কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৫৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومریم سلولی مالک بن ربیعہ (رض)
٣٧٥٧٩۔۔۔ یزید بن ابی مریم سلولی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے والد کے لیے اولاد میں برکت کی دعا فرمائی چنانچہ میرے والد کے اسی (٨٠) بیٹے تھے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37579 عن يزيد بن أبي مريم السلولي عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا لابيه أن يبارك له في ولده ، فولد له ثمانون ذكرا (ابن منده ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابومریم الغسانی (رض)
٣٧٥٨٠۔ ابوبکر بن عبداللہ بن ابی مریم اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا آج رات میرے ہاں بچی پیدا ہوئی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات مجھ پر سورت مریم نازل ہوئی ہے لہٰذا اپنی بیٹی کا نام مریم رکھو چنانچہ اس صحابی کی کنیت ابومریم تھی (رواہ ابن عساکر)
37580 عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم عن أبيه عن جده قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت : إني ولد لي الليلة جارية ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : والليلة أنزلت علي سورة مريم فسمها مريم ، فكان يكنى بأبي مريم (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوا اسماء (رض)
٣٧٥٨١۔۔۔ احمد بن یوسف بن ابی اسماء بن علی کہتے ہیں میں نے اپنے دادا ابواسماء بن علی ابن ابی اسماء کو کہتے سنا کہ ان کے دادا اسماء کہتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں پیدا میں نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ نے مجھ سے مصافحہ کیا اس کے بعد میں نے قسم کھالی کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مصافحہ کرنے کے بعد کسی اور سے مصافحہ نہیں کروں گا۔ (رواہ ابن مندہ ابن عساکر)
37581 عن أحمد بن يوسف بن أبي أسماء بن علي قال : سمعت جدي أبا أسماء بن علي بن أبي أسماء عن أسماء عن أبيه عن جده أبي أسماء قال : ولدت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعته وصافحني ، فآليت على نفسي أن لا أصافح أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم (ابن منده ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک نامعلوم صحابی (رض)
٣٧٥٨٢۔۔۔ حرب بن شریح کہتے ہیں مجھے بلعدویہ کے ایک شخص نے اپنے دادا سے مروی حدیث سنائی ہے اس کے دادا کہتے ہیں میں مدینہ کی طرف چلا اور دادی میں جا اترا کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص کھڑے ہیں (جو خریدو فروخت کی باتیں کررہے ہیں) چنانچہ خریدار بیچنے والے سے کہتا ہے : میرے ساتھ معاملہ اچھی طرح سے کرو میں نے دل ہی دل میں کہا : یہ وہی ہاشمی ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے کیا یہ وہی ہے ؟ جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کو بصورت شخص ہے پیشانی کشادہ ہے ستواں ناک باریک بھنویں ہیں سینے سے ناف تک بالوں کی باریک لکیر ہے جو دیکھنے میں دھاگے کی طرح لگتی ہے۔ اس نے دو قدرے پرانے کپڑے پہن رکھے تھے ہمارے قریب آیا اور بولا : السلام علیکم ! حاضرین نے سلام کا جواب دیا : اس شخص نے فوراً خریدار کو بلایا، اس نے آتے ہی کہا یا رسول اللہ ! آپ اس سے کہیں میرے ساتھ معاملہ اچھی طرح کرے اس نے ہاتھ بڑھادیا اور بولا : تمہارے اموال تمہاری ملکیت ہیں میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن ملاقات کروں اور مجھ سے کوئی شخص مال کا مطالبہ نہ کرتا ہو جان کا مطالبہ نہ کرتا ہوں اور عزت کا مطالبہ نہ کرتا ہو الایہ کہ کسی حق کی بناپر ہو۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچنے میں آسانی پیداکرے جو خریدنے میں آسانی پیدا کرے آسانی سے قبضہ کرے سہولت سے دے دے سہولت سے ادا کرے اور سہولت سے تقاضا کرے پھر وہ شخص چل پڑا میں نے کہا : اللہ کی قسم میں اس کے پیچھے ضرور جاؤں گا یہ بہت اچھی اچھی باتیں کرتا ہے اس کے پیچھے ہولیا قریب پہنچنے پر کہاں اے محمد ! اس نے پوری طرح میری طرف مڑ کر کہا کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : تو ہی وہ شخص ہے جو لوگوں کو گمراہ کررہا ہے ہلاکت میں ڈال رہا ہے اور ان کے آبائی دین سے انھیں روک رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ تو اللہ کا حکم ہے میں نے کہا : تمہاری دعوت کیا ہے ؟ جواب دیا : میں اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں نے کہا : تم کس چیز کا اقرار کرتے ہو ؟ وہ بولا ! ہم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ لات وعزی کا انکار کرو نماز قائم کرو زکوۃ دو میں نے پوچھا : زکوۃ کیا ہے ؟ جواب دیا : وہ یہ کہ ہمارا مالدار شخص فقیر و محتاج پر اپنا مال صرف کرے میں نے کہا : بہت اچھی تعلیمات ہیں جنکی تم دعوت دیتے ہو یہ شخص کہتا ہے : چنانچہ سطح زمین پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کوئی چیز بری نہیں لگتی تھی پھر یہ کیفیت بھی ہوئی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ سے ہلنے نہیں پائے تھے کہ مجھے ہر چیز اولاد والدین اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہوگئے فرمایا : سمجھ گئے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ابھی ایک پانی پر جاتا ہوں جہاں بہت سارے لوگ جمع ہیں میں انھیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، مجھے امید ہے کہ وہ آپ کی پیروی اختیار کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی ، میں نے ان لوگوں کو دعوت دی چنانچہ وہ سب مرد عورتیں اسلام لے آئے رخصت کرتے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37582 عن حرب بن شريح قال : حدثني رجل من بلعدويه حدثني جدي قال : انطلقت إلى المدينة فنزلت عند الوادي وإذا رجلان بينهما واحد وإذا المشتري يقول للبائع : أحسن مبايعتي ، فقلت في نفسي : هذا الهاشمي الذي أضل الناس أهو هو ؟ فنظرت فإذا رجل حسن الوجه ، عظيم الجبهة ، دقيق الانف ، دقيق الحاجبين ، وإذا من ثغرة نحره إلى سرته مثل الخيط الاسود شعر أسود ، وإذا هو بين طمرين ! فدنا منا فقال : السلام عليكم ، فردوا عليه ، فلم ألبث أن دعا المشتري فقال : يا رسول الله ! قل له : فليحسن مبايعتي ، فمد يده وقال : أموالكم تملكون ، إني لارجو أن ألقى الله يوم القيامة لا يطلبني أحد منكم بشئ ظلمته في مال ولا دم ولا عرض إلا بحقه ! رحم الله أمرأ سهل البيع ، سهل الشراء ، سهل الاخذ ، سهل الاعطاء ، سهل القضاء ، سهل التقاضي ، ثم مضى فقلت : والله ! لاقصن أثر هذا فانه حسن القول ، فتبعته فقلت : يا محمد ! فالتفت إلي بجميعه فقال : ما تشاء ؟فقلت : أنت الذي أضللت الناس وأهلكتهم وصددتهم عما كان يعبد آباؤهم ! قال : ذاك الله ، قلت : ما تدعو إليه ؟ قال : أدعو عباد الله إلى الله ، قلت : ما تقول ؟ قال : أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ، وتؤمن بما أنزل الله علي ، وتكفر باللات والعزى وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة ، قلت : وما الزكاة ؟ قال : ويرد غنينا على فقيرنا ، قلت : نعم الشئ تدعو إليه ! قال : فلقد كان وما على ظهر الارض أحد يتنفس أبعض إلي منه فما برح حتى كان أحب إلي من ولدي ووالدي ومن الناس أجمعين ، قال : قد عرفت ؟ قلت : نعم يا رسول الله ! إني أرد ماء عليه كثير من الناس فأدعوهم إلى ما دعوتني إليه ، فاني أرجو أن يتبعوك ، قال : نعم فادعهم ، فأسلم أهل ذلك الماء رجالهم ونساؤهم ، فمسح رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه (ع ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فضائل صحابیات (رض) مجتمعات ومتفرقات مجتمعات
٣٧٥٨٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ام ابی بکر ام عثمان ام طلحہ، ام زبیرہ ، ام عبدالرحمن بن عوف اور ام عمار بن یاسر (رض) نے اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37583 عن ابن عباس قال : أسلمت أم أبي بكر وأم عثمان وأم طلحة وأم الزبير وأم عبد الرحمن بن عوف وأم عمار بن ياسر (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات۔۔۔ ام سلیط (رض)
٣٧٥٨٤۔۔۔ ثعلبہ بن مالک کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک مرتبہ عورتوں میں چادریں تقسیم کیں ایک عمدہ سی چادر باقی بچ گئی بعض لوگوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! یہ چادر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی جو آپ کے نکاح میں ہے یعنی ام کلثوم بنت علی (رض) کو دے دیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ام سلیط اس چادر کی زیادہ مستحق ہے ام سلیط انصار کی ان عورتوں میں سے ہیں جنھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست پر بیعت کی تھی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ام سلیط احد کے دن ہمارے لیے مشکیں بھربھر کر لاتی تھی (رواہ البخاری و ابونعیم فی الحلیۃ وابو عبیدہ فی الاموال)
37584 عن ثعلبة بن مالك أن عمر بن الخطاب قسم مروطا بين نساء أهل المدينة فبقي منها مرط جيد ، فقال له بعض من عنده : يا أمير المؤمنين ! أعط هذا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك يريدون أم كلثوم بنت علي فقال عمر : أم سليط أحق به وأم سليط من نساء الانصار ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال عمر : فانها قد كانت تزفر لنا القرب يوم أحد (خ ، حل وأبو عبيد في الاموال) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہلیہ حضرت ابوعبیدہ (رض)
٣٧٥٨٥۔۔۔ سفیان کی روایت ہے کہ مجھے حضرت عمر (رض) کی حدیث پہنچی ہے کہ وہ حضرت ابوعبیدہ (رض) کے پاس آئے ابوعبیدہ (رض) کی اہلیہ نے کچھ خاص توجہ نہ دی اس پر ابوعبیدہ (رض) غصہ ہوئے اور بولے : تو نے ایسا اور ایسا کیا ہے میں نے تجھے رسوا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے بیوی نے جواب دیا : آپ اس پر قادر نہیں ہیں۔ ابوعبیدہ (رض) بولے : اے امیرالمومنین (رض) اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت دے رکھی ہے۔ بیوی بولی : کیا تم مجھ سے اسلام کی دولت چھیننا چاہتے ہو جواب دیا : نہیں۔ بولی : پھر مجھے اس کے بعد کوئی پروا نہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے اسلام تمہارے دل میں رچ بس گیا ہے میرا خیال ہے کہ اسلام تمہیں جنت میں داخل کرکے چھوڑے گا۔۔ (رواہ ابن المبارک)
37585 عن سفيان قال : بلغني عن عمر أنه أتى أبا عبيدة فكأنه رأى شيئا فقال لامرأته : أنت الفاعلة كذا وكذا ! لقد هممت أن أسودك ! فقالت : ما أنت على ذلك بقادر ! فقال أبو عبيدة : بلى قد قدرك الله على هذا يا أمير المؤمنين ! قالت : أتستطيع أن تسلبني الاسلام ؟ قال لا ، قالت : فأنا لا أبالي ما وراء ذلك ! فقال عمر : رحمك الله ! لقد وقع الاسلام منك موقعا لا أظنه يفارقك حتى يدخلك الجنة (ابن المبارك).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৫৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام کلثوم بنت علی (رض)
٣٧٥٨٦۔۔۔ مستظل بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو ان کی بیٹی ام کلثوم بنت علی (رض) کا پیغٖام نکاح بھیجا حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے بیٹی کے کمسن ہونے کا عذر بیان کیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس سے زوجیت کے ارادہ سے نکاح نہیں کرنا چاہتا لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن سوائے میرے نسبی تعلق کے ہر قسم کا نسبی تعلق منقطع ہوجائے گا ہر اولاد کے عصبہ کی نسبت والد کی طرف ہوتی ہے سوائے فاطمہ (رض) کی اولاد کے سو میں ان کا باپ اور ان کا عصبہ ہوں ۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ عصبہ سے مراد گوشت پوست میں شریک رشتہ دار۔
فائدہ :۔۔۔ عصبہ سے مراد گوشت پوست میں شریک رشتہ دار۔
37586 عن المستظل بن حصين أن عمر بن الخطاب خطب إلى علي بن أبي طالب ابنته أم كلثوم ، فاعتل بصغرها ، فقال : إني لم أرد الباءة ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة ما خلا سببي ونسبي ، وكل ولد فان عصبتهم لابيهم ما خلا ولد فاطمة ، فاني أنا أبوهم وعصبتهم (أبو نعيم في المعرفة ، كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام کلثوم بنت علی (رض)
٣٧٥٨٧۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے حضرت علی (رض) کی بیٹی ام کلثوم (رض) سے نکاح کا پیغام بھیجا حضرت علی (رض) نے جواب دیا : میں نے اپنی بیٹیاں جعفر کے بیٹوں کے لیے وقف کردی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے علی اپنی بیٹی سے میرا نکاح کرادو اللہ کی قسم ! سطح زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ سے بڑ کر تمہاری بیٹی سے حسن سلوک رکھے۔ حضرت علی (رض) نے کہا : میں نے نکاح کرادیا پھر حضرت عمر (رض) روضہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور منبر کے درمیان مہاجرین کی مجلس میں آئے وہاں علی، عثمان ، زبیر، طلحہ اور عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف فرما تھے چنانچہ آفاق و اطراف سے جو خبر آئی (یا کوئی اہم امرپیش آتا) حضرت عمر (رض) ان حضرات صحابہ کرام (رض) کے پاس تشریف لائے اور انھیں خبر دیتے اور ان سے مشورہ لیتے چنانچہ اس روز بھی حضرت عمر (رض) یہاں تشریف لائے اور فرمایا : اتفاق کرلو۔ صحابہ (رض) نے پوچھا : امیرالمومنین ! کس پر اتفاق کرلیں ؟ فرمایا : اس بات پر کہ علی بن ابی طالب کی بیٹی سے میرا نکاح ہوچکا ہے پھر عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان سنانا شروع کردیا کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن ہر نسب اور ہر تعلق ختم ہوجائے گا مگر میرا نسب اور تعلق باقی رہے گا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحبت یافتہ ہوں لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرا تعلق اور نسب آپ سے جڑا رہے۔ (رواہ ابن سعد وارواہ ابن داھویہ مختصرا ورواہ سعید بن المنصور تبمامہ)
37587 عن أبي جعفر أن عمر بن الخطاب خطب إلى علي ابن أبي طالب ابنته أم كلثوم ، فقال علي : إنما حبست بناتي على بني جعفر ، فقال عمر : أنكحنيها يا علي ! فو الله ما على ظهر الارض رجل يرصد من حسن صحابتها ما أرصد ! فقال علي : قد فعلت ، فجاء عمر إلى مجلس المهاجرين بين القبر والمنبر وكانوا يجلسون ثم علي وعثمان والزبير وطلحة عبد الرحمن بن عوف ، فإذا كان الشئ يأتي عمر بن الخطاب من الآفاق جاءهم فأخبرهم بذلك فاستشارهم فيه فجاء عمر فقال : رفئوني ، فرفئوه وقالوا : بمن يا أمير المؤمنين ؟ قال : بابنة علي بن أبي طالب ، ثم أنشأ يخبرهم فقال : إن النبي صلى الله عليه وسلم قال : كل نسب وسبب منقطع يوم القيامة إلا نسبي وسببي وكنت قد صحبته فأحببت أن يكون هذا أيضا (ابن سعد ، ورواه ابن راهويه مختصرا ، ورواه ص بتمامه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام کلثوم بنت علی (رض)
٣٧٥٨٨۔۔۔ عبدالعزیزبن محمد اپنے والد سے عطا خراسانی کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ام کلثوم بنت علی (رض) کا چالیس ہزار درہم مہر مقرر کیا۔ (رواہ ابن سعد وارواہ ابن عدی والبھقی عن اسلم وابن ابی شیبۃ ورواہ ابن عساکر عن انس و جابر)
37588 حدثنا عبد العزيز بن محمد عن أبيه عن عطاء الخراساني أن عمر أمهر أم كلثوم بنت علي أربعين ألفا (ابن سعد ، ورواه عد ، ق عن أسلم ش ، ورواه كر عن أنس وجابر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام عمارہ کعب (رض)
٣٧٥٨٩۔۔۔ ضمرہ بن سعید کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) کے پاس بہت ساری چادریں لائی گئیں جس میں ایک عمدہ اور کھلی چادر بھی تھی بعض صحابہ (رض) نے کہا : اس چادر کی قیمت اتنی اور اتنی ہے (یعنی یہ چادر بہت قیمتی ہے) یہ چادر عبداللہ کی بیوی صفیہ ابی عبید کو دے دی جائے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان کی نئی یئی شادی ہوئی ہے میں ابن عمر کے پاس نہیں جاتا لیکن میں یہ چادر ایسی عورت کو بھیجتا ہوں جو اس سے زیادہ حقدار ہے اور وہ ام عمارہ نسبیہ بنت کعب ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میں نے جب بھی دائیں یا بائیں دیکھا میں نے ام عمارہ کو اپنے سامنے لڑتے ہوئے پایا۔ (رواہ ابن سعد وفیہ الواقدی)
37589 عن ضمرة بن سعيد قال : أتي عمر بن الخطاب بمروط وكان فيها مرط جيد واسع فقال بعضهم : إن هذا المرط لثمن كذا وكذا ، فلو أرسلت به إلى زوجة عبد الله بن صفية بنت أبي عبيد ! قال وذلك حدثان ما دخلت على ابن عمر ، فقال : أبعث به إلى من هو أحق به منها أم عمارة نسبية بنت كعب ، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم احد : ما التفت يمينا ولا شمالا إلا وأنا أراهما تقاتل دوني (ابن سعد وفيه الواقدي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر (رض)
٣٧٥٩٠۔۔۔ ابوخالد کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو ام کلثوم بنت ابی بکر سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا : اس کے متعلق آُپ سے ہم کہاں جاسکتے ہیں چنانچہ ام کلثوم کو اس کی خبر ہوئی وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی اور بولیں آپ میرا نکاح عمر سے کرانا چاہتی ہیں جو کھانے کی بجائے مجھے بھوسہ کھلائے گا میں تو ایسے نوجوان سے نکاح کرنا چاہتی ہوں جو مجھ پر دنیا ا کا دریا بہادے اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا کردیا تو میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کے پاس جاؤں گی اور خوب شور مچاؤں گی حضرت عائشہ (رض) حضرت عمرو بن العاص کو پیغٖام بھیجا کہ عمر (رض) سے بات کرو انھوں نے حامی بھرلی پھر عمرو (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور گفتگو کی پھر بولے : اے امیرایمومنین ! آپ شادی کرنا چاہتے ہیں ؟ جواب دیا : جی ہاں، پوچھا : کس سے ؟ فرمایا : ام کلثوم بنت ابی بکر سے عمر (رض) نے کہا : امیرالمومنین ! میں یہی دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکی اپنے والد کے پاس جاکر ہر دن شکایت کرتی ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عائشہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے چنانچہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) نے ام کلثوم بنت ابی بکر (رض) سے شادی کرلی حضرت علی (رض) سے کہا : آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کے پردہ کے قریب ہو کر ایک بات کروں۔ طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے (ایک عظیم) نوجوان سے شادی کی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37590 عن أبي خالد أن عمر خطب أم كلثوم بنت أبي بكر إلى عائشة وهي جارية فقالت : أين المذهب بها عنك ؟ فبلغها ذلك فأتت عائشة فقالت : تنكحيني عمر يطعمني الخشب من الطعام ! إنما أريد فتى يصب من الدنيا صبا ، والله لئن فعلت لاذهبن أصيحن عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم ! فأرسلت عائشة إلى عمرو بن العاص ، فقال : أنا أكفيك ، فدخل على عمر فتحدث عنده ثم قال : يا أمير المؤمنين ! رأيتك تذكر التزويج ؟ قال : نعم ، قال : من ؟ قال : أم كلثوم بنت أبي بكر ، فقال : يا أمير المؤمنين ! ما أريك إلا جارية تنعى عليك أباها كل يوم ، فقال عمر : عائشة أمرتك بهذا ! فتزوجها طلحة بن عبيد الله ، فقال له علي : أتأذن لي أن أدنو من الخدر ؟ قال : نعم ، فدنا منه ، ثم قال : أما على ذلك لقد تزوجت فتى من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام کلثوم زوجہ عبدالرحمن (رض)
٣٧٥٩١۔۔۔ عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے وہ اپنی مان ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط سے وہ بسرہ بنت صفوان (رض) سے روایت نقل کرتی ہیں وہ کہتی ہیں ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میں عائشہ (رض) کے سر میں کنگھی کر رہی تھی آپ نے فرمایا : اے بسرہ ! ام کلثوم کو کون پیغام نکاح بھیج رہا ہے ؟ جواب دیا : فلاں اور فلاں اور عبدالرحمن بن عوف بن عوف۔ فرمایا : تمہارا عبدالرحمن کے بارے کیا خیال ہے ؟ وہ مسلمانوں کا سردار اور افضل آدمی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایسے نکاح کو اچھا نہیں سمجھتے جو باعث تکلیف ہو پھر اس سے اس کے چچا کی بیٹی شیبہ بنت زمعہ کے طلاق کا اس سے مطالبہ کرنے لگیں (یہ بھی ہمیں پسند ہیں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ بات دہرائی میں نے بھی اپنی بات دہرادی پھر آپ نے سہ بارہ بات دہرائی اور فرمایا : اگر ام کلثوم کا نکاح کرادیا جائے وہ اپنا حصہ پائے گی اور خوش و راضی رہے گی اتنے میں حضرت عائشہ (رض) بولیں : اے بری عورت ! کیا تو سنتی نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے کیا فرماتے ہیں ؟ بسرہ (رض) کہتی ہیں : میں نے اپنے ہاتھ دھوکر صاف کیے اور ام کلثوم کے پاس چلی گئی اور اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان سنایا چنانچہ ام کلثوم نے عثمان بن عفان (رض) اور خالد بن سعید (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان دونوں نے ام کلثوم (رض) کی شادی عبدالرحمن (رض) سے کرادی ام کلثوم کہتی ہیں : بخدا : میں نے اپنا حصہ پایا اور میں خوش بھی رہی۔ (رواہ ابن عساکر)
37591 عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه عن أمه أم كلثوم بنت عقبة بن أبى معيط عن بسرة بنت صفوان قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أمشط عائشة فقال : يا بسرة ! من يخطب أم كلثوم ؟ قالت : يخطبها فلان وفلان وعبد الرحمن بن عوف ، فقال : أين أنتم عن عبد الرحمن ! فانه من سادة المسلمين وخيارهم أمثاله ، قلت : يا رسول الله ! إنا نكره أن ننكح على ضر أو نسأله طلاق بنت عمها شيبة بنت زمعة ، قالت : فأعاد قوله كما قال ، فأعدت عليه قولي ، فأعاد قوله الثالثة ، قال : إنها ان تنكح تحظى وترضى ، قالت عائشة : يا هنتاه ! ألا تسمعين ما يقول لك رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت : فمسحت يدي من غسلها وذهبت إلى أم كلثوم فأخبرتها بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالت فأرسلت أم كلثوم إلى عثمان بن عفان وإلى خالد بن سعيد فروجا فزوجانيه ، قالت : فحظيت و الله ورضيت (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض)
٣٧٥٩٢۔۔۔ حضرت اسماء (رض) کہتی ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا میں نے اپنے والد ابوبکر کے گھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زادراہ تیار کیا تاہم میں نے ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آپ کے زادراہ اور پانی کو باندھوں۔ میں نے والد محترم سے عرض کیا : اللہ کی قسم میں نے کوئی چیز نہیں پائی جس سے یہ باندھی سوائے اپنے کمربن کے۔ والد نے فرمایا : کمر بند کو دو حصوں میں بھاڑ لو ایک سے پانی والا برتن باندھ دو اور دوسرے سے زادراہ اسی وجہ سے حضرت اسماء (رض) کو ” ذات النطاقین “ کہا جاتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37592 عن أسماء قالت : صنعت سفرة النبي صلى الله عليه وسلم في بيت أبي بكر حين أراد أن يهاجر إلى المدينة ، فلم يجد لسفرته ولا لسقائه ما يربطهما به فقلت لابي بكر : والله ما أجد شيئا أربط به إلا نطاقي ! فقال : شقيه باثنتين فاربطي بواحد السقاية وبآخر السفرة ، فلذلك سميت (ذات النطاقين) (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام خالد بنت خالد بن سعید (رض)
٣٧٥٩٣۔۔۔ ام خالد بنت خالدبن سعید کہتی ہیں : میں نے سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی البعث وابن عساکر)
37593 عن أم خالد بنت خالد بن سعيد قالت : إني أول من كتب بسم الله الرحمن الرحيم (ابن أبي داود في البعث ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سبیعہ غامدبقول بعض آمنہ (رض)
٣٧٥٩٤۔۔۔” مسند بریدہ بن حصیب (رض) “ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو غامدیہ (رض) کے رجم کرنے کا حکم دیا دوران سنگساری حضرت خالد بن ولید (رض) نے غامدیہ (رض) کو سر پر پتھرمارا جس سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور حضرت خالد (رض) پر خون پڑا اس پر انھوں نے غامدیہ (رض) کو برا بھلا کہہ دیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی کہ خالد (رض) نے غامدیہ کو برا بھلاکہا ہے آپ نے فرمایا : اے خالد ! رک جاؤا سے بری بھلی مت کہو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! غامدیہ نے ایسی توبہ کی ہے اگر ظالم ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی اور اس مغفرت ہوجاتی اور اس کی مغفرت ہوجاتی آپ نے حکم دیا اور غامدیہ (رض) پر نماز جنازہ پڑھی گئی۔ ایک روایت میں ہے اگر ایسی توبہ ظالم ٹیکس وصول کرنے والا توبہ کرتا یا اہل مدینہ میں سے ستر لوگ توبہ کرتے ان کی طرف سے توبہ قبول ہوجاتی۔ (رواہ ابن جریر)
37594 (مسند بريدة بن الحصيب) عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أمر الناس أن يرجموا الغامدية أقبل خالد بن الوليد فرمى رأسها فتنضح الدم على خالد فسبها ، فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبه إباها فقال : مهلا يا خالد بن الوليد ! لا تسبها ، فو الذي نفسي بيده ! لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له ، فأمر بها فصلى عليها وفي لفظ : لو تابها صاحب مكس أو سبعون من أهل المدينة لقبلت منهم (ابن جرير)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاری (رض)
٣٧٥٩٥۔۔۔ ولید بن عبداللہ بن جمیع کہتے ہیں میری دادی نے مجھے ام روقہ بنت عبداللہ بن انصاری کی حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام روقہ (رض) سے ملنے آتے تھے اور انھیں شہیدہ کہہ کر پکارتے تھے ام ورقہ (رض) نے پورا قرآن حفظ کر رکھا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ بدر کے لیے تشریف لے گئے نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں بھی آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرسکوں زخمیوں کی دیکھ بھال کروں گی اور بیماروں کی تیمارداری کروں گی شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت سے سرفراز فرمادے۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں شہادت عطا کرنی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں شہیدہ کے نام سے پکارتے تھے اور انھیں اجازت دے رکھی دے رکھی تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرائیں ۔ ام ورقہ (رض) کا ایک غلام اور ایک لونڈی تھے ان سے اپنی وفات کے ساتھ مشروط آزادی کا وعدہ کررکھا تھا، چنانچہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں غلام اور باندی نے انھیں قتل کردیا۔ جب حضرت عمر (رض) کو خبر ہوئی کہنے لگے : اللہ اور اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا تھا کہ ہمارے ساتھ چلو ہم شہیدہ سے ملاقات کرنے جارہے ہیں۔ (رواہ ابن سعد وابن راھویہ و ابونعیم فی الحلیۃ والبیھقی ووروی ابوداود )
فائدہ :۔۔۔ عورت کی امامت دلائل قطیعہ سے مکروہ تحریمی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام روقہ کو اجازت دی یہاں ان کی خصوصیت تھی یا صرف نوافل کی حدتک تھی جو انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
فائدہ :۔۔۔ عورت کی امامت دلائل قطیعہ سے مکروہ تحریمی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام روقہ کو اجازت دی یہاں ان کی خصوصیت تھی یا صرف نوافل کی حدتک تھی جو انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
37595 عن الوليد بن عبد الله بن جميع قال حدثتني جدتي عن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث الانصاري وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها ويسميها الشهيدة وكانت قد جمعت القرآن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين غزا بدرا قالت له : أتأذن لي فأخرج معك أداوي جرحاكم وامرض مرضاكم لعل الله يهدي لي شهادة ؟ قال : إن الله مهد لك شهادة فكان يسميها الشهيدة وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أمرها أن تؤم أهل دارها وكان لها مؤذن ، وكانت تؤم أهل دارها حتى غمها غلام لها وجارية كانت دبرتها فقتلاها في إمارة عمر ، وقال عمر : صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم ! كان يقول : انطلقوا بنا نزور الشهيدة (ابن سعد وابن راهويه ، حل ، ق وروى د بعضه)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلامہ بنت معقل (رض)
٣٧٥٩٦۔۔۔ حضرت سلامہ بنت معقل (رض) کی روایت ہے کہ جاہلیت کے دور میں میرے چچا نے مجھے حاب بن عمرو کے ہاتھ فروخت کردیا۔ اس نے مجھے اپنی کنیز بنالیا اور میں نے اس کا ایک بیٹا عبدالرحمن بن خباب جنم دیا خباب اپنے ذمہ قرض چھوڑ کر مرگیا چنانچہ خباب کی بیوی نے مجھے کہا : اے سلامہ اللہ کی قسم تجھے اب قرض میں فروخت کیا جائے گا میں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے ادائیگی قرض کا بند و بست کرلیا پھر مجھے نہیں بیچا جائے گا چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو خبر کی آپ نے فرمایا : خباب کے ترکہ کا مالک کون ہےَ جواب دیا خباب کا بھائی ابویسربن عمرو چنانچہ آپ نے ابویسر بلایا اور پھر فرمایا : اسے آزاد کردو جب تم سنو کوئی غلام میرے پاس آیا ہے تو مجھ سے اس کا عوض لے کر آزاد کردو۔ چنانچہ ان لوگوں نے مجھے آزاد کردیا بعد میں ایک غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ نے ابویسر کو بلایا اور فرمایا : یہ غلام لے لو یہ تمہارے بھائی کے بیٹے کی ملکیت ہے۔ (رواہ ابونعیم)
کلام :۔۔۔ حدیث کا آخری جملہ قابل غور ہے دیکھئے ضعیف : بی داؤد ٨٥١۔
کلام :۔۔۔ حدیث کا آخری جملہ قابل غور ہے دیکھئے ضعیف : بی داؤد ٨٥١۔
(37596) - عن سلامة بنت معقل قالت : قدم بي عمي في الجاهلية فباعني من الحباب بن عمرو فاستسرني ، فولدت له عبد الرحمن بن الحباب فتوفي وترك دينا ، فقالت لي امرأته : الآن والله تباعين يا سلامة في الدين ! فقلت : إن كان الله قضى ذلك علي احتسبت فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته خبري فقال : من صاحب تركة الحباب ؟ قال : أخوه أبو اليسر بن عمرو ، فدعي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أعتقوها ، فإذا سمعتم برقيق قدم علي فأتوني أعوضكم فيها فأعتقوها ، وقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم رقيق فدعا أبا اليسر فقال : خذ هذا الرقيق غلاما لابن أخيك (أبو نعيم)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سمیہ ام عمار (رض)
٣٧٥٩٧۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے اسلام میں سب سے پہلے عمار (رض) کی والدہ سمیہ (رض) کو شہید کیا گیا ابوجہل نے ان کی شرمگاہ میں برچھا مار کر انھیں شہید کردیا تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37597 عن مجاهد قال : أول شهيد استشهد في الاسلام سمية أم عمار طعنها أبو جهل بحربة في قبلها (ش)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خنساء بنت خدام (رض)
٣٧٥٩٨۔۔۔ مجمع بن حارثہ کی روایت ہے کہ حضرت خنساء (رض) انیس بن قتادہ (رض) کے نکاح میں تھیں۔ انیس (رض) غزوہ احد میں شہید کردیئے گئے حضرت خنساء (رض) کے والد نے ان کا نکاح مزینہ کے ایک شخص سے کرادیا جسے خنساء (رض) ناپسند کرتی تھی چنانچہ خنساء (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے شکایت کی آپ نے یہ نکاح رد کردیا اور ابولبابہ (رض) سے نکاح کردیا اور سائب بن ابی لبابہ (رض) کو جنم دیا۔ (رواہ ابونعیم)
37598 عن مجمع بن حارثة أن خنساء بنت خدام كانت تحت أنيس بن قتادة فقتل عنها يوم أحد فزوجها أبوها رجلا من مزينة فكرهته وجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحها أبو لبابة فجاءت بالسائب بن أبي لبابة (أبو قعيم)
তাহকীক: