কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৬১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفیہ بنت عبداللہ (رض)
٣٧٥٩٩۔۔۔ اسحاق عزری ام عروہ بنت صعفربن زبیر بن عوام وہ آپ کے والد جعفر بن زبیر سے وہ اپنی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب سے روایت نقل کرتے ہیں صفیہ (رض) کہتی ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکل گئے مجھے اور دوسری عورتوں کے مسجد کے پاس ایک ٹیلے پر پیچھے چھوڑ گئے ہمیں اس مسجد میں داخل کرگئے اور ہمارے ساتھ حسان بن ثابت (رض) بھی تھے۔ چنانچہ ایک یہودی مسئلے پر چڑھ کر ہماری طرف آنے لگا حتیٰ کہ ایک ٹیلے سے نمودار ہوا میں نے حسان بن ثابت سے کہا کھڑے ہوجاؤ اور اسے قتل کردوحسان (رض) بولا : یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ اگر مجھ سے ایسا ہوسکتا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میدان کارزار میں ہوتا میں نے کہا : اچھا پھر تلوار میری زرہ سے باندھ دو حسان (رض) نے تلوار باندھ دی اور میں یہودی کی طرف گئی اور اس کا سرکاٹ لائی میں نے کہا : یہ سراٹھا کر یہودیوں کی طرف پھینک آؤ تاکہ وہ اوپر آنے کی جسارت نہ کرسکیں وہ سمجھتے ہیں کہ محمد نے اپنے اہل و عیال میں اپنے پیچھے کوئی مرد نہیں چھوڑا اور تاکہ انھیں کسی مرد کی موجودگی کا یقین ہوجائے۔ (رواہ ابن عساکر)
37599 عن إسحاق العزري عن أم عروة بنت جعفر بن الزبير بن العوام عن أبيها جعفر عن الزبير بن العوام عن أمه صفية بنت عبد المطلب قالت : لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أحد خلفني أنا ونساءه في أطم يقال له فارع عند المسجد ، فأدخلنا فيه ومعنا حسان بن ثابت ، فترقي إلينا يهودي من اليهود حتى أطل علينا في الاطم فقلت لحسان بن ثابت قم إليه فاقتله ، فقال : ما ذاك في ، لو كان ذلك في لكنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقلت : فاربط السيف على ذراعي ، فربطه فقمت إليه حتى قطعت رأسه ، فقلت : خذ بأذنه فارم به عليهم فسقطوا وهم يقولون : لقد ظننا أن محمدا لم يكن ليترك أهله خلوفا لا رجل معهم (كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفیہ بنت عبداللہ (رض)
٣٧٦٠٠۔۔۔ ابن اسحاق ، یحییٰ بن عباد بن زبیروہ اپنے والد سے حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں۔ صفیہ (رض) کہتی ہیں : ہم (عورتیں) حسان بن ثابت کے ساتھ فارغ کے قلعہ میں تھیں جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خندق میں تھے یکایک ایک یہودی آیا اور قلعہ کے اردگرد چکر کاٹنے لگا ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ ہماری تنہائی کی خبر کافروں کو نہ کردے میں نے حسان سے کہا نیچے جاؤ اور اس یہودی کا کام تمام کردو کہیں یہ ہماری تنہائی کی خبر افشانہ کردے حسان (رض) نے جواب دیا : اے بنت عبدالمطلب ! تم جانتی ہو کہ میں اس قابل نہیں ہوں صفیہ (رض) کہتی ہیں : میں نے ہمت کی ہاتھ میں ایک ستون لیا اور نیچے اترگئی اور اسے قتل کردیا میں نے پھر حسان سے کہا : جاؤ اس کا سازو سامان اتار لاؤ حسان (رض) نے کہا : مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37600 ابن إسحاق حدثني يحيى بن عباد بن الزبير عن أبيه عن صفية بنت عبد المطلب أنها قالت : كنا مع حسان بن ثابت في حصن فارع والنبي صلى الله عليه وسلم بالخندق فإذا بيهودي يطوف بالحصن ، فخفنا أن يدل على عورتنا فقلت لحسان : لو نزلت إلى هذا اليهودي ! فاني أخاف أن يدل على عورتنا ، فقالت : يا بنت عبد المطلب ! لقد علمت ما أنا بصاحب هذا ، قالت : فتحزمت ثم نزلت وأخذت عمودا فقتلته ، ثم قالت لحسان : اخرج عليه فاسلبه ، قال : لا حاجة لي في سلبه (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفیہ بنت عبداللہ (رض)
٣٧٦٠١۔۔۔ ضحاک بن عثمان حزامی کہتے ہیں : جب حضرت صفیہ (رض) حسان (رض) اور یہودی کا واقعہ ہمیں (صحابہ (رض) کو) پہنچا اور صحابہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا صفیہ (رض) کہتی ہیں سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (زورزور سے) ہنسے۔ حتیٰ کہ میں نے ان کی پچھلی ڈاڑھیں دیکھ لیں قبل ازیں میں نے آپ کو اس طرح ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37604- عن الضحاك بن عثمان الحزامي قال: لما كان من أمر صفية وحسان واليهودي ما كان بلغنا أنهم ذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم، قالت صفية: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى رأيت أقصى نواجذه، وما رأيته ضحك من شيء قط ضحكه منه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفیہ بنت عبداللہ (رض)
٣٧٦٠٢۔۔۔” مسند زبیر “ محمد حسن مخزومی ام عروہ کی سند سے ان کے دادا زبیر (رض) کی روایت ہے وہ کہتی ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتیں احد کے دن مدینہ میں اپنے پیچھے قارع میں چھوڑیں ان میں صفیہ بنت عبدالمطلب (رض) بھی تھیں اور عورتوں کے ساتھ حسان بن ثابت (رض) کو چھوڑا چنانچہ ایک مشرک آیا اور عورتوں میں گھسنا چاہتا تھا صفیہ (رض) نے حسان سے کہا : تمہارے پاس ایک مرد آ کیا ہے حسان (رض) نے ست روی کا مظاہرہ کیا اور انکار کردیا خود صفیہ (رض) نے تلوار لی اور مشرک کے دے ماری جس سے وہ ٹھنڈا ہوگیا بعد میں اس کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کی گئی آپ نے صفیہ (رض) کو مال غنیمت سے حصہ دیا جیسا کہ مردوں کو حصہ دیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37605- "مسند الزبير" عن محمد الحسن المخزومي حدثتني أم عروة عن جدها الزبير قال: لما خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه يوم أحد بالمدينة خلفهن في فارع فيهن صفية بنت عبد المطلب وخلف فيهن حسان بن ثابت، وأقبل رجل من المشركين فيدخل عليهن فقالت صفية لحسان: عندك الرجل! فجبن حسان عنه وأبى عليها، فتناولت صفية السيف فضربت به المشرك حتى قتلته، فأخبر بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب لصفية بسهم كما يضرب للرجال. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عاتکہ بنت زیدبن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٦٠٣۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں : عاتکہ بنت زیدین عمروبن نفیل (رض) عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے نکاح میں تھیں، عبداللہ (رض) نے عاتکہ کو کافی سارا مال دے رکھا تھا اور شرط عائد کی تھی کہ ان بعد عاتکہ کسی اور سے شادی نہیں کرے گی چنانچہ جب عبداللہ (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے حضرت عمر (رض) نے عاتکہ کو پیغام بھیجا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ حکم کو اپنے اوپر حرام کردیا ہے لہٰذا لیا ہوا مال عبداللہ کے وارثوں کو واپس کردو اور شادی کروعات کہ نے مال واپس کردیا پھر عمر (رض) نے انھیں پیغام نکاح بھیجا جسے قبول کرلیا اور یوں حضرت عمر (رض) نے عاتکہ (رض) سے نکاح کرلیا۔ (رواہ ابن سعد)
37606- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قال: كانت عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل تحت عبد الله بن أبي بكر فجعل لها طائفة من ماله على أن لا تتزوج بعده ومات، فأرسل عمر إلى عاتكة أنك قد حرمت ما أحل الله لك فردي إلى أهله المال الذي أخذتيه وتزوجي، ففعلت فخطبها عمر فنكحها."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عاتکہ بنت زیدبن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٦٠٤۔۔۔ علی بن یزید کی روایت ہے کہ عاتکہ بنت زید عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے نکاح میں تھیں عبداللہ (رض) وفات پاگئے اور عاتکہ پر یہ شرط عائد کردی کہ ان کے بعد کسی سے شادی نہیں کرے گی چنانچہ عاتکہ بن شادی کے بیٹھ گئی جبکہ مردوں کے پیغام کے پیغام ملتے اور وہ نکاح سے انکار کرلیتی چنانچہ حضرت عمر (رض) نے عاتکہ کے ولی سے اس کا تذکرہ کیا اور کہا : عاتکہ میرا پیغام نکاح دو ولی نے پیغام دیا عاتکہ نے پھر انکار کردیا حضرت عمر (رض) نے ولی سے کہا : اس سے میری شادی کرادو چنانچہ ولی نے شادی کرادی، جب حضرت عمر (رض) عاتکہ کے پاس آئے اس کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بالآخر عمر (رض) اس پر غالب آگئے اور صحبت کرلی جب فارغ ہوئے فرمایا : اف، اف، اس عورت پر اف ہے بھر اس کے پاس سے نکل گئے اور پھر کچھ دنوں کے لیے اسے یونہی چھوڑ دیا اور اس کے پاس نہ آئے چنانچہ عاتکہ نے اپنی باندی حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجی کہ تشریف لائیں میں آپ (رض) کے لیے تیاری کرتی ہوں۔ (رواہ ابن سعد واھومنقطع)
37607- عن علي بن يزيد أن عاتكة بنت زيد كانت تحت عبد الله بن أبي بكر فمات عنها واشترط عليها ألا تزوج بعده، فتبتلت وجعلت لا تزوج، وجعل الرجال يخطبونها وجعلت تأبى، فقال عمر لوليها: اذكرني لها، فذكره لها فأبت على عمر أيضا، فقال عمر: زوجنيها: فزوجه إياها، فأتاها عمر فدخل عليها فعاركها حتى غلبها على نفسها فنكحها، فلما فرغ قال: أف أف أف أفف بها ثم خرج من عندها وتركها لا يأتيها، فأرسلت إليه مولاة لها أن تعال فإني سأتهيأ لك."ابن سعد، وهو منقطع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیلہ (رض)
٣٧٦٠٥۔۔۔ قیلہ کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کے لیے شروع اسلام میں گھر سے نکلی قیلہ کہتی ہیں : میں اپنی ایک بہن کے پاس آئی جو نبی شیبان میں بیاہی ہوئی تھی اتنے میں سامنے سے اس کا خاوندآ گیا اور بولا : میں نے قیلہ کا سچا صاحب پایا ہے میری بہن بولی وہ کون ہے ؟ جواب دیا : وہ حریث بن حسان شیبانی ہے وہ آج صبح صبح بکر بن وائل کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا ہے۔ قیلہ کہتی ہیں میں بھی ان کے ساتھ ہولی حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آن پہنچے آپ لوگوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے فجر طلوع ہوچکی تھی ستارے آسمان پر چمک رہے تھے اور تاریکی کی وجہ سے مرد ایک دوسرے کو نہیں پہچان سکتے تھے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں اس سے کہا : اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کہ تم تاریکی میں کوچ کرنے والے پر مجھے دلالت کرسکو۔ جو ابھی رتک رفیق حیات سے گزیزاں ہے۔ حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ بولا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سامنے پارہاہوں میں مسلسل تمہارے جیون ساتھی کے تلاش میں رہا ہوں جب سے تم نے اس کی تعریف کی تھی میں نے کہا : جب میں نے اس کی ابتدا کی ہے تو میں ہرگزا سے ضائع بھی نہیں کروں گا۔ (رواہ ابونعیم)
37608- عن قيلة أنها خرجت تبتغي الصحابة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أول الإسلام، قالت: فمضيت إلى أخت لي ناكح في بني شيبان إذ جاء زوجها من السامر فقال: وجدت لقيلة صاحبا صاحب صدق، فقالت أختي: من هو فقال: هو حريث بن حسان الشيباني غاديا وافد بكر ابن وائل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذا صباح، قالت: فخرجت معه صاحب صدق حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي بالناس صلاة الغداة قد أقيمت حين شق الفجر والنجوم شابكة في السماء والرجال لا تكاد تعارف مع ظلمة الليل، فقلت له بحضرة رسول الله صلى الله عليه وسلم: والله ما علمت أن كنت لدليلا في الظلماء جوادا بذي الرحل، عفيفا عن الرفيقة، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني لا جرم أني أشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أني لا أزال لك أخا ما حييت إذا أثنيت علي هذا عنده، فقلت: أما إذ بدأتها فلن أضيعها."أبو نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت اسدام علی بن ابی طالب (رض)
٣٧٦٠٦۔۔۔ شیرزای فی الالقاب ، ابوعباس احمد بن سعید بن معدان (مرو میں) احمد بن محمد بن مردہ اوہ اپنے والد اور چچا سے وہ اپنے دادا عمر وبن مصعب سے سعید بن مسلم بن قبیہ علی بن موسیٰ ولی عہد امیرالمومنین ابوالعباس ، وہ اپنے والد محمد بن علی سے ابوہاشم بن محمد بن حنفیہ حسین بن علی علی بن ابی طالب (رض) اور محمد بن علی اپنے والد سے اور وہ ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : حضرت علی (رض) کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کا شمار ان عورتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے عبدالمطلب کی وفات کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پرورش اور تربیت کی جب فاطمہ بنت اسد (رض) نے وفات پائی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی قمیص میں کفن دیا ان کی نماز جنازہ پڑھائی ان کے لیے استغفار کیا اور دعائے خیر کی اور جب انھیں قبر میں رکھ دیا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ (تھوڑی دیر کے لیے) قبر میں لیٹ گئے صحابہ (رض) نے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے فاطمہ بنت اسد (رض) کے ساتھ جو کچھ کیا ہے آپ نے ایسا کسی کے ساتھ نہیں کیا : آپ نے فرمایا : میں نے اپنی قمیص میں انھیں کفن دیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ میں ان کی قبر میں اس لیے لیٹا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تخفیف فرمائے۔
37609- "قال الشيرازي في الألقاب" أنا أبو العباس أحمد بن سعيد بن معدان بمرو قال ذكر أحمد بن محمد بن عمرو أنا أبي وعمي قال وأنا جدي عمرو بن مصعب حدثني سعيد بن مسلم بن قتيبة سمعت علي بن موسى ولي العهد قال سمعت أبا العباس أمير المؤمنين! قال سمعت أبي محمد بن علي قال سمعت أبا هاشم بن محمد بن الحنفية يحدث عن الحسين ابن علي عن أبيه علي بن أبي طالب ومحمد بن علي عن أبيه عن ابن عباس قال: لما ماتت أم علي بن أبي طالب فاطمة بنت أسد بن هاشم وكانت ممن كفل النبي صلى الله عليه وسلم وربته بعد موت عبد المطلب، كفنها النبي صلى الله عليه وسلم في قميصه، وصلى عليها واستغفر لها وجزاها الخير بما وليته منه، واضطجع معها في قبرها حين وضعت فقيل له: صنعت يا رسول الله بها صنعا لم تصنع بأحد! قال: إنما كفنتها في قميصي ليدخلها الله الرحمة ويغفر لها، واضطجعت في قبرها ليخفف الله عنها بذلك
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت اسدام علی بن ابی طالب (رض)
٣٧٦٠٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کی وفات ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی قمیص میں کفن دیا، ان پر نماز جنازہ پڑھائی اور ستر تکبریں کہیں۔ پھر آپ قبر میں اترے اور ہاتھ سے یوں اشارے کیے جسے آپ قبر میں توسع کررہے ہوں۔ پھر قبر سے باہر نکل آئے جبکہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے آپ نے مٹھی بھر مٹی قبر میں ڈالی جب آپ چل پڑے عمر (رض) نے آپ سے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ اس عورت کے ساتھ وہ کچھ کرتے دیکھا ہے جو آپ نے کسی عورت کے ساتھ نہیں کیا آپ نے فرمایا : عمر ! یہ عورت میری حقیقی ماں کے بعد ماں کا درجہ رکھتی ہے ابوطالب کا میرے ساتھ اچھا رویہ رہا ہے ان کا دسترخوان بچھتا تھا جس پر ہمیں جمع کیا جاتا یہ عورت ابوطالب کے ہاں فضلیت والی عورت تھی جبرائیل امین نے مجھے اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ یہ اہل جنت میں سے ہے مجھے جبرائیل امین نے یہ خبر بھی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ المستدرک للحاکم ٣/١٠٨)
37610- عن علي قال: لما ماتت فاطمة بنت أسد بن هاشم كفنها النبي صلى الله عليه وسلم في قميصه، وصلى عليها فكبر عليها سبعين تكبيرة ونزل في قبرها فجعل يومي في نواحي القبر كأنه يوسعه ويسوي عليها، وخرج من قبرها وعيناه تذرفان، وحثا في قبرها، فلما ذهب قال له عمر بن الخطاب: يا رسول الله! رأيتك فعلت في هذه المرأة شيئا لم تفعله على أحد! فقال: يا عمر! هذه المرأة كانت أمي بعد أمي التي ولدتني، إن أبا طالب كان يصنع الصنيع وتكون له المأدبة وكان يجمعنا على طعامه فكانت هذه المرأة تفضل منه كله نصيبا فأعود فيه، وإن جبريل أخبرني عن ربي أنها من أهل الجنة، وأخبرني جبريل أن الله تعالى أمر سبعين ألفا من الملائكة يصلون عليها. "المستدرك للحاكم: 3/108".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت اسدام علی بن ابی طالب (رض)
٣٧٦٠٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب فاطمہ حضرت علی (رض) کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص اتار کرا نہیں پہنائی اور پھر ان کی قبر میں لیٹ گئے جب قبر پر مٹی ڈال دی تو بعض صحابہ (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! ہم نے آپ کو وہ کچھ کرتے دیکھا ہے جو آپ نے کسی کے ساتھ نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنی قمیص اسے پہنائی ہے تاکہ وہ جنت کے کپڑے پہنے اور میں اس کے ساتھ قبر میں لیٹا ہوں تاکہ قبر کی بھینچ میں تحفیف ہو بلاشبہ ابوطالب کے بعد اس عورت نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ والدیلمی ومسندہ حسن)
37611- عن ابن عباس قال: لما ماتت فاطمة أم علي خلع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه وألبسها إياه واضطجع في قبرها، فلما سوى عليها التراب قال بعضهم: يا رسول الله! رأيناك صنعت شيئا لم تصنعه بأحد؟ قال: إني ألبستها قميصي لتلبس من ثياب الجنة، واضطجعت معها في قبرها لأخفف عنها من ضغطة القبر، إنها كانت أحسن خلق الله صنيعا إلى بعد أبي طالب. "أبو نعيم في المعرفة والديلمي، وسنده حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صفیہ بنت حیی ام المومنین (رض)
٣٧٦٠٩۔۔۔ حضرت صفیہ (رض) کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ اچھے اخلاق کسی کے نہیں دیکھے چنانچہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے رات کو اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ مجھے اونگھ آنے لگی آپ مجھے ہاتھ سے پکڑلیتے اور فرماتے : اے بنت حیی رک جاؤ پھر فرماتے : اے صفیہ ! جو کچھ میں نے تمہاری قوم سے کیا ہے میں اس کی تم سے معذرت کرتا ہوں چونکہ تمہاری قوم نے مجھے یہ کہا اور یہ کہا۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37612- عن صفية قالت: ما رأيت قط أحسن خلقا من رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد أردفني على عجز ناقته ليلا، فجعلت أنعس فيمسكني رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده فيقول: يا هذه مهلا! يا بنت حيي! وجعل يقول: ياصفية! إني أعتذر إليك مما صنعت بقومك! إنهم قالوا لي كذا، إنهم قالوا لي كذا. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام اسحاق (رض)
٣٧٦١٠۔۔۔ بشاربن عبدالملک کہتے ہیں مجھے ام حکیم نے ام اسحاق ک کی حدیث سنائی : ام اسحاق کہتی ہیں : میں نے اپنے بھائی کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مدینہ میں ہجرت کی میں راستے میں تھے کہ میرے بھائی نے کہا : اے ام اسحاق یہیں بیٹھ جاؤ میں مکہ میں اپنا خرچہ بھول آیا ہوں میں نے کہا : مجھے اپنے شوہر فاسق کا ڈر ہے۔ (وہ مجھے قتل نہ کردے) بھائی نہ کہا : ہرگز نہیں انشا اللہ ! ام اسحاق کہتی ہیں : میں کئی دنوں تک یہیں بیٹھی رہی میرے پاس سے ایک شخص گزرا میں اس کا نام نہیں لیتی۔ حالانکہ میں اسے پہچانتی تھی اس نے پوچھا : اے ام اسحاق یہاں کیوں بیٹھی ہو ؟ میں نے کہا میں اسحاق کے انتظار میں ہوں وہ اپنا خرچہ لینے مکہ گیا ہوا ہے۔ وہ بولا : تمہیں اسحاق نہیں ملے گا چونکہ اسے تیرے شوہر فاسق نے قتل کردیا ہے میں اکیلی ہی چل پڑی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ وضوکر رہے تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اسحاق قتل کردیا گیا ہے میں رو وہی تھی جب کہ آپ مجھے دیکھ رہے تھے میں نے دیکھا کہ آپ نے وضو کرتے کرتے سرجھکا لیا ہے آپ نے چلو بھر پانی لیا اور میرے چہرے پر پھینک دیا ام حکیم کہتی ہیں : ام اسحاق کو عظیم مصیبت پیش آئی اس کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے تھے جبکہ رخساروں پر بہتے نہیں تھے۔ (رواہ البخاری فی تاریحہ وسمویہ واونعیم فی الحلیۃ)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے الاصبابہ میں لکھا ہے کہ بشار کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے الاصبابہ میں لکھا ہے کہ بشار کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
37613- عن بشار بن عبد الملك قال حدثتني جدتي أم حكيم قالت سمعت أم إسحاق تقول: هاجرت مع أخي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة، فلما كنت ببعض الطريق قال لي أخي: اقعدي يا أم إسحاق! فإني نسيت نفقتي بمكة. فقلت: إني أخشى الفاسق زوجي، قال: كلا! إن شاء الله، قالت: فلبثت أياما فمر بي رجل قد عرفته ولا أسميه فقال: ما يقعدك ههنا يا أم إسحاق؟ فقلت: أنتظر إسحاق، ذهب يأخذ نفقته، قال: لا إسحاق لك، قد لحقه الفاسق زوجك فقتله؛ فقدمت فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتوضأ، قلت: يا رسول الله! قتل إسحاق - وأنا أبكي وهو ينظر إلي، فإذا نظرت إليه نكس في الوضوء، فأخذ
كفا من ماء فنضحه في وجهي قالت أم حكيم: ولقد كانت تصيبها المصيبة العظيمة فترى الدموع في عينيها ولا تسيل على خدها. "خ في تاريخه وسمويه، حل، قال في الإصابة: بشار ضعفه ابن معين
كفا من ماء فنضحه في وجهي قالت أم حكيم: ولقد كانت تصيبها المصيبة العظيمة فترى الدموع في عينيها ولا تسيل على خدها. "خ في تاريخه وسمويه، حل، قال في الإصابة: بشار ضعفه ابن معين
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١١۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کے اہل بیت کے متعلق احترام کرو۔ (رواہ البخاری)
37614- "مسند الصديق" عن ابن عمر قال قال أبو بكر: ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم في أهل بيته. "خ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری ملاقات کے لیے تشریف لائے اور ہمارے ہاں رات گزاری جب کہ حسن (رض) اور حسین (رض) سو رہے تھے : حسن (رض) نے پانی مانگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی لینے مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اور تھنوں سے دودھ نکالنے کی طرح مشکیزے سے برتن میں پانی نکالا ایک روایت میں ہے : آپ ہماری بکری کی طرف اٹھے اسے دوہا پھر آپ دودھ پیتے ہوئے واپس آئے اور برتن حسن کو تھمادیا حسین (رض) نے برتن لینا چاہا لیکن آپ نے انھیں منع کردیا ایک روایت میں ہے : آپ نے حسین (رض) کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن حسن (رض) سے ابتداء کی اس پر فاطمہ (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! گویا حسن آپ کو زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا : نہیں لیکن پانی اس نے پہلے مانگا ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یہ دونوں اور یہ سویا ہوا یعنی حضرت علی (رض) قیامت کے ان ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔ (رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل وابویعلی وابن ابی عاصم فی السنۃ والطبرانی فی المنفق والمفترق وابن النجار والخطیب)
37615- عن علي قال: زارنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وبات عندنا والحسن والحسين نائمان فاستسقي الحسن فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قربة لنا فجعل يمصرها1 في القدح. وفي لفظ: فقام لشاة لنا فحلبها فدرت ثم جاء يسقيه فناول الحسن فتناول الحسين ليشرب فمنعه. وفي لفظ: فأهوى بيده إلى الحسين وبدأ بالحسن فقالت فاطمة: يا رسول الله! كأنه أحبهما إليك، قال: لا، ولكنه استسقى أول مرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا وإياك وهذين وهذا الراقد - يعني عليا - يوم القيامة في مكان واحد. "ط، حم، ع وابن أبي عاصم في السنة، طب في المتفق وابن النجار، خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) و حسین (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : جو شخص ان دونوں سے ان کے باپ اور ماں سے محبت کرے گا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔ (رواہ الترمذی و عبداللہ بن احمد بن حنبل ونظام الملک فی امالیہ النجار و سعید بن المنصور)
37616- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بيد حسن وحسين فقال من أحبني وأحب هذين وأباهما وأمهما كان معي في درجتي يوم القيامة. "ت، عم، ونظام الملك في أماليه وابن النجار، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی ہے کہ جنت میں سب سے پہلے فاطمہ حسن اور حسین (رض) داخل ہوں گے میں نے کہا : یارسول اللہ ! ہمارے محبین بھی جنت میں داخل ہوں گے ؟ فرمایا : وہ تمہارے پیچھے ہوں گے۔ (رواہ الحاکم)
37617- عن علي قال: أخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أول من يدخل الجنة أنا وفاطمة والحسن والحسين، فقلت: يا رسول الله أفمحبونا؟ قال: من ورائكم. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٥۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص ہم اہل بیت سے محبت کرتا ہے وہ فقر کے لیے چادر تیار کرے یا فرمایا : کہ وہ اپنے لیے پاکھر تیار کرے۔ (رواہ ابوعبیدہ)
37618- عن علي قال: من أحبنا أهل البيت فليعد للفقر جلبابا - أو قال: تجفافا."أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک درجہ ہے جسے وسیلہ کہا جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو۔ صحابہ (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپکے ساتھ اس درجہ میں اور کون سکونت اختیار کرے گا ؟ فرمایا : علی فاطمہ، حسن و حسین (رض) اجمعین۔ (رواہ ابن مردویہ
37619- عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: في الجنة درجة تدعى الوسيلة، فإذا سألتموا الله فسلوا لي الوسيلة، قالوا: يا رسول الله! من يسكن معك فيها؟ قال علي وفاطمة والحسن والحسين."ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٧۔۔۔ حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے پوچھا : تم کب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے۔ میں نے کہا اتنے اتنے عرصہ سے۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دوتا کہ میں آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں اور پھر میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا جب تک آپ میرے لیے اور تمہارے لیے استغفار نہ کرلیں چنانچہ میں نے آپ کے ساتھ مغرب اور پھر عشاء کی نماز پڑھی لوگ مسجد سے چلے گئے اور کوئی بھی نہ رہا چنانچہ آپ پر کوئی خاص کیفیت طاری ہوئی جب یہ کیفیت چھٹ گئی تو آپ نے میری آواز پہچان لی اور فرمایا : اے حذیفہ ! میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیوں آئے ہو ؟ اے حذیفہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری مان کی مغفرت فرمائے۔ یہ فرشتہ نازل ہوا ہے جو اس سے قبل نازل نہیں ہوا، یہ اپنے رب تعالیٰ سے اجازت لیتا یے کہ مجھ پر سلام پیش کرے رب تعالیٰ نے اسے اجازت دی اس نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ فاطمہ (رض) جتنی عورتوں کی سردار ہے اور حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔۔ (رواہ ابن جریر)
37620- عن حذيفة قال: سألتني أمي متى عهدك بالنبي صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: مذ كذا وكذا، فدعيني أصلى معه المغرب ثم لا أدعه حتى يستغفر لي ولك، فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء الآخرة ثم صلى حتى لم يبق في المسجد أحد فعرض له عارض فناجاه ثم انفتل فعرف صوتي فقال: حذيفة؟ فقلت: نعم، قال: ما جاء بك؟ غفر الله لك ولأمك يا حذيفة! هذا ملك لم يكن نزل قبل الليلة إلى الأرض، استأذن ربه أن يسلم علي فأذن له وبشرني أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة والحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٨۔۔۔ زیدبن ارقم (رض) روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ حضرت علی (رض) حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) سے فرمایا : جو شخص تم سے جنگ کرے میں اس سے جنگ کروں گا جو تمہارے ساتھ سلامتی میں رہے گا میں بھی سے سلامتی کی نوید سناتا ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والترمذی وابن ماجہ وابن حبان والطبرانی والحاکم والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٧٤٨۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٧٤٨۔
37621- عن زيد بن أرقم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة وعلي وحسن وحسين: أنا حرب لمن حاربكم وسلم لمن سالمكم. "ش، ت، هـ، حب، طب، ك، ض".
তাহকীক: