কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৮৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو وائل (رح)
٣٧٨٣٩۔۔۔ ابو وائل (رح) سے مروی ہے ایک مرتبہ میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرا رہا تھا ایک قافلہ آیا جس کی وجہ سے میری بکریاں ادھر ادھر منتشر ہوگئیں۔ ان قافلے والوں میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : اس کی بکریاں جمع کردو جس طرح تم نے ان ادھر ادھر منتشر کردیا ہے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ میں نے ان کے پیچھے جا کر ایک آدمی سے پوچھا : یہ کون تھے ؟ اس نے بتایا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ (یعقوب بن سفیان، ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں وہ روایتیں جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ابو وائل نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا وہ زیادہ صحیح روایتیں ہیں۔
فائدہ :۔۔۔ ابو وائل کا نام شفیق بن سلمہ اسدی کوفی ہے۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ پایا تھا لیکن زیارت نہ کرسکے۔ ابن حبان ثقات میں فرماتے ہیں ان کی وفات ٨٠ ھ میں ہوئی۔ ابن سعد (رح) فرماتے ہیں ابو وائل بہت حدیث روایت کرنے والے اور ثقہ تھے۔ تہذیب التہذیب ٤/ ٣٦٢۔
کلام :۔۔۔ ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں وہ روایتیں جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ابو وائل نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا وہ زیادہ صحیح روایتیں ہیں۔
فائدہ :۔۔۔ ابو وائل کا نام شفیق بن سلمہ اسدی کوفی ہے۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ پایا تھا لیکن زیارت نہ کرسکے۔ ابن حبان ثقات میں فرماتے ہیں ان کی وفات ٨٠ ھ میں ہوئی۔ ابن سعد (رح) فرماتے ہیں ابو وائل بہت حدیث روایت کرنے والے اور ثقہ تھے۔ تہذیب التہذیب ٤/ ٣٦٢۔
37839- عن أبي وائل قال: بينما أنا أرعى غنما لأهلي فجاء ركب ففرقوا غنمي، فوقف رجل منهم فقال: اجمعوا لهذا غنمه كما فرقتموها عليه ثم اندفعوا، فاتبعت رجلا منهم فقلت: من هذا؟ قال: النبي صلى الله عليه وسلم. "يعقوب بن سفيان، كر، قال كر: الأحاديث في أنه لم ير النبي صلى الله عليه وسلم أصح
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو وائل (رح)
٣٧٨٤٠۔۔۔ ابراہیم نخعی (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں کوئی بستی ایسی نہیں ہوتی جس میں ایسے (ولی اللہ) نہ ہوں جن کی بدولت اس بستی سے عذاب ہٹایا جاتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ابو وائل ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37840- عن إبراهيم النخعي قال: ما من قرية إلا وفيها من يدفع عن أهلها به، وإني لأرجو أن يكون أبو وائل منهم."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالم بن عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٨٤١۔۔۔ (مسند عمر (رض)) منصور بن الحمید الضبی حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت سالم (رح) نے فرمایا : ایک قیدی کو حجاج کے روبروپیش کیا گیا۔ حجاج نے (حاضرین میں سے) حضرت سالم کو فرمایا : اے سالم ! اٹھ اور اس قیدی کی گردن اڑا۔ حضرت سالم نے اپنی تلوار سونت لی اور قیدی کے پاس آئے۔ لوگوں نے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو کہا : آپ کا بیٹا ایک قیدی کی گردن اڑانے گیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ لوگوں نے کہا : اس نے تلوار بھی سونت لی ہے اور اس کی طرف چل پڑا ہے آپ (رض) نے فرمایا : نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضرت سالم بن عبداللہ اس قیدی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے شخص ! کیا تو نے صبح کو اچھی طرح وضو کیا تھا اور نماز جماعت کے ساتھ ادا کی تھی ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں، چنانچہ حضرت سالم نے اپنی تلوار نیام میں کرلی اور واپس لوٹ گئے۔
حجاج نے پوچھا : آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ قیدی کی گردن مارتے ؟ حضرت سالم رحمۃ اللہ نے جواب دیا : اس بات نے جو میں اپنے والد سے سنی ہے وہ اپنے والد حضرت عمر (رض) سے اور وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر کے بیان کرتے ہیں کہ :
جس شخص نے صبح کی نماز کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے پڑوس میں آجاتا ہے۔
پھر حضرت سالم (رح) نے فرمایا : لہٰذا میں ایسے شخص کو قتل نہیں کرسکتا جو اللہ کا پڑوسی ہو اے حجاج !
ان کے والد نے کہا : اس کی ماں نے اس کا سالم نام رکھ کر غلطی نہیں کی (جس کا معنی ہے محفوظ) ۔ ابن النھار)
فائدہ :۔۔۔ سالم بن عبداللہ بن عمر (رض)۔ یہ مدینے کے بڑے فقہاء میں سے ہیں۔
امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے پوتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں اصح ترین سند الزھری عن سالم عن ابیہ کی ہے۔ ابن سعد فرماتے ہیں :
یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے، لوگوں میں بلند ترین رتبہ والے تھے۔ ١٠٦ ھ میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حج ٣/ ٤٥٨)
حجاج نے پوچھا : آپ کو کس چیز نے روکا کہ آپ قیدی کی گردن مارتے ؟ حضرت سالم رحمۃ اللہ نے جواب دیا : اس بات نے جو میں اپنے والد سے سنی ہے وہ اپنے والد حضرت عمر (رض) سے اور وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کر کے بیان کرتے ہیں کہ :
جس شخص نے صبح کی نماز کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے پڑوس میں آجاتا ہے۔
پھر حضرت سالم (رح) نے فرمایا : لہٰذا میں ایسے شخص کو قتل نہیں کرسکتا جو اللہ کا پڑوسی ہو اے حجاج !
ان کے والد نے کہا : اس کی ماں نے اس کا سالم نام رکھ کر غلطی نہیں کی (جس کا معنی ہے محفوظ) ۔ ابن النھار)
فائدہ :۔۔۔ سالم بن عبداللہ بن عمر (رض)۔ یہ مدینے کے بڑے فقہاء میں سے ہیں۔
امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے پوتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں اصح ترین سند الزھری عن سالم عن ابیہ کی ہے۔ ابن سعد فرماتے ہیں :
یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے، لوگوں میں بلند ترین رتبہ والے تھے۔ ١٠٦ ھ میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حج ٣/ ٤٥٨)
37841- "مسند عمر" عن منصور بن الحميد الضبي عن سالم ابن عبد الله بن عمر قال: جاؤا بأسير إلى الحجاج فقال الحجاج: قم يا سالم فاضرب عنق الأسير! فسل سيفه فأتاه فقالوا لأبيه عبد الله: إن ابنك ذهب ليضرب عنق الأسير! قال: ما كان ليفعل، قالوا: إنه قد سل سيفه فأتاه، فقال: ما كان ليفعل، فأتاه فقال: يا هذا! توضأت الغداة وضوءا حسنا وصليت في الجماعة؟ قال: نعم، فغمد سيفه ورجع، فقال الحجاج: ما منعك أن تضرب الأسير؟ قال: ما سمعت من والدي يحدث عن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما رجل توضأ صلاة الغداة وضوءا حسنا وصلى في الجماعة كان في جوار الله". ما كنت لأقتل جار الله يا حجاج! قال أبوه ما أخطأت أمه حين سمته سالما" ابن النجار"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شریح القاضی (رح)
٣٧٨٤٢۔۔۔ (مسند عمر (رض)) شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک گھوڑے کی قیمت لگوائی پھر اس کو پرکھنے کے لیے اس پر سوار ہوئے مگر گھوڑا ہلاک ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے مالک کو فرمایا : اپنا گھوڑا لے لو۔ مالک بولا : نہیں۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان قاضی (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرتا ہوں۔
آدمی نے کہا : شریح کو مقرر کیجئے۔ چنانچہ دونوں شریح (رح) کے پاس گئے۔
شریح نے کہا : اے امیر المومنین ! جو آپ نے خریدا ہے وہ لے لو ورنہ جیسی حالت میں خریدا تھا ویسی حالت میں واپس
کردو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک یہی درست فیصلہ ہے۔ تم کوفہ جاؤ۔ چنانچہ حضرت امیر المومنین نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کر کے بھیج دیا۔ اور یہ پہلا دن تھا جب قاضی شریح کو امیر المومنین نے پہچانا (الجامع عبدالرزاق، ابن سعد
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان قاضی (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرتا ہوں۔
آدمی نے کہا : شریح کو مقرر کیجئے۔ چنانچہ دونوں شریح (رح) کے پاس گئے۔
شریح نے کہا : اے امیر المومنین ! جو آپ نے خریدا ہے وہ لے لو ورنہ جیسی حالت میں خریدا تھا ویسی حالت میں واپس
کردو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک یہی درست فیصلہ ہے۔ تم کوفہ جاؤ۔ چنانچہ حضرت امیر المومنین نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کر کے بھیج دیا۔ اور یہ پہلا دن تھا جب قاضی شریح کو امیر المومنین نے پہچانا (الجامع عبدالرزاق، ابن سعد
37842- "مسند عمر" عن الشعبي قال: ساوم عمر بن الخطاب بفرس فركبه ليشوره1 فعطب، فقال الرجل: خذ فرسك، فقال الرجل: لا، فقال: أجعل بيني وبينك حكما، قال الرجل: شريح، فتحاكما إليه، فقال شريح يا أمير المؤمنين! خذ ما ابتعت أو رد كما أخذت، قال عمر: وهل القضاء إلا هكذا! سر إلى الكوفة، فبعثه إليها قاضيا عليها، وإنه لأول يوم عرفه فيه."عب، وابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شریح القاضی (رح)
٣٧٨٤٣۔۔۔ (مسند عمر (رض)) شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابن سور کو بصرہ کا قاضی بناکر بھیجا اور شریح کو کوفہ کا قاضی بنا کر بھیجا۔ (السنن البیھقی)
37843- "أيضا" عن الشعبي أن عمر بن الخطاب بعث ابن سور على قضاء البصرة، وبعث شريحا على قضاء الكوفة."هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شریح القاضی (رح)
٣٧٨٤٤۔۔۔ (مسند قاضی شریح) علی بن عبداللہ بن معاویہ بن میسرۃ بن شریح قاضی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں ہمارے والد نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے والد معاویہ سے انھوں نے اپنے دادا قاضی شریح سے نقل کیا ہے۔
قاضی شریح فرماتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یمن میں میرے کافی گھر والے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو بھی لے آؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر آئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات فرماچکے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ قاضی ابوامیہ شریح بن الحارث بن قیس حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے، لیکن آپ سے کوئی حدیث سننے کی نوبت نہیں آئی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو کوفہ پر قاضی مقرر کیا وہاں ساٹھ سال تک عہدہ قضاء پر متمکن رہے۔ آپ ثقہ تھے اور ٧٨ ھ میں ١٨٠ اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حجر ٤/ ٣٢٨)
قاضی شریح فرماتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یمن میں میرے کافی گھر والے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو بھی لے آؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر آئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات فرماچکے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ قاضی ابوامیہ شریح بن الحارث بن قیس حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے، لیکن آپ سے کوئی حدیث سننے کی نوبت نہیں آئی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو کوفہ پر قاضی مقرر کیا وہاں ساٹھ سال تک عہدہ قضاء پر متمکن رہے۔ آپ ثقہ تھے اور ٧٨ ھ میں ١٨٠ اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔ (تھذیب لابن حجر ٤/ ٣٢٨)
37844-"مسند شريح القاضي" عن علي بن عبد الله بن معاوية بن ميسرة بن شريح القاضي حدثنا أبي عن أبيه عن معاوية عن شريح قال: جاء شريح إلى النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله! إن لي أهل بيت ذوي عدد باليمن، فقال له: "جيء بهم"، فجاء بهم والنبي صلى الله عليه وسلم قد قبض."كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٤٥۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابو وائل (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک بڑھیا کے پاس سے گذرے جو سوق اللیل میں سے دودھ بیچ رہی تھی۔
حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : اے بڑھیا : مسلمانوں اور اللہ کے گھر کی زیارت کو آنے والوں کو دھوکا نہ دیا کر اور دودھ میں پانی نہ ملایا کر۔ بڑھیا بولی : ٹھیک ہے، یا امیر المومنین ! اس کے بعد پھر امیر المومنین کا اس بڑھیا کے پاس سے گذر ہوا تو فرمایا : اے بڑھیا : کیا میں نے پہلے تجھے منع نہیں کیا تھا کہ دودھ میں پانی نہ ملایا کر ؟ بڑھیا بولی : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا (کچھ) نہیں کیا۔ اس کی بیٹی اندر پردے سے بولی : اماں دھوکا دہی کے ساتھ جھوٹ بولنا بھی شروع کردیا ؟
حضرت عمر (رض) نے اس کی بات سنی تو بڑھیا کو سزا دینے کا ارادہ کیا مگر پھر اس کی بیٹی کی سچ گوئی کی وجہ سے اس کو معاف کردیا۔ پھر اپنے بیٹوں سے فرمایا : تم میں سے کون اس لڑکی سے شادی کرے گا ؟ شاید اللہ پاک اس سے اسی جیسی کوئی پاک روح پیدا فرمادے۔ حضرت عاصم بن عمر (رض) نے فرمایا : اے امیر المومنین ! میں اس سے شادی کروں گا۔ چنانچہ امیر المومنین عمر (رض) نے اسی لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی کردی۔
پھر اس لڑکی سے حضرت عاصم کی ایک بیٹی ام عاصم نام کی پیدا ہوئی۔
پھر ام عاصم سے عبدالعزیز بن مروان نے شادی کی تو ام عاصم کے ہاں عمر بن عبدالعزیز (ثانی عمر) پیدا ہوئے۔ (رواہ ابن النجار)
حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : اے بڑھیا : مسلمانوں اور اللہ کے گھر کی زیارت کو آنے والوں کو دھوکا نہ دیا کر اور دودھ میں پانی نہ ملایا کر۔ بڑھیا بولی : ٹھیک ہے، یا امیر المومنین ! اس کے بعد پھر امیر المومنین کا اس بڑھیا کے پاس سے گذر ہوا تو فرمایا : اے بڑھیا : کیا میں نے پہلے تجھے منع نہیں کیا تھا کہ دودھ میں پانی نہ ملایا کر ؟ بڑھیا بولی : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا (کچھ) نہیں کیا۔ اس کی بیٹی اندر پردے سے بولی : اماں دھوکا دہی کے ساتھ جھوٹ بولنا بھی شروع کردیا ؟
حضرت عمر (رض) نے اس کی بات سنی تو بڑھیا کو سزا دینے کا ارادہ کیا مگر پھر اس کی بیٹی کی سچ گوئی کی وجہ سے اس کو معاف کردیا۔ پھر اپنے بیٹوں سے فرمایا : تم میں سے کون اس لڑکی سے شادی کرے گا ؟ شاید اللہ پاک اس سے اسی جیسی کوئی پاک روح پیدا فرمادے۔ حضرت عاصم بن عمر (رض) نے فرمایا : اے امیر المومنین ! میں اس سے شادی کروں گا۔ چنانچہ امیر المومنین عمر (رض) نے اسی لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی کردی۔
پھر اس لڑکی سے حضرت عاصم کی ایک بیٹی ام عاصم نام کی پیدا ہوئی۔
پھر ام عاصم سے عبدالعزیز بن مروان نے شادی کی تو ام عاصم کے ہاں عمر بن عبدالعزیز (ثانی عمر) پیدا ہوئے۔ (رواہ ابن النجار)
37845- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي وائل قال: مر عمر بعجوز تبيع لبنا لها في سوق الليل فقال لها: يا عجوز! لا تغشي المسلمين وزوار بيت الله ولا تشوبي اللبن بالماء، فقالت: نعم يا أمير المؤمنين، فمر عليها بعد ذلك فقال: يا عجوز! ألم أقدم إليك أن لا تشوبي لبنك بالماء؟ فقالت: والله ما فعلت! فتكلمت ابنة لها من داخل الخباء: يا أمه؟ أغشا وكذبا جمعت على نفسك؟ فسمعها عمر فهم بمعاقبة العجوز فتركها لكلام ابنتها، ثم التفت إلى بنيه فقال: أيكم يتزوج هذه؟ فلعل الله يخرج منها نسمة طيبة مثلها! فقال عاصم بن عمر: أنا أتزوجها يا أمير المؤمنين! فزوجها إياه، فولدت له أم عاصم، فتزوج أم عاصم عبد العزيز بن مروان فولدت له عمر بن عبد العزيز."ابن النجار"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٤٦۔۔۔ عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اے آل عمر ! ہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ خلافت کا معاملہ ختم نہیں ہوگا جب تک کہ آل عمر میں سے ایسا ایک آدمی خلیفہ نہ بنے جو بعینہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے طرز پر چلے۔ اور اس کے چہرے میں ایک علامت بھی ہوگی۔ چنانچہ بلال بن عبداللہ بن عمر کے چہرے پر ایک تل تھا جس کی وجہ سے لوگ اسی کو وہی مارک شخص سمجھتے تھے حتی کہ اللہ پاک نے عمر بن عبدالعزیز کو کھڑا کردیا اور اس کی ماں ام عاصم بنت عاصم بن عمر بن خطاب تھی۔ (اور یہ آل بیٹی کی طرف سے نکلی جس طرح حضور کی آل بیٹی سے چلی۔ ) (التاریخ الخطیب، ابن عساکر)
37846- عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال: يا آل عمر! إنا كنا نتحدث أن هذا الأمر لا ينقضي حتى يلى رجل من آل عمر! يسير مسيرة عمر ويكون بوجهه علامة، قال: فكان بلال ابن عبد الله بن عمر بوجهه شامة فكانوا يرون أنه هو حتى جاء الله بعمر بن عبد العزيز، وأمه أم عاصم ابنة عاصم بن عمر بن الخطاب."ت في التاريخ، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٤٧۔۔۔ نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) اکثر فرمایا کرتے تھے :
کاش میں جان لیتا کہ وہ کون شخص ہوگا جو آل عمر سے ہوگا اور اس کے چہرے میں علامت ہوگی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
کاش میں جان لیتا کہ وہ کون شخص ہوگا جو آل عمر سے ہوگا اور اس کے چہرے میں علامت ہوگی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37847- عن نافع قال: كان ابن عمر يقول كثيرا: ليت شعري من هذا الذي من ولد عمر بن الخطاب في وجهه علامة يملأ الأرض عدلا."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٤٨۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) نے ارشاد فرمایا : خلفاء تین ہیں اور باقی سب بادشاہ ہیں۔ پوچھا گیا : یہ تین کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : ابوبکر، عمر اور عمر پوچھا گیا : ابوبکر وعمر کو تو ہم جانتے ہیں، یہ دوسرے عمر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : اگر تم زندہ رے تو اس کو پالو گے اور اگر مرگئے تو وہ تمہارے بعد آئے گا۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)
37848- عن سعيد بن المسيب قال: الخلفاء ثلاثة وسائرهم ملوك، قيل: من هؤلاء الثلاثة؟ قال: أبو بكر وعمر وعمر، قيل له: قد عرفنا أبا بكر وعمر فمن عمر الثاني؟ قال: إن عشتم أدركتموه، وإن متم كان بعدكم."نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٤٩۔۔۔ حبیب بن ھندا سلمی سے مروی ہے کہ مجھے حضرت سعید بن المسیب (رح) نے ارشاد فرمایا : خلفاء تین ہیں، میں نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ ابوبکر (رض)، عمر (رض) اور عمر (رح)۔
میں نے پوچھا : ابوبکر وعمر (رض) کو تو ہم جان گئے یہ اور عمر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا :
اگر تو جیا تو اس کو دیکھ لے گا اور اگر مرگیا تو وہ تیرے بعد ضرور آئے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
میں نے پوچھا : ابوبکر وعمر (رض) کو تو ہم جان گئے یہ اور عمر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا :
اگر تو جیا تو اس کو دیکھ لے گا اور اگر مرگیا تو وہ تیرے بعد ضرور آئے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37849- عن حبيب بن هند الأسلمي قال: قال لي سعيد بن المسيب: إنما الخلفاء ثلاثة، قلت: من؟ قال: أبو بكر وعمر وعمر، قلت: هذا أبو بكر وعمر قد عرفناهما فمن عمر؟ قال: إن عشت أدركته، وإن مت كان بعدك."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٥٠۔۔۔ مالک (رح) حضرت سعید بن المسیب (رح) سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے ارشاد فرمایا : خلفاء ابوبکر اور دوعمر ہیں۔ ان سے پوچھا : ابوبکر وعمر (رض) کو توہم جانتے ہیں۔ یہ دوسرے عمر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا :
ممکن ہے تو زندہ رہا تو اس کو پہچان لے گا یعنی عمر بن عبدالعزیز (رح) کو۔ (رواہ ابن عساکر)
ممکن ہے تو زندہ رہا تو اس کو پہچان لے گا یعنی عمر بن عبدالعزیز (رح) کو۔ (رواہ ابن عساکر)
37850- عن مالك عن سعيد بن المسيب أنه قال: الخلفاء أبو بكر والعمران، فقيل له: أبو بكر وعمر قد عرفناهما فمن عمر الآخر؟ قال: يوشك إن عشت أن تعرفه - يريد به عمر بن عبد العزيز."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٥١۔۔۔ یونس بن ھلال حضرت (ابن شہاب) زہری (رح) سے روایت کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے مرفوعاً ۔ ارشاد فرمایا :
کوئی امت جو سو سال تک اللہ کی اطاعت کرتی ہے وہ اس طاعت کی برکت اسی قدر کھاتی ہے اور اگر کسی امت پر سو سال ایسے گذر جائیں کہ وہ ان میں اللہ کی نافرمانی کرتی رہے تو وہ امت ہلاک ہوجاتی ہے اور بےنام ونشان ہوجاتی ہے۔
پس اللہ پاک نے اس امت پر جن لوگوں کی بدولت رحم کیا ان میں سے عمر بن عبدالعزیز (رح) (اور ان) کی خلافت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
کوئی امت جو سو سال تک اللہ کی اطاعت کرتی ہے وہ اس طاعت کی برکت اسی قدر کھاتی ہے اور اگر کسی امت پر سو سال ایسے گذر جائیں کہ وہ ان میں اللہ کی نافرمانی کرتی رہے تو وہ امت ہلاک ہوجاتی ہے اور بےنام ونشان ہوجاتی ہے۔
پس اللہ پاک نے اس امت پر جن لوگوں کی بدولت رحم کیا ان میں سے عمر بن عبدالعزیز (رح) (اور ان) کی خلافت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37851- عن يونس بن هلال عن الزهري قال: لا أظنه إلا رفعه قال: ما من أمة يعملون بطاعة الله مائة سنة فتأتي عليهم وهم يعملون بطاعة الله إلا أكلوا مثلها، فإن أتت عليهم المائة وهم يعملون بمعصية الله إلا هلكوا وأبيدوا، فكان مما رحم الله هذه الأمة خلافة عمر بن عبد العزيز."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بن عبدالعزیز (رح)
٣٧٨٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا :
بنی امیہ کو لعنت نہ کرو بیشک ان میں ایک نیک صالح امیر ہوگا۔ یعنی عمر بن عبدالعزیز۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الذھد)
فائدہ :۔۔۔ ابوجعفر عمر بن عبدالعزیز قریشی مدنی (رح) خلیفۃ المسلمین تھے ٦٣ سال عمر پائی۔ ثقہ اور عادل حاکم تھے ١٠١ ھ میں وفات پائی۔ (تھذیب ٧/ ٤٧٥)
بنی امیہ کو لعنت نہ کرو بیشک ان میں ایک نیک صالح امیر ہوگا۔ یعنی عمر بن عبدالعزیز۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الذھد)
فائدہ :۔۔۔ ابوجعفر عمر بن عبدالعزیز قریشی مدنی (رح) خلیفۃ المسلمین تھے ٦٣ سال عمر پائی۔ ثقہ اور عادل حاکم تھے ١٠١ ھ میں وفات پائی۔ (تھذیب ٧/ ٤٧٥)
37852- عن علي قال: لا تلعنوا بني أمية فإن فيهم أميرا صالحا - يعني عمر بن عبد العزيز. "عم في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام شافعی (رح)
٣٧٨٥٣۔۔۔ (مسند عمر (رض)) قال البیھقی فی السنن : ثنا ابوسعد احمد بن محمد المالینی ثنا ابوبکر الاسماعیلی ثنا عبداللہ بن وھب یعنی الدینوری ثنا عبداللہ بن محمد بن ہارون الفریابی قال سمعت الشافعی محمد بن ادریس بمکۃ یعقول :
امام شافعی (رح) نے ایک مرتبہ مکہ میں لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا :
اے لوگو ! جو چاہو تم مجھ سے سوال کرو، میں کتاب اللہ عزوجل اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تم کو جواب دوں گا۔
محمد بن ہارون جو اس روایت کے راوی ہیں کہتے ہیں : میں نے ان کو عرض کیا :
اللہ آپ کو درست رکھے آپ اس محرم کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو زنبور (بھڑ، تتیے) کو قتل کردے ؟
حضرت امام (رح) نے فرمایا : ہاں، بسم اللہ الرحمن الرحیم : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فاتنھوا۔
اور جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔
پھر فرمایا : حدثنا سفیان بن عیینہ بن عبدالملک بن عمیر عن ربعی عن حذیفۃ یعنی حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
میرے بعد والے یعنی ابوبکر وعمر کی اقتداء کرنا۔
پھر فرمایا : حدثنا سفیان بن عیینۃ عن مسعرقیس بن مسلم عن طارق بن شھاب عن عمر بن خطاب یعنی حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے محرم کو زنبور (بھڑ، تتیے) کے قتل کا حکم دیا۔ (السنن البیھقی)
فائدہ :۔۔۔ امام کبیر ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی، قریشی، ہاشمی مطلبی مکی اہل سنت کے چار بڑے اماموں میں سے ایک ہیں۔ (١٥٠ ھ میں پیدا ہوئے اور ٢٠٤ ھ میں وفات پائی۔ بہترین کتاب جس میں ان کے حالات درج ہیں وہ امام بیہقی (رح) کی عربی تصنیف ” مناقب الشافعی “ دو جلدوں میں ہے۔
امام شافعی (رح) نے ایک مرتبہ مکہ میں لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا :
اے لوگو ! جو چاہو تم مجھ سے سوال کرو، میں کتاب اللہ عزوجل اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تم کو جواب دوں گا۔
محمد بن ہارون جو اس روایت کے راوی ہیں کہتے ہیں : میں نے ان کو عرض کیا :
اللہ آپ کو درست رکھے آپ اس محرم کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو زنبور (بھڑ، تتیے) کو قتل کردے ؟
حضرت امام (رح) نے فرمایا : ہاں، بسم اللہ الرحمن الرحیم : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فاتنھوا۔
اور جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔
پھر فرمایا : حدثنا سفیان بن عیینہ بن عبدالملک بن عمیر عن ربعی عن حذیفۃ یعنی حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
میرے بعد والے یعنی ابوبکر وعمر کی اقتداء کرنا۔
پھر فرمایا : حدثنا سفیان بن عیینۃ عن مسعرقیس بن مسلم عن طارق بن شھاب عن عمر بن خطاب یعنی حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے محرم کو زنبور (بھڑ، تتیے) کے قتل کا حکم دیا۔ (السنن البیھقی)
فائدہ :۔۔۔ امام کبیر ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی، قریشی، ہاشمی مطلبی مکی اہل سنت کے چار بڑے اماموں میں سے ایک ہیں۔ (١٥٠ ھ میں پیدا ہوئے اور ٢٠٤ ھ میں وفات پائی۔ بہترین کتاب جس میں ان کے حالات درج ہیں وہ امام بیہقی (رح) کی عربی تصنیف ” مناقب الشافعی “ دو جلدوں میں ہے۔
37853- "مسند عمر" قال البيهقي في السنن: ثنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني ثنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا عبد الله بن وهب يعني الدينوري ثنا عبد الله بن محمد هارون الفريابي قال: سمعت الشافعي محمد بن إدريس بمكة يقول: سلوني ما شئتم أنبئكم من كتاب الله عز وجل ومن سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم! قال: فقلت له: أصلحك الله ما تقول في المحرم يقتل زنبورا؟ قال: نعم، بسم الله الرحمن الرحيم، قال الله تعالى {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} ، حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اقتدوا باللذين من بعدي: أبي بكر وعمر"، وحدثنا سفيان بن عيينة عن مسعر قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه أمر المحرم بقتل الزنبور."هق
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن الحنفیہ (رح)
٣٧٨٥٤۔۔۔ محمد بن الحنفیۃ (رح) سے مروی ہے کہ (میرے والد) حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت طلحہ (رض) کے درمیان بات چلی۔ حضرت طلحہ (رض) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا : آپ کی جرات دیکھئے کہ آپ نے ان (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کا نام (اپنے بیٹے کا نام) رکھا اور ان کی (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ) کنیت بھی ان کو دی۔ حالانکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا ان دونوں کو (کسی ایک کے لیے ) جمع نہیں کیا جائے گا۔ اور دوسرے الفاظ روایت کے یہ ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ آپ کی امت میں سے آپ کے بعد ان کو کوئی جمع کرے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جری وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جرات کرے، بلاؤ فلاں فلاں قریش کے لوگوں کو۔ چنانچہ وہ آئے تو انھوں نے بھی شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا : میرے بعد عنقریب تیرے ہاں ایک بچہ ہوگا میں اس کو اپنا نام اور اپنی کنیت عطیہ کرتا
ہوں اور اس کے بعد میری امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ (ابن سعد، ابن عساکر)
ہوں اور اس کے بعد میری امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ (ابن سعد، ابن عساکر)
37854- عن محمد ابن الحنفية1 قال: وقع بين علي وطلحة كلام فقال طلحة لعلي: ومن جرأتك أنك سميت باسمه وكنيت بكنيته وقد قال صلى الله عليه وسلم: "لا يجتمعان" - وفي لفظ: قد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن يجمعهما أحد من أمته بعده - فقال علي: إن الجرئ من أجترأ على الله ورسوله، ادعوا لي فلانا وفلانا - لنفر من قريش، فجاؤا فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي: "إنه سيولد لك بعدي غلام" - وفي لفظ: "ولد - نحلته اسمي وكنيتي، ولا يحل لأحد من أمتي بعده". "ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن الحنفیہ (رح)
٣٧٨٥٥۔۔۔ حضرت علی بن الحسین (رح) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : شاہ روم نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا اور اس کو ڈرایا دھمکایا اور قسم کھائی کہ وہ اس پر ایک لاکھ خشکی کی فوج اور ایک لاکھ بحری فوج چڑھا کر لائے گا یا تو جزیہ دے دے۔
خط عبدالملک بن مروان کے ہاتھ میں آیا تو اس نے (خط کے جواب کے لیے ترکیب کی کہ ) حجاج کو خط لکھا کہ تو ابن الحنفیہ کو خط لکھ اور اس میں اس کو ڈرادھمکا پھر مجھے بتا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ چنانچہ حجاج نے ابن الحنفیہ کو خط لکھا اور اس میں ان کو سخت ڈرایا دھمکایا اور قتل کی دھمکیاں دیں۔ حضرت ابن الحنفیہ (رح) نے حجاج کو جواب لکھا :
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف تین سو ساٹھ مرتبہ التفات فرماتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ اللہ پاک میری طرف ایک مرتبہ التفات فرمائیں گے تو وہ التفات رحمت تجھ کو مجھ سے روک دے گی۔
حجاج نے مذکور، خط عبدالملک بن مروان کو بھجوادیا۔ عبدالملک بن مروان نے اسی جواب کو نقل کرا کر شاہ روم کو بھجوا دیا شاہ روم بولا : یہ خط آیا تو تیری طرف سے ہے لیکن بات کسی اور کی ہے، صرف نبوت کے گھرانے سے ایسی بات نکل سکتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
خط عبدالملک بن مروان کے ہاتھ میں آیا تو اس نے (خط کے جواب کے لیے ترکیب کی کہ ) حجاج کو خط لکھا کہ تو ابن الحنفیہ کو خط لکھ اور اس میں اس کو ڈرادھمکا پھر مجھے بتا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ چنانچہ حجاج نے ابن الحنفیہ کو خط لکھا اور اس میں ان کو سخت ڈرایا دھمکایا اور قتل کی دھمکیاں دیں۔ حضرت ابن الحنفیہ (رح) نے حجاج کو جواب لکھا :
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف تین سو ساٹھ مرتبہ التفات فرماتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ اللہ پاک میری طرف ایک مرتبہ التفات فرمائیں گے تو وہ التفات رحمت تجھ کو مجھ سے روک دے گی۔
حجاج نے مذکور، خط عبدالملک بن مروان کو بھجوادیا۔ عبدالملک بن مروان نے اسی جواب کو نقل کرا کر شاہ روم کو بھجوا دیا شاہ روم بولا : یہ خط آیا تو تیری طرف سے ہے لیکن بات کسی اور کی ہے، صرف نبوت کے گھرانے سے ایسی بات نکل سکتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37855- عن علي بن الحسين قال: كتب ملك الروم إلى عبد الملك بن مروان يهدده ويتوعده ويحلف له ليحمل إليه مائة ألف في البر ومائة ألف في البحر أو يؤدي الجزية، فسقط في يده فكتب إلى الحجاج أن اكتب إلى ابن الحنفية فتهدده وتوعده ثم أعلمني ما يرد عليك، ثم كتب الحجاج إلى ابن الحنفية بكتاب شديد يهدده ويتوعده فيه بالقتل، فكتب إليه ابن الحنفية: إن لله تعالى ثلاثمائة وستين لحظة إلى خلقه وأنا أرجو أن ينظر الله إلي نظرة يمنعني بها منك، فبعث الحجاج بكتابه إلى عبد الملك فكتب عبد الملك إلى ملك الروم بنسخته، فقال ملك الروم: خرج هذا منك ولا أنت كتبت به، ما خرج إلا من بيت نبوة."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن الحنفیہ (رح)
٣٧٨٥٦۔۔۔ (مسند علی (رض)) بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ حضرت طلحہ (رض) اور حضرت علی (رض) کے درمیان گفت و شنید ہوئی۔ حضرت طلحہ (رض) نے حضرت علی (رض) کو فرمایا : آپ نے حضور کا نام (اپنے بیٹے کے لیے ) رکھا اور ان کی کنیت بھی اس کے لیے تجویز کی۔
حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آپ کی امت میں ان کو جمع نہ کرے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک جری وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر جرات کرے، اے فلاں، میرے پاس فلاں فلاں لوگوں کو بلاکر لاؤ۔ چنانچہ چند قریشی اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور انھوں نے شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو رخصت دی تھی اور کہ وہ ان کو جمع کرسکتے ہیں لیکن ان کے علاوہ باقی امت پر ان کو حرام کردیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آپ کی امت میں ان کو جمع نہ کرے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک جری وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر جرات کرے، اے فلاں، میرے پاس فلاں فلاں لوگوں کو بلاکر لاؤ۔ چنانچہ چند قریشی اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور انھوں نے شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو رخصت دی تھی اور کہ وہ ان کو جمع کرسکتے ہیں لیکن ان کے علاوہ باقی امت پر ان کو حرام کردیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37856- "مسند علي" عن ابن الحنفية قال: وقع بين طلحة وبين علي كلام فقال لعلي: إنك تسمي باسمه وتكني بكنيته وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك أن يجمعا لأحد من أمته! فقال علي إن الجرئ من اجترأ على الله وعلى رسوله، يا فلان ادع لي فلانا وفلانا! فجاء نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من قريش، فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لعلي أن يجمعهما وحرمهما على أمته من بعده. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن الحنفیہ (رح)
٣٧٨٥٧۔۔۔ (مسند علی (رض)) ربیع بن منذر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ حضرت علی (رض) اور حضرت طلحہ (رض) کے درمیان بحث ہوئی۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا جری وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر جرات کرے۔ اے فلاں فلاں فلاں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، چنانچہ وہ قریش کے ایک گروہ کو بلا لایا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : تم کیا شہادت دیتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (آپ کو) ارشاد فرمایا تھا، تم میرا نام رکھنا اور میری کنیت رکھنا اور تمہارے بعد کسی کے لیے حلال نہیں۔ رواہ ابن عساکر۔
37857- "أيضا" عن الربيع بن منذر عن أبيه قال: كان بين علي وبين طلحة كلام فقال علي: إن الجرئ من اجترأ على الله وعلى رسوله، يا فلان ادع لي فلانا وفلانا! فدعا نفرا من قريش، فقال: بم تشهدون؟ قالوا: نشهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "سم باسمي وكن بكنيتي ولا تحل لأحد بعدك". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن الحنفیہ (رح)
٣٧٨٥٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب میرے بعد تجھے ایک لڑکا ہوگا میں اس کو اپنا نام اور اپنی کنیت بخشتا ہوں۔ (الدلائل للبیھقی، الواھیات لابن الحوزی، ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ علامہ ابن جوزی (رح) نے مذکورہ روایت کو واہیات یعنی لغو اور بےاصل روایتوں میں ذکر کیا ہے۔
کلام :۔۔۔ علامہ ابن جوزی (رح) نے مذکورہ روایت کو واہیات یعنی لغو اور بےاصل روایتوں میں ذکر کیا ہے۔
37858- عن علي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "سيولد لك بعدي غلام قد نحلته اسمي وكنيتي".ق في الدلائل، وابن الجوزي في الواهيات، كر".
তাহকীক: