কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৭৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات امہات المومنین (رض)
٣٧٧٥٩۔۔۔ معمر زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مطہرات میں خدیجہ بنت خویلد عائشہ بنت ابی بکرام سلمہ بنت ابی امیہ حفصہ عمران حبیبہ بنت ابی سفیان جویریہ بنت حارث بنت حارث، زینت بنت حجش، سودہ بنت زمعہ، صفیہ بنت حیی، حضرت خدیجہ (رض) کے بعد آپ کے نکاح میں نو (٩) عورتیں رہی ہیں اور یہ عورتیں بھی آپ کے نکاح میں رہی میں کندیہ جس کا تعلق بنی جون سے تھا عالیہ بنت طبیان بنی عامر بن کلاب سے روزبنت خذیمہ بلالیہ حضرت خدیجہ (رض) کے زندہ رہتے ہوئے آپ نے کسی اور عورت سے نکاح نہیں کیا آپ کی دوباندیاں بھی تھیں قبطیہ اور ریحانہ بنت شمعون خدیجہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے یہ اولاد جنم دی۔ قاسم ، طاہر، فاطمہ، زینب، ام کلثوم اور رقبہ آپ کا ایک بیٹا ابراہیم قبطیہ سے پیدا ہوا چنانچہ خدیجہ (رض) کے سوا آپ کی اولاد کسی اور بیوی سے نہیں ہوئی (رواہ عبدالرزاق)
37762- عن معمر عن الزهري قال: أزواج النبي صلى الله عليه وسلم: خديجة بنت خويلد، وعائشة بنت أبي بكر، وأم سلمة بنت أبي أمية، وحفصة بنت عمر، وأم حبيبة بنت أبي سفيان، وجويرية بنت الحارث، وميمونة بنت الحارث، وزينب بنت جحش، وسودة بنت زمعة، وصفية بنت حيي، اجتمعن عنده تسع نسوة بعد خديجة، والكندية من بني الجون، والعالية بنت ظبيان من بني عامر بن كلاب، وزينب بنت خزيمة امرأة من بني هلال، ولم يتزوج على خديجة حتى ماتت، وكانت له سريتان القبطية وريحانة ابنة شمعون؛ وولدت خديجة للنبي صلى الله عليه وسلم القاسم وطاهرا وفاطمة وزينب وأم كلثوم ورقية، وولدت له القبطية إبراهيم، ولم تلد له امرأة من نسائه إلا خديجة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات امہات المومنین (رض)
٣٧٧٦٠۔۔۔ معمر، یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے پہلے حضرت خدیجہ (رض) سے شادی کی پھر سودہ بنت زمعہ سے پھر مکہ میں حضرت عائشہ (رض) سے نکاح کیا اور رخصتی مدینہ میں ہوئی منورہ میں ہوئی مدینہ ہی میں زینت بنت خزیمہ ہلالیہ (رض) سے نکاح کیا پھر ام سلمہ (رض) سے نکاح کیا پھر جویریہ بنت حارث سے نکاح کیا جویریہ (رض) آپ کو غنیمت میں ملی تھیں پھر میمونہ حارث (رض) سے نکاح کیا چنانچہ میمونہ (رض) نے اپنے تیئں آپ کے سپرد کردیئے تھے پھر آپ نے صفیہ بنت حیی سے نکاح کیا صفیہ (رض) آپ کو چیز سے حصہ میں ملی تھیں پھر زینت بنت جحش (رض) سے نکاح کیا ان ازواج میں سے زینت بنت خزیمہ (رض) اور خدیجہ (رض) نے آپ کی زندگی میں وفات پائی آپ نے بنی کلاب بن ربعیہ سے ایک عورت سے نکاح کیا تھا اسے عالیہ بنت ظبیان کہا جاتا تھا چنانچہ جب وہ آپ کے پاس لائی گئی آپ نے اسے طلاق دے دی تھی آپ کی ازواج یہ بھی ہیں جویریہ جن کا تعلق بنی مصطلق بن خذاعہ سے ہے حفصہ ، ام حبیبہ اور بنی کلب کی ایک عورت۔ چنانچہ جن عورتوں سے آپ نے نکاح کیا وہ چودہ (١٤) میں ان میں سے ایک کندیہ بھی (رض) ۔ (رواہ عبدالرزاق)
37763- عن معمر عن يحيى بن أبي كثير قال: أول امرأة تزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة، ثم تزوج سودة بنت زمعة، ثم نكح عائشة بمكة وبنى بها بالمدينة، ونكح بالمدينة زينب بنت خزيمة الهلالية، ثم نكح أم سلمة، ثم نكح جويرية بنت الحارث وكانت ممن أفاء الله عليه، ثم نكح ميمونة بنت الحارث وهي التي وهبت نفسها للنبي صلى الله عليه وسلم، ثم نكح صفية بنت حيي وهي مما أفاء الله عليه يوم خيبر، ثم نكح زينب بنت جحش، وتوفيت زينب بنت خزيمة عند النبي صلى الله عليه وسلم، وخديجة أيضا توفيت بمكة، ونكح امرأة من بني كلاب بن ربيعة يقال لها العالية بنت ظبيان وطلقها حين أدخلت عليه وجويرية من بني المصطلق من خزاعة وحفصة وأم حبيبة وامرأة من كلب، فكان جميع ما تزوج أربعة عشر منهن الكندية. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات امہات المومنین (رض)
٣٧٧٦١۔۔۔” مسند ابن عوف “ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی ازواج سے فرماتے سنا کہ میرے بعد تمہارے اوپر صرف وہی لوگ مہربان ہوں کے جو صابر اور صادق ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
37764- "مسند ابن عوف" عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبيه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأزواجه: لا يعطف عليكن بعدي إلا الصابرون الصادقون. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٢۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) کو جنت میں ایک گھر کے رہنے کی بشارت سنائی جو خوبصورت موتی سے بنا ہوگا اور سونے کی اس پر جڑائی ہوئی جو آگ سے مددگار ہوگا اس میں کوئی اذیت والی بات اور شور وغل نہیں سناجائیے گا۔ (رواہ ابوعبداللہ محمد بن ابراھیم الجرجانی فی امالیہ المعروفۃ بالحرجانیات ورجالد ثقات)
37765- عن علي قال: بشر رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة بنت خويلد ببيت في الجنة من قصب، مفصل من الذهب. بعيد اللهب، لا يسمع فيه أذى ولا نصب.أبو عبد الله محمد بن إبراهيم الجرجاني في أماليه المعروفة بالجرجانيات ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٣۔۔۔ ابوخالد والہی حضرت جابر بن سمرہ (رض) یا کسی اور صحابی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکریاں چرواتے تھے چنانچہ آپ نے بکریاں پہاڑی پر لے جانا چاہیں آپ نے اور آپ کے ایک شریک نے خدیجہ (رض) کی بہن سے اونٹ کرائے لے لیا جب سفر تمام ہوا تو خدیجہ (رض) کی بہن کے ذمہ کچھ کرایہ باقی بچ گیا آپ کا شریک باقی کرایہ مانگنے آتا جب کہ وہ آپ سے کہتا کرایہ لینے تم جاؤ آپ فرماتے تو خود چلاجا مجھے حیاء آتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ شریک آیا تو وہ عورت بولی : محمد کہاں ہے وہ تمہارے ساتھ کیوں نہیں آیا ؟ اس نے جواب دیا : میں نے اسے آنے کو کہا تھا مگر اس نے کہا کہ مجھے حیاء آتی ہے عورت بولی : میں نے محمد سے بڑھ کر زیادہ حیاء آپ کو اپنے پاس بلوایا تو کہا میرے والد کے پاس جاؤ اور اس سے میرے لیے پیغام نکاح دو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا باپ بڑا مالدار شخص ہے وہ ایسا نہیں کرے گا۔ خدیجہ (رض) نے کہا : جاؤتو سہی اس سے بات کرو پھر میں سارا مسئلہ حل کردوں گی اور یاد رکھو اس کے پاس اس وقت جاؤ جب وہ نشہ میں دھت بڑا ہو۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے ہی کیا اور خدیجہ (رض) کے باپ نے آپ کی شادی کرادی صبح ہوئی تو خویلد اپنے دوستوں کے ساتھ مجلس میں مل بیٹھا اسے کہا گیا شاباش بہت اچھا تم نے جو محمد کی شادی کرادی بولا : ارے کیا میں نے ایسا کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں خویلد فورا اٹھ کھڑا ہو اور حضرت خدیجہ (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : لوگوں کا کہنا ہے کہ میں نے محمد کی شادی کرادی ہے حالانکہ میں نے ایسا نہیں کیا حضرت خدیجہ (رض) بولیں : کیوں نہیں تم نے شادی کرادی بلاشبہ آپ کی رائے کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی چونکہ محمد عظیم شخصیت کا مالک ہے چنانچہ خدیجہ (رض) اپنے والد سے لگی لپٹی رہی۔ حتیٰ کہ اسے راضی کرلیا پھر خدیجہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دواوقیہ چاندی یا سونا بھیجا اور کہا : عمدہ سا جوڑا خرید کر مجھے ہدیہ کردو ایک مینڈھا خریدو اور فلاں اور فلاں چیزیں بھی خریدو چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ (رواہ الطبرانی)
37766- عن أبي خالد الوالبي عن جابر بن سمرة أو رجل من الصحابة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يرعى غنما فاستعلى الغنم فكان في الإبل هو وشريك له فاكتريا أخت خديجة، فلما قضوا السفر بقي لهم عليها شيء، فجعل شريكه يأتيهم فيتقاضاهم ويقول لمحمد: انطلق: فيقول: اذهب أنت فإني أستحي، فقالت مرة وأتاهم: فأين محمد لا يجيء معك؟ قال: قلت له فزعم أنه يستحي فقالت: ما رأيت رجلا أشد حياء ولا أعف ولا ولا فوقع في نفس أختها خديجة فبعثت إليه فقالت: ائت أبي فاخطبني إليه فقال: أبوك رجل كثير المال وهو لا يفعل، قالت: انطلق فالقه فكلمه ثم أنا أكفيك وأته عند سكره، ففعل فأتاه فزوجه، فلما أصبح جلس في المجلس فقيل له: قد أحسنت زوجت محمدا، قال: أو فعلت؟ قالوا: نعم، فقام فدخل عليها فقال: إن الناس يقولون؟ إني قد زوجت محمدا وما فعلت، قالت: بلى. فلا تسفهن رأيك فإن محمدا كذا، فلم تزل به حتى رضي، ثم بعثت إلى محمد صلى الله عليه وسلم بوقيتين من فضة أو ذهب وقالت: اشتر حلة واهدها لي وكبشا وكذا وكذا ففعل. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٤۔۔۔ “ مسند عائشہ “ ابوسلمہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک بوڑھی عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضت ہوتی تھی آپ اس سے ازحد مہربانی سے پیش آتے اور اس کا بہت احترام و اکرام کرتے میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں جیسا سلوک آپ اس بڑھیا کے ساتھ کرتے ہیں ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : یہ عورت خدیجہ (رض) کے پاس آتی تھی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ دوستی کی پاسداری رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ (رواہ البیھقی شعب الایمان)
37767- "مسند عائشة" عن أبي سلمة عن عائشة قالت: كانت عجوز تأتي النبي صلى الله عليه وسلم فيهش بها ويكرمها، فقلت: بأبي أنت وأمي! إنك لتصنع بهذه العجوز شيئا لا تصنعه بأحد؟ قال: إنها كانت تأتينا عند خديجة، أما علمت أن كرم الود من الإيمان. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٥۔۔۔” ایضا “ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک بڑھیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدمت میں حاضر ہوئی آپ نے فرمایا : تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں جثامہ مزنیہ ہوں آپ نے فرمایا : بلکہ تو حنانہ مزینہ ہے تمہارا کیا حال ہے تم کیسی ہو ہمارا کیا حال رہا اس نے کہا : یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں تم خیریت سے ہیں جب وہ چلی گئی میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے اس بڑھیا کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا ہے آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ عورت خدیجہ (رض) کے زمانہ میں ہمارے پاس آتی تھی بلاشبہ گزرے زمانے کی پاسداری ایمان کا حصہ ہے۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان وابن النجاز)
37768- "أيضا" عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت: جاءت عجوز إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: من أنت؟ قالت: جثامة المزنية، قال: بل أنت حنانة المزنية! كيف أنتم؟ كيف حالكم كيف كنتم بعدنا؟ قالت: بخير بأبي أنت وأمي يا رسول! فلما خرجت قلت: يا رسول الله! تقبل على هذه العجوز هذا الإقبال! فقال: يا عائشة! إنها كانت تأتينا زمان خديجة وإن حسن العهد من الإيمان. "هب" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٦۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آتی تھی اس کا ازحدا کرام کرتے تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون عورت ہے آپ نے فرمایا : یہ خدیجہ (رض) کے زمانہ میں ہمارے پاس آتی تھی اور گزرے زمانے کا لحاظ ایمان کا حصہ ہے (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الشذرۃ ٣٦٠ وکشف الخفاء ١١٤٦۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الشذرۃ ٣٦٠ وکشف الخفاء ١١٤٦۔
37769- عن عروة عن عائشة قالت: كانت تأتي النبي صلى الله عليه وسلم امرأة فيكرمها فقلت: يا رسول الله! من هذه؟ قال: هذه كانت تأتينا زمان خديجة وإن حسن العهد من الإيمان. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٧۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ جبرائیل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : یہ خدیجہ (رض) ہے آپ کے پاس آتی ہے اور اس کے پاس برتن میں سالن ہے یا طعام ہے یامشروب ہے جو آپ کے پاس آجائے اسے اپنے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا نیز اسے جنت میں اعلیٰ قسم کے گھر کی خوشخبری سناؤ جو خوبصورت موتی ہے بنا ہے اس میں نہ شور ہوگا نہ کوئی مشقت والی بات ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)
37770- عن أبي هريرة قال: أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: هذه خديجة قد أتتك معها إناء فيه إدام أو طعام أو شراب فإذا هي أتتك فأقرأ عليها السلام من ربها ومني وبشرها ببيت في الجنة من قصب، لا صخب فيه ولا نصب. "ش، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٨۔۔۔ مسند عبداللہ بن ابی اوفی “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری سنائی جو موتی سے بنا ہے اس میں شور ہوگا اور نہ ہی کوئی مشقت ہوگی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37771- "مسند عبد الله بن أبي أوفى" بشر رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة ببيت في الجنة من قصب، لا صخب فيه ولا نصب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٦٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں : میں نے خدیجہ (رض) کبھی نہیں دیکھیں مجھے کبھی کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی کہ خدیجہ (رض) پر آئی چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے خدیجہ (رض) کا ذکر کرتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37772- عن عائشة قالت: ما رأيت خديجة قط وما غرت على امرأة قط أشد من غيرتي على خديجة من كثرة ما كان يذكرها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٧٠۔۔۔ عروہ کہتے ہیں خدیجہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت مدینہ سے لگ بھگ تین سال قبل وفات پائی اور عائشہ (رض) سے خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد عنقریب ہی شادی کرلی تھی خدیجہ (رض) کے ہوتے ہوئے آپ نے کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37773- عن عروة قال: توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة بثلاث سنين أو نحو ذلك وتزوج عائشة قريبا من موت خديجة، ولم يتزوج على خديجة حتى ماتت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل ازواج مطہرات مفصلہ ام المومنین حضرت خدیجہ (رض)
٣٧٧٧١۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ ہمیں حدیث پہنچی ہے حضرت خدیجہ (رض) بنت خویلد زوجہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ اور اس کے رسول پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور نماز فرض ہونے سے قبل وفات پاگئیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37774- عن ابن شهاب قال بلغنا أن خديجة بنت خويلد زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت أول من آمن بالله ورسوله، وماتت قبل أن تفرض الصلاة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میری سہیلیوں کی ضرور کوئی کنیت ہے۔ (میری بھی کوئی کنیت ہونی چاہیے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کے نام پر اپنی کنیت رکھو چنانچہ حضرت عائشہ (رض) ام عبداللہ اپنی کنیت کرتی تھیں۔ (رواہ البزاز)
37775- عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله! إن لجميع صويحباتي كنى، فقالت: تكني باسم ابنك عبد الله بن الزبير، فكانت تكنى عائشة بأم عبد الله. "ز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سیاہ رنگ کی اونٹنی عطا کی گویا وہ کوئلہ لگ رہی تھی اس پر سواری کرنا مشکل تھی اور نکیل نہیں ڈالنے دیتی تھی آپ نے اونٹنی پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا فرمائی پھر آپ نے فرمایا : سوار ہوجاؤ اور نرمی سے پیش آؤ چونکہ جس چیز سے نرمی کی جاتی ہے وہ مزین ہوجاتی ہے اور جس چیز سے نرمی کشید کرلی جاتی ہے عیب دار ہوجاتی ہے۔ (رواہ عبدالنجار)
37776- عن عائشة قالت: أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ناقة سوداء كأنها فحمة صعبة لم تخطم، فمسها ودعا عليها بالبركة ثم قال: اركبي وارفقي بها فإنه لم يجعل الرفق في شيء إلا زانه، ولم ينزع من شيء إلا شانه. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے شادی کی۔ میری چھ سال عمر تھی جب میری رخصتی ہوئی اس وقت میری عمر نوسال تھی۔ (رواہ سعید بن المنصور)
37777- عن عائشة قالت: تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا ابنة ست سنين، وبنى1 بي وأنا ابنة تسع سنين. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٥۔۔۔” مسند عمر “ مصعب بن سعد کی روایت ہے کی حضرت عمر بن خطاب (رض) نے امہات المومنین کا وظیفہ دس ہزار (١٠٠٠٠) درہم مقرر کیا جب کہ حضرت عائشہ (رض) کے وظیفہ میں ٢٠٠٠(دو ہزار) کا اضافہ کیا اور فرمایا : عائشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبوب بیوی ہے۔ (رواہ الخرائطی فی اعتال القلوب)
37778- "مسند عمر" عن مصعب بن سعد قال: فرض عمر بن الخطاب لأمهات المؤمنين عشرة آلاف وزاد عائشة ألفين وقال: إنها حبيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم."الخرائطي في اعتلال القلوب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٦۔۔۔” مسند عمار “ عمار (رض) رحمۃ علیہ کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) زوجہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت میں ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37779- "مسند عمار" إن عائشة زوجة النبي صلى الله عليه وسلم في الجنة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٧۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں ہماری ماں عائشہ (رض) اپنی راہ پر گامزن رہیں ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا و آخرت میں بیوی ہیں لیکن ہماری ماں عائشہ (رض) اپنی راہ پر گامزن رہیں ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا و آخرت میں بیوی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ آیا ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں یا عائشہ کی۔ (رواہ ابویعلی وابن ابی عساکر)
37780- عن عمار بن ياسر قال: لقد سارت أمنا عائشة مسيرها وإنا لنعلم أنها زوجة النبي صلى الله عليه وسلم في الدنيا والآخرة ولكن الله ابتلانا بها ليعلم إياه نطيع أو إياها. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٨۔۔۔ عمر وبن غالب کی روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے ایک شخص کو حضرت عائشہ (رض) کی شان میں گستاخی کرتے سنا عمار (رض) نے فرمایا : اے بدصورت کتے خاموش رہ میں گواہی دیتا ہوں کہ عائشہ (رض) جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ہوں گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37781- عن عمرو بن غالب قال: سمع عمار بن ياسر رجلا ينال من عائشة فقال له: اسكت مقبوحا منبوحا! فأشهد أنها زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنة. "كر".
তাহকীক: