কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৮৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٠۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے بتاؤ سب سے افضل ایمان والے کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ملائکہ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تو واقعی ایسے ہیں یہ ان کا حق ہے اور وہ کیوں نہ ہوں ایسے، کیونکہ اللہ نے ان کو ایک مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ بتاؤ ! لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور نبوت سے نوازا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ بھی ایسے ہی ہیں اور یہ ان کا حق ہے اور وہ کیوں نہ ہوں ایسے جب کہ اللہ پاک نے ان کو ان کا رتبہ عطا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! وہ شہداء جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں، اور یہ ان کا حق ہے اور وہ ایسے کیوں نہ ہوں جب کہ اللہ عزوجل نے ان کا اکرام کیا ہے کہ ان کو انبیاء کے ساتھ شہادت سے نوازا ہے، بلکہ ان کے علاوہ بتاؤ۔
تب لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (آپ ہی بتائیے) وہ کون ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
وہ لوگ جو ابھی دوسرے لوگوں کی پشتوں میں ہیں اور میرے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا۔ وہ ورق معلق (لٹکا ہوا ورق یعنی قرآن) دیکھیں گے اور جو کچھ اس میں ہوگا اس میں عمل کریں گے۔ پس یہ لوگ سب سے افضل ایمان والے ہوں گے۔ (ابن راھویہ، ابن زنجویہ، مسند البزار، مسند ابی یعلی، الضعفاء للعقیلی، المرھبی فی فضل العلم، مستدرک الحاکم وتعقبہ ابن حجر فی اطرافہ بان
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت محل کلام ہے، حافظ ابن حجر اپنی کتاب اطراف میں فرماتے ہیں مذکورہ روایت کا راوی محمد بن ابی حمید متروک الحدیث ہے۔
اور المطالب العالیہ میں ہے کہ محمد ضعیف الحدیث ہے اور سئی الحفظ (کمزوریا دداشت والا ) ۔ امام بزار (رح) فرماتے ہیں : درست بات یہ ہے کہ یہ روایت زید بن اسلم سے مرسلاًمروی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تو واقعی ایسے ہیں یہ ان کا حق ہے اور وہ کیوں نہ ہوں ایسے، کیونکہ اللہ نے ان کو ایک مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ ان کے علاوہ بتاؤ ! لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور نبوت سے نوازا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ بھی ایسے ہی ہیں اور یہ ان کا حق ہے اور وہ کیوں نہ ہوں ایسے جب کہ اللہ پاک نے ان کو ان کا رتبہ عطا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! وہ شہداء جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں، اور یہ ان کا حق ہے اور وہ ایسے کیوں نہ ہوں جب کہ اللہ عزوجل نے ان کا اکرام کیا ہے کہ ان کو انبیاء کے ساتھ شہادت سے نوازا ہے، بلکہ ان کے علاوہ بتاؤ۔
تب لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (آپ ہی بتائیے) وہ کون ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
وہ لوگ جو ابھی دوسرے لوگوں کی پشتوں میں ہیں اور میرے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا۔ وہ ورق معلق (لٹکا ہوا ورق یعنی قرآن) دیکھیں گے اور جو کچھ اس میں ہوگا اس میں عمل کریں گے۔ پس یہ لوگ سب سے افضل ایمان والے ہوں گے۔ (ابن راھویہ، ابن زنجویہ، مسند البزار، مسند ابی یعلی، الضعفاء للعقیلی، المرھبی فی فضل العلم، مستدرک الحاکم وتعقبہ ابن حجر فی اطرافہ بان
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت محل کلام ہے، حافظ ابن حجر اپنی کتاب اطراف میں فرماتے ہیں مذکورہ روایت کا راوی محمد بن ابی حمید متروک الحدیث ہے۔
اور المطالب العالیہ میں ہے کہ محمد ضعیف الحدیث ہے اور سئی الحفظ (کمزوریا دداشت والا ) ۔ امام بزار (رح) فرماتے ہیں : درست بات یہ ہے کہ یہ روایت زید بن اسلم سے مرسلاًمروی ہے۔
37880- "مسند عمر" عن عمر قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم جالسا فقال: "أنبئوني بأفضل أهل الإيمان إيمانا،" قالوا: يا رسول الله! الملائكة، قال: "فهم كذلك ويحق لهم ذلك، وما يمنعهم وقد أنزلهم الله المنزلة التي أنزلهم بها! بل غيرهم،" قالوا: يا رسول الله! الأنبياء الذين أكرمهم الله برسالته والنبوة، قال: "هم كذلك ويحق لهم، وما يمنعهم وقد أنزلهم الله المنزلة التي أنزلهم بها! " قالوا: يا رسول الله! الشهداء الذين استشهدوا مع الأنبياء، قال: "هم كذلك ويحق لهم، وما يمنعهم وقد أكرمهم الله بالشهادة مع الأنبياء! بل غيرهم،" قالوا: فمن يا رسول الله؟ قال: "أقوام في أصلاب الرجال يأتون من بعدي، يؤمنون بي ولم يروني، ويصدقوني ولم يروني، يجدون الورق المعلق فيعملون بما فيه، فهؤلاء أفضل أهل الإيمان إيمانا". "ابن راهويه وابن زنجويه والبزار، ع، عق والمرهبي في فضل العلم، ك، وتعقبه الحافظ ابن حجر في أطرافه بأن فيه محمد بن أبي حميد متروك الحديث، وقال في المطالب العالية: محمد ضعيف الحديث سيء الحفظ، وقال البزار: الصواب أنه عن زيد بن أسلم مرسل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨١۔۔۔ (مسند جابر بن عبداللہ بن الراب السمی الانصاری) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد بنی معاویہ میں تین دعائیں ، آپ کی دو دعائیں مقبول ہوگئیں مگر ایک کا انکار کردیا گیا۔ آپ نے سوال کیا کہ اللہ پاک ان کی امت کو بھوک سے ہلاک نہ کردے اور ان کا دشمن ان پر غالب نہ آجائے تو یہ دعائیں قبول ہوگئیں۔ آپ نے دعا کہ کہ ان کے آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں تو یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ (الکبیر للطبرانی)
37881- "مسند جابر بن عبد الله بن الرئاب السلمي الأنصاري "سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد بني معاوية ثلاثا فأعطي اثنتين ومنعه واحدة: سأله أن لا يهلك أمته جوعا، ولا يظهر عليهم عدوهم، فأعطيها، وسأله أن لا يجعل بأسهم بينهم، فمنعها." طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٢۔۔۔ جابربن عتیک، مطرف سے روایت کرتے ہیں، مطرف کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عمران بن حصین (رض) نے ارشاد فرمایا :
جان لے ! اللہ کے بندوں میں سے قیامت کے روز بہترین لوگ حمد کرنے والے ہوں گے اور جان لے کہ اہل اسلام کا ایک گروہ لوگوں سے قتال کرتا رہے گا۔ (رواہ ابن جریر)
جان لے ! اللہ کے بندوں میں سے قیامت کے روز بہترین لوگ حمد کرنے والے ہوں گے اور جان لے کہ اہل اسلام کا ایک گروہ لوگوں سے قتال کرتا رہے گا۔ (رواہ ابن جریر)
37882- عن جابر بن عتيك عن مطرف قال قال لي عمران ابن حصين: اعلم أن خيار عباد الله يوم القيامة الحمادون، واعلم أنه لا يزال طائفة من أهل الإسلام يقاتلون الدجّال. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٣۔۔۔ (مسند حذیفۃ بن الیمان) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرہ بنی معاویہ کی طرف نکلے اور میں آپ کے نشانات قدم کی تلاش میں پیچھے نکل لیا۔ آپ حرۃ پہنچ کر چاشت کی نماز میں مصروف ہوگئے اور آٹھ رکعات چاشت کی ادا فرمائیں اور خوب لمبی لمبی رکعات پڑھیں۔ پھر آپ واپس لوٹ گئے اور فرمایا : اے حذیفہ ! شاید میں نے تم کو لمبے انتظار میں ڈال دیا ! میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اللہ سے اس نماز میں تین دعائیں کی تھیں۔ دو تو اللہ پاک نے عطا فرمادیں اور ایک کو منع فرمادیا۔ میں نے سوال کیا تھا کہ میری امت پر کوئی غیر (کافر) غالب نہ ہوجائے۔ اللہ پاک نے یہ دعا قبول فرمائی۔ اور میں نے یہ سوال کیا کہ اللہ پاک میری امت کو قحط سالیوں میں ہلاک نہ کردے، اللہ پاک نے میری یہ مراد بھی پوری فرمادی اور میں نے یہ جو سوال کیا کہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے نہ ہوں، اس کو اللہ پاک نے منع فرمادیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابن مردویہ)
37883- "مسند حذيفة بن اليمان" خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى حرة بني معاوية واتبعت أثره حتى ظهر عليها فصلى الضحى ثمان ركعات طول فيهن ثم انصرف فقال: "ياحذيفة! طولت عليك؟ " قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "إني سألت الله فيها ثلاثا فأعطاني ثنتين ومنعني واحدة: سألته أن لا يظهر على أمتي غيرها فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكها بالسنين فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسها بينها فمنعني." ش وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٤۔۔۔ کریب روایت کرتے ہیں مرۃ البہزی (رض) سے انھوں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا :
میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، جو بھی ان سے برسر پیکار ہوگا وہ اس پر غالب رہے گی، اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی طرح ہوگی، حتی کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر رہیں گے۔ مرۃ (رض) فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ جماعت کن لوگوں کی ہوگی اور یہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ بیت المقدس کے اطراف واکناف میں ہوں گے۔
راوی کہتے ہیں : مجھے کسی نے بیان کیا ہے کہ رملۃ وہ ربوۃ ہے جو مغرب ومشرق کی طرف جاتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، جو بھی ان سے برسر پیکار ہوگا وہ اس پر غالب رہے گی، اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی طرح ہوگی، حتی کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر رہیں گے۔ مرۃ (رض) فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ جماعت کن لوگوں کی ہوگی اور یہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ بیت المقدس کے اطراف واکناف میں ہوں گے۔
راوی کہتے ہیں : مجھے کسی نے بیان کیا ہے کہ رملۃ وہ ربوۃ ہے جو مغرب ومشرق کی طرف جاتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37884- عن كريب عن مرة البهزي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناواهم وهم كالإناء بين الأكلة حتى يأتي أمر الله وهم كذلك"، فقلنا: يا رسول الله! من هم وأين هم؟ قال: "بأكناف بيت المقدس". قال: وحدثني أن الرملة هي الربوة وذلك أنها تسيل مغربة ومشرقة."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٥۔۔۔ (مسند الحکم بن رافع بن الحکم بن رافع بن سنان سے مروی ہے کہ مجھے میرے بعض بزرگوں یعنی والد اور چچاؤں نے بیان کیا کہ ان کے پاس ایک ورقہ (کاغذ) تھا، جو ان میں جاہلیت کے زمانہ سے وراثت دروراثت چلا آرہا تھا۔ حتی کہ اسلام کا ظہور ہوگیا۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لائے توہم لوگ وہ ورقہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے۔ وہ آپ کے سامنے پڑھا گیا اس میں لکھا تھا۔
شروع اللہ کے نام سے جس کی بات سچی ہے اور ظالمین کی بات تباہی میں ہے۔ یہ اس امت کا ذکر ہے جو آخری زمانے میں آئے گی، وہ کمر پر ازاریں باندھیں گے، سارے اعضاء غسل میں دھوئیں گے، اپنے دشمنوں سے جنگ کے لیے سمندروں میں بھی گھسیں گے، ان کے اندر ایسی نماز ہوگی کہ اگر وہ قوم نوح میں ہوتی تو وہ پانی کے طوفان سے ہلاک نہ ہوتے اور اگر وہ قوم عاد میں ہوتی تو وہ ہوا سے ہلاک نہ کئے جاتے اور اگر وہ قوم ثمود میں ہوتی تو وہ چیخ سے ہلاک نہ ہوتے، اللہ کے نام سے، جس کا قول حق ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس ورقے کو قرآن شریف کے اوراق کے درمیان میں رکھ دو ۔ (راوہ ابو نعیم)
شروع اللہ کے نام سے جس کی بات سچی ہے اور ظالمین کی بات تباہی میں ہے۔ یہ اس امت کا ذکر ہے جو آخری زمانے میں آئے گی، وہ کمر پر ازاریں باندھیں گے، سارے اعضاء غسل میں دھوئیں گے، اپنے دشمنوں سے جنگ کے لیے سمندروں میں بھی گھسیں گے، ان کے اندر ایسی نماز ہوگی کہ اگر وہ قوم نوح میں ہوتی تو وہ پانی کے طوفان سے ہلاک نہ ہوتے اور اگر وہ قوم عاد میں ہوتی تو وہ ہوا سے ہلاک نہ کئے جاتے اور اگر وہ قوم ثمود میں ہوتی تو وہ چیخ سے ہلاک نہ ہوتے، اللہ کے نام سے، جس کا قول حق ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس ورقے کو قرآن شریف کے اوراق کے درمیان میں رکھ دو ۔ (راوہ ابو نعیم)
37885- "مسند الحكم بن رافع بن سنان" عن عمر بن الحكم بن رافع بن سنان قال: حدثني بعض عمومتي وآبائي أنه كانت عندهم ورقة يتوارثونها في الجاهلية حتى جاء الإسلام، فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة جئنا بها فقرئت عليه فإذا فيها: بسم الله وقوله الحق، وقول الظالمين في تباب1، هذا ذكر أمة تأتي في آخر الزمان يأتزرون على أوساطهم، ويغسلون أطرافهم، ويخوضون البحار إلى أعدائهم، فيهم صلاة لو كانت في قوم نوح ما أهلكوا بالطوفان، ولو كانت في عاد ما أهلكوا بالريح، ولو كانت في ثمود ما أهلكوا بالصيحة، بسم الله وقوله الحق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ضعوها بين ظهري ورق المصحف." أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٦۔۔۔ (مسند معاذ (رض)) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور خوب لمبی نماز پڑھی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آج آپ نے نماز بہت لمبی کردی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ ڈر اور شوق کی نماز تھی۔ اور میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے (اس نماز میں) تین دعائیں کی تھیں۔ اللہ نے دو دعائیں تو قبول فرمالیں اور ایک رد فرمادی۔ میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میری امت پر کوئی غیر دشمن مسلط نہ فرمائے اللہ پاک نے میری یہ دعا قبول فرمائی، نیز میں نے دعا کی کہ ان کو (طوفان نوح کی طرح) بالکل غرق نہ کردے، اللہ پاک نے یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ نیز میں نے اللہ سے یہ دعا بھی کی تھی کہ ان کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں لیکن یہ دعا رد کردی گئی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابن ماجہ، الکبیر للطبرانی) ۔
37886- "مسند معاذ" صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطال فيها، فلما انصرف قلت: يا رسول الله لقد أطلت اليوم! قال: "إني صليت صلاة رغبة ورهبة وسألت الله لأمتي ثلاثا فأعطاني ثنتين ورد علي واحدة، سألته أن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكهم غرقا فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فردت علي". "ش، حم، هـ، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٧۔۔۔ عمیر بن ہانی سے مروی ہے کہ حضرت معاویۃ بن ابی سفیان (رض) سے لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
میری امت کا ایک گروہ اللہ کے دین کو قائم رکھے گا ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ ان کو رسوا کرنے والا کچھ زک پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اسی حال پر قائم رہیں گے دوسرے الفاظ روایت کے یہ ہیں کہ وہ لوگوں پر کامیاب وکامران رہیں گے۔
راوی عمیر بن ہانی فرماتے ہیں : پھر مالک بن یخامر کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ملک شام میں ہوں گے۔ (مسند احمد، التاشی، یعقوب بن سفیان، مسند ابی یعلی، ابن عساکر، البغوی)
میری امت کا ایک گروہ اللہ کے دین کو قائم رکھے گا ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ ان کو رسوا کرنے والا کچھ زک پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اسی حال پر قائم رہیں گے دوسرے الفاظ روایت کے یہ ہیں کہ وہ لوگوں پر کامیاب وکامران رہیں گے۔
راوی عمیر بن ہانی فرماتے ہیں : پھر مالک بن یخامر کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ملک شام میں ہوں گے۔ (مسند احمد، التاشی، یعقوب بن سفیان، مسند ابی یعلی، ابن عساکر، البغوی)
37887- عن عمير بن هانيء أن معاوية بن أبي سفيان خطبهم فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تزال من أمتي أمة قائمة بأمر الله لا يضرهم من خالفهم ولا من خذلهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك" - وفي لفظ: "وهم ظافرون على الناس". قال عمير بن هانئ: فقام مالك بن يخامر فقال: سمعت معاذ بن جبل يقول: وهم بالشام. "حم والشاشي ويعقوب بن سفيان، ع، كر والبغوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٨۔۔۔ یونس بن حلیس البھندی سے مروی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) منبر پر فرمایا کر تھے تھے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
میری امت کا ایک گروہ حق پر لوگوں سے قتال کرتا رہے اور وہ لوگوں پر غالب رہے گا حتی کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اس حال پر ہوں گے۔
پھر حضرت معاویہ (رض) نے یہ آیت پڑھی :
یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ
اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں کافروں سے اور تیری اتباع کرنے والوں کو قیامت تک اوپر کرنے والا ہوں کافروں پر۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ آیت مذکورہ میں اسی جماعت کی وضاحت ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ جن کے متعلق اللہ نے کتاب اللہ میں فرمایا کہ ان کو (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد) عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے امت محمدیہ کے موحد مسلمانوں کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔
میری امت کا ایک گروہ حق پر لوگوں سے قتال کرتا رہے اور وہ لوگوں پر غالب رہے گا حتی کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اس حال پر ہوں گے۔
پھر حضرت معاویہ (رض) نے یہ آیت پڑھی :
یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ
اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں کافروں سے اور تیری اتباع کرنے والوں کو قیامت تک اوپر کرنے والا ہوں کافروں پر۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ آیت مذکورہ میں اسی جماعت کی وضاحت ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ جن کے متعلق اللہ نے کتاب اللہ میں فرمایا کہ ان کو (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد) عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے امت محمدیہ کے موحد مسلمانوں کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔
37888- عن يونس بن حليس الجندي أن معاوية بن أبي سفيان كان يقول على المنبر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنها تبرح عصابة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين على الناس حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك"، ثم نزع بهذه الآية {يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ} . "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٨٩۔۔۔ مسلم بن ھرمز سے مروی ہے کہ میں حضرت معاویہ (رض) کو اپنے خطبے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے :
اس امت میں ایک جماعت اللہ کے امر (دین خلافت) پر قتال کرتی رہے گی ان کو رسوا کرنے والا ان کو کچھ نقصان پہنچا سکے گا اور نہ کسی کی دشمنی ان کو کچھ ضرر پہنچاسکے گی حتی کہ اللہ کا فیصلہ آئے وہ اس وقت تک اسی حال پر قائم رہیں گے۔
پھر حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا : اور اے اہل شام ! مجھے امید ہے کہ وہ جماعت تمہاری ہی ہے۔ رواہ ابن عساکر
اس امت میں ایک جماعت اللہ کے امر (دین خلافت) پر قتال کرتی رہے گی ان کو رسوا کرنے والا ان کو کچھ نقصان پہنچا سکے گا اور نہ کسی کی دشمنی ان کو کچھ ضرر پہنچاسکے گی حتی کہ اللہ کا فیصلہ آئے وہ اس وقت تک اسی حال پر قائم رہیں گے۔
پھر حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا : اور اے اہل شام ! مجھے امید ہے کہ وہ جماعت تمہاری ہی ہے۔ رواہ ابن عساکر
37889- عن مسلم بن هرمز قال سمعت معاوية يقول في خطبته: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: "لا يزال في هذه عصابة يقاتلون على أمر الله، لا يضرهم خذلان من خذلهم ولا عداوة من عاداهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك، وأنا أرجو أن تكونوا أنتم يا أهل الشام". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٠۔۔۔ مکحول (رح) حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
انھوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
اے لوگو ! علم سیکھنے کے ساتھ ہے، فقہ (تفقہ) سمجھ بوجھ کے ساتھ ہے اور اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔ اور بیشک اللہ کے بندوں میں سے علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اور لوگوں پر غالب رہے گا، وہ مخالفت کرنے والوں کی پروا نہ کریں گے اور نہ مقابلہ کرنے والوں کو خاطر میں لائیں گے حتی کہ اسی برتر حال پر رہتے ہوئے ان کے پاس اللہ کا فیصلہ آجائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
انھوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
اے لوگو ! علم سیکھنے کے ساتھ ہے، فقہ (تفقہ) سمجھ بوجھ کے ساتھ ہے اور اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔ اور بیشک اللہ کے بندوں میں سے علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اور لوگوں پر غالب رہے گا، وہ مخالفت کرنے والوں کی پروا نہ کریں گے اور نہ مقابلہ کرنے والوں کو خاطر میں لائیں گے حتی کہ اسی برتر حال پر رہتے ہوئے ان کے پاس اللہ کا فیصلہ آجائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37890- عن مكحول عن معاوية بن أبي سفيان أنه قال وهو يخطب على المنبر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يا أيها الناس! إنما العلم بالتعلم والفقه بالتفقه، ومن يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، و {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} ولن تزال أمة من أمتي على الحق ظاهرين على الناس! لا يبالون من خالفهم ولا من ناواهم حتى يأتي أمر الله وهم ظاهرون". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩١۔۔۔ نعمان بن بشیر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا وہ اپنے مخالفین کی پروا نہ کریں گے حتی کہ ان کو اللہ کا حکم آجائے۔ حضرت نعمان (رض) فرماتے ہیں۔
جو شخص یہ کہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وہ بات کہہ رہا ہوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں ارشاد فرمائی تو دیکھو اس بات کی تصدیق کتاب اللہ تعالیٰ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
” یا عیسیٰ انی متوفک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ “ (ابن ابی حاتم، ابن عساکر)
جو شخص یہ کہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وہ بات کہہ رہا ہوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں ارشاد فرمائی تو دیکھو اس بات کی تصدیق کتاب اللہ تعالیٰ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
” یا عیسیٰ انی متوفک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ “ (ابن ابی حاتم، ابن عساکر)
37891- عن النعمان بن بشير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تزال طائفة من أمتي على الناس ظاهرين! لا يبالون من خالفهم حتى يأتي أمر الله،" قال النعمان: فمن قال: إني أقول عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل، فإن تصديق ذلك في كتاب الله تعالى فإن الله يقول {يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ} . "ابن أبي حاتم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٢۔۔۔ ابوامامہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
ایک ایسے آدمی کی شفاعت کی وجہ سے جو نبی بھی نہ ہوگا دو بڑے قبیلوں ربیعہ اور مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
ایک کہنے والے نے کہا : ربیعہ مضر کے مقابلے میں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں کہہ رہا ہوں۔ (جس میں کوئی شک نہیں) ۔ (مسند ابی یعلی، ابن عساکر)
ایک ایسے آدمی کی شفاعت کی وجہ سے جو نبی بھی نہ ہوگا دو بڑے قبیلوں ربیعہ اور مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
ایک کہنے والے نے کہا : ربیعہ مضر کے مقابلے میں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں کہہ رہا ہوں۔ (جس میں کوئی شک نہیں) ۔ (مسند ابی یعلی، ابن عساکر)
37892- عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليدخلن الجنة بشفاعة رجل وليس بنبي مثل الحيين - أو: مثل أحد الحيين - ربيعة ومضر،" فقال قائل: يا رسول الله! ما ربيعة من مضر؛فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إنما أقول ما أقول". "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٣۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا جو ان کی مخالفت کریں گے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے الا اصابھم من الاواء اور وہ کھانے والوں کے درمیان کھانے کے برتن کی طرح (قلیل) ہوں گے حتی کہ ان کو اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔ لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : بیت المقدس میں اور اس کے اطراف وجانب میں۔ (رواہ ابن جریر )
میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا جو ان کی مخالفت کریں گے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے الا اصابھم من الاواء اور وہ کھانے والوں کے درمیان کھانے کے برتن کی طرح (قلیل) ہوں گے حتی کہ ان کو اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔ لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : بیت المقدس میں اور اس کے اطراف وجانب میں۔ (رواہ ابن جریر )
37893- عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لعدوهم قاهرين! لا يضرهم من خالفهم إلا أصابهم من لأواء وهم كالإناء بين الأكلة حتى يأتيهم أمر الله وهم كذلك،" قالوا: يا رسول الله! وأين هم؟ قال: "ببيت المقدس وأكناف بيت المقدس"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٤۔۔۔ ابی ثعلبہ (رض) سے مروی ہے، انھوں نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اس امت کو قسطنطنیہ کی فتح میں آدھے دن سے زیادہ نہیں لگے گا، جب تو دیکھے گا کہ شام کی قیامت اہل بیت کا ایک آدمی کررہا ہے تو پس وہ قسطنطنیہ کی فتح کا وقت ہوں۔ (البیھقی فی البعث)
37894- عن أبي ثعلبة قال: والله! لا تعجز هذه الأمة من نصف يوم إذا رأيت الشام قائده رجل وأهل بيته، فعند ذلك فتح القسطنطينية. "ق في البعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٥۔۔۔ (مسند ابو جمعہ حبیب بن سباع) خالد بن دریک سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے صحابہ (رض) میں سے ایک آدمی ابوجمعہ سے عرض کیا : آپ ہمیں کوئی ایسی بات ذکر کریں جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو ! انھوں نے فرمایا : ہاں۔
میں تمہیں ایک اچھی بات سناتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صبح کا کھانا تناول کیا، ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدۃ (رض) بھی تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم سے بھی بہتر کوئی ہے ؟ کیونکہ ہم آپ کے روبرواسلام لائے اور آپ کے ساتھ مل کر ہم نے جہاد کیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں (تم سے بہتر) وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے، مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا، دوگتوں کے درمیان کتاب اللہ کو پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے وہ تم سے بہتر ہوں گے۔ (مسند احمد، مسند ابی یعلی ، الباوردی، ابن قانع، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابونعیم، ابن عساکر)
میں تمہیں ایک اچھی بات سناتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صبح کا کھانا تناول کیا، ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدۃ (رض) بھی تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم سے بھی بہتر کوئی ہے ؟ کیونکہ ہم آپ کے روبرواسلام لائے اور آپ کے ساتھ مل کر ہم نے جہاد کیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں (تم سے بہتر) وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے، مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا، دوگتوں کے درمیان کتاب اللہ کو پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے وہ تم سے بہتر ہوں گے۔ (مسند احمد، مسند ابی یعلی ، الباوردی، ابن قانع، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابونعیم، ابن عساکر)
37895- "مسند أبي جمعة واسمه حبيب بن سباع" عن خالد ابن دريك قال: قلت لأبي جمعة رجل من الصحابة: حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: نعم، أحدثك حديثا جيدا، تغدينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعنا أبو عبيدة فقال: يا رسول الله! هل أحد خير منا؟ أعلمنا معك وجاهدنا معك! قال: "نعم، قوم يكونون من بعدي، يؤمنون بي ولم يروني، يجدون كتابا بين لوحين فيؤمنون به ويصدقون به، فهم خير منكم". "حم، ع والباوردي وابن قانع، طب، ك وأبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٦۔۔۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا ان کو لوگوں کی مخالفت کی پروانہ ہوگی حتی کہ اللہ کا حکم آجائے۔
پھر حضرت نعمان (رض) نے فرمایا : اگر کوئی یہ کہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وہ بات کہہ رہاہوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد نہیں فرمائی تو اس کی تصدیق کتاب اللہ میں بھی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ (ابن ابی حاتم، ابن عساکر)
پھر حضرت نعمان (رض) نے فرمایا : اگر کوئی یہ کہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے وہ بات کہہ رہاہوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد نہیں فرمائی تو اس کی تصدیق کتاب اللہ میں بھی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ (ابن ابی حاتم، ابن عساکر)
37896- عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تزال طائفة من أمتي على الناس ظاهرين لا يبالون من خالفهم حتى يأتي أمر الله! " قال النعمان: فمن قال: إني أقول عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل، فإن تصديق ذلك في كتاب الله، فإن الله تعالى يقول {يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ} . "ابن أبي حاتم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٧۔۔۔ عبداللہ عامر بن قیس کندی سے مروی ہے، وہ حضرت ابوسعید زرتی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کرے گا۔
پھر میرے لیے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین مٹھیاں بھرے گا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ چاہے گا تو ان مٹھیوں میں میرے سارے مہاجرین کو اور کچھ اعرابیوں کو بھی بھر لے گا۔ (البغوی، ابن النجار)
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کرے گا۔
پھر میرے لیے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین مٹھیاں بھرے گا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ چاہے گا تو ان مٹھیوں میں میرے سارے مہاجرین کو اور کچھ اعرابیوں کو بھی بھر لے گا۔ (البغوی، ابن النجار)
37897- عن عبد الله عامر بن قيس الكندي حدثه عن أبي سعيد الزرقي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله وعدني أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا بغير حساب، ويشفع كل ألف في سبعين ألفا، ثم يحثي لي ثلاث حثيات بكفيه"، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن ذلك إن شاء الله مستوعب مهاجري أمتي ويوفينا الله بشيء من أعرابنا". "البغوي وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٨۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی عمرۃ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ : یارسول اللہ ! ان لوگوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جو آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی مگر وہ آپ کو دیکھ نہ سکے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کے لیے خوشخبری ہے، مزید ان کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ لوگ ہم میں سے ہیں اور وہ لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ (الحسن بن سفیان و ابونعیم)
37898- عن عبد الرحمن بن أبي عمرة عن أبيه أنه قيل: يا رسول الله! أرأيت من آمن بك وصدقك ولم يرك؟ قال: "طوبى لهم ثم طوبى لهم! أولئك منا وأولئك معنا". "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٨٩٩۔۔۔ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے اپنے بھائیوں سے ملنے کا شوق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، تم تو میرے صحابی (دوست اور ساتھی) ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر مجھے دیکھے بغیر ایمان لائیں گے۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے تو حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کی خبردی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان کو ) ارشاد فرمایا : کیا تو ایسے لوگوں کو محبوب نہیں رکھتا جن کو جب یہ خبر پہنچے گی کہ تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو وہ تجھ سے بھی محبت رکھنے لگیں گے پھر اللہ پاک بھی ان کو اپنا محبوب بنالیں گے۔
کلام :۔۔۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں مذکور روایت ضعیف ہے اور اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے تو حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کی خبردی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان کو ) ارشاد فرمایا : کیا تو ایسے لوگوں کو محبوب نہیں رکھتا جن کو جب یہ خبر پہنچے گی کہ تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو وہ تجھ سے بھی محبت رکھنے لگیں گے پھر اللہ پاک بھی ان کو اپنا محبوب بنالیں گے۔
کلام :۔۔۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں مذکور روایت ضعیف ہے اور اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
37899- عن عبد الله بن أبي أوفى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إني لمشتاق إلى إخواني"، فقال عمر بن الخطاب: يا رسول الله! ألسنا إخوانك؟ قال: "لا، أنتم أصحابي، إخواني قوم آمنوا بي ولم يروني"، فجاء أبو بكر فأخبره عمر بالذي قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تحب قوما بلغهم أنك تحبني فأحبوك فأحبهم الله عز وجل". "قال ابن كثير: غريب ضعيف الاسناد".
তাহকীক: