কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৯৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٠۔۔۔ عبداللہ بن رباح سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ (رض) نے فرمایا : اے انصار کی جماعت ! میں
تمہارے متعلق حدیثوں میں سے ایک حدیث نہ بتاؤں ؟ پھر فرمایا :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو فرمایا تھا : اے انصار کی جماعت ! انصار لوگوں نے عرض کیا :
لبیک یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے یہ کہا تھا کہ آدمی کو (یعنی رسول کو) اپنی (مکہ کی ) بستی کی چاہت آگئی ہے اور اپنے خاندان کی محبت (طرف داری ) پیدا ہوگئی ہے ؟ انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم سے یہ بات نکلی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہرگز ایسا نہیں ہے، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں تمہارے پاس ہجرت کرکے آیا، اب زندگی تمہارے ساتھ ہے اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے۔ یہ سن کر انصار آپ کی طرف بڑھے اور رونے لگے اور بولے : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! ہم نے جو کہا تھا وہ محض ہماری اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ بدگمانی تھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
تمہارے متعلق حدیثوں میں سے ایک حدیث نہ بتاؤں ؟ پھر فرمایا :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو فرمایا تھا : اے انصار کی جماعت ! انصار لوگوں نے عرض کیا :
لبیک یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے یہ کہا تھا کہ آدمی کو (یعنی رسول کو) اپنی (مکہ کی ) بستی کی چاہت آگئی ہے اور اپنے خاندان کی محبت (طرف داری ) پیدا ہوگئی ہے ؟ انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم سے یہ بات نکلی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہرگز ایسا نہیں ہے، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں تمہارے پاس ہجرت کرکے آیا، اب زندگی تمہارے ساتھ ہے اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے۔ یہ سن کر انصار آپ کی طرف بڑھے اور رونے لگے اور بولے : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! ہم نے جو کہا تھا وہ محض ہماری اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ بدگمانی تھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37940- عن عبد الله بن رباح قال قال أبو هريرة: ألا أعلمكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار؟ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يامعشر الأنصار! قالوا: لبيك يا رسول الله! قال قلتم: أما الرجل فقد أدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته،" قالوا: قد قلنا ذاك يا رسول الله! قال: "كلا إني عبد الله ورسوله، هاجرت إليكم، المحيا محياكم والممات مماتكم،" فأقبلوا إليه يبكون ويقولون: والله يا رسول الله ما قلنا الذي قلنا إلا الضن بالله ورسوله، قال: "فإن الله ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ حنین کے اموال غنیمت میں سے سو اونٹ اقرع بن حابس کو دئیے اور سو اونٹ عیینہ بن حصن کو دئیے۔ انصار کے کچھ لوگوں نے آپس میں کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اموال غنیمت ایسے لوگوں کو دے رہے ہیں جن کے خون سے ہماری تلواریں ٹپک رہی ہیں یا ان کی تلواروں سے ہمارے خون ٹپک رے ہیں۔ یہ بات بنی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا کیا تم میں کوئی غیر تو نہیں ہے انھوں نے عرض کیا : نہیں، صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی قوم کی بہن کا بیٹا بھی انہی میں شمار ہوتا ہے۔ پھر فرمایا :
کیا تم نے ایسا ایسا کہا تھا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اور لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ ؟
انصار نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اور لوگ دثار ہیں (یعنی اور پر کا زائد کپڑا) اور انصار شعار ہیں (بدن سے ملاہوا اصل کپڑا) ، انصار میری جماعت ہیں اور مرے راز دار ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
کیا تم نے ایسا ایسا کہا تھا، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اور لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ ؟
انصار نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اور لوگ دثار ہیں (یعنی اور پر کا زائد کپڑا) اور انصار شعار ہیں (بدن سے ملاہوا اصل کپڑا) ، انصار میری جماعت ہیں اور مرے راز دار ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37941- عن أنس قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم من غنائم حنين الأقرع بن حابس مائة من الإبل وعيينة بن حصن مائة من الإبل، فقال ناس من الأنصار: يعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم أو تقطر سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسل إليهم فجاؤا فقال: "فيكم غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا، قال: " ابن أخت القوم منهم"، فقال: "قلتم كذا وكذا! أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير وتذهبوا بمحمد إلى دياركم؟ " قالوا: بلى يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الناس دثار والأنصار شعار، الأنصار كرشي وعيبتي1، فلولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٢۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے (آنے سے پہلے) کچھ غلہ مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔ (یہاں آنے کے بعد) ان سے ایک گھر والوں کا کسی نے ذکر کیا کہ وہ انصار کے بنی ظفر قبیلے کے لوگوں کا گھر ہے اور وہ حاجت مند بھی تھے اور اس گھر والوں میں اکثر اہل خانہ کی تعداد عورتوں کی ہے (لیکن ان کو آپ نے مال نہیں دیا) چنانچہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسید (رض) کو فرمایا : اے اسید ! تو نے ہم کو چھوڑ دیا گویا (اپنے آپ کو انصار کا فرد کہلوایا) حتی کہ ہمارے ہاتھوں میں جو مال تھا وہ ختم ہوگیا۔ اب جب تم دوبارہ سنو کہ ہمارے پاس مال آیا ہے تو مجھے اس گھر والوں کا یاد دلانا۔ چنانچہ بعد میں پھر حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں خیبر سے مال آیا جو جو یا کھجوریں تھیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں مال تقسیم فرمایا اور انصار کو خوب دیا اور اس محروم گھر میں بھی مال عطا کیا اور خوب دیا۔ چنانچہ حضرت اسید بن حضیر نے بطور شکریہ کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ کو بہترین جز (آئے خیر) عطافرمائے۔ میں جانتا ہوں بیشک تم لوگ صبر والے پاک دامن لوگ ہو اور عنقریب حکومت کے معاملے اور تقسیم میں میرے بعد اپنے اوپر اوروں کی ترجیح دیکھو گے۔ پس تم صبر کرتے رہنا۔ حتی کہ تم حوض پر مجھ سے آملو۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیھقی، ابن عساکر)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں مال تقسیم فرمایا اور انصار کو خوب دیا اور اس محروم گھر میں بھی مال عطا کیا اور خوب دیا۔ چنانچہ حضرت اسید بن حضیر نے بطور شکریہ کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ کو بہترین جز (آئے خیر) عطافرمائے۔ میں جانتا ہوں بیشک تم لوگ صبر والے پاک دامن لوگ ہو اور عنقریب حکومت کے معاملے اور تقسیم میں میرے بعد اپنے اوپر اوروں کی ترجیح دیکھو گے۔ پس تم صبر کرتے رہنا۔ حتی کہ تم حوض پر مجھ سے آملو۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیھقی، ابن عساکر)
37942- عن أنس قال: جاء أسيد بن حضير إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقد كان قسم طعاما فذكر له أهل بيت من الأنصار من بني ظفر فيهم حاجة وجل أهل ذلك البيت نسوة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "تركتنا يا أسيد حتى ذهب ما في أيدينا! فإذا سمعت بشيء قد جاءنا فاذكر لي أهل ذلك البيت،" فجاءه بعد ذلك طعام من خيبر شعير أو تمر، فقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس وقسم في الأنصار فأجزل، وقسم في أهل البيت فأجزل، فقال أسيد بن حضير متشكرا: جزاك الله أي نبي الله أطيب الجزاء - أو قال: خيرا - فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "وأنتم معشر الأنصار فجزاكم الله أطيب الجزاء" - أو قال خيرا - فإنكم ما علمت أعفة صبر، وسترون بعدي أثرة في الأمر والقسم فاصبروا حتى تلقوني على الحوض". "عد، هب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٣۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور آپ نے اپنا سر باندھا ہوا تھا۔ (شاید سر میں درد ہوگا) ۔ باہر آپ سے انصار نے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ ان کے بچے اور نوکر بھی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ بیشک انصار نے (نصرت اور شہادت کے ساتھ) اپنا حق ادا کردیا جو ان پر لازم تھا اور (پھر دوسروں سے فرمایا اور ) تم پر باقی رہ گیا ہے۔ پس تم لوگ انصار کے اچھے لوگوں کے ساتھ اچھائی برتنا اور ان کے بروں کے ساتھ درگذر کا معاملہ کرنا (رواہ الدیلمی) ۔
37943- عن أنس قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عاصب، رأسه فتلقته الأنصار بأولادهم وخدمهم فقال: والذي نفس محمد بيده إني لأحبكم! إن الأنصار قد قضوا عليهم وبقي الذي عليكم، فأحسنوا إلى محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٤۔۔۔ حضرت انس (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :
یا رسول اللہ ! ہم نے کوئی قوم انصار کے سوا ایسی نہیں دیکھی جو مال کے زیادہ ہوتے وقت خوب خرچ کرنے والی ہو اور جب مال کم ہو تب بھی بہت اچھے طریقے سے غم خواری کرنے والی ہو۔ اور ہم مدینے آئے تو ان لوگوں نے ہماری مشقت کو اپنے اوپر لے لیا جب کہ فائدے (اور پھلوں) میں انھوں نے ہم کو شریک کرلیا۔ اب ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ سارا اجر ہی نہ لے اڑیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہرحال تم نے جو بھی ان کی تعریف کی ہے اور ان کے لیے جو دعادی ہے۔ یہ ان کا بدلہ نہیں ہوسکتی۔ (ابن جریر، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیھقی)
یا رسول اللہ ! ہم نے کوئی قوم انصار کے سوا ایسی نہیں دیکھی جو مال کے زیادہ ہوتے وقت خوب خرچ کرنے والی ہو اور جب مال کم ہو تب بھی بہت اچھے طریقے سے غم خواری کرنے والی ہو۔ اور ہم مدینے آئے تو ان لوگوں نے ہماری مشقت کو اپنے اوپر لے لیا جب کہ فائدے (اور پھلوں) میں انھوں نے ہم کو شریک کرلیا۔ اب ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ سارا اجر ہی نہ لے اڑیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہرحال تم نے جو بھی ان کی تعریف کی ہے اور ان کے لیے جو دعادی ہے۔ یہ ان کا بدلہ نہیں ہوسکتی۔ (ابن جریر، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیھقی)
37944- عن أنس أن المهاجرين أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! ما رأينا قوما قط أبذل من كثير ولا أحسن مواساة من قليل من الأنصار، ولقد قدمنا المدينة فكفونا المؤنة وأشركونا في المهنأ1 لقد خفنا أن يذهبوا بالأجر كله، فقال: أما ما أثنيتم عليهم ودعوتم لهم فلا - وفي لفظ: مكافاة أو شبه المكافاة. "ابن جرير، ك، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٥۔۔۔ (مسند عبداللہ بن زید بن عاصم المازنی) عباد بن تمیم حضرت عبداللہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ جب حنین کی جنگ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال غنیمت سے نوازا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مال غنیمت ان لوگوں میں تقسیم کردیا۔ (جونومسلم تھے یا ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور ) ان کی دالداری مقصود تھی۔ اور انصار کو کچھ مال نہ دیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ لوگوں کو مال ملا ہے اور وہ محروم کردئیے گئے ہیں اس کا اثر انھوں نے اپنے دلوں میں لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان انصار لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : اے انصاریو ! کیا میں نے تم کو گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا پھر اللہ نے میری بدولت تم کو راہ ہدایت نوازی ؟ اور کیا تم آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں تھے پھر اللہ نے میری بدولت تم کو جمع کیا ؟ اور کیا تم پہلے تنگدست نہیں تھے پھر اللہ نے تم کو میری بدولت مالدار کیا ؟
اور حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی ایسا سوال فرماتے تو انصار آواز دیتے ! اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات ہیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے تو انصار (رض) نے پھر وہی جواب عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات ہیں۔
پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہہ سکتے ہو : ہم نے یہ کیا، پھر تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔ اگر ہجرت پیش نہ آتی تو میں انصار ہی کا ایک آدمی ہوتا۔ اور (سنو ! ) اگر سب لوگ کسی ایک وادی میں جائیں گے تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا۔
بیشک انصار اندر کا اصل کپڑا ہیں اور دوسرے دثار (اوپر کا زائد) کپڑا ہیں۔ اور اے انصار ! بیشک تم میرے بعد ترجیح (بےانصافی) دیکھو گے پس صبر کرتے رہنا حتی کہ حوض پر آکر مجھ سے ملاقات کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
بیشک انصار اندر کا اصل کپڑا ہیں اور دوسرے دثار (اوپر کا زائد) کپڑا ہیں۔ اور اے انصار ! بیشک تم میرے بعد ترجیح (بےانصافی) دیکھو گے پس صبر کرتے رہنا حتی کہ حوض پر آکر مجھ سے ملاقات کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
اور حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی ایسا سوال فرماتے تو انصار آواز دیتے ! اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات ہیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے تو انصار (رض) نے پھر وہی جواب عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کے اس سے زیادہ ہم پر احسانات ہیں۔
پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہہ سکتے ہو : ہم نے یہ کیا، پھر تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔ اگر ہجرت پیش نہ آتی تو میں انصار ہی کا ایک آدمی ہوتا۔ اور (سنو ! ) اگر سب لوگ کسی ایک وادی میں جائیں گے تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا۔
بیشک انصار اندر کا اصل کپڑا ہیں اور دوسرے دثار (اوپر کا زائد) کپڑا ہیں۔ اور اے انصار ! بیشک تم میرے بعد ترجیح (بےانصافی) دیکھو گے پس صبر کرتے رہنا حتی کہ حوض پر آکر مجھ سے ملاقات کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
بیشک انصار اندر کا اصل کپڑا ہیں اور دوسرے دثار (اوپر کا زائد) کپڑا ہیں۔ اور اے انصار ! بیشک تم میرے بعد ترجیح (بےانصافی) دیکھو گے پس صبر کرتے رہنا حتی کہ حوض پر آکر مجھ سے ملاقات کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37945- "مسند عبد الله بن زيد بن عاصم المازني" عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد قال: لما أفاء الله على رسوله يوم حنين ما أفاء قسم في الناس في المؤلفة قلوبهم ولم يقسم ولم يعط الأنصار شيئا، فكأنهم وجدوا إذ لم يصبهم ما أصاب الناس، فخطبهم فقال: "يا معشر الأنصار! ألم أجدكم ضلالا فهداكم الله بي؟ وكنتم متفرقين فجمعكم الله بي؟ وعالة فأغناكم الله بي؟ " وكلما قال شيئا قالوا: الله ورسوله أمن، قال: "فما يمنعكم أن تجيبوا؟ " قالوا: الله ورسوله أمن، قال: "لو شئتم قلتم: جئنا كذا وكذا، أما ترضون أن تذهب الناس بالشاة والبعير وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رحالكم، لولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار، ولو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم، الأنصار شعار والناس دثار، وإنكم ستلقون بعدي أثرة، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٦۔ (مسند ابن عباس (رض)) ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما تھے،ایک چادر زیب تن تھی اور ایک کالی دھبے دار پٹی سے اپنے سر مبارک کو باندھا ہوا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمدوثنا کی پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم بڑھے جا رہے ہو اور انصار کم ہوتے جارہے ہیں حتی کہ وہ (ایک دن) کھانے میں نمک کی طرح رہ جائیں گے پس جو لوگ ان کے حاکم بنیں وہ ان کے نیکیوں کی پذیرائی کریں اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کریں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
37946- "مسند ابن عباس" جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على المنبر عليه ملحفة متوشحا بها عاصبا رأسه بعصابة دهماء فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: "يا أيها الناس! تكثرون ويقل الأنصار حتى يكونوا كالملح في الطعام، فمن ولى من أمرهم شيئا فليقبل من محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٧۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ انصار کا ایک قبیلہ تھا ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعالگی ہوئی تھی چنانچہ ان میں سے جب کوئی آدمی مرتا تو بادل آکر اس کی قبر کو سیراب کیا کرتا تھا۔ پھر ان میں سے ایک غلام مرگیا، مسلمانوں نے کہا آج ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کو دیکھتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ کسی قوم کا مولی (غلام) انہی میں سے (شمار ) ہوتا ہے۔
چنانچہ جب اس کو دفن کیا گیا تو بادل آیا اور اس کی قبر پر بھی برسا۔ (رواہ ابن عساکر)
چنانچہ جب اس کو دفن کیا گیا تو بادل آیا اور اس کی قبر پر بھی برسا۔ (رواہ ابن عساکر)
37947- عن الحسن قال: كان حي من الأنصار لهم دعوة سابقة من رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا مات منهم ميت جاءت سحابة فأمطرت قبره، فمات مولى لهم فقال المسلمون: لننظر اليوم إلى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم "مولى القوم من أنفسهم" 1فلما دفن جاءت سحابة فأمطرت قبره."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٨۔۔۔ (مسند انس (رض)) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کی عورتوں یابچوں کو کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو ان کو ارشاد فرمایا : اللہ جانتا ہے تم (انصاری لوگ مجھے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ
37948- "مسند أنس" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى نساء أو صبيانا من الأنصار مقبلين من عرس فقال: "اللهم! أنتم أحب الناس إلي". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٤٩۔۔۔ (ایضاً ) عمروبن مرۃ سے مروی ہے کہ میں نے ابوحمزۃ سے سنا کہ انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہر نبی کے پیروکار ہوتے تھے اور آپ کے پیروکار ہم ہیں، آپ یہ دعا بھی فرما دیجئے ہم میں سے (اور ہماری اولاد میں سے بھی) اللہ پیروکار بنادے۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ ان میں سے ان کے پیرو کا ربنادے۔
عمرہ بن مرہ کہتے ہیں : میں نے یہ بات عبدالرحمن بن ابی لیلی کو ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : اس بات کی خواہش (ان کے) مکھن (یعنی عمدہ لوگوں ) نے کی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
عمرہ بن مرہ کہتے ہیں : میں نے یہ بات عبدالرحمن بن ابی لیلی کو ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : اس بات کی خواہش (ان کے) مکھن (یعنی عمدہ لوگوں ) نے کی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37949- "أيضا" عن عمرو بن مرة قال سمعت أبا حمزة قال: قالت الأنصار: يا رسول الله! إن لكل نبي أتباعا وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعا منا، فدعا لهم أن يجعل أتباعهم منهم، فنميت ذلك إلى عبد الرحمن بن أبي ليلى فقال: قد زعم ذلك زبد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٥٠۔۔۔ (مسند انس (رض)) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں ابوطلحہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ارشاد فرمایا : اپنی (انصار) قوم کو (میرا) سلام کہنا، بیشک وہ پاک دامن اور صبر کرنے والے لوگ ہیں۔ (رواہ ابونعیم )
37950- "مسند أنس" دخل أبو طلحة على النبي صلى الله عليه وسلم في شكواه الذي قبض فيه فقال: "أقرئ قومك السلام، فإنهم أعفة صبر". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٥١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بحرین سے مال آیا۔ مہاجرین اور انصار سب کو خبر ہوگئی تو سب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آگے حضرت انس (رض) نے طویل روایت ذکر فرمائی (جس کے آخر میں ) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو ارشاد فرمایا : بیشک میں تم کو خوب جانتا ہوں کہ تم لوگ مصیبت (اور پریشانی) کے وقت (مدد کرنے کے لئے) بڑھ جاتے ہو اور لالچ (یعنی مال کی تقسیم ) کے وقت گھٹ جاتے ہو۔ (العسکری فی الامثال)
37951- عن أنس قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم بمال من البحرين فتسامعت به المهاجرون والأنصار فغدوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر حديثا طويلا فيه: وقال للأنصار: "إنكم ما علمت تكثرون عند الفزع وتقلون عند الطمع". "العسكري في الأمثال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین
٣٧٩٥٢۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے فرماتی ہیں : جریر (رض) سفر میں میرے ساتھ تھے اور وہ میری خدمت کرتے تھے۔ انھوں نے فرمایا : میں نے انصار کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے دیکھا چنانچہ میں جس انصاری کو دیکھوں گا اس کی خدمت کر کے رہوں گا۔ (البغوی فی البیھقی فی ابن عساکر)
37952- عن أنس قال: كان جرير معي في سفر فكان يخدمني فقال: إني رأيت الأنصار تصنع برسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا فلا أرى أحدا منهم إلا خدمته. "البغوي في....، ق في....، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجرین اور انصار (رض)
٣٧٩٥٣۔۔۔ نوفل بن عمارۃ سے مروی ہے حارث بن ہشام اور سہیل بن عمرو (قریش مکہ کے بڑے لوگوں اور سرداروں میں سے تھے مگر تاخیر سے اسلام لائے یہ ) دونوں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے۔ دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھ گئے اور حضرت عمر (رض) ان دونوں کے درمیان میں تھے، پھر مہاجرین اور انصار حضرت عمر (رض) کبھی حضرت سہیل (رض) سے فرماتے ! ادھر آجاؤ اے سہیل، کبھی حارث کو فرماتے : ادھر آجاؤ اے حارث۔ یوں ان دونوں کو پیچھے ہٹاتے رہے اور انصار بھی آتے رہے اور حضرت عمر (رض) دونوں کو ان سے پیچھے ہٹاتے رہے اور انصار میں بھی آتے رہے اور حضرت عمر (رض) دونوں کو ان سے پیچھے کرتے رہے حتی کہ وہ دونوں سب لوگوں کے آخر میں ہوگئے۔ پھر جب دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس سے نکلے تو حارث بن ہشام نے سہیل بن عمرو کو فرمایا : دیکھا تو نے ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے ؟ سہیل نے ان کو فرمایا : او اللہ کے بندے ! عمر پر کوئی ملامت نہیں۔ ہمیں چاہیے ہم اپنے آپ کو ملامت کریں۔ اسلام کی دعوت پھیلی تو اور لوگ جلدی اس کی طرف لپک لیے اور ہمیں دعوت ملی تو ہم سے تاخیر ہوگئی۔
چنانچہ یہ دونوں حضرات پھر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور بولے : اے امیر المومنین ! آج جو آپ نے برتاؤ کیا ہم نے دیکھ لیا اور ہمیں بھی معلوم ہوگیا کہ ہم خود پیچھے رہ گئے ہیں تو اب کوئی صورت ہے کہ ہم اس فضیلت کو پالیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معرکہ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
اسکے علاوہ مجھے اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ چنانچہ دونوں (جہاد کے لئے) شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ حضرت عمر (رض) جب ہجرت کرنے لگے تھے تو انھوں نے حارث بن ہشام کو دعوت ہجرت دی تھی۔ انھوں نے قبول نہ فرمائی، اسی طرح صلح حدیبیہ کے وقت سہیل بن عمرو کافروں کی طرف سے معاہدہ کرنے والے تھے۔
چنانچہ یہ دونوں حضرات پھر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور بولے : اے امیر المومنین ! آج جو آپ نے برتاؤ کیا ہم نے دیکھ لیا اور ہمیں بھی معلوم ہوگیا کہ ہم خود پیچھے رہ گئے ہیں تو اب کوئی صورت ہے کہ ہم اس فضیلت کو پالیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معرکہ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
اسکے علاوہ مجھے اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ چنانچہ دونوں (جہاد کے لئے) شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ حضرت عمر (رض) جب ہجرت کرنے لگے تھے تو انھوں نے حارث بن ہشام کو دعوت ہجرت دی تھی۔ انھوں نے قبول نہ فرمائی، اسی طرح صلح حدیبیہ کے وقت سہیل بن عمرو کافروں کی طرف سے معاہدہ کرنے والے تھے۔
37953- "مسند عمر" عن نوفل بن عمارة قال: جاء الحارث ابن هشام وسهيل بن عمرو إلى عمر بن الخطاب فجلسا عنده وهو بينهما فجعل المهاجرون الأولون يأتون عمر فيقول: ههنا يا سهيل! ههنا يا حارث! فينحيهما عنهم، فجعل الأنصار يأتون عمر فينحيهما عنهم كذلك حتى صارا في آخر الناس، فلما خرجا من عند عمر قال الحارث ابن هشام لسهيل بن عمرو: ألم تر ما صنع بنا؟ فقال له سهيل: أيها الزجل! لا لوم عليه، ينبغي أن نرجع يا للوم على أنفسنا، دعي القوم فأسرعوا ودعينا فأبطأنا، فلما قام من عند عمر أتياه فقالا له: يا أمير المؤمنين! قد رأينا ما فعلت اليوم وعلمنا أنا أتينا من أنفسنا فهل شيء نستدرك به؟ قال لهما: لا أعلمه إلا هذا الوجه - وأشار لهما إلى ثغر الروم، فخرجا إلى الشام فماتا بها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجرین اور انصار (رض)
٣٧٩٥٤۔ (مسند انس (رض)) حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا فرمائی :
اللھم اصلح الانصار والمھاجرۃ
اے اللہ مہاجرین اور انصار کے معاملات کو درست فرما۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
اللھم اصلح الانصار والمھاجرۃ
اے اللہ مہاجرین اور انصار کے معاملات کو درست فرما۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37954- "مسند أنس" عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "اللهم أصلح الأنصار والمهاجرة". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجرین اور انصار (رض)
٣٧٩٥٥۔۔۔ (ایضاً ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پسند تھی کہ نماز میں آپ کے قریب مہاجرین اور انصار کھڑے ہوں۔
(المصنف عبدالرزاق)
(المصنف عبدالرزاق)
37955- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه أن يليه في الصلاة المهاجرون والأنصار. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٥٦۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) الامام الدار قطنی فی الافراد حدثنا ابوبکر احمد بن موسیٰ بن العباس بن مجاھد المقری ثنازید بن اسماعیل الصائع ثنا محمد بن کثیر الکوفی ثنا الحارث بن حصیرۃ عن جابر الجعفی عن غنم بن جدیم عن رجل من ارحب یقال لہ عقبۃ بن حمیر قال :
عقبہ بن حمیرارحبی کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ :
جنگ بدر کے حاضرین کو جنت کی خوشخبری دے دو ۔
کلام :۔۔۔ امام دار قطنی (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ روایت ابوبکر کی حدیث سے ضعیف ہے۔ عقبہ الارحبی کے سوا اور کسی سے یہ روایت منقول نہیں ہے۔
اسی طرح عقبہ سے اس کو روایت کرنے میں بھی صرف حارث بن حصیرۃ آتے ہیں، نیز امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں : اس طرح اس کو ہمارے شیخ کے علاوہ کسی اور سے نقل نہیں کیا گیا۔ سوائے ابن عساکر انھوں نے اس کو ہمارے شیخ سے نقل کیا ہے۔
عقبہ بن حمیرارحبی کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ :
جنگ بدر کے حاضرین کو جنت کی خوشخبری دے دو ۔
کلام :۔۔۔ امام دار قطنی (رح) فرماتے ہیں : مذکورہ روایت ابوبکر کی حدیث سے ضعیف ہے۔ عقبہ الارحبی کے سوا اور کسی سے یہ روایت منقول نہیں ہے۔
اسی طرح عقبہ سے اس کو روایت کرنے میں بھی صرف حارث بن حصیرۃ آتے ہیں، نیز امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں : اس طرح اس کو ہمارے شیخ کے علاوہ کسی اور سے نقل نہیں کیا گیا۔ سوائے ابن عساکر انھوں نے اس کو ہمارے شیخ سے نقل کیا ہے۔
37956- "مسند الصديق" "قط في الأفراد" حدثنا أبو بكر أحمد بن موسى بن العباس بن مجاهد المقرئ ثنا زيد بن إسماعيل الصائغ ثنا محمد بن كثير الكوفي ثنا الحارث بن حصيرة عن جابر الجعفي عن غنم بن جديم عن رجل من أرحب يقال له عقبة بن حمير قال: أشهد أني سمعت أبا بكر الصديق يقول: أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "بشر من شهد بدرا بالجنة". "قال قط: غريب من حديث أبي بكر، لم يروه عنه غير عقبة الأرحبي ولم يروه عنه غير الحارث بن حصيرة ولم يكتبه إلا عن شيخنا كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٥٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ (بدری صحابی (رض)) نے اہل مکہ کو خط لکھا۔ جس کی اللہ پاک نے اپنے نبی کو اطلاع دے دی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی اور حضرت زبیر (رض) کو اس خط کو لانے کے لیے بھیجا۔ دونوں نے قاصد عورت کو ایک اونٹ پر پالیا اور اس کے بالوں سے خط کو برآمد کیا اور وہ خط لے کر حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس خط کو لے کر حاضر ہوئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے حاطب ! کیا تو نے یہ خط (ان کو) لکھا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا :
کس بات نے تجھے اس پر مجبور کیا ؟ جواب دیا : یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ ہوں، مگر بات یہ ہے کہ اہل مکہ میں میں کمزور آدمی ہوں اور میرے بال بچے وہیں ان میں رہتے ہیں۔
مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان پر آگ نہ بھڑکائیں تو میں نے سوچا میں ان کو ایسا خط لکھتا ہوں جس سے اللہ اور اس کے رسول کا بھی کچھ نقصان نہ ہو اور شاید میرے گھروالوں کو اس کا کچھ فائدہ پہنچ جائے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی تلوار کھینچ کر عرض کیا : یارسول اللہ !
میں اس کی گردن نہ اڑادوں ؟ اس نے کفر کیا ہے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے کیا معلوم اے ابن الخطاب ! شاید اللہ پاک اہل بدر سے مخاطب ہوا ہو اور فرمایا ہو : تم جو چاہے کرو میں نے تمہاری بخشش کردی ہے۔ (البزار، ابن جریر، مسند ابی یعلی، الشاشی، الاوسط للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، الضیاء للمقدسی، البرقانی فرماتے ہیں صحیح مسلم کے
بعض نسخوں میں اس کی تخریج آئی ہے۔ )
کس بات نے تجھے اس پر مجبور کیا ؟ جواب دیا : یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ ہوں، مگر بات یہ ہے کہ اہل مکہ میں میں کمزور آدمی ہوں اور میرے بال بچے وہیں ان میں رہتے ہیں۔
مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان پر آگ نہ بھڑکائیں تو میں نے سوچا میں ان کو ایسا خط لکھتا ہوں جس سے اللہ اور اس کے رسول کا بھی کچھ نقصان نہ ہو اور شاید میرے گھروالوں کو اس کا کچھ فائدہ پہنچ جائے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی تلوار کھینچ کر عرض کیا : یارسول اللہ !
میں اس کی گردن نہ اڑادوں ؟ اس نے کفر کیا ہے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے کیا معلوم اے ابن الخطاب ! شاید اللہ پاک اہل بدر سے مخاطب ہوا ہو اور فرمایا ہو : تم جو چاہے کرو میں نے تمہاری بخشش کردی ہے۔ (البزار، ابن جریر، مسند ابی یعلی، الشاشی، الاوسط للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، الضیاء للمقدسی، البرقانی فرماتے ہیں صحیح مسلم کے
بعض نسخوں میں اس کی تخریج آئی ہے۔ )
37957- عن عمر قال: كتب حاطب بن أبي بلتعة إلى أهل مكة بكتاب فاطلع الله عليه نبيه، فبعث عليا والزبير في أثر الكتاب، فأدركا المرأة على بعير فاستخرجاه من قرونها فأتيا به النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسل إلى حاطب فقال: "يا حاطب! أنت كتبت هذا الكتاب؟ " قال: نعم، قال: "فما حملك على ذلك؟ " قال: يا رسول الله! أما والله إني لناصح لله ولرسوله! ولكن كنت غريبا في أهل مكة وكان أهلي فيهم فخشيت أن يضرموا عليهم، فقلت أكتب كتابا لا يضر الله ولا رسوله شيئا وعسى أن يكون منفعة لأهلي، فاخترطت سيفي ثم قلت: أضرب عنقه يا رسول الله؟ لقد كفر قال: "وما يدريك يا ابن الخطاب أن يكون اطلع الله على هذه العصابة من أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم". "البزار وابن جرير، ع والشاشي، طس، ك وابن مردويه، ض، وذكر البرقاني أن م أخرجه في بعض نسخه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٥٨۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے میں حاطب بن ابی بلتعہ کی گردن اڑادوں، اس نے (رازداری کا خط لکھ کر) کفر کرلیا ہے ؟ حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے کیا معلوم اے ابن الخطاب ! شاید اللہ پاک اہل بدر سے ہم کلام ہو اور فرمایا ہو : تم جو چاہو کروبےشک میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔ (الاوسط للطبرانی)
37958- عن عمر بن الخطاب قال قلت: يا رسول الله! دعني أضرب عنق حاطب بن أبي بلتعة فقد كفر، قال: وما يدريك يا ابن الخطاب لعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم." طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٥٩۔۔۔ (مسند عمر (رض)) زہرۃ، ابوسلمہ اور محمد مہلب اور طلحہ سے روایت کرتے ہیں، یہ حضرات فرماتے ہیں جب حضرت عمر (رض) نے پہلا پہلا وظیفہ تقسیم فرمایا تو یہ سن پندرہ ہجری کا سال تھا۔
چنانچہ جب حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو وظیفہ دینے کے لیے بلایا۔ صفوان نے پہلے دیکھ لیا تھا کہ جو حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو فتح مکہ والوں میں شامل کرکے پہلے والوں سے کم وظیفہ دیا چنانچہ صفوان نے اسی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کردیا اور بولے اے امیر المومنین ! میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ عزت والا ہے اور اسی وجہ سے میں اپنے سے کم حیثیت یا اپنے مثل لوگوں سے کم وظیفہ بھی قبول نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے ان کو جو وظائف دئیے ہیں ان کے سلام میں سبقت اور پہل کرنے کی وجہ سے دئیے ہیں نہ کہ حسب ونسب کی وجہ سے۔ تب حضرت صفوان بولے ! ہاں تب ٹھیک ہے۔
پھر ان کو جو دیا جارہا تھا وہ وصول کرلیا اور بولے : وہ لوگ اپنے وظیفوں کے اہل ہیں۔ (سیف بن عمر)
چنانچہ جب حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو وظیفہ دینے کے لیے بلایا۔ صفوان نے پہلے دیکھ لیا تھا کہ جو حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اہل بدر کو اور ان کے بعد فتح مکہ تک والوں کو وظائف تقسیم کئے تھے وہ زیادہ تھے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے صفوان بن امیہ کو فتح مکہ والوں میں شامل کرکے پہلے والوں سے کم وظیفہ دیا چنانچہ صفوان نے اسی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کردیا اور بولے اے امیر المومنین ! میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ عزت والا ہے اور اسی وجہ سے میں اپنے سے کم حیثیت یا اپنے مثل لوگوں سے کم وظیفہ بھی قبول نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے ان کو جو وظائف دئیے ہیں ان کے سلام میں سبقت اور پہل کرنے کی وجہ سے دئیے ہیں نہ کہ حسب ونسب کی وجہ سے۔ تب حضرت صفوان بولے ! ہاں تب ٹھیک ہے۔
پھر ان کو جو دیا جارہا تھا وہ وصول کرلیا اور بولے : وہ لوگ اپنے وظیفوں کے اہل ہیں۔ (سیف بن عمر)
37959- "مسند عمر" عن زهرة عن أبي سلمة ومحمد والمهلب وطلحة قالوا: لما أعطى عمر أول عطاء أعطاه ذلك سنة خمس عشرة، فلما دعا صفوان بن أمية وقد رأى ما أخذ أهل بدر ومن بعدهم إلى الفتح فأعطاه في أهل الفتح أقل مما أخذ من كان قبله أبى أن يقبله وقال: يا أمير المؤمنين! لست معترفا لأن يكون أكرم مني أحد ولست آخذ أقل مما أخذ من هو دوني أو من هو مثلي! فقال: إنما أعطيتهم على السابقة والقدمة في الإسلام لا على الأحساب، قال: فنعم إذن، فأخذ وقال: أهل ذلك هم. "سيف بن عمر".
তাহকীক: