কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৮১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٧٩٩۔۔۔ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت زینب بنت جحش پر ٢٠ ھ میں ایک گرم دن میں نماز جنازہ پڑھی میں نے دیکھا کہ ایک کپڑا ان کی قبر پر تان دیا گیا ہے حضرت عمر (رض) قبر کے کا کنارے بیٹھے ہوئے ہیں اور ابواحمد نابینا بھی ان کے ساتھ ہیں دفن کے وقت حضرت بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ دے کر اکابر صحابہ بھی کھڑے ہوئے اور عمر بن محمد بن عبداللہ بن جحش اسامہ و عبداللہ انباابی احمد بن جحش اور محمد بن طلحہ بن عبداللہ جو ان کی بہن حمنہ بنت جحش کے لڑکے ہیں ان سب نبے زنیب بنت جحش (رض) کو قبر میں اتارا۔ (رواہ ابن سعد)
37802- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: رأيت عمر بن الخطاب صلى على زينب بنت جحش سنة عشرين في يوم صائف ورأيت ثوبا مد على قبرها وعمر جالس على شفير القبر معه أبو أحمد ذاهب البصر جالس على شفير القبر وعمر بن الخطاب قائم على رجليه والأكابر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قيام على أرجلهم فأمر عمر محمد بن عبد الله بن جحش وأسامة ومحمد بن طلحة بن عبيد الله وهو ابن أختها حمنة ابنة جحش وعبد الله بن أبي أحمد بن جرش، فنزلوا في قبرها."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٨٠٠۔۔۔ واثلہ کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اے فاطمہ (رض) ! سب سے پہلے میرے گھر والوں میں سے میرے ساتھ تو لاحق ہوگی اور میری ازواج میں میرے ساتھ سب سے پہلے زینب لاحق ہوگی اور وہ ہاتھوں میں سب سے لمبی ہے چنانچہ زینب (رض) جوتا گانٹھ ڈال لیتی تھیں مشکیزہ درست کرلیتی تھی مشکیزے اٹھاتی تھیں اور اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتی تھیں اسی لیے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سب سے لمبی ہتھلی والی کہا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37803- عن واثلة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أول من يلحقني من أهلي أنت يافاطمة! وأول من يلحقني من أزواجي زينب وهي أطولكن كفا، وكانت زينب من أعمل الناس لقبال أو شسع أو قربة أو إداوة وتفتل وتحمل وتعطي في سبيل الله، فلذلك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أطولكن كفا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش (رض)
٣٧٨٠١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت زینت (رض) ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میری شادی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود اللہ تعالیٰ نے کرائی ہے لوگوں نے نہیں کرائی آپ نے روٹی اور گوشت سے میرا ولیمہ کیا ہے اور اصحاب کے متعلق آیات میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37804- عن أنس قال: كانت زينب تفخر على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: زوجني الله من رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس الناس، وأولم علي خبزا ولحما، وفي أنزلت آية الحجاب."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض)
٣٧٨٠٢۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صفیہ (رض) لائی گئیں آپ کے سامنے دو شخص بھی لائے گئے ان میں سے ایک صفیہ (رض) کا خاوند تھا اور دوسرا بھائی تھا الخ چنانچہ شب زفاف کو حضرت ابوایوب (رض) نے آپ کے خیمہ کے اردگرد چکرلگاتے ہوئے رات گزاری جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قدموں کی چاپ سنی ، فرمایا : یہ کون ہے ؟ جواب دیا : میں خالد بن زید ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس آئے اور فرمایا : یہاں کیسے آنا ہوا ؟ عرض کیا : میں رات بھر سویا نہیں ہوں مجھے خوف تھا کہیں اس عورت کی وجہ سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے آپ نے ابوایوب (رض) کو واپس چلے جانے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37805- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي بصفية يوم خيبر وأتي برجلين أحدهما زوجها والآخر أخوها - فذكر الحديث، وبات أبو أيوب ليلة عرس رسول الله صلى الله عليه وسلم يدور حول خباء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم الوطء قال: من هذا؟ قال: أنا خالد بن زيد، فرجع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك؟ قال: ما نمت الليلة مخافة هذه الجارية عليك، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجع. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض)
٣٧٨٠٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیہ (رض) سے کچھ ناراض سے ہوگئے صفیہ (رض) نے کہا : اے عائشہ (رض) ! کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راضی کرسکتی ہو اس کے صلہ میں میں اپنی باری کا دن تمہارے نام کردوں گی ؟ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : جی ہاں : جی ہاں پھر حضرت عائشہ (رض) نے زعفران میں رنگی ہوئی چادرلی اور اسے خوشبو سے معطر کیا پھر آکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں بیٹھ گئیں آپ نے فرمایا : اے عائشہ (رض) اپنی باری کا انتظار کرو آج تمہاری باری کا دن نہیں حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے پھر عائشہ (رض) نے ماجرا سنایا اور آپ صفیہ (رض) سے رضا مند ہوگئے۔ (رواہ ابن النجاز)
37806- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم وجد على صفية فقالت: يا عائشة! هل لك أن ترضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولك يومي؟ قالت: نعم، فأخذت خمارا لها مصبوغا بزعفران فمسته بالماء ليفوح ريحه ثم جاءت فقعدت إلى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إليك يا عائشة! فإنه ليس بيومك، قالت: فضل الله يؤتيه من يشاء - وأخبرته بالأمر فرضي عنها."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض)
٣٧٨٠٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ صفیہ (رض) صفی میں سے تھیں۔ (رواہ ابن النجار)

فائدہ :۔۔۔ صفی : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت سے کوئی چیز اپنے لیے پسند فرمالیتے تھے اسے صفی کہا جاتا تھا۔
37807- عن عائشة قالت: كانت صفية من الصفي."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض)
٣٧٨٠٥۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ ابوایوب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری جب صفیہ بنت حیی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رفاف کے لیے لائی گئیں صبح صبح جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے ابوایوب (رض) نے تکبیر کہنے کی وجہ دریافت فرمائی ابوایوب (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج رات میں سویا نہیں ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوایوب کیوں نہیں سوئے ؟ عرض کیا : جب یہ عورت آپ کے پاس آئی مجھے یاد آیا کہ آپ نے اس کے باپ بھائی خاوند اور اس کے رشتہ داروں کو قتل کیا ہے اللہ کی قسم مجھے خوف ہوا کہیں یہ عورت آپ کو دھوکا نہ دے دے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور ابوایوب (رض) کی تعریف کی۔ (رواہ ابن عساکر)
37808- عن عروة قال: لقد بات أبو أيوب ليلة دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بصفية بنت حيي قائما قريبا من قبته آخذا بقائم السيف حتى أصبح، فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بكرة كبر أبو أيوب حين أبصر رسول الله صلى الله عليه وسلم قد خرج، فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك يا أبا أيوب؟ قال: لم أرقد ليلتي هذه يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم يا أبا أيوب؟ قال: لما دخلت بهذه المرأة ذكرت أنك قد قتلت أباها وأخاها وزوجها وعامة عشيرتها فخفت لعمر الله أن تغتالك! فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال له معروفا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض)
٣٧٨٠٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم پر صبح ہونے سے پہلے حملہ آورنہ ہوتے جب صبح ہوجاتی اگر اذان سنتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے حملہ کردیتے آپ خیبر تشریف لائے جب کہ اہل خیبر اپنے قلعوں سے باہر نکل آئے تھے اور اپنے کام کاج کے لیے کھیتوں میں متفرق ہوئے تھے ان کے ساتھ ان کے لڑکے ٹوکرے اور کلہاڑے وغیرہ بھی تھے جب انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہنے لگے یہ تو محمد اور اس کا لشکر ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر خبیرویرانگی کے قریب تر ہوچکا ہے جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرسناتے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا آغاز کردیا اور اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی غنیمت تقسیم کی گئیں اور صفیہ (رض) حضرت عجیہ کلبی (رض) کے حصہ میں آئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : ایک خوبصورت باندی دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات سروں کے بدلہ میں صفیہ (رض) کو خریدلیا اور انھیں ام سلمہ (رض) کے پاس بھجوادیا تاکہ ام سلیم (رض) ان کی حالت درست کرلیں جب آپ نے صفیہ (رض) کے پاس جانے کا ارادہ کیا لوگوں نے کہا : ہمیں معلوم نہیں آیا کہ آپ نے اسے باندی بنالیا ہے یا اس سے شادی کرلی ہے۔ جب آپ نے خیبر سے کوچ کیا صفیہ (رض) کو اپنے پیچھے بٹھایا اور جب مدینہ کے قریب پہنچے سواری تیز کردی صحابہ کرام (رض) کا یہی دستور تھا جب مدینہ کے قریب پہنچے سواریوں کو تیز کرلیتے تھے اس اثناء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی ٹھوک رکھا کر گرپڑی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت صفیہ (رض) گرپڑے جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں یہ ماجرا دیکھ رہی تھیں وہ بول پڑیں : اللہ تعالیٰ اس یہودیہ کو دور رکھے اور اس کا برا کرے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ (رض) پر پردہ کردیا اور دوبارہ اپنے ساتھ اونٹنی پر سوار کرلیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37809- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يغير حتى يصبح فيسمع فإن سمع أذانا أمسك، وإن لم يسمع أذانا أغار، فأتى خيبر وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في أرضهم معهم مكاتلهم وفؤوسهم ومرودهم، فلما رأوه قالوا: محمد والخميس! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الله أكبر! خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين، فقاتلهم حتى فتح الله عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي! فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعة رؤوس فبعث بها إلى أم سليم تصلحها ولا أعلم إلا أنه قال: وتعتد عندها، فلما أراد الشخوص قال الناس: ما ندري اتخذها سرية أو تزوجها، فلما ركب سترها وأردفها خلفه فأقبلوا حتى إذا دنوا من المدينة أوضعوا1 وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا فدنوا من المدينة فعثرت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقط وسقطت، ونساء النبي صلى الله عليه وسلم ينظرون مسرفات فقلن: أبعد الله اليهودية وأسحقها فسترها وحملها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث (رض)
٣٧٨٠٧۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت جویریہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیت تھیں آپ نے جویریہ (رض) کو آزاد کردیا اور ان کے قبیلہ بنی مصطلق کے ہر فرد کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37810- عن الشعبي قال: كانت جويرية ملك رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعتقها وجعل صداقها عتق كل أسير من بني المصطلق. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث (رض)
٣٧٨٠٨۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت جویریہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : آپ کی ازواج مجھ پر فخر کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھ سے شادی کی آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہارا مہر اتنا عظیم تر نہیں مقرر کیا ؟ کیا تیری قوم کے چالیس لوگ آزاد نہیں کئے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37811- عن مجاهد قال قالت جويرية للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أزواجك يفخرن علي ويقلن: لم يتزوجك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أولم أعظم صداقك؟ ألم أعتق أربعين من قومك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عالیہ بنت ظبیان
٣٧٨٠٩۔۔۔ معمر، زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عالیہ بنت ظبیان کو طلاق دے دی پھر عالیہ سے اس کے چچا زاد بھائی نے شادی کرلی یہ واقعہ ازواج مطہرات سے حرمت نکاح سے پہلے کا ہے چنانچہ عالیہ سے اس کے خاوند کی اولاد بھی ہوئی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37812- عن معمر عن الزهري أن النبي صلى الله عليه وسلم طلق العالية بنت ظبيان فتزوجها ابن عم لها وذلك قبل أن يحرم نكاحهن على الناس وولدت له. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتیلہ کندیہ
٣٧٨١٠۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کندہ کی ایک عورت سے شادی کی تھی چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد وہ عورت لائی گئی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37813- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج امرأة من كندة فجيء بها بعد ما مات النبي صلى الله عليه وسلم. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتیلہ کندیہ
٣٧٨١١۔۔۔ داؤد بن ابی ھند کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ قبیلہ کندہ کی ایک عورت کی مالک تھے یعنی اس سے نکاح کیا ہوا تھا اس کا نام قتیلہ تھا وہ اپنی قوم کے ساتھ بعد میں مرتدہ ہوگئی پھر عکرمہ بن ابی جہل (رض) نے اس سے نکاح کرلیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو جب خبر ہوئی انھیں سخت رنج وملال ہوا حضرت عمر فاروق (رض) نے ان کی خدمت کیا کہ اے خلیفہ رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! یہ عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج میں سے نہیں ہے چونکہ آپ نے عورت کو نہ ہی اختیار دیا اور نہ ہی اس سے پردہ کرایا اور اس کے مرتدہ ہوجانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو اس سے بری کردیا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37814 عن داود بن أبي هند أن النبي صلى الله عليه وسلم توفي وقد ملك امرأة من كندة يقال لها قتيلة فارتدت مع قومها فتزوجها بعد ذلك عكرمة بن أبي جهل بكرا فوجد أبو بكر من ذلك وجدا شديدا فقال له عمر : يا خليفة رسول الله ! إنها والله ما هي من أزواجه ما خيرها ولا حجبها ولقد برأها الله منه بالارتداد الذي ارتدت مع قومها (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین میمونہ بنت حارث (رض)
٣٧٨١٢۔۔۔ مولائے ابن عباس عکرمہ کی روایت ہے کہ میمونہ (رض) نے اپنے تیئں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیئے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37815- عن عكرمة مولى ابن عباس قال: وهبت ميمونة نفسها للنبي صلى الله عليه وسلم.

"عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین میمونہ بنت حارث (رض)
٣٧٨١٣۔۔۔ معمر زہری اور قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میمونہ (رض) نے اپنے تئیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیئے تھے یعنی اپنا نفس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کردیا تھا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37816- عن معمر عن الزهري وقتادة أن ميمونة بنت الحارث وهبت نفسها للنبي صلى الله عليه وسلم."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٤۔۔۔ ابراہیم بن سعد اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) اور عثمان (رض) کو ازواج مطہرات کے ساتھ حج کرانے ” اس سال کہ جس میں عمر بن خطاب (رض) کی شہادت ہوئی بھیجا عثمان بن عفان (رض) ازواج مطہرات کے اونٹوں کے آگے آگے چلتے تھے اور کسی کو بھی قریب نہ آنے دیتے تھے دور سے ہی کوئی اس قافلہ کو دیکھ سکتا تھا جب کہ عبدالرحمن بن عوف (رض) کے پیچھے پیچھے چلتے تھے ساری ازواج مطہرات اپنے اپنے ھو وج میں ہوتی تھیں جب یہ دونوں حضرات ازواج کو کسی گھاٹی میں اتارتے یہ دونوں الگ ہو کر بیٹھ جاتے اور ان کے پاس کسی کو نہ آنے دیتے ۔ (رواہ ابن سعد)
37817- عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده أن عمر أذن لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم في الحج سنة ثلاث وعشرين فبعث معهن عثمان ابن عفان وعبد الرحمن بن عوف فنادى في الناس عثمان أن لا يدنو منهن أحد ولا ينظر إليهن أحد ، وهن في الهوادج على الابل ، وأنزلهن صدر الشعب ونزل عبد الرحمن وعثمان بذنبه ، فلم يصعد إليهن أحد (ابن سعد ، ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٥۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اسماء بنت نعمان سے مہاجرین ابی امیہ نے نکاح کیا حضرت عمر (رض) نے دونوں کو سزا کا ارادہ کیا تو اسماء کہنے لگی : اللہ کی قسم ! مجھ سے نہ تو پردہ کردیا گیا اور نہ ہی مجھے ام المومنین کے لقب سے پکارا گیا اس پر حضرت عمر (رض) سزا دینے سے رک گئے۔ (رواہ ابن سعد)
37818 عن ابن عباس قال : خلف على أسماء بنت النعمان المهاجر بن أبي أمية بن المغيرة فأراد عمر أن يعاقبهما ، فقالت : والله ! ما ضرب علي الحجاب ولا سميت بأم المؤمنين فكف عنها (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٦۔۔۔ ابوجعفر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ازواج مطہرات کو حج وعمرہ کرنے سے منع فرمادیا تھا۔ (رواہ ابن سعد)
37816 عن أبي جعفر أن عمر بن الخطاب منع أزواج النبي صلى الله عليه وسلم الحج والعمرة (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ہمیں حج وعمرہ کرنے سے منع کیا تھا حتیٰ کہ جب ان کے دور خلافت کا آخری سال آیا انھوں نے ہمیں حج کرنے کی اجازت دے دی (رواہ ابن سعد و ابونعیم فی المعرفۃ)
37817 عن عائشة قال : لما كان عمر منعنا الحج والعمرة حتى إذا كان آخر عام فأذن لنا فحججنا معه (ابن سعد وأبو نعيم في المعرفة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٨۔۔۔ مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو چالیس ہزار دینار میں بیچی عبدالرحمن بن عوف (رض) نے حاصل ہونے والا مال بنی زہرہ کے فقراء و مسکین اور امہات المومنین میں تقسیم کیا مسور کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) کے حصہ کامل مجھے دے کر ان کے پاس بھیجا جب میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس پہنچا انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد تمہارے اوپر۔ (ازواج مطہرات پر) صرف نیک و صالح لوگ ہی مہربان ہوں گے اللہ تعالیٰ ابن عوف کو جنت کے مخصوص چشمہ سلسبیل سے پانی پلائے۔ (رواہ ابونعیم)
37818 عن المسور بن المخرمة قال : باع عبد الرحمن بن عوف أرضا له من عثمان بن عفان بأربعين ألف دينار فقسم ذلك المال في بني زهرة وفي فقراء المسلمين وأمهات المؤمنين ، فبعث معي إلى عائشة بمال من ذلك المال ، فقالت : أما إني قد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لن يحنو عليكن بعدي إلا الصالحون ، سقى الله ابن عوف من سلسبيل الجنة (أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক: