কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৭৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٧٩۔۔۔” مسند عائشہ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے سات خصلتوں سے نوازا ہے جو کسی کو بھی نہیں عطا ہوئیں۔ البتہ کچھ کچھ مریم بنت عمران کو عطا فرمائی ہیں۔ بخدا میں نہیں کہتی کہ مجھے اپنی سوتنوں پر فخ رہے چنانچہ میری صورت میں فرشتہ نازل ہوتا رہا ہے میری سات سال کی عمر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے شادی کی اور نو (٩) سال کی عمر میں مجھے زفاف کے لیے ان کے پاس پہنچا دیا کیا میں کنواری تھی آپ سے پہلے مجھ سے کسی نے شادی نہیں کی آپ کے پاس وحی آتی تھی جب کہ میں اور آپ ایک لحاف میں ہوتے تھے میں آپ کو ازواج میں سب سے زیادہ محبوب تھی اللہ تعالیٰ نے میرے متعلق قرآن میں آیات نازل فرمائیں قریب تھا کہ امت ہلاکت تک پہنچ جاتی میں نے جبرائیل امین کو دیکھا ہے حالانکہ آپ کی بیویوں میں سے کسی اور نے جبرائیل امین کو نہیں دیکھا۔ اور میرے گھر میں آپ کی روح قبض کی گئی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37782- "مسند عائشة" خلال في سبع لم تكن في أحد من الناس إلا ما آتى الله مريم بنت عمران، والله! ما أقول إني افتخر على صواحبي: نزل الملك بصورتي، وتزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم لسبع سنين وأهديت إليه لتسع سنين، وتزوجني بكرا لم يشركه في أحد من الناس، وأتاه الوحي وأنا وإياه في لحاف واحد، وكنت من أحب النساء إليه، ونزل في آيات من القرآن كادت الأمة تهلك فيهن، ورأيت جبريل ولم يره أحد من نسائه غيري، وقبض في بيتي لم يله أحد غيري أنا والملك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٨٠۔۔۔” ایضا “ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں ایک مرتبہ رسول مقبول (رض) حجرہ تشریف فرما تھے اتنے میں گھوڑے ہر سوار ایک شخص اندر داخل ہو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور گھوڑے کی بال اگنے کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر اس سے باتیں کرنے لگے پھر آپ واپس لوٹ آئے ہیں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ کون شخص تھا جس سے آپ سرگوشی کررہے تھے ؟ فرمایا : کیا تم نے کسی کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ میں نے گھوڑے پر سوار ایک شخص دیکھا آپ نے فرمایا : اس کی شکل کس سے ملتی جلتی تھی میں نے عرض کیا : وہ دحیہ کلبی کے مشابہ تھا فرمایا : وہ جبرائیل امین تھے تم نے بھلائی دیکھی ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد جبرائیل امین تشریف لائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرہ میں تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں حاضر ہوں فرمایا : یہ جبرائیل ہیں انھوں نے مجھے کہا ہے کہ میں ان کی طرف سے تمہیں سلام پہنچاؤں میں نے عرض کیا میری طرف سے بھی انھیں سلام کا جواب دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بسا اوقات وحی نازل ہوتی جب کہ میں اور آپ ایک ہی لحاف میں ہوتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37783- "أيضا" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في البيت إذ دخل الحجرة علينا رجل على فرس، فقام إليه النبي صلى الله عليه وسلم، فوضع يده على معرفة1 الفرس فجعل يكلمه، ثم رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول! من هذا الذي كنت تناجي؟ قال: وهل رأيت أحدا؟ قلت: نعم، رأيت رجلا على فرس، قال: بمن شبهتيه؟ قلت: بدحية الكلبي، قال: ذاك جبريل قد رأيت خيرا ثم لبثت ما شاء الله أن ألبث فدخل جبريل ورسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عائشة! قلت: لبيك وسعديك يا رسول الله! قال: هذا جبريل وقد أمرني أن أقرئك منه السلام، قلت: ارجع إليه مني السلام ورحمة الله وبركاته، جزاك الله من خيل خيرا ما يجري الدخلاء! وكان ينزل الوحي على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا وهو في لحاف واحد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٨١۔۔۔” ایضا “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے گھر میں اور میری گود میں وفات پائی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37784- "أيضا" توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي بين سحري ونحري. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٨٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ان کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑا ہوا حضرت عائشہ (رض) نے حضرت ابوبکر کے پاس فیصلہ لایا حضرت عائشہ (رض) نے کہا تھا : یا رسول اللہ ! خرچہ میں میانہ روی سے کام میں سماعت پر حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو تھپڑمارا اور فرمایا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) س کہتی ہو کہ میانہ روی کرو چنانچہ حضرت عائشہ (رض) کی ناک سے خون پھوٹ پڑا اور کپڑوں پر بہنے لگا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے حضرت عائشہ (رض) کے کپڑوں سے خون دھونے لگے اور فرما رہے تھے ہم تو یہ نہیں چاہتے تھے ہم تو یہ نہیں چاہتے تھے۔ (رواہ الدیلمی)
37785- عن عائشة أنها خاصمت النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر فقالت: يا رسول الله! اقصد، فلطم أبو بكر خدها وقال: تقولين لرسول الله صلى الله عليه وسلم: اقصد! وجعل الدم يسيل من أنفها على ثيابها ورسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل الدم من ثيابها بيده ويقول: إنا لم نرد هذا، إنا لم نرد هذا. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٨٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب میری رخصتی کا وقت ہوا میری والدہ نے مجھے موٹی کرنے کے لیے کچھ کھلانا چاہا لیکن میں نے کوئی چیز قبول نہ کی حتیٰ کہ مجھے لکڑیاں اور تازہ کھجوریں کھلانے لگی چنانچہ میں اچھی طرح موٹی ہوگئی۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
37786- عن عائشة: أرادت أمي تسمنني لدخولي على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أقبل منها بشيء مما تريد حتى أطعمتني القثاء والرطب، فسمنت عليه كأحسن السمن. "هب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ (رض)
٣٧٧٨٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت افا ات کیے ہیں من جملہ ان سے یہ بھی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حجرہ میں اور میری گود میں وفات پائی کہ اللہ تعالیٰ نے میرا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب جمع فرمایا : چنانچہ عبدالرحمن بن ابی بکر میرے پاس آیا اس کے ہاتھ میں مسواک تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف دیکھنے لگے میں نے عبدالرحمن سے کہا مسواک مجھے دوعبدالرحمن (رض) نے مسواک توڑ کر مجھے تھما دی میں نے اپنے منہ میں مسواک چپائی اور جب نرم ہوگئی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دے دی آپ مسواک کرنے لگے آپ مسواک اوپر اٹھاتے ہاتھ نہ پہنچ پاتا اور آپ کی آنکھوں میں ٹکٹکی بندھ گئی اور آپ نے فرمایا : یا اللہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملالے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37787- عن عائشة قالت: إن من نعم الله علي أن الله تبارك وتعالى أمات رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي وفي يومي وبين سحري ونحري، وأن الله جمع بين ريقي وريقه، دخل علي عبد الرحمن بن أبي بكر ومعه سواك يستن به، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينظر إليه، فقلت: يا عبد الرحمن! السواك ناولنيه فقضمه ثم ناولنيه، فمضغته حتى إذا لان ناولته النبي صلى الله عليه وسلم فاستن به فذهب يرفعه فلم تصل إليه يده وشخص بصره وقال: اللهم! ألحقني بالرفيق الأعلى. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت حفصہ (رض)
٣٧٧٨٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ حفصہ بنت عمر (رض) کے شوہر حنیس بن خذافہ سہمی (رض) جو کہ صحابی رسول میں فوت ہوگئے اور حضرت حفصہ (رض) بیوہ ہوگئی تو میں نے اس کا نکاح کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنی (رض) سے بات کی انھوں نے کہا مجھے کچھ سوچ بچار کی مہلت دو سو چند دن کے بعد حضرت عثمان (رض) ملے اور کہا آج کل میں نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے بعد ابوبکر (رض) سے میری ملاقات ہوئی اور اس سے بات کی انھوں نے خاموش اختیار کرلی اور کچھ جواب نہ دیا مجھے ابوبکر (رض) پر عثمان (رض) عنی غنی (رض) سے زیادہ غصہ آیا کچھ دنوں کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) کے لیے پیغام نکاح بھیجا اور پھر نکاح کرلیا اس کے بعد ابوبکر (رض) مجھ سے ملے اور کہا : جب تم نے مجھ سے حفصہ (رض) کی بات کی اور میں نے کچھ جواب نہیں دیا تھا شاید تمہیں مجھ پر زیادہ غصہ آیا ہے میں نے کہا : جی ہاں ابوبکر (رض) بولے : جواب دینے سے مجھے جو چیز قانع تھی وہ اصل میں یہ تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ (رض) کا تذکرہ کررہے تھے اور مجھے آپ کے اس رجحان کا علم تھا لہٰذا میں نے ان کے اس راز کو افشاء کرنا مناسب نہ سمجھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ارادہ ترک کردیتے ہیں حفصہ (رض) سے ضرور نکاح کرلیتا۔ (رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل والبخاری والنسائی والبیہقی وابویعلی وابن حباب اور ابن حبان میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عثمان (رض) کی شکایت کی آپ نے فرمایا : حفصہ (رض) کی شادی عثمان سے بہتر شخص سے کرادی جائے گی اور عثمان کی شادی حفصہ (رض) کی شکایت کی آپ نے فرمایا : حفصہ (رض) کی شادی عثمان سے بہتر شخص سے کرادی جائے گی اور عثمان کی شادی حفصہ (رض) سے بہتر عورت سے کرائی جائے گی چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت عثمان (رض) سے کرائی) ۔
37788- عن عمر قال: تأيمت حفصة من خنيس بن حذافة وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا فتوفي بالمدينة فلقيت عثمان بن عفان فعرضت عليه حفصة فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة، قال سأنظر في ذلك، فلبثت ليالي فقال: ما أريد أن أتزوج يومي هذا، فلقيت أبا بكر فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة فلم يرجع إلي شيئا، فكنت أوجد عليه مني على عثمان فلبثت ليالي، فخطبها إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنكحتها إياه، فلقيني أبو بكر فقال: لعلك وجدت علي عرضت علي حفصة فلم أرجع إليك شيئا! قلت: نعم، قال: فإنه لم يمنعني أن أرجع إليك شيئا حين عرضتها علي إلا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرها ولم أكن أفشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو تركها لنكحتها."ابن سعد، حم، خ، ن، ق، ع، حب وزاد قال عمر: فشكوت عثمان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تزوج حفصة خيرا من عثمان ويزوج عثمان خيرا من حفصة؛ فزوجه النبي صلى الله عليه وسلم ابنته.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت حفصہ (رض)
٣٧٧٨٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حفصہ (رض) کی ولادت نبوت سے پانچ سال قبل ہوئی جب کہ قریش بیت اللہ کی تعمیر کررہے تھے۔ (رواہ ابن سعد ٥٨٨)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں واقدی ہے۔
37789- عن عمر قال: ولدت حفصة وقريش تبني البيت قبل مبعث النبي صلى الله عليه وسلم بخمس سنين."ابن سعد 8/58 وفيه الواقدي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت حفصہ (رض)
٣٧٧٨٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب حنیس بن حذافہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے حفصہ (رض) کے لیے عثمان غنی (رض) کو پیش کش انھوں نے اعراض کردیا میں نے یہ قصہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدمت میں عرض کیا : کہ عثمان پر بڑا تعجب اور افسوس ہے کہ میں نے انھیں حفصہ (رض) کی پیشکش کی لیکن انھوں نے انکار کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عثمان کا نکاح ایسی عورت سے کرادیا تمہاری بیٹی سے بہتر ہے اور تمہاری بیٹی کا نکاح ایسے شخص سے کرادیا جو عثمان سے بہتر ہے چنانچ حفصہ (رض) سے خودرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شادی کی اور اپنی بیٹی ام کلثوم (رض) سے عثمان (رض) کی شادی کرادی۔ (رواہ ابن سعد)
37790- عن عمر قال: لما توفي خنيس بن حذافة عرضت حفصة على عثمان فأعرض عني. فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ألا تعجب من عثمان فإني عرضت عليه حفصة فأعرض عني! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد زوج الله عثمان خيرا من ابنتك وزوج ابنتك خيرا من عثمان، فتزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، وزوج أم كلثوم من عثمان."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض)
٣٧٧٨٨۔۔۔” مسند عمر (رض) ” ابو وائل کی روایت ہے کہ ایک شخص کا ام سلمہ (رض) پر کوئی حق تھا اس نے اس پر قسم کھالی حضرت عمر (رض) نے سے تیس (٣٠) کوڑے لگائے جسم پر کوڑوں کا تشرواضح تھا اور یہ کوڑے رائیگاں سمجھے گئے۔ (رواہ ابوعبید فی الغریب و سفیان بن عینینۃ فی حدیثہ والاکلانی)
37791- "مسند عمر" عن أبي وائل أن رجلا كان له حق على أم سلمة فأقسم عليها، فضربه عمر ثلاثين سوطا كلها تبضع وتحدر."أبو عبيد في الغريب وسفيان بن عيينة في حديثه واللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض)
٣٧٧٨٩۔۔۔ عبدالملک بن حارث بن ہشام مخزومی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ (رض) سے شوال میں نکاح کیا اور شوال ہی میں رخصتی عمل میں آئی۔ (رواہ ابونعیم)
37792- عن عبد الملك بن الحارث بن هشام المخزومي عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج أم سلمة في شوال وجمعها إليه في شوال."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض)
٣٧٧٩٠۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انھوں نے اہل مدینہ کو خبر کی کہ میں ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہوں لوگوں نے انھیں جھٹلادیا حتیٰ کہ لوگ حج کی تیاری میں مصروف ہوگئے اور لوگوں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے کہا اپنے گھر والوں کو خط لکھو چنانچہ ام سلمہ (رض) نے خط لکھ بھیجا جب لوگ مدینہ واپس آئے تو ام سلمہ (رض) کی تصدیق کردی اور ان کا زیادہ احترام و اکرام کرنے لگے ام سلمہ (رض) کہتی ہیں جب میں نے زینب کو جنم دیا میرے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے اور مجھے پیغام نکاح دیا میں نے عرض کیا : مجھ جیسی عورت سے نکاح کیا جائے گا ؟ سو فی الحال نکاح کرنے کا میرا ارادہ نہیں ہے میں عیالدار عورت ہوں اور میں ہوں بھی غیرت مند عورت۔ آپ نے فرمایا : میں تجھ سے بڑا ہوں۔ رہی اس قسم کی غیرت سوا اللہ تعالیٰ اسے ختم کردے گا رہی بات عیال کی وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمی (رض) سے شادی کرلی اور آپ نے ام سلمہ (رض) کے پاس آنا شروع کردیا اور فرماتے زینب (رض) کہاں ہے ؟ حتیٰ کہ عمار (رض) آئے اور بولے : یہ لڑکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے چونکہ ام سلمہ (رض) اسے دودھ پلاتی تھیں۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور پوچھا : زینب (رض) کہاں ہے ؟ ام سلمہ (رض) نے کہا : میں نے اسے بنت ابی امیہ کے پاس بھیج دیا ہے اور ابن یاسر نے اسے لے لیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میں نے چکی کے نیچے چمڑہ بچھایا اور کچھ جو پیسے جو میرے تھیلے میں پڑے ہوئے تھے کچھ چربی لی اور اس سے کھانا تیار کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے یہاں رات بسر کی جب صبح ہوئی آپ نے فرمایا : بلاشبہ تمہاری تمہارے خاندان والوں کے ہاں عزت و احترام ہے اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن بسر کروں اور پھر دوسری بیویوں کے ہاں بھی سات دن بسر کروں گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37793- عن أم سلمة أنها لما قدمت المدينة أخبرتهم أنها ابنة أبي أمية بن المغيرة فكذبوها حتى أنشأ أناس منهم الحج فقالوا: تكتبين إلى أهلك فكتبت معهم، فرجعوا إلى المدينة يصدقونها فازدادت عليهم كرامة، قالت: فلما وضعت زينب جاءني النبي صلى الله عليه وسلم فخطبني فقلت: مثلي تنكح؟ أما أنا فلا، ولد في وأنا غيور ذات عيال، قال: أنا أكبر منك، وأما الغيرة فيذهبها الله، وأما العيال فإلى الله وإلى رسوله، فتزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يأتيها فيقول: أين زناب؟ حتى جاء عمار فاختلجها فقال: هذه تمنع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت ترضعها، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أين زناب؟ فقالت قريبة بنت أبي أمية وافقتها عندها: أخذها ابن ياسر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إني آتيكم الليلة، فوضعت ثفالى1 فأجت حبات من شعير كانت في جرتي وأخرجت شحما فعصدت له، فبات ثم أصبح فقال حين أصبح: إن لك على أهلك كرامة! إن شئت سبعت لك، وإن أسبع لك أسبع لنسائي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩١۔۔۔ عبدالرحمن بن ابزی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے زینب بنت جحش کے جنازہ پرچار تکبیریں کہیں پھر ازاوج مطہرات کی طرف پیغام بھیجا کہ زینب (رض) کو کون قبر میں داخل کرے ؟ ازواج نے جواب دیا : زینب کو وہی شخص قبر میں داخل کرے جو ان کی زندگی میں ان کے پاس زیادہ سے زیادہ حاضر ہوتا تھا پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے تھے تم میں سے سب سے پہلے وہ میرے پاس آئے گی جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے چنانچہ ازواج مطہرات اپنے ہاتھ ایک دوسرے سے ملاتی کس کا زیادہ لمبا ہے حالانکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ زینب اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خیرات کرنے والی تھی۔ (رواہ البزروابن مندہ فی غرائب شعبۃ)
37794- عن عبد الرحمن بن أبزى أن عمر كبر على زينب بنت جحش أربعا ثم أرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه وسلم من يدخل هذه قبرها؟ فقلن: من كان يدخل عليها في حياتها، ثم قال عمر: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أسرعكن بي لحوقا أطولكن يدا، فكن يتطاولن أيديهن، وإنما كان ذلك لأنها كانت صناعا تعين بما تصنع في سبيل الله."البزار وابن منده في غرائب شعبة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٢۔۔۔ نافع وغیرہ کی روایت ہے کہ پہلے مردوزن برابر جنازے پر حاضر ہوتے تھے جب زینب بنت جحش (رض) نے وفات پائی حضرت عمر (رض) نے منادی سے اعلان کرایا کہ زینب (رض) کے جنازہ پر صرف ان کا محرم ہی حاضر ہو چنانچہ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) نے کہا : اے امیر المومنین ! میں آپ کو ایک چیز دکھاتی ہوں جو میں نے حبشیوں کو اپنی عورتوں کے لیے کرتے دیکھا ہے چنانچہ (کمس وغیرہ سے) نعش بنائی اور اس پر کپڑا ڈال کرا سے ڈھانپ دیا جب حضرت عمر (رض) نے اس کی طرف دیکھا فرمایا : یہ تو بہت اچھی چیز ہے اور اس سے ستر بھی زیادہ ہوجاتا ہے پھر آپ نے منادی کا حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کرو کہ اپنی ماں کے جنازہ میں شریک ہوجاؤ۔ (رواہ ابن سعد)
37795- عن نافع وغيره أن الرجال والنساء كانوا يخرجون بهم سواء، فلما ماتت زينب بنت جحش أمر عمر مناديا ينادي: ألا! لا يخرج على زينب إلا ذو محرم من أهلها، فقالت ابنة عميس: يا أمير المؤمنين! ألا أريك شيئا رأيت الحبشة تصنعه لنسائكا فجعلت نعشا وغشته ثوبا، فلما نظر إليه قال: ما أحسن هذا! ما أستر هذا! فأمر مناديا فنادى أن اخرجوا على أمكم. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٣۔۔۔ عمرہ بنت عبدالرحمن کی روایت ہے کہ جب زینت بنت جحش (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو حضرت عمر (رض) نے بیت المال سے پانچ قسم کے کپڑے ان کے پاس بھیجے اور فرمایا جونسا چاہیں پسند فرمائیں ۔ (رواہ ابن سعد)
37796- عن عمرة بنت عبد الرحمن قالت: لما حضرت زينب بنت جحش أرسل عمر بن الخطاب إليها بخمسة أثواب من الخزائن تتخيرها ثوبا ثوبا."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٣۔۔۔ قاسم بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ جب ان کا جنازہ قبر کے پاس لایا گیا حضرت عمر (رض) قبر کے پاس کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا جب یہ بیمار ہوئی تو میں نے ازواج مطہرات کے پاس پیغام بھجوایا کہ کون ان کی تیمارداری کرے گا ؟ ازواج مطہرات نے کہا : ہم کریں گی میرے خیال میں انھوں نے تیمارداری کا حق ادا کردیا پھر جب ان کی وفات ہوگئی تو میں ازواج مطہرات کے پاس پیغام بھیجا کہ کون ان کی تجہیز وتکفین کرے گا ؟ انھوں نے کہا : ہم کریں گے یقیناً انھوں نے حق ادا کیا ہوگا پھر میں نے پیغام بھیجوایا کون ان کو قبر میں اتارے گا انھوں نے کہا : جس کو ان کے پاس کی زندگی میں آنا جانا حلال تھا میرا خیال ہے کہ اس میں بھی انھوں نے سچ اور حق کہا ہے لہٰذا ! اے لوگو ! تم سب یہاں سے ہٹ جاؤ پھر آپ نے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور زینب (رض) کے گھر والوں میں سے دو شخص انھیں قبر میں اتارنے کیلئے اترے (رواہ ابن سعد)
37797- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: لما توفيت زينب بنت جحش وكانت أول نساء النبي صلى الله عليه وسلم لحوقا به فلما حملت إلى قبرها قام عمر إلى قبرها فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إني أرسلت إلى النسوة - يعني أزواج النبي صلى الله عليه وسلم - حين مرضت هذه المرأة أن من يمرضها ويقوم عليها؟ فأرسلن: نحن، فرأيت أن قد صدقن، ثم أرسلت إليهن حين قبضت: من يغسلها ويحنطها ويكفنها؟ فأرسلن: نحن، فرأيت أن قد صدقن، ثم أرسلت إليهن: من يدخلها قبرها؟ فأرسلن: من كان يحل له الولوج عليها في حياتها فرأيت أن صدقن، فاعتزلوا أيها الناس! فنحاهم عن قبرها ثم أخلها رجلان من أهل بيتها."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٤۔۔۔ عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے زینب بنت جحش (رض) کے جنازہ پر چار تکبریں کہیں پھر جب قبر میں اتارنے کا مرحلہ آیا تو ازواج مطہرات کی طرف پیغام بھجوایا انھوں نے کہا : آپ کے لیے ان کو قبر میں اتارنا حلال نہیں ہے ان کو قبر وہی شخص اتارے کا جس کو ان کی زندگی میں ان کی طرف دیکھنا حلال تھا۔ (رواہ ابن سعد
37798- عن عبد الرحمن بن أبزي قال: صلى عمر على زينب بنت جحش فكبر عليها أربع تكبيرات قال أراد عمر أن يدخل قبر زينب بنت جحش فأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فقلن: إنه لا يحل لك أن تدخل القبر، وإنما يدخل القبر من كان يحل له أن ينظر إليها وهي حية."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٦۔۔۔ محمد بن منکدر سے مردی ہے کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) قبرستان سے گزرے تو کچھ لوگ زینب بنت جحش (رض) کی قبر کھود رہے تھے دن انتہائی گرم تھا آپ نے لوگوں کو دیکھ کر فرمایا : کاش میں ان پر خیمہ نصب کرادیتا پھر آپ نے ان پر خیمہ نصب کرادیا اور قبر پر نصب کیا جانے والا یہ پہلا خیمہ تھا۔ (رواہ ابن سعد)
37799- عن محمد بن المنكدر قال: مر عمر بن الخطاب في المقبرة وأناس يحفرون لزينب بنت جحش في يوم حار فقال: لو أني ضربت عليهم فسطاطا! فضرب عليهم فسطاطا، فكان أول فسطاط ضرب على قبر."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٧۔۔۔ ثعلبہ بن ابی مالک سے مروی ہے کہ میں نے عثمان (رض) کے دور خلافت میں جس دن حکم بن ابی العاص فوت ہوئے تو ان کی قبر پر خیمہ نصب دیکھا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : لوگوں نے برائی کی طرف کس قدر جلدی کی ہے اور ایک دوسرے کی نقل کرنے لگے ہیں میں تم حاضرین سے اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت زینب بنت جحش کی قبرپر خیمہ نصب کیا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا جی ہاں ہمیں معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا تم نے اس پر کسی کو اعتراض کرتے سنا تھا ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ (رواہ ابن سعد)
37800- عن ثعلبة بن أبي مالك قال: رأيت يوم مات الحكم بن أبي العاص في خلافة عثمان: ما أسرع الناس إلى الشر وأشبه بعضهم ببعض! أنشد الله من حضر نشدتي: هل علمتم عمر بن الخطاب ضرب على قبر زينب بنت جحش فسطاطا؟ قالوا: نعم، قال: فهل سمعتم عائبا عابه؟ قالوا: لا."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٨۔۔۔ عبداللہ بن ابی سلیط سے مروی ہے کہ میں نے ابواحمد بن جحش کو دیکھا کہ وہ حضرت زینب بنت جحش کی چارہائی کو اٹھائی ہوئے ہیں اور وہ رورہا ہے اور لوگوں کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس سے فرمایا : اے ابواحمد ! چارپائی سے ہٹ جاؤ اور لوگوں کے لیے رکاوٹ نہ بنو لوگوں نے چارپائی پر بھیڑ کرلی تھی ابواحمد نے کہا : اے عمر، یہ وہ خاتون ہے کہ جس کے ذریعہ ہم نے خیر پائی ہے لہٰذا جس قدر مجھ سے ہوسکے گا ا میں اس عمل سے اپنی گرمی کو ٹھنڈک پہچاؤں گا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37801- عن عبد الله بن أبي سليط قال: رأيت أبا أحمد بن جحش يحمل سرير زينب بنت جحش وهو مكفوف وهو يبكي فأسمع عمر وهو يقول: يا أبا أحمد! تنح عن السرير، لا يغشينك الناس - وازدحموا على سريرها، فقال: أبو أحمد: يا عمر! هذه التي نلنا بها كل خير، وإن هذا يبرد حر ما أجد، فقال عمر: الزم الزم."ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক: