কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৯১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٠۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کاش میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں جب وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے اور میں آب کوثر کے بھرے برتنوں کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا اور ان کو جنت میں داخل ہونے سے قبل اپنے حوض سے پلاؤں گا۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم تو میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انھوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا۔ (الدیلمی وفیہ اسماعیل بن یحییٰ تیمی)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف الاسناد ہے۔
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف الاسناد ہے۔
37900- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليتني أرى إخواني وردوا علي الحوض فأستقبلهم بالآنية فيها الشراب فأسقيهم من حوضي قبل أن يدخلوا الجنة! فقيل له: يا رسول الله! ولسنا إخوانك؟ قال: أنتم أصحابي وإخواني، من آمن بي ولم يرني". "الديلمي، وفيه إسماعيل بن يحيى التيمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠١۔۔۔ (مسند ابن عمر (رض) بیشک اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جس نے (جماعت سے ) جدا راستہ اختیار کیا وہ جدا جہنم میں گرے گا۔ (الترمذی غریب)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف سے۔ دیکھئے ضعیف الترمذی ١٣٨٢ نیز الترمذی۔
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف سے۔ دیکھئے ضعیف الترمذی ١٣٨٢ نیز الترمذی۔
37901- "مسند ابن عمر "إن الله لا يجمع أمتي على ضلالة، ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ إلى النار." ت: غريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٢۔۔۔ ابن عمر اور ابن مسعود (رض) سے مروی ہے، فرمایا : اللہ سے ڈرو، اور صبر کرتے رہو حتی کہ نیکو کار راحت پاجائے یا بدکار سے اس کو راحت مل جائے (موت کے ذریعے) ، اور تم پر جماعت کا ساتھ لازم ہے۔ بیشک اللہ پاک امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، اسنادہ صحیح ) مذکورہ روایت صحیح السند ہے۔
37902- عن ابن عمر وعن ابن مسعود قال: اتقوا الله واصبروا حتى يستريح بر أو يستراح من فاجر، وعليكم بالجماعة! فإن الله لا يجمع أمة محمد على ضلالة. "ش وإسناده صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٣۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اس حال میں کہ اپنی کمر کی ٹیک چمڑے کے خیمے سے لگا رکھی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
آگاہ ہوجاؤ ! جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔
پھر فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچادیا ؟ پس اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔ پھر ارشاد فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ تم اہل جنت میں چوتھائی حصہ ہوجاؤ۔ لوگوں نے عرض کیا : ہاں، یا رسول اللہ ! پھر فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ تم جنت کے اندر نصف تعداد میں ہوگے۔ تمہاری مثال اور امتوں کے مقابلے میں ایک کالے بال کی سی ہے جو سفید بیل میں ہو یا سفید بال کی ہے جو کالے بیل میں ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ دیگر امتوں کی اکثر تعداد جہنم میں اور امت محمدیہ کی اکثر تعداد جنت میں ہوگی جس کی وجہ سے امت محمدیہ تنہا جنت میں دیگر جنتیوں کے مقابلے میں نصف تعداد میں ہوگی۔
آگاہ ہوجاؤ ! جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔
پھر فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچادیا ؟ پس اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔ پھر ارشاد فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ تم اہل جنت میں چوتھائی حصہ ہوجاؤ۔ لوگوں نے عرض کیا : ہاں، یا رسول اللہ ! پھر فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ تم جنت کے اندر نصف تعداد میں ہوگے۔ تمہاری مثال اور امتوں کے مقابلے میں ایک کالے بال کی سی ہے جو سفید بیل میں ہو یا سفید بال کی ہے جو کالے بیل میں ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ دیگر امتوں کی اکثر تعداد جہنم میں اور امت محمدیہ کی اکثر تعداد جنت میں ہوگی جس کی وجہ سے امت محمدیہ تنہا جنت میں دیگر جنتیوں کے مقابلے میں نصف تعداد میں ہوگی۔
37903- عن ابن مسعود قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأسند ظهره إلى قبة أدم فقال: "ألا! لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة، اللهم! هل بلغت؟ اللهم اشهد! فقال: أتحبون أنكم ربع أهل الجنة؟ قالوا: نعم يا رسول الله! قال: أتحبون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟ قالوا: نعم، قال: إني لأرجو أن تكونوا شطر أهل الجنة، ما مثلكم فيمن سواكم إلا كالشعرة السوداء في الثور الأبيض أو كالشعرة البيضاء في الثور الأسود". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٤۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب سے سوال کیا تھا کہ وہ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ ہونے دے تو اللہ پاک نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ (رواہ ابن جریر)
37904- عن الحسن قال: بلغني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سألت ربي أن لا يجمع أمتي على ضلالة فأعطانيها". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٥۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : کسی امت کو انا للہ وانا الیہ راجعون کے کلمات نہیں ملے سوائے اس امت کے، کیا تو نے یعقوب (علیہ السلام) کا قول نہیں سنا : یا اسفیٰ علی یوسف ہائے افسوس ! یوسف پر۔ (یعنی ہر ایسے مواقع پر امت محمدیہ میں انا للہ منقول ہے) ۔ (شعب الایمان للبیھقی)
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : بعض ضعیف راویوں نے اس کو ابن عباس سے نقل کیا ہے اور وہ اس کو مرقوع بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (جو درست نہیں ہے)
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : بعض ضعیف راویوں نے اس کو ابن عباس سے نقل کیا ہے اور وہ اس کو مرقوع بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (جو درست نہیں ہے)
37905- عن سعيد بن جبير قال: لم يعط أحد من الأمم الاسترجاع غير هذه الأمة! أما سمعت قول يعقوب {يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ} . "هب وقال: رفعه بعض الضعفاء إلى ابن عباس يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٦۔۔۔ ابن شہاب زہری (رح) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
میری امت امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر عذاب نہیں کیا جائے گا اس کا عذاب دنیا ہی میں زلزلوں اور مصیبتوں کی شکل میں ہے۔ پس جب قیامت کا روز ہوگا اللہ پاک ہر (مسلمان) آدمی کو یا جوج ماجوج کفار میں سے ایک ایک آدمی دے دے گا اور کہا جائے گا یہ تیرا جہنم کا فدیہ ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! قصاص (بدلہ) کہاں گیا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرمایا۔ (رواہ ابو نعیم)
میری امت امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر عذاب نہیں کیا جائے گا اس کا عذاب دنیا ہی میں زلزلوں اور مصیبتوں کی شکل میں ہے۔ پس جب قیامت کا روز ہوگا اللہ پاک ہر (مسلمان) آدمی کو یا جوج ماجوج کفار میں سے ایک ایک آدمی دے دے گا اور کہا جائے گا یہ تیرا جہنم کا فدیہ ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! قصاص (بدلہ) کہاں گیا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرمایا۔ (رواہ ابو نعیم)
37906- عن ابن شهاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أمتي أمة مرحومة! لا عذاب عليها في الآخرة، عذابها في الدنيا الزلازل والبلايا، فإذا كان يوم القيامة أعطى الله كل رجل من الكفار من يأجوج ومأجوج فيقال: هذا فداؤك من النار: فقال رجل: يا رسول الله! فأين القصاص؟ فسكت. "نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٧۔۔۔ (مسند علی (رض)) انبانا ابونصر محمد بن عبداللہ الکرینی حدثنا ابوبکر العاطر فانی املاء ثنا عبدالرحمن بن محمد بن ابراھیم اما دینی ثنا بن عقدۃ ثنا محمد بن عبداللہ بن ابی نجیح تنی علی بن حسان القرشی عن عمہ عبدالرحمن بن کثیر عن جعفر بن محمد
قال : قال ابوجعفر محمد بن علی)
ابوجعفر محمد بن علی (رح) فرماتے ہیں : مجھے میرے دادا حسین بن علی نے اپنی گود میں بٹھایا اور مجھے فرمایا : تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کہا تھا اور فرمایا کہ مجھے بھی (میرے والد) علی بن الحسین نے فرمایا تھا کہ مجھے (میرے دادا) علی بن ابی طالب (رض) نے گود میں بٹھایا اور مجھے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھے سلام کہا تھا۔
قال : قال ابوجعفر محمد بن علی)
ابوجعفر محمد بن علی (رح) فرماتے ہیں : مجھے میرے دادا حسین بن علی نے اپنی گود میں بٹھایا اور مجھے فرمایا : تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کہا تھا اور فرمایا کہ مجھے بھی (میرے والد) علی بن الحسین نے فرمایا تھا کہ مجھے (میرے دادا) علی بن ابی طالب (رض) نے گود میں بٹھایا اور مجھے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجھے سلام کہا تھا۔
37907-"مسند علي" كر: أنبأنا أبو نصرمحمد بن أحمد ابن عبد الله الكريني حدثنا أبو بكر العاطرفاني إملاء ثنا عبد الرحمن ابن محمد بن إبراهيم المديني ثنا بن عقدة ثنا محمد بن عبد الله بن أبي نجيح ثنى علي بن حسان القرشي عن عمه عبد الرحمن بن كثير عن جعفر بن محمد قال: قال أبو جعفر محمد بن علي: أجلسني جدي الحسين ابن علي في حجره وقال لي: رسول الله صلى الله عليه وسلم "يقرئك السلام"، وقال لي علي بن الحسين: أجلسني علي بن أبي طالب في حجره وقال لي: رسول الله صلى الله عليه وسلم "يقرئك السلام".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٨۔۔۔ سہیل بن ابی زینب سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس تھا : انھوں نے مجھے فرمایا : اے ابوقلابہ ! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو تو میں نے عرض کیا :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (خواب میں) میں نے دیکھا کہ (اے صحابہ ! ) میں تمہاری امامت کررہا ہوں اور مجھے بادلوں کے سایوں نے آگھیرا، میں آگے بڑھ گیا، مجھے پھر بادلوں نے آگھیرا میں پھر آگے بڑھ گیا۔
(اس کی تعبیر یہ ہے کہ ) درحقیقت مجھ سے میری وہ امت آملی جو میرے بعد آئے گی۔
ان کے قلوب اور ان کے اعمال میرے اخلاق میں رنگے ہوں گے۔ (گویا دو زمانے یعنی تابعین اور تبع تابعین کے لوگ میرے نقش قدم پر ہوں گے۔ )
یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے مجھے فرمایا : اے ابو قلابہ !
تم نے آج سے پہلے ہم کو یہ حدیث سنا کر خوش کیوں نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (خواب میں) میں نے دیکھا کہ (اے صحابہ ! ) میں تمہاری امامت کررہا ہوں اور مجھے بادلوں کے سایوں نے آگھیرا، میں آگے بڑھ گیا، مجھے پھر بادلوں نے آگھیرا میں پھر آگے بڑھ گیا۔
(اس کی تعبیر یہ ہے کہ ) درحقیقت مجھ سے میری وہ امت آملی جو میرے بعد آئے گی۔
ان کے قلوب اور ان کے اعمال میرے اخلاق میں رنگے ہوں گے۔ (گویا دو زمانے یعنی تابعین اور تبع تابعین کے لوگ میرے نقش قدم پر ہوں گے۔ )
یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے مجھے فرمایا : اے ابو قلابہ !
تم نے آج سے پہلے ہم کو یہ حدیث سنا کر خوش کیوں نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37908- عن سهل بن أبي زينب قال: كنت عند عمر بن عبد العزيز قال: يا أبا قلابة! حدثنا، فقال أبو قلابة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إني رأيت أن أؤمكم إذ لحقني ظلال وتقدمت ثم لحقني ظلال فتقدمت، لحقني من أمتي ... يكونون من بعدي تخلق بي قلوبهم وأعمالهم، فقال: إني والله يا أبا قلابة ما كنت تسرنا بهذا الحديث قبل اليوم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٠٩۔۔۔ حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوپر سے اترے اور جب آپ کا گذر بنی معاویہ کی مسجد پر ہوا تو وہاں داخل ہوگئے اور وہاں دو رکعت نماز ادا فرمائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب سے بہت دیر تک دعا کی۔ پھر فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیا تھا کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ فرمانا، پروردگار نے میرا یہ سوال پورا فرمایا۔
نیز میں نے اللہ سے سوال کیا تھا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کیجیؤ، اللہ پاک نے میری یہ دعا بھی قبول فرمالی۔ اور میں نے اللہ پاک سے یہ سوال کیا تھا کہ ان کے درمیان جنگ وجدال نہ ہو تو اللہ پاک نے اس سے منع فرمادیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان)
نیز میں نے اللہ سے سوال کیا تھا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کیجیؤ، اللہ پاک نے میری یہ دعا بھی قبول فرمالی۔ اور میں نے اللہ پاک سے یہ سوال کیا تھا کہ ان کے درمیان جنگ وجدال نہ ہو تو اللہ پاک نے اس سے منع فرمادیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان)
37909- "مسند سعد" عن سعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل ذات يوم من العالية حتى إذ مر بمسجد بني معاوية دخل فركع فيه ركعتين وصلينا معه ودعا ربه طويلا ثم انصرف إلينا فقال: "سألت ربي أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها، وسألته أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعنيها". "ش، حم، م وابن خزيمة، حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٠۔۔۔ (مسند سعد (رض)) شریح بن عبید حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے اور وہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
مجھے امید ہے کہ میری امت (قیامت کے روز) اپنے رب کے ہاں نصف یوم سے زیادہ عاجز نہ ہوگی (یعنی نصف یوم کے اندر اندر ان کا حساب کتاب نمٹ جائے گا) ۔ حضرت سعد (رض) سے کسی نے پوچھا : وہ نصف یوم کتنا (بڑا) ہوگا ؟ تو حضرت سعد (رض) نے فرمایا : پانچ سو سال کا۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نعیم بن حماد، مستدرک الحاکم، البعث للبیھقی، السنن لسعید بن منصور)
کلام :۔۔۔ بیہقی (رح) فرماتے ہیں مذکورہ حدیث کی سند شامی (روایت پر مبنی ) ہے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں۔
مجھے امید ہے کہ میری امت (قیامت کے روز) اپنے رب کے ہاں نصف یوم سے زیادہ عاجز نہ ہوگی (یعنی نصف یوم کے اندر اندر ان کا حساب کتاب نمٹ جائے گا) ۔ حضرت سعد (رض) سے کسی نے پوچھا : وہ نصف یوم کتنا (بڑا) ہوگا ؟ تو حضرت سعد (رض) نے فرمایا : پانچ سو سال کا۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نعیم بن حماد، مستدرک الحاکم، البعث للبیھقی، السنن لسعید بن منصور)
کلام :۔۔۔ بیہقی (رح) فرماتے ہیں مذکورہ حدیث کی سند شامی (روایت پر مبنی ) ہے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں۔
37910- "أيضا" عن شريح بن عبيد عن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إني لأرجو أن لا تعجز أمتي عند ربها عز وجل أن يؤخرهم نصف يوم"، قيل لسعد: وكم نصف يوم؟ قال: خمسمائة سنة."حم، د ونعيم بن حماد، ك، ق في البعث، ص. قال ق: إسناده شامي: تفردوا بهذا الحديث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ایک لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اضافہ فرمائیے !
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو بھر کر اشارہ فرمایا (یعنی اللہ پاک اپنی ایک مٹھی بھر کر میری امت کے لوگ جنت میں داخل فرمائے گا) حضرت ابوبکر (رض) نے پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مزید اضافہ فرمائیے ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ پاک قادر ہیں اس بات پر کہ ہم (سب) کو ایک مٹھی میں جنت میں داخل فرمادیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمر نے سچ کہا۔ (ابونعیم، الدیلمی)
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو بھر کر اشارہ فرمایا (یعنی اللہ پاک اپنی ایک مٹھی بھر کر میری امت کے لوگ جنت میں داخل فرمائے گا) حضرت ابوبکر (رض) نے پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مزید اضافہ فرمائیے ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ پاک قادر ہیں اس بات پر کہ ہم (سب) کو ایک مٹھی میں جنت میں داخل فرمادیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمر نے سچ کہا۔ (ابونعیم، الدیلمی)
37911- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي مائة ألف،" فقال أبو بكر: يا رسول الله! زدنا، فقال هكذا وأشار بيده، قال: يا رسول الله! زدنا، فقال عمر: إن الله قادر على أن يدخلنا الجنة بحفنة واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صدق عمر". "أبو نعيم والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٢۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کے لیے دعا فرمائی : اے اللہ ! میری امت کے دلوں کو اپنے دین کی طرف متوجہ فرما۔
اور اس کے علاوہ (ان کی جو خطائیں ہیں وہ) اپنی رحمت سے درگذر فرمادے۔ (الکبیر للطبرانی)
اور اس کے علاوہ (ان کی جو خطائیں ہیں وہ) اپنی رحمت سے درگذر فرمادے۔ (الکبیر للطبرانی)
37912- "أيضا" دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم لأمته فقال: "اللهم! أقبل بقلوبهم إلى دينك وحط من وراءهم برحمتك". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
میں اپنے اصحاب سے کب ملوں گا ؟ میں اپنے احباب سے کب ملوں گا ؟ کسی صحابی (رض) نے عرض کیا : کیا ہم آپ کے احباب نہیں ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
تم تو میرے صحابی ہو جب کہ میرے احباب (محبوب دوست) وہ ہیں جنہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا مگر وہ مجھ پر ایمان لائیں گے، مجھے ان کی ملاقات کا شوق ہے۔ (ابوالشیخ فی التواب)
میں اپنے اصحاب سے کب ملوں گا ؟ میں اپنے احباب سے کب ملوں گا ؟ کسی صحابی (رض) نے عرض کیا : کیا ہم آپ کے احباب نہیں ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
تم تو میرے صحابی ہو جب کہ میرے احباب (محبوب دوست) وہ ہیں جنہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا مگر وہ مجھ پر ایمان لائیں گے، مجھے ان کی ملاقات کا شوق ہے۔ (ابوالشیخ فی التواب)
37913- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "متى ألقى أصحابي؟ متى ألقى أحبابي، فقال بعض الصحابة: أوليس نحن أحباؤك؟ قال: أنتم أصحابي، ولكن أحبابي قوم لم يروني وآمنوا بي أنا إليهم بالأشواق". "أبو الشيخ في الثواب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٤۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ہماری تعداد میں) اضافہ فرمائیے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا : (یعنی اللہ پاک اپنے دونوں ہاتھ بھر کر میری امت کے لوگ جنت میں داخل فرمادیں گے۔ ) حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اور اضافہ فرمائیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اشارہ فرمایا۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابوبکر ! یہ کافی ہے تیرے لئے، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے چھوڑ عمر ! تجھے کیا ہے اگر اللہ پاک ہم سب کو جنت میں داخل فرمادے ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا :
اگر اللہ پاک چاہے تو اپنی ایک ہتھیلی سے ساری مخلوق کو جنت میں داخل فرمادے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمر نے سچ کہا۔ (رواہ ابن عساکر)
اگر اللہ پاک چاہے تو اپنی ایک ہتھیلی سے ساری مخلوق کو جنت میں داخل فرمادے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عمر نے سچ کہا۔ (رواہ ابن عساکر)
37914- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، "إن الله وعدني أن يدخل الجنة من أمتي أربعمائة ألف"، فقال أبو بكر الصديق: زدنا يا رسول الله قال: وهكذا جمع يديه، قال: زدنا يا رسول الله! قال: وهكذا، قال عمر: حسبك يا أبا بكر: فقال أبو بكر: دعني يا عمر! وما عليك أن يدخلنا الله الجنة؟ فقال عمر: إن شاء أدخل خلقه الجنة بكف واحد! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "صدق عمر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٥۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ایک گروہ حق ملک شام پر قتال کرتا رہے گا وہ قیامت تک غالب رہے اور پھر اپنے ہاتھ کے ساتھ ملک شام کی طرف اشارہ فرمایا (رواہ ابن عساکر
37915- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة" - وأومأ بيده إلى الشام."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٦۔۔۔ (ایضاً ۔ ابن النجار) (کتب الی یوسف بن عبداللہ الدمشقی انبانا ابوالقاسم محمود بن الفرج بن ابی القاسم المقری الکرخی
انبانا ابوحفص عمر بن ابی بکر انبانا ابوالصفا تامر بن علی انبانا منصور بن محمد بن علی الاصبھانی المذکر انبانا محمد بن احمد بن ابراھیم القاضی ثنا محمد ایوب الرازی ثناالقعسی عن سلمۃ بن وردان عن ثابت البنانی عن انس (رض)) ۔
حضرت ثابت بنانی (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی میں نے اپنے پروردگار عزوجل سے سوال کیا کہ اے الٰہ ! اے میرے آقا ! میری امت کا حساب میرے ہاتھوں میں دے دے تاکہ ان کے عیوب پر میرے سوا کوئی مطلع نہ ہو۔ تو اوپر سے آواز آئی اے احمد ! وہ میرے بندے ہیں، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں تجھے ان کے عیوب پر مطلع کروں۔ پھر میں نے عرض کیا : اے الہٰ ! اے میرے آقا ! میری امت کے گناہ گاروں کا کیا بنے گا ؟ تو اوپر سے نداء آئی : اے احمد ! جب میں رحیم ہوں اور تو شفاعت کرنے والا تو پھر ہمارے درمیان گناہ گار کہاں رہیں گے ! تب میں نے عرض کیا : بس مجھے یہ کافی ہے، مجھے یہ کافی ہے۔
کلام :۔۔۔ محمد بن علی کے متعلق المغنی میں ہے کہ وہ متہم ہے اور علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ رجحان اس بات کا ہے کہ یہ حدیث ان کی موضوعات میں سے ہو۔
انبانا ابوحفص عمر بن ابی بکر انبانا ابوالصفا تامر بن علی انبانا منصور بن محمد بن علی الاصبھانی المذکر انبانا محمد بن احمد بن ابراھیم القاضی ثنا محمد ایوب الرازی ثناالقعسی عن سلمۃ بن وردان عن ثابت البنانی عن انس (رض)) ۔
حضرت ثابت بنانی (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی میں نے اپنے پروردگار عزوجل سے سوال کیا کہ اے الٰہ ! اے میرے آقا ! میری امت کا حساب میرے ہاتھوں میں دے دے تاکہ ان کے عیوب پر میرے سوا کوئی مطلع نہ ہو۔ تو اوپر سے آواز آئی اے احمد ! وہ میرے بندے ہیں، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں تجھے ان کے عیوب پر مطلع کروں۔ پھر میں نے عرض کیا : اے الہٰ ! اے میرے آقا ! میری امت کے گناہ گاروں کا کیا بنے گا ؟ تو اوپر سے نداء آئی : اے احمد ! جب میں رحیم ہوں اور تو شفاعت کرنے والا تو پھر ہمارے درمیان گناہ گار کہاں رہیں گے ! تب میں نے عرض کیا : بس مجھے یہ کافی ہے، مجھے یہ کافی ہے۔
کلام :۔۔۔ محمد بن علی کے متعلق المغنی میں ہے کہ وہ متہم ہے اور علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ رجحان اس بات کا ہے کہ یہ حدیث ان کی موضوعات میں سے ہو۔
37916- "أيضا" "ابن النجار" كتب إلى يوسف بن عبد الله الدمشقي أنبأنا أبو القاسم محمود بن الفرج بن أبي القاسم المقرئ الكرخي أنبأنا أبو حفص عمر بن أبي بكر المقرئ أنبأنا أبو الصفا تامر بن علي أنبأنا منصور بن محمد بن علي الأصبهاني المذكر أنبأنا محمد ابن أحمد بن إبراهيم القاضي ثنا محمد بن أيوب الرازي ثنا القعسي عن سلمة بن وردان عن ثابت البناني عن أنس: قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليلة أسري بي إلى السماء سألت ربي عز وجل فقلت: إلهي وسيدي! اجعل حساب أمتي على يدي لئلا يطلع على عيوبهم أحد غيري، فإذا النداء من العلى: يا أحمد! إنهم عبادي لا أحب أن أطلعك على عيوبهم، فقلت: إلهي وسيدي ومولائي المذنبون من أمتي؟ " فإذا النداء من العلى: يا أحمد! إذا كنت أنا الرحيم وكنت أنت الشفيع فأين المذنبون بيننا! فقلت: حسبي حسبي." محمد ابن علي المذكر قال في المغني: متهم تالف، قلت: وأخلق بهذا الحديث أن يكون من وضعه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٧۔۔۔ (مسند علی (رض)) صفوان ابدال بن عبداللہ بن صفوان سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن ایک آدمی نے کہا :
اللھم العن اھل الشام۔ اے اللہ اہل شام پر لعنت فرما۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : سارے اہل شام کو گالی نہ دو ، کیونکہ شام میں ابدال بھی رہتے ہیں۔ (ابن راھویہ، الذھبی فی غلل حدیث الزھری، الدلائل للبیھقی)
ابن حجر (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ حدیث کا شاہد ہے ابو زریر غافقی کی حدیث سے جو کہ حضرت علی (رض) سے موقوفاً مروی ہے، نیز ابن یونس نے تاریخ مصر میں بھی اس کو روایت کیا ہے۔
اللھم العن اھل الشام۔ اے اللہ اہل شام پر لعنت فرما۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : سارے اہل شام کو گالی نہ دو ، کیونکہ شام میں ابدال بھی رہتے ہیں۔ (ابن راھویہ، الذھبی فی غلل حدیث الزھری، الدلائل للبیھقی)
ابن حجر (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ حدیث کا شاہد ہے ابو زریر غافقی کی حدیث سے جو کہ حضرت علی (رض) سے موقوفاً مروی ہے، نیز ابن یونس نے تاریخ مصر میں بھی اس کو روایت کیا ہے۔
37917- "مسند علي" عن صفوان بن عبد الله بن صفوان: قال رجل يوم صفين: اللهم العن أهل الشام! فقال علي كرم الله وجهه: لا تسبوا أهل الشام جما غفيرا فإن بها الأبدال، فإن بها الأبدال. " ابن راهويه والذهبي في علل حديث الزهري، ق في الدلائل؛ قال ابن حجر: وله شاهد من حديث أبي زرير الغافقي عن علي موقوفا أيضا رواه ابن يونس في تاريخ مصر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٨۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں، ارشاد فرمایا کہ میری امت میں بہترین لوگ پانچ سو رہتے ہیں اور چالیس ابدال۔ پس نہ پانچ سو کم ہوتے ہیں اور نہ چالیس ۔ جب بھی ابدال میں سے کوئی مرتا ہے تو اللہ پاک پانچ سوالوں میں سے نکال کر چالیس ابدال کی تعداد کو پورا فرما دیتا ہے پس اس طرح نہ پانچ سو کم ہوتے اور نہ چالیس
صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں بتائیے ان کے اعمال کیا ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ اپنے ا وپر ظلم کرنے والوں کو معاف کرتے ہیں اور اپنے ساتھ برائی کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں اور جو مال اللہ نے ان کو دے رکھا ہے اس کے ذریعے وہ دوسروں کی غمخواری کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کتاب اللہ میں بھی ہے :
والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین۔
اور (وہ لوگ) غصہ کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ پاک احسان کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں بتائیے ان کے اعمال کیا ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ اپنے ا وپر ظلم کرنے والوں کو معاف کرتے ہیں اور اپنے ساتھ برائی کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں اور جو مال اللہ نے ان کو دے رکھا ہے اس کے ذریعے وہ دوسروں کی غمخواری کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کتاب اللہ میں بھی ہے :
والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین۔
اور (وہ لوگ) غصہ کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ پاک احسان کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37918- عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خيار أمتي خمسمائة والأبدال أربعون، فلا الخمسمائة ينقصون ولا الأربعون ينقصون، كلما مات بدل أبدل الله من الخمسمائة مكانه وأدخل في الأربعين مكانهم، فلا الخمسمائة ينقصون ولا الأربعون ينقصون، فقالوا: يا رسول الله! دلنا على أعمال هؤلاء، فقال: هؤلاء يعفون عمن ظلمهم، ويحسنون إلى من أساء إليهم، ويواسون مما آتاهم الله"، وتصديق ذلك في كتاب الله {وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} . "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩١٩۔۔۔ رجاء بن حیوۃ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :
اے اہل عراق ! اہل شام کو گالی مت دو ۔ بیشک ان میں ابدال رہتے ہیں۔
ان میں سے جب بھی کوئی مرتا ہے اللہ پاک اس کی جگہ دوسرا بدل دیتے ہیں۔
رجاء فرماتے ہیں : پھر حضرت علی (رض) نے مجھے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اے رجاء ! بیسان کے باشندوں میں مجھے دو نیک لوگوں کا بتا، کیونکہ اللہ پاک نے بیسان کو دوابدال رکھنے کی فضیلت بخشی ہے۔ وہ دو ایسے افراد ہوں جنہوں نے جھوٹ موٹ پرہیزگاری کا لبادہ نہ اوڑھ رکھا ہو اور نہ وہ ائمہ پر طعن تشنیع کرنے والے ہوں کیونکہ ایسے لوگوں کو اللہ پاک ابدال کا درجہ نہیں دیتا۔ (ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، اخرجہ ابن عساکر من طریق رجاء)
اے اہل عراق ! اہل شام کو گالی مت دو ۔ بیشک ان میں ابدال رہتے ہیں۔
ان میں سے جب بھی کوئی مرتا ہے اللہ پاک اس کی جگہ دوسرا بدل دیتے ہیں۔
رجاء فرماتے ہیں : پھر حضرت علی (رض) نے مجھے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اے رجاء ! بیسان کے باشندوں میں مجھے دو نیک لوگوں کا بتا، کیونکہ اللہ پاک نے بیسان کو دوابدال رکھنے کی فضیلت بخشی ہے۔ وہ دو ایسے افراد ہوں جنہوں نے جھوٹ موٹ پرہیزگاری کا لبادہ نہ اوڑھ رکھا ہو اور نہ وہ ائمہ پر طعن تشنیع کرنے والے ہوں کیونکہ ایسے لوگوں کو اللہ پاک ابدال کا درجہ نہیں دیتا۔ (ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، اخرجہ ابن عساکر من طریق رجاء)
37919- عن رجاء بن حيوة عن علي أنه قال: يا أهل العراق! لا تسبوا أهل الشام فإن فيهم الأبدال، لا يموت رجل منهم إلا بدل الله مكانه آخر، ثم قال لي: يا رجاء! اذكر لي رجلين صالحين من بيسان، فإن الله خص بيسان برجلين من الأبدال، لا يكون متماوتا ولا طعانا على الأئمة، فإنه لا يكون منهم الأبدال."ابن منده في غرائب شعبة، وأخرجه كر من طريق رجاء".
তাহকীক: