কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৮৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محمد بن علی بن الحسین رحمہم اللہ
٣٧٨٥٩۔۔۔ ابوجعفر (رح) محمد بن علی بن حسین سے مروی ہے آپ (رح) نے ارشاد فرمایا : لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہی مہدی ہوں جب کہ میں مہدی ہونے کی بجائے موت کے زیادہ قریب ہوں۔

بات یہ ہے کہ اگر لوگ اس بات پر متفق الرائے ہوجائیں کہ ان کو فلاں (شخص کے ) دروازے سے عدل و انصاف ملے گا تو تقدیر خداوندی ان کے اس خیال کو باطل کردے گی اور ان کو دوسرے دروازے سے ہدایت نوازے گی۔ (یہی حال ان کے مذکورہ خیال کا ہے) ۔ (رواہ ابن عساکر)

فائدہ :۔۔۔ امام باقر ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین ہاشمی مدنی آل رسول میں سے ہیں ١٨٠ ھ میں تہتر ٧٣ سال کی عمر میں وفات پائی۔ (تھذیب التھذیب لابن حج ٩/ ٣٥١)
37859- عن أبي جعفر قال: يزعمون أني أنا المهدي، وإني إلى الأجل أدنى مني إلى ما يدعون، ولو أن الناس اجتمعوا على أن يأتيهم العدل من باب لخالفهم القدر حتى يأتي به من باب آخر."كر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زید بن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٨٦٠۔۔۔ جابر بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! وہ زمانہ جاہلیت میں قبلہ رخ ہو کر کہا کرتا تھا : میرا معبود صرف وہی ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا اور میرا دین وہی ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کا دین تھا اور وہ سجدہ کرتا تھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا قیامت کے دن ایک برحق امت کے ساتھ حشر ہوگا جو میرے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے درمیانی زمانے میں تھی۔ (رواہ ابن عساکر)
37860- عن جابر بن عبد الله قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن عمرو بن نفيل فقيل! يا رسول الله! إنه كان يستقبل القبلة في الجاهلية ويقول: إلهي إله إبراهيم وديني دين إبراهيم، ويسجد،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يحشر ذاك أمة وحده بيني وبين عيسى ابن مريم (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زید بن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٨٦١۔۔۔ حضرت عروج سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زید (رح) بن عمروبن نفیل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

وہ قیامت کے روز ایک امت بنا کر اٹھایا جائے گا جو میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان تھی۔ (رواہ ابن عساکر)
37861 عن عروة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن زيد ابن عمرو بن نفيل ، فقال يبعث يوم القيامة أمة وحده بيني وبين عيسى ابن مريم (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زید بن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٨٦٢۔۔۔ (مسند سعید (رض)) نفیل بن ہشام بن سعید بن زید بن عمروبن نفیل اپنے والد ہشام سے اور وہ ان کے دادا یعنی حضرت سعید (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ (ان کے والد یعنی ) زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل دونوں دین حق کی تلاش میں نکلے اور اسی تلاش میں موصل میں ایک راہب کے پاس پہنچے۔ راہب نے زید بن عمرو سے پوچھا : اے اونٹ والے تو کہاں سے آیا ہے ؟ زید بولے : ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے گھر (یعنی بیت اللہ کے پاس) سے ؟ پھر راہب نے پوچھا : اور کس چیز کی تلاش میں زید بولے : دین حق کی تلاش میں راہب بولا : تو واپس جا، عنقریب تیری اپنی سرزمین میں وہ دین حق ظاہر ہوجائے گا۔

چنانچہ ورقہ بن نوفل تو نصرانی المذہب ہوگئے جب کہ زید بن عمرو نے نصرانیت کو قبول نہ کیا اور یہ اشعار پڑھتے ہوئے وہ ان سے واپس ہوگئے۔

لبیک حقاً حقاً ، تعبداً ورقاً ۔

میں حاضر ہوں دین حق کے لیے خدا کی بندگی کے لیے اور اس غلامی کے لئے۔

البرا غنی لاالمال۔ وھل مھاجر کماقال۔

میں نیکی ہی کی تلاش میں ہوں نہ کہ مال کی۔ اور نہیں ہے میری ہجرت کسی اور مقصد کے لئے۔

عذت بما عاذبہ ابراھیم۔

میں پناہ مانگتا ہوں جس چیز سے ابراہیم (علیہ السلام) نے پناہ مانگی۔

زید بن عمرو کے بیٹے سعید بن زید (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے والد کو آپ نے دیکھا ہی تھا جیسا کہ آپ نے دیکھا اور جیسا کہ آپ کو خبر بھی پہنچی ہے، لہٰذا آپ ان کے لیے استغفار فرما دیجئے۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں (ضرور) پھر ارشاد فرمایا : ان کو قیامت کے دن ایک (برحق) امت (کی حالت میں) اٹھایا جائے گا۔

ایک مرتبہ خود زید بن عمروبن نفیل (رح) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے زید بن حارثہ بھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور یہ دونوں ایک دستر خوان سے کھا رہے تھے۔ دونوں نے زید بن عمرو بن نفیل کو کھانے پر بلایا تو زید بن عمروبن نفیل نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا : جو جانور بتوں کے نام پر ذبح کئے جائیں اے بھتیجے ! (محمد ! ) ہم ان کو نہیں کھاتے۔ (ابوداؤد، ابو نعیم، ابن عساکر)
37862 * (مسند سعيد) * عن نفيل بن هاشم بن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل عن أبيه عن جده أن زيد بن عمرو بن نفيل وورقة بن نوفل خرجا يلتمسان الدين حتى انتهيا إلى راهب بالموصل فقال لزيد ابن عمرو : من أين أقبلت يا صاحب البعير ؟ قال من بنية إبراهيم ، قال : وما تلتمس ؟ قال : ألتمس الدين ، قال : ارجع فانه يوشك أن يظهر الذي تطلب في أرضك ، فأما ورقة فتنصر وأما أنا فعرضت علي النصرانية فلم توافقني ، فرجع وهو يقول : لبيك حقا حقا تعبدا ورقا البر أبغي لا الحال وهل مهاجر كما قال عذت بما عاذ به إبراهيم قال : وجاء ابنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يارسول الله ! إن أبي كان كما رأيت وكما بلغك فاستغفر له ، قال : نعم ، قال : فانه يبعث يوم القيامة أمة وحده ، قال : وأتى زيد بن عمرو بن نفيل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه زيد بن حارثة وهما يأكلان من سفرة لهما فدعواه لطعامهما فقال زيد بن حارثة للنبي صلى الله عليه وسلم : يا ابن أخي ! إنا لا نأكل مما ذبح على النصب (ط وأبو نعيم ، كر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زید بن عمروبن نفیل (رض)
٣٧٨٦٣۔۔۔ سعید (رض) بن زید (رح) سے مروی ہے کہ میں نے اور عمر بن خطاب (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زید عمروبن نفیل کے متعلق سوال کیا، تو فرمایا : وہ قیامت کے دن ایک امت (مسلمہ کے ساتھ) آئیں گے۔ (مسند ابی یعلی، ابونعیم، ابن عساکر)
37863 عن سعيد بن زيد قال : سألت أنا وعمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن زيد بن عمرو بن نفيل فقال : يأتي يوم القيامة أمة وحده (ع وأبو نعيم ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شاہ حبشہ نجاشی (رح)
٣٧٨٦٤۔۔۔ حضرت سعید بن زید (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نجاشی کے لیے دعائے مغفرت کرو۔ (رواہ ابونعیم)

فائدہ :۔۔۔ مذکورہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ تھے جن کا نام اصحمۃ بن ابحر تھا۔ نجاشی ان کا لقب تھا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کرکے جانے کی اور زیارت کرنے کی سعادت نہ ہوسکی اور فتح مکہ سے قبل وفات پاگئے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور نماز میں چار تکبیریں ادا فرمائیں۔ (اسد الغابہ، ١/ ١٢٠)
37864 عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استغفروا للنجاشي (أبو نعيم)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقمان حکیم (رح)
٣٧٨٦٥۔۔۔ نوفل بن سلیمان ھنائی، عبداللہ بن عمر سے، وہ نافع سے اور نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

حق بات یہ ہے کہ لقمان نبی نہ تھے۔ لیکن (اللہ کے) ثابت قدم بندے تھے، بہت زیادہ غور و فکر کرنے والے اور اچھے

خیالات کے مالک تھے۔ انھوں نے اللہ سے محبت رکھی اللہ نے ان کو محبوب بنالیا اور ان کو حکمت سے نوازا۔

ایک مرتبہ لقمان (رح) دن کو سوئے ہوئے تھے کہ ان کو ایک آواز آئی : اے لقمان ! کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ پاک تم کو زمین میں خلافت (بادشاہت) عطا فرمائے اور تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو ؟ لقمان یہ آواز سن کر بیدار ہوگئے اور انھوں نے اس آواز کا جواب دیا : اگر میرا رب مجھے اختیار دے گا (حکم دے گا) تو میں قبول کرلوں گا کیونکہ مجھے علم ہے کہ اگر پروردگار مجھے یہ منصب عطا کرے گا تو میری مدد بھی کرے گا اور مجھے اس کا علم عطا کرے گا اور مجھے (خطاء میں پڑنے سے) محفوظ رکھے گا، لیکن اگر میرا رب مجھے اختیار دے تو میں عافیت کو قبول کروں گا اور (خلافت کی) مصیبت کو قبول نہ کروں گا۔ ملائکہ نے نرم آواز میں پوچھا : کیوں اے لقمان ! حضرت لقمان (رح) نے ارشاد فرمایا : کیونکہ حاکم سخت حالات میں گھرا رہتا ہے اور ظلم ہر طرف سے اس پر چھا جاتا ہے (ظلم کرنے کے خطرات درپیش ہوتے ہیں، پھر وہ ان سے جنت کا راستہ خطا ہوجاتا ہے۔ اور دنیا کی ذلت دنیا کی شرافت سے زیادہ بہتر ہے۔ اور جو شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دے کر قبول کرتا ہے تو دنیا اس کو فتنے و آزمائش میں مبتلا کردیتی ہے اور وہ آخرت کی بادشاہت حاصل نہیں کرسکتا۔

ملائکہ کو ان کے عمدہ جواب سے تعجب ہوا۔ پھر وہ سوئے تو اللہ نے ان کو حکمت سے بھردیا پھر اٹھے تو حکمت والا کلام کرنے لگے

پھر اسی طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بھی وہی نداء دی گئی اور انھوں نے خلافت کو قبول فرمایا لیا اور کسی طرح کی کوئی شرط نہیں لگائی جس کی وجہ سے ان سے کئی مرتبہ خطاء سرزد ہوئی اگرچہ ہر مرتبہ اللہ پاک ان سے درگذر فرماتے رہے اور ان کی مغفرت کرتے رہے۔

حضرت لقمان (رح) حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حکمت کی باتیں کہتے تھے اور ان کو حکمت سکھاتے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے حضرت لقمان (رح) کو فرمایا : اے لقمان ! تم خوش نصیب ہو کہ تم کو حکمت و دانائی عطا کردی گئی اور مصیبت کو تم سے دور کردیا گیا جب کہ داؤد کو خلافت دی گئی اور مصیبت و آزمائش میں اس کو مبتلا کردیا گیا۔ (الدیلمی، ابن عساکر
37865- عن نوفل بن سليمان الهنائي عن عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "حقا لم يكن لقمان نبيا! ولكن كان عبدا صمصامة كثير التفكر حسن الظن، أحب الله فأحبه وضمن عليه بالحكمة، كان نائما نصف النهار إذ جاءه نداء: يا لقمان! هل لك أن يجعلك الله خليفة في الأرض تحكم بين الناس بالحق؟ فانتبه فأجاب الصوت فقال: إن يخيرني ربي قبلت، فإني أعلم إن فعل ذلك بي أعانني وعلمني وعصمني، وإن خيرني ربي قبلت العافية ولم أقبل البلاء، فقالت الملائكة بصوت لا يزاحم، لم يا لقمان؟ قال: لأن الحاكم بأشد المنازل وأكبدها يغشاه الظلم من كل مكان ينجو أو يعان وبالحري أن ينجو، وإن أخطأ أخطأ طريق الجنة، ومن يكن في الدنيا ذليلا خير من أن يكون شريفا، ومن يختر الدنيا على الآخرة فتنته الدنيا ولا يصيب ملك الآخرة. فتعجبت الملائكة من حسن منطقه، فنام نومة فغط بالحكمة غطا فانتبه فتكلم بها، ثم نودي داود بعده فقبلها ولم يشترط شرط لقمان، فهوى في الخطيئة غير مرة، وكل ذلك يصفح الله ويتجاوز ويغفر له، وكان لقمان يوازره بالحكمة وعلمه فقال له داود: طوبى لك يا لقمان! أوتيت الحكمة وصرفت عنك البلية وأوتي داود الخلافة وابتلي بالرزية والفتنة". "الديلمي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ذکر
٣٧٨٦٦۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا، کہ مجھے خبر ملی ہے کہ فرعون کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔ (الاوسط للطبرانی، ابن عبدالحکم فی فتوح مصر)
37866- عن أبي بكر الصديق قال: أخبرت أن فرعون كان أثرم."طس وابن عبد الحكم في فتوح مصر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاتم طائی
٣٧٨٦٧۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاتم طائی کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس آدمی نے ایک کام کا ارادہ کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں نے سے ایک چیز طلب کی تھی اور پھر اس کو پالیا۔ (غالباً شہرت مراد ہے) ۔ (الدارقطنی فی الافراد، ابن عساکر)
37867- عن ابن عمر قال: ذكر حاتم طيئ عند النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ذاك رجل أراد أمرا" - وفي لفظ: "طلب شيئا – فأدركه". "قط في الأفراد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن جدعان
٣٧٨٦٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے میرے چچا کے بیٹے ابن جدعان کے بارے میں بتائیے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : وہ کیسا آدمی تھا ؟ میں نے عرض کیا : وہ عمدہ اونٹ ذبح کیا کرتا تھا، پڑوس کا خیال رکھا کرتا تھا، مہمان کی اکرام نوازی کیا کرتا تھا، سچی بات کہتا تھا، عہد وذمہ داری کو پوری کرتا تھا، صلہ رحمی کرتا تھا، گردنوں کو غلامی سے چھڑاتا تھا، لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور امانت ادا کیا کرتا تھا۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا کبھی اس نے جہنم سے پناہ مانگی ؟ میں نے عرض کیا :

اللہ کی قسم ! وہ تو یہ نہیں جانتا تھا کہ جہنم کیا ہے ؟ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب نہیں (یعنی اس کا آخرت پر یقین ہی نہیں تھا اس لیے وہ مومن نہیں تھا) ۔ (رواہ ابن النجار)
37868- عن عائشة قالت قلت: يا رسول الله! أخبرني عن ابن عمي ابن جدعان: قال: "وما كان؟ " قلت: كان ينحر الكرماء ويكرم الجار ويكرم الضيف ويصدق الحديث ويوفي بالذمة ويصل الرحم ويفك العاني ويطعم الطعام ويؤدي الأمانة، قال: هل قال يوما: "اللهم إني أعوذ بك من نار جهنم؟ " قلت: والله ما كان يدري ما جهنم! قال، "فلا إذا". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن جدعان
٣٧٨٦٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے فرماتی ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابن حدعان یتیم کا بوجھ اٹھاتا تھا، رشتے ناطوں کو جوڑتا تھا، اور یہ کرتا تھا ، یہ کرتا تھا۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! وہ کیسے (جنت میں جاسکتا ہے)

حالانکہ اس نے رات ودن کی کسی گھڑی میں کبھی نہیں کیا :

رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین۔

اے میرے رب قیامت کے دن میرے گناہوں کو بخش دیجئے گا۔ (ابن ترکان فی الدعاء والدیلمی)
37869 عن عائشة قالت قلت : يا رسول الله ! ابن جدعان كان يحمل اليتيم ويصل الرحم ويفعل ويفعل ، فقال : فكيف يا عائشة ولم يقل ساعة قط من ليل أو نهار : رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين (ابن تركان في الدعاء والديلمي) أبو طالب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو طالب
٣٧٨٧٠۔۔۔ (مسند اسامۃ (رض)) (حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں) حضرت علی (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور ابی طالب کی موت کی خبر دی۔ (الدارقطنی فی الافراد)
37870- "مسند أسامة" جاء علي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره موت أبي طالب. "قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو طالب
٣٧٨٧١۔۔۔ (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب (میرے والد) ابوطالب کی وفات ہوگئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا گمراہ چچاوفات پا گیا ہے۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جا اور (گڑھا کھود کر) اس کو چھپاآ، پھر کوئی کام کئے بغیر میرے پاس آجا۔

چنانچہ میں ان کو زمین میں چھپا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غسل کا حکم دیا، چنانچہ میں نے غسل کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں فرمائیں، جو مجھے ساری دنیا کی دولت سے زیادہ عزیز ہیں۔ (مسند ابن ابی داؤد، ابن ابی شیبہ، ابوداؤد، النسائی، المروزی، فی الجنائز، ابن الجارود، ابن جریر، مسند ابی یعلی)
37871- "مسند علي" عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! إن عمك الشيخ الضال قد مات! فقال: "انطلق فواره ثم لا تحدثن شيئا حتى تأتيني،" فواريته ثم أتيته، فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي ما على الأرض من شيء."ط، ش، حم، د1 ن والمروزي في الجنائز وابن الجارود وابن جرير، ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو طالب
٣٧٨٧٢۔۔۔ (مسند علی (رض)) ابو اسحاق سے مروی ہے کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوگیا تو حضرت علی (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے گمراہ (غیر مسلم ) چچا انتقال کرگئے ہیں۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جاؤ اور اس کو (گڑھا کھود کر) چھپا آؤ۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں اس کام سے فارغ ہو کر واپس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا میں تجھے ایسی دعا نہ سکھاؤ کہ اللہ پاک تجھے ضرور تجھے دے گا اگرچہ خدا پاک نے تیری پہلے سے مغفرت لکھ دی ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! مجھے وہ دعا ضرور سکھا دیجئے۔ تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہو !

لا الہٰ الا اللہ العلی العظیم، لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم۔

لا الہ الا اللہ سبحان اللہ رب العرش العظیم، الحمد للہ رب العالمین۔ (رواہ ابن جریر)
37872- "مسند علي" عن أبي إسحاق قال: لما مات أبو طالب جاء علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن عمك الضال قد مات، قال: "اذهب فواره،" فلما جئت قال: "ألا أعلمك دعاء يغفر الله لك وإن كنت مغفورا لك؟ " فقلت: يا نبي الله علمني، قال: قل: "لا إله إلا الله العلي العظيم، لا إله إلا الله الحليم الكريم، لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو طالب
٣٧٨٧٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : آپ کے گمراہ چاچا انتقال کرگئے ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس کو گڑھے میں دبا کر آؤ اور کسی کام میں لگے بغیر سیدھے میرے پاس آؤ۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل کی اور واپس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے وہ کلمات سکھائے جو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ (ابن حمدان)
37873- عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: إن عمك الشيخ الضال قد مات، قال: "اذهب فواره ولا تحدث شيئا حتى تأتيني،" ففعلت الذي أمرني ثم أتيته، وعلمني دعوات هي أحب إلي من حمر النعم. "ابن حمدان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو طالب
٣٧٨٧٤۔۔۔ (مسند ابوہریرہ (رض)) (حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا ابوطالب کو فرمایا : )

اے چچا جان ! بیشک مجھ پر لوگوں میں سب سے عظیم حق آپ کا ہے، اور لوگوں میں مجھ پر سب سے زیادہ آپ کے احسانات ہیں، اور آپ کا مجھ پر میرے والد سے زیادہ حق ہے۔ پس آپ یہ کلمہ کہہ لیں جس کی بدولت قیامت کے روز مجھ پر آپ کی شفاعت واجب ہوجائے گی، آپ لا الہ الا اللہ کہہ لیں۔ (مسند ابی الحاکم عن ابوہریرہ (رض))
37874- "مسند أبي هريرة" أي عم! إنك أعظمهم علي حقا وأحسنهم عندي يدا ولأنت أعظم علي حقا من والدي فقل كلمة تجب لك علي بها الشفاعة يوم القيامة قل: "لا إله إلا الله". "ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امراء القیس شاعر
٣٧٨٧٥۔۔۔ ہشام بن محمد کلبی روایت کرتے ہیں فروۃ بن سعید سے وہ عفیف بن معدی کرب سے وہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ :

یمن کے کچھ لوگوں کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھوں نے بتایا : اے محمد ! اللہ نے ہم کو امراء القیس بن حجر شاعر کے دو شعروں کے ذریعے زندگی بخش دی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پوچھا : وہ کیسے ؟

انھوں نے کہا : ہم آپ کی طرف آنا چاہتے تھے لیکن ہم راستہ بھٹک گئے۔

اور (ایسے علاقے میں گم ہوگئے کہ وہاں) تین دن بغیر (کسی آس پاس) چشمے کے گذارے۔ پھر ہم کیکر اور ببول کے درختوں کے سائے تلے ٹھہرگئے۔ وہاں ایک آدمی گام باندھے ہوئے سواری پر سوار آیا اور ہم میں سے ایک آدمی نے دوشعر پڑھے :

ولمارات ان الشریعۃ ھمھا۔ وان البیاض من فراصھا دامی۔

اور جب اس نے دیکھا کہ پانی کا گھاٹ ان کا مقصود تلاش ہے اور سواریوں کے پہلوؤں سے خون رسنے لگا ہے، تو یقیناً تو اس چشمے کے پاس پہنچ گیا ہے جو ضارج مقام کے پاس ہے اور کیکر وببول کے درخت اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور اس کی شاخوں اور پتوں نے اس کو چھپایا ہوا ہے۔

تو ہم نے خوب سیر ہو کر اس سے پانی پیا اور راستے کے لیے بطورزادراہ اور پانی بھی ساتھ لے لیا۔

حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ (شاعر) آدمی اس کا ذکر (چرچا) ہوچکا۔ اور روایت کے دوسرے الفاظ ہیں وہ مشہور ہولیا۔ پھر فرمایا : وہ (شاعر) دنیا میں معزز تھا مگر آخرت میں بھولا بھٹکا ہوگا اور بےنام ہوگا اور قیامت کے ساتھ شاعروں

کے آگے آگے ان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے آئے گا اور ان سب کو جہنم میں لے جائے گا۔ (ابن عساکر، ابن النجار)
37875- عن هشام بن محمد الكلبي عن فروة بن سعيد عن عفيف ابن معد يكرب عن أبيه عن جده قال: قدم قوم من اليمن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا محمد! أحيانا الله ببيتين من شعر امرئ القيس بن حجر، قال: "وكيف ذلك! " قالوا: أقبلنا نريدك فضللنا، وحملنا ما بلغنا الطريق، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ذاك رجل مذكور" - وفي لفظ: مشهور – "في الدنيا شريف فيها، منسي في الآخرة خامل فيها يجيء يوم القيامة معه لواء الشعراء يقودهم إلى النار". "كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوید بن عامر
٣٧٨٧٦۔۔۔ یزید بن عمروبن مسلم الخزاعی (رض) ثم المصطلقی کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیا وہ یعنی مسلم الخزاعی (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت تھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سوید بن عامر المصطلقی کا قول سنایا :

لا تامنن وان امسیت فی حرم۔ ان المنایا یجنی کل انسان۔

مطمئن مت ہوجا خواہ تو حرم میں ہو، بیشک امیدیں ہر انسان کو گناہ میں ڈال دیتی ہیں۔

فاسلک طریقک نمشی غیر مختشع۔ حتی تلاقی ماتمنی لک المانی۔

پس اپنے راستے پر چلتا رہ بغیر عاجزی کئے ہوئے حتی کہ تو ان امیدوں کو پالے جو کسی نے تیرے لیے لگا رکھی ہیں۔

فکل ذی صاحب یوماً مفارقہ۔ وکل زاد وان ابقیتہ فان۔

پس ہر دوست رکھنے والا ایک دن اس سے بچھڑے گا اور ہر توشہ خواہ تو اس کو کسی طرح باقی رکھ مگر وہ ختم ہونے والا ہے۔

والخیر والشر مجموعان فی قرن۔ (بکل ذلک یاتیک الجدیدان) ۔

خیر اور شر ایک ہی زمانے میں ساتھ ساتھ ہیں ہر ایک اپنا اپنا صلہ رکھتا ہے۔

یہ اشعار سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شاعر مجھے پالیتا تو ضرور مسلمان ہوجاتا۔ دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ اگر میں اس کو پالیتا تو یہ ضرور مسلمان ہوجاتا۔ (الزھد للبیھقی ابن عساکر)
37876- عن يزيد بن عمرو بن مسلم الخزاعي ثم المصطلقي حدثني أبي عن أبيه قال: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنشده قول سويد بن عامر المصطلقي:

لا تأمنن وإن أمسيت في حرم ... إن المنايا يجنى كل إنسان

فاسلك طريقك تمشي غير مختشع ... حتى تلاقي ما تمنى لك الماني

فكل ذي صاحب يوما مفارقه ... وكل زاد وإن أبقيته فان

والخير والشر مجموعان في قرن ... بكل ذلك يأتيك الجديدان

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لو أدركني هذا لأسلم" - وفي لفظ: "لو أدركت هذا لأسلم". "ق في الزهد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوجہل
٣٧٨٧٧۔۔۔ مغیرۃ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں : پہلا پہلا دن جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانا میں ابو جہل کے ساتھ مکہ میں جارہا تھا، ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ملے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہل کو فرمایا : اے ابوالحکم ! اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی طرف آجاؤ۔

میں تجھے اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ ابوجہل بولا : اے محمد ! تو ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آئے گا ؟ تو یہی چاہتا ہے ناں کہ ہم گواہی دے دیں کہ تو نے ہم کو رسالت پہنچادی، لے ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو نے ہم کو رسالت پہنچا دی۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوگئے۔

پھر ابوجہل میری طرف متوجہ ہوا اور بولا : اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ یہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) جو کہہ رہا ہے وہ حق (سچ) ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیکن بات یہ ہے کہ قصی (حضور کے جد امجد) کی اولاد نے کہا تھا : حجابت (بیت اللہ کی دربانی) کے مناصب ہمارے اندر رہیں گے، ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے آگے چل کر ) کہا : (بیت اللہ کو آنے والے زائرین کی) مہمان نوازی ہماری ہوگی۔

ہم نے کہا : ٹھیک ہے۔ پھر (آگے چل کر) انھوں نے کہا : ندوہ (کچہری اور سر پنجی یعنی سرداری) ہمارے اندر رہے گی، ہم نے کہا : ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے کہا : سقایہ (ماء زمزم یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری) ہماری ہوگی، ہم نے کہا : ٹھیک ہے۔ پھر انھوں نے بھی کھلایا اور ہم نے بھی کھلایا (یعنی ہم دونوں خاندانوں نے سخاوت کی اور اپنے اپنے اموال خرچ کئے) حتی کہ سواروں میں مقابلے ہونے لگے تو اب یہ لوگ کہہ اٹھے کہ ہمارے اندر نبی آگیا ہے۔ اللہ کی قسم ! ایسا میں ہرگز نہیں کروں گا (کہ ان کی یہ بڑائی تسلیم کرلوں) ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37877- عن المغيرة بن شعبة قال: أول يوم عرفت فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم أني كنت أمشي مع أبي جهل بمكة فلقينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له ؟ يا أبا الحكم ! هلم إلى الله وإلى رسوله وإلى كتابه ، أدعوك إلى الله ، فقال : يا محمد ! ما أنت بمنته عن سب آلهتنا ، هل تريد إلا أن نشهد أن قد بلغت ، فنحن نشهد أن قد بلغت ، فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأقبل علي فقال : والله إني لاعلم أن ما يقول حق ! ولكن بني قصي قالوا : فينا الحجابة ، فقلنا : نعم ، قالوا : ففينا القرى ، فقلنا : نعم ثم قالوا : فينا الندوة ، فقلنا : نعم ، ثم قالوا : فينا السقاية ، فقلنا : نعم ، ثم أطعموا وأطعمنا ، حتى إذا تحاكت الركب قالوا : منا نبي ، والله لا أفعل (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطعم والد جبیر (رض)
٣٧٨٧٩۔۔۔ عن سفیان عن الزھری عن محمد بن جبیر عن ابیہ، حضرت جبیر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر مطعم زندہ ہوتے اور وہ مجھ سے ان کے بارے میں بات کرتے تو میں ان سب کو چھوڑ دیتا۔

راوی سفیان کہتے ہیں، مطعم کا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بڑا مرتبہ تھا اور وہ لوگوں میں سب سے اچھے مرتبے اور احسان کرنے والے شخص تھے۔ (شعب الایمان للبیھقی)
37879- عن سفيان عن الزهري عن محمد بن جبير عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لو كان مطعم حيا ثم كلمني في هؤلاء لأطلقتهم" - يعني أسارى بدر، قال سفيان: وكانت له عند النبي صلى الله عليه وسلم يد، وكان أجزى الناس باليد. "هب".
tahqiq

তাহকীক: