কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৬৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦١٩۔۔۔ زیدبن ارقم (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اہنے اہل بیت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ آپ نے دو مرتبہ فرمایا۔ (رواہ ابن جریر)
37622- عن زيد بن أرقم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنشدكم الله في أهل بيتي - مرتين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٠۔۔۔ یزیدبن حبان حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان خم نامی چشمہ پر تھے آپ نے حمد وثناء کے بعد وعظ و نصیحت کی اور پھر فرمایا : امابعد ! اے لوگو میں انتظار کررہا ہوں کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے میں اس کی بات قبول کروں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑرہا ہوں ایک کتاب اللہ ہے اسمیں ہدایت اور سچائی ہے کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رکھو آپ نے ہمیں کتاب اللہ کی ترغیب دی اور اس پر ابھارا۔ پھر فرمایا : دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق دہائی دیتا ہوں آپ نے تین بار فرمایا : زیدبن ارقم (رض) سے پوچھا گیا : آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت نہیں ہیں ؟ زید (رض) نے جواب دیا : آپ کی ازواج مطہرات اہل بیت میں سے تو ہیں ہی لیکن اہل بیت وہ لوگ بھی ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا گیا وہ کون ہیں ؟ جواب دیا : وہ آل عباس، آل علی، آل جعفر، اور آل عقیل ہیں پوچھا گیا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ جواب دیا : جی ہاں۔ (رواہ ابن جریر)
37623- "أيضا" عن يزيد بن حبان عن زيد بن أرقم قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا بماء يدعى خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال: أما بعد أيها الناس! إني أنتظر أن يأتيني رسول ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم الثقلين: أحدهما كتاب الله، فيه الهدى والصدق، فاستمسكوا بكتاب الله وخذوا به - فرغب في كتاب الله وحث عليه؛ ثم قال: وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي - ثلاث مرات. فقيل لزيد: ومن أهل بيته؟ أليس نساؤه من أهل بيته؟ فقال زيد: إن نساءه من أهل بيته ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قيل: ومن هم؟ قال: هم آل العباس وآل علي وآل جعفر وآل عقيل، قيل: أكل هؤلاء يحرم الصدقة؟ قال: نعم."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢١۔۔۔” ایضا “ یزید بن حبان حضرت زیدبن ارقم (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ اور مدینہ کے درمیان خم نامی وادی میں ہمیں خطاب کیا اور ارشاد فرمایا : میں ایک بشرہوں عنقریب مجھے پکارا جائے اور میں پکار کا جواب دے دوں (یعنی دنیا سے رخصت ہوجاؤ) خبردار میں تمہارے درمیان دو چیزوں چھوڑرہا ہوں۔ ایک کتاب اللہ ہے جو اس کی پیروں کرے گا وہ ہدایت ہر رہے گا جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی ہوگا دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق دہائی دیتا ہوں تین بار فرمایا۔ (رواہ ابن جریر)
37624- "أيضا" عن يزيد بن حبان عن زيد بن أرقم قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بواد بين مكة والمدينة يدعى خما خطيبا فقال: إنما أنا بشر أوشك أن أدعى فأجيب، ألا! وإني تارك فيكم ثقلين: أحدهما كتاب الله عز وجل حبل، من اتبعه كان على الهدى، ومن تركه كان على الضلالة، وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي - ثلاث مرات. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٢۔۔۔ ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیٹی فاطمہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے ان کے دونوں بیٹے ان کی ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے جبکہ حضرت علی (رض) سو رہے تھے حسن (رض) نے پانی مانگا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی کے پاس گئے دودھ دوہ کرلیتے آئے حضرت حسین (رض) نے پہلے دودھ پینے کے مطالبہ کیا اور منازعت کردی اور (نہ ملنے پر) رونے لگے۔ آپ نے فرمایا : پہلے تمہارا بھائی پی لے پھر تم پینا فاطمہ (رض) نے عرض کیا : گویا آپ حسن کو حسین پر ترجیح دے رہے ہیں فرمایا : میں اسے ترجیح نہیں دے رہا ہے میرے نزدیک ایک مقام رکھتے ہیں۔ تو یہ دونوں اور یہ سویا ہوا شخص قیامت کے دن میرے سات ایک جگہ میں ہوں گے (رواہ ابن عساکر
37625- عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على ابنته فاطمة وابناها إلى جانبها وعلي نائم، فاستسقى الحسن فأتى ناقة لهم فحلب منها ثم جاء به، فنازعه الحسين أن يشرب قبله حتى بكى فقال: يشرب أخوك ثم تشرب، فقالت فاطمة: كأنه آثر عندك منه، قال: ما هو بآثر عندي منه، وإنهما عندي بمنزلة واحدة، وإنك وهما وهذا المضطجع معي في مكان واحد يوم القيامة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٣۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب کہتے ہیں : ہم قریش کی ایک جماعت سے ملاقات کرتے تھے وہ آپس میں گفتگو کرتے اور پھر گفتگو منقطع کردیتے ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ تم سے محض اللہ کے لیے اور میری قرابت کیلئے محبت نہ کرے۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ ٢٥۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ ٢٥۔
37626- عن العباس بن عبد المطلب قال: كنا نلقى النفر من قريش وهم يتحدثون فيقطعون حديثهم، فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: والله لا يدخل قلب رجل الإيمان حتى يحبكم لله ولقرابتي وفي لفظ - ولقرابتكم مني. "كر وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٤۔۔۔ حضرت عباس (رض) کی روایت ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس بیٹھے ان لوگوں نے اپنی گفتگو منقطع کردی عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے لوگوں کے پاس جب میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص بیٹھتا ہے وہ اپنی گفتگو منقطع کردیتے ہیں ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ایمان کسی شخص کے دن میں داخل نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ میرے اہل بیت سے محض اللہ کے لیے یا میری قرابت کے لیے محبت نہ کرے۔ (رواہ الرویانی وابن عساکر)
37627- عن العباس أنه جلس إلى قوم فقطعوا حديثهم، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما بال أقوام إذا جلس إليهم أحد من أهل بيتي قطعوا حديثهم؟ والذي نفسي بيده! لا يدخل قلب امرئ الإيمان حتى يحبهم لله ولقرابتهم مني. "الروياني، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٥۔۔۔ زینب بنت ابی سلمہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام سلمہ (رض) کے ہاں تھے آپ نے اپنی ایک طرف حسن (رض) کو بیٹھایا اور دوسری طرف حسین (رض) جو جبکہ فاطمہ (رض) آپ کی گود میں تھیں آپ نے فرمایا : اے اہل بیت تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قابل ستائش اور بزرگی والا ہے جبکہ میں اور ام سلمہ (رض) سو رہی تھیں تو ام سلمہ (رض) نے رونا شروع کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ (رض) کی طرف دیکھا اور رونے کی وجہ دریافت فرمائی ام سلمہ (رض) بولیں : آپ نے انہی کو رحمت و برکت میں خاص کیا ہے جبکہ مجھے اور میری بیٹی کو چھوڑ دیا ہے فرمایا : تو اور تیری اہل بیت میں سے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر
37628- عن زينب بنت أبي سلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عند أم سلمة فجعل الحسن من شق والحسين من شق وفاطمة في حجره فقال: رحمة الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد وأنا وأم سلمة نائمتين، فبكت أم سلمة، فنظر إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما يبكيك؟ فقالت: خصصتهم وتركتني وابنتي فقال: أنت وابنتك من أهل البيت. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٦۔۔۔” مسند ابن عباس “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے رب تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے تین افراد میں سے مجھے منتخب کیا ہے ان تینوں کا سرادار اور اولاد آدم کا سردار ہوں اور اسمیں کوئی فخر نہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے علی بن ابی طالب حمزہ بمن عبدالمطلب اور جعفر بن ابی طالب کو منتخب کیا ہے ایک مرتبہ ہم ابطح میں سو رہے تھے اور ہم میں سے ہر شخص نے چادر سے سرڈھانپ رکھا تھا علی میری دائیں جانب تھا جعفر میری بائیں جانب اور حمزہ (رض) میرے پاؤں کی طرف سو رہے تھے مجھے نیند سے فرشتوں کے ہلکے ہلکے پروں اور علی کے بازو کی ٹھنڈک جو کہ میرے رخسار کے نیچے تھا جگادیا میں بیدار ہوگیا جبکہ جبرائیل تین فرشتوں کے ساتھ تھے فرشتوں میں سے ایک نے جبرائیل سے کہا : اے جبرائیل ! ان چار میں سے کس کی طرف تمہیں بھیجا گیا ہے ؟ جبرائیل نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور کہا اس کی طرف مجھے بھیجا گیا ہے یہ اولاد آدم کا سردار ہے فرشتے نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ محمد بن عبداللہ ہے جو انبیاء کا سردار ہے یہ علی بن ابوطالب ہے اور یہ حمزہ بن عبدالمطلب سیدالشہداء ہے اور یہ جعفر ہے اس کے دوپر ہیں جن سے یہ جنت میں اڑے گا جہاں چاہے گا۔ (رواہ یعقوب سان سفیان والخطیب وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سندیں عبالعہ ربعی ہے جو غالی شیعہ ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سندیں عبالعہ ربعی ہے جو غالی شیعہ ہے۔
37629- "مسند ابن عباس" عن ابن عباس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن إلهي عز وجل اختارني في ثلاثة من أهل بيتي على جميع أمتي: أنا سيد الثلاثة وسيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر، اختارني وعلي بن أبي طالب وحمزة بن عبد المطلب وجعفر بن أبي طالب، كنا رقودا بالأبطح ليس منا إلا مسجى بثوبه، علي عن يميني وجعفر عن يساري وحمزة عند رجلي، فما نبهني من رقدتي إلا حفيف أجنحة الملائكة وبرد ذراع علي تحت خدي، فانتبهت من رقدتي وجبريل في ثلاثة أملاك، فقال له بعض الأملاك الثلاثة: يا جبريل! إلى أي هؤلاء الأربعة أرسلت فضربني برجله وقال: إلى هذا هو سيد ولد آدم، فقال: من هذا يا جبريل؟ قال: محمد بن عبد الله سيد النبيين وهذا علي بن أبو طالب وهذا حمزة بن عبد المطلب سيد الشهداء وهذا جعفر، له جناحان يطير بهما في الجنة حيث يشاء. "يعقوب بن سفيان، "خط، كر"، وفيه عبايعة الربعي من غلاة الشيعة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٧۔۔۔ محمد بن اسحاق نافع مولائے ابن عمروابن عمر (رض) و سعید مقبری عمار (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ درہ بنت ابی لہب ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئی اور رافع معلی کے گھر ٹھہری چنانچہ بن زریق کی عورتیں اس کے پاس بیٹھیں اور کہنے لگیں : یہ ابولہب کی بیٹی ہے جس کے بارے میں ” تبت یدا ابی لھب وتب “ نازل ہوئی ہے سو تمہاری ہجرت اسے نفع نہیں گی درۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور رونے لگی اور آپ سے عورتوں کا تذکرہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درہ کو تسلی دی اور فرمایا : یہیں بیٹھی رہو آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی پر تھوڑئی دیر کے لیے منبر پر بیٹھے پھر فرمایا : اے لوگو : مجھے میرے اہل بیت کے متعلق کیوں اذیت پہنچائی جاتی ہے ؟ اللہ کی قسم میری شفاعت میرے قرابتداروں کو پائے گی حتیٰ کہ صداء حکم حاء اور سلہب کو انھیں قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوئی۔ (رواہ الدیلمی)
37630- عن محمد بن إسحاق عن نافع مولى ابن عمر عن ابن عمر وعن سعيد المقبري عن عمار وأبي هريرة قالوا: قدمت درة بنت أبي لهب المدينة مهاجرة، فنزلت في دار رافع بن المعلى فقال لها نسوة جلسن إليها من بني زريق: ابنة أبي لهب الذي أنزل الله فيه "تبت يدا أبي لهب" فما يغني هجرتك! فأتت درة رسول الله صلى الله عليه وسلم فبكت وذكرت ما قلن لها، فسكنها وقال: اجلسي ثم صلى بالناس الظهر، ثم جلس على المنبر ساعة ثم قال: يا أيها الناس! مالي أوذى في أهلي؟ فوالله إن شفاعتي تنال قرابتي حتى أن صداء وحكم وحاء وسلهب لتنالها يوم القيامة. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٨۔۔۔ ام سلمہ اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تھے اتنے میں خادمہ آئی اور بولی : علی فاطمہ (رض) دروازے پر کھڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میرے اہل بیت کے لیے ذرا الگ ہوجاؤ میں اٹھ کر گھر کے ایک کونے میں چلی گئی علی فاطمہ حسن اور حسین (رض) اندر داخل ہوئے حسن و حسین (رض) کو آپ نے گود میں بٹھایا ایک ہاتھ سے علی (رض) کو پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹالیے دوسرے ہاتھ سے فاطمہ (رض) کو پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹالیا اور انھیں بوسہ دیا اور اپنی سیاہ چادر ان پر ڈال دی پھر فرمایا : یا اللہ ! ان کا ٹھکانا اپنے پاس رکھنا نہ کہ دوزخ میں میں اور میرے اہل بیت کا مرجع تیری طرف ہے میں نے آواز دی : یارسول اللہ ! میں بھی فرمایا : اور تو بھی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37631- عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها فجاءت الخادم فقالت: علي وفاطمة بالسدة، فقال: تنحي لي عن أهل بيتي، فتنحيت في ناحية البيت، فدخل علي وفاطمة وحسن وحسين فوضعهما في حجره، وأخذ عليا بإحدى يديه فضمه إليه، وأخذ فاطمة باليد الأخرى فضمها إليه وقبلها وأغدف1 خميصة سوداء، ثم قال: اللهم إليك لا إلى النار أنا وأهل بيتي! فناديته فقلت: وأنا يا رسول الله! قال: وأنت. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٢٩۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : تم اپنے خاوند اور بیٹوں سمیت میرے پاس آنا فاطمہ (رض) انھیں لے کر آئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر اپنی چادر ڈالی جو خبیر سے پائیے تھی اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی : یا اللہ ! یہ لوگ آل محمد ہیں اپنی رحمتیں آل محمد پر نازل فرما۔ جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں بلاشبہ تو حمد ولاا اور بزرگی والا ہے ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میں نے چادر اٹھائی تاکہ میں ان میں شامل ہوجاؤں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر میرے ہاتھ سے کھینچ لی اور فرمایا : تو خیر و بھلائی پر ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37632- عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة: ائتيني بزوجك وابنيك، فجاءت بهم، فألقى عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم كساء كان تحتي خيبريا أصبناه من خيبر ثم رفع يديه فقال: اللهم! إن هؤلاء آل محمد فاجعل صلواتك وبركاتك على آل محمد كما جعلتها على آل إبراهيم إنك حميد مجيد؛ فرفعت الكساء لأدخل معهم، فجذبه رسول الله صلى الله عليه وسلم من يدي وقال: إنك على خير. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٣٠۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بازو میں حضرت علی (رض) اور فاطمہ (رض) کو لیا اور دوسرے بازو میں حسن (رض) و حسین (رض) کو اور پھر ان پر اپنی سیاہ رنگ کی چادر ڈال دی علی (رض) اور فاطمہ (رض) کا بوسہ لیا اور فرمایا یا اللہ ! میرا اور میری اہل بیت کا ٹھکانا تیری طرف ہے کہ دوزخ کی طرف ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میں نے کہا : اور میں بھی۔ فرمایا : اور تو بھی۔ (رواہ الطبرانی)
37633- عن أم سلمة قالت: اعتنق رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة بيده، وحسنا وحسينا بيده؛ وعطف عليهم خميصة كانت عليهم سوداء وقبل عليا وقبل فاطمة ثم قال: اللهم إليك لا إلى النار أنا وأهل بيتي! قلت: وأنا! قال: وأنت. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٣١۔۔۔” مسند علی “ شبلی کی روایت ہے کہ حضرت علی بن طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اسلام ننگا ہے اور اس کا لباس تقوی ہے اس کے بال وپر ہدایت ہے اس کی زینت حیاء ہے روع اس کا ستون ہے عمل صالح اس کی اصل اور جڑ ہے، میری اور میرے اہل بیت کی محبت کی بنیاد ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37634- "مسند علي" عن الشبلي قال: سمعت محمد بن علي الدامغاني قال: سمعت علي بن حمزة الصوفي يحدث عن أبيه قال: سمعت موسى بن جعفر يقول: حدثنا أبي سمعت أبي يحدث عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! إن الإسلام عريان لباسه التقوى، ورياشه الهدى، وزينته الحياء وعماده الورع، وملاكه العمل الصالح، وأساس الإسلام حبي وحب أهل بيتي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٣٢۔۔۔” مسند انس “ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھ مہینے تک فاطمہ (رض) کے گھر کے پاس سے گزرتے رہے آپ نماز فجر کی لیے جاتے تھے گزرتے وقت آپ فرماتے اسے اہل بیت تمہارے اوپر رحمت نازل ہو۔ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ تم سے گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37635- "مسند أنس" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يمر ببيت فاطمة ستة أشهر إذا خرج إلى الفجر فيقول: الصلاة يا أهل البيت! "إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت اور وہ حضرات جو صحابہ (رض) ہیں فضائل امت و قبائل و مقامات وازمنہ و حیوانات فضائل اہل بیت مجمل ومفصل فصل۔۔۔ مجمل فضائل کے بیان میں
٣٧٦٣٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے آپ نے چادر بچھائی اس پر خود بیٹھ گئے علی، فاطمہ حسن و حسین (رض) کو بھی پر بٹھایا پھر آپ نے چادر کا کو ناپکڑ اور اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا : یا اللہ ان سے راضی رہ جیسا کہ میں ان سے راضی ہوں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
37636- عن علي أنه دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم وقد بسط شملة فجلس عليها هو وعلي وفاطمة والحسن والحسين، ثم أخذ النبي صلى الله عليه وسلم بمجامعه فقعد عليهم ثم قال: اللهم! ارض عنهم كما أنا عنهم راض. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٤۔۔۔” مسند صدیق “ عقبہ بن حارث (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے کچھ دونوں بعد میں ابوبکر (رض) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے جارہا تھا حضرت علی (رض) ابوبکر (رض) کے پہلو میں چل رہے تھے اتنے میں حسن بن علی (رض) کے پاس سے گزرے اور وہ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ابوبکر (رض) نے حسن (رض) کو اپنے کاندھوں پر اٹھالیا اور فرمایا :
بابی شیبۃ بالنبی لبس شبیھا بعلی
یہ لڑکا جو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ ہے کہ کہ علی کے مشابہ ہے اس پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
حضرت علی (رض) یہ دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل وابن المدنی والبخاری والنسائی الحاکم)
فائدہ :۔۔۔ ابن کیثر کہتے ہیں یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے گویا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صورت میں حسن کے مشابہ تھے۔
بابی شیبۃ بالنبی لبس شبیھا بعلی
یہ لڑکا جو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ ہے کہ کہ علی کے مشابہ ہے اس پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
حضرت علی (رض) یہ دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل وابن المدنی والبخاری والنسائی الحاکم)
فائدہ :۔۔۔ ابن کیثر کہتے ہیں یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے گویا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صورت میں حسن کے مشابہ تھے۔
37637- "مسند الصديق" عن عقبة بن الحارث قال: خرجت مع أبي بكر من صلاة العصر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بليال وعلي يمشي إلى جنبه، فمر بحسن بن علي يلعب مع غلمان، فاحتمله على رقبته وهو يقول:
بأبي شبيه بالنبي.
...
ليس شبيها بعلي
وعلي يضحك."ابن سعد، حم وابن المدني خ، ن، ك؛ قال ابن كثير: هذا في حكم المرفوع لأنه في قوة قوله: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يشبه الحسن".
بأبي شبيه بالنبي.
...
ليس شبيها بعلي
وعلي يضحك."ابن سعد، حم وابن المدني خ، ن، ك؛ قال ابن كثير: هذا في حكم المرفوع لأنه في قوة قوله: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يشبه الحسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٥۔۔۔ “ مسند علی “ حارث کہتے یہ حدیث ہے کہ حضرت علی (رض) حضرت حسن (رض) سے فرماتے تھے : یہ قمیص اتارنے والا ہے۔ یعنی خلافت سے دستبردار ہوگا۔ (رواہ الحاکم)
37638- "مسند علي" عن الحارث أن عليا كان يقول للحسن: خالع سرباله "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٦۔۔۔” ایضا “ ابواسحاق کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے اپنے بیٹے حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا بیٹا سردار ہے جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے عنقریب اس کی اولاد میں ایک شخص پیدا ہوگا جو اخلاق میں اس کے مشابہ ہوگا اور صورت میں اس سے مشابہ نہیں ہوگا۔ اس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔ (رواہ ابوداؤد ونعیم بن حماد فی الفتن)
37639- "أيضا" عن أبي إسحاق قال قال علي ونظر إلى وجه ابنه الحسن فقال: إن ابني هذا سيد كما سماه النبي صلى الله عليه وسلم، سيخرج من صلبه رجل يسمى اسم نبيكم! يشبهه في الخلق ولا يشبهه في الخلق، يملأ الأرض عدلا. "د ونعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا : مناکہاں ہے ؟ کیا یہاں منا ہے ؟ چنانچہ حسن (رض) باہر آئے انھوں نے گلے میں کالی مرچ کا ہار ڈال رکھا تھا حسن (رض) نے اپنے ہاتھ پھیلالیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنے ہاتھ پھیلالیے اور انھیں اپنے ساتھ چمٹالیا اور فرمایا : میرے ماں باپ تجھ ہر فدا ہوں جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہوں وہ اس سے محبت کرے۔ (رواہ ابن عساکر)
37640- عن علي قال: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أين لكع؟ ههنا لكع؟ فخرج عليه الحسن وعليه سخاب قرنفل وهو ماد يده، فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فالتزمه وقال: بأبي أنت وأمي! من أحبني فليحب هذا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٨۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) اور ابوعہد سلمی نے حضرت معاویہ (رض) سے کہا : حسن بن علی (رض) کی زبان میں لکنت ہے۔ حضرت معاویہ (رض) نے جواب دیا : ایسی بات مت کہو چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) کے منہ میں تھتکارا تھا۔ چنانچہ جس کے منہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھتکار دیں اس میں لکنت نہیں ہوسکتی۔ (رواہ ابن عساکر)
37641- عن عبد الرحمن بن عوف قال قال عمرو بن العاص وأبو الأعور السلمي لمعاوية: إن الحسن بن علي رجل عي1، فقال معاوية: لا تقولا ذلك! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تفل في فيه، ومن تفل رسول الله صلى الله عليه وسلم في فيه فليس بعي. "كر".
তাহকীক: