কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৯৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کے متعلق مروی ہے کہ انھوں نے سہل بن حنیف کی نماز جنازہ پڑھائی تو (بجائے چار تکبیروں کے) چھ تکبیریں کہیں اور ارشاد فرمایا :
یہ بدر کے شرکاء میں سے تھے (اس لیے ان پر چھ تکبیریں کہیں) ۔ (البخاری، الطحاوی)
یہ بدر کے شرکاء میں سے تھے (اس لیے ان پر چھ تکبیریں کہیں) ۔ (البخاری، الطحاوی)
37960- عن علي أنه صلى على سهل بن حنيف فكبر عليه ستا وقال: إنه شهد بدرا."خ والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اپنے صحابہ (رض) سے متعلق دو باتوں میں سے ایک اختیار کرلیجئے یا تو بدر کے کافر قیدیوں کو قتل کر دیجئے یا ان کا فدیہ اس شرط پر ۔۔۔ ہے آئندہ سال اتنے ہی آپ کے صحابہ (رض) قتل ہوں گے (جتنے ابھی قیدی ہیں) ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم فدیہ لیں گے ۔۔۔ کرتے ہیں۔ (الترمذی وقال حسن غریب، النسائی، الصحیح لابن حبان، السنن لسعید بن منصور)
37961- عن علي أن جبريل هبط على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له: خيرهم - يعني أصحابك - في أسارى بدر القتل أو الفداء على أن يقتل منهم قابلا مثلهم، قالوا: الفداء ويقتل منا."ت وقال: حسن غريب، ن، حب، ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے موقر پر کافر قیدیوں کے متعلق اپنے صحابہ (رض) کو ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو ان کو قتل کردو اور اگر چاہو تو ان کا فدیہ (بدلے کی رقم) لے لو اور پھر ان کی تعداد کے بقدر تم میں سے لوگ شہید ہوں گے۔
چنانچہ (سترکافر قیدیوں کے بدلے ستر صحابہ (رض) شہید ہوئے اور) ستر شہید ہونے والوں میں سے آخری شہید ہونے والے صحابی ثابت بن قیس تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ (مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، السنن للبیھقی، الضیاء للمقدسی)
چنانچہ (سترکافر قیدیوں کے بدلے ستر صحابہ (رض) شہید ہوئے اور) ستر شہید ہونے والوں میں سے آخری شہید ہونے والے صحابی ثابت بن قیس تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ (مستدرک الحاکم، ابن مردویہ، السنن للبیھقی، الضیاء للمقدسی)
37962- عن علي قال قال النبي صلى الله عليه وسلم في الأسارى يوم بدر: إن شئتم قتلتموهم وإن شئتم فأديتم واستمتعتم بالفداء واستشهد منكم بعدتهم، فكان آخر السبعين ثابت بن قيس استشهد باليمامة. "ك وابن مردويه، ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٣۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو خط لکھا اور اس میں ذکر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے جنگ کے لیے آنے والے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بذریعہ وحی) اس عورت کے متعلق آگاہ کیا گیا جو مذکورہ خط لے کر جارہی تھی۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کی طرف (دوصحابیوں کو) بھیجا۔ اور انھوں نے اس کے سر کے بالوں میں سے وہ خط برآمد کرلیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حاطب (رض) کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
اے حاطب ! کیا تم نے یہ کام کیا ہے ؟ حضرت حاطب (رض) نے عرض کیا : جی ہاں۔ مگر یارسول اللہ ! میں نے ایسا کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دینے کے لیے کیا اور نہ مجھ میں منافقت ہے۔ بیشک مجھے خوب یقین ہے کہ اللہ عزوجل اپنے رسول کو غالب کرکے رہیں گے اور ان کے (دین و) حکومت کو مکمل فرماکررہیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ ان کافرین مکہ کے درمیان میں ایک کم حیثیت آدمی ہوں اور میرے اہل خانہ ان کے درمیان رہتے ہیں، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ کچھ تعلق بنالوں۔ حضرت عمر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تو بدر کے شریک آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے ؟
تجھے کیا معلوم شاید اللہ پاک نے اہل بدر سے ہم کلام ہوا ہو اور فرمایا ہو کہ تم جو چاہے کرو۔ (مستدرک الحاکم)
اے حاطب ! کیا تم نے یہ کام کیا ہے ؟ حضرت حاطب (رض) نے عرض کیا : جی ہاں۔ مگر یارسول اللہ ! میں نے ایسا کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دینے کے لیے کیا اور نہ مجھ میں منافقت ہے۔ بیشک مجھے خوب یقین ہے کہ اللہ عزوجل اپنے رسول کو غالب کرکے رہیں گے اور ان کے (دین و) حکومت کو مکمل فرماکررہیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ ان کافرین مکہ کے درمیان میں ایک کم حیثیت آدمی ہوں اور میرے اہل خانہ ان کے درمیان رہتے ہیں، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ کچھ تعلق بنالوں۔ حضرت عمر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تو بدر کے شریک آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے ؟
تجھے کیا معلوم شاید اللہ پاک نے اہل بدر سے ہم کلام ہوا ہو اور فرمایا ہو کہ تم جو چاہے کرو۔ (مستدرک الحاکم)
37963- عن جابر أن حاطب بن أبي بلتعة كتب إلى أهل مكة يذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم آت لغزوهم، فدل رسول الله صلى الله عليه وسلم على المرأة التي معها الكتاب فأرسل إليها، فأخذ كتابها من رأسها فقال: "يا حاطب! فعلت؟ " قال: نعم، أما إني لم أفعله غشا لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نفاقا، قد علمت أن الله مظهر رسوله ومتم له أمره غير أني كنت غريبا بين أظهرهم وكانت ولدى معهم فأردت أن أتخذها عندهم، فقال عمر: ألا أضرب رأس هذا؟ فقال: "تقتل رجلا من أهل بدر؟ ما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم". "ك"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٤۔۔۔ (مسند رافع بن خدیج) عبادیۃ بن رافع اپنے دادا رافع بن خدیج سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یا کوئی اور فرشتہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ لوگ اپنے درمیان شرکاء بدر کو کیسا سمجھتے ہو ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (شرکاء بدر) ہم میں سے بہترین لوگ ہیں۔ فرشتے نے عرض کیا : اسی طرح فرشتوں میں سے جو فرشتے بدر کی جنگ میں شریک ہوئے وہ ہمارے درمیان بہترین فرشتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37964- "مسند رافع بن خديج" عن عباية بن رفاعة عن جده رافع بن خديج قال: جاء جبريل أو ملك إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما تعدون من شهد بدرا فيكم؟ قال: "خيارنا"، قال: كذلك هم عندنا خيار الملائكة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٥۔۔۔ (ایضاً ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر کوئی بچہ ایسے چالیس فقیہ لوگوں کے درمیان پیدا ہو جو اللہ کی اطاعت پر عمل کرتے ہوں اور تمام گناہوں سے بچتے ہوں اور پھر وہ بچہ (انہی صفات کے ساتھ جئے اور) اس عمر تک پہنچ جائے جو بڑھاپے کی رذیل ترین (گھٹیا) عمر ہو یا ایسی عمر کو پہنچ جائے جب وہ بھول بسر کر ہرچیز سے انجان بن جائے حالانکہ کبھی وہ (سب کچھ) جانتا تھا تب بھی وہ تم بدریوں میں سے کسی ایک تک اس رات کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا۔
نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ ملائکہ جو بدر میں حاضر تھے ان کی فضیلت آسمان میں دوسرے فرشتوں سے زیادہ تھی) (الکبیر للطبرانی عن رافع بن خدیج)
نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ ملائکہ جو بدر میں حاضر تھے ان کی فضیلت آسمان میں دوسرے فرشتوں سے زیادہ تھی) (الکبیر للطبرانی عن رافع بن خدیج)
37965- "أيضا" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر: "والذي نفسي بيده! لو أن مولودا ولد في فقه أربعين من أهل الذين يعمل بطاعة الله كلها ويجتنب معاصي الله كلها إلى أن يرد إلى أرذل العمر أو يرد إلى أن لا يعلم بعد علم شيئا لم يبلغ أحدكم هذه الليلة، وقال: إن الملائكة الذين شهدوا بدرا في السماء لفضلا على من تخلف منهم."طب - عن رافع بن خديج".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٦۔۔۔ (مسند رفاعہ بن رافع الزرقی) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور عرض کیا : آپ لوگ اپنے درمیان بدریوں کو کیسا شمار کرتے ہو ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے افضل یا فرمایا :
مسلمانوں میں سے بہترین۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اسی طرح ہم فرشتوں میں سے جو بدر کے حاضر ہوئے ان کا بھی فرشتوں میں ایسا ہی رتبہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابونعیم)
ہوئے اور عرض کیا : آپ لوگ اپنے درمیان بدریوں کو کیسا شمار کرتے ہو ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے افضل یا فرمایا :
مسلمانوں میں سے بہترین۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اسی طرح ہم فرشتوں میں سے جو بدر کے حاضر ہوئے ان کا بھی فرشتوں میں ایسا ہی رتبہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ابونعیم)
37966- "مسند رفاعة بن رافع الزرقي" قال: جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما تعدون من شهد بدرا؟ فقال: "من أفاضل المسلمين أو: من خيار المسلمين" قال: وكذلك من شهد بدرا من الملائكة فينا."ش وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٧۔۔۔ (مسند سعد مولیٰ (غلام) حاطب (رض)) حاطب (رض) کے غلام سعد (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا حاطب اہل جہنم میں سے ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جہنم میں ہرگز ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہوسکتا جو جنگ بدر یا بیعت رضوان میں شامل ہوا ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
37967- "مسند سعد مولى حاطب" عن سعد مولى حاطب قال: قلت: يا رسول الله! حاطب من أهل النار؟ قال: لن يلج النار أحد شهد بدرا أو بيعة الرضوان." كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٨۔۔۔ (مسند عبداللہ بن ابی اوفی) عبدالرحمن بن عوف (رض) نے خالد بن الولید (رض) کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد (رض) کو فرمایا : اے خالد ! تو اہل بدر میں سے کسی آدمی کو کیوں تنگ کرتا ہے ؟ اگر تو احد پہاڑ سونے کا خرچ کرے تب بھی ایسے شخص کے عمل کو نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت خالد (رض) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یا رسول اللہ ! وہ لوگ مجھے کچھ کچھ کہتے ہیں تو میں بھی ان کو جواب دے دیتا ہوں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ارشاد فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ دو ، بیشک وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جو اللہ پاک نے کفار پر برسائی ہے۔ (مسند ابی یعلی، ابن عساکر)
37968- "مسند عبد الله بن أبي أوفى" شكى عبد الرحمن ابن عوف خالد بن الوليد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا خالد! لم تؤذي رجلا من أهل بدر لو أنفقت مثل أحد ذهبا لم تدرك عمله؟ " فقال: يا رسول الله! يقعون في فأرد عليهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تؤذوا خالدا، فإنه سيف من سيوف الله صبه على الكفار". "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٦٩۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے خالد بن ولید (رض) کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے خالد ! کسی بدری صحابی کو اذیت نہ دے۔ اگر تو احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرلے اس کے عمل کو نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : یہ لوگ میرے متعلق بحث کرتے ہیں تو میں بھی ان کو جواب دے دیتا ہوں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
خالد کو ایذاء نہ دو بیشک وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اور وہ تلوار اللہ نے کفار پر برسادی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت محل کلام ہے : (المعلمۃ : ١٤٧) ۔
اے خالد ! کسی بدری صحابی کو اذیت نہ دے۔ اگر تو احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرلے اس کے عمل کو نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : یہ لوگ میرے متعلق بحث کرتے ہیں تو میں بھی ان کو جواب دے دیتا ہوں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
خالد کو ایذاء نہ دو بیشک وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں اور وہ تلوار اللہ نے کفار پر برسادی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت محل کلام ہے : (المعلمۃ : ١٤٧) ۔
37969- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: شكى عبد الرحمن ابن عوف خالد بن الوليد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا خالد! لا تؤذ رجلا من أهل بدر، فلو أنفقت مثل أحد ذهبا لم تدرك عمله! قال: يقعون في فأرد عليهم، فقال: "لا تؤذوا خالدا، فإنه سيف من سيوف الله صبه على الكفار". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٧٠۔۔۔ (مسند ابن عباس (رض)) جبرائیل (علیہ السلام) حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے محمد ! آپ کے اصحاب میں سے آپ کے نزدیک افضل کون ہے ؟
فرمایا : وہ لوگ جو بدر میں حاضر تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اسی طرح وہ ملائکہ ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے تھے وہ ہمارے ہاں آسمانوں میں سے سب سے افضل ملائکہ ہیں۔ (ابن بشران)
فرمایا : وہ لوگ جو بدر میں حاضر تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اسی طرح وہ ملائکہ ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے تھے وہ ہمارے ہاں آسمانوں میں سے سب سے افضل ملائکہ ہیں۔ (ابن بشران)
37970- "مسند ابن عباس" أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! من أفضل أصحابك عندكم؟ قال: "الذين شهدوا بدرا،" قال: كذلك الملائكة الذين في السماوات أفضلهم عندنا الذين شهدوا بدرا."ابن بشران".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٧١۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اہل بدر تین سو تیرہ تھے اور مہاجرین ان میں سے پچھہتر تھے اور جنگ بدر سترہ ١٧ رمضان جمعہ کی رات کو پیش آئی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
37971- عن ابن عباس أن أهل بدر كانوا ثلاثمائة وثلاثة عشر، والمهاجرون منهم خمسة وسبعون، وكانت هزيمة بدر لسبع عشرة من رمضان ليلة جمعة."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٧٢۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت زبیر (رض) اور خالد بن الولید (رض) کے درمیان کچھ (کشیدگی کی ) بات تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا اور میرے اصحاب کا کیا معاملہ ہے ؟ میرے صحابہ (رض) کو چھوڑدو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابرسونا بھی خرچ کردے تو وہ میرے صحابہ (رض) کے ایک دن کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع : ٥٠٨٠۔
کلام :۔۔۔ مذکورہ روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع : ٥٠٨٠۔
37972- عن الحسن قال: كان بين الزبير وبين خالد بن الوليد شيء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما شأنكم وشأن أصحابي؟ ذروا لي أصحابي، فوالذي نفسي بيده! لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما أدرك مثل عمل أحدهم يوما واحدا". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٧٣۔۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف اور خالد بن الولید کے درمیان کچھ بات بڑھ گئی۔ حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : اے ابن عوف ! مجھ پر فخر نہ کرو اس بات پر کہ تم ایک دو دن مجھ سے پہلے اسلام لائے ہو۔ یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو ارشاد فرمایا : میرے اصحاب کو میری خاطر چھوڑدو۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرلے تو وہ میرے صحابہ کی چادر کو نہیں پہنچ سکتے۔ راوی کہتے ہیں : پھر بعد میں عبدالرحمن (رض) اور زبیر (رض) کے درمیان کچھ بات بڑھی تو حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے مجھے عبدالرحمن (رض) کے متعلق منع فرمایا تھا اب یہ زبیر (رض) ان کو گالی دے رہے ہیں ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ (دونوں) اہل بدر ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرلے تو وہ میرے صحابہ کی چادر کو نہیں پہنچ سکتے۔ راوی کہتے ہیں : پھر بعد میں عبدالرحمن (رض) اور زبیر (رض) کے درمیان کچھ بات بڑھی تو حضرت خالد (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے مجھے عبدالرحمن (رض) کے متعلق منع فرمایا تھا اب یہ زبیر (رض) ان کو گالی دے رہے ہیں ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ (دونوں) اہل بدر ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37973- عن الحسن قال: بين عبد الرحمن بن عوف وبين خالد بن الوليد كلام فقال خالد: لا تفخر علي يا ابن عوف بأن سبقتني بيوم أو يومين، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: دعوا لي أصحابي، فوالذي نفسي بيده! لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما أدرك نصيفهم، قال: فكان بعد ذلك بين عبد الرحمن والزبير شيء فقال خالد: يا نبي الله! نهيتني عن عبد الرحمن وهذا الزبير يسابه! فقال: إنهم أهل بدر وبعضهم أحق ببعض." كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر (رض)
٣٧٩٧٤۔۔۔ موسیٰ بن عقبہ بن یزید سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ابوقتادہ (رض) کی نماز جنازہ پڑھائی اور نماز میں ان پر سات تکبیریں کہیں چونکہ وہ بدری صحابی تھے۔ (السنن للبیھقی)
کلام :۔۔۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت اسی طرح منقول ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ حضرت ابوقتادہ (رض) حضرت علی (رض) کے بعد ایک طویل مدت تک جیئے تھے۔
کلام :۔۔۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت اسی طرح منقول ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ حضرت ابوقتادہ (رض) حضرت علی (رض) کے بعد ایک طویل مدت تک جیئے تھے۔
37974- عن موسى بن عقبة بن يزيد أن عليا صلى على أبي قتادة فكبر عليه سبعا وكان بدريا."ق وقال: هكذا روي وهو غلط لأن أبا قتادة بقي بعد على مدة طويلة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٧٥۔۔۔ اسماعیل بن عبید بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنی قوم کو جمع کرو۔ میں نے پوچھا : کیا بنی عدی کو ؟
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں قریش کو۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے ان کو جمع کیا۔ یہ بات انصار اور مہاجرین کے کانوں میں پڑگئی۔ سب نے کہا :
ضرور قریش کے متعلق وحی اتری ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے اپنی قوم والوں کو جمع کرلیا ہے، کیا ان کو آپ کے پاس لے کر آؤں یا آپ باہر ان کے پاس تشریف لائیں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلکہ میں ہی ان کے پاس جاتا ہوں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکل کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا : کیا تم میں تمہارے علاوہ لوگ بھی ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : ہمارے حلیف، ہمارے بھائی بند اور ہمارے غلام ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارے حلیف (دوستی کا معاہدہ رکھنے والے) ہم ہی میں سے ہیں اور ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیں۔
پھر ارشاد فرمایا : کیا تم سن رہے ہو (سنو) ! قیامت کے روز تم میں سے میرے دوست صرف متقی اور پرہیزگارہی ہوں گے۔ یاد رکھو ! میں ایسی صورت حال ہرگز نہ پاؤں کہ قیامت کے روز اور لوگ تو اعمال لے کر آئیں اور تم گناہوں کا بوجھ لے کر آؤ۔ اللہ کی قسم ! اللہ کی طرف سے میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔
پھر ارشاد فرمایا : قریش امانت دار ہیں۔ جو ان پر بدی کے ساتھ پیش آئے اللہ اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمائی۔ (ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الیزدی فی امالیہ وھو معروف من روایۃ اسماعیل بن عبید بن رفاعہ عن ابیہ عن جدہ رفاعۃ بن رافع وسیاتی فی محلہ)
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں قریش کو۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے ان کو جمع کیا۔ یہ بات انصار اور مہاجرین کے کانوں میں پڑگئی۔ سب نے کہا :
ضرور قریش کے متعلق وحی اتری ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے اپنی قوم والوں کو جمع کرلیا ہے، کیا ان کو آپ کے پاس لے کر آؤں یا آپ باہر ان کے پاس تشریف لائیں گے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلکہ میں ہی ان کے پاس جاتا ہوں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکل کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا : کیا تم میں تمہارے علاوہ لوگ بھی ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : ہمارے حلیف، ہمارے بھائی بند اور ہمارے غلام ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارے حلیف (دوستی کا معاہدہ رکھنے والے) ہم ہی میں سے ہیں اور ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیں۔
پھر ارشاد فرمایا : کیا تم سن رہے ہو (سنو) ! قیامت کے روز تم میں سے میرے دوست صرف متقی اور پرہیزگارہی ہوں گے۔ یاد رکھو ! میں ایسی صورت حال ہرگز نہ پاؤں کہ قیامت کے روز اور لوگ تو اعمال لے کر آئیں اور تم گناہوں کا بوجھ لے کر آؤ۔ اللہ کی قسم ! اللہ کی طرف سے میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔
پھر ارشاد فرمایا : قریش امانت دار ہیں۔ جو ان پر بدی کے ساتھ پیش آئے اللہ اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمائی۔ (ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر الیزدی فی امالیہ وھو معروف من روایۃ اسماعیل بن عبید بن رفاعہ عن ابیہ عن جدہ رفاعۃ بن رافع وسیاتی فی محلہ)
37975- عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة عن أبيه قال: قال لي عمر بن الخطاب قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اجمع قومك"، قلت: أبني عد؟ قال: "لا ولكن قريشا"، فجمعتهم، فتسامعت الأنصار والمهاجرون بذلك فقالوا: لقد نزل اليوم في قريش وحي، فجئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: قد جمعت قومي فأدخلهم عليك أو تخرج إليهم؟ قال: بل أخرج إليهم، فخرج فقال: هل فيكم من غيركم؟ قالوا: حلفاؤنا وبنوا إخواننا وموالينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "حلفاؤنا منا وموالينا منا، ثم قال: ألستم تسمعون أن أوليائي منكم يوم القيامة المتقون، ألا! لا أعرفن الناس يأتوني بالأعمال وتأتوني بالأثقال، والله لا أغني عنكم من الله شيئا! ثم قال: إن قريشا أهل أمانة، من بغى عليهم العواثر كبه الله على وجهه في النار" - يقول ذلك ثلاث مرات."أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن جعفر اليزدي في أماليه، وهو معروف من رواية إسماعيل بن عبيد بن رفاعة عن أبيه عن جده رفاعة بن رافع وسيأتي في محله".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٧٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : قریش اس مال (اور حکومت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ان کو مال ملتا ہے تو وہ پھیلتا ہے اور ان کے علاوہ لوگوں کو ملتا ہے تو نہیں پھیلتا۔ (ابراھیم بن سعد)
37976- عن عمر قال: قريش أحق الناس بهذا المال، لأنهم إذا أعطوا فاض المال وإذا أعطيه غيرهم لم يفض."إبراهيم بن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٧٧۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مہاجرین قریش کے لوگوں پر دوسروں شہروں میں جانے پر پابندی عائد کردی تھی الایہ کہ کوئی مقررہ مدت تک کے لیے اجازت لے کرجائے۔ چنانچہ قریش نے اس کی شکایت کی۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) (لوگوں کے سامنے) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :
(خبردار ! سنو اسلام ایک اونٹ کی مانند ہے جو پہلے بچہ تھا، پھر وہ ثنائی (دو دانتوں والا) ہوا پھر رباعی (چاردانتوں والا) ہوا پھر سداسی (چھ دانتوں والا) ہوا پھر بازل (نویں سال میں داخل) ہوگیا اور اونٹ کی یہ عمر (جوانی والی) نقصان ہی لاتی ہے۔
اب اسلام جوان ہوچکا ہے اور سنو قریش چاہتے ہیں کہ اللہ کے مال کو دوسرے بندوں کے مقابلے ہتھیار لیں۔ خبردار ابن الخطاب کے زندہ ہوتے ہوئے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ میں حرۃ گھاٹی (مدینے سے نکلنے کے راستے) پر کھڑا ہوں اور قریش کو ان کی گردنوں اور کمروں سے پکڑرہاہوں۔
جہنم میں اوپر نیچے گرنے سے بچانے کے لئے۔ ( سیف ، ابن عساکر)
(خبردار ! سنو اسلام ایک اونٹ کی مانند ہے جو پہلے بچہ تھا، پھر وہ ثنائی (دو دانتوں والا) ہوا پھر رباعی (چاردانتوں والا) ہوا پھر سداسی (چھ دانتوں والا) ہوا پھر بازل (نویں سال میں داخل) ہوگیا اور اونٹ کی یہ عمر (جوانی والی) نقصان ہی لاتی ہے۔
اب اسلام جوان ہوچکا ہے اور سنو قریش چاہتے ہیں کہ اللہ کے مال کو دوسرے بندوں کے مقابلے ہتھیار لیں۔ خبردار ابن الخطاب کے زندہ ہوتے ہوئے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ میں حرۃ گھاٹی (مدینے سے نکلنے کے راستے) پر کھڑا ہوں اور قریش کو ان کی گردنوں اور کمروں سے پکڑرہاہوں۔
جہنم میں اوپر نیچے گرنے سے بچانے کے لئے۔ ( سیف ، ابن عساکر)
37977- "مسند عمر" عن الحسن البصري قال: كان عمر قد حجر على أعلام قريش من المهاجرين الخروج إلى البلدان إلا بأذن وأجل، فشكوه فبلغه، فقام فقال: ألا إني قد سننت الإسلام سن البعير، يبدأ فيكون جذعا ثم ثنائيا ثم رباعيا ثم سداسيا ثم بازلا، فهل ينتظر بالبازل إلا النقصان! ألا! وإن الإسلام قد بزل1 ألا! وإن قريشا يريدون أن يتخذوا مال الله مغرمات دون عباده، ألا فأما وابن الخطاب حي فلا، إني قائم دون شعب الحرة آخذ بحلاقيم قريش وحجزها أن يتهافتوا في النار."سيف، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٧٨۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اس وقت تک نہیں مرے جب تک کہ قریش نے ان کو تھکا نہ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو مدینے میں روک دیا تھا اور تمام (قریش) کو وہیں رہنے کی تاکید کردی تھی (١) آپ (رض) ان کو فرماتے تھے : مجھے اس امت پر سب سے بڑا خطرہ تمہارے دوسرے علاقوں میں منتشر ہوجانے کا ہے
چنانچہ اگر ان محصورین مدینے میں سے کوئی آپ سے کسی جہاد میں شرکت کی اجازت چاہتا تو اس کو ارشاد فرماتے : تجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شرکت کا موقع ملا ہے جو تیرے (درجے بلند کرنے کے ) لیے کافی ہے۔ اور آج کے زمانے میں غزوہ میں شرکت کرنے سے تیرے لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ تو دنیا کو نہ دیکھے اور نہ دنیا تجھے دیکھے۔
چنانچہ جب حضرت عثمان (رض) خلیفہ بنے تو انھوں نے ان کا راستہ خالی کردیا اور وہ دنیا میں پھیل گئے اور لوگ بھی (اوروں سے) کٹ کٹ کر ان سے ملنے لگے۔ محمد اور طلحہ کہتے ہیں : یہ پہلی کمزوری تھی جو اسلام میں داخل ہوئی اور اس سال کا پہلا فتنہ یہی تھا۔ (سیف، ابن عساکر)
چنانچہ اگر ان محصورین مدینے میں سے کوئی آپ سے کسی جہاد میں شرکت کی اجازت چاہتا تو اس کو ارشاد فرماتے : تجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شرکت کا موقع ملا ہے جو تیرے (درجے بلند کرنے کے ) لیے کافی ہے۔ اور آج کے زمانے میں غزوہ میں شرکت کرنے سے تیرے لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ تو دنیا کو نہ دیکھے اور نہ دنیا تجھے دیکھے۔
چنانچہ جب حضرت عثمان (رض) خلیفہ بنے تو انھوں نے ان کا راستہ خالی کردیا اور وہ دنیا میں پھیل گئے اور لوگ بھی (اوروں سے) کٹ کٹ کر ان سے ملنے لگے۔ محمد اور طلحہ کہتے ہیں : یہ پہلی کمزوری تھی جو اسلام میں داخل ہوئی اور اس سال کا پہلا فتنہ یہی تھا۔ (سیف، ابن عساکر)
37978- عن الشعبي قال: لم يمت عمر حتى ملته قريش وقد حصرهم بالمدينة وأسبغ عليهم وقال: إن أخوف ما أخاف على هذه الأمة انتشاركم في البلاد، فإن كان الرجل يستأذنه في الغزو وهو ممن حصر في المدينة من المهاجرين ولم يكن فعل ذلك بغيرهم من أهل مكة فيقول: قد كان لك في غزوك مع النبي صلى الله عليه وسلم ما يبلغك، وخير لك من الغزو اليوم أن لا ترى الدنيا وتراك، فلما ولى عثمان خلى عنهم فاضطربوا في البلاد وانقطع إليهم الناس. قال محمد وطلحة: فكان ذلك أول وهن دخل على الإسلام، وأول فتنة كانت في العامة ليس إلا ذلك."سيف، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٧٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : حکام قریش میں سے ہوں گے۔ ان کے بہترین لوگ اپنی بہتری پر رہنے والے ہیں اور ان کے برے لوگ بھی اپنی خصلت پر رہنے والے ہیں۔ اور قریش کے بعد جاہلیت کے سواکچھ نہیں۔ (نعیم بن حماد وابن السنی کتاب الاخوۃ)
اور یہ معاملہ دوسرے اہل مکہ کے ساتھ نہ تھا۔
اور یہ معاملہ دوسرے اہل مکہ کے ساتھ نہ تھا۔
37979- عن علي قال: الأئمة من قريش، خيارهم على خيارهم، وشرارهم على شرارهم، وليس بعد قريش إلا الجاهلية."نعيم بن حماد وابن السني في كتاب الأخوة".
তাহকীক: