কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৫৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٦١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوموسیٰ کو لحن داؤدی سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37561 عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطي أبو موسى مزمارا من مزامير آل داود (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٦٢۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات ابوموسیٰ (رض) قرآت قرآن کررہے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قرات سماعت فرمائی صبح کو ابوموسیٰ (رض) کو خبر کی گئی انھوں نے کہا : اگر مجھے خبر ہوتی ہیں آواز میں اور زیادہ دلکشی پیدا کرتا اور آپ کو مزید مشتاق بنایا۔ (رواہ ابن عساکر)
37562 عن أنس أن أبا موسى كان يقرأ ذات ليلة فبينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يستمع فلما أصبح قيل له فقال : لو علمت لحبرت تحبيرا ولشوقت تشويقا (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیتوں کا بیان
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض)
٣٧٥٦٣۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوموسیٰ (رض) کے پاس سے گزرے وہ مسجد میں بیٹھے بآواز بلند قرآن کررہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے تو لحن داؤدی سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37563 عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم مر بأبي موسى رافعا صوته يقرأ في المسجد فقال : لقد أوتي هذا من مزامير آل داود (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ (رض)
٣٧٥٦٤۔۔۔ عبدالرحمن بن کعب بن مالک کہتے ہیں جب میرے والد محترم (رض) کی بصارت جاتی رہی میں ان کا ہاتھ کر انھیں چلاتا تھا چنانچہ جمعہ کے دن نماز کے لیے جب وہ باہر جاتے اور اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے استغفار کرتے اور ان کے لیے دعائیں کرتے میں نے پوچھا : اباجان ! آپ جب اذان سنتے ہیں ابوامامہ (رض) کے لیے استغفار کرتے ہیں ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور ان پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : اے بیٹے ! یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل ہمیں نفیع الخضمات میں حرہ بیاضہ میں جمع کیا تھا۔ (اور جمعہ کا اہتمام کیا تھا) میں نے پوچھا : اس وقت آپ کی تعداد کتنی تھی ؟ فرمایا : ہم چالیس آدمی تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والطبرانی و ابونعیم فی المعرفۃ)
37564 عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال : كنت قائد أبي حين ذهب بصره فكنت إذا خرجت معه الجمعة فسمع التأذين استغفر لابي أمامة أسعد بن زرارة ودعا له ، فقلت له : يا أبت ! ما شأنك إذا سمعت التأذين استغفرت لابي أمامة ودعوت له وصليت عليه ؟ قال : أي بني ! إنه كان أول من جمع بنا قبل قدوم النبي صلى الله عليه وسلم في نقيع الخضمات في حرة بني ، بياضة قلت : وكم كنتم يومئذ ؟ قال : كنا أربعين رجلا (ش ، طب وأبو نعيم في المعرفة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان (رض)
٣٧٥٦٥۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک قوم کی طرف بھیجا تاکہ میں انھیں اللہ اور اس کے رسول کی دعوت دوں اور ان پر شرائع اسلام پیش کروں جب میں ان لوگوں کے پاس پہنچا وہ اپنے اونٹوں کو پانی پلا رہے تھے اور دودھ دوہ کر پی رہے تھے جب انھوں نے مجھے دیکھا بولے : ہم صدی بن عجلان کو آمد پر مرحبا کہتے ہیں : کہنے لگے : ہمیں خبر پہنچی ہے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اس شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی طرف مائل ہوگئے ہو۔ میں نے کہا : ایسی بات نہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں السام اور اس کے شرائط سے آگاہ کروں۔ اسی دروان یہ لوگ خون سے بھرا ہوا ایک برتن لائے اسے اپنے درمیان رکھا اور اس کے اردگرد جمع ہوگئے اور خون کھانے لگے بولے : اے صدی ! تم بھی آجاؤ میں نے کہا : تمہاری ہلاکت ! میں تمہارے ہاں ایسی شخصیت کے پاس سے آیا ہوں جس نے خون کو تمہارے اوپر حرام قرار دیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر حکم نازل فرمایا ہے۔ بولے : وہ کیا ہے ؟ میں نے یہ آیت تلاوت کی :
” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔۔۔ ذلکم فسق “
یعنی مردار خون اور خنزیر کا گوشت تمہارے اوپر حرام کردیا گیا ہے الایۃ۔
میں نے انھیں سلام کی دعوت دینے لگا مگر وہ برابر انکار کرتے رہے۔ میں بولا : تمہاری ہلاکت ! مجھے ایک گھونٹ پانی تو پلاؤ مجھے شدید پیاس لگی ہوئی ہے میں نے اپنے اوپرعباء اوڑھ رکھی تھی وہ بولے : ہم تمہیں پانی نہیں دیں گے حتیٰ کہ تو پیاسا تڑپتا تڑپتا مرجائے میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا اور عبا (چغہ) میں سرڈال کر گرم سنگریزوں پر شدید گرمی میں سوگیا۔ خواب میں میرے پاس کوئی شخص آیا اس کے پاس ہاتھ میں کانچ کا کو بصورت جام تھا جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا جام میں مشروب تھا اور وہ ایسا لذیذ تھا کہ لوگوں نے اس جیسا کبھی دیکھا نہیں۔ اس نے جام مجھے تھمادیا میں نے وہ پی لیاجب میں پی کر فارغ ہوا فوراً بیدار ہوگیا اللہ کی قسم اس کے بعد مجھے پیاس لگی اور نہ بھوک لگی۔ (رواہ ابن عساکر)
” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔۔۔ ذلکم فسق “
یعنی مردار خون اور خنزیر کا گوشت تمہارے اوپر حرام کردیا گیا ہے الایۃ۔
میں نے انھیں سلام کی دعوت دینے لگا مگر وہ برابر انکار کرتے رہے۔ میں بولا : تمہاری ہلاکت ! مجھے ایک گھونٹ پانی تو پلاؤ مجھے شدید پیاس لگی ہوئی ہے میں نے اپنے اوپرعباء اوڑھ رکھی تھی وہ بولے : ہم تمہیں پانی نہیں دیں گے حتیٰ کہ تو پیاسا تڑپتا تڑپتا مرجائے میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا اور عبا (چغہ) میں سرڈال کر گرم سنگریزوں پر شدید گرمی میں سوگیا۔ خواب میں میرے پاس کوئی شخص آیا اس کے پاس ہاتھ میں کانچ کا کو بصورت جام تھا جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا جام میں مشروب تھا اور وہ ایسا لذیذ تھا کہ لوگوں نے اس جیسا کبھی دیکھا نہیں۔ اس نے جام مجھے تھمادیا میں نے وہ پی لیاجب میں پی کر فارغ ہوا فوراً بیدار ہوگیا اللہ کی قسم اس کے بعد مجھے پیاس لگی اور نہ بھوک لگی۔ (رواہ ابن عساکر)
37565 عن أبي أمامة قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قوم أدعوهم إلى الله وإلى رسوله وأعرض عليهم شرائع الاسلام ، فأتيتهم وقد سقوا إبلهم واحتلبوها وشربوا ، فلما رأوني قالوا : مرحبا بصدى ابن عجلان ؟ قالوا : بلغنا أنك صبوت إلى هذا الرجل ، قلت : لا ولكني آمنت بالله ورسوله ، وبعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم أعرض عليكم الاسلام وشرائعه ، فبينا نحن كذلك إذ جاؤها بقصعة من دم فوضعوها واجتمعوا عليها يأكلونها ، قالوا هلم يا صدى ! قلت : ويحكم ! إنما أتيتكم من عند من يحرم هذا عليكم بما أنزل الله عليه ، قالوا : وما ذلك ؟ فتلوت هذه الآية (حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير) إلى قوله (ذلكم فسق) فجعلت أدعوهم إلى الاسلام ويأبون علي ، فقلت لهم : ويحكم ! اسقوني شربة من ماء ، فاني شديد العطش وعلي عباءة ، قالوا : لا ولكن ندعك حتى تموت عطشان ، فاعتصمت فضربت برأسي في العباءة ونمت في الرمضاء في حر شديد ، فأتاني آت في منامي بقدح زجاج لم ير الناس أحسن منه وفيه شراب لم ير الناس شرابا ألذ منه ، فأمكنني منها فشربتها ، فحين فرغت من شرابي استيقظت ، فلا والله ! ما عطشت ولا غرثت بعد تلك الشربة (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان (رض)
٣٧٥٦٥۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کہتے ہیں : یارسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر فرمایا : اے ابومامہ ! بعض مومنین کے لیے میرا دل نہایت نرم و مہربان ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37565 عن أبي أمامة قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي ثم قال : يا أبا أمامة ! إن من المؤمنين من يلين له قلبي (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسفیان (رض)
٣٧٥٦٦۔۔۔ حضرت معاویہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ابوسفیان (رض) گدھے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف نکلے انھوں نے اپنے پیچھے (اپنی بیوی) ہندکو سوار کرلی میں کمسن لڑکا تھا اور میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر ان کے آگے آگے چلنے لگا اچانک ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سنی ابوسفیان (رض) بولے : اے معاویہ (رض) نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہوجائے۔ میں گدھی سے نیچے اتر آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے آپ آرام آرام سے ہمارے آگے چلنے لگے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے ابوسفیان (رض) بن حرب ! اے ھندبنت عتبہ ! اللہ کی قسم تم نے ضرور مرنا ہے اور پھر تم دوبارہ زندہ کیے جاؤگے پھر تم میں سے جو نیکوکار ہوگا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور جو بدکار ہوگا وہ دوزخ میں چلا جائے گا۔ میں نے جو کچھ تم سے کہا ہے دوسرا سر حق ہے تم پہلے ہو جسے میں ڈرسنا رہا ہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیات تلاوت فرمائیں ۔” حم تنزیل من الرحمن الرحیم۔۔۔ سے اتینا طائعین “ تک۔ ابوسفیان بولے : اے محمد ! تم نے اپنی بات پوری کرلی ؟ فرمایا : جی ہاں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے نیچے اتر آئے اور میں دوبارہ سوار ہوگیا۔ اتنے میں ھند نے ابوسفیان کی طرف متوجہ ہو کر کہا : تم نے اس جھوٹے جادو گر کے لیے میرا بیٹا سواری سے نیچے اتارا ہے۔ ابوسفیان (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ایسی بات نہیں نہ وہ جادو گر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37566 عن معاوية قال : خرج أبو سفيان إلى بادية له مردفا هندا وخرجت أسير أمامهما وأنا غلام على حمارة لي إذ سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال أبو سفيان : أنزل يا معاوية حتى يركب محمد ، فنزلت عن الحمارة وركبها رسول الله صلى الله عليه وسلم.
فسار أمامنا هنيهة ثم التفت إلينا فقال : يا أبا سفيان بن حرب ! ويا هند ابنة عتبة ! والله لتموتن ثم لتبعثن ثم ليدخلن المحسن الجنة والمسئ النار ! وأنا أقول لكم بحق ، وإنكم لاول من أنذر ، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم (حم.تنزيل من الرحمن الرحيم) حتى بلغا (قالتا أتينا طائعين) فقال أبو سفيان : أفرغت يا محمد ؟ قال : نعم ، ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحمارة وركبتها ، وأقبلت هند على أبي سفيان فقالت : ألهذا الساحر الكذاب أنزلت ابني ؟ قال : لا والله ! ما هو بساحر ولا كذاب (كر).
فسار أمامنا هنيهة ثم التفت إلينا فقال : يا أبا سفيان بن حرب ! ويا هند ابنة عتبة ! والله لتموتن ثم لتبعثن ثم ليدخلن المحسن الجنة والمسئ النار ! وأنا أقول لكم بحق ، وإنكم لاول من أنذر ، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم (حم.تنزيل من الرحمن الرحيم) حتى بلغا (قالتا أتينا طائعين) فقال أبو سفيان : أفرغت يا محمد ؟ قال : نعم ، ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحمارة وركبتها ، وأقبلت هند على أبي سفيان فقالت : ألهذا الساحر الكذاب أنزلت ابني ؟ قال : لا والله ! ما هو بساحر ولا كذاب (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعامر (رض)
٣٧٥٦٦۔۔۔ ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر (رض) بولے : اے ابوموسی ! اس شخص کو جانتے ہو میں نے جواب دیا : نہیں۔ بھلایہ کون ہے ؟ فرمایا : یہ وہی شخص ہے جو ابوعامر (رض) کے قتل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا حالانکہ اس سے قبل ابوعامر (رض) دس (١٠) مشرکین کو قتل کرچکے تھے جبکہ کسی شخص کو قتل کرتے کہتے ! یا اللہ گواہ رہنا حتیٰ کہ جب یہ گیارھواں باقی رہا اور ابوعامر (رض) نے اپنی تلوار زہر آلود سے اس کا کام تمام کرنا چاہا تو بولے : یا اللہ گواہ رہنا یہ شخص ایک باغ میں اتر گیا اور بولا : یا اللہ آج میرے خلاف گواہ نہ ہونا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سو آج یہ مسلمان ہو کر حاضر ہوگیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37566 (مسند عمر) عن أبي موسى الاشعري قال : أتيت عمر فسلمت عليه فإذا رجل قاعد عنده ، فقال عمر : يا أبا موسى ! أتعرف هذا الرجل ؟ قلت : لا ، ومن هذا الرجل ؟ قال : هذا الذي أفلت من قتل أبي عامر ، قال : وقد قتل أبو عامر قبله عشرة من المشركين ، كلما قتل رجلا قال : اللهم اشهد ! حتى إذا بقي هذا الحاري عشر ذهب ليتعاطاه فقال : اللهم اشهد ! فنزل الرجل حائطا وقال : اللهم لا تشهد علي اليوم ! فقال عمر : فقد جاء اليوم
مسلما (كر).
مسلما (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب انصاری (رض)
٣٧٥٦٧۔۔۔ حضرت ابوایوب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھایا آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوایوب اللہ تعالیٰ تم سے برائی کو دور کرے۔ (رواہ ابن عساکر)
37567 عن أبي أيوب أنه تناول من لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم الاذى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مسح الله بك يا أبا أيوب ما تكره (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب انصاری (رض)
٣٧٥٦٨۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ ابوایوب انصاری (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک سے کوئی چیز اٹھائی آپ نے فرمایا : اے ابوایوب اللہ تعالیٰ تمہیں برائی میں مبتلانہ کرے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
37568 عن سعيد بن المسيب أن أبا أيوب الانصاري أخذ من لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : لا يصيبك السوء يا أبا أيوب (عد ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب انصاری (رض)
٣٧٥٦٩۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ ابوایوب انصاری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ڈاڑھی مبارک میں کوئی چیز (تنکا وغیرہ) دیکھا ابوایوب (رض) نے ڈاڑھی مبارک سے الگ کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھایا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوایوب سے ناپسندیدہ چیز کو دور رکھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
37569 عن سعيد بن المسيب أن أبا أيوب الانصاري أبصر إلى لحية رسول الله صلى الله عليه وسلم أذى فنزعه فأراه إياه فقال النبي صلى الله عليه وسلم : نزع الله عن أبي أيوب ما يكره (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب انصاری (رض)
٣٧٥٧٠۔۔۔” مسند ابی ایوب “ (رض) حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ حضرت ابوایوب (رض) حضرت معاویہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے اپنے اوپر قرض ہونے کا شکایت کی تاہم حضرت معاویہ (رض) کی طرف سے کوئی خاص دلچسپی نہ دیکھی اور وہ بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ : میرے بعد عنقریب مال ودلت کی فراوانی دیکھو گے پوچھا : تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے ؟ جواب دیا : صبر کا معاویہ (رض) نے کہا : پس تم بھی صبر کرو ابوایوب (رض) بولے : بخدا ! میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا پھر ابوایوب (رض) بصرہ آئے اور ابن عباس (رض) کے ہاں قیام کیا ابن عباس (رض) نے اپنا گھر خالی کیا اور کہا : میں بھی آپ کے ساتھ اسی طرح کروں گا جس طرح آپ نے (ہجرت کے موقع پر ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا ابن عباس (رض) نے کہا : گھر میں جو کچھ ہے سب تمہارا ہے نیزابن عباس (رض) نے ابوایوب (رض) کو چالیس ہزار درہم اور بیس مملوک بھی دیئے۔ (رواہ الدویانی وابن عساکر)
37570 (مسند أبي أيوب) عن حبيب بن أبي ثابت أن أبا أيوب أتى معاوية فشكا إليه أن عليه دينا ، فلم ير منه ما يحب ورأى ما يكرهه ، فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إنكم سترون بعدي أثرة ! قال : فأي شئ قال لكم ؟ قال : اصبروا ، قال : فاصبروا ، فقال : والله لا أسألك شيئا أبدا ! فقدم البصرة فنزل على ابن عباس ، ففرغ له بيته وقال : لاصنعن بك كما صنعت برسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأمر أهله فخرجوا وقال : لك ما في البيت كله وأعطاه أربعين ألفا وعشرين مملوكا (الروياني ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوایوب انصاری (رض)
٣٧٥٧١۔۔۔ عمارہ بن غزیہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوایوب (رض) حضرت معاویہ (رض) کے پاس آئے اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا کہ اے جماعت انصار ! تم لوگ عنقریب میرے بعد مال و دولت کی فراونی دیکھو گے اس وقت تم صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ حضرت معاویہ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شچ فرمایا : اور سب سے پہلے اس کی تصدیق کرتا ہوں ابوایوب (رض) بولے : کیا اللہ اور اس کے رسول پر جرات ہے ؟ میں اس سے کبھی بات نہیں کروں گا اور کیا میرے گھر کی چھت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور مجھے پناہ نہیں دی تھی۔ (رواہ یعقوب سفیان وابن عساکر)
37571 عن عمارة بن غزية قال : دخل أبو أيوب على معاوية فقال : صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا معشر الانصار ! إنكم سترون بعدي أثرة فعليكم بالصبر ! فقال معاوية : صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أنا أول من صدقه ، فقال : أجرأة على الله وعلى رسوله ؟ لا أكلمه أبدا ولا يأويني وإياه سقف بيت (يعقوب بن سفيان ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض)
٣٧٥٧٢۔۔۔ ابوثعلبہ (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے کسی ایسے شخص کے پاس بھیج دیں جو اچھی طرح سے میری تعلیم و تربیت کرسکے چنانچہ آپ نے مجھے ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کے پاس بھیجا اور ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جو اچھی طرح سے تمہاری تعلیم
و تربیت کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
و تربیت کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37572 عن أبي ثعلبة قال : لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت : يا رسول الله ! ادفعني إلى رجل حسن التعليم ، فدفعني إلى أبي عبيدة ابن الجراح ثم قال : دفعتك إلى رجل يحسن تعليمك وأدبك (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوصفرہ (رض)
٣٧٥٧٣۔۔۔ محمد بن ابی طالب بن عبدالرحمن بن یزید بن مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوصفرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کریں ابوصفرہ (رض) نے زرد رنگ کا جوڑا زیب تن کررکھا تھا اللہ تعالیٰ نے انھیں ظرافت حسن و جمال اور فصاحت و بلاغت سے نواز رکھا تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف دیکھا تو ان کا حسن و جمال نہایت دلکش لگا اور فرمایا : تم کون ہو ؟ جواب دیا : میں قاطع (ڈاکو) بن سارق (چور) بن ظالم بن عمروبن مرہ بن ھلقام بن جلندبن متکبربن جلند جو کہ ہر طرخ کی کشتی کو لوٹ لیتا ہے اور میں ملک بن ملک ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سارق و ظالم کو چھوڑو تم ابوصفرہ ہو۔ ابوصفرہ (رض) بولے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میرے اٹھارہ (١٨) بیٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے سب سے آخر میں بیٹی عطا فرمائی ہے میں نے اس کا نام صفرہ رکھا ہے۔ (رواہ الدیلمی)
37573 عن محمد بن أبي طالب بن عبد الرحمن بن يزيد بن المهلب بن أبي صفرة قال : ذكر أبي عن آبائه أن أبا صفرة قدم على النبي صلى الله عليه وسلم على أن يبايعه وعليه حلة صفراء وله ظرف ومنظر وجمال وفصاحة اللسان ، فلما نظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم أعجبه جماله وخلقه فقال : من أنت قال : أنا قاطع بن سارق بن ظالم بن عمرو بن مرة بن الهلقام بن الجلند بن المستكبر بن الجلند الذي يأخذ كل سفينة غصبا ! أنا ملك بن ملك ! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أنت أبو صفرة ودع عنك سارقا وظالما ، فقال : اشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله حقا ، وإني لي لثمانية عشر ذكرا ، وقد رزقت بآخرة بنتا فسميتها صفرة (الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبیدہ (رض)
٣٧٥٧٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ انھیں ابوعبیدہ (رض) کے قتل ہوجانے کی خبر پہنچی تو فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوعبیدہ پر رحم فرمائے ! اگر وہ میرے پاس آجاتا میں اس کی مدد کرتا۔ (رواہ ابن جریر)
37574 عن عمر أنه بلغه قتل أبي عبيد فقال : رحم الله أبا عبيد ! لو انخاز إلي لكنت له فئة (ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعمروبن حفص (رض)
٣٧٥٧٥۔۔۔ ناشرہ بن سمی یزنی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جابیہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا وہ فرما رہے تھے : میں تم سے خالد بن ولید کی طرف سے معذرت کرتا ہوں میں نے اسے حکم دیا تھا کہ یہ مال مہاجرین پر وقف کرے لیکن اس نے یہ مال شرفاء اور اصحاب لسان (شعراء) میں بانٹ دیا اس لیے میں نے اس معزول کردیا ہے اور اس کی جگہ ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو سپہ سالار مقرر کیا ہے۔ اس پر ابوعمروبن حفص بن مغیرہ (رض) بولے : اے عمر ! اللہ کی قسم آپ نے عدل و انصاف سے کام نہیں لیا آپ نے ایسے گورنر کو عہدے سے سبکدوش کردیا ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گورنر مقرر کیا تھا آپ نے ایسی تلوار کو نیام میں ڈال دیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بےنیام کردیا تھا آپ نے وہ جھنڈا سرنگوں کردیا ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند کیا تھا۔ آپ نے قطعی رحمی کی ہے اور اپنے چچا زاد بھائی سے حسد کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بلاشبہ تم اقرابتداری کے قریب تر ہونسبتا کمسن ہو اور اپنے چچا زاد بھائی پر بےجاغصہ کررہے ہو۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ وقال ذکر النسانی عن ابراہیم بن یعقوب الجوز جانی انہ مسائل ابواھشام المخزومی وکان علامۃ بانساب نبی مخزوم عن اسم ابی عمرو بن حفص ابن المغیرۃ فقال احمد وابن عساکر)
37575 عن ناشرة بن سمي اليزني قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول يوم الجابية وهو يخطب الناس : إني أعتذر إليكم من خالد بن وليد ! إني أمرته أن يحبس هذا المال على المهاجرين ، فأعطاه ذا البس وذا الشرف وذا اللسان فنزعته ، وأثبت أبا عبيدة بن الجراح فقال أبو عمرو بن حفص بن المغيرة : والله ! ما عدلت يا عمر ! لقد نزعت عاملا استعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وغمدت سيفا سله الله ، ووضعت لواء نسبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولقد قطعت الرحم وحسدت ابن العم ، فقال عمر : إنك قريب القرابة ، حديث السن مغضب في ابن عمك (أبو نعيم في المعرفة وقال : ذكر النسائي عن إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني أنه سأل أبا هشام المخزومي وكان علامة بأنساب بني مخزوم عن اسم أبي عمروم بن حفص بن المغيرة فقال : أحمد ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوغادیہ (رض)
٣٧٥٧٦۔۔۔ سعد بن ابی غادیہ یسار اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوغادیہ (رض) کو نماز میں گم پایا تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ابوغادیہ (رض) سامنے سے آرہے ہیں آپ نے پوچھا : اے ابوغاریہ ! باجماعت نماز سے کیوں پیچھے رہے ہو ؟ عرض کیا : یارسول اللہ ! ، میرے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ (اس لیے میں اہلیہ کی تیمارداری کرتا رہا تب باجماعت نماز میں شریک نہ ہوسکا) آپ نے فرمایا نچے کا نام رکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آنا چنانچہ ابو غادیہ (رض) بچہ لے کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ نے بچے کے سر پر دست شفقت پھیرا اور اس کا نام سعد رکھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37576 عن سعد بن أبي الغادية يسار عن أبيه قال : فقد النبي صلى الله عليه وسلم أبا الغادية في الصلاة فإذا به قد أقبل فقال : ما خلفك عن الصلاة يا أبا الغادية ؟ ولد لي مولود يا رسول الله ! فقال : هل سميته ؟ قال : لا ، قال : فجئ به ، فجاء به فسمح على رأسه بيده وسماه سعدا (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقتادہ (رض)
٣٧٥٧٧۔۔۔ ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ(کو اونگھ آنے لگی اور) اپنی سواری سے ایک طرف جھک گئے میں ہاتھ سے آپ کو ہلایا حتیٰ کہ آپ جاگ گئے تھوڑی دیر بعد آپ پھر ایک طرف جھک گئے میں نے دوبارہ ہاتھ بڑھا کر آپ کو کو جگایا آپ جاگ گئے اور پھر فرمایا : یا اللہ ! ابوقتادہ کی حفاظت فرماجس طرح اس نے آج رات میری حفاظت کی میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں نے تمہیں مشقت میں ڈالا ہے۔ (رواہ ابونعیم)
37577 عن أبي قتادة قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره إذ ماد عن الراحلة فدعمته بيدي حتى استيقظ ، ثم ماد فدعمته بيدي حتى استيقظ ، فقال : اللهم ! احفظ أبا قتادة كما حفظني منذ الليلة ، ما أرانا إلا قد شققنا عليك (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوقرصافہ (رض)
٣٧٥٧٨۔۔۔” مسند ابی قرصافہ (رض) “ حضرت ابوقرصافہ (رض) کی روایت ہے کہ میرے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یوں ہوا ہے کہ میں یتیم لڑکا تھا اور اپنے اور خالہ کے پاس رہتا تھا لیکن اکثر خالہ کے ہاں رہتا تھا میں اپنی بکریاں چراتا تھا خالہ مجھے اکثر کہا کرتے تھی : اے بیٹا ! اس شخص (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے پاس مت جاؤ، وہ تمہیں گمراہ کردے گا میں بکریاں لے کر گھر سے نکل جاتا اور چراگاہ میں آجاتا چراگاہ میں بکریاں چھوڑ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجاتا اور آپ کی باتیں سنتا پھر شام کو کمزور اور دودھ سے خالی تھنوں والی بکریاں لے کر واپس لوٹ جاتا میری خالہ کہتیں تیری بکریوں کو کیا ہوا ان کے تھن سوکھے ہوئے ہیں ؟ میں کہتا : مجھے نہیں پتہ دوسرے دن پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس دن میں نے آپ کو فرماتے سنا : اے لوگو ! ہجرت کرلو اور اسلام پر ثابت قدم رہو بلاشبہ ہجرت کا سلسلہ ختم نہیں ہونے پائے گا جب تک جہاد باقی ہے “ پھر میں پہلے دن کی طرح اپنی بکریاں لے کر واپس لوٹ آیا میں تیسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا یوں میں لگاتار آپ کا کلام سنتا رہا بالآخر میں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے دست اقدس پر بیعت کرلی اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ سے مصافحہ کیا : پھر میں نے آپ سے خالہ اور اپنی بکریوں کے معاملہ کی شکایت کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی بکریاں میرے پاس لیتے آؤ چنانچہ میں بکریاں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا آپ نے بکریوں کی پشت اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور دعائے برکت فرمائی۔ چنانچہ بکریوں کی پیٹھ چربی سے اور تھن دودھ سے بھرگئے جب میں بکریاں لے کر خالہ کے پاس پہنچا وہ بولی : بیٹا اسی طرح بکریاں چرا کر لایا کرو میں نے کہا : خالہ میں نے آج بھی وہیں بکریاں چرائی ہیں جہاں قبل ازیں چراتا تھا لیکن میں آپ کو اپنا قصہ سناتا ہوں میں نے سارا واقعہ خالہ کے گوش گزار کیا اور میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے اور آپ کی سیرت و کلام کے متعلق بھی خالہ کو آگاہ کیا۔ میری ماں اور خالہ بولیں : ہمیں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلو میں اپنی ماں اور خالہ کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا چنانچہ ان دونوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اور مصافہ بھی کیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے بیعت لے لی ہم تینوں واپس لوٹ آئے میری ماں اور خالہ نے مجھے کہا : اے بیٹا اس شخص جیسا ہم نے کوئی خوبصورت صاف سھترا اور نرم کلام والا کوئی انسان نہیں دیکھا ہم نے دیکھا ہے ہم گویا ان کے منہ سے نور نکل رہا ہے۔ (رواہ الطبرانی عن ابی قرصافہ)
37578 (مسند أبي قرصافة) عن أبي قرصافة : كان بدء إسلامي إني كنت يتيما بين أمي وخالتي فكان أكثر ميلي إلى خالتي وكنت أرعى شويهات لي ، فكانت خالتي كثيرا ما تقول لي : يا بني ! لا تمر إلى هذا الرجل تعني النبي صلى الله عليه وسلم فيغويك ويضلك ، فكنت أخرج حتى آتي المرعى وأترك شويهاتي ثم آتي النبي صلى الله عليه وسلم فلا أزال عنده أسمع منه ، ثم أروح بغنمي ضمرا يابسات الضروع وقالت لي خالتي : ما لغنمك يابسات الضروع ؟ قلت : ما أدري ، ثم عدت إليه اليوم الثاني ففعل كما فعل في اليوم الاول غير أني سمعته يقول : يا أيها الناس ! هاجروا وتمسكوا بالاسلام ، فان الهجرة لا تنقطع مادام الجهاد ، ثم إني رحت بغنمي كما رحت في اليوم الاول ثم عدت إليه في اليوم الثالث ، فلم أزل عند النبي صلى الله عليه وسلم أسمع منه حتى اسلمت وبايعته وصافحته بيدي وشكوت إليه أمر خالتي وأمر غنمي ، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : جئني بالشياه ، فجئته بهن فمسح ظهورهن وضروعهن ودعا فيهم بالبركة ، فامتلان شحما ولبنا ، فلما دخلت على خالتي بهن قالت : يا بني ! هكذا فارع ، قلت : يا خالة ! ما رعيت إلا حيث كنت أرعى كل يوم ولكن أخبرك بقصتي وأخبرتها بالقصة وإتياني النبي صلى الله عليه وسلم وأخبرتها بسيرته وبكلامه ، فقالت لي أمي وخالتي : اذهب بنا إليه ، فذهبت أنا وأمي وخالتي فأسلمن وبايعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وصافحن ، فلما بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وأمي وخالتي ورجعنا من عنده مننصرفين قالت لي أمي وخالتي : يا بني ! ما رأينا مثل هذا الرجل ولا أحسن منه وجها ولا أنقى ثوبا ولا ألين كلاما ! ورأينا كأن النور يخرج من فيه (طب عن أبي قرصافة).
তাহকীক: