কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৯৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ مختلف جماعتوں کے فضائل مطلق جماعت کے فضائل
٣٧٩٢٠۔۔۔ حارث بن حرمل حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اہل شام کو گالی گلوچ نہ کرو، کیونکہ ان میں ابدال ہیں، اور حارث کہتے ہیں (یہ بھی حضرت علی (رض) نے فرمایا : ) اے رجاء ! مجھے اہل بیسان میں سے دو نیک شخص بتا، کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ اللہ نے اہل بیسان میں ابدال میں سے دونیک شخص رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک نہیں مرتا مگر اللہ پاک اس کی جگہ دوسرا بدل دیتا ہے، پھر فرمایا : اور مجھے کسی بناوٹی اور ائمہ کو طعن کرنے والے کا نہ بتانا کیونکہ ایسے دونوں گروہوں میں سے ابدال نہیں ہوتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37920- عن الحارث بن حرمل عن علي رضي الله عنه قال: لا تسبوا أهل الشام فإن فيهم الأبدال. وقال الحارث: يا رجاء! اذكر لي رجلين صالحين من أهل بيسان، فإنه بلغني أن الله اختص أهل بيسان برجلين صالحين من الأبدال، لا يموت واحد إلا أبدلالله مكانه واحدا، ولا تذكر لي منهما متماوتا ولا طعانا على الأئمة فإنه لا يكون منهما الأبدال." …
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ قبائل کے فضائل میں مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢١۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے، فرمایا : ہم ایک دن طلوع شمس کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عن قریب میری امت کے کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہوگا۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ لوگ کون ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فقراء مہاجرین، جن کے ذریعے مشکلات کو دفع کیا جاتا ہے (جنگوں میں اور مشکل مواقع پر) اور ان میں سے کوئی مرتا ہے تو اپنی آرزوئیں اپنے سینے میں لے کر چلا جاتا ہے۔ یہ لوگ زمین کے اطراف واکناف سے قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے۔ (رواہ ابن النجار)
37921- عن ابن عمر قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حين طلعت الشمس فقال: "سيأتي ناس من أمتي يوم القيامة نورهم كضوء الشمس،" قلنا: من أولئك يا رسول الله؟ فقال: "فقراء المهاجرين الذين تتقى بهم المكاره، يموت أحدهم وحاجته في صدره، يحشرون من أقطار الأرض". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ قبائل کے فضائل میں مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٢۔۔۔ (مسند عبداللہ بن عمر) کیا تو جانتا ہے پہلے گروہ کو جو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا ؟ یہ فقراء مہاجرین ہوں گے جو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر آئیں گے اور اس کا دروازہ کھلوائیں گے، جنت کا خازن ان سے پوچھے گا : کیا تمہارا حساب کتاب ہوچکا ہے ؟ تو وہ کہیں گے : ہم سے کس چیز کا حساب ہوگا، ہمیشہ تو ہمارے کاندھوں پر تلوار لٹکی رہی اور اسی حال میں ہم مرگئے۔ چنانچہ ان کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ پس وہ اس میں چالیس سال تک قیلولہ کرتے رہیں گے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے قبل۔ (مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیھقی)
37922- "مسند عبد الله بن عمر " أتعلم أول زمرة تدخل الجنة من أمتي؟ فقراء المهاجرين يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون فتقول لهم الخزنة: أوقد حوسبتم؟ قالوا بأي شيء نحاسب؟ وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك! فيفتح لهم فيقيلون فيها أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس." ك، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ قبائل کے فضائل میں مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٣۔۔۔ حضرت ابن عمرو (رح) حضرت قتادہ (رح) سے روایت کرتے ہیں، قتادہ (رح) فرماتے ہیں :

میں نے حضرت سعید بن المسیب (رح) پوچھا : مہاجرین اولین اور آخرین میں کیا فرق ہے ؟ انھوں نے فرمایا : دوقبلوں

کا۔ یعنی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے وہ مہاجرین اولین میں سے ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37923- عن ابن عمرو عن قتادة قال: قلت لسعيد بن المسيب: ما فرق بين المهاجرين الأولين والآخرين؟ قال: فرق بينهما القبلتان، ومن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم القبلتين فهو من المهاجرين الأولين."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٤۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) عثمان بن محمد بن الزبیری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے کسی خطبے میں ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ہمارا اور انصار کا حال ایسا ہے جیسا کسی نے کہا :

جزی اللہ عنا جعفراً حین اشرفت بنا نعلنا للواطئین فزلت۔

اللہ ہماری طرف سے جعفر کو جزائے خیر دے، جب ہمارے جوتے روندنے کے لیے اٹھے تو پھسل گئے، انھوں نے تھکنے سے انکار کردیا، اور اگر ہماری امید بر آتی ہمارے سفر سے تو ہماری جوتیاں تھک جاتیں۔ (ابن ابی الدنیا فی الاشراف)
37924- "مسند الصديق" عن عثمان بن محمد بن الزبيري قال قال أبو بكر الصديق في بعض خطبه: نحن والله والأنصار كما قال:

جزى الله عنا جعفرا حين أشرفت ... بنا نعلنا للواطئين فزلت

أبوا أن يملونا ولو أن أمنا ... تلاقي الذي يلقون منا لملت

"ابن أبي الدنيا في الأشراف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں حج کے دنوں میں لوگوں سے ملنے کھڑے ہوئے اور عرب کے ایک ایک قبیلے کے پاس کر دعوت دینے لگے، لیکن کوئی ایسا قبیلہ نہیں ملا جو آپ کی دعوت کو قبول کرتا حتی کہ اللہ پاک نے انصار کے اس قبیلے کو کھڑا کردیا اور ان کو یہ سعادت بخش دی اور ان کو یہ کرامت و عزت نصیب ہوئی کہ انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مہاجرین کو ٹھکانا دیا اور ان کی مدد کی، پس اللہ پاک ان کو ان کے نبی کی طرف سے جزائے خیر دے۔ (البزار وحسنہ)
37925- عن عمر قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة يعرض نفسه على قبائل العرب قبيلة في الموسم ما يجد أحدا يجيبه، حتى جاء الله بهذا الحي من الأنصار لما أسعدهم الله وساق لهم من الكرامة، فآووا ونصروا، فجزاهم الله عن نبيهم خيرا. "البزار وحسنه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٦۔۔۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ اسلام کو انصار کے ساتھ عزت دے، جن کے ذریعے تو نے دین کو قائم کیا اور انھوں نے مجھے ٹھکانا دیا اور میری مدد کی اور وہ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہیں۔ اور یہ لوگ سب سے پہلے جنت کے صحن میں داخل ہوں گے۔ (رواہ الدیلمی)
37926- عن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اللهم! أعز الإسلام بالأنصار الذين أقام الله بهم الدين، آووني ونصروني، وهم إخواني في الدنيا والآخرة، وأول من يدخل بحبوحة الجنة". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٧۔۔۔ (مسند بریدۃ بن الحصیب الاسلمی) ذوالیدین (رض) کا ارشاد ہے :

اے انصار کے گروہ ! کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم نہیں دیا تھا کہ تم صبر کرنا حتی کہ مجھ سے آملو۔ (الکبیر للطبرانی عن رجل)
37927- "مسند بريدة بن الخصيب الأسلمي" قال ذو اليدين: يا معشر الأنصار! أليس أمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تصبروا حتى تلقوه. "طب - عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٨۔۔۔ (مسند جبیر بن مطعم) عن محمد بن یوسف الحمال عن سفیان بن عیینۃ عن عمروبن دینار عن محمد جبیر بن مطعم عن ابیہ قال۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) کو ارشاد فرمایا کرتے تھے : چلو ہمارے ساتھ بنی واقف کے پاس بصیر (آنکھوں والے) کی زیارت کرکے آئیں۔

سفیان کہتے ہیں بنی واقف انصار کا ایک قبیلہ تھا اور اس میں ایک نابینا شخص تھا۔ (شعب الایمان للبیھقی)
37928- "مسند جبير بن مطعم" عن محمد بن يوسف الحمال عن سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول لأصحابه: "اذهبوا بنا إلى بني واقف نزور البصير". قال سفيان: وهم حي من الأنصار وكان محجوب البصر. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٢٩۔۔۔ (ایضاً ) عن ابی عمرو عن سفیان عن عمرو عن محمد بن جبیر بن مطعم۔۔۔ محمد بن جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو فرمایا کرتے تھے : چلو ہمارے ساتھ بصیر کی طرف جو بنی واقف میں رہتا ہے، اس کی زیارت کرکے آئیں۔ (شعب الایمان)

امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اس کا مرسل ہونا جیسا کہ اس حدیث میں ہے زیادہ درست ہے۔
37929- "أيضا" عن أبي عمرو عن سفيان عن عمرو عن محمد بن جبير بن مطعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأصحابه: "اذهبوا بنا إلى البصير الذي في بني واقف نزوره". "هب وقال: هذا المرسل هو الصواب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٠۔۔۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کو فرمایا کرتے تھے : چلو چلیں بنی واقف میں، بصیر کی زیارت کرکے آئیں۔

سفیان کہتے ہیں : بنی واقف انصار کا ایک قبیلہ تھا اور بصیران میں ایک نابینا شخص تھا۔ (الکبیر للطبرانی عن جبیر بن مطعم)
37930- "مسند بلال" كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول لأصحابه: "اذهبوا بنا إلى بني واقف نزور البصير". قال سفيان: حي من الأنصار، وكان البصير ضرير البصر. "طب - عن جبير بن مطعم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣١۔۔۔ (مسند جابر بن عبداللہ ) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے سے قبل دو سال تک ہم مدینہ منورہ میں مسجدیں تعمیر کرتے رہے اور نماز قائم کرتے رہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37931- "مسند جابر بن عبد الله" لقد لبثنا بالمدينة سنتين قبل أن يقدم علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نعمر المساجد ونقيم الصلاة."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٢۔۔۔ حضرت جابر انصار (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خوش آمدید اے جویبر ! (جابر کو پیار سے جویبر فرماتے ہوئے (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے انصار کی جماعت ! اللہ ! تمہیں جرائے خیر دے، جب لوگوں نے مجھے دھتکار دیا تھا تب تم لوگوں نے مجھے ٹھکانا دیا اور جب لوگوں نے مجھے رسوا کردیا تب تم نے میری مدد کرکے آگے بڑھے پس اللہ تم کو جزائے خیر دے اے انصار کے گروہ !

حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : بلکہ اللہ آپ کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے، آپ کی بدولت اللہ نے ہم کو اسلام کی ہدایت بخشی اور آپ کے طفیل اللہ نے ہم کو جہنم کے گڑھے سے نکالا اور آپ (کی شفاعت) کے طفیل ہم جنت کے بلند درجات پانے کی امید رکھتے ہیں۔ (رواہ الدیلمی)
37932- عن جابر قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال: "رحبا يا جويبر! جزاكم الله يا معشر الأنصار خيرا! آويتموني إذ طردني الناس، ونصرتموني إذ خذلني الناس، فجزاكم الله معشر الأنصار خيرا! " فقلت: بل جزاك الله عنا خيرا! بك هدانا الله إلى الإسلام، وأنقذنا من شفا حفرة من النار، وبك نرجو الدرجات العلى من الجنة". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٣۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے فرمایا : نقباء (ہجرت سے پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینے آنے کی دعوت دینے والے ) سب کے سب انصار تھے۔ ا نہی میں سے براء بن معرور بھی تھے جو بنی سلمہ سے تعلق رکھتے تھے (رواہ ابو نعیم
37933- عن جابر قال: النقباء كلهم من الأنصار، منهم البراء بن معرور من بني سلمة. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٤۔۔۔ حارث بن زیاد الساعدی (انصاری (رض)) سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے ہجرت (مدینہ) پر بیعت لے رہے تھے۔ ہمیں یہ خیال ہوا کہ آپ لوگ بیعت کے لیے بلا رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے عرض کیا :

یا رسول اللہ ! اس کو بھی ہجرت پر بیعت فرمالیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس کو ؟ میں نے عرض کیا : یہ میرا چچا زاد ہے حوط بن یزید یا یزید بن حوط فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تم سے (ہجرت پر) بیعت نہیں لے سکتا، کیونکہ لوگ تو ہجرت کرکے تمہاری طرف (مدینے) آتے ہیں جب کہ تم ہجرت کرکے ان کے پاس نہیں جاتے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! (تم) انصار سے کوئی شخص محبت نہیں کرتا مگر وہ ضرور اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ پاک اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ اور کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھتا مگر وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ پاک بھی اس سے بغض (نفرت) رکھتے ہوں گے۔ (مسند احمد، التاریخ للبخاری، ابن ابی خیثمہ، ابو عوانۃ، البغوی، الکبیر للطبرانی، ابونعیم)
37934- عن الحارث بن زياد الساعدي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق وهو يبايع الناس على الهجرة فظننا أنهم يدعون إلى البيعة فقلت: يا رسول الله! بايع هذا على الهجرة، فقال: "ومن هذا؟ " قلت: هذا ابن عمي حوط بن يزيد - أو: يزيد بن حوط - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا أبايعكم، إن الناس يهاجرون إليكم ولا تهاجرون إليهم، والذي نفسي بيده! لا يحب الأنصار رجل حتى يلقى الله إلا لقي الله وهو يحبه، ولا يبغض الأنصار رجل حتى يلقى الله إلا لقي الله وهو يبغضه". "حم، خ في تاريخه وابن أبي خيثمة وأبو عوانة والبغوي، طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٥۔۔۔ زید بن ثابت (انصاری (رض)) سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادۃ (انصار کے سردار (رض)) اپنے بیٹے کے ساتھ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے

ارشاد فرمایا : یہاں بیٹھو یہاں، اور ان کو اپنی دائیں طرف جگہ عنایت فرمائی اور فرمایا انصار کو مرحبا ہو۔

اور انھوں نے اپنے بیٹے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیٹے کو فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ وہ بیٹھ گیا۔ پھر اس کو فرمایا :

قریب آجا، وہ قریب ہوگیا اور پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

میں بھی انصار میں سے ہوں، اور انصار کے بچوں میں سے ہوں۔ حضرت سعد (رض) نے عرض کیا : اللہ آپ کو عزت بخشے جیسے آپ نے ہم کو عزت بخشی۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے عزت دینے سے قبل ہی اللہ نے تم کو عزت سے نواز دیا تھا۔ تم میرے بعد (اپنے آپ کے ساتھ زیادتی اور اوروں کی ) ترجیح دیکھو گے لہٰذا تم صبر کا دامن تھامے رکھنا حتی کہ حوض پر مجھ سے آملو۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت کی سند میں عاصم بن عبدالعزیز اشجعی ہے جس کے متعلق خطیب بغدادی (رح) فرماتے ہیں یہ قوی راوی نہیں ہے۔
37935- عن زيد بن ثابت قال: دخل سعد بن عبادة على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ابنه فسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ههنا ههنا" - وأجلسه عن يمينه، وقال: "مرحبا بالأنصار! " وأقام ابنه بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اجلس،" فجلس فقال: "ادن،" فدنا فقبل يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "وأنا من الأنصار وأنا من فراخ الأنصار"، فقال سعد: أكرمك الله كما أكرمتنا! فقال: "إن الله أكرمكم قبل كرامتي، إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض". "كر، وفيه عاصم بن عبد العزيز الأشجعي، قال خط: ليس بالقوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٦۔۔۔ سہل بن سعد الساعدی (انصار (رض)) سے مروی ہے، انھوں نے حجاج کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اے حجاج ! کیا تو ہمارے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کو یاد نہیں رکھتا ؟ حجاج نے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے متعلق کیا وصیت فرمائی تھی ؟ حضرت سہل (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار کے اچھے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور ان کے بروں کے ساتھ درگذر کا معاملہ کیا جائے (رواہ ابن عساکر)
37936- عن سهل بن سعد الساعدي أنه قال: يا حجاج! ألا تحفظ فينا وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: وما وصى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكم، قال: "أوصى أن يحسن إلى محسن الأنصار ويعفى عن مسيئهم". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٧۔ عیسیٰ بن سبرۃ اپنے و الد کے واسطے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

یاد رکھو ! نماز بغیر وضو کے نہیں ہے اور اس شخص کا وضو نہیں ہے جو اللہ کا نام نہ لے۔ اور یاد رکھو ! وہ اللہ پر ایمان نہیں لایا جو مجھ پر ایمان نہیں لایا اور وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا جس نے انصار کا حق نہیں پہچانا۔ (رواہ ابن النجار)
37937- عن عيسى بن سبرة عن أبيه عن جده أبي سبرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا! لا صلاة إلا بوضوء ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عز وجل، ألا! لا يؤمن بالله من لا يؤمن بي، ولا يؤمن بي من لم يعرف حق الأنصار". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٨۔۔۔ مہاجرین دینار سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید انصاری (رض) نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو فرمایا : میرے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کا خیال رکھنا۔ خلیفہ عبدالملک نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا :

انصار کے اچھے لوگوں کو قبول کرو اور بروں سے درگذر کرو۔

حضرت ابوسعید (رض) اسماء (رض) بنت یزید بن السکن کے شوہر تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37938- عن مهاجر بن دينار أن أبا سعيد الأنصاري قال لعبد الملك بن مروان: احفظ في وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: وما ذاك؟ قال: "اقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم"، وكان أبو سعيد زوج أسماء بنت يزيد بن السكن. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٣٩۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام جعرانہ میں قیدیوں وغیرہ کو تقسیم کیا تو قریش وغیرہ عرب کے لوگوں کو عطیے عطاکئے، جن میں سے انصار کو کچھ نہ ملا۔ جس کی وجہ سے چہ میگوئیاں بڑھ گئیں اور طرح طرح کی باتیں پھیلنے لگیں حتی کہ ان میں سے ایک نے یہ تک کہا : حاصل کلام رسول اللہ اپنی قوم والوں سے جاملے ہیں۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن عبادۃ کو (جو انصار کے سردار تھے) پیغام بھیج کر بلوایا اور پوچھا : یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہاری قوم کی طرف سے پہنچ رہی ہیں اور بہت زیادہ پھیل گئی ہیں ؟ حضرت سعد (رض) نے عرض کیا : جو باتیں آپ کو پہنچی ہیں واقعۃً ہورہی ہیں۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اور ان باتوں میں تمہارا کیا کردار ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : میں بھی اپنی قوم ہی کا ایک فرد ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ بڑھ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی قوم کے لوگوں کو جمع کرو اور ان کے علاوہ کوئی اور آدمی نہ ہو۔ چنانچہ حضرت سعد نے قیدیوں کے میدانوں میں سے ایک میدان میں اپنی انصار قوم کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور خود وہاں دروازے پر کھڑے ہوگئے اور صرف اپنی قوم کے لوگوں کو چھوٹے تھے صرف مہاجرین کے کچھ لوگوں کو چھوڑا تھا اور (اکثر) لوگوں کو واپس کردیا تھا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے غصہ آپ کے چہرہ مبارک پر عیاں تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

اے جماعت انصار ! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو اللہ نے ہدایت بخش دی ؟ انصار کہنے لگے : ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غصے اور اس کے رسول کے غصے سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے انصار کی جماعت ! کیا میں نے تم کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ نے تم کو غنی و مالدار کردیا ؟ انصار پھر بولے : ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار بولے : اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات اور فضل ہیں۔ چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ کافور ہوگیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہہ سکتے ہو اور اسی میں کچھ جھوٹ نہ ہوگا : کہ ہم نے آپ کو دھتکارا ہوا پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا اور دوسرے لوگوں نے آپ کو جھٹلادیا تھا لیکن ہم آپ کی تصدیق کی اور آپ تنگدست تھے ہم نے آپ کی غمخواری کی، آپ رسوا ہوچکے تھے ہم نے آپ کی مدد کی۔ یہ سن کر انصار روپڑے اور کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول کے ہم پر بہت احسانات اور انعامات ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم دنیا کا مال دیکھتے ہو جو میں کسی قوم کو دے کر ان کو اسلام کے لیے نرم کرنا چاہتا ہوں جب کہ تم کو اسلام کے حوالہ کرتا ہوں۔ اگر یہ سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل پڑیں تو میں تمہاری وادی اور گھاٹی میں ہی چلوں گا۔ تم میرے لیے دن بدن سے ملے ہوئے کپڑے ہو اور لوگ اوپر کا (زائد) لباس ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصارہی میں سے ہوتا۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ میں آپ کی کہنیوں کے نیچے والا حصہ دیکھ رہا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی !

اللھم اغفر للانصار ولابناء الانصار والابناء ابناء الانصار۔

اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انصار کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اور لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ اپنے گھروں کو لے جاؤ۔ یہ سن کر انصار رو پڑے حتی کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں اور پھر وہ یہ کہتے ہوئے لوٹے رضینا باللہ رباً وبرسولہ حظاً ونصیباً ۔

ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اور رسول ہمارے حصے میں آئے ہم اس پر راضی اور خوش ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ)
37939- عن أبي سعيد قال: لما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم السبى بالجعرانة أعطى عطايا قريش وغيرها من العرب ولم يكن في الأنصار منها شيء فكثرت المقالة وفشت حتى قال قائلهم: أما رسول الله لقد لقى قومه، فأرسل إلى سعد بن عبادة فقال: "ما مقالة بلغتني عن قومك أكثروا فيها؟ " فقال له سعد: فقد كان ما بلغك، قال "فأين أنت من ذاك؟ " قال: ما أنا إلا رجل من قومي، فاشتد غضبه وقال: "اجمع قومك ولا يكن معهم غيرهم،" فجمعهم في حظيرة من حظائر السبي وقام على بابها وجعل لا يترك إلا من كان من قومه وقد ترك رجالا من المهاجرين ورد أناسا، ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعرف في وجهه الغضب فقال: "يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم الله؟ " فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله "يا معشر الأنصار ألم أجدكم عالة فأغناكم الله" فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله! قال: "ألا تجيبون؟ " قالوا: الله ورسوله أمن وأفضل، فلما سري عنه قال: "ولو شئتم لقلتم فصدقتم: ألم نجدك طريدا فأويناك ومكذبا فصدقناك وعائلا فآسيناك ومخذولا فنصرناك؟ " فجعلوا يبكون ويقولون: الله ورسوله أمن وأفضل، ثم قال: "أوجدتم من شيء من دنيا أعطيتها قوما أتألفهم على الإسلام ووكلتكم إلى إسلامكم؟ لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت واديكم وشعبكم، أنتم شعار والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار، ثم رفع يديه حتى إني لأرى ما تحت منكبيه فقال: اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار! أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيوتكم؟ " فبكى القوم حتى اخضلوا1 لحاهم وانصرفوا وهم يقولون رضينا بالله وبرسوله حظا ونصيبا. "ش"
tahqiq

তাহকীক: