائی نہیں جو صاف اور مکدر میں فرق نہ کرسکے اور اس جہالت میں بھی کوئی خیروبھلائی نہیں کا واسطہ کسی بردبار سے نہ پڑے اور وہ معاملہ کو جانچ نہ سکتا ہو۔
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت اچھا اللہ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ یعلی بن اشدق کہتے ہیں میں نے نابغہ (رض) کو دیکھا اس وقت ان کی عمر ایک سو بیس (١٢٠) سال تھی کہ ان کے منہ میں دانت نولی کے تھے اور یوں لگتے تھے جیسا کہ اولے ہوں۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
37541 عن يعلى بن الاشدق عن النابغة قال : أنشدت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا عن يمينه : بلغنا السماء مجدنا وجدودنا * وإنا لنرجو فوق ذلك مظهرا فقال : أين المظهر يا أبا ليلى وفي لفظ : فقال : إلى أين ؟ لا أم لك قلت الجنة فقال : أجل إن شاء الله ، فقلت : ولا خير في علم إذا لم يكن له * بوادر تحمي صفوه أن يكدرا ولا خير في جهل إذا لم يكن له * حليم إذا ما أورد الامر أصدرا فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : أجدت لا يفضض فوك مرتين ، فلقد رأيته بعد عشرين سنة ومائة سنة وإن لاسنانه أشرا كأنه البرد (كر وابن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف نون۔۔۔ حضرت نابغہ جعدی (رض)
٣٧٥٤٢۔۔۔ ابن بخار، احمد یحییٰ بن بر کہ البزار، ابونصر یحییٰ بن علی بن محدم خطیب انباری ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب، ابومحمد جعفر بنمحدم ابھری الشاعر (ہمدان میں سماعت ہوئی) ابوبکر عبداللہ بن احمد الفارسی الشاعر ابوعثمان سعدی بن زید بن خالد مولیٰ نبی ہاشم شاعر حمص عبدالسلام بن رعبان الشاعردیک الحن وعبل بن علی شاعر شاعر ابونواس حسن بن ہانی شاعر والبہ حباب شاعر کمیت بن زید وہ اپنے مامون فرزوق شاعر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ طرماح شاعر کہتے ہیں کہ میری ملاقات نابغہ بن جعدہ شاعر سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمہاری ملاقات ہوئی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں بلکہ میں نے تو ایک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا قصیدہ بھی سنایا ہے جس کا مطلع یہ ہے۔
بلغنا المساء مجدناوجدودنا
وانالندجوفوق ذالک مظھرا
نابغہ (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس متغیر ہوتے دیکھا اور غصہ کے آثار نمایاں دکھائی دیتے تھے فرمایا : اے ابویعلی ! آسمان سے اوپر کہاں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جنت میں فرمایا : جی ہاں جنت میں انشا اللہ تعالیٰ ۔
بلغنا المساء مجدناوجدودنا
وانالندجوفوق ذالک مظھرا
نابغہ (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس متغیر ہوتے دیکھا اور غصہ کے آثار نمایاں دکھائی دیتے تھے فرمایا : اے ابویعلی ! آسمان سے اوپر کہاں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جنت میں فرمایا : جی ہاں جنت میں انشا اللہ تعالیٰ ۔
37542 (ه وابن النجار) أنبأنا أحمد بن يحيى بن بركة البزار أنبأنا أبو نصر يحيى بن علي بن محمد الخطيب الانباري عن أبي بكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب أنبأنا أبو محمد جعفر بن محمد الابهري الشاعر بهمدان أنبأنا أبو بكر عبد الله بن أحمد بن محمد الفارسي الشاعر حدثنا أبو عثمان سعيد بن زيد بن خالد مولى بني هاشم الشاعر بحمص حدثنا عبد السلام بن رغبان الشاعر ديك الجن حدثني دعبل بن علي الشاعر حدثني أبو نواس الحسن بن هانئ الشاعر حدثني والبة بن الحباب الشاعر حدثني الكميت بن زيد الشاعر حدثني خالي الفرزدق الشاعر حدثني الطرماح الشاعر قال : لقيت نابغة بن جعدة الشاعر فقلت له : لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال : نعم وأنشدته قصيدتي التي أقول فيها : بلغنا السماء مجدنا وجدودنا * وإنا لنرجو فوق ذلك مظهرا قال : فرأيت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تغير وبدا الغضب فيه فقال : إلى أين يا أبا ليلى ؟ فقلت : إلى الجنة يا رسول الله ! قال : إلى الجنة إن شاء الله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف واؤ۔۔۔ حضرت واثلہ بن اسقع (رض)
٣٧٥٤٣۔۔۔ واثلہ (رض) کہتے ہیں : میں حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آیا اور ان سے حضرت علی (رض) کے بارے میں پوچھا : وہ بولیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ہیں۔ میں وہیں بیٹھ گیا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ان کے ساتھ حضرت علی (رض) حسن (رض) اور حسین (رض) بھی تھے، جبکہ آپ نے حسنین کریمین (رض) کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اندر تشریف لائے پھر حضرت علی (رض) اور فاطمہ (رض) کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھایا جبکہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو اپنی ران پر بٹھایا پھر آپ نے اپنی چادر لپیٹ لی اور پر آیت تلاوت کی ” انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت “ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ تم سے گندگی دور کرنا چاہتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : یا اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں بھی تو آپ کے اہل میں سے ہوں ۔ فرمایا : تو بھی میرے اہل میں سے ہے واثلہ (رض) کہتے ہیں جو چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے لیے چاہی وہ میرے لیے بھی چاہی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)
37543 عن واثلة قال : أتيت فاطمة أسألها عن علي ، فقالت : توجه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس. فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي وحسن وحسين كل واحد منهما بيده حتى دخل ، فأدنى عليا وفاطمة فأجلسهما بين يديه وأجلس حسنا وحسينا كل واحد منهما على فخذهثم لف عليه ثوبه أو قال : كساءه ثم تلا هذه الآية (إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت) ثم قال : اللهم !إن هؤلاء أهل بيتي ، وأهل بيتي أحق ، فقلت : يا رسول الله ! وأنا من أهلك ، فقال : وأنت من أهلي. قال واثلة : إنها لمن أرجى ما أرجو (ش ، كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف واؤ۔۔۔ حضرت واثلہ بن اسقع (رض)
٣٧٥٤٤۔۔۔ واثلہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کو ایک کپڑے تلے جمع کیا اور پھر فرمایا : یا اللہ ! میں نے تیری رحمت مغفرت اور تیری رضا ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم کے لیے بھیجی ہے۔ یا اللہ ! یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں لہٰذا اپنی رحمت مغفرت اور رضا مجھ پر اور ان پر نازل فرما۔ واثلہ (رض) کہتے ہیں : میں دروازے پر کھڑا تھا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھ پر بھی رحمت ایزدی کا نزول ہو۔ فرمایا : یا اللہ واثلہ پر بھی اپنی رحمت نازل فرما (رواہ الدیلمی)
37544 عن واثلة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع فاطمة وعليا والحسن والحسين تحت ثوبه وقال : اللهم ! قد جعلت صلواتك ورحمتك ومغفرتك ورضوانك على إبراهيم وعلى آل إبراهيم ، اللهم ! إن هؤلاء مني وأنا منهم فاجعل صلواتك ورحمتك ومغفرتك ورضوانك علي وعليهم. قال واثلة : وكنت على الباب فقلت : وعلي يا رسول الله بأبي أنت وأمي ! قال : اللهم ! وعلى واثلة (الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ولید بن عقبہ (رض)
٣٧٥٤٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! ولید مجھے مارتا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس سے کہہ دو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پناہ دی ہے چنانچہ تھوڑی دیر گزرنے پائی تھی کہ واپس لوٹ آئی اور بولی : اس نے تو مجھے اور زیادہ مارنا شروع کردیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑے سے ایک ٹکڑا کاٹا اور اس عورت کو دیا اور فرمایا : اس سے کہو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پناہ دی ہے اور یہ کپڑا انہی کے کپڑے کا ٹکڑا ہے تھوڑی دیر گزری تھی واپس لوٹ آئی اور کہنے لگی : ولید نے مجھے اور زیادہ مارا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید کو بددعا دینے کے لیے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور فرمایا : یا اللہ ! ولید سے نمٹ لے اس نے میری معصیت کی ہے آپ نے دویا تین بار فرمایا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسدو عبداللہ بن احمد حنبل وابویعلی وابن جریر وصححہ)
فائدہ :۔۔۔ ولیدبن عقبہ بن ابی معیط (رض) نے معاویہ (رض) کے دور خلافت میں وفات پائی ہے حدیث سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث بن عقبہ (رض) کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی ہے خصوصا حدیث کا آخری جملہ جس میں بددعا کا ذکر ہے اس سے یہ بات اور بھی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
فائدہ :۔۔۔ ولیدبن عقبہ بن ابی معیط (رض) نے معاویہ (رض) کے دور خلافت میں وفات پائی ہے حدیث سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث بن عقبہ (رض) کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی ہے خصوصا حدیث کا آخری جملہ جس میں بددعا کا ذکر ہے اس سے یہ بات اور بھی زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
37545 عن علي أن امرأة الوليد بن عقبة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ! إن الوليد يضربها ! قال : قولي له : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجارني ، فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فقطع النبي صلى الله عليه وسلم هدبة من ثوبه فدفعها إليها وقال : قولي له : هذه هدبة من ثوبه ، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجارني ، فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فرفع يديه وقال : اللهم ! عليك الوليد ! أثم بي مرتين أو ثلاثا (ش ومسدد ، عم ، ع وابن جرير وصححه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف ہاء۔۔۔ حضرت ہلال مولائے مغیرہ (رض)
٣٧٥٤٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دروازہ سے ضرور ایک شخص داخل ہوگا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظررحمت سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت بن شعبہ (رض) کا ایک حبشی غلام داخل ہوا اس کا نام ہلاک تھا اس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں اس کے ہونٹ موٹے تھے سامنے کے دانت ظاہری دکھائی دیتے تھے پیٹ سکڑا ہوا تھا پنڈلیاں پتلی پتلی تھیں پاؤں کے تلوے ہموار مہزول کمر چہرے کی سیاہی پر زردی کا غلبہ تھا وہ ذکر و تسبیح میں مشغول اپنے ہونٹ بلارہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :! ہم ہلال کو آنے پر مرحبا کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤگے بلکہ اپنی عادت کے موافق روزے میں رہو اور اے ہلال : مجھ پر درود بھیجا کرو۔۔ (رواہ ابوعبید الرحمن السلمی فی سنن الوفیہ والدیلمی)
37547- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليدخلن من هذا الباب رجل ينظر الله إليه، فدخل غلام للمغيرة بن شعبة حبشي يقال له هلال غائر العينين، ذابل الشفتين، بادي الثنايا، خميص البطن، أحمش الساقين، أحنف القدمين، مهزول، تعلوه صفرة، على سوأته خرقة، وهو يحرك شفتيه بالذكر والتسبيح؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مرحبا بهلال! هل لك في الغداء؟ بل صم على ما أنت عليه، وصل علي يا هلال. "أبو عبد الرحمن السلمي في سنن الصوفية والديلمي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ھانی ابومالک (رض)
٣٧٥٤٧۔۔۔ مفضل بن غسان کہتے ہیں میں نے یحیی بن معین سے کہا : مجھے ابوایوب سلیمان بن عبدالرحمن دمشقی نے اس سند سے حدیث بیان کی خالد بن یزید عبدالرحمن بن ابی مالک، وہ اپنے والد اور دادا ھانی ابومالک ھمدانی سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں یمن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سرپر دست شفقت پھیرا اور میرے لیے دعائے برکت کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھانی (رض) کو یزید ابی سفیان کے ہاں ٹھہرایا پھر اس لشکر کے ساتھ شام روانہ ہوگئے جسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھیجا تھا پھر وہ شام سے واپس نہیں لوٹے۔ چنانچہ یحییٰ بن معین نے خالد بن یزید کو ضعیف قرار دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
37548- عن المفضل بن غسان قال: قلت ليحيى بن معين: إن أبا أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي حدثني عن خالد بن يزيد بن عبد الرحمن ابن أبي مالك عن أبيه عن جده هانئ أبي مالك الهمداني قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن فأسلمت، ومسح رسول الله صلى الله عليه وسلم برأسي ودعا لي بالبركة، ثم أنزله على يزيد بن أبي سفيان، ثم خرج في الجيش إلى الشام الذي بعثهم أبو بكر الصديق فلم يرجع. فضعف يحيى خالد بن يزيد هذا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف یاء۔۔۔ حضرت یسار مولیٰ مغیرہ (رض)
٣٧٥٤٨۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں مسجد میں بیٹھا اتنے میں ایک حبشی غلام اندر داخل ہوا اس کے جسم میں عیب تھا اور اس نے سرپریمنی چادر اوڑھ رکھی تھی وہ حضرت مغیرہ شعبہ (رض) کا غلام تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھ کر فرمایا : ہم یسار کو آنے پر مرحبا کہتے ہیں۔
37549- عن أبي هريرة قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد إذ دخل عبد حبشي مجدع وعلى رأسه حبرة غلام للمغيرة بن شعبة فقال النبي صلى الله عليه وسلم : مرحبا بيسار (الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یزید ابی سفیان (رض)
٣٧٥٤٩۔۔۔ عمروبن یحییٰ بن سعید اموی اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوسفیان (رض) حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے حضرت عمر (رض) ابوسفیان سے ان کے بیٹے یزید کی تعریف کی حضرت عمر (رض) نے کہا : اے ابوسفیان اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے بیٹے کے متعلق اجرعطافرمائے ابوسفیان نے پوچھا : اے امیرالمومنین ! میرے کس بیٹے کی آپ بات کررہے ہیں ؟ فرمایا : یزید کی ابوسفیان بولے : اسے کس نے سرکاری کام پر بھیجا تھا ؟ فرمایا : اس کے بھائی معاویہ نے پھر عمر (رض) نے فرمایا : یہ دونوں بھائی مصلح ہیں، ہمارے لیے حلال نہیں کہ ہم کسی مصلح کو اس کے عہدے سے سبکدوش کردیں۔ (رواہ ابن سعد واللالکائی فی السنۃ)
37550- عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأموي عن جده أن أبا سفيان دخل على عمر بن الخطاب فعزاه عمر بابنه يزيد فقال: آجرك الله في ابنك يا أبا سفيان! فقال: أي بني يا أمير المؤمنين؟ قال: يزيد، قال: فمن بعثت على عمله؟ قال: معاوية أخاه، قال عمر: ابنان مصلحان، وإنه لا يحل لنا أن ننزع مصلحا."ابن سعد، واللالكائي في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٠۔۔۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) جب ابوموسیٰ اشعری (رض) کو دیکھتے کہتے اے ابوموسیٰ ! ہمیں اپنے رب کی یاد دلاؤ ابوموسی (رض) عمر (رض) کے پاس قرآن مجید کی تلاوت شروع کردیتے۔ (رواہ عبدالرزاق وابوعبیدہ وابن سعد)
37551- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: كان عمر إذا رأى أبا موسى قال: ذكرنا ربنا يا أبا موسى! فيقرأ عنده. "عب وأبو عبيدة وابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥١۔۔۔ انس بن مالک کی روایت ہے کہ مجھے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجا حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم نے اشعری کو کسی حال میں چھوڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے انھیں لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے چھوڑا ہے عمر (رض) نے فرمایا : بلاشبہ وہ عقلمند آدمی ہے پھر پوچھا : تم نے اعراب کو کس حال میں چھوڑا میں نے کہا : آپ اشعرین کے متعلق پوچھ رہے ہیں ؟ فرمایا : نہیں بلکہ میں اہل بصرہ کے متعلق پوچھ رہا ہوں میں نے کہا : اگر وہ کلمہ (اعراب یعنی گنواردیہاتی) سن لیں تو یہ ان ہر گراں گزرے گا فرمایا : انھیں یہ بات مت پہنچاؤ بلاشبہ وہ تو اعراب (گنوار) ہیں الایہ کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جہاد فی سبیل اللہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (رواہ ابن سعد)
37552- عن أنس بن مالك قال: بعثني الأشعري إلى عمر: فقال عمر : كيف تركت الاشعري ؟ فقلت له : تركته يعلم الناس القرآن ، فقال : أما ! إنه كيس ولا تسمعها إياه ، ثم قال : كيف تركت الاعراب ؟ قلت : الاشعريين ؟ قال : لا بل أهل البصرة ، قلت : أما إنهم لو سمعوا هذا لشق عليهم ، قال : فلا تبلغهم فانهم أعراب إلا أن يرزق الله رجلا جهادا في سبيل الله (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٢۔۔۔ حضرت برآء بن عازب (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوموسی (رض) کو قرآن پڑھتے سنا آپ نے فرمایا : یہ آواز گویا تو داؤد کی مانند ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37552 عن البراء بن عازب قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم أبا موسى يقرأ القرآن فقال : كأن صوت هذا من مزامير آل داود وفي لفظ : من أصوات آل داود (ع ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٣۔۔۔ یریدہ (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوموسی اشعری (رض) کی قرآن پڑھنے کی آواز سنی فرمایا : اسے تو داؤد (علیہ السلام) کا حن عطا کیا گیا ہے بریدہ (رض) کہتے ہیں : میں نے ابوموسی : کو یہ بات سنائے وہ بولے : تم نے مجھے یہ خبر سنائی اب سے تم میری دوست ہو اگر مجھے پتہ ہوتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری آواز سن رہے ہیں میں اپنی آواز میں اور زیادہ خوبصورتی پیدا کرتا ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے شخص کی آواز سنی فرمایا : کیا تم اسے ریاکارکہہ سکتے ہو ؟ میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا آپ نے دویا تین بار مجھ سے پوچھا : میں نے عرض کیا کیا آپ اسے ریا کار کہتے ہیں بلکہ وہ تو حالب رضا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اور شخص کو دعا کرتے سنا جو یہ دعا مانگ رہا تھا
اللھم انی اسالک بانی اشھدانک انت اللہ الذی لاالہ انت الاحدا الصمد الذی لم تلدولم تولد ولم یکن لک کفوا احد
یا اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں تو ہی اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ایک اور بےنیاز نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ ہی تو کسی کی اولاد اور تیرا کوئی ہمسر نہیں دعا سننے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ایسے نام کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جب اس نام سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے وہ ضرور قبول فرماتا ہے
اور جب سوال کیا جائے عطا فرماتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
اللھم انی اسالک بانی اشھدانک انت اللہ الذی لاالہ انت الاحدا الصمد الذی لم تلدولم تولد ولم یکن لک کفوا احد
یا اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں تو ہی اللہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ایک اور بےنیاز نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ ہی تو کسی کی اولاد اور تیرا کوئی ہمسر نہیں دعا سننے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ایسے نام کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جب اس نام سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے وہ ضرور قبول فرماتا ہے
اور جب سوال کیا جائے عطا فرماتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37553 عن بريدة قال : سمع النبي صلى الله عليه وسلم صوت الاشعري أبي موسى وهو يقرأ فقال : لقد أوتي هذا مزمارا من مزامير آل داود ! فحدثته ذلك فقال : الآن أنت لي صديق حين أخبرتني هذا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، لو علمت أن علمت أن نبي الله صلى الله عليه وسلم يتسمع لقراءتي حبرتها تحبيرا ، قال : وسمع النبي صلى الله عليه وسلم صوتا آخر فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أتقوله مرائيا ؟ فلم أجب النبي صلى الله عليه وسلم بشئ حتى رددها علي مرتين أو ثلاثا ، فقلت بعد اثنتين أو ثلاث : أتقوله مرائيا بل هو منيب ، قال : وسمع آخر يدعو يقول : اللهم ! إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله الذي لا إله إلا أنت الاحد الصمد الذي لم تلد ولم تولد ولم يكن لك كفوا أحد ، فقال : لقد سأل الله باسمه الذي إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٤۔۔۔ ابوبجاء حکیم کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عمار (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ (رض) آگئے اور کہا : مجھے تم سے کیا دوری ؟ بھلا میں تمہارا بھائی نہیں ہوں ؟ عمار (رض) نے عذرظاہر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے استٖغفار کردیا ہے۔ عمار (رض) اس پر بولے : میں لعنت کرتے وقت تو آپ کے پاس حاضر تھا جبکہ استغفار کرتے وقت حاضر نہیں تھا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ ابن عدی نے اس روایت کو واہی تباہی۔ (موضوع) قراردیا ہے۔
کلام :۔۔۔ ابن عدی نے اس روایت کو واہی تباہی۔ (موضوع) قراردیا ہے۔
37554 عن أبي نجاء حكيم قال : كنت جالسا مع عمار فجاء أبو موسى فقال : ما لي ولك ؟ ألست أخاك ؟ قال : ما أدري ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلعنك ليلة الجبل ، قال : إنه قد استغفر لي ، قال عمار : قد شهدت اللعن ولم أشهد الاستغفار (عد ووهاه ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٥۔۔۔ عیاض اشعری کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ “ عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ” آیت میں قوم سے مراد ہی یہ لوگ ہیں۔ آپ نے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی طرف اشارہ کیا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن عساکر)
37555 عن عياض الاشعري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في قوله تعالى (فسوف يأتي الله بقوم يحبهم ويحبونه) : قوم هذا وأشار إلى أبي موسى الاشعري (ش ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٦۔۔۔ ابوموسی (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر تھا آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا آپ کے ہمراہ بلال (رض) بھی تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا : اے محمد آپ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا وہ پورا نہیں کرتے ہو ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے بشارت ہے۔ اعرابی بولا : آپ نے مجھے بہت ساری بشارتیں لے لی ہیں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوموسیٰ (رض) اور بلال (رض) کی طرف غصہ میں متوجہ ہوئے اور فرمایا : اس اعرابی نے بشارت رد کردی ہے لہٰذا تم دونوں بشارت قبول کرلو۔ دونوں نے عرض کیا رسول اللہ ! ہم سے آپ کی خوشخبری قبول فرمائی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک برتن منگوایا اس میں ہاتھ دھوئے اور چہرہ اقدس دھویا اور منہ میں پانی لیکر اس میں کلی کی پھر ان دونوں سے فرمایا : یہ پانی پی لو۔ اور کچھ اپنے سروں پر انڈیل لو ایک روایت میں ہے کہ اپنے چہروں پر ڈال لو۔
اور سینوں پر ڈال لو۔ خوش ہوجاؤ ابوموسی (رض) اور بلال (رض) نے برتن لیا اور آپ کا حکم بجالایا پردہ کے پیچھے سے حضرت ام سلمہ (رض) نے آواز دی کہ اپنی ماں کے لیے بھی پانی بچادو چنانچہ دونوں نے کچھ پانی برتن میں ام سلمہ (رض) کے لیے بچالیا۔ (رواہ ابویعلی)
اور سینوں پر ڈال لو۔ خوش ہوجاؤ ابوموسی (رض) اور بلال (رض) نے برتن لیا اور آپ کا حکم بجالایا پردہ کے پیچھے سے حضرت ام سلمہ (رض) نے آواز دی کہ اپنی ماں کے لیے بھی پانی بچادو چنانچہ دونوں نے کچھ پانی برتن میں ام سلمہ (رض) کے لیے بچالیا۔ (رواہ ابویعلی)
37556 عن أبي موسى قال : كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وهو نازل بالجعرانة بين مكة والمدينة ومعه بلال فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل أعرابي فقال : ألا تنجز لي يا محمد ما وعدتني ؟ فقال له رسول الله : أبشر ! فقال له الاعرابي : قد أكثرت علي من البشرى ، فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على أبي موسى وبلال كهيئة الغضبان فقال : إن هذا قد رد البشرى فاقبلا أنتما : فقالا : قبلنا يا رسول الله ! فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدح فيه ماء فغسل يديه ووجهه فيه ومج فيه ثم قال لهما : أشربا منه وأفرغا على رؤسكما وفي رواية : وجوهكما ونحوركما وأبشرا ! فأخذا القدح ففعلا ما أمرهما به رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فنادتهما أم سلمة من وراء الستر : أن أفضلا لامكما مما في إنائكما ، فأفضلا لها منه طائفة (ع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوموسیٰ کی قرات کی آواز سنی ارشاد فرمایا : ابوموسیٰ کو لحن داؤد سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37557 عن عائشة قالت : سمع النبي صلى الله عليه وسلم صوت أبي موسى الاشعري وهو يقرأ فقال : لقد أوتي أبو موسى من مزامير داود (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر مبارک دھلا رہی تھی آپ نے مسجد میں (قرآن کی) ایک آواز سنی فرمایا : ذرا جھانک کر دیکھو یہ کون ہے میں نے جھانک کر دیکھا تو وہ ابوموسیٰ (رض) تھے میں نے تو آپ بتایا۔ آپ نے فرمایا : ابوموسیٰ کو داؤد کی آواز عطا کی گئی ہے۔ رواہ ابن عساکر)
37558 عن عائشة قالت : كنت اغسل رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوتا في المسجد فقال : اطلعي فانظري من هذا ، فاطلعت فنظرت فإذا هو أبو موسى فأخبرته ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن أبا موسى أوتي مزمارا من مزامير داود (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٥٩۔۔۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوموسیٰ (رض) کی قرات سنی فرمایا : اسے تو لحن داؤدی عطا کی گئی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37559 عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي موسى وسمع قراءته : لقد أوتي هذا من مزامير آل داود (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٦٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوموسی (رض) اپنے گھر میں بیٹھے اور ان کے اس پاس لوگ جمع ہوگئے ابوموسیٰ (رض) نے لوگوں کو قرآن سنانا شروع کردیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں آپ کو ابوموسیٰ کے متعلق عجیب بات نہ سناؤں چنانچہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہے اور اس کے پاس لوگ جمع ہیں اور اس نے لوگوں کو قرآن سنانا شروع کردیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مجھے ایسی جگہ بٹھا سکتے ہو جہاں سے میں اسے دیکھ سکوں لیکن مجھے کوئی نہ دیکھ سکے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں وہ شخص باہر نکل گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس کے ساتھ تھے پھر اس نے آپ کو ایسی جگہ بٹھایا جہاں سے اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا آپ نے ابوموسیٰ (رض) کی قرات سنی اور فرمایا : اسے تو لحن داؤدی سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37560 عن أنس : قال قعد أبو موسى في بيته واجتمع عليه ناس فأنشأ يقرأ عليهم القرآن فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! ألا أعجبك من أبي موسى أنه قعد في بيت واجتمع عليه ناس فأنشأ يقرأ عليهم القرآن ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتستطيع أن تقعدني من حيث لا يراني فيهم أحد ؟ قال : نعم ، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقعده الرجل حيث لا يراه أحد منهم فسمع قراءة أبي موسى فقال : إنه ليقرأ على مزمار من مزامير آل داود (ع كر).
তাহকীক: