কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৭৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧١٩۔۔۔ ابن ابی نعم کی روایت ہے کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص آئے اور مچھر کے خون کے متعلق آپ (رض) سے پوچھنے لگا ابن عمر (رض) نے پوچھا : تم کہاں سے ہوں ؟ اس نے جواب دیا میں اہل عراق سے ہوں ابن عمر (رض) نے فرمایا : اسے دیکھو ! یہ مچھر کے خون کے متعلق پوچھ رہا ہے حالانکہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے کو قرتل کردیا ہے جب کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ یہ دونوں (حسن (رض) و حسین (رض)) میرے دنیا کے دوپھول ہیں۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری)
37722- عن ابن أبي نعم قال: كنت جالسا عند ابن عمر فأتاه رجل فسأله عن دم البعوض، فقال له ابن عمر: ممن أنت؟ فقال: رجل من أهل العراق، فقال ابن عمر: ها انظروا! هذا يسألني عن دم البعوض وهم قتلوا ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم! وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هما ريحانتاي من الدنيا. "حم، خ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧٢٠۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں حسین (رض) کو قتل ہوتے دیکھ رہا ہوں میں اس سرزمین کو بخوبی پہنچانتا ہوں جہاں اسے قتل کیا جائے گا وہ دریاؤں کے قریب ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37723- عن علي قال: ليقتلن الحسين قتلا! وإني لأعرف تربة الأرض التي بها يقتل قريبا من النهرين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧٢١۔۔۔ ابوھرثمہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے ساتھ کربلاء میں تھا آپ (رض) نے فرمایا : اس سرزمین سے ستر ہزار لوگ اٹھائے جائیں گے اور وہ سب بغیر حساب کے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37724- عن أبي هرثمة قال: كنت مع علي بكربلاء فقال: يحشر من هذا الظهر سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧٢٢۔۔۔ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ آسمان کے کناروں پر یہ سرخی نہیں دیکھی گئی۔ حتیٰ کہ حضرت حسین بن علی (رض) قتل کئے گئے اس کے بعد یہ سرفی چھاگئی اور حضرت عثمان غنی (رض) کے قتل سے قبل جنگجوں میں ابلق۔ (چتکبرے گھوڑے) گم نہیں ہائے گئے، (رواہ ابن عساکر)
37725- عن محمد بن سيرين قال: لم تر هذه الحمرة التي في آفاق السماء حتى قتل الحسين بن علي، ولم يفقدوا الخيل البلق في المغازي والجيوش حتى قتل عثمان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل حسین (رض)
٣٧٧٢٣۔۔۔” مسند علی (رض) عنہ؛ابن سیرین نے اپنے بعض اصحاب سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی (رض) نے عمربن سعد سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال یوگا جب تم ایسے مقام میں کھڑے ہوگے کہ تمہیں جنت اور دوزخ کا اختیار دیا جائے گا اور تم اپنے لیے دوزخ کا انتخاب کروگے۔ (رواہ ابن عساکر)
37726- "مسند علي" عن ابن سيرين عن بعض أصحابه قال قال علي لعمر بن سعد: كيف أنت إذا قمت مقاما تخير فيه بين الجنة والنار فتختار النار. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٤۔۔۔” مسند عمر “ اسلم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : اے فاطمہ (رض) : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی نہیں دیکھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ سے بڑھ کر زیادہ محبو وب ہو بخدا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مجھے بھی آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ (رواہ الحاکم)
37727- "مسند عمر" عن أسلم أن عمر بن الخطاب دخل على فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا فاطمة والله ما رأيت أحدا أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك والله ما كان أحد من الناس بعد أبيك أحب إلي منك. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٥۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تیرے غصہ ہونے کی وجہ سے غضبناک ہوجاتا ہے اور تیری خوشی کی وجہ سے وہ بھی خوش ہوتا ہے (رواہ الحاکم وابن النجار)
37728- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لفاطمة: إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك. "ك" وابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٦۔۔۔” ایضا “ سویدبن غفلہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے کا پیغام اس کے چچا حارث بن ہشام کو بھیجا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ لیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس کے حسب ونسب کے متعلق سوال کررہے ہو ؟ حضرت علی (رض) نے عرض کیا : میں اس کا حسب ونسب جانتا ہوں لیکن کیا آپ مجھے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں چونکہ فاطمہ (رض) میرا ٹکڑا ہے مجھے پسند نہیں کہ اسے غم گین کیا جائے یا اسے کوئی دکھ پہنچایا جائے حضرت علی (رض) کہا : میں ایسے کام کا ارتکاب نہیں کروں گا جسے آپ ناپسند کرتے ہوں۔ (رواہ ابویعلی)
37729- "أيضا" عن سويد بن غفلة قال: خطب علي ابنة أبي جهل إلى عمها الحارث بن هشام فاستشار النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: أعن حسبها تسألني؟ قال علي: قد أعلم ما حسبها، ولكن أتأمرني بها؟ قال: لا، فاطمة بضعة مني ولا أحب أنها تحزن أو تجزع، فقال علي: لا آتي شيئا تكرهه. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو اور تمہارے دونوں بیٹے نوجوانان جنت کے سردار ہوں۔ (رواہ البزار)
37730- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة: ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء أهل الجنة وابنيك سيدا شباب أهل الجنة. "البزار"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٨۔۔۔”” مسند حذیفہ بن یمان “ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ باہر تشریف لے گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہولیا آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک فرشتہ آیا ہے وہ اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کے لیے اجازت طلب کرتا رہا ہے اس نے مجھے خبر کی ہے کہ فاطمہ (رض) خواتین جنت کی سردار ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37731- "مسند حذيفة بن اليمان" أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فخرج فاتبعته، فقال: ملك عرض لي واستأذن ربه أن يسلم علي ويخبرني أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٢٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر فاطمہ (رض) کی پیشانی پر بوسہ لیتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37732- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان كثيرا ما يقبل عرف2 فاطمة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) سے پوچھاجب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرض الوفات میں حاضر ہوئی پوچھا کہ جس وقت تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکی تو روپڑی تھی پھر دوسری باجھ کی ہنس پڑی فاطمہ (رض) نے جواب دیا : میں پہلی بات جب جھکی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا کہ وہ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں اس پر میں روپڑی میں دوسری بارجھ کی مجھے آپ نے بتایا کہ سب سے پہلے میں آپ کے پاس جاؤں گی اور یہ کہ میں سوائے مریم بنت عمران کے جنت کی بیبیوں کی سردار ہوں اس پر میں ہنس پڑی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37733- عن عائشة قالت: قلت لفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيتك حين أكببت على النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه فبكيت ثم أكببت عليه ثانية فضحكت! قالت: أكببت عليه فأخبرني أنه ميت فبكيت، ثم أكببت عليه الثانية فأخبرني أني أول أهله لحوقا به وأني سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم بنة عمران فضحكت. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
37734 ۔۔۔ حضرت فاطمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے ملو گی اور تمہارے لیے بہتر آگے جانے والا ہوں۔ رواہ ابن ابی شیبہ
37734- عن فاطمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لها: إنك أول أهل بيتي لحوقا بي ونعم الخلف أنا لك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الوفات میں فاطمہ (رض) سے فرمایا : اے فاطمہ (رض) ! اے میری بیٹی ! ذراجھک کر میرے قریب آؤفاطمہ (رض) جھک گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھوڑی دیر سرگوشی کی پھر فاطمہ (رض) پیچھے ہٹ گئی اور وہ رورہی تھی جب کہ عائشہ (رض) ادھر ہی موجود تھیں تھوڑی دیر بعد پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذراجھک کر سرمیرے قریب لاؤ فاطمہ (رض) جھک گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے سرگوشی کی پھر ہنستی ہوئی پیچھے ہٹ گئی حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا ! اے رسول اللہ کی بیٹی ! مجھے بتاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا سرگوشی کی ہے : چنانچہ فاطمہ (رض) نے وفائے راز کا عذر ظاہر کیا حضرت عائشہ (رض) پر گراں گزرا چنانہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس بلالیا حضرت عائشہ (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) سے کہا : کیا تم مجھے وہ خبر نہیں بتاؤگی۔ فاطمہ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں اب بتاؤں گی پہلی مرتبہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے سرگوشی کی آپ نے بتایا کہ قبل ازیں جبرائیل امین ہر سال ایک بار مجھے قرآن سناتے تھے جب کہ اس سال دو مرتبہ سناچکے ہیں جبرائیل امین نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ہر بعد میں آنے والے نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر کے نصف ہوتی ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) ایک سوبیس (١٢٠) سال زندہ رہے ہیں میں یہی سمجھتا ہوں کہ ساٹھ سال پورے ہونے پر میں دنیا سے چلا جاؤں گا چنانچہ مجھے اس خبر نے رلادیا فرمایا : اے بیٹی ! مومنین کی عورتوں میں کوئی عورت ایسی نہیں جس کی مصیبت تیری مصیبت سے بڑھ کر ہو لہٰذا صبر کرنے میں بھی کسی عورت سے کم نہیں ہونا۔ آپ نے پھر دوسری بارسرگوشی کی مجھے خبردی کہ میں آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچوں گی اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تو خواتین جنت کی سردار ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37735- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه قال: يافاطمة يا بنتي أحني1 علي، فأحنت عليه، فناجاها ساعة ثم انكشفت عنه تبكي وعائشة حاضرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك ساعة: احني علي، فحنت عليه فناجاها ساعة، ثم انكشفت عنه تضحك، فقالت عائشة: يا بنت رسول الله! أخبريني بماذا ناجاك أبوك، قالت: أوشكت رأيته ناجاني على حالي سر ثم ظننت أني أخبر بسره وهو حي؟ فشق ذلك على عائشة أن يكون سر دونها، فلما قبضه الله إليه قالت عائشة لفاطمة: ألا تخبريني ذلك الخبر؟ قالت: أما الآن فنعم، ناجاني في المرة الأولى فأخبرني أن جبريل كان يعارضه القرآن في كل عام مرة وأنه عارضه القرآن العام مرتين، وأخبره أنه لم يكن نبي بعد نبي إلا عاش نصف عمر الذي كان قبله، وأنه أخبرني أن عيسى عاش عشرين ومائة سنة ولا أراني إلا ذاهب على رأس الستين، فأبكاني ذلك، وقال: يابنية! إنه ليس من نساء المؤمنين أعظم رزية منك فلا تكوني أدنى من امرأة صبرا، ثم ناجاني في المرة الأخرى فأخبرني أني أول أهله لحوقا به، وقال: إنك سيدة نساء أهل الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٣۔۔۔ یحییٰ بن جعدہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الوفات میں فاطمہ (رض) کو اپنے پاس بلایا اور فاطمہ (رض) سے سرگوشی کی فاطمہ (رض) رو پڑیں پھر دوبارہ سرگوشی کی جس پر وہ ہنس پڑیں صحابہ (رض) نے فاطمہ (رض) سے رونے اور ہنسنے کی وجہ دریافت کی ؟ فاطمہ (رض) نے بتانے سے انکار کردیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے فاطمہ (رض) نے لوگوں کی خبر کی اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلاکرارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث کیا اسے پہلے نبی کی نصف عمر عطا کی تاہم عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں چالیس سال تک رہے ہیں اور میرے لیے بیس (٢٠) سال پورے ہوچکے ہیں میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں نے اب دنیا سے چلے جانا ہے اور میری موت کا سبب یہی مرض بنے گا نیز قبل ازیں ہر سال جبرائیل امین مجھے ایک بار قرآن سناتے تھے جب کہ اس بار مجھے دو مرتبہ قرآن سنا چکے ہیں اس پر میں رو پڑی آپ نے مجھے پھر بلایا اور ارشاد فرمایا : میرے گھر والوں میں سب سے پہلے تم میرے پاس آؤگی اس پر میں ہنس پڑی۔ (رواہ ابن عساکر)
37736- عن يحيى بن جعدة قال: دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة في مرضه الذي توفي فيه فسارها بشيء فبكت، ثم سارها فضحكت، فسألوها فأبت أن تخبر، فلما قبض أخبرتهم، قالت: دعاني فقال: إن الله لم يبعث نبيا إلا وقد عمر الذي بعده نصف عمره، وإن عيسى لبث في بني إسرائيل أربعين سنة وهذه توفي لي عشرين، ولا أراني إلا ميت في مرضي هذا، وإن القرآن كان يعرض علي في كل عام مرة، وإنه عرض علي في هذه السنة مرتين فبكيت، ثم دعاني فقال: أول من يقدم علي من أهلي أنت، فضحكت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٤۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے بعد فاطمہ (رض) کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کوئی سرگوشی کی جس سے فاطمہ (رض) روپڑی آپ نے فاطمہ (رض) سے پھر کوئی بات کی جس سے وہ ہنس پڑی میں نے اس کے متعلق فاطمہ (رض) سے کچھ نہ پوچھا تاہم جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے میں نے فاطمہ (رض) سے رونے اور ہنسنے کی وجہ دریافت کی وہ بولی : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خبر کی تھی کہ آپ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں میں روپڑی پھر آپ نے مجھ سے بات کی کہ میں خواتین جنت کی سردار ہوں سوائے مریم (علیہ السلام) نے اس پر میں ہنس پڑی۔ (رواہ ابن عساکر)
37737- عن أم سلمة قالت: دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة بعد الفتح فناجاها فبكت ثم حدثها فضحكت فلم أسألها عن شيء حتى توفى رسول الله صلى الله عليه وسلم، سألتها عن بكائها وضحكها فقالت: أخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يموت فبكيت، ثم حدثني أني سيدة نساء أهل الجنة بعد مريم بنة عمران فضحكت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٥۔۔۔ شبعی (رح) کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ سے ابوجہل کی بیٹے کی متعلق پوچھا اور یہ کہ حضرت علی (رض) اس کے چچا حارث بن ہشام کو پیغام نکاح بھیجنا چاہتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہو اس کے حسب ونسب کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟ حضرت علی (رض) نے عرض کیا نہیں لیکن میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیا آپ اسے ناپسند کرتے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ (رض) میرے دل کا ٹکڑا ہے مجھے ناپسند ہے کہ اسے غم گین کیا جائے یا اسے غصہ دلایا جائے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : میں اس چیز کا ہرگز ارتکاب نہیں کروں گا جو آپ کو پریشان کرتی ہو۔ (رواہ عدالرزاق)
37738- عن الشعبي قال: جاء علي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يسأله عن ابنة أبي جهل وخطبتها إلى عمها الحارث بن هشام. فقال: النبي صلى الله عليه وسلم عن أي بالها تسألني؟ أعن حسبها؟ فقال: لا، ولكن أريد أن أتزوجها، أتكره ذلك؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنما فاطمة بضعة مني وأنا أكره أن تحزن أو تغضب، فقال علي: فلن آتي شيئا ساءك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٦۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : علی نے جو یریہ بنت ابی جہل کو پیغام نکاح بھیجا ہے جب کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی اور اللہ کے دمن کی بیٹی کسی کے نکاح میں جمع ہوجائیں فاطمہ (رض) تو میرا جگر گوشہ ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37739- عن أبي جعفر قال: خطب علي ابنة أبي جهل فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إن عليا خطب الجويرية بنت أبي جهل ولم يكن ذلك له أن تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله، وإنما فاطمة بضعة مني. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٧۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح بھیجا حتیٰ کہ نکاح کا وعدہ کرلیا گیا حضرت فاطمہ (رض) کو خبر ہوئی انھوں نے اپنے والد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا اور عرض کیا : لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں کرتے اور یہ ہے ابوالحسن اس سے ابوجہل کی بیٹے کو پیغام نکاح بھیجا ہے اور نکاح کا وعدہ بھی کرلیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے حمد ثنا کے بعد ابوالعاص کا ذکر کیا اور اس کے دامادی رشتہ کی تعریف کی پھر فرمایا : فاطمہ (رض) تو میرا گوشہ جگر ہے مجھے خوف ہے تم اگر آزمائش میں نہ ڈال دو ۔ اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کسی شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں ۔ چنانچہ بعد میں اس نکاح سے سکوت کرلیا اور ترک کردیا گیا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37740- عن ابن أبي مليكة أن علي بن أبي طالب خطب ابنة أبي جهل حتى وعد النكاح، فبلغ ذلك فاطمة فقالت لأبيها: يزعم الناس أنك لا تغضب لبناتك، وهذا أبو الحسن قد خطب ابنة أبي جهل وقد وعد النكاح، فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فحمد الله وأثنى بما هو أهله، ثم ذكر أبا العاص بن الربيع فأثنى عليه في صهره ثم قال: إنما فاطمة بضعة مني وإني أخشى أن تفتنوها، والله لا يجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله تحت رجل! فسكت عن ذلك النكاح وترك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزھراء (رض)
٣٧٧٣٨۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت علی (رض) کو باندی عطا کی اس کے بعد ام ایمن (رض) حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آتیں لیکن ام یمن (رض) نے فاطمہ (رض) کے چہرہ اقدس پر خفگی کے اثرات دیکھے اور پوچھا تمہیں کیا ہوا ؟ فاطمہ (رض) نے کچھ جواب نہ دیا : ام ایمن (رض) نے دربارہ استفسار کیا اور کہا اللہ کی قسم تمہارے والد مجھ سے کوئی چیز نہیں چھپاتے تھے پھر تم کیوں چھپاتی ہو فاطمہ (رض) نے کہا : ابوالحسن کو ایک باندی دی گئی ہے چنانچہ ام ایمن (رض) دروازے پر آئیں اور جس پر حضرت علی (رض) تھے اور باآواز بلند کہا خبردار ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے شخص تھے کہ ان کے اہل خانہ کے متعلق ان کی حفاظت کی جاتی تھی حضرت علی (رض) نے پوچھا کیا ہوا ؟ ام ایمن (رض) نے جواب دیا : یہ باندی تمہارے پاس بھیجی گئی ہے حضرت علی

(رض) نے فرمایا : باندی فاطمہ (رض) کی ہوگئی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37741- عن أبي جعفر قال أعطى أبو بكر عليا جارية فدخلت أم أيمن على فاطمة فرأت فيها شيئا فكرهته فقالت: مالك؟ فلم تخبرها، فقالت: مالك! فوالله ما كان أبوك يكتمني شيئا! فقالت: جارية أعطيها أبو الحسن، فخرجت أم أيمن فنادت على باب البيت الذي فيه علي بأعلى صوتها: أما رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يحفظ في أهله، فقال علي: وما ذاك؟ فقالت: جارية بعث بها إليك، فقال علي: الجارية لفاطمة."عب".
tahqiq

তাহকীক: