কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৭৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٣٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب انھوں نے فاطمہ (رض) سے شادی کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) دے فرمایا : عام مہر خوشبو میں خرچ کرو۔ (رواہ ابن راھویہ)
37742- عن علي أنه لما تزوج فاطمة قال له النبي صلى الله عليه وسلم: اجعل عامة الصداق في الطيب. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٠۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جب میں نے فاطمہ (رض) سے شادی کی میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنا تھوڑا بیچوں یا زرہ ؟ آپ نے فرمایا : اپنی زرہ بیچ دو چنانچہ میں نے ١٢ اور قیہ میں زرہ بیچ دی اور یہی فاطمہ (رض) کا مہر مقرر کیا۔ (رواہ ابویعلی)
37743- عن علي قال: لما تزوجت فاطمة قلت يا رسول الله! ما أبيع فرسي أو درعي؟ قال بع درعك، فبعتها بثنتي عشرة أوقية وكان ذلك مهر فاطمة. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤١۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جب میں نے فاطمہ (رض) سے شادی کی میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فاطمہ (رض) کی رخصتی کردیں آپ نے فرمایا : اسے کوئی چیز دے دو میں نے عرض کیا : میرے پاس کچھ نہیں فرمایا : تمہاری زرہ کہاں ہے ؟ میں نے عرض کیا : وہ میرے پاس ہے فرمایا : وہی اسے دے دو ۔ (رواہ النسائی وابن جریر والطبرانی البیھقی والضیاء)
37744- عن علي قال: لما تزوجت فاطمة قلت: يا رسول الله! ابن لي؟ قال: أعطها شيئا، قلت: ما عندي شيء، قال: فأين درعك الحطمية؟ قلت: هي عندي، قال: فأعطها إياه. "ن وابن جرير، طب، ق، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٢۔۔۔” ایضا “ علباء بن اصر کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی بیٹی فاطمہ (رض) سے نکاح کا پیغام بھیجا حضرت علی (رض) نے اپنی ایک زرہ بیچی اور کچھ اپنا سامان بیجا۔ اس سب کی قیمت ٤٠٠ درہم تک پہنچی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کرو اور ایک تہائی کپڑوں پر خرچ کرو۔ ایک مٹکے میں پانی پھروادیا اور اسی سے غسل کرنے کی ہدایت فرمائی حضرت فاطمہ (رض) کو حکم دیا کہ اپنے بچے کو دودھ پلانے میں جلدی نہیں کرنی لیکن حضرت حسین (رض) کو دودھ پلانے میں جلدی کردی وہی بات حضرت حسن (رض) کی سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے منہ میں پہلے کوئی چیز۔ (لعاب یا کھجور وغیرہ) ڈالی چنانچہ حسن (رض) علم میں زیادہ فائق تھے۔ (رواہ ابویعلی و سعید بن المنصور)
37745- "أيضا" عن علياء بن أحمر قال قال علي بن أبي طالب: خطبت إلى النبي صلى الله عليه وسلم ابنته فاطمة، قال: فباع علي درعا له وبعض ما باع من متاعه فبلغ أربعمائة درهما، قال: وأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يجعل ثلثيه في الطيب وثلثا في الثياب، ومج في جرة من ماء فأمرهم أن يغتسلوا به، وأمرها أن لا تسبقه برضاع ولدها فسبقته برضاع الحسين، وأما الحسن فإنه صلى الله عليه وسلم صنع في فيه شيئا لا يدري ما هو، فكان أعلم الرجلين. "ع، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) سے میری شادی کرائی اور مہر اپنے ایک زرہ مقرر کی گئی آپ نے فرمایا : یہی زرہ فاطمہ (رض) کو بھیج دو اور مہردے کر اسے اپنے لیے حلال کردو میں نے زرہ بھیج دی اللہ کی قسم اس کی قیمت ٤٠٠ درہم تھی۔ (رواہ ابویعلی)
37746- عن علي قال: زوجني النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة على درع حديد حطمية وكان سلحنيها، وقال: ابعث بها إليها تحللها بها، فبعثت بها إليها، والله! ما ثمنها كذا أو أربعمائة درهم. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٤۔۔۔ بریدہ کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) کی شادی کرائی آپ نے فرمایا : نوبیا ہے جوڑے کے لیے ولیمہ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37747- عن بريدة قال: لما زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بد للعروس من وليمة، ثم أمر بكبش فجمعهم عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٥۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ انصار کی ایک جمامت نے حضرت علی (رض) سے کہا : آپ کے نکاح میں فاطمہ (رض) ہیں لہٰذا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر انھیں سلام پیش کریں چنانچہ حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا : ابن ابی طالب کو کیا کام پیش آیا ہے ؟ عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے فاطمہ (رض) کا تذکرہ کیا ہے فرمایا : مرحبا خوش آمدید اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا : حضرت علی (رض) انصار کی اس جماعت کے پاس چلے گئے وہ ان کی انتظار میں بیٹھے تھے انصار بولے : کیا ہوا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں البتہ آپ نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا ہے انصار نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تمہیں دوخصلتوں میں سے ایک کافی ہے تمہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل ومرجیت عطا کی ہے بعدازیں جب حضرت علی (رض) کی شادی ہوئی آپ نے فرمایا : اے علی ! دول ہے کے لیے ولیمہ ضروری ہے سور (رض) نے کہا : میرے پاس مینڈھا ہے جب کہ انصار کی جماعت نے چند صاع چال اکٹھے کیے جب پہلی رات آئی آپ نے فرمایا : کچھ نہیں کرنا حتیٰ کہ مجھے سے مل لوچنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو باقی بچ گیا وہ حضرت علی (رض) پر انڈیل دیا اور فرمایا : یا اللہ ! ان میں برکت عطا فرما اور ان دونوں پر برکت نازل اور ان کی زفاف میں

بھی برکت عطا فرما اور ان کی نسل میں بھی برکت نازل فرما۔ (رواہ الدوپانی والطبرانی وابن عساکر)
37748- عن بريدة قال قال نفر من الأنصار لعلي: عندك فاطمة! فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم عليه فقال: ما حاجة ابن أبي طالب؟ فقال: يا رسول الله! ذكرت فاطمة بنت رسول الله، فقال: مرحبا وأهلا! لم يزد عليها، فخرج علي على أولئك الرهط من الأنصار ينتظرونه، قالوا: وما ذاك؟ قال: ما أدري غير أنه قال لي: مرحبا وأهلا، قالوا: يكفيك من رسول الله صلى الله عليه وسلم إحداهما، أعطاك الأهل والرحبى، فلما كان بعد ذلك بعد ما زوجه قال: يا علي! إنه لا بد للعروس من وليمة! قال سعد: عندي كبش، وجمع له رهط من الأنصار أصوعا من ذرة، فلما كان ليلة البناء قال: لا تحدث شيئا حتى تلقاني، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء فتوضأ منه ثم أفرغه على علي فقال: اللهم! بارك فيهما، وبارك عليهما، وبارك لهما في بنائهما، وبارك لهما في نسلهما. "الروياني، طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٦۔۔۔” مسند حجربن عنیس بقول نعض ابن قیس کندی ؛حجربن عنبس کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت علی (رض) سے نکاح کیلئے پیغام بھیجا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی ! فاطمہ (رض) تمہارے لیے ا ہے اس شرط پر کہ تم اے حسن سلوک سے رکھو گے۔ (رواہ ابونعیم)
37749- "مسند حجر بن عنبس وقيل ابن قيس الكندي" عن حجر بن عنبس قال: خطب أبو بكر وعمر فاطمة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هي لك يا علي! على أن تحسن صحبتها. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) سے شادی کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ کو کوئی چیز دے دو ۔ علی (رض) نے کہا : تمہاری حطمی زدہ کہاں ہے۔ (رواہ ابن جریر)
37750- عن ابن عباس قال: لما تزوج علي فاطمة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعطها شيئا، قال: ما عندي، قال: فأين درعك الحطمية. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب میں نے فاطمہ (رض) کو پیغام نکاح بھیجا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مہر ہے میں نے عرض کیا : میرے پاس میری سواری اور میری زرہ ہے فرمایا ان دونوں چیزوں کو چار سو درہم میں بیچ دو آپ نے فرمایا : فاطمہ (رض) کے لیے زیادہ سے زیادہ خوشبو لاؤ چونکہ وہ بھی خواتین میں سے ایک خاتون ہے۔ (رواہ البیھقی)
37751- عن علي قال: لما خطبت فاطمة قال النبي صلى الله عليه وسلم: هل لك من مهر؟ قلت: معي راحلتي ودرعي، قال: فبعهما بأربعمائة، وقال: أكثروا الطيب لفاطمة، فإنها امرأة من النساء. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٤٩۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شادی کی میرے اور اس کے پاس چمڑے کے بچھونے کے سوا کو کچھ نہیں رات کو ہم اس پر سوجاتے اور دن اس پر اونٹنی کے آگے چارا ڈال دیتے فاطمہ (رض) کے علاوہ میرے پاس کوئی خادم نہیں تھا۔ (رواہ ھناد الدینوری)
37752- عن الشعبي قال قال علي: تزوجت فاطمة بنت محمد صلى الله عليه وسلم ومالي ولها فراش غير جلد كبش، ننام عليه بالليل ونعلف عليه ناضحنا بالنهار وما لي خادم غيرها."هناد والدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کی شادی کرائی آپ نے پانی پی کر کلی کی اور پھر حضرت علی (رض) کے گریبان اور کاندھوں کے درمیان چھینک دیا۔ پھر قل ھواللہ ! حد اور معوذ تین پڑھ کر دم کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37753- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم حيث زوج فاطمة دعا بماء فمجه ثم أدخله معه فرشه في جيبه وبين كتفيه، وعوذه بقل هو الله أحد والمعوذتين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ (رض) سے نکاح کے لیے پیغام بھیجنا چاہا تو میری آزاد کردہ باندی نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ فاطمہ (رض) کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغامات مل رہے ہیں ؟ میں نے کہا : مجھے معلوم نہیں وہ بولیں : فاطمہ (رض) کے لیے پیغام نکاح بھیجا جارہا ہے بھلا تمہیں کس چیز نے روکا ہے تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیوں نہیں جاتے وہ تمہاری شادی کرادیں گے میں نے کہا : بھلا میرے پاس کوئی چیز ہے جو میں شادی کروں ؟ باندی نے کہا : اگر تم جاؤگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری شادی کرادیں گے بخدا وہ مجھے مسلسل ترغیب دیتی رہی۔ بالآخر میں جرات کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں جلال اور رعب تھا جب میں آپ کے سامنے بیٹھ کیا میں نے چپ سادھ کی بخدا بات کرنے کا مجھ سے جسارت نہ ہوسکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں آئے ہو کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں خاموش رہا آپ نے پھر فرمایا : کیوں آئے ہو کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں پھر خاموش رہا فرمایا : شاید تم فاطمہ (رض) کے لیے پیغام نکاح لائے ہو میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جسے تم مہر دے کر اسے اپنے لیے حلال کرو ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخدا میرے پاس کچھ نہیں فرمایا : وہ زرہ کہاں ہوئی جو میں نے تمہیں بندھوائی تھی قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں علی کی جان ہے وہ حطمی زرہ ہے اس کی قیمت ٤٠٠ درہم ہے فرمایا : میں نے تمہاری شادی کردی وہ زرہ فاطمہ (رض) کو بھیجوادوتا کہ اس کے ذریعے تم اسے اپنے لیے حلال لوبلاشبہ وہی زرہ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مہر تھی۔ (رواہ البیھقی دی الدلائل والدولد بی فی الذریۃ الطاھرۃ)
37754- عن علي قال: خطبت فاطمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت لي مولاة لي هل علمت أن فاطمة خطبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا، قالت: خطبت، فما يمنعك أن تأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيزوجك؟ فقلت: وعندي شيء أتزوج به؟ فقالت: إنك إن جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجك، فوالله مازالت ترجيني حتى دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم جلالة وهيبة! فلما قعدت بين يديه أفحمت، فوالله ما استطعت أن أتكلم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ماجاء بك؟ ألك حاجة؟ فسكت، فقال: ما جاء بك؟ ألك حاجة؟ فسكت، فقال: لعلك جئت تخطب فاطمة؟ فقلت: نعم، فقال: وهل عندك من شيء تستحلها به؟ فقلت: لا والله يا رسول الله! فقال: ما فعلت درع سلحتكها؟ فوالذي نفس علي بيده! إنها لحطيمة، ما ثمنها أربعمائة درهم، فقال: قد زوجتك، فابعث بها إليها تستحلها بها، فإن كانت لصداق فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم."ق" في الدلائل والدولابي في الذرية الطاهرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) کو روئی دار کپڑا مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی جہیز میں دیا۔ (رواہ البیھقی فی الدلائل)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف النسائی ٢٢٠
37755- عن علي قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل1 وقربة ووسادة أدم حشوها إذخر. "ق" فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥٣۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا یکایک آپ پر وحی نازل ہونے لگی جب نزول وحی کی کیفت ختم ہوئی فرمایا : اے انس تمہیں معلوم ہے جبرائیل امین نے عرش والے سے کیا پیغام لایا ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں جبرائیل امین عرش والے کے پاس سے کیا پیغام لائے ہیں ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ (رض) کی شادی علی (رض) عنی سے کرادوں ۔ (رواہ الخطیب۔ وابن عساکر والحاکم)
37756- عن أنس قال: كنت قاعدا عند النبي صلى الله عليه وسلم فغشيه الوحي، فلما سري عنه قال: أتدري يا أنس ما جاء به جبريل من عند صاحب العرش؟ قلت: بأبي وأمي! وما جاء به جبريل من عند صاحب العرش؟ قال: إن الله أمرني أن أزوج فاطمة من علي. "خط، كر، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥٤۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٤٨٠ دراہم پر فاطمہ (رض) سے میری شادی کرائی یہ درہم وزن ستہ کے برابر تھے۔ (رواہ ابوعبیدفی کتاب الاموال : ابوعبید کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں درہم ٦ دانق کا ہوتا تھا) کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے اس کی سند ضعیف ہے۔
37757- عن علي قال: زوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة على أربعمائة وثمانين درهما وزن ستة.أبو عبيد في كتاب الأموال، وقال كان الدرهم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة دوانيق، وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) کے نکاح کے بیان میں
٣٧٧٥٥۔۔۔” مسند انس (رض) “ ابن جریر محمد بن ھیشم حسن بن حماد یحییٰ بن یعلی اسلمی سعید بن ابی عروری قتادہ حسن کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ حضرت انس (رض) کہتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : یارسول اللہ آپ کو میری خیر خواہی کا بخوبی علم ہے اور اسلام میں میری قدامت کو بھی آپ جانتے ہیں نیز میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق رہا ہے آپ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ عرض کیا : فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر خاموش رہے یا کہا : آپ نے اعراض کرلیا۔ ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس واپس لوٹے اور فرمایا : میں ہلاک ہوگیا اور مجھے ہلاک کردیا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کیوں ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ کے لیے پیغام نکاح دیا اور آپ نے اعراض کرلیا : حضرت عمر (رض) نے کہا : آپ اپنی جگہ رہیں حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتا ہوں اور اس مقصد کا اظہار کرتا ہوں۔ چنانچہ عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میری خیر خواہی کو تو بخوبی جانتے ہیں اور اسلام میں میری قدامت کو بھی آپ جانتے ہیں میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق رہا ہے۔ (اور وہ اب بھی ہے) آپ نے فرمایا : کیا چاہتے ہو ؟ عرض کیا : فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعراض کرلیا حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس واپس لوٹ آئے اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کی انتظار میں ہیں چلیں اب ہم علی کے پاس جاتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر یہی مقصد ظاہر کرین حضرت علی (رض) کہتے ہیں یہ دونوں حضرات شیخین میرے پاس آئے اس وقت میں کھجوروں کے پودے لگارہا تھا انھوں نے فرمایا : تمہارے چچا کی بیٹی کو نکاح دیا جارہا ہے حضرت علی (رض) کہتے ہیں : انھوں نے مجھے ایک نام کے لیے جگادیا میں اپنی چادر لیے اٹھ کھڑا ہوا چادر کا ایک پلو میرے کاندھے پر تھا اور درسرازمین پر گھسٹ رہا تھا حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! آپ میری خیر خواہی سے بخوبی واقف ہیں اور میری اسلام میں قدامت کو بھی آہ جانتے ہیں نیز میرا آپ سے ایسا اور ایسا تعلق ہے فرمایا : کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آپ فاطمہ (رض) سے میری شادی کرادیں فرمایا : تمہاری پاس کوئی چیز ہے “۔ میں نے کہا میرے پاس میرا گھوڑا اور میری زرہ ہے آپ نے فرمایا : رہی بات گھوڑے کی سوا کوئی چارہ کار ہیں البتہ زرہ نیچ دو مں نے ٢٨٠ درہم میں زرہ بیچ دی اور رقم لا کر آپ کی گود میں ڈھیر کردی آپ نے اس میں سے مٹھی بھر درہم اٹھائے اور بلال (رض) کو دے کر فرمایا : اے بلال ان درہم کی ہمارے لیے خوشبو خرید لاؤ آپ نے ایک چارپائی ایک تکیہ جو چھال سے بھرا ہوا تھا جہیز میں دیا جب کہ میرا گھر ریت سے اٹا پڑا تھا آپ نے فرمایا جب فاطمہ (رض) تمہارے پاس پہنچ جائے کچھ نہیں کرنا۔ حتیٰ کہ میں تمہارے پاس آجاؤں چنانچہ فاطمہ (رض) ام ایمن (رض) کے ہمراہ آئی اور گھر میں ایک طرف بیٹھ گئی جب کہ میں دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، آتے ہی فرمایا : علی میرا بھائی ہے۔ ام ایمن (رض) نے جواب دیا : وہ آپ کا بھائی ہے حالانکہ آپ نے اپنی بیٹی سے اس کی شادی کرائی ہے فرمایا : جی ہاں آپ اندر تشریف لائے اور فاطمہ سے فرمایا : میرے پاس پانی لاؤ چنانچہ فاطمہ (رض) نے ایک پیالہ اور اس میں پانی ڈال کر آپ کے پاس لائی آپ نے پانی میں کلی کی اور پھر فاطمہ (رض) سے فرمایا : کھڑی ہوجا جب وہ کھڑی ہوگئیں تو آپ نے پانی ان کے سر اور سینے پر بھی بہادیا اور فرمایا : یا اللہ ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں آپ نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : پیٹھ پھیرو فاطمہ (رض) نے آپ کی طرف پیٹھ کردی اور آپ نے کچھ پانی فاطمہ (رض) کا کاندھوں پر انڈیل دیا پھر فرمایا : یا اللہ ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں پھر حضرت علی (رض) سے پانی لانے کو فرمایا حضرت علی کہتے ہیں۔ میں آپ کے ارادہ کو جانتا تھا میں اٹھا اور پانی سے پیالا بھر لایا آپ نے پانی میں کلی کی اور پھر میرے سینہ اور سر پر بہادیا پھر فرمایا : اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں پھر فرمایا : پیٹھ پھیرو میں نے آپ کی طرف پیٹھ پھیر دی آپ نے میرے کاندھوں پر پانی بہادیا اور فرمایا : میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی برکت کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوجاؤ۔
37758- "مسند أنس" "ابن جرير" حدثني محمد بن الهيثم حدثني الحسن ابن حماد حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن أنس بن مالك قال: جاء أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه فقال: يا رسول الله! قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني، قال: وما ذاك؟ قال: تزوجني فاطمة! فسكت عنه - أو قال: أعرض عنه - فرجع أبو بكر إلى عمر فقال: هلكت وأهلكت، قال: وما ذاك؟ قال: خطبت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأعرض عني، قال: مكانك حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فأطلب مثل الذي طلبت، فأتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فقعد بين يديه فقال: يا رسول الله! قد علمت مناصحتي وقدمي في الإسلام وإني وإني، قال: وما ذاك؟ قال: تزوجني فاطمة! فأعرض عنه، فرجع عمر إلى أبي بكر فقال: إنه ينتظر أمر الله فيها، انطلق بنا إلى علي حتى نأمره أن يطلب مثل الذي طلبنا، قال علي: فأتياني وأنا أعالج فسيلا فقالا: ابنة عمك تخطب! قال: فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي طرفا على عاتقي وطرفا أجره على الأرض حتى أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعدت بين يديه فقلت: يا رسول الله؟ قد عرفت قدمي في الإسلام ومناصحتي وإني وإني، قال: وما ذاك يا علي؟ قلت تزوجني فاطمة! قال: وعندك شيء؟ قلت: فرسي وبدني - قال: أعني درعي -قال: أما فرسك فلا بد لك منها، وأما درعك فبعها، فبعتها بأربعمائة وثمانين فأتيته بها فوضعتها في حجره، فقبض منها قبضة فقال: يا بلال! ابغنا بها طيبا، وأمرهم أن يجزوها، فجعل لهم سرير شرط بالشرط ووسادة من أدم حشوها ليف وملء البيت - كثيبا يعني رملا - وقال لي: إذا أتتك فلا تحدث شيئا حتى آتيك، فجاءت مع أم أيمن حتى قعدت في جانب البيت وأنا في جانب وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ههنا أخي؟ فقالت أم أيمن؟ أخوك أو أخوك وقد زوجته ابنتك! قال: نعم، فدخل فقال لفاطمة: ائتيني بماء. فقامت إلى قعب1 في البيت فجعلت فيه ماء فأتت به، فأخذه فمح فيه ثم قال لها: قومي، فنضح بين ثدييها وعلى رأسها وقال: الل هم! أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم، وقال لها: أدبري، فأدبرت فنضح بين كتفيها ثم قال: اللهم! إني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم، ثم قال لعلي: ائتيني بماء، فعلمت الذي يريد فقمت فملأت القعب ماء فأتيته به، فأخذ منه بفيه ثم مجه فيه ثم صب على رأسي وبين ثديي ثم قال: اللهم! إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم، ثم قال: أدبر، فأدبرت فصب بين كتفي وقال: اللهم! إني أعيذه بك وذريته من الشيطان الرجيم، وقال لي: ادخل بأهلك باسم الله والبركة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزہراء (رض) کی وفات
٣٧٧٥٦۔۔۔” مسند صدیق (رض) “ ام جعفر کی روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسماء (ام جعفر) عورتوں کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے وہ مجھے بہت برا لگتا ہے چنانچہ عورت پر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے۔ (مرنے کے بعد) جو عورت کے اعضاء مستورہ کا حال منکشف کردیتا ہے اسماء (رض) بولیں : اے رسول اللہ کی بیٹی ! کیا میں تمہیں ایک چیز نہ بتاؤں جو سر زمین حبشہ میں میں نے دیکھی سے چنانچہ اسماء (رض) نے چند ہری ٹہنیاں منگوائیں اور انھیں ٹیڑھا کرکے ان پر کپڑا ڈال دیا فاطمہ (رض) نے کہا یہ کتنہ خوبصورت لگ رہی ہیں بلاشبہ ایسا کرنے سے مرد اور عورت میں تمیز ہوجاتی ہے لہٰذا جب میں مرجاؤں مجھے صرف تو اور علی غسل دیں اور میرے پاس کوئی اور نہ آئے چنانچہ جب فاطمہ (رض) نے وفات پائی حضرت عائشہ (رض) نے اندر آنا چاہا اسماء (رض) بولیں : اندر مت آؤ عائشہ (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس کی شکایت کردی کہ یہ حثعمیہ میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکی بیٹی کے درمیان حائل ہوگئی ہے اور اس نے فاطمہ (رض) کے لیے دلہن کے ھو وج کی طرح چیز بنا رکھی ہے اتنے میں ابوبکر (رض) تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے اسماء ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی کے پاس اندر آنے سے کیوں روک رہی ہو اور تم نے فاطمہ (رض) کے لیے دلہن کے ھو وج کی طرح چیز کیوں بنا رکھی اسماء (رض) نے جواب دیا فاطمہ (رض) نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کے پاس کوئی نہ آنے پائے اور میں نے اس زندہ ہوتے ہوئے اس طرح کا ھودہ بنائے دیکھا ہے اور اس نے مجھے بنانے کا حکم دیا تھا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : فاطمہ (رض) نے تمہیں جو حکم دیا ہے وہ بجالاؤ پھر فاطمہ (رض) کو حضرت علی (رض) اور حضرت اسماء (رض) نے غسل دیا۔ (رواہ البیھقی)
37759- "مسند الصديق" عن أم جعفر أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: يا أسماء! إني قد استقبحت ما يصنع بالنساء، إنه يطرح على المرأة الثوب فيصفها، فقالت أسماء: يا بنت رسول الله! ألا أريك شيئا رأيته بأرض الحبشة، فدعت بجرائد رطبة فحنتها ثم طرحت عليها ثوبا، فقالت فاطمة: ما أحسن هذا وأجمله! يعرف به الرجل من المرأة، فإذا أنا مت فاغسليني أنت وعلي ولا يدخل علي أحد، فلما توفيت جاءت عائشة تدخل فقالت أسماء: لا تدخلي، فشكت إلى أبي بكر فقالت: إن هذه الخثعمية تحول بيني وبين ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد جعلت لها مثل هودج العروس، فجاء أبو بكر فوقف على الباب وقال: يا أسماء! ما حملك على أن منعت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يدخلن على ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعلت لها مثل هودج العروس؟ فقالت: أمرتني أن لا يدخل عليها أحد ورأيتها هذا الذي صنعت وهي حية فأمرتني أن أصنع ذلك لها، فقال أبو بكر: فاصنعي ما أمرتك، ثم غسلها علي وأسماء. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمۃ الزہراء (رض) کی وفات
٣٧٧٥٧۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ جب فاطمہ (رض) نے وفات پائی انھیں راتوں رات حضرت علی (رض) نے دفنا دیا اور نماز جنازے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو بازو سے پکڑ کر آگے کردیا۔ (رواہ البیھقی)
37760- عن الشعبي أن فاطمة لما ماتت دفنها علي ليلا وأخذ بضبعي أبي بكر فقدمه في الصلاة عليها. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات امہات المومنین (رض)
٣٧٧٥٨۔۔۔” مسند عمر “ ابن حریج ابن ابی ملیکہ وعمر (رض) کہتے ہیں حضرت خدیجہ (رض) کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں نو (٩) عورتیں جمع ہوئیں آپ (رض) ان سب کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ابن جریج کہتے ہیں : عثمان بن ابی سلیمان نے مزید دو اضافہ کیا ہے جن کا تعلق نبی عامر بن صعصعہ سے تھا ام میں سے ایک کو ام المساکین کے لقب سے پکارا جاتا تھا چونکہ یہ عورت آپ کی ازواج میں سب سے زیادہ مسکینوں کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آتی تھی بنی جون سے ایک اور عورت سے آپ نے نکاح کررکھا تھا جب کہ آپ اس کے پاس گئے اس نے آپ سے پناہ طلب کی آپ نے اسے طلاق دے دی آپ نے کندہ کی ایک اور عورت سے نکاح کیا لیکن اس سے مباشرت نہیں کرپائے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس عورت نے کسی سے شادی کرلی تھی حضرت عمر (رض) نے میاں بیوی کے درمیان تفریق کردی اور اس کے خاوند کی پٹائی کی اس پر وہ عورت بولی ! اے عمر (رض) میرے معاملہ میں رب تعالیٰ سے ڈرو اگر واقعی میں امہات المومنین میں سے ہوں پھر میرے لیے بھی حجاب کا حکم لاگوکرو اور میرے لیے بھی اپنا ہی وظیفہ اتنا ہی وظیفہ مقرر کرو جتنا امہات المومنین کے لیے مقر کررکھا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہاں تمہاری رعایت نہیں کی جاسکتی عورت بولی : پھر مجھے نکاح کرنے کی اجازت دو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں کبھی نہیں تو اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کرسکتی اور اس مسئلہ میں کسی کی بات نہیں مانوں گا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37761- "مسند عمر" أنبأنا ابن جريج قال كان ابن أبي مليكة وعمرو يقولان: اجتمع عند النبي صلى الله عليه وسلم تسع نسوة بعد خديجة ومات عنهن كلهن، قال: وزاد عثمان بن أبي سليمان امرأتين سوى التسع من بني عامر بن صعصعة كلتاهما جمع، كانت إحداهما تدعى أم المساكين، كانت خير نسائه للمساكين، ونكح امرأة من بني الجون، فلما جاءته استعاذت منه، فطلقها ونكح امرأة أخرى من كندة ولم يجمعها، فتزوجت بعد النبي صلى الله عليه وسلم، ففرق عمر بينهما وضرب زوجها، فقالت: اتق الله في يا عمر! فإن كنت من أمهات المؤمنين فاضرب علي الحجاب وأعطني مثل ما أعطيتهن، قال: أما هنالك فلا، قالت: فدعني أنكح، قال: لا ولا نعمة1 عين ولا أطيع في ذلك أحدا. "عب".
tahqiq

তাহকীক: