কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৮৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨١٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر جھک کر فرمایا : بلاشبہ تم ۔ (ازواج مطہرارت) میرے ترکہ کا اہم ترین سرمایہ ہو میرے بعد تمہارے اوپر صرف نیک و صالح اور صبر کرنے والے لوگ ہی مہربانی ہوں گے۔ (رواہ ابونعیم)
37819 عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حنى علي فقال : والله ! إنكن لاهم ما أترك قفا ظهري ، والله ! لا يعطف عليكن إلا الصالحون أو الصابرون بعدي (أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨٢٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الوفات میں اپنی ازواج مطہرات (رض) کو جمع کیا اور پھر فرمایا : تمہاری حفاظت وہی لوگ کریں گے جو صاروصادق ہوں گے۔ (رواہ الحسن ابن سفیان وابن عساکر)
37820 عن عائشة قالت : جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه في مرضه فقال سيحفظني فيكن الصابرون أو الصادقون (الحسن ابن سفيان ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨٢١۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم بن اوقص جو کہ نبی سلیم کی ایک عورت ہے یہ منجملہ ان عورتوں میں سے ہے جنہوں نے اپنے تیئں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیئے تھے میں نے نہیں سنا کہ آپ نے اس کا بوسہ تک بھی لیا ہو۔ (رواہ عبدالرزاق)
37821 عن عروة أن خولة بنت حكيم بن الاوقص من بني سليم كانت من اللاتي وهبن أنفسن للنبي صلى الله عليه وسلم ولم أسمع أنه قبلها (عب)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل ازواج مطہرات (رض)
٣٧٨٢٢۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ جب کندہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائی گئی بولی ” اعوذباللہ منک “ میں تجھ سے پناہ مانگتی ہوں آپ نے فرمایا : عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے لہٰذا اپنے خاندان والوں کے پاس چلی جاؤ۔ (رواہ عبدالرزاق)
37822 عن عروة قال : لما أن دخلت الكندية على النبي صلى الله عليه وسلم قالت : أعوذ بالله منك ! فقال : لقد عذت بعظيم ، الحقي بأهلك (عب)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٣۔۔۔ اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جب اہل یمن کی امداد آئی تو آپ (رض) نے ان (اہل یمن) سے پوچھا : کیا تمہارے ساتھ اویس بن عامر بھی ہیں ؟ پھر (ان کے بتانے پر) آپ اویس (رح) کے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا : کیا آپ اویس ہیں ؟ حضرت اویس (رح) بولے : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا آپ کو برص کی بیماری تھی پھر وہ صحیح ہوگئی مگر پھر بھی ایک درہم کی جگہ باقی رہ گئی ہے ؟ حضرت اویس (رح) نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا آپ کی والدہ (حیات) ہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : تمہارے پاس اہل یمن کی امداد کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے جن کا تعلق قبیلہ مراد کی قرن شاخ سے ہوگا۔ ان کو پہلے برص کی بیماری ہوئی ہوگی جو ایک درہم کے سوا صحیح ہوچکی ہوگی ان کی والدہ ہوگی جن کے ساتھ وہ (بہت) نیکی کرنے والے ہوں گے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پوری فرمادیں گے۔

(اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا) اگر تو ان سے اپنے لیے استغفار کرواسکے تو ضرور کرا لینا۔

پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے استغفار کی درخواست کی تو حضرت اویس (رح) نے ان کے لیے استغفار کیا۔

پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : اب آپ کا کہاں جانے کا قصد ہے ؟

انھوں نے عرض کیا : کوفہ جانے کا قصد ہے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا میں آپ کے لیے کوفہ کے گورنر کو خط نہ لکھ دوں ؟ وہ آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ؟ حضرت اویس (رح) اللہ علیہ نے فرمایا : نہیں، میں عام گمنام لوگوں میں رہنا پسند کرتا ہوں۔

پھر آئندہ سال کوفہ کے اشراف لوگوں میں سے ایک شخص حج پر آیا تو حضرت عمر (رض) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے اویس (رح) کے متعلق پوچھا کہ جب تم آئے تو وہ کس حال میں تھے ؟ کوفی نے جواب دیا : میں نے جب ان کو چھوڑا تو ان کے گھر کا حال برا تھا اور وہ بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ حضرت عمر (رض) نے (وہی حدیث سنائی اور ) فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا : تمہارے پاس اہل یمن کی امداد کے ساتھ اویس بن عامر (رح) آئیں گے جو قبیلہ مراد کی قرن شان سے ہوں گے۔ ان کو برص لاحق ہوگا پھر وہ اس سے شفایاب ہوجائیں گے سوائے ایک درہم کی جگہ کے۔ ان کی والدہ ہوگی جس کے ساتھ وہ بہت نیکی برتنے والے ہوں گے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرمادیں گے۔ اگر تم سے ہوسکے کہ ان سے استغفار کرواؤ تو ضرور کرالینا۔

چنانچہ وہ کوفی شخص واپسی میں حضرت اویس (رح) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا۔ میرے لیے استغفار

کر دیجئے۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : تم مبارک سفر سے نئے نئے لوٹے ہو تم میرے استغفار کرو۔ کوفی نے عرض کیا : آپ میرے لیے استغفار کر دیجئے۔ تب حضرت اویس (رح) نے اس شخص سے پوچھا : کیا تو حضرت عمر (رض) سے ملا تھا ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ تب حضرت اویس (رح) نے اس کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا۔

اب لوگوں کو ان کے مرتبے کا علم ہوگیا جس کی و جہ سے وہ وہاں سے کہیں اور کوچ کرگئے۔ (ابن سعد، مسلم، ابوعوانۃ، الرویانی، مسند ابی یعلی، حلیۃ الاولیاء، الدلائل البیھقی)
37823- عن أسير بن جابر قال: كان عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن سألهم: أفيكم أويس بن عامر؟ حتى أتى على أويس فقال: أنت أويس بن عامر؟ قال: نعم، قال: من مراد ثم من قرن؟ قال: نعم، قال: فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم؟ قال: نعم، قال: لك والدة؟ قال: نعم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره! فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل"، فاستغفر لي، فاستغفر له، فقال له: أين تريد؟ قال: الكوفة، قال: ألا أكتب لك إلى عاملها فيستوصي بك قال: لا أكون في غبر1الناس أحب إلي، فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم فوافق عمر فسأله عن أويس كيف تركته فقال: تركته رث البيت قليل المتاع، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره! فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل"، فأتى أويسا فقال: استغفر لي، قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي، قال: استغفر لي، قال: لقيت عمر؟ قال نعم، فاستغفر له، ففطن له الناس فانطلق على وجهه. "ابن سعد، م وأبو عوانة والروياني، ع، حل، ق في الدلائل" وهكذا ترجم له صاحب الحلية أبي نعيم ترجمة واسعة /79" وقال أويس بن عامر القرني سيد العباد وعلم الأصفياء من الزهاد بشر النبي صلى الله عليه وسلم به وأوصى به أصحابه. ص.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٤۔۔۔ اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ کوفہ میں ایک محدث تھا جو ہمیں حدیث بیان کرتا تھا۔ جب وہ حدیث سے فارغ ہوجاتا تو لوگ منتشر ہوجاتے، جب کہ ایک گروہ پیچھے بیٹھا رہ جاتا تھا۔ ان میں ایک آدم تھا جو ان کو ایسی باتیں سناتا تھا جو میں نے کسی کو بیان کرتے نہیں سنی تھیں۔ مجھے اس آدمی کی باتیں اچھی لگیں۔ پھر وہ شخص مفقود ہوگیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : تم اس شخص کو جانتے ہو جو ہمارے ساتھ بیٹھتا (تھا اور ایسی ایسی باتیں کرتا) تھا۔ ایک آدمی نے کہا : ہاں میں اس کو جانتا ہوں۔ وہ اویس قرنی ہیں۔ میں نے کہا : تم اس کا گھر جانتے ہو ؟

اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں اس کے ساتھ چل پڑا اور جا کر اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اویس نکل کر میرے پاس آئے۔ میں نے کہا : اے بھائی ! تم ہمارے پاس آنے جانے سے رک کیوں گئے ؟ اویس بولے : بےلباس ہونے کی وجہ۔ کیونکہ میرے ساتھ اس کے ساتھ مذاق اور تمسخر کرتے تھے اور اس کو ستاتے تھے۔ چنانچہ میں نے اس کو کہا : یہ میری چادر لے لو اور باندھ لو۔ اویس نے ایسا کرنے سے منع کیا اور بولے : یہ چادر مجھ پر دیکھ کر وہ مجھے مزید تکلیف دیں گے۔ اسیر کہتے ہیں : میں اصرار کرتا رہا حتی کہ اویس نے وہ چادر باندھ لی اور پھر میرے ساتھیوں کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : کیا خیال ہے، تمہارا اس نے کس کو دھوکا دے کر چادر حاصل کی ؟ اویس یہ سن کر واپس ہوئے اور چادر اتاردی اور مجھے بولے : دیکھ لیا تم نے۔ اسیر کہتے ہیں : میں اپنے دوستوں کی مجلس میں حاضر ہوا اور ان سے مخاطب ہوا : تم اس آدمی سے آخر چاہتے کیا ہو ؟ تم نے اس کو بہت ستا لیا ہے۔ اس کا حال تو یہ ہے کہ ایک وقت اس کے پاس تن ڈھانکنے کو ہوتا ہے تو دوسرے وقت وہ بھی نہیں ہوتا۔

پھر میں نے ان کو خوب کھری کھری سنائیں اور سخت زبان استعمال کی۔

پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اہل کوفہ کا وفد حضرت عمر (رض) کی خدمت میں گیا۔

وفد میں ان میں سے ایک آدمی وہ بھی تھا جو اویس (رح) کو ستاتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے اہل وفد سے فرمایا : کیا تمہارے پاس قرنیوں میں سے کوئی شخص بھی ہے ؟

(یعنی اویس قرنی) ؟ یہ بات سن کر وہ شخص کھٹک گیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا جس کو اویس کہا جاتا ہوگا۔ یمن میں صرف اپنی ماں کو چھوڑے گا۔ اس کو برص کی سفیدی ہوگی۔ وہ اللہ سے دعاکرے گا تو اس کی سفیدی زائل ہوجائے گی سوائے (ایک درہم کی جگہ کے) ۔ پس جو شخص بھی اس سے ملاقات کا شرف حاصل کرے وہ اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرالے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : چنانچہ وہ بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا : آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انھوں نے

فرمایا : یمن سے۔ میں نے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟

انھوں نے اویس نام بتایا۔ میں نے پوچھا : یمن میں کس کو چھوڑ کر آئے ہو ؟ فرمایا لگے : ماں کو۔ میں نے پوچھا : کیا تمہیں (برص کی ) سفیدی تھی پھر تمہاری دعا سے اللہ نے وہ زائل کردی ؟

انھوں نے فرمایا : بالکل۔ تب میں نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعاکر دیجئے۔ وہ بولے : اے امیر المومنین ! کیا میرے جیسا (کم اوقات) شخص آپ جیسے (امیر المؤمنین) کے لیے دعا کرے گا ! چنانچہ پھر انھوں نے میرے لیے دعائے مغفرت فرمادی۔ پھر میں نے ان سے عرض کیا : آپ میرے بھائی ہیں۔ مجھ سے جدا نہ ہوئیے گا۔ لیکن پھر وہ مجھ سے گم ہوگئے۔ پھر مجھے خبر ملی کہ وہ تمہارے پاس کوفہ میں آگئے ہیں۔ یہ ساری باتیں سن کر وہ شخص جو حضرت اویس (رح) کو حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتا تھا، وہ بولا : ایسا کوئی آدمی ہمارے اندر نہیں اور نہ ہم ایسے کسی آدمی کو جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) فرمانے لگے :

ہاں وہ ایسا ہی (گمنام ) آدمی ہے، گویا حضرت عمر (رض) اویس (رح) کی شان کو کم کرنے لگے، جس سے اس آدمی (میں حوصلہ پیدا ہوا اور پھر وہ) بولا : امیر المومنین ! ہمارے ہاں ایک آدمی ہے تو، جس کو اویس اویس کہتے ہیں۔ ہم اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیتے ہیں۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جاؤ اس کو ملو، ممکن تو نہیں ہے کہ اب وہ تمہیں ملے۔

چنانچہ وہ شخص کوفہ واپس ہوا اور اپنے اہل و عیال کے پاس جانے سے پہلے حضرت اویس (رح) کے پاس حاضر ہوا (اور اس کی ادب نوازی کو دیکھ کر) حضرت اویس (رح) بولے : ایسی تو تمہاری عادت پہلے نہیں تھی۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ وہ آدمی بولا : میں نے حضرت عمر (رض) کو یوں یوں تمہارے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے۔ لہٰذا اے اویس ! میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجئے۔ حضرت اویس (رح) فرمانے لگے : میں ایسا نہیں کرسکتا جب تک کہ تم مجھ سے وعدہ نہ کرو کہ آئندہ میرے ساتھ مذاق تمسخر نہ کروگے اور نہ حضرت عمر (رض) کی کوئی بات کسی سے بیان کروگے۔ چنانچہ پھر حضرت اویس (رح) نے اس کے لیے اللہ کے حضور دعائے مغفرت کی۔

اسیر کہتے ہیں : پھر اویس کا معاملہ کوفہ میں شہرت پکڑ گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو عرض کیا : اے میرے بھائی : ہم نادانی میں آپ کا خیال نہیں کرپائے۔

حضرت اویس (رح) بولے : مجھے جو لوگوں سے تکلیف پہنچتی ہے تو بات یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے اپنے عمل کی سزا ملتی ہے۔ پھر حضرت اویس (رح) وہاں سے بھی چلے گئے اور غائب ہوگئے۔ (ابن سعد، حلیۃ الاولیاء، البیھقی فی الدلائل، ابن عساکر)
37824- عن أسير بن جابر قال: كان محدث بالكوفة يحدثنا فإذا فرغ من حديثه تفرقوا ويبقى رهط فيهم رجل يتكلم بكلام لا أسمع أحدا يتكلم كلامه فأحببته ففقدته، فقلت لأصحابي: هل تعرفون رجلا كان يجالسنا كذا وكذا؟ فقال رجل من القوم: نعم أنا أعرفه، ذاك أويس القرني، قلت: فتعلم منزله؟ قال: نعم، فانطلقت معه حتى ضربت حجرته فخرج إلي قلت: يا أخي؟ ما حبسك عنا؟ قال: العري، وكان أصحابي يسخرون به ويؤذونه، قلت: خذ هذا البرد فالبسه، قال: لا تفعل، فإنهم إذا يؤذونني إن رأوه علي، فلم أزل به حتى لبسه فخرج عليهم فقالوا: من ترون خدع عن برده هذا؟ فجاء فوضعه وقال: ألا ترى! فأتيت المجلس فقلت: ما تريدون من هذا الرجل؟ قد آذيتموه، الرجل يعرى مرة ويكتسى مرة، فأخذتهم بلساني أخذا شديدا، فقضي أن أهل الكوفة وفدوا إلى عمر فوفد رجل ممن كان يسخر به فقال عمر: هل ههنا أحد من القرنيين؟ فجاء ذلك الرجل، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قال: "إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له أويس لا يدع باليمن غير أم له، وقد كان به بياض فدعا الله فأذهبه عنه إلا مثل موضع الدرهم، فمن لقيه منكم فمروه فليستغفر لكم". قال: فقدم علينا، قلت: من أين؟ قال: من اليمن، قلت: ما اسمك؟ قال: أويس، قلت: فمن تركت باليمن؟ قال: أما لي، قلت: أكان بك بياض فدعوت الله فأذهبه عنك؟ قال: نعم، قلت: استغفر لي، قال: أو يستغفر مثلي لمثلك يا أمير المؤمنين! قال: فاستغفر له، قلت له: أنت أخي لا تفارقني، فاملس1 مني، فأنبئت أنه قدم عليكم الكوفة، قال: فجعل ذلك الرجل الذي كان يسخر به ويحقره يقول: ما هذا فينا وما نعرفه، فقال عمر: بلى إنه رجل كذا - كأنه يضع من شأنه. قال: فينا يا أمير المؤمنين رجل يقال له "أويس" نسخر به، قال: أدرك ولا أراك تدرك، فأقبل ذلك الرجل حتى دخل عليه قبل أن يأتي أهله فقال له أويس ما هذه بعادتك! فما بدا لك؟ قال: سمعت عمر يقول فيك كذا وكذا فاستغفر لي يا أويس! قال: لا أفعل حتى تجعل لي عليك أن لا تسخر بي فيما بعد ولا تذكر الذي سمعته من عمر إلى أحد، فاستغفر له، قال أسير: فما لبثت أن فشا أمره في الكوفة فأتيته فدخلت عليه فقلت له: يا أخي ألا أراك العجب ونحن لا نشعر؟ قال: ما كان في هذا ما أتبلغ به في الناس وما يجزى كل عبد إلا بعمله، ثم املس منهم فذهب"ابن سعد، حل، ق في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٥۔۔۔ محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے ، فرمایا : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی شخص تابعین میں سے کسی آدمی سے (یعنی اویس سے) ملے تو ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرالے۔

محمد بن سیرین (رح) فرماتے ہیں : مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عمر (رض) (ہر) موسم حج میں حضرت اویس (رح) سے متعلق مذکورہ اعلان فرماتے تھے۔ (ابن سعد، ابن عساکر)
37825- عن محمد بن سيرين قال: أمر عمر بن الخطاب إن لقي رجلا من التابعين أن يستغفر له قال محمد قال فأنبئت أن عمر كان ينشده في الموسم - يعني أويسا."ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٦۔۔۔ (مسند عمر (رض)) صعصعۃ بن معاویہ سے مروی ہے کہ حضرت اویس بن عامر تابعین میں سے تھے اور قرن سے تعلق رکھتے تھے (جس کی وجہ سے اویس قرنی) کہلاتے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے کہ تابعین میں قرن کا ایک آدمی ہوگا جس کو اویس بن عامر کہا جاتا ہوگا اس کو برص کی بیماری نکلے گی، وہ اللہ سے دعاکرے گا کہ اس کی یہ بیماری دورکردے۔

وہ دعا کرے گا : اے اللہ ! میرے جسم میں اتنا حصہ (اس بیماری کا) چھوڑ دے جس کو دیکھ کر میں تیری نعمت کو یاد رکھا کروں۔ چنانچہ اللہ نے اس کے جسم میں اتنا حصہ چھوڑ دیا جس کے ذریعے وہ اللہ کی اپنی اوپر نعمت کو یاد کرتا رہے۔

پھر حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : پس تم میں سے جس کی ان سے ملاقات ہو اور وہ اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کر اس کے تو ضرور کرائے۔ (الحسن بن سفیان، ابونعیم فی المعرفۃ البیھقی فی الدلائل، ابن عساکر)
37826- "مسند عمر" عن صعصعة بن معاوية قال: كان أويس بن عامر من التابعين رجل من قرن، وإن عمر بن الخطاب قال: أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم "أنه سيكون في التابعين رجل من قرن يقال له أويس بن عامر، يخرج به وضح فيدعو الله أن يذهبه فيقول: اللهم! دع لي في جسدي منه ما أذكر به نعمتك علي، فيدع له في جسده ما يذكر به نعمته عليه، فمن أدرك منكم فاستطاع أن يستغفر له فليستغفر له"."الحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة، ق في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٧۔۔۔ یحییٰ بن سعید (رح)، سعید بن المسیب (رح) سے اور وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (رح)

اے عمر ! میں نے عرض کیا : لبیک وسعدیک یارسول اللہ ! اے اللہ کے رسو ! میں حاضر ہوں اور ساری سعادت آپ ہی کے لیے ہے۔ مجھے اس وقت گمان ہوا کہ شاید آپ مجھے کسی کام کے لیے روانہ فرمائیں گے۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

اے عمر ! میری امت میں آخری زمانے میں ایک شخص ہوگا، جس کو اویس قرنی کہا جاتا ہوگا۔ اس کو اپنے جسم میں کوئی بیماری لاحق ہوگی، وہ اللہ سے دعاکرے گا تو اللہ اس کی بیماری کو ختم کردے گا سوائے ایک تھوڑی سی چمک کے جو اس کے پہلو میں ہوگی۔ جب وہ اس چمک کو دیکھا کرے گا تو اللہ عزوجل کو یاد کیا کرے گا۔

پس جب تیری اس سے ملاقات ہو تو اس کو میری طرف سے سلام کہنا اور اس کو حکم کرنا کہ وہ تیرے لیے دعا کرے۔ کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں کریم (عزت والا) ہے۔

اپنی والدہ کے ساتھ نیکی برتنے والا ہے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پوری فرمادے گا۔ وہ ربیعہ اور مضر (عرب کے دوبڑے قبیلوں جتنے لوگوں کی شفاعت کرے گا۔

حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اس کی تلاش رکھی مگر میں ان کو نہ پاسکا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ خلافت میں ان کی تلاش میں رہا مگر ان کو نہ پاسکا۔ پھر اپنی امارت (امیری کے) زمانہ میں قافلوں سے پوچھتا رہا کہ کیا تمہارے میں قبیلہ مراد کا کوئی شخص ہے ؟ کیا تمہارے میں قرن کو کوئی شخص ہے ؟ کیا تمہارے اندر اویس قرنی ہے ؟ پھر ایک مرتبہ ایک بوڑھے نے کہا کہ وہ تو میرا بھتیجا ہے۔ کیا آپ ایسے آدمی کے بارے میں پریشان ہورہے ہیں جو گھٹیا اوقات کا آدمی ہے۔ اے امیر المومنین ! آپ جیسے آدمی کو تو ایسے آدمی کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے۔ امیر المومنین فرماتے ہیں :

میں نے کہا : تو اس کے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔ مگر اس نے پھر وہی اپنی پہلی بات دہرائی۔

حضرت عمر امیر المومنین (رض) فرماتے ہیں : پس میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ایک مرتبہ میرے سامنے ایک سواری برے حال میں آئی جس پر ایک پریشان حال آدمی بیٹھا تھا۔ میرے دل میں از خود آیا کہ یہ اویس ہوں گے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! کیا آپ اویس قرنی نہیں ہیں ؟ اس نے ہاں کہی، تو میں کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں سلام کہا ہے۔

اویس نے کہا : اللہ کے رسول پر بھی سلام ہو اور آپ پر بھی سلام ہو اے امیر المومنین !۔

پھر میں نے کہا : حضور آپ کو حکم دے گئے ہیں کہ میرے لیے دعا کردینا۔

پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کہ پس ہر سال میں ان سے ملاقات کرتا ہوں اور ان کو اپنے حال کی خبر دیتا ہوں اور وہ مجھے اپنے حال کی خبر سناتے ہیں۔ (ابوالقاسم عبدالعزیز بن جعفر الخرقی فی فوائدہ، ابن عساکر للخطیب وقال : ھذا حدیث غریب جداً ) ۔

کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت انتہائی ضعیف اور کمزور ہے، (جو ناقابل استدلال ہے) ۔
37827- عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم: "يا عمر! فقلت: لبيك وسعديك يا رسول الله! فظننت أنه يبعثني في حاجة، قال: يا عمر! يكون في أمتي في آخر الزمان رجل يقال له أويس القرني يصيبه بلاء في جسده فيدعو الله فيذهب به إلا لمعة في جنبه إذا رآها ذكر الله عز وجل، فإذا لقيته فأقرئه مني السلام وأمره أن يدعو لك، فإنه كريم على ربه، بار بوالدته، لو يقسم على الله لأبره، يشفع لمثل ربيعة ومضر،" فطلبته حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أقدر عليه، وطلبته خلافة أبي بكر فلم أقدر عليه، وطلبته شطرا من إمارتي فبينا أنا أستقريء الرفاق وأقول: فيكم أحد من مراد؟ فيكم أحد من قرن؟ فيكم أويس القرني؟ فقال شيخ من القوم: هو ابن أخي، إنك تسأل عن رجل وضيع الشأن، ليس مثلك يسأل عنه يا أمير المؤمنين! قلت: أراك فيه من الهالكين، فرد الكلام الأول. فبينا أنا كذلك إذ رفعت لي راحلة رثة الحال عليها رجل رث الحال فوقع في خلدي أنه أويس، قلت: يا عبد الله أنت أويس القرني؟ قال: نعم، قلت: فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ عليك السلام، فقال: على رسول الله السلام وعليك يا أمير المؤمنين! قلت: ويأمرك أن تدعو لي، فكنت ألقاه في كل عام فأخبره بذات نفسي ويخبرني بذات نفسه."أبو القاسم عبد العزيز بن جعفر الخرقي في فوائده، خط في ... كر وقال: هذا حديث غريب جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٨۔۔۔ حسن سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے ربیعہ اور مضر سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ کیا میں تم کو ان کا نام نہ بتاؤں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : ضرور تب آپ نے ارشاد فرمایا : وہ اویس قرنی ہوں گے۔ پھر (حضرت عمر (رض) کو مخاطب ہو کر) ارشاد فرمایا : اے عمر اگر تیری ان سے ملاقات ہوجائے تو ان کو میرا سلام کہنا اور ان کو کہنا کہ وہ تیرے لیے دعا کریں۔ اور یاد رکھو ان کو سفیدی (برص) کی بیماری ہوئی ہوگی۔

پھر وہ اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ پاک اس بیماری کو ان سے اٹھالیں گے سوائے کچھ معمولی حصہ کے۔

چنانچہ جب خلافت عمر (رض) کا دور ہوا تو حضرت عمر (رض) نے جب آپ دوران حج میں تھے، (آنے والوں سے) ارشاد فرمایا : تم سب لوگ بیٹھ جاؤ سوائے قبیلہ قرن کے آدمیوں کے۔

چنانچہ ایک آدمی کے سواسب بیٹھ گئے۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو بلایا اور پوچھا :

کیا تم میں اویس نام کا کوئی شخص ہے ؟ آدمی نے حضرت عمر (رض) ہی سے پوچھا : آپ اس سے کیا چاہتے ہیں، وہ تو ویران جگہوں میں رہنے والا آدمی ہے اور لوگوں سے بھی میل جول نہیں رکھتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :

اس کو میرا سلام کہنا اور اس کو مجھ سے ملاقات کے لیے کہہ دینا۔

چنانچہ اس آدمی نے حضرت عمر (رض) کا پیغام حضرت اویس قرنی (رح) تک پہنچا دیا۔ حضرت اویس (رح) تعمیل ارشاد میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا آپ اویس ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحیح فرمایا تھا۔ پھر پوچھا : کیا آپ کو برص کی بیماری تھی، پھر آپ نے اللہ سے دعا کی تو وہ بیماری زائل ہوگئی، آپ نے پھر دعا کی تو اللہ نے اس بیماری کا کچھ حصہ آپ کو واپس لوٹادیا ؟ حضرت اویس (رح) نے پوچھا : ہاں ایسا ہی ہے، آپ کو کس نے یہ خبر دی ؟ اللہ کی قسم ! اس کا تو اللہ کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خبر دی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ سے اپنے لیے دعا کی درخواست کروں نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : میرے ایک امتی کی شفاعت کی وجہ سے

ربیعہ اور مضر قبیلوں سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام لیا تھا۔

چنانچہ حضرت اویس (رح) نے حضرت عمر (رض) کے لیے دعا کی اور پھر حضرت عمر (رض) سے درخواست کی کہ اے امیر المومنین ! میری بھی آپ سے ایک حاجت ہے، وہ یہ کہ آپ اس راز کو چھپا کر رکھئے گا اور اب مجھے واپس لوٹنے کی اجازت بھی رحمت فرما دیجئے۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کی درخواست پر عمل فرمایا اور ان کے راز کو مخفی رکھتے رہے حتی کہ جب وہ (حضرت اویس قرنی (رح)) نہاوند کی جنگ میں شہید ہوگئے (تب آپ نے دوسرے لوگوں کو اطلاع فرمائی) (ابن عساکر)
37828- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يدخل بشفاعة رجل من أمتي الجنة أكثر من ربيعة ومضر، أما أسمي لكم ذلك الرجل؟ قالوا: بلى، قال: ذاك أويس القرني، ثم قال: يا عمر! إن أدركته فاقرئه مني السلام وقل له حتى يدعو لك، وأعلم أنه كان به وضح فدعا الله فرفع عنه ثم دعاه فرد عليه بعضه"، فلما كان في خلافة عمر قال عمر وهو بالموسم: ليجلس كل رجل منكم إلا من كان من قرن، فجلسوا إلا رجلا، فدعاه فقال له: هل تعرف فيكم رجلا اسمه أويس؟ قال: وما تريد منه؟ فإنه رجلا لا يعرف يأوي الخربات لا يخالط الناس، فقال: اقرئه مني السلام وقل له حتى يلقاني، فأبلغه الرجل رسالة عمر فقدم عليه، فقال له عمر: أنت أويس؟ فقال: نعم يا أمير المؤمنين! فقال: صدق الله ورسوله هل كان بك وضح فدعوت الله فرفعه عنك ثم دعوته فرد عليك بعضه؟ فقال: نعم، من أخبرك به؟ فوالله ما أطلع عليه غير الله! قال: أخبرني به رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمرني أن أسألك حتى تدعو لي وقال: يدخل الجنة بشفاعة رجل من أمتي أكثر من ربيعة ومضر ثم سماك، فدعا لعمر ثم قال له: حاجتي إليك يا أمير المؤمنين أن تكتمها علي وتأذن لي في الانصراف، ففعل، فلم يزل مستخفيا من الناس حتى قتل يوم نهاوند فيمن استشهد."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٢٩۔۔۔ سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے منیٰ میں منبر پر اہل قرن کو فرمایا : اے اہل قرن ! چنانچہ کچھ بزرگ لوگ اٹھے اور بولے : اے امیر المومنین ! ہم ہیں اہل قرن، حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا قرن میں کوئی اویس نامی آدمی ہے۔ ایک بوڑھے نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! ہمارے اندر اویس نامی صرف ایک پاگل آدمی ہے اور تو کوئی نہیں۔ جو ویرانوں اور جنگلوں میں رہتا ہے اور وہ نہ کسی سے دوستی رکھتا ہے اور نہ کسی سے کوئی دوستی وتعلق رکھتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں یہی وہ شخص ہے، جس کی مجھے تلاش تھی۔ جب تم واپس (اپنے قبیلے) قرن میں جاؤ تو اس کو تلاش کرکے میرا سلام پہنچانا اور اس کو کہنا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تمہاری خوش خبری سنائی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں تمہیں حضور کا سلام پہنچاؤں۔

چنانچہ وہ لوگ (اپنے قبیلے) قرن پہنچے اور ان کو تلاش کیا تو ریتلے ٹیلوں میں پایا۔

انھوں نے حضرت اویس (رح) کو حضرت امیر المومنین کا سلام پہنچایا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سلام پہنچایا۔ حضرت (رح) نے پوچھا : کیا امیر المومنین مجھے پہچانتے ہیں اور انھوں نے میرا نام لیا ہے۔ پھر انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجا کہ سلام ہو رسول اللہ پر۔

اے اللہ ! ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرما۔

پھر حضرت اویس (رح) وہاں سے ادھر ادھر آوارہ پھرنے لگے اور پھر زمانے بھر ان کا نام نشان کچھ نہ ملا۔ پھر حضرت علی (رض) کے زمانہ خلافت میں واپس ظاہر ہوگئے اور حضرت علی (رض) کی معیت میں جنگ صفین میں شرکت کی اور شہید ہوگئے۔ (ابن عساکر)
37829- عن سعيد بن المسيب قال: نادى عمر بن الخطاب وهو على المنبر بمنى يا أهل قرن! فقام مشايخ فقالوا: نحن يا أمير المؤمنين! قال: أفي قرن من اسمه أويس؟ فقال شيخ: يا أمير المؤمنين! ليس فينا من اسمه أويس إلا مجنون يسكن القفار والرمال ولا يألف ولا يؤلف، فقال: ذاك الذي أعنيه، إذا عدتم إلى قرن فاطلبوه وبلغوه سلامي وقولوا له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بشرني بك وأمرني أن أقرأ عليك سلامه، فعادوا إلى قرن فطلبوه فوجدوه في الرمال فأبلغوه سلام عمر وسلام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أعرفني أمير المؤمنين وشهر باسمي السلام على رسول الله، اللهم صل عليه وعلى آله، وهام على وجهه فلم يوقف له بعد ذلك على أثر دهرا، ثم عاد في أيام علي فقاتل بين يديه فاستشهد في صفين."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٣٠۔۔۔ صعصعۃ بن معاویہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جب اہل کوفہ کا وفد آتا تو آپ (رض) سے ان سے پوچھتے : کیا تم اویس بن عامر قرنی کو جانتے ہو وہ کہتے : نہیں۔ جب کہ حضرت اویس (رح) کوفہ کی مسجد میں رہا کرتے تھے اور اس سے جدا نہیں ہوتے تھے۔ ان کا ایک چچا زاد بھائی تھا جو بادشاہ کے دربار میں کثرت سے حاضری بھرا کرتا تھا۔ اور حضرت اویس (رح) کو ایذاء دیتا تھا۔

چنانچہ ایک مرتبہ وہ کوفہ کے وفد کے ساتھ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے دریافت فرمایا : کیا تم لوگ اویس بن عامر قرنی کو جانتے ہو ؟ حضرت اویس (رح) کے چچا زاد بھائی نے کہا :

اے امیر المومنین !

اویس کی شان اتنی بلند نہیں ہے کہ آپ جیسی شخصیت اس کے بارے میں پوچھ گچھ کرے۔ وہ ایک گھٹیا انسان ہے اور وہ میرا چچا زاد بھائی ہے (اس لیے میں اس کو خوب جانتا ہوں) ۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : افسوس ہے تجھ پر، تیرا ناس ہو۔ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا، تابعین میں ایک شخص ہوگا جس کو اویس بن عامر قرنی کہا جاتا ہوگا۔ پس جو تم میں سے اس کو پائے اور اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کر اس کے تو ضرور کرالے۔

پھر حضرت عمر (رض) نے اویس (رح) کے چچا زاد کو فرمایا : جب تو اس کو دیکھے تو اس کو میرا سلام کہنا اور اس کو کہنا کہ وہ میرے پاس ضرور تشریف لائے۔

چنانچہ حضرت اویس (رح) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں جب حاضر ہوئے تو حضرت (رض) نے ان سے پوچھا : کیا آپ اویس بن عامر قرنی ہیں ؟ کیا آپ کو برص کے داغ نکلے تھے پھر آپ نے دعا کی تو اللہ نے وہ داغ آپ سے مٹا دئیے

پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے جسم میں اتنا حصہ اس بیماری کا چھوڑ دے جس کو دیکھ کر میں تیری نعمت کو یاد کرتا رہوں ؟

حضرت اویس (رح) نے حضرت (رض) سے پوچھا : اے امیر المومنین ! آپ کو ان باتوں کا کیسے علم ہوا ؟ خدا کی قسم ! میں نے کسی انسان کو بھی ان باتوں کا ذکر نہیں کیا۔

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی تھی کہ تابعین میں ایک آدمی ہوگا جس کو اویس بن عامر قرنی کہا جاتا ہوگا۔ اس کو برص کے داغ نکلیں گے تو وہ اللہ سے دعا کرے گا کہ اے اللہ ان کو مٹا دے۔ چنانچہ اس کی دعا قبول ہوگی پھر وہ دعا کرے گا : اے اللہ ! میرے جسم میں اس کی کچھ نشانی چھوڑ دے تاکہ میں اس کو دیکھ کر تیری نعمت کو یاد کرتا رہوں۔ چنانچہ پھر اس کی دعا قبول ہوگی۔

پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو اس سے ملے اور اس سے اپنے لیے دعائے استغفار کر اس کے تو ضرور کرالے۔ لہٰذا اے اویس ! میرے لیے استغفار کر دیجئے۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : اللہ آپ کی مغفرت کرے، اے امیر المومنین !

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ آپ کی بھی مغفرت کرے، اے اویس !

پھر لوگوں نے بھی ان سے اپنے لیے استغفار کی درخواست کی۔

پھر حضرت اویس (رح) وہاں سے رخصت ہوگئے اور اس کے بعد اب تک نظر نہیں آئے۔ (مسند ابی یعلی، ابن مندب ابن عساکر)
37830- عن صعصعة بن معاوية قال: كان عمر بن الخطاب يسأل وفد أهل الكوفة إذا قدموا عليه: تعرفون أويس بن عامر القرني؟ فيقولون: لا، وكان أويس رجلا يلزم المسجد بالكوفة فلا يكاد يفارقه وله ابن عم يغشى السلطان ويؤذي أويسا، فوفد ابن عمه إلى عمر فيمن وفد من أهل الكوفة، فقال عمر: أتعرفون أويس بن عامر القرني؟ فقال ابن عمه: يا أمير المؤمنين! إن أويسا لم يبلغ أن تعرفه أنت، إنما هو إنسان دون وهو ابن عمي، فقال له عمر: ويلك هلكت! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا أنه سيكون في التابعين رجل يقال له أويس بن عامر القرني، فمن أدركه منكم فاستطاع أن يستغفر له فليفعل، فإذا رأيته فأقرئه مني السلام، ومره أن يفد إلي، فوفد إليه، فلما دخل عليه قال أنت أويس بن عامر القرني؟ أنت الذي خرج بك وضح من برص فدعوت الله أن يذهبه عنك فأذهبه؟ فقلت؛ اللهم! أبق لي منه في جسدي ما أذكر به نعمتك؟ قال: وأنى دريت يا أمير المؤمنين؟ والله إن أطلعت على هذا بشرا! قال: أخبرني به رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه سيكون في التابعين رجل يقال له أويس بن عامر القرني، يخرج به وضح من برص فيدعو الله أن يذهبه عنه فيفعل، فيقول: اللهم اترك في جسدي ما أذكر به نعمتك، فيفعل، فمن أدركه فاستطاع أن يستغفر له فليفعل، فاستغفر لي يا أويس! قال: غفر الله لك يا أمير المؤمنين! قال: ولك يغفر الله يا أويس بن عامر! فقال الناس: استغفر لنا يا أويس! فراغ1 فما رئي حتى الساعة."ع وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٣١۔۔۔ نہشل بن سعید، ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) دس سال تک اویس قرنی کے بارے میں لوگوں سے تفتیش کرتے رہے۔ ایک مرتبہ اہل (ایمن سے آنے والے ) حاضرین کو فرمایا : اے اہل یمن !

تم میں سے جو (قبیلہ) مراد کے لوگ ہوں وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ چنانچہ مرادی اٹھ گئے اور دوسرے بیٹھے رہے۔ پھر ان سے پوچھا : کیا تم میں اویس ہیں ؟ ایک آدمی نے کہا : اے امیر المومنین ! ہم کسی اور اویس کو تو نہیں جانتے، سوائے میرے بھتیجے کے، اس کو بھی اویس کیا جاتا ہے، لیکن وہ تو ایسا غریب اور بےوقعت آدمی ہے کہ آپ جیسی شخصیت اس کے متعلق نہیں پوچھ سکتی۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پوچھا : کیا وہ ہمارے حرم (مکہ) میں ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں وہ میدان عرفات میں پیلو کے درختوں کے پاس ہے، اور لوگوں کے اونٹ چرارہا ہے۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) دونوں گدھوں پر سوار ہوئے اور پیلو کے درختوں کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہے اور اس کی نظر سجدے کی جگہ گڑی ہوئی ہے۔

اس کا حال کمزوری کی وجہ سے ایسا تھا گویا پسلیاں وغیرہ ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہیں۔ دونوں صحابیوں نے ان کو دیکھا تو آپس میں بولے : ہم جس کی تلاش میں ہیں وہ یہی شخص ہوسکتا ہے۔ اس آدمی نے ان دونوں کی آہٹ سنی تو اس نے نماز ہلکی کردی اور سلام پھیردیا۔ دونوں نے اس کو سلام کیا تو اس نے جواب میں کہا وعلیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ (تم دونوں پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں) پھر دونوں نے اس سے پوچھا : آپ کا نام کیا ہے ؟ اللہ آپ پر رحم ! اس شخص نے جواب دیا : میں ان اونٹوں کا چرواہا ہوں۔ دونوں نے پھر دونوں پوچھا : ہمیں آپ اپنا نام بتائیے، اس شخص نے پھر کہا : میں قوم کا مزدور ہوں۔ دونوں نے کہا : آپ کا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تب حضرت علی (رض) نے اس کو فرمایا : بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب اللہ کے بندے ہیں۔ میں آپ کو اس کعبہ کے رب کا واسطہ دیتا ہوں اور اس حرم کے رب کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنا وہ نام ہمیں بتائیے جو آپ کی ماں نے آپ کا رکھا تھا ؟ تب اس شخص نے کہا : میں اویس بن عامر ہوں، آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ دونوں نے کہا : آپ اپنے بائیں پہلو کو کھولیئے۔ حضرت اویس (رح) نے اپنے بائیں، پہلو سے کپڑا اٹھایا تو وہاں درہم کی بقدر ایک سفید داغ تھا۔ لیکن کوئی ٍبیماری باقی نہ تھی۔

چنانچہ دونوں حضرات آگے بڑھے اور اس جگہ کو چومنے لگے پھر دونوں نے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہ ہم آپ کو (ان کا) سلام پہنچا دیں اور آپ سے دعا کے لیے درخواست کریں۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : میر دعا زمین کے مشرق و مغرب میں بسنے والے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے ہے۔ دونوں حضرات نے پھر درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے دعا فرمادیں۔ چنانچہ حضرت اویس (رح) نے ان دونوں کے لیے اور تمام مومن مرد اور عورتوں کے لیے بھی دعا فرمائی۔ پھر حضرت عمرر ضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ آپ کو دینا چاہتا ہوں، آپ اس سے اپنے کام میں مدد لیجئے گا۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا : میرے دونوں کپڑے (جو جسم پر ہیں) نئے ہیں اور میرے دونوں جوتے مضبوط سلے ہوئے ہیں اور میرے پاس چار درہم ہیں۔

اور میرا کچھ سامان لوگوں کے پاس ہے۔ پس میں یہ سامان کب ختم کروں گا ؟

بیشک جو شخص ایک ہفتے کی روزی کی سوچ میں پڑتا ہے پھر اس کو مہینے بھر کی فکر لگ جاتی ہے اور جو مہینے کی فکر کرتا ہے پھر اس کو سال بھر کی روزی کی فکر پریشان کرتی رہتی ہے۔ پھر حضرت اویس (رح) نے لوگوں کے اونٹ ان کو واپس

کردئیے اور وہاں سے روپوش ہوگئے اور پھر نظر نہیں آئے۔ (ابن عساکر)
37831- عن نهشل بن سعيد عن الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس قال: مكث عمر يسأل عن أويس القرني عشر سنين فذكر أنه قال: يا أهل اليمن! من كان من مراد فليقم، فقام من كان من مراد وقعد آخرون، فقال: أفيكم أويس؟ فقال رجل: يا أمير المؤمنين! لا نعرف أويسا ولكن ابن أخ لي يقال له أويس هو أضعف وأمهن من أن يسأل مثلك عن مثله، قال له أبحر منا هو؟ قال: نعم، هو بالأراك بعرفة يرعى إبل القوم فركب عمر وعلي رضي الله عنهما حمارين ثم انطلقا حتى أتيا الأراك فإذا هو قائم يصلي يضرب ببصره نحو مسجده وقد دخل بعضه في بعض، فلما رأياه قال أحدهما لصاحبه: إن يك أحد الذي نطلبه فهذا هو، فلما سمع حسهما خفف وانصرف، فسلما عليه فرد عليهما: وعليكما السلام ورحمة الله وبركاته، فقالا له: ما اسمك رحمك الله؟ قال: أنا راعي هذه الإبل، قالا: أخبرنا باسمك، قال: أنا أجير القوم، قالا: ما اسمك؟ قال أنا عبد الله، فقال له علي: قد علمنا أن من في السماوات والأرض عبد الله فأنشدك برب هذه الكعبة ورب هذا الحرم ما اسمك الذي سمتك به أمك؟ قال: وما تريدان من ذلك؟ أنا أويس بن عامر، فقالا له: اكشف لنا عن شقك الأيسر، فكشف لهما، فإذا لمعة بيضاء قدر الدرهم من غير سوء، فابتدرا يقبلان الموضع ثم قالا له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نقرئك السلام وأن نسألك أن تدعو لنا، فقال: إن دعائي في شرق الأرض وغربها لجميع المؤمنين والمؤمنات، فقالا: ادع لنا، فدعا لهما وللمؤمنين والمؤمنات، فقال له عمر: أعطيك شيئا من رزقي أو من عطائي تستعين به! فقال: ثوباي جديدان ونعلاي مخصوفتان ومعي أربعة دراهم ولي فضلة عند القوم، فمتى أفني هذا! إنه من أمل جمعة أمل شهرا ومن أمل شهرا أمل سنة، ثم رد على القوم إبلهم ثم فارقهم فلم ير بعد ذلك."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تابعین وغیرھم کے فضائل اویس بن عامر القرنی (رح)
٣٧٨٣٢۔۔۔ حضرت علقمہ بن مرثد الحضرمی سے مروی ہے فرماتے ہیں زہد اور بزرگی آٹھ تابعیوں پر ختم ہے : عامر بن عبداللہ القیسی، اویس قرنی، ھرم بن حیان عبدی، ربیع بن خثیم ثوری، ابو مسلم خولانی، اسود بن یزید، مسروق بن الاجدع، حسن بن ابوالحسن بصری۔

اویس قرنی کے گھروالوں نے ان کے متعلق پاگل ہونے کا خیال کرلیا تھا اور ان کے لیے اپنے محلے کے دروازے پر ایک گھر بنادیا تھا۔ گھر والوں کو ایک ایک دودوسال ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کو اویس نظر نہیں آتے تھے۔ حضرت اویس (رح) اپنے گذر بسر اس طرح کرتے تھے کہ کھجور کی گٹھلیاں چنتے پھرتے تھے شام کو ان کو بیچ کر اپنی افطاری کا بند و بست کرلیتے تھے اور اگر کہیں ردی کھجور پڑی مل جاتی تو ان کو اپنی افطاری کے لیے سنبھال کر رکھ لیتے تھے۔

جب حضرت عمر بن خطاب (رض) لوگوں کے والی (حاکم) بنے تو انھوں نے (موسم حج میں ) ارشاد فرمایا : لوگو ! کھڑے ہوجاؤ، پھر فرمایا : سب بیٹھ جاؤ صرف وہ لوگ جو اہل یمن سے تعلق رکھتے ہیں وہ کھڑے رہیں۔ پھر ارشاد فرمایا : صرف وہ یمنی کھڑے رہیں جو اہل کوفہ میں سے ہیں۔ چنانچہ پھر کچھ لوگ بیٹھ گئے۔ پھر ارشاد فرمایا : ان میں سے صرف وہ لوگ کھڑے رہیں جو مراد (قبیلے) کے ہوں۔ چنانچہ پھر کچھ لوگ بیٹھ گئے۔ پھر ارشاد فرمایا : صرف وہ لوگ کھڑے رہیں جو قرن (شاخ) کے ہوں۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کے سوا سب لوگ بیٹھ گئے۔ اور یہ آدمی حضرت اویس (رح) کے چچا تھے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : کیا تو قرنی ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو پھر اس سے حضرت اویس (رح) کے متعلق پوچھا تو وہ بولے : اے امیر المومنین ! آپ اس کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! ہمارے اندر اس سے ہلکا اور پاگل آدمی اور پریشان حال اور کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) رو پڑے اور ارشاد فرمایا : مجھے اس پر نہیں تجھ پر رونا آرہا ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اس (اویس) کی شفاعت کی بدولت ربیعہ ومضر (عرب کے سب سے زیادہ افراد والے دوقبیلوں) کی مثل لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ (ابن عساکر)
37832- عن علقمة بن مرثد الحضرمي قال: انتهى الزهد إلى ثمانية نفر من التابعين: عامر بن عبد الله القيسي، وأويس القرني، وهرم بن حيان العبدي والربيع بن خيثم الثوري، وأبي مسلم الخولاني، والأسود بن يزيد ومسروق بن الأجدع، والحسن بن أبي الحسن البصري، فأما أويس القرني فإن أهله ظنوا أنه مجنون فبنوا له بيتا على باب دارهم، فكان يأتي عليه السنة والسنتان لا يرون له وجها، وكان طعامه مما يلتقط من النوى، فإذا أمسى باعه لإفطاره، وأن أصاب حشفة خبأها لإفطاره، فلما ولي عمر بن الخطاب قال: يا أيها الناس! قوموا بالموسم، فقال: ألا! اجلسوا إلا من كان من أهل اليمن، فجلسوا فقال: ألا! اجلسوا إلا من كان من أهل الكوفة، فجلسوا فقال: ألا! اجلسوا إلا من كان من مراد، فجلسوا فقال: ألا! اجلسوا إلا من كان من قرن، فجلسوا إلا رجل وكان عم أويس، فقال عمر له: أقرني أنت؟ قال: نعم، قال: أتعرف أويسا؟ قال: وما تسأل عن ذلك يا أمير المؤمنين؟ فوالله ما فينا أخف منه ولا أجن منه ولا أهوج منه! فبكى عمر وقال: بك لا به، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يدخل الجنة بشفاعته مثل ربيعة ومضر"."كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خضر (علیہ السلام)
٣٧٨٣٣۔۔۔ ابو الطاہر احمد بن السرح کہتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن وھب نے بیان کیا انھوں نے ایک شخص سے روایت کیا۔ اس شخص نے ابن عجلان سے روایت کی۔ انھوں نے محمد بن المنکدر سے روایت کی کہ :

حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے آواز دی : اللہ آپ پر رحم کرے، نماز میں جلدی نہ کیجئے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے جنازے کی تکبیر کہی اور اس آدمی نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی پھر اس نے نماز میں یہ دعا کی :

ان تعذبہ فکثر اعصاک وان تغفر لہ ففقیر الی رحمتک۔

اے اللہ ! اگر تو اس کو عذاب دے تو بہت سے لوگ تیرے نافرمان ہیں اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے۔

پھر حضرت عمر (رض) اور آپ کے ساتھیوں نے اس شخص کو دیکھا۔ پھر جب میت کو دفن کردیا گیا تو اس آدمی نے

اس کی قبر کو مٹی دے کر فرمایا :

اے صاحب قبر ! خوشی کا مقام ہے تیرے لیے ! اگر تو کاہن یا نجومی نہ تھا، اور ٹیکس لینے والا نہ تھا، اور خزانچی نہ تھا، اور منشی نہ تھا اور پولیس والا نہ تھا۔

حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس آدی کو میرے پاس لے کر آؤ۔ ہم اس سے اس کی نماز اور اس کے کلام کے متعلق پوچھیں گے۔ اور خود اس کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کون ہے ؟ مگر وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

لوگوں نے دیکھا تو اس کے پاؤں کا نشان ہاتھ بھر (آدھ گز کے قریب ) تھا۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ وہی خضر ہیں جن کے بارے میں ہم سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37833- عن أبي الطاهر أحمد بن السرح ثنا عبد الله بن وهب عمن حدثه عن ابن عجلان عن محمد بن المنكدر قال: بينما عمر بن الخطاب يصلي على جنازة إذا بهاتف يهتف من خلفه: لا تسبقنا بالصلاة يرحمك الله! فانتظره حتى لحق بالصف، فكبر عمر وكبر معه الرجل فقال الهاتف: إن تعذبه فكثيرا عصاك وإن تغفر له ففقير إلي رحمتك! فنظر عمر وأصحابه إلى الرجل، فلما دفن الميت وسوى الرجل عليه من تراب القبر قال: طوبى لك يا صاحب القبر إن لم تكن عريفا أو جابيا أو خازنا أو كاتبا أو شرطيا! فقال عمر: خذوا لي الرجل نسأله عن صلاته وكلامه هذا ومن هو، فتوارى عنهم، فنظروا فإذا أثر قدمه ذراع، فقال: هذا والله الخضر الذي حدثنا عنه النبي صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت الیاس (علیہ السلام)
٣٧٨٣٤۔۔۔ ابن عساکر ا بنانا ابو الکرم بن المبارک بن الحسن بن احمد بن علی الشھر زوری انبانا ابو البرکان عبدالملک بن احمد بن علی الشھر زوری انبانا عبداللہ بن عمر بن احمد الوعظ حدثنی ابی حدثنا احمد بن عبدالعزیز بن منیر الحدانی بمصر حدثنا ابو الطاھو خیربن عرفۃ الانصاری حدثنا ھانی، بن الحسن حدثنا بقیۃ عن الاوزاعی عن مکحول قال سمعت واثلۃ بن الاسقع۔

حضرت واثلۃ بن الاسقع (رض) ارشاد فرماتے ہیں : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم پلاء حذام میں حوزۃ نامی علاقے میں پہنچے تو وہاں ہم کو سخت پیاس لاحق ہوئی اور اچانک ہی ہم پر بارش کے آثار منڈلانے لگے۔ ہم بہت خوش ہوئے۔ اس کے علاوہ قریب ہی ہمیں ایک تالاب نظر آیا۔ لیکن اس میں دو مردار پڑے ہوئے تھے اور پھر وہاں تالاب پر درندے اکٹھے ہوگئے انھوں نے مرداروں کو کھالیا اور اسی تالاب سے پانی پیا (اور چلے گئے) ۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (آپ دیکھ رہے ہیں کہ ) ان مرداروں اور درندوں کا (اس پانی میں) اثر ہے۔

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں مگر یہ دونوں آسمان و زمین کے اکٹھے ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ درندے جو پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے لے گئے اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے ہے۔

حضرت واثلۃ بن الاسقع (رض) فرماتے ہیں : (ہمارے وہاں قیام کے دوران) جب ایک تہائی رات گذر گئی تو ہم کو کسی منادی کی نداء کان میں پڑی جو بڑی رنجیدہ آواز کے ساتھ پکار رہا تھا :

اللھم اجعلنی من امۃ محمد المرحومۃ المغفور لھا المستجاب لھا المبارک علیھا۔

اے اللہ ! مجھے امت محمدیہ میں سے کردے، جس امت پر تیری رحمت ہے اور اس کی مغفرت ہوچکی ہے اور اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان پر برکتیں نازل ہوتی ہیں۔

حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس !

اس گھاٹی میں جاؤ (جہاں سے یہ آواز آرہی ہے) اور یہ دیکھو یہ کیسی آواز ہے ؟

دونوں نے (آکر) کہا : ہم وہاں داخل ہوئے تو وہاں ایک آدمی تھا جس پر سفید لباس زیب تن تھا برف سے زیادہ سفید۔

اور اس کا چہرہ اور اس کی داڑھی بھی اسی طرح سخت سفید تھی۔ معلوم نہیں کہ اس کا لباس زیادہ سفید تھا یا اس کا چہرہ۔ اور اس کا قد ہم سے دویا تین ہاتھ زیادہ لمبا تھا۔ ہم نے اس کو سلام کیا اس نے ہمارے سلام کا جواب دیا۔

پھر فرمایا : خوش آمدید ہو۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ہو ؟ ہم نے عرض کیا :

ہاں۔ پھر ہم نے پوچھا : اللہ آپ پر رحم رکے، آپ کون ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : میں الیاس پیغمبر ہوں ((علیہ السلام)) ۔ میں مکہ کے ارادے سے نکلا تھا۔ پھر میں نے تمہارا لشکر دیکھا تو مجھے ملائکہ کے ایک لشکر، جس کے مقدمہ میں جبرائیل (علیہ السلام) اور پیچھے میکائیل (علیہ السلام) تھے، نے مجھے کہا : یہ آپ کے بھائی (محمد) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، آپ ان کو سلام کیجئے اور ان سے ملاقات کیجئے۔ لہٰذا اب تم دونوں جاکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا سلام عرض کرو اور ان کی خدمت میں میری درخواست سناؤ اور بولو کہ میں اس وجہ سے آپ کے لشکر میں داخل نہیں ہوسکتا کہ وہاں اونٹ (اور دوسرے جانور) بدک جائیں گے اور میرے قد کاٹھ کو دیکھ کر مسلمان پریشان ہوں گے کیونکہ میری تخلیق تمہاری تخلیق جیسی نہیں ہے۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرو۔ (مہربانی فرماکر) میرے پاس آجائیں۔

حضرت حذیفہ اور انس (رض) فرماتے ہیں : پھر ہم نے ان سے مصافحہ کیا تو انھوں نے انس (رض) سے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انھوں نے اپنے ساتھ کے متعلق بتایا : یہ حذیفہ بن الیمان (رض) ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز دار۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ان کو مبارک باددی اور فرمایا :

اللہ کی قسم ! یہ زمین سے زیادہ آسمانوں میں مشہور ہیں اور اہل آسمان ان کو رسول اللہ کے راز دار کے نام سے جانتے ہیں

حضرت حذیفہ (رض) نے حضرت الیاس (علیہ السلام) سے پوچھا : کیا آپ ملائکہ سے ملاقات کرتے ہیں ؟ انھوں نے جواب میں فرمایا : کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں میں ان سے ملاقات نہ کرتا ہوں۔ پھر وہ مجھے سلام کرتے ہیں اور میں ان کو سلام کرتا ہوں۔

دونوں صحابی رسول فرماتے ہیں : چنانچہ پھر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ تشریف لائے، حتی کہ ہم اسی گھاٹی میں پہنچ گئے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کا چہرہ نور سے تمتما رہا تھا گویا سورج کی روشنی چہرے سے نکل رہی ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو فرمایا :

تم یہیں ٹھہرو۔ پھر آپ پچاس قدم ہم سے آگے نکل کر تشریف لے گئے اور حضرت الیاس (علیہ السلام) سے خوب جی بھر کر بغل گیر ہوئے پھر دونوں پیغمبر بیٹھ گئے۔

دونوں صحابی فرماتے ہیں : پھر ہم نے پرندے کی مثل اونٹ جتنا بڑا پرندہ دیکھا جس نے اپنے پر ہمارے اور دونوں پیغمبر کے درمیان پھیلا رکھے تھے، اس کا رنگ سفید تھا اور وہ اس جگہ کو گھیرے ہوئے تھا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو آواز دی اے حذیفہ ! اے انس ! آجاؤ۔ چنانچہ ہم دونوں آگئے پہنچے، دیکھا تو ان کے سامنے سبز دستر خوان بچھا ہوا ہے میں نے اس سے اچھی چیز کبھی نہیں دیکھی، اس کی سبزی ہماری سفیدی پر غالب آرہی تھی حتی کہ ہمارے چہرے اور ہمارے لب اس بھی سبز ہوگئے تھے۔ دسترخوان پر دیکھا تو روٹیاں، انار، کیلے، انگور، تازہ کھجور اور گندنے کے علاوہ سبزیاں بھی تھیں۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ دونوں صحابی فرماتے ہیں : ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا یہ دنیا کا کھانا ہے ؟ تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں، حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ہم کو فرمایا : یہ میرا کھانا ہے اور مجھے ہر چالیس دن اور رات میں یہ کھانا ایک مرتبہ ملتا ہے اور ملائکہ میرے پاس یہ کھانا لے کر آتے ہیں۔ اور آج چالیس دن و رات پورے ہونے کے بعد یہ کھانا آیا ہے۔

اور اللہ کے لیے کن فرمانے کی دیر ہوتی ہے اور یہ حاضر ہوجاتا ہے دونوں صحابی فرماتے ہیں : ہم نے پوچھا : آپ کا کس طرف رخ سفر تھا ؟ فرمایا سلطنت رومیہ کے پیچھے۔ پھر فرمایا : میں ملائکہ کے لشکر میں تھا جو مسلمانوں کی مدد کررہا تھا۔ اور کفار کی جماعت سے لڑ رہا تھا۔ ہم نے پوچھا : وہاں سے یہاں تک کتنے عرصہ کا سفر ہے ؟ فرمایا : چار ماہ کا اور مجھے وہاں سے نکلے ہوئے دن دن ہوگئے ہیں۔ اور میں مکہ کی طرف جا رہا تھا تاکہ وہاں کا (زمزم) پانی پی سکوں۔ میں سال میں ایک مرتبہ وہ پانی پیتا ہوں جو مجھے سارا سال سیراب رکھتا ہے اور آئندہ آنے والے سال تک کے لیے میری حفاظت کرتا ہے۔ ہم نے پوچھا : کون سا علاقہ آپ کا زیادہ تر جائے سکونت رہتا ہے ؟ فرمایا :

شام، بیت المقدس، مغر، یمن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں ہوتی جہاں میں داخل نہ ہوتا ہوں چھوٹی ہو یا بڑی۔

ہم نے پوچھا : کہ حضرت خضر (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی ؟

ارشاد فرمایا : سال پہلے۔ موسم حج میں میری اور ان کی ملاقات ہوئی تھی۔

انھوں نے مجھے فرمایا تھا : تم مجھ سے قبل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کروگے۔ لہٰذا تم ان کو میرا سلام کہنا۔

پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الوداعی ) معانقہ کیا اور رونے لگے پھر ہم نے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور معانقہ کیا وہ بھی روئے ہم بھی روئے۔

پھر ہم نے ان کو دیکھا تو وہ آسمان کی طرف بلند ہو رہے تھے گویا انھوں نے کوئی بوجھ لاد رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ ہم نے بڑا تعجب خیز منظر دیکھا کہ وہ آسمان کی طرف از خود بلند ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ فرشتے کے دو پروں کے درمیان بیٹھ کر گئے ہیں جہاں چاہیں فرشتہ ان کو اتار دے گا ۔ (ابن عساکر، ھذا حدیث منکر، وانسادہ لیس بالقوی)

کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت چھوٹی من گھڑت ہے اور اس کی سند بھی قوی نہیں (یہاں صرف تنبیہ کے لیے ذکر کردی گئی۔ )
37834- ابن عساكر أنبأنا أبو الكرم بن المبارك بن الحسن بن أحمد بن علي الشهرزوري أنبأنا أبو البركات عبد الملك بن أحمد بن علي الشهرزوري أنبأنا عبد الله بن عمر بن أحمد الواعظ حدثني أبي حدثنا أحمد بن عبد العزيز بن منير الحراني بمصر حدثنا أبو الطاهر خير بن عرفة الأنصاري حدثنا هانيء بن الحسن حدثنا بقية عن الأوزاعي عن مكحول قال سمعت واثلة بن الأسقع قال: غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك حتى إذا كنا في بلاد حذام في أرض لهم يقال لها الحوزة وقد كان أصابنا عطش شديد فإذا بين أيدينا آثار غيث، فسرنا مليا فإذا بغدير وإذا فيه جيفتان وإذا السباع قد وردت الماء فأكلت من الجيفتين وشربت من الماء، فقلنا: يا رسول الله! هذه جيفتان وآثار السباع قد أكلت منهما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، هما طهوران اجتمعا من السماء والأرض لا ينجسهما شيء، وللسباع ما شربت في بطونها ولنا ما بقي،" حتى إذا ذهب ثلث الليل إذا نحن بمناد ينادي بصوت حزين: اللهم اجعلني من أمة محمد المرحومة المغفور لها المستجاب لها المبارك عليها! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا حذيفة! ويا أنس! ادخلا إلى هذا الشعب فانظرا ما هذا الصوت"، قالا: فدخلنا فإذا برجل عليه ثياب بيض أشد بياضا من الثلج وإذا وجهه ولحيته كذلك، ما أدري أيهما شد ضوءا ثيابه أو وجهه، فإذا هو أعلى جسما منا بذراعين أو ثلاثة فسلمنا عليه، فرد علينا السلام ثم قال: مرحبا! أنتما رسل رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالا: فقلنا: نعم، قالا: فقلنا: من أنت يرحمك الله؟ قال: أنا إلياس النبي، خرجت أريد مكة فرأيت عسكركم فقال لي جند من الملائكة على مقدمتهم جبريل وعلى ساقتهم ميكائيل: هذا أخوك رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم عليه والقه، ارجعا فأقرئاه مني السلام وقولا له: لم يمنعني من الدخول إلى عسكركم إلا أني أتخوف أن تذعر الإبل ويفزع المسلمون من طولي وإن خلقي ليس كخلقكم، قولا له: يأتيني، قال حذيفة وأنس: فصافحناه، فقال لأنس: من هذا؟ قال: هذا حذيفة بن اليمان صاحب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرحب به ثم قال: والله إنه لفي السماء أشهر منه في الأرض! تسميه أهل السماء "صاحب سر رسول الله" صلى الله عليه وسلم، قال حذيفة: هل تلقى الملائكة قال: ما من يوم إلا أنا ألقاهم ويسلمون علي وأسلم عليهم، فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فخرج معنا حتى أتينا الشعب وهو يتلألأ وجهه نورا فإذا ضوء وجه إلياس كالشمس، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "على رسلكم" فتقدمنا النبي صلى الله عليه وسلم قدر خمسين ذراعا وعانقه مليا ثم قعدا، قالا: فرأينا شيئا كهيئة الطير العظام بمنزلة الإبل قد أحدقت به وهي بيض وقد نشرت أجنحتها بيننا وبينهم، ثم صرخ بنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا حذيفة ويا أنس! تقدما" فتقدمنا فإذا بين أيديهم مائدة خضراء لم أر شيئا قط أحسن منها قد غلب خضرتها بياضنا فصارت وجوهنا خضرا وثيابنا خضرا وإذا عليها خبز ورمان وموز وعنب ورطب وبقل ما خلا الكراث، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "كلوا بسم الله،" قالا: فقلنا: يا رسول الله! أمن طعام الدنيا هذا؟ قال: "لا"، قال لنا: "هذا رزقي ولي في كل أربعين يوما وأربعين ليلة أكلة تأتيني بها الملائكة وهذا تمام الأربعين يوما والليالي، وهو شيء يقول الله له: كن فيكون". فقلنا: من أين وجهك؟ قال: "وجهي من خلف رومية، كنت في جيش من الملائكة مع جيش من المسلمين غزوا أمة من الكفار، فقلنا: فكم يسار من ذلك الموضع الذي كنت فيه؟ قال: أربعة أشهر، وفارقته أنا منذ عشرة أيام، وأنا أريد إلى مكة أشرب بها في كل سنة شربة وهي ريتي وعصمتي إلى تمام الموسم من قابل، فقلنا: فأي المواطن أكثر مقامك؟ قال: الشام وبيت المقدس والمغرب واليمن وليس من مسجد من مساجد محمد صلى الله عليه وسلم إلا وأنا أدخله صغيرا كان أو كبيرا، قلنا: الخضر متى عهدك به؟ قال: منذ سنة، كنت قد التقيت أنا وهو بالموسم وقد كان قال لي: إنك ستلقى محمدا صلى الله عليه وسلم قبلي فأقرئه مني السلام، وعانقه وبكى، ثم صافحناه وعانقناه وبكى وبكينا، فنظرنا إليه حتى هو في السماء كأنه يحمل حملا، فقلنا: يا رسول الله! لقد رأينا عجبا إذ هو إلى السماء، فقال: إنه يكون بين جناحي ملك حتى ينتهي به حيث أراد. قال ابن عساكر: هذا حديث منكر وإسناده ليس بالقوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت الیاس (علیہ السلام)
٣٧٨٣٥۔۔۔ (مسند ابن عباس (رض) اسباط (رح)، سدی (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا جس کا ایک بیٹا تھا جس کو خضر کہتے تھے، (علیہ السلام) اور الیاس اس کا بھائی تھا، (علیہ السلام) لوگوں نے بادشاہ کو کہا :

آپ ضعیف العمر ہوگئے ہیں اور آپ کا بیٹا خضر بادشاہی میں نہیں آتا ہے۔ آپ ایسا کریں کہ اس کی شادی کردیں۔ اس کا بیٹا ہوگا تو شاید وہ آپ کے بعد بادشاہی سنبھال لے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے بیٹے خضر (علیہ السلام) کو کہا : بیٹا شادی کرلے۔ بیٹے نے کہا : میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ باپ نے کیا : بیٹا اس کے بغیر تو چارہ کار نہیں۔ بیٹے نے کہا : تب آپ کی مرضی، شادی کردیں۔ چنانچہ باپ نے اپنے بیٹے خضر کی ایک کنواری عورت سے شادی کردی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس عورت کو فرمایا : مجھے عورتوں کی رغبت و حاجت نہیں ہے۔ اگر تو چاہتی ہے تو میرے ساتھ اللہ کی عبادت کرتی رہ اور شاہی رہن سہن اور کھانے کھاتی رہ اور اگر چاہے تو میں تجھے طلاق دے دیتا ہوں۔ عورت بولی : نہیں، بلکہ میں تیرے ساتھ اللہ کی عبادت کرتی رہوں گی۔ خضر نے فرمایا : ٹھیک ہے، مگر میرا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تو میرے راز کی حفاظت کرتی رہے گی تو اللہ تیری حفاظت کرتا رہے گا ۔ اور اگر تو، راز کو فاش کردے گی تو اللہ تجھے ہلاک کردے گا ۔

چنانچہ وہ سال بھر خضر کے ساتھ رہی اور اس نے کسی بچے کو جنم نہیں دیا۔

لہٰذا اس کو بادشاہ نے بلوایا اور کہا : تو جوان عورت ہے اور میرا بیٹا بھی جوان ہے۔

پھر بچہ کہاں ہے ؟ حالانکہ تو بچے دینے والی عورتوں میں سے ہے۔ عورت بولی : اولاد اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ پھر بادشاہ نے اپنے خضر کو بلایا اور بوچھا : اے بیٹے ! بچہ کہاں ہے ؟ خضر نے بھی وہی جواب دیا : بچہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔

کسی نے بادشاہ کو کہا : ممکن ہے یہ عورت بانجھ کوکھ ہو بچہ جننے کی اہلیت نہ رکھتی ہو۔

لہٰذا آپ اپنے بیٹے کی شادی کسی ایسی عورت سے کریں جس نے پہلے کوئی بچہ جنم دیا ہو۔

چنانچہ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو کہا تم اس بیوی کو طلاق دے دو خضر بولا : آپ میرے اور اس کے درمیان جدائی کرانا چاہتے ہو حالانکہ اب مجھے اس سے لگاؤ ہوگیا ہے۔ بادشاہ نے کہا : اس کو طلاق دئیے بغیر گذارہ نہیں۔ چنانچہ مجبوراً خضر نے اس بیوی کو طلاق دے دی۔ پھر بادشاہ نے اپنے بیٹے کی شادی یہ اسی تیبہ عورت (جس کی پہلے شادی ہوچکی ہو) سے کردی جس نے پہلے بچہ بھی جنا تھا۔

چنانچہ خضر نے اس کو بھی وہی بات کہی جو پہلی عورت کو شادی کے بعد کہی تھی۔

عورت نے بھی ویسا جواب دیا کہ میں تمہارے ساتھ عبادت کرتی رہوں۔ جب اس کو بھی سال گذر گیا تو بادشاہ نے اس کو بھی بلایا اور کہا : تو پہلے سے شادی شدہ عورت تھی اور تجھے پہلے بچہ بھی ہوچکا تھا، اب تیرا بچہ کہاں ہے ؟ عورت (راز کو مخفی نہ رکھ سکی اور ) بولی : بچہ مرد کے ملنے سے ہوتا ہے اور میرا مرد عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اس کو عورتوں کی طرف رغبت ہوتی نہیں۔ تب بادشاہ کو اپنے بیٹے پر سخت غصہ آیا اور اس کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ مگر خضر بھاگ گئے ان کی تلاش میں تین افراد نکلے۔ ان میں سے دو افراد نے خضر کو تلاش کرلیا۔

خضر نے ان کو کہا : تم مجھے چھوڑ دو مگر دونوں نے چھوڑنے سے انکار کردیا۔ پھر تیسرا متلاشی بھی ان کے پاس پہنچ گیا اس نے کہا : تم خضر کو بادشاہ کے پاس لے جانے سے گریز کرو، کہیں بادشاہ اسی کو سزا نہ دے اور یہ اس کا بیٹا ہے۔

چنانچہ دونوں کی سمجھ میں بات آگئی اور انھوں نے اس کو چھوڑ دیا۔

پھر بادشاہ کے پاس آکر دونوں نے خبر دی کہ انھوں نے خضر کو پکڑلیا تھا لیکن تیسرے نے اس کو ان سے لے لیا۔ چنانچہ بادشاہ نے تیسرے کو قید کرلیا۔ پھر بادشاہ نے غور و فکر کیا تو دونوں کو بلایا اور بولا : تم دونوں نے میرے بیٹے کو اتنا خوفزدہ کردیا کہ وہ مجھ سے بھاگ کر چلا گیا۔ لہٰذا پھر بادشاہ نے ان دونوں کے قتل کا حکم جاری کردیا اور عورت کو بھی بلایا اور اس کو کہا : تو نے میرے بیٹے کو فرار ہونے پر مجبور کیا ہے، اور اس کے راز کو فاش کیا ہے۔ اگر اس کا راز رکھتی تو وہ میرے پاس موجود ہوتا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کو بھی قتل کروا دیا۔ اور پہلی بیوی اور تیسرے آدمی کو آزاد کردیا۔

عورت نے جا کر شہر کے دروازے پر ایک چھپر ڈال لیا اور لکڑیاں اکٹھی کرکے ان کو بیچتی اور اس سے اپنا گذر سفر کرتی تھی۔

ایک مرتبہ وہی تیسرا آدمی فقیری حالت میں اس شہر سے نکلا اور اس نے بسم اللہ کہا۔ عورت نے اس سے پوچھا : کیا تو اللہ کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا :

میں خضر (علیہ السلام) کا ساتھ ہوں عورت بولی : اور میں خضر (علیہ السلام) کی پہلی بیوی ہوں۔

چنانچہ اس آدمی نے اس عورت سے شادی کرلی اور پھر اس کے ہاں اولاد بھی ہوئی۔

یہ عورت (خضر (علیہ السلام) کی طلاق یافتہ اور اس دوسرے آدمی کی بیوی) ، فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ تھی۔

اسیاط، عطاء بن السائب عن سعید بن جبیر عن ابن عباس (رض) کی سند سے روایت کرتے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ وہ عورت فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی چھوٹ کر گرگئی تو اس کے منہ سے نکلا :

سبحان ربی، میرا رب پاک ذات ہے۔ فرعون کی بیٹی بولی : یعنی میرا باپ ؟

عورت بولی : نہیں میرا اور تیرے باپ کا رب۔

فرعون کی بیٹی نے اس عورت کو ڈرایا کہ میں اپنے باپ کو خبر دوں گی۔

عورت بولی ٹھیک ہے۔ چنانچہ بیٹی نے اپنے باپ فرعون کو خبر کردی۔ فرعون نے اس کو بلوایا اور بولا اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجا۔ لیکن عورت نے انکار کردیا۔ فرعون نے تیل کا کڑاھا گرم کروایا حتی کہ جب وہ جوش مارنے لگا تو تب اس عورت سے پوچھا : کیا تو اپنے دین کی طرف آتی ہے ؟

اس نے تب بھی انکار کیا تو فرعون نے حکم دیا اور اس کی اولاد میں سے ایک بچے کو اس کڑاھے میں ڈال دیا گیا۔ پھر دوبارہ عورت سے پوچھا : کیا اپنے دین کی طرف واپس آتی ہے ؟ اس نے تب بھی انکار کیا پھر دوسرا بچہ ڈال دیا گیا۔

حتی کہ اس طرح اس عورت کی تمام اولاد کو ڈال دیا گیا پھر آخر میں پوچھا : اب لوٹتی ہے اپنے سابقہ دین کی طرف ؟ اس نے انکار کیا تو پھر اس کے لیے بھی حکم دیا گیا۔

عورت بولی : میری ایک حاجت ہے، پوچھا گیا : وہ کیا ؟ اس نے کہا : جب تو مجھے کڑاھے میں ڈال دے تو پھر یہ کڑاھا میرے گھر جو شہر کے دروازے پر ہے میں الٹوا دینا اور پھر کڑاھا نکال کر ہماری نعشوں پر اس گھر کو ڈھا دینا تاکہ وہ ہماری قبر بن جائے۔ بادشاہ نے کہا : بہتر ہے۔ تیرا اتنا تو ہم پر حق ہے۔ اور پھر بادشاہ نے اس کے حکم کو پورا کروایا۔

ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کے لیے لے جایا گیا تو میں نے ایک عمدہ خوشبو محسوس کی میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ کیسی خوشبو ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یہ خوشبو فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے (رواہ ابن عساکر
37835- "مسند ابن عباس" عن أسباط عن السدي قال: كان ملك وكان له ابن يقال له الخضر وإلياس أخوه، فقال الناس للملك: إنك قد كبرت وابنك الخضر ليس يدخل في ملك فلو زوجته لكي يكون ولده ملكا بعدك! فقال له: يا بني تزوج، فقال: لا أريد، قال: لا بد لك، قال: فزوجني، فزوجه امرأة بكرا، فقال لها الخضر: إنه لا حاجة لي في النساء، فإن شئت عبدت الله معي وأنت في طعام الملك ونفقته وإن شئت طلقتك، قالت: بل أعبد الله معك، قال: فلا تظهري سري، فإنك إن حفظت سري حفظك الله، وإن أظهرت عليه أهلك أهلكك الله. فكانت معه سنة لم تلد، فدعاها الملك فقال: أنت شابة وابني شاب فأين الولد وأنت من نساء ولد؟ فقالت: إنما الولد بأمر الله، ودعا الخضر فقال له: أين الولد يا بني؟ قال: الولد بأمر الله، فقيل للملك: فلعل هذه المرأة عقيم لا تلد، فزوجه امرأة قد ولدت فقال للخضر: طلق هذه، قال: تفرق بيني وبينها وقد اغتبطت بها! فقال: لا بد من طلاقها، فطلقها ثم زوجه ثيبا قد ولدت، فقال لها الخضر كما قال للأولى، فقالت: بل أكون معك، فلما كان الحول دعاها فقال: إنك ثيب قد ولدت قبل ابني فأين ولدك؟ فقالت: هل يكون الولد إلا من بعل وبعلي مشتغل بالعبادة لا حاجة له في النساء! فغضب لذلك وقال: اطلبوه، فهرب فطلبه ثلاثة فأصابه اثنان منهم، فطلب إليهما أن يطلقاه فأبيا، وجاء الثالث فقال: لا تذهبا به فلعله يضربه وهو ولده، فأطلقاه، ثم جاؤا إلى الملك، فأخبره الاثنين أنهما أخذاه وأن الثالث أخذه منهما، فحبس الثالث، ثم فكر الملك فدعا الاثنين فقال: أنتما خوفتما ابني حتى هرب فذهب، فأمر بهما فقتلا، ودعا بالمرأة فقال لها: أنت هربت ابني وأفشيت سره، لو كتمت عليه لأقام عندي، فقتلها وأطلق المرأة الأولى والرجل، فذهبت المرأة فاتخذت عريشا على باب المدينة، فكانت تحتطب وتبيعه وتتقوت بثمنه، فخرج رجل من المدينة فقير فقال: بسم الله فقالت المرأة: وأنت تعرف الله؟ قال: أنا صاحب الخضر، قالت: وأنا امرأة الخضر، فتزوجها وولدت له وكانت ماشطة ابنة فرعون. فقال أسباط عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنها بينا هي تمشط ابنة فرعون سقط المشط من يدها فقالت: سبحان ربي! فقالت ابنة فرعون: أبي؟ قالت: لا، ربي، ورب أبيك، فقالت: أخبر أبي! فقالت: نعم، فأخبرته، فدعا بها فقال: ارجعي، فأبت، فدعا ببقرة من نحاس وأخذ بعض ولدها فرمى به في البقرة وهي تغلي، ثم قال لها: ترجعين؟ قالت: لا، فأخذ الولد الآخر - حتى ألقى أولادها أجمعين ثم قال لها: ترجعين؟ قالت: لا، فأمر بها، قالت: إن لي حاجة، قال: وما هي؟ قالت: إذا ألقيتني بالبقرة تأمر بالبقرة أن تحمل ثم تكفأ في بيتي الذي على باب المدينة وتنحي البقرة وتهدم البيت علينا حتى يكون قبورنا، فقال: نعم، إن لك علينا حقا، ففعل بها ذلك. قال ابن عباس: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "مررت ليلة أسري بي فشممت رائحة طيبة فقلت: يا جبريل! ما هذا؟ " فقال: هذا ريح ماشطة بنت فرعون وولدها." كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوعثمان النہدی (رح)
٣٧٨٣٦۔۔۔ ابوعثمان نہدی (رح) سے مروی ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں حج کیا تھا پھر اس کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت عطا کی گئی تو میں بھی مسلمان ہوگیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں (جس عرصہ میں) حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوچکا تھا۔ (ابن مندہ)
37836- عن أبي عثمان النهدي قال: حججت في الجاهلية ثم بعث النبي صلى الله عليه وسلم فأسلمت، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجده قد مات."ابن منده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوعثمان النہدی (رح)
٣٧٨٣٧۔۔۔ حضرت عاصم (رح) سے مروی ہے کہ ابو عثمان نہدی (رح) سے پوچھا گیا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے ؟ تو انھوں نے ارشاد فرمایا : میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں مسلمان ہوگیا تھا اور اپنے تین (سال کے ) صدقات بھی آپ کی خدمت میں بھیجے تھے لیکن میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کا شرف حاصل نہ کرسکا۔ (رواہ ابن عساکر)

فائدہ :۔۔۔ ابو عثمان نہدی کا نام عبدالرحمن بن مل بن عمر بن عدی ہے۔ پہلے کوفہ میں پھر بصرہ میں سکونت اختیار کی۔ زمانہ جاہلیت کو پایا پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت ملی تو مسلمان ہوگئے اور اپنے صدقات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجے لیکن ملاقات نہ کرسکے۔ ساٹھ حج و عمرے کئے۔ ثقہ آدمی تھے، اپنی قوم کے عریف (پیشین گوئی کرنے والے) ٩٥ ھ میں وفات ہوئی۔ (تہذیب التہذیب ٦/ ٢٧٨) ۔
37837- عن عاصم قال: سئل أبو عثمان النهدي: هل رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أسلمت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وأديت إليه ثلاث صدقات ولم ألقه."كر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو وائل (رح)
٣٧٨٣٨۔۔۔ ابو وائل (رح) سے مروی ہے وہ اپنے متعلق فرماتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو اس وقت میں جوان لڑکا تھا لیکن تقدیر میں نہ تھا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کا شرف پاتا۔ (ابن کامل لابن عدی، ابن مندہ، ابن عساکر)
37838- عن أبي وائل قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أمرد فلم يقض لي أن ألقاه. "عد وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক: