কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৭১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٦٩٩۔۔۔ حضرت ابوبکرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن اور حسین (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹھ پر چڑھے ہوئے تھے اور چھلانگیں لگا رہے تھے جب کہ آپ انھیں ہاتھ سے پکڑلیتے آپ اپنی کمراوپر اٹھالیتے اور وہ دونوں امین پر کھڑے ہوجائے جب فارغ ہوئے آپ نے دونوں کو اپنی گود میں بیٹھایا اور پھر فرمایا : میرے یہ دونوں بیٹے دنیا میں میرے پھول میں۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
37702- عن أبي بكرة قال: كان الحسن والحسين يثبان على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيمسكهما بيده حتى يرفع صلبه ويقومان على الأرض، فلما فرغ أجلسهما في حجره ثم قال: إن ابني هذين ريحانتي من الدنيا. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٠۔۔۔ حضرت ابوبکرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اتنے میں حسن (رض) نے چھلانگ لگائی اور آپ کی کمر کیا گردن پر چڑھ گئے آپ نے آرام سے بچے کو اپنے اوپر سے اٹھا کر نیچے رکھا تاکہ گرنہ نہ جائے آپ نے اس طرح کی بار کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے آپ نے بچے کو اپنے ساتھ چمٹالیا اور بوسہ دینے لگے صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ جس طرح اس بچے کے ساتھ کررہے ہیں ہم نے آپ کو کسی کے ساتھ اس طرح کرتے ہیں دیکھا آپ نے فرمایا : میرا یہ بیٹا دنیا میں میرا پھول ہے اور یہ سردار ہے عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا (رواہ احمد بن حنبل والدوپانی وابن عساکر
37703- عن أبي بكرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس فإذا سجد وثب الحسن على ظهره أو على عنقه فرفع رأسه فيضعه وضعا رفيقا لئلا يصرع، ففعل ذلك غير مرة، فلما قضى صلاته ضمه إليه وجعل يقبله، فقالوا: يا رسول الله! إنك لتفعل بهذا شيئا ما رأيناك تفعله بأحد! فقال: إن ابني هذا ريحانتي من الدنيا، وإن ابني هذا سيد، وسيصلح الله به بين فئتين من المسلمين. "حم" والروياني، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠١۔۔۔ حضرت سلمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہارون (علیہ السلام) نے اپنے دو بیٹوں کے کام شبر اور شبیر رکھے تھے میں نے بھی ان کے ناموں پر اپنے دونوں بیٹوں کے نام حسن اور حسین رکھے ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
37704- عن سلمان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سمى هارون ابنيه شبرا وشبيرا، وإني سميت ابني الحسن والحسين باسمي ابني هارون شبرا وشبيرا. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٢۔۔۔” مسند شداد بن ھاد “ حضرت شداد بن ھاد (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ عنہ کو نماز کے لیے کہا گیا : آپ باہر تشریف لائے درآن حالیکہ آپ نے حسن (رض) یا حسین (رض) کو اٹھا رکھا تھا آپ نے بڑے کو اپنے قریب بٹھادیا اور آپ نے ایک سجدہ بہت طویل کردیا صحابہ کرام (رض) میں سے صرف میں نے سر اٹھالیا کیا دیکھا ہوں کہ لڑکا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمرپر چڑھا ہوا ہے میں دوبارہ سجدہ میں چلا گیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سجدہ بہت طویل کیا گویا آپ پر وحی نازل ہورہی تھی۔ آپ نے فرمایا : ایسا نہیں لیکن میرا بیٹا میری کمرپر چڑھ گیا تھا میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ جلدی کروں حتیٰ کہ یہ اپنا شوق پورا کرے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37705- "مسند شداد بن الهاد" دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة فخرج وهو حامل حسنا أو حسينا فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطال فيها، فرفعت رأسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعدت رأسي فسجدت، فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له القوم: يا رسول الله! لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها فكان يوحى إليك؟ قال: لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٣۔۔۔” ایضا “ عبداللہ بن شداداپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب عشاء ظہر عصر میں سے کسی ایک نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ نے حسن (رض) یا حسین (رض) کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے تشریف کے گئے اور بچے کو اپنے قریب ہی بیٹھا دیا پھر آپ نے تکبیر کی اور دوران نماز ایک سجدہ بہت طویل کردیا میں نے جو سر اٹھا کر دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ آپ کی کمر پر چڑھا ہوا ہے میں دربارہ سجدے میں چلا گیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے بہت طویل سجدہ کیا ہے حتیٰ کہ ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہے یا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے آپ نے فرمایا : اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا لیکن میرا بیٹا مجھ پر چڑھ گیا تھا میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ اسے جلدی اتاردوں ۔ (رواہ ابن عساکر)
37706- "أيضا" عن عبد الله بن شداد عن أبيه قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في إحدى صلاتي العشي أو الظهر أو العصر وهو حامل حسنا أو حسينا، فتقدم النبي صلى الله عليه وسلم فوضعه ثم كبر في الصلاة، فسجد بين ظهري صلاته سجدة أطالها، فرفعت رأسي فإذا الصبي على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ساجد، فرجعت في سجودي، فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال الناس: يا رسول الله! إنك سجدت بين ظهري صلاتك سجدة أطلتها حتى ظننا أنه قد حدث أمر وأنه يوحى إليك: قال: كل ذلك لكم يكن، ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٤۔۔۔” مسند ابوہریرہ “ حضرت ابوہریرہ (رض) میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے اور ان دونوں کانوں نے سنا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) یا حسین (رض) کو ہاتھ سے پکڑ رکھا تھا اور آپ فرما رہے تھے : اے چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ لڑکے نے اپنا ہاؤں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں پر رکھ دیا پھر آپ نے لڑکے کو اوپر اٹھالیا اور اپنے سینے پر رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا : اپنا منی کھولو۔ پھر آپ نے اسے بوسے دیئے اور فرمایا : یا اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37707- "مسند أبي هريرة" بصر عيناي هاتان وسمع أذناي النبي صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد حسن أو حسين وهو يقول: ترق عين بقه! فيضع الغلام قدمه على قدم النبي صلى الله عليه وسلم ثم يرفعه فيضعه على صدره، ثم يقول: افتح فاك، ثم يقبله ثم يقول: اللهم! إني أحبه فأحبه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور ان دونوں کانوں نے سنا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن (رض) یا حسین (رض) میں سے کسی ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا آپ فرما رہے تھے : اے چھوٹی آنکھ والے اوپر چڑھ لڑکے نے اپنے پاؤں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں پر رکھ دیئے آپ نے لڑکے کو اپنے سینے پر بیٹھا لیا اور فرمایا : منہ کھولو۔ لڑکے نے منہ کھولو۔ لڑکے نے منہ کھولا اور آپ بوسے دینے لگے۔ پھر فرمایا : یا اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (رواہ ابن عساکر)
37708- عن أبي هريرة قال: بصر عيناي هاتان وسمع أذناي رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد الحسن أو الحسين وهو يقول: ترق عين بقه! فوضع الغلام قدميه على قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيرفعه إلى صدره ويقول له: افتح فاك، فيرفع فاه فيقبله النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال: اللهم! إني أحبه فأحبه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے جب کہ حضرت حسن (رض) اور حسین (رض) آپ کی پیٹھ ہر چھلانگیں لگا رہے تھے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابوہریرہ (رض) سے عرض کای یارسول اللہ ! کیا میں ان دونوں کو ان کی ماں تک نہ پہنچادوں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں اتنے میں بجلی کو ندی اور دونوں لڑکے اپنی ماں کے پاس داخل ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37709- عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة العشاء وكان الحسن والحسين يثبان على ظهره، فلما صلى قال أبو هريرة: يا رسول الله! ألا أذهب بهما إلى أمهما! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، فبرقت برقة فما زالا في ضوئها حتى دخلا إلى أمهما. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٧۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز عشاء پڑھ رہے تھے جب آپ سجدہ کرتے تو حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) آپ کی پشت مبارک پر چڑھ جاتے جب آپ سجدہ سے سر اٹھاتے تو آرام سے سر اٹھاتے اور پھر سجدہ میں چلے جاتے جب آپ نے نماز پوری کی آپ نے دونوں بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں انھیں ماں تک نہ پہنچادوں ؟ اتنے میں بجلی کو ندی اور دونوں بچے بجلی کی روشنی میں اپنی ماں کے پاس پہنچ گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37710- عن أبي هريرة قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة العشاء وكان إذا سجد ركب الحسن والحسين على ظهره فإذا رفع رأسه رفع رفعا رفيقا ثم إذا سجد عادا فلما قضى صلاته أقعدهما في حجره فقلت: يا رسول الله! ألا أذهب بهما إلى أمهما؟ فبرقت برقة فلم يزالا في ضوئها حتى دخلا على أمهما. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمارداری کے لیے آئے آپ نے عباس (رض) کو چارپائی پر بٹھایا اور فرمایا اے چچا : اللہ تعالیٰ نے آپ کا مقام بلند کیا ہے حضرت عباس (رض) نے عرض کیا : یہ علی کھڑا ہے اور اندر آنے کی اجازت طلب کررہا ہے حضرت علی (رض) اندر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ حسن اور حسین (رض) بھی داخل ہوئے حضرت عباس (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ کی اولاد ہے آپ نے فرمایا : اے چچا ! یہ آپ کی بھی اولاد ہے فرمایا : کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں جس طرح آپ ان سے محبت کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی آپ سے محبت کرے۔ (رواہ ابن عساکر)
37711- عن ابن عباس قال: جاء العباس يعود النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه فرفعه فأجلسه على السرير فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم رفعك الله يا عم! ثم قال العباس: هذا علي يستأذن، فدخل ودخل معه الحسن والحسين فقال له العباس: هؤلاء ولدك يا رسول الله! قال: وهم ولدك يا عم! فقال: أتحبهم؟ فقال: أحبك الله كما أحببتهما. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧٠٩۔۔۔ زینب بنت رافع کی روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (رض) ، حضررت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کے ساتھ اپنے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الوفات میں تھے فاطمہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ انھیں کوئی چیز وراثت میں دیتے ہیں آپ نے فرمایا : حسن کے لیے میرا رعب اور میری بقیہ جوانی ہے جب کہ حسین کے لیے میری جرات اور سخاوت ہے۔ (رواہ ابن مندہ والطبرانی و ابونعیم وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں قدرے ضعیف ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں قدرے ضعیف ہے۔
37712- عن زينب بنت أبي رافع عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أنها أتت أباها بالحسن والحسين في شكواه التي مات فيها فقالت تورثهما يا رسول الله شيئا! فقال: أما الحسن فله هيبتي وسؤددي، وأما الحسين فله جرأتي وجودي."ابن منده، طب وأبو نعيم، كر، وسنده لين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧١٠۔۔۔” مسند ام ایمن “ حضرت جابربن سمرہ (رض) ام ایمن (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں ، فرماتی ہیں : حضرت فاطمہ (رض) حضرت حسن (رض) اور حسین (رض) کے ساتھ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! آپ انھیں کچھ عطا فرمائیں آپ نے فرمایا : میں نے اس بڑے کو رعب اور برباری عطا کی اور اس چھوٹے کو محبت اور رضاء عطا کی۔ (رواہ العسکری فی الامثال) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ناصح لحلمی ہے ابن معین وغیرہ کے بقول یہ راوی غیر ثقہ ہے۔
37713- "مسند أم أيمن" عن جابر بن سمرة عن أم أيمن قالت: جاءت فاطمة بالحسن والحسين إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله! انحلهما، فقال: نحلت هذا الكبير المهابة والحلم، ونحلت هذا الصغير المحبة والرضى."العسكري في الأمثال، وفيه ناصح المحلمي، قال ابن معين وغيره ليس بثقة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧١١۔۔۔” مسند اسامہ “ حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں میں کسی کام کے لیے ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے درآنحالیکہ آپ نے چادر تلے کوئی چیز ڈھانپ رکھی تھی میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز ہے جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا میں نے عرض کیا : یہ کیا چیز ہے جو آپ نے چادر تلے ڈھانپ رکھی ہے آپ نے چادر اٹھائی کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی ایک ران پر حسن (رض) ہیں اور دوسری پر حسین (رض) آپ نے فرمایا : یہ میرے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں یا اللہ ان دونوں سے محبت رکھ میں ان سے محبت کرتا ہوں اور جو ان سے محبت کرے اس سے تو بھی محبت رکھ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وعبدین، حمیدوالترمذی وقال حسن غریب وابن حبان و سعید بن المنصور وزادابن ابی شیبۃ یعنی ابن ابی شیبہ میں اضافہ ہے کہ آپ نے تین بار فرمایا)
37714- "مسند أسامة بن زيد" طرقت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو مشتمل على شيء لا أدري ماهو، فلما فرغت من حاجتي قلت: ماهذا الذي أنت مشتمل عليه؟ فكشفه فإذا هو حسن وحسين على وركيه1، فقال: هذان ابناي وابنا ابنتي، اللهم! إني أحبهما فأحبهما وأحب من يحبهما. "ش"، وعبد بن حميد، "ت": حسن غريب، "حب، ص"، زاد "ش": ثلاث مرات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حسنین کریمین (رض)
٣٧٧١٢۔۔۔” مسند علی “ حضرت سعد بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب کہ حسن اور حسین (رض) آپ کی پشت مبارک پر بیٹھے کھیل رہے تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں ان سے محبت نہیں کروں گا حالانکہ یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
37715- "مسند علي" عن سعد بن مالك قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم والحسن والحسين يلعبان على ظهره، فقلت: يا رسول أتحبهما؟ فقال ومالي لا أحبهما وإنهما ريحانتي من الدنيا. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٣۔۔۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں جب حضرت حسین بن علی (رض) کا محاصرہ کرلیا گیا تو آپ (رض) نے پوچھا : اس زمین کا نام کیا ہے ؟ جواب دیا گیا : اس کا نام کربلاء ہے حضرت حسین (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا : یہ سرزمین کرب وبلا (یعنی مشقت و آزمائش والی زمین) ہے۔ (رواہ الطبرانی)
37716- عن المطلب بن عبد الله بن حنطب قال لما أحيط بالحسين بن علي قال: ما اسم الأرض؟ قيل كربلاء، فقال: صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم! أرض كرب وبلاء. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٤۔۔۔” مسند سیدناحسن بن علی “ محمد بن عمرو بن حسین کہتے ہیں : ہم کربلاء میں حضرت حسین (رض) کے ساتھ تھے، حضرت حسین (رض) نے شمرذی الجوش کی طرف دیکھ کر فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : گویا میں سیاہ اور سفید کتے کی طرف دیکھ رہا ہوں جو میرے اہل بیت کا خون پی رہا ہے۔ چنانچہ شمرذی الجوشن کے چہرے پر برص کے داع تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37717- "مسند لسيد الحسين بن علي" عن محمد بن عمرو بن حسين قال: كنا مع الحسين بنهر كربلاء فنظر إلى شمرذى الجوشن فقال: صدق الله ورسوله! قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كأني أنظر إلى كلب أبقع يلغ في دماء أهل بيتي! وكان شمر أبرص. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٥۔۔۔” ایضا “ عبیداللہ بن حر کی روایت ہے کہ انھوں نے حضرت حسین بن علی (رض) سے پوچھا : کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے سفر کے متعلق کچھ وعدہ کیا تھا ؟ خود حسین (رض) نے جواب دیا : نہیں۔ (رواہ ابن عساکر
37718- "أيضا" عن عبيد الله بن الحر أنه سأل الحسين بن علي أعهد إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسيرك هذا شيئا؟ قال: لا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٦۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت حسین (رض) میرے آئے اور عراق کی طرف خروج کرنے کے متعلق مجھ سے مشورہ لینے لگے میں نے کہا : اگر مجھے اعزہ کی اذیت کا ڈرنہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ تمہارے بالوں میں گھسا دیتا۔ تم کہاں جارہے ہو ؟ ایسی قوم کے پاس جارہے ہو جس نے تمہارے باپ کو قتل کیا تمہارے بھائی کو زخمی کیا : حالانکہ وہ اپنی جان پر کھیل جانے والے تھے حتیٰ کہ انھوں نے مجھے سے یہاں تک کہا ہے : یہ حرم ایک آدمی کی وجہ سے حلال سمجھ لیا جائے گا میں فلاں اور فلاں سرزمین میں قتل کیا جاؤں مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ہی وہ شخص ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37719- عن طاوس قال قال ابن عباس: جاءني حسين يستشيرني في الخروج إلى العراق فقلت: لولا أن يرزؤا1 بك لشبثت يدي في شعرك، إلى أين تخرج؟ إلى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك؟ وكان الذي سخى بنفسه عنه أن قال لي: إن هذا الحرم يستحل برجل ولأن أقتل في أرض كذا وكذا أحب إلي من أن أكون أنا هو. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٧۔۔۔ حضرت زیدبن ارقم (رض) کی روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیادہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت حسین (رض) کا سر مبارک لایا گیا اور عبیداللہ کے سامنے رکھ دیا گیا عبیداللہ نے چھڑی ہونٹوں پر رکھ دی میں نے عبیداللہ سے کہا : تم ایسی جگہ چھڑی رکھ رہے ہو جہاں میں نے کئی مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ لیتے دیکھا ہے ابن زیاد بولا : کھڑا ہو جاتجھ بوڑھے کی عقل ختم ہوچکی ہے۔ (رواہ الخطیب فی المتفق)
37720- عن زيد بن أرقم قال: كنت جالسا عند عبيد الله بن زياد إذ أتي برأس الحسين فوضع بين يديه، فأخذ قضيبه فوضعه بين شفتيه، فقلت له: إنك لتضع قضيبك في موضع طالما لثمه رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال: قم إنك شيخ قد ذهب عقلك. "خط" في المتفق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٨۔۔۔ محمد بن سیرین (رح) حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : جب عبید اللہ بن زیادہ کے پاس حضرت حسین (رض) کا سر مبارک لایا گیا میں ابن زیاد کے پاس تھا ابن زیاد نے چھڑی سے سر مبارک کریدنا شروع کردیا میں نے کہا : خبردار ! حسین (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ (رواہ ابونعیم)
37721- عن محمد بن سيرين عن أنس قال: شهدت عبيد الله بن زياد وأتي برأس الحسين، فجعل ينكت بقضيب في يده فقلت: أما إنه كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم."أبو نعيم".
তাহকীক: