কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৬৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل اہل بیت مفصل۔۔۔ حضرت حسن (رض)
٣٧٦٥٩۔۔۔ زہری حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سب سے زیادہ مشابہ حسن بن علی (رض) تھے۔ (رواہ ابونعیم)
37662- عن الزهري عن أنس قال: كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٠۔۔۔ محمد بن سیرین حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں حضرت انس (رض) کہتے ہیں جب حضرت حسین (رض) کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا میں وہاں موجود تھا عبیداللہ بن زید سر مبارک کو چھڑی سے کریدنے لگا میں نے کہا : خبردار حضرت حسین (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ (رواہ ابونعیم)
37663- عن محمد بن سيرين عن أنس قال: شهدت عبيد الله بن زياد وأتي برأس الحسين فجعل ينكت1 بقضيب في يده: فقلت: أما! إنه كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦١۔۔۔ ابوالجنتری کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک مرتبہ منبر پر کھڑے خطاب کررہے تھے حضرت حسین (رض) کھڑے ہوئے اور کہا : میرے باپ کے منبر سے نیچے اترو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : منبر تمہارے باپ کا ہے میرے باپ کا نہیں۔ تمہیں کس نے بتایا ہے ؟ اتنے میں حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور کہا : اسے کسی نے بھی نہیں باتای۔ اے دھوکا باز میں تمہیں کچوھے لگاؤں گا عمر (رض) نے فرمایا : میرے بھائی کے بیٹے کو کچوکے مت لگاؤ اس نے سچ کہا یہ اس کے باپ کا منبر ہے۔ (رواہ ابن عساکر وقال ابن کثیر : سندہ ضعیف)
کلام :۔۔۔ ابن کثیر کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے۔
کلام :۔۔۔ ابن کثیر کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے۔
37664- عن أبي البختري قال: كان عمر بن الخطاب يخطب على المنبر فقام إليه الحسين بن علي فقال: انزل عن منبر أبي، قال عمر: منبر أبيك لا منبر أبي، من أمرك بهذا؟ فقام علي فقال: ما أمره بهذا أحد، أما! لأوجعنك يا غدر! فقال: لا توجع ابن أخي فقد صدق، منبر أبيه. "كر، وقال ابن كثير: سنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٢۔۔۔ حضرت حسین بن علی (رض) کہتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس منبر پر چڑھ گیا اور میں نے عمر (رض) سے کہا : میرے باپ کے منبر سے نیچے اترجاؤ اور اپنے باپ کے منبر پر چڑھ جاؤ عمر (رض) نے فرمایا : میرے باپ کا کوئی منبر نہیں ہے عمر (رض) نے مجھے اپنے پاس بٹھالیا جب منبر سے نیچے اترے مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور فرمایا : اے بیٹے ! تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے میں نے جواب دیا : مجھے کسی نے نہیں سمجھائی عمر (رض) نے فرمایا : اے بیٹے اگر تم ہمارے پاس آؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔ حسین (رض) کہتے ہیں : ایک دن میں عمر (رض) کے گھر پر آیا حضرت عمر (رض) معاویہ (رض) کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دروازے پر ابن عمر (رض) تھے : ابن عمر (رض) نے مجھے اندرجانے کی اجازت نہ دی میں واپس لوٹ کیا اس کے بعد حضرت عمر (رض) کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور فرمایا : اے بیٹے تم ہمارے پاس کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا : میں آیا تھا لیکن آپ معاویہ (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے میں نے دروازے پر ابن عمر کو دیکھا میں واپس لوٹ آیا فرمایا : تم عبداللہ بن عمر کی بنسبت اجازت کے زیادہ حقدار ہو ہمارے سروں پر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اگایا ہے وہ تم دیکھ رہے ہو اور تم ہی ہو عمر (رض) نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا۔ (رواہ ابن سعد وابن راھویہ والخطیب)
37665- عن حسين بن علي قال: صعدت إلى عمر بن الخطاب المنبر فقلت له: انزل عن منبر أبي واصعد منبر أبيك، فقال: إن أبي لم يكن له منبر، فأقعدني معه، فلما نزل ذهب بي إلى منزله فقال: أي بني من علمك هذا قلت: ما علمنيه أحد، فقال: أي بني! لو جعلت تأتينا وتغشانا قال فجئت يوما وهو خال بمعاوية وابن عمر بالباب لم يؤذن له، فرجعت، فلقيني بعد فقال يا بني! لم أرك أتيتنا؟ قلت: جئت وأنت خال بمعاوية فرأيت ابن عمر رجع فرجعت، فقال: أنت أحق بالإذن من عبد الله بن عمر! إنما أنبت في رؤوسنا ما ترى الله ثم أنتم - ووضع يده على رأسه."ابن سعد وابن راهويه، خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٣۔۔۔” مسند علی “ نجی کی روایت ہے کہ وہ حضرت علی (رض) کے ساتھ سفر میں تھے جب نینویٰ پہنچے فرمایا : اے ابوعبداللہ صبر کرواے ابوعبداللہ فرات کے کنارے صبر کرو حضرت علی (رض) صفین کی طرف جارہے تھے میں نے کہا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں، تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرائیل امین آئے ہیں انھوں نے مجھے حدیث سنائی ہے کہ حسین (رض) فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا کیا میں تمہیں وہاں کی مٹی نہ سونگھادوں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ بھڑایا پھر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پاسکا حتیٰ کہ آنسو بہنے لگے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل
وابو یعلی واسعید بن المنصور)
وابو یعلی واسعید بن المنصور)
37666- "مسند علي" عن نجى أنه سار مع علي فلما حاذى نينوى وهو منطلق إلى صفين نادى: اصبر أبا عبد الله! اصبر أبا عبد الله بشط الفرات، قلت: وماذاك: قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم وعيناه تفيضان، قلت: يا نبي الله! أغضبك أحد ما شأن عينيك تفيضان؟ قال بلى، قام من عندي جبريل قبل فحدثني أن الحسين يقتل بشط الفرات، فقال: هل لك إلى أن أشمك من تربته؟ قلت: نعم، فمد يده فقبض قبضة من تراب فأعطانيها. فلم أملك عيني أن فاضتا. "ش، حم، ع، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٤۔۔۔ شیبان بن مخرم کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) کربلا پہنچے میں ان کے ساتھ تھا حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس جگہ کچھ شہداء قتل کیے جائیں گے سوائے شہداء بدر کے ان کی مانند شہدا نہیں ہوں گے۔ (رواہ الطبرانی)
37667- "عن شيبان بن مخرم قال قال: إني لمع علي إذ أتى كربلاء فقال: يقتل في هذا الموضع شهداء ليس مثلهم شهداء إلا شهداء بدر. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٥۔۔۔ یعلی بن مرہ عامر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن و حسین (رض) دوڑتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں صاحبزادوں کو اپنے ساتھ چمٹالیا اور فرمایا : بلاشبہ اولاد باعث بخل اور باعث سستی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والرامھرمزی فی الامثال)
37668- "مسند يعلى بن مرة العامري" عن يعلى بن مرة العامري قال: جاء حسن وحسين يسعيان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فضمهما إليه وقال: إن الولد مبخلة مجبنة "ش والرامهرمزي في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٦۔۔۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب، ام سلمہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : ام سلمہ (رض) کہتی ہیں ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا : میرے پاس کوئی نہ داخل ہونے پائے میں انتظار میں بیٹھ گئی۔ چنانچہ حسین (رض) داخل ہوئے اور میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دردبھری رونے کی آواز سنی میں نے چھانک کر دیکھا چنانچہ حسین (رض) آپ کی گود میں تھے یا آپ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے آپ حسین (رض) کے سرپردست شفقت پھیر رہے تھے اور ساتھ ساتھ رو رہے تھے آپ نے فرمایا : جبرائیل امین ہمارے پاس تھے انھوں نے کہا : کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ میں نے کہا : رہی بات دنیاوی محبت کی سو میں کرتا ہوں فرمایا : عنقریب تمہاری امت اسے (حسین (رض) کو) ایسی سرزمین میں قتل کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے جبرائیل امین نے کربلا کی مٹی اٹھائی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھلائی چنانچہ واقعہ کربلا کے دوران جب حضرت حسین (رض) کا محاصرہ کرلیا گیا تو انھوں نے لوگوں سے پوچھا : اس سرزمین کا نام کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ سرزمین کربلاء ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا ہے یہ سرزمین کرب وبلاء (دکھ تکلیف آور آزمائشوں سے پر) ہے۔ (رواہ ابن ماجہ والطبرانی وابو نعیم)
37669- عن المطلب بن عبد الله بن حنطب عن أم سلمة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا ذات يوم في بيتي فقال: لا يدخلن علي أحد فانتظرت فدخل الحسين فسمعت نشيج2 النبي صلى الله عليه وسلم يبكي، فاطلعت فإذا الحسين في حجره أو إلى جنبه يمسح رأسه وهو يبكي، فقلت: والله! ما علمت به حتى دخل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن جبريل كان معنا في البيت فقال: أتحبه؟ فقلت: أما من حب الدنيا فنعم، فقال: إن أمتك ستقتل هذا بأرض يقال لها كربلاء، فتناول جبريل من ترابها فأراه النبي صلى الله عليه وسلم، فلما أحيط بالحسين حين قتل قال: ما اسم هذه الأرض؟ قالوا: أرض كربلاء، قال: صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم، أرض كرب وبلاء. "هـ طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٧۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن لیٹے ہوئے تھے یکایک اٹھ بیٹھے اور آپ پریشان حال تھے آپ کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی تھی آپ اسے الٹ پلٹ رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کیسی مٹی ہے ؟ فرمایا : مجھے جبرائیل امین نے خبر دی ہے کہ یہ (حسین (رض) (رح)) سرزمین عراق میں قتل کیا جائے گا۔ میں نے جبرائیل امین سے کہا : مجھے اس زمین کی مٹی دکھلاؤ چنانچہ جبرائیل امین نے مٹی دکھلاکر کہا یہ ہے وہاں کی مٹی ہے۔ (رواہ الطبرانی)
37670- عن أم سلمة قالت: اضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فاستيقظ وهو خائر النفس وفي يده تربة حمراء يقلبها، فقلت: ما هذه التربة يا رسول الله؟ قال: أخبرني جبريل أن هذا يقتل بأرض العراق - للحسين، فقلت لجبريل: أرني تربة الأرض يقتل بها، فهذه تربتها. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٨۔۔۔ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت حسین (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے میں دروازے کے پاس سو رہی تھی میں نے جھانک کر دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے جسے وہ الٹ پلٹ رہے ہیں میں نے کہا یارسول اللہ ! میں نے آپ کو جھانک کر دیکھا آپ اپنی ہتھیلی میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے تھے جبکہ بچہ آپ کے بطن مبارک پر سو رہا تھا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : جبرائیل امین میرے پاس اس سرزمین کی مٹی لائے تھے جہاں یہ بچہ قتل کیا جائے گا انھوں نے مجھے خبردی ہے کہ میری امت قتل کرے گی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37671- عن أم سلمة قالت: دخل الحسين على النبي صلى الله عليه وسلم وأنا جالسة على الباب فتطلعت فرأيت في كف النبي صلى الله عليه وسلم شيئا يقلبه وهو نائم على بطنه، فقلت: يا رسول الله! تطلعت فرأيتك تقلب شيئا في كفك والصبي نائم على بطنك ودموعك تسيل! فقال: أن جبريل أتاني بالتربة التي يقتل عليها فأخبرني أن أمتي يقتلونه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت حسین (رض)
٣٧٦٦٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : بارش کے فرشتہ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کی آپ نے اسے اجازت دی اور فرمایا : اے ام سلمہ ! دروازے پر حفاظت کرتا کوئی نہ داخل ہونے پائے۔ چنانچہ حسین (رض) آئے اور چھلانگ لگا کر اندر داخل ہوگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاندھے پر چڑھ کر بیٹھنا شروع کردیا۔ فرشتے نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ۔ وہ بولا : آپ کی امت کے لوگ اسے قتل کریں گے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس جگہ کی مٹی بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ قتل کیا جائے گا۔ فرشتے نے اپنا پر مارا اور سرخ رنگ کی مٹی لادکھائی ۔ چنانچہ ام سلمہ (رض) نے وہ مٹی اٹھالی اور اپنی چادر کے آچل میں باندھ لی۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : ہم کیا کرتے تھے کہ حسین (رض) کربلاء میں قتل کیے جائیں گے۔ (رواہ ابونعیم)
37672- عن أنس قال: استأذن ملك القطر أن يأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذن له، فقال: يا أم سلمة! احفظي علينا الباب لا يدخل أحد، فجاء الحسين بن علي فوثب حتى دخل فجعل يعقد على منكب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له الملك: أتحبه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: نعم، قال: فإن في أمتك من يقتله، وإن شئت أريتك المكان الذي يقتل فيه، فضرب بيده فأراه ترابا أحمر، فأخذته أم سلمة فصرته في طرف ثوبها. قال: كنا نسمع أن يقتل بكربلاء."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں میں نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاندھوں پر دیکھا۔ میں نے کہا تم دونوں کے نیچے اچھی سواری ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور دونوں سوار بھی تو بہت اچھے ہیں۔ (رواہ ابویعلی وابن شاھین فی السنۃ)
37673- عن عمر قال: رأيت الحسن والحسين على عاتقي النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: نعم الفرس تحتكما! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: نعم الفارسان هما. "ع" وابن شاهين في السنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧١۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حسن و حسین (رض) کا وظیفہ ان کے باپ کی بمثل مقرر کررکھا تھا۔ (رواہ ابوعبیدفی الاموال وابن سعد)
37674- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: جعل عمر بن الخطاب عطاء الحسن والحسين مثل عطاء أبيهما."أبو عبيد في الأموال وابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٢۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس یمن سے کچھ جوڑے آئے آپ (رض) نے جوڑے لوگوں میں تقسیم کردیئے لوگ نئے نئے جوڑے پہن کر واپس جاتے جب کہ آپ (رض) منبر اور روضہ اور اس کے درمیان تشریف فرما تھے لوگ آتے سلام کرتے آپ کو دعائیں دے کر واپس جاتے اتنے میں حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) اپنی والدہ کے گھر سے باہر نکلے اور لوگوں سے آگے نکل آئے جب کہ انھوں نے یہ جوڑے نہیں پہنے ہوئے تھے حضرت عمر (رض) نے دونوں صاحبزادوں کو اپنے پاس بٹھایا اور پھر درد بھری آواز میں فرمایا اللہ کی قسم میرے پاس جوڑا باقی نہیں رہا جو اس میں آپ کو پہناؤں۔ حسن (رض) و حسین (رض) نے کہا : اے امیرالمؤمین ! آپ نے اپنی رعیت کو جوڑے پہنادیئے بہت اچھا کیا حضرت عمر (رض) نے کہا : دولڑکے جو لوگوں سے آگے نکل آئے اور ان کے پاس کوئی جوڑا نہیں : یہ بڑی گراں بار بات ہوئی پھر آپ نے یمن کے گورنر کو خط لکھا کہ حسن (رض) و حسین (رض) کے لیے جلد ازجلد دو جوڑے بھیجو۔ چنانچہ گورنر یمن نے دوجوڑے بھیجے عمر (رض) نے انھیں پہنچائے۔ (رواہ ابن سعد)
37675- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: قدم على عمر حلل من اليمن فكسا الناس فراحوا في الحلل وهو بين القبر والمنبر جالس والناس يأتونه فيسلمون عليه ويدعون له، فخرج الحسن والحسين من بيت أمهما فاطمة يتخطيان الناس وليس عليهما من تلك الحلل شيء وعمر قاطب صار1 بين عينيه، ثم قال والله ما هنأ لي ما كسوتكم! قالوا: يا أمير المؤمنين! كسوت رعيتك فأحسنت قال: من أجل الغلامين يتخطيان الناس وليس عليهما منها شيء، كبرت عنهما وصغرا عنها، ثم كتب إلى اليمن أن ابعث بحلتين لحسن وحسين وعجل، فبعث إليه بحلتين فكساهما."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : ھو شخص گردن سے اوپر کسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ دیکھنا چاہے وہ حسن بن علی (رض) کو دیکھ لے اور جو گردن سے نیچے اور ٹخنوں سے اوپر کسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ دیکھنا چاہے وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
37676- عن علي قال: من سره أن ينظر إلى أشبه الناس برسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين عنقه إلى وجهه فلينظر إلى الحسن بن علي، ومن سره أن ينظر إلى أشبه الناس برسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين عنقه إلى كعبه خلقا ولونا فلينظر إلى الحسين بن علي. "طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٤۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سر اور کرون کے درمیان چہرے کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسن (رض) کو دیکھ لے اور جو گردن سے نیچے نیچے دیکھنا چاہے وہ حسین (رض) کو دیکھ لے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صورت اقدس دونوں کو منقسم ہو کر چلی ہے۔ (رواہ الطبرانی)
37677- عن علي قال: من أراد أن ينظر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم من رأسه إلى عنقه فلينظر إلى الحسن، ومن أراد أن ينظر إلى ما لدن عنقه إلى رجله فلينظر إلى الحسين، اقتسماه. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٥۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حسن حسین اور محسن کے نام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکھے ہیں اور ان کی طرف سے عقیقہ بھی آپ نے کیا ہے۔ آپ ہی نے ان کے سرمونڈھے اور بالوں کے برابر صدقہ کیا پھر آپ ہی کے حکم سے ان کی ناف کاٹی گئی اور ان کے ختنہ بھی کئے گئے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
37678- عن علي قال: أما حسن وحسين ومحسن فإنما سماهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وعق1 عنهم وحلق رؤوسهم وتصدق بوزنها وأمر بهم فسروا وختنوا. "طب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب حسن (رض) پیدا ہوئے میں نے اس کا نام حرب رکھا ا تنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤتم نے اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ فرمایا : بلکہ اس کا نام حسن ہے جب حسین (رض) پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا اتنے میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اس کا نام حرب رکھا ہے فرمایا : بلکہ اس کا نامم حسین ہے۔ جب محسن پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا نام رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے فرمایا : بلکہ اس کا نام محسن ہے۔ پھر فرمایا : میں نے ان کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ ان کے نام یہ تھے شبر شبیر اور مشیر۔ (رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل وابن ابی شیبۃ وابن جریر وابن حبان والطبرانی والدولابی فی الذریۃ الطاھریرۃ والبیھقی والضیاء )
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف الادب ١٣٣۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف الادب ١٣٣۔
37679- عن علي قال: لما ولد الحسن سميته حربا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أرو ني ابني، ماسميتموه؟ فقلت: سميته حربا، فقال: بل هو حسن، فلما ولد حسين سميته حربا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أروني ابني، ما سميتموه؟ فقلت: سميته حربا، فقال: بل هو حسين، فلما ولد محسن سميته حربا، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أروني ابني، ما سميتموه؟ فقلت: سميته حربا، قال: بل هو محسن، ثم قال: إني سميتهم بأسماء ولد هارون: شبر وشبير ومشبر."ط، حم، ش" وابن جرير، "حب وطب" والدولابي في الذرية الطاهرة، "ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٧۔۔۔” ایضا “ محمد بن حنفیہ حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے اپنے بڑے بیٹے کا نام حمزہ رکھا حسین (رض) کا نام جعفر (ان کے چچا کے نام پر) رکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا جب آگئے فرمایا : میں نے اپنے ان دو بیٹیوں کا نام تبدیل کردیا ہے میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے ان کے نام حسن اور حسین رکھے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابویعلی وابن جریر والدولابی فی الذریۃ الطاھرۃ والبیھقی والضیاء)
37680- "أيضا" عن محمد بن الحنفية عن علي: أنه سمى ابنه الأكبر حمزة وسمى حسينا بعمه جعفرا، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، فلما أتى قال: إني قد غيرت اسم ابني هذين، قلت: الله ورسوله أعلم! فسماهما حسنا وحسينا. "حم، ع"، وابن جرير والدولابي في الذرية الطاهرة، "ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৬৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : حسن (رض) سینے سے لے کر سر تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ مشابہ تھے جب کہ حسین (رض) سینے سے نیچے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ مشابہ تھے۔ (رواہ ابوداؤد الطیالسی واحمد بن حنبل واحمد بن حنبل والترمذی وقال حسن غریب وابن حبان والدولابن فی الذریۃ الطاھرۃ والبیھقی فی الدئل والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٨٩۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٨٩۔
37681- عن علي قال: الحسن أشبه برسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين الصدر إلى الرأس، والحسين أشبه برسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان أسفل من ذلك. "ط، حم، ت": وقال حسن غريب، "حب" والدولابي في الذرية الطاهرة، "ق" في الدلائل، "ض".
তাহকীক: