কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৬৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٣٩۔۔۔ “ مسند ابوہریرہ “ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے حسن بن علی (رض) کو ہاتھ میں پکڑا اور ان کی ٹانگیں اپنے گھٹنوں پر ڈال دین آپ فرما رہے تھے اسے چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ۔ (رواہ وکیع العزر والرامھرمزی فی الامثال)
37642- "مسند أبي هريرة" عن أبي هريرة قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد الحسن بن علي وجعل رجليه على ركبتيه وهو يقول: ترق عين بقه. "وكيع في الغرر والرامهرمزي في الأمثال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٠۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) سے فرمایا : یا اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۔ (رواہ ابن عساکر واحمد بن حنبل)
37643- عن أبي هريرة قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم قال للحسن: اللهم! إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه. "كر، حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت فاطمہ (رض) کے ہاں تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ جب گھر پہنچے فرمایا : کیا یہاں منا ہے ؟ حسن (رض) آئے میں سمجھا : فاطمہ (رض) انھیں بار پہنچارہی ہیں یا نہلارہی ہیں۔ اتنے میں (رض) دوڑتے ہوئے آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) کو گلے لگالیا اور فرمایا : یا اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے تو بھی محبت کر۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37644- عن أبي هريرة قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى بيت فاطمة فخرجت معه فقال: أثم لكع؟ فاحتبس فظننت أنها تلبسه سحابا أو تغسله، فجاء الحسن يشتد فاعتنقه صلى الله عليه وسلم وقال: اللهم! إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٢۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں بیٹھ گئے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ نے فرمایا : منے کو میرے پاس بلالاؤ۔ چنانچہ حسن (رض) دوڑتے ہوئے آگے اور آتے ہیب اپنے ہاتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک میں داخل کردیئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) کا منہ کھول کر اپنی زبان ان کے منہ میں ڈالنی شروع کردی پھر فرمایا : یا اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر ۔ آپ نے تین بار فرمایا۔ (رواہ ابن عساکر)
37645- عن أبي هريرة قال: جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد وأنا معه فقال: ادعوا لي لكع، فجاء الحسن يشتد حتى أدخل يديه في لحية النبي صلى الله عليه وسلم وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يفتح فمه ويدخل فمه في فمه ثم قال: اللهم! إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه - ثلاث مرات يقولها. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میرے ان کانوں نے سنا اور ان دو آنکھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ نے دونوں ہاتھوں سے حسن (رض) یاحسین (رض) کو پکڑے دیکھا اور ان کے قدم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کمزور چھوٹے چھوٹے قدموں والا چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ (حزقۃ حزقہ+ترق عین رقہ یہ کلمات عربی زبان کی لوری ہے) چنانچہ لڑکا آپ پر چڑھ گیا حتیٰ کہ اس کے قدم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے پر پہنچ گئے۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا : اپنا منہ کھولو۔ پھر آپ نے بوسہ لیا : اور فرمایا : یا اللہ اس سے محبت کر میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
37646- عن أبي هريرة قال: سمعت أذناي هاتان وأبصرت عيناي هاتان رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بكفيه جميعا حسنا أو حسينا وقدماه على قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول: حزقة حزقة حزقة حزقة. ... ترق عين بقه فترقى الغلام حتى وضع قدميه على صدره. الحزقة: الضعيف المتقارب الخطو من ضعفه فذكرها على سبيل المداعبة والتأنيس له.

وترق: بمعنى اصعد. وعين بقه: كناية عن صغر العين. وحزقة: مرفوع على خبر مبتدأ محذوف تقديره أنت حزقة، وحزقة الثاني كذلك، أو أته خبر مكرر. ومن لم ينون حزقة أراد يا حزقة فحذف حرف النداء وهو من الشذوذ كقولهم: أطرق كرا لأن حرف النداء إنما يحذف من العلم المضموم أو المضاف. النهاية 1/378. ب ترق عين بقه! فترقى الغلام حتى يطلع قدميه على صدر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال له: افتح فاك، ثم قبله، ثم قال: اللهم! أحبه فإني أحبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٤۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے حسن (رض) کو اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا جبکہ حسن (رض) نے منہ سے رال آپ پر ٹیک رہی تھی۔ (رواہ ابن عساکر)
37647- عن أبي هريرة قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الحسن بن علي على عاتقه ولعابه يسيل عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ حسن (رض) کی زبان چوس رہے تھے جس طرح کہ آدمی کھجور چوستا ہے۔ (رواہ ابن شاھین فی الافراد وابن عساکر)
37648- عن أبي هريرة قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمص لسان الحسن كما يمص الرجل التمرة."ابن شاهين في الأفراد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٦۔۔۔ سعید مقبعی کی روایت ہے کہ ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ تھے اتنے میں حسن (رض) آئے اور سلام کیا ابوہریرہ (رض) نے کہا : وعلیک السلام یا سیدی ! میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ یہ سید (سردار) ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37649- عن سعيد المقبري قال: كنا مع أبي هريرة إذ جاء الحسن بن علي فسلم فقال أبو هريرة: وعليك السلام يا سيدي! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنه لسيد. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٧۔۔۔ عمیر بن اسحاق کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی حضرت حسن بن علی (رض) سے ملاقات ہوئی ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اپنے کپڑے اوپر تاکہ میں اس جگہ پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ دیتے دیکھا تھا۔ چنانچہ حسن (رض) نے اپنے پیٹ سے قمیص اٹھائی اور ابوہریرہ (رض) نے حضرت حسن (رض) کی ناف پر منہ رکھ کر بوسہ لیا۔ (رواہ ابن النجار)
37650- عن عمير بن إسحاق أن أبا هريرة لقي الحسن بن علي فقال: ارفع ثوبك حتى أقبل حيث رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبل، فرفع عن بطنه فوضع فمه على سرته."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن (رض) کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہوئے باہر تشریف لائے حسن (رض) سے ایک شخص نے کہا : اے لڑکے ! بہت اچھی سواری پر تو سوار ہوا ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور سوار بھی تو بہت اچھا ہے۔ (رواہ بن عساکر)
37651- عن ابن عباس قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو حامل الحسن على عاتقه فقال له رجل: يا غلام! نعم المركب ركبت! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ونعم الراكب هو. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٤٩۔۔۔ زھیر بن اقمر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حسن بن علی (رض) خطاب کررہے تھے اتنے میں قبیلہ ازدکا ایک شخص جس کا رنگ گندمی اور قد دراز تھا کھڑا ہوا ور بولا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ نے حسن (رض) کو اپنے حبوہ میں رکھا اور فرمایا : میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ اس سے بھی محبت کرے پس جو حاضر ہے وہ غائب تک پہنچادے۔ (رواہ ان ابی شیبۃ واحمد حنبل وابن مندہ وابن عساکر والحاکم)
37652- عن زهير بن الأقمر قال: بينما الحسن بن علي يخطب إذ قام رجل من الأزد آدم طوال فقال: لقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم واضعه في حبوته يقول: من أحبني فليحبه! فليبلغ الشاهد الغائب. "ش، حم، وابن منده، كر، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٠۔۔۔ زہیر بن اقمر کہتے ہیں : ایک مرتبہ حسن بن علی (رض) خطاب کررہے تھے اتنے میں اردشنوہ کا ایک بوڑھا بزرگ کھڑا ہے اور کہا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے منبر پر کھڑے ہوئے اس شخص کو آپ نے اپنے حبوہ میں رکھا اور آپ فرما رہے تھے جو شخص مجھ سے محبت کرے وہ اس سے بھی محبت کرے حاضر غائب کو پہنچادے اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم نہ ہوتا میں کسی کو یہ حدیث نہ سناتا۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37653- عن زهير بن الأقمر قال: بينما الحسن بن علي يخطب إذ قام إليه شيخ من أزد شنوءة فقال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم واضع هذا الذي على المنبر في حبوته وهو يقول: من أحبني فليحبه! فليبلغ الشاهد الغائب، ولولا عزمة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما حدثت أحدا."ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥١۔۔۔ براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے کاندھے پر حسن (رض) کو اٹھا رکھا تھا آپ نے کاندھے پر حسن (رض) کو اٹھا رکھا تھا آپ فرما رہے تھے : یا اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی محبت کر۔ (رواہ ابن ابی شینۃ واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم والترمذی وابن عساکر)

(ابن عساکر میں اضافہ ہے کہ جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر)
37654- عن البراء بن عازب قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم حمل الحسن على عاتقه وقال: اللهم! إني أحبه فأحبه. "ش، حم، خ، م1، ت، زاد كر: وأحب من يحبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٢۔۔۔ سودہ بنت مسرح کندیہ کی روایت ہے کہ میں بھی ان عورتوں میں شامل تھی جو فاطمہ (رض) کے دردزہ کے وقت ان کے پاس موجود تھیں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : فاطمہ (رض) کا کیا حال میری بیٹی کا کیا حال ہے میں اس پر قربان جاؤں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وپ تکلیف میں ہے فرمایا : جب بچہ جنم دے دے مجھے بتانے سے پہلے کچھ نہیں کرنا۔ سودہ (رض) کہتی ہیں : فاطمہ (رض) نے بچہ جنم دیا : میں نے بچے کی ناف کاٹی اور بچے کو زردرنگ کے کپڑے میں لپیٹ لیا۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا میری بیٹی کا کیا ہوا میں اس پر فدا جاؤں اس کا کیا حال ہے وہ کیسی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس نے بچہ جنم دیا ہے اور میں نے اس کی ناف کاٹ دی ہے اور اسے زردرنگ کے کپڑے میں لپیٹ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا : تم نے میری نافرمانی کی میں نے عرض کیا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معصیت سے پناہ مانگتی ہوں۔ یارسول اللہ ! میں نے اس کی ناف کاٹی ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس اس کا کوئی چارہ کار نہیں تھا فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ ۔ بچہ لیکر میں حاضر ہوئی آپ نے زردرنگ کا کپڑا پھینک دیا اور بچہ سفید کپڑے میں لپیٹا اور اس کے منہ میں لعاب ڈالا۔ پھر فرمایا : میرے پاس علی کو بلالاؤ میں علی (رض) کو بلا لائی آپ نے علی (رض) سے پوچھا : اے علی اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ عرض کیا : یارسول اللہ جعفر نام رکھا ہے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام حسن ہے اور اس کے بعد حسین ہے اور تو ابوالحسن والحسین ہے (رواہ ابن مندہ و ابونعیم وابن عساکر ورحالہ ثقات)
37655- عن سودة بنت مسرح الكندية قالت: كنت فيمن حضر فاطمة حين ضربها المخاض فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: كيف هي؟ كيف ابنتي فديتها؟ قلت: إنها لتجهد يا رسول الله! قال: فإذا وضعت فلا تحدثي شيئا حتى تؤذنيني قالت: فوضعته - وفي لفظ: فلا تسبقني به بشيء قالت: فوضعته - فسررته1 ولففته في خرقة صفراء، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما فعلت ابنتي فديتها وما حالها وكيف هي؟ فقلت: يا رسول الله! وضعته، وسررته وجعلته في خرقة صفراء، قال: لقد عصيتني! قلت: أعوذ بالله من معصية الله ومعصية رسوله! سررته يا رسول الله ولم أجد من ذلك بدا، قال: ائتيني به، فأتيته به فألقى عنه الخرقة الصفراء ولفه في خرقة بيضاء وتفل في فيه وألبأه2 بريقه، ثم قال: ادعي لي عليا، فدعوته، فقال: ما سميته يا علي! قال سميته جعفرا يا رسول الله! قال: لا، ولكنه حسن وبعده حسين وأنت أبو الحسن والحسين. "ابن منده وأبو نعيم، كر، ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن کو پکڑتے اور اپنے ساتھ چمٹالیتے پھر فرماتے : یا اللہ ! یہ میرا بیٹا ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۔ (رواہ ابن عساکر)
37656- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأخذ حسنا فيضمه إليه ثم يقول: اللهم! إن هذا ابني وأنا أحبه فأحبه وأحب من يحبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٤۔۔۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن علی (رض) کو اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دوجماعتوں میں صلح کرائے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37657- عن الحسن قال: رفع النبي صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي معه على المنبر فقال: إن ابني هذا سيد! ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٥۔۔۔ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) کی طرف دیکھ کر فرمایا : یا اللہ ! اسے سلامتی میں رکھ اور اس میں سلامتی ڈال دے۔ (رواہ ابن عساکر)
37658- عن محمد بن سيرين قال: نظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى الحسن بن علي فقال: يا بني! اللهم سلمه وسلم فيه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
37659 ۔۔ حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت حسن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ آپ کو سخت پیاس لگی آپ نے حسن کے لیے پانی طلب کیا لیکن پانی نہیں ملا تو آپ نے اپنا زبان مبارک آپ کے منہ میں دے دی ، تو آپ نے چوسنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ سیراب ہوگئے۔ ابن عساکر۔
37659- عن أبي جعفر قال: بينما الحسن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عطش فاشتد ظمأه، فطلب له النبي صلى الله عليه وسلم ماء فلم يجد، فأعطاه لسانه فمصه حتى روي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٦۔۔۔ سعید بن زید کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن کو گود میں لے کر فرمایا : یا اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
37660- عن سعيد بن زيد قال: احتضن رسول الله صلى الله عليه وسلم حسنا ثم قال: اللهم! إني قد أحببته فأحبه. "طب" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٧۔۔۔ “ مسند حصین بن عوف حتعمی “ مقدام بن معدیکرب اور عمروبن اسود حضرت معاملہ (رض) کے پاس حاضر ہوئے حضرت معاویہ (رض) نے مقدام سے کہا : مجھے خبر دی گئی کہ حسن بن علی (رض) وفات پاگئے ہیں ؟ مقدام نے اناللہ پڑھا معاویہ (رض) نے ان سے کہا : کیا تم اسے ایک بڑی مصیبت سمجھتے ہو ؟ مقدام نے جواب دیا : کیوں نہیں یہ تو ایک بڑی مصیبت ہے، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) کو اپنی گود میں بٹھایا ہے اور فرمایا : یہ مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے۔ (رواہ الطبرانی عن خالد بن معدان)
37661- "مسند حصين بن عوف الخثعمي" وفد المقدام بن معد يكرب وعمرو بن الأسود إلى قنسرين فقال معاوية للمقدام: أعلمت أن الحسن بن علي توفي؟ فاسترجع المقدام: فقال له معاوية: أتراها مصيبة؟ قال: ولم لا أراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فقال: هذا مني، وحسين من علي. "طب عن خالد بن معدان".
tahqiq

তাহকীক: