কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৬৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٧٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک حسن اور حسین لڑپڑے۔ حضرت علی (رض) ابھی وہاں موجود تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے حسین ! حسن کو پکڑو۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں میں نے کہا : یارسول اللہ ! آپ حسن پر چڑھائی کروا رہے ہیں حالانکہ وہ بڑا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جبرائیل امین کھڑے ہیں وہ کہہ رہے ہیں : اے حسین ! حسن کو پکڑو۔ (رواہ ابن شاھین ومندہ لا باس بہ الا فیہ انقطاعا)
37682- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قاعدا في موضع الجنائز الحسن والحسين فاعتركا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي جالس: ويها حسين! خذ حسنا، فقلت: تولب على حسن وهو أكبرهما يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا جبريل قائم وهو يقول: ويها حسين! خذ حسنا. "ابن شاهين، وسنده لا بأس به إلا أن فيه انقطاعا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) سے فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ تمہارے یہ دونوں بیٹے نوجوان جنت کے سردار ہوں میرے خالہ زاد بھائیوں یعنی یحییٰ و عیسیٰ (علیہ السلام) کے سردار نہیں ہوں گے۔ (رواہ ابن شاھین)
37683- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لفاطمة: أما ترضين أن ابنيك سيدا شباب أهل الجنة إلا أن ابني الخالة يحيى وعيسى. "ابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨١۔۔۔ سلمہ بن کہیل کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : کیا میں تمہیں اپنے متعلق اور اپنے اہل بیت کے متعلق خبرنہ دوں ؟ سو حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ رہی بات حسن کی سو وہ تمہیں ادنی قسم کے لوگوں کی طرف سے بےنیاز نہیں کرسکتا۔ رہی بات عبداللہ بن جعفر کی سو وہ وفادارسایہ ہے۔ (رواہ الشیدا ای فی الالقاب)
37684- عن سلمة بن كهيل قال قال علي بن أبي طالب: ألا أخبركم عني وعن أهل بيتي؟ أما حسين فهو مني وأنا منه، وأما الحسن فلن يغني عنكم حثالة عصفور، وأما عبد الله بن جعفر فصاحب ظل وفيء."الشيرازي في الألقاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٢۔۔۔ مسند انس ثابت بنائی حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
37685- "مسند أنس" عن ثابت البناني عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٣۔۔۔” مسندبراء بن عازب “ حضرت براء بن عاز (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) حسین (رض) سے فرمایا : یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں لہٰذا جو کچھ مجھ پر حرام ہے اس پر بھی حرام ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37686- "مسند البراء بن عازب" عن البراء بن عازب قال قال النبي صلى الله عليه وسلم للحسن والحسين: هذا مني وأنا منه وهو يحرم عليه ما يحرم علي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٤۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہمیں کھانے کی دعوت دی گئی راستے میں دیکھا کہ حسین (رض) نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہنسانا شروع کردیا اور پھر پکڑلیے آپ نے ایک ہاتھ حسین کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا ہاتھ سر اور کانوں کے درمیان پھر حسین (رض) گلے لگالیا اور انھیں بوسہ دیننے لگے پھر فرمایا حسینہ مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور حسن و حسین دونواسے ہیں۔ (رواہ الطبرانی عن یعلی بن عمرہ)
37687- أيضا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعينا إلى طعام فإذا الحسين يلعب في الطريق مع صبيان، فأسرع النبي صلى الله عليه وسلم أمام القوم ثم بسط يديه، فجعل حسين يقر ههنا وههنا، فيضاحكه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أخذه، فجعل إحدى يديه في ذقنه والأخرى بين رأسه وأذنيه ثم اعتنقه فقبله، ثم قال: حسين مني وأنا منه، أحب الله من أحبه، الحسن والحسين سبطان من الأسباط. "طب" عن يعلى بن مرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٥۔۔۔” ایضا “ حضرت براء بن عازب (رض) کہتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ام ایمن (رض) آگئیں اور بولی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن (رض) اور حسین (رض) کہیں گم ہوگئے ہیں یہ لگ بھگ دوپہر کا وقت تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ اور میرے بیٹوں کو تلاش کرو چنانچہ ہر شخص کا جس طرف منہ تھا چل پڑا جب کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ کے دامن میں آگئے کیا دیکھتے ہیں کہ حسن (رض) و حسین (رض) ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور سامنے ایک (بڑا) سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے اور منہ سے گویا آگ کے شعلے نکال رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لی کے اور وہ انسانی شکل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مخاطب ہوا اور پھر کسی سوراخ میں جاگھسا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو الگ الگ کیا اور ان کے چہروں پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا : میرے ماں باپ تمہارے اوپر قربان جائیں اللہ تعالیٰ عزت عطا فرمائے۔ پھر ایک کو دائیں کاندھے پر اور دوسرے کو بائیں کاندھے پر اٹھایا میں نے عرض کیا : تم دونوں کے لیے خوشخبری ہے تمہاری سواری بہت اچھی سواری ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور یہ سوار بھی تو بہت اچھے ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔ (رواہ الطبرانی عن سلمان)
37688- "أيضا" كنا حول النبي صلى الله عليه وسلم فجاءت أم أيمن فقالت: يا رسول الله! لقد ضل الحسن والحسين وذلك رأد النهار - يقول: ارتفاع النهار - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قوموا فاطلبوا ابني وأخذ كل رجل تجاه وجهه وأخذت نحو النبي صلى الله عليه وسلم، فلم يزل حتى أتى سفح جبل وإذا الحسن والحسين يلتزق كل واحد منهما صاحبه وإذا شجاع1 قائم على ذنبه يخرج من فيه شبه النار، فأسرع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت مخاطبا لرسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم إنسان فدخل بعض الأحجرة، ثم أتاهما فأفرق بينهما ومسح وجوهما، وقال: بأبي وأمي أنتما ما أكرمكما على الله! ثم حمل أحدهما على عاتقه الأيمن والآخر على عاتقه الأيسر فقلت: طوبى لكما! نعم المطية مطيتكما! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ونعم الراكبان هما! وأبوهما خير منهما. "طب" عن سلمان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٦۔۔۔” مسند بریدہ “ بریدہ “ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اتنے میں حضرت حسن (رض) اور و حسین سامنے سے آئے اور انھوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہن رکھی تھیں یہ دونوں گرتے پڑتے آگے چلتے رہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نیچے اترے اور دونوں کو پکڑ کر اپنے سامنے بٹھالیا پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ” انمااموالکم واولادکم فتنہ “ یعنی مال اور اولاد فتنہ ہے جب میں انھیں دیکھا مجھ سے صبر نہ ہوسکا پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کردیا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل و ابوداؤد والترمذی وقال حسن غریب، ا نسائی وابن ماجہ وابویعلی وابن خزیمہ وابن حباب والحاکم والبیھقی الضیاء)
37689- "مسند بريدة" عن بريدة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا فأقبل حسن وحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان ويعثران ويقومان، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذهما فوضعهما بين يديه، ثم قال: صدق الله ورسوله "إنما أموالكم وأولادكم فتنة" رأيت هذين فلم أصبر، ثم أخذ في خطبته. "ش، حم د، ت": حسن غريب، "ن، هـ، ع" وابن خزيمة، "حب، ك، ق، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٧۔۔۔” مسند جابر “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب کہ حضرت حسن (رض) و حسین (رض) آپ کی پیٹھ پر بیٹھے تھے اور آپ فرما رہے تھے : تمہارا اونٹ بہت اچھا اونٹ ہے اور تم سوار بھی بہت اچھے ہو۔ (رواہ الرامھرمزی فی الامثال وابن عساکر وفیہ مسروح ابوشھاب الحدثی عن سفیان الثوری قال فی المغفی ضعیف)

کلام :۔۔۔ مغنی میں اس حدیث کو ضعیف قرردیا گیا ہے۔
37690- "مسند جابر" عن جابر قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم والحسن والحسين على ظهره وهو يقول: نعم الجمل جملكما! ونعم العدلان أنتما. "الرامهرمزي في الأمثال، كر، وفيه مسروح أبو شهاب الحدثي عن سفيان الثوري، قال في المغني: ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٨۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی بن ابی طالب سے فرمایا : اے ابوریحانتین ! میں تمہیں دنیا میں اپنے دونوں پھولوں کی وصیت کرتا ہوں عنقریب تمہارے دونوں رکن گرجائیں گے اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ میرا ایک رکن تھا پھر جب حضرت فاطمہ (رض) دنیا سے رخصت ہوئیں فرمایا : یہ میرا دوسرا رکن تھا جس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ والدیلمی وابن عساکر وابن النجارفیہ حمادین عیسیٰ غریق والجفۃ ضعیف)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں حماد بن عیسیٰ ضعیف ہے۔
37691- عن جابر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي بن أبي طالب: سلام عليك أبا الريحانتين! أوصيك بريحانتي من الدنيا فعن قليل ينهد ركناك والله خليفتي عليك، فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: هذا أحد ركني الذي قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما ماتت فاطمة رضي الله عنها قال علي: هذا ركني الثاني الذي قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم."أبو نعيم في المعرفة والديلمي، كر وابن النجار، وفيه حماد بن عيسى غريق الجحفة ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٨٩۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے حسن اور حسین (رض) کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا تھا اور آپ فرما رہے تھے : تمہارا اونٹ اچھا اونٹ ہے اور تم دونوں کا بوجھ بھی اچھا بوجھ ہے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الالحفاظ ٧٥٤ والمتناھیۃ ٤١٣)
37692- عن جابر قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يمشي على أربع وعلى ظهره الحسن والحسين وهو يقول: نعم الجمل جملكما! ونعم العدلان أنتما. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٠۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوا آپ نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کو اپنی بیٹھ پر اٹھا رکھا تھا اور آپ چل رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : تمہارا اونٹ بہت اچھا اونٹ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37693- عن جابر قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو حامل الحسن والحسين على ظهره وهو يمشي بهما فقلت: نعم الجمل جملكما! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ونعم الراكبان هما. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩١۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن (رض) سے فرمایا : میرا بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ صلح فرمائے گا ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر صلح کرائے گا مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان ۔ (رواہ ابن عساکر)
37694- عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للحسن: إن ابني هذا سيد وليصلحن الله به - وفي لفظ: على يديه - بين فئتين من المسلمين عظيمتين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٢۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جب حسن (رض) پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : میرے پاس میرا بیٹا لاؤ تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے آپ نے فرمایا : بلکہ اس کا نام حسن ہے۔ جب حسین (رض) پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اور تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے آپ نے فرمایا : بلکہ اس کا نام حسین ہے جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : میرا بیٹا مجھے دکھاؤ اور اس کا نام کیا رکھا ہے میں نے عرض کیا : حرب آپ نے فرمایا : بلکہ اس کا نام محسن ہے پھر فرمایا : میں نے ان کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں کے ناموں پر رکھے ہیں ان کے نام شبر شبیر اور مشبر تھے۔ (رواہ الطبرانی)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الادب ١٣٣۔
37695- عن علي قال: لما ولد الحسن سميته حربا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أروني ابني، ماسميتموه؟ قلت: سميته حربا، قال: بل وهو حسن، فلما ولد الحسين سميته حربا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ايتوني بابني، ماسميتموه؟ فقلت: سميته حربا، فقال: بل هو حسين، فلما ولد الثالث سميته حربا، فقال: بل هو محسن، ثم قال: إني سميتهم بأسماء ولد هارون: شبرا وشبيرا ومشبرا. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٣۔۔۔” مسند جہنم غیر منسوب “ ذوالکارع جہم (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ (رواہ ابن من و ابونعیم وابن عساکر)
37696- "مسند جهم غير منسوب" عن ذي الكلاع عن جهم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن حسنا وحسينا سيدا شباب أهل الجنة. "ابن منده وأبو نعيم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٤۔۔۔ حذیفہ بن الیمان (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! چہرہ اقدس سے آج خوشی و سرور کے آفتاب چمک رہے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : مجھے خوشی اور سرور کیوں نہیں ہوا میرے پاس جبرائیل امین آئے تھے انھوں نے مجھے خبردی ہے کہ حسن اور حسین نوجواناں جنت کے سردار ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
37697- عن حذيفة بن اليمان قال: رأينا في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم السرور يوما من الأيام فقلنا يا رسول الله! لقد رأينا في وجهك تباشير السرور، قال: وكيف لا أسر وقد أتاني جبريل فبشرني أن حسنا وحسينا سيدا شباب أهل الجنة وأبوهما أفضل منهما. "طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٥۔۔۔” ایضا “ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک رات بسر کی میں نے آپ کے ہاں ایک شخص دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے (اسے) دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں آپ نے فرمایا یہ فرشتہ ہے جب سے مجھے مبعوث کیا گیا ہے یہ میرے پاس نازل نہیں ہوا آج رات میرے پاس آیا ہے اس نے مجھے خوشخبری دی ہے کہ حسن اور حسین (رض) نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ (رواہ الطبرانی)
37698- "أيضا" بت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأيت عنده شخصا فقال لي: ياحذيفة! هل رأيت؟ قلت: نعم يا رسول الله! قال: هذا ملك لم يهبط إلي منذ بعثت، أتاني الليلة فبشرني أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٦۔۔۔” ایضا “ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی پھر آپ نے عشاء کی نماز پڑھی اور پھر باہر نکل گئے پھر فرمایا : ایک فرشتہ میرے پاس آیا ہے جس نے اپنے رب تعالیٰ سے اجازت طلب کی تھی کہ میرے پاس سلام بجالائے اس نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ حسن اور حسین نوجوان جنت کے سردار

ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37699- "أيضا" أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فصليت معه المغرب ثم قام يصلي حتى صلى العشاء ثم خرج فقال: ملك عرض لي استأذن ربه أن يسلم علي وبشرني أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٧۔۔۔ مسند حصین بن عوف حتعمی “ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ (رض) کے گھر کے پاس ٹھہرے اتنے میں حضرت حسن یا حضرت حسین باہر تشریف لائے آپ نے فرمایا : تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اے چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ پھر آپ نے اسے انگلی سے پکڑلیابچہ آپ کے کاندھے پر چڑھ گیا پھر دوسرا بچہ حسن (رض) یا حسین (رض) باہر آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : مرحبا میرے والدین تجھ پر فدا ہوں۔ چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ آپ نے بچے کی انگلی پکڑی اور اسے بھی کاندھے پر بھٹادیا۔ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کی گردنیں پکڑیں اور ان کے منہ اپنے منہ مبارک کے ساتھ لگالئے پھر فرمایا ! یا اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۔ (رواہ الطبرانی عن ابوہریرہ )
37700- "مسند حصين بن عوف الخثعمي" وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على بيت فاطمة فسلم فخرج إليه الحسن أو الحسين، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارق بأبيك عين بقه - وأخذ بأصبعيه، فرقى على عاتقه، ثم خرج الآخر الحسن أو الحسين مرتفعة إحدى عينيه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: مرحبا بك! ارق بأبيك أنت عين البقة - وأخذ بأصبعيه، فاستوى على عاتقه الآخر، وأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بأفقيتهما حتى وضع أفواههما على فيه ثم قال: اللهم! إني أحبهما فأحبهما وأحب من يحبهما. "طب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٨۔۔۔” مسند خباب ابی السائب “ ضباب ابوسائب (رض) کہتے ہیں میرے ان دوکانوں نے سنا اور میری ان دو آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) یاحسین (رض) کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا اور ان سے دونوں قدم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر تھے آپ فرما رہے تھے : چھوٹے چھوٹے قدموں والے چھوڑ چھوٹی آنکھوں والے اوپر چڑھ جاؤ وہ لڑکا آپ کے کاندھے پر چڑھ گیا حتیٰ کہ اس کے پاؤں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک کے پاس تھے پھر آپ نے اس سے فرمایا : اپنا منہ کھولو پھر آپ نے اسے بوسہ دیا فرمایا : یا اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (رواہ الطبرانی عن ابوہریرہ )
37701- "مسند خباب أبي السائب" سمعت أذناي هاتان وأبصرت عيناي هاتان رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بكفيه جميعا حسنا أو حسينا وقدماه على قدمي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول: حزقة حزقه ارق عين بقه! فيرقى الغلام حتى قدميه على صدر رسول

الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال له: افتح فاك، ثم قبله ثم قال: اللهم! أحبه فإني أحبه. "طب" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক: