কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৯৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٠۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا :
خبردار سن لو ! حاکم وقت قریش میں سے رہیں جب تک وہ تین باتوں کو قائم رکھیں جب بھی فیصلہ کریں عدل کریں، جب بھی عہد و پیمان کریں پورا کریں اور جب بھی ان سے رحم کی اپیل کی جائے وہ رحم کریں پس جو ایسا نہ کریں ان پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ (مسند ابی یعلی)
خبردار سن لو ! حاکم وقت قریش میں سے رہیں جب تک وہ تین باتوں کو قائم رکھیں جب بھی فیصلہ کریں عدل کریں، جب بھی عہد و پیمان کریں پورا کریں اور جب بھی ان سے رحم کی اپیل کی جائے وہ رحم کریں پس جو ایسا نہ کریں ان پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ (مسند ابی یعلی)
37980- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس ذات يوم: "ألا! إن الأمراء من قريش ما أقاموا بثلاث: ما حكموا فعدلوا وما عاهدوا فوفوا، وما استرحموا فرحموا، فمن لم يفعل ذلك فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين". "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨١۔۔۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معام جحفۃ پر خطاب کے دوران فرمایا : لوگو ! کیا میں تمہیں، تمہاری جانوں سے زیادہ عزیز نہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں، فرمایا : میں حوض پر تمہارا پیشتروہوں گا، اور تم سے دو چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا :۔ قرآن اور اپنی اولاد کے بارے میں، قریش سے آگے نہ ہونا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور نہ ان سے پیچھے رہنا ورنہ گمراہ ہوجاؤگے، قریش کے ایک آدمی کی طاقت دو کے برابر ہے اور نہ قریش سے سمجھ بوجھ کا مقابلہ کرنا وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ اگر مجھے قریش کے متکبر ہونے کا ڈرنہ ہوتا تو میں انھیں بتا دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا کیا مرتبہ ہے۔ قریش کے اچھے لوگ انسان ہیں اور قریش کے برے لوگ برے انسان ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء وفیہ ابراھیم بن الیسع واہ)
37981- "أيضا" خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجحفة فقال: "يا أيها الناس! ألست أولى بكم من أنفسكم؟ قالوا: بلى، قال: فإني كائن لكم على الحوض فرطا وسائلكم عن اثنتين: عن القرآن وعن عترتي، لا تقدموا قريشا فتهلكوا، ولا تخلفوا عنها فتضلوا قوة الرجل من قريش قوة رجلين، لا تفاقهوا قريشا فهي أفقه منكم، لولا أن تبطر قريش لأخبرتها بما لها عند الله، خيار قريش خيار الناس وشرار قريش خير من الناس". "حل، وفيه إبراهيم بن اليسع واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٢۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : قریش عرب کے امام ورہنما ہیں ان کے نیک لوگ، نیک لوگوں کے اور ان کے برے لوگ برے لوگوں کے رہنما ہیں، سو ہر ایک کا حق ہے اور ہر حقدار کو اس کا حق دو (ابن ابی عاصم فی السنۃ
37982- عن علي قال: قريش أئمة العرب، أبرارها أئمة أبرارها، وفجارها أئمة فجارها، ولكل حق، فأدوا إلى كل ذي حق حقه."ابن أبي عاصم في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٣۔۔۔ حضرت جابر بن سمرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے مصاحف (قرآن مجید) صرف قریش اور ثقیف کے نوجوان لکھا کریں۔ (ابونعیم، مسند الحارث بن الحارث الغامدی)
37983- عن جابر بن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يملي مصاحفنا إلا غلمان قريش وغلمان ثقيف". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٤۔۔۔ قاضی شریح سے روایت ہے کہ مجھے ابوامامۃ، حارث بن حارث، عمرو بن اسود (رض) نے فقہا کی ایک جماعت میں بتایا، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کو پکارا اور جمع کیا، پھر ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا : کہ ہر نبی کو اس کی امت میں مبعوث کیا جاتا رہا اور مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا، پھر ایک ایک شخص سے اقرار لینے لگے یہاں تک کہ ان کے آباء و اجداد تک کا نسب بیان کیا، پھر فرمانے لگے : اے فلاں ! اپنی فکر کرو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ آپ اس معاملہ میں حضرت فاطمۃ (رض) تک پہنچے ان سے بھی وہی بات کہی۔
اس کے بعد فرمایا : اے قریش کی جماعت ! میں ہرگز ایسے لوگ نہ پاؤں جو میرے پاس آئیں اور وہ جنت کی طرف لے جائے جارہے ہوں اور تم میرے پاس دنیا کو کھینچ رہے ہو۔ اے اللہ ! میں قریش کو اپنی امت کی اصلاح شدہ چیزوں میں فساد کی اجازت نہیں دیتا، پھر فرمایا : آگاہ رہو ! تمہارے بہترین رہنما، بہترین لوگ ہیں ، اور قریش کے برے لوگ، برے انسان ہیں، اچھے لوگ اچھوں کے اور برے لوگ بروں کے تابع ہوتے ہیں۔ (بخاری فی تاریخہ، ابن عساکر)
اس کے بعد فرمایا : اے قریش کی جماعت ! میں ہرگز ایسے لوگ نہ پاؤں جو میرے پاس آئیں اور وہ جنت کی طرف لے جائے جارہے ہوں اور تم میرے پاس دنیا کو کھینچ رہے ہو۔ اے اللہ ! میں قریش کو اپنی امت کی اصلاح شدہ چیزوں میں فساد کی اجازت نہیں دیتا، پھر فرمایا : آگاہ رہو ! تمہارے بہترین رہنما، بہترین لوگ ہیں ، اور قریش کے برے لوگ، برے انسان ہیں، اچھے لوگ اچھوں کے اور برے لوگ بروں کے تابع ہوتے ہیں۔ (بخاری فی تاریخہ، ابن عساکر)
37984- "مسند الحارث بن الحارث الغامدي" عن شريح قال أخبرني أبو أمامة والحارث بن الحارث وعمرو بن الأسود في نفر من الفقهاء أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نادى في قريش فجمعهم، ثم قام فيهم فقال: "ألا! إن كل نبي بعث إلى قومه وإني بعثت إليكم، ثم جعل يستقربهم رجلا رجلا ينسبه إلى آبائه ثم يقول: يا فلان! عليك بنفسك، فإني لن أغني عنك من الله شيئا - حتى خلص إلى فاطمة ثم قال لها مثل ما قال لهم، ثم قال: يا معشر قريش! لا ألفين أناسا يأتوني يجرون الجنة وتأتوني تجرون الدنيا! اللهم! لا أجعل لقريش أن يفسدوا ما أصلحت أمتي، ثم قال: ألا! إن خيار أئمتكم خيار الناس، وشرار قريش شرار الناس، وخيار الناس تبع لخيارهم وشرار الناس تبع لشرارهم". "خ في تاريخه، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٥۔۔۔ عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے موقعہ پر فرماتے سنا : آج کے بعد کسی قریشی کو قیامت تک باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ (ابن ابی شیبہ، مسلم)
37985- عن عبد الله بن مطيع عن أبيه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم فتح مكة: "لا يقتل قرشي صبرا بعد هذا اليوم إلى يوم القيامة". "ش، م"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٦۔۔۔ حضرت نابغہ جعدی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : ایسا نہیں کہ قریش حکمران بنے ہوں اور انصاف نہ کیا ہو، ان سے رحم کی اپیل کی گئی ہو اور رحم نہ کیا ہو، اور بات کی ہو تو سچ نہ بولا ہو، اور وعدہ کیا ہو تو پورا نہ کیا ہو میں اور باقی انبیاء گنہگاروں کے لیے پیشرو ہیں۔ (الزیر بن بکاروثعلب فی امالیہ وابن عساکر)
37986- عن النابغة الجعدي قال: أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما وليت قريش فعدلت، واسترحمت فرحمت، وحدثت فصدقت، ووعدت خيرا فأنجزت، فأنا والنبيون فراط لقاصفين". "الزبير بن بكار وثعلب في أماليه وابن عساكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٧۔۔۔ (مسند رافع بن خدیج) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر سے فرمایا : میرے پاس اپنی قوم کو جمع کرو، آپ نے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے پاس جمع کیا اور وہ لوگ دروازے پر تھے پھر حضرت عمر (رض) آپ کے پاس آکر کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ ان کے پاس جائیں گے یا میں انھیں آپ کے پاس لے آؤں ؟ آپ نے فرمایا : میں ہی ان کے پاس جاتا ہوں چنانچہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا : کیا تم میں کوئی اور تو نہیں ؟ وہ کہنے لگے ، جی ہے، ہم میں ہمارے حلیف ہمارے بھانجے اور ہمارے (آزادکردہ) غلام ہیں، آپ نے فرمایا : ہمارے حلیف ہمارے بھانجے اور ہمارے غلام ہم میں شامل ہیں۔
فرمایا : تم لوگ سنتے ہو کہ تم میں پرہیزگار لوگ میرے دوست ہیں، اگر تم وہ ہو تو بہت اچھی بات ہے ورنہ دیکھو غور کرو ! (ایسا نہ ہو کہ ) لوگ قیامت کے روز اعمال لائیں اور تم ایسے بوجھ لاؤ جنہیں اپنی پیٹھوں پر لادے چلے آرہے ہو، اور میں تم سے چہرہ پھیرلوں، پھر آپ نے کھڑے کھڑے ہی دونوں ہاتھ بلند کئے اور وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، فرمایا : لوگو ! قریش والے صابر و امانتدار ہیں ! تو جس نے ان کے لیے پریشانی اور مصائب تلاش کئے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز منہ کے بل گرائے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین بارفرمائی۔ (ابن سعد، بخاری فی الادب والبغوی، طبرانی فی الکبیر، حاکم عن اسماعیل بن عبید اللہ بن رفاعہ بن رافع عن ابیہ عن جدہ) ۔
فرمایا : تم لوگ سنتے ہو کہ تم میں پرہیزگار لوگ میرے دوست ہیں، اگر تم وہ ہو تو بہت اچھی بات ہے ورنہ دیکھو غور کرو ! (ایسا نہ ہو کہ ) لوگ قیامت کے روز اعمال لائیں اور تم ایسے بوجھ لاؤ جنہیں اپنی پیٹھوں پر لادے چلے آرہے ہو، اور میں تم سے چہرہ پھیرلوں، پھر آپ نے کھڑے کھڑے ہی دونوں ہاتھ بلند کئے اور وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، فرمایا : لوگو ! قریش والے صابر و امانتدار ہیں ! تو جس نے ان کے لیے پریشانی اور مصائب تلاش کئے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز منہ کے بل گرائے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین بارفرمائی۔ (ابن سعد، بخاری فی الادب والبغوی، طبرانی فی الکبیر، حاکم عن اسماعیل بن عبید اللہ بن رفاعہ بن رافع عن ابیہ عن جدہ) ۔
37987- "مسند رافع بن خديج" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمر: "اجمع لي قومك"، فجمعهم عند بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانوا بالباب، ثم دخل عليه فقال: يا رسول الله! أدخلهم عليك أو تخرج إليهم؟ قال: "لا بل أخرج إليهم"، فأتاهم فقام عليهم فقال: "هل فيكم أحد من غيركم؟ " قالوا: نعم، فينا حلفاؤنا وفينا أبناء أخواتنا - وفينا موالينا، فقال: "حليفنا منا وابن أختنا منا ومولانا منا،" قال: "أنتم تسمعون إن أوليائي منكم المتقون، فإن كنتم أولئك فذاك وإلا فأبصروا، لا يأتي الناس بالأعمال يوم القيامة وتأتون بالأثقال تحملونها على ظهوركم فأعرض عنكم،" ثم رفع يديه وهو قائم وهم قعود فقال: يا أيها الناس! "إن قريشا أهل صبر وأمانة، فمن بغى لهم العواثر أكبه الله لمنخريه يوم القيامة" - قالها ثلاثا." ابن سعد، خ في الأدب والبغوي، طب، ك - عن إسماعيل بن عبيد الله بن رفاعة بن رافع عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٨۔۔۔ (مسند رفاعہ بن رافع الزرقی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کو جمع کر کے فرمایا : کیا تم میں کوئی اور ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : کوئی نہیں صرف ہمارے بھانجے، ہمارے آزاد کردہ غلام اور ہمارے حلیف ہیں فرمایا : تمہارے بھانجے تمہی میں شامل ہیں، تمہارے حلیف اور تمہارے آزاد کردہ غلام بھی تم میں شامل ہیں، بیشک قریشی سچے اور امانتدار ہیں جس نے ان کے لیے کوئی مصیبت تلاش کی اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل گرائے گا۔ (الشافعی، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، الشاشی، طبرانی فی الکبیر، ضیاء بن مقدس کلام الضعیفہ ١٧١٦)
37988- "مسند رفاعة بن رافع الزرقي" جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فقال: "هل فيكم من غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا ومولانا وحليفنا، فقال: "ابن أختكم منكم وحليفكم منكم ومولاكم منكم، إن قريشا أهل صدق وأمانة، فمن بغى لهم العواثر كبه الله على وجهه". "الشافعي، ش، حم والشاشي، طب، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٨٩۔۔۔ اسی طرح اسماعیل بن عبید بن رفاعہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا رفاعہ بن رافع سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریشی امانتدار ہیں، جس نے ان کے لیے مصائب تلاش کئے اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل گرائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (رواہ ابن جریر)
37989- "أيضا" عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة عن أبيه عن جده رفاعة بن رافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن قريشا أهل أمانة، من بغاهم العواثر كبه الله لمنخره" - قالها ثلاثا." ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٠۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش سے فرمایا : یہ دین اس وقت تک تم میں رہے گا اور تم ہی اس کے والی وارث ہوگے جب تک تم نے ایسی چیزیں ایجاد نہ کی ہوں جس کی وجہ سے وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور ایک روایت میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے تم سے چھین لے گا۔ سو جب تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی بری مخلوق مسلط کردے گا، وہ تمہیں ایسے ختم کریں گے جیسے (لکڑی) دستے کو چھیلا جاتا ہے۔ (ابن ابی شیبہ، ابن جریر)
37990- عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقريش: "إن هذا الأمر لا يزال فيكم وأنتم ولاته مالم تحدثوا أمورا تذهب به منكم" - وفي لفظ: "ينتزعه الله منكم فإذا فعلتم ذلك سلط الله عليكم شرار خلقه فالتحوكم كما يلتحى القضيب". "ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩١۔۔۔ (مسند ابی موسیٰ ) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک (گھر کے ) دروازے پر کھڑے ہوئے جس میں قریش کی ایک جماعت تھی فرمایا : یہ دین قریش میں رہے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37991- "مسند أبي موسى" قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على باب فيه نفر من قريش فقال: "إن هذا الأمر في قريش". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٢۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : قریش کی ہلاکت تم تاخیر سے پاؤگے کیونکہ یہ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہیں، یہاں تک کہ ڈھیر ان میں جوتا ملے گا تو کہاں جائے گا : اس جوتے کو اٹھالویہ قریش کا جوتا ہے (رواہ ابو نعیم
37992- عن أبي هريرة قال: تستريثوا1 هلكة قريش، فإنهم أول من يهلك حتى أن النعل لتوجد في المزبلة فيقال: خذوا هذه النعل إنها لنعل قرشي."نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٣۔۔۔ (مسند علی) حضرت سعد سے روایت ہے کہ ایک شخص قتل ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی نے کہہ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) دور کرے، وہ قریش سے بغض رکھتا تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37993- "مسند علي" عن سعد أن رجلا قتل فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم فقال "أبعده الله، إنه كان يبغض قريشا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٤۔۔۔ زبیر بن عوام (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقعہ پر ایک قریشی شخص قتل کیا تو فرمایا : آج کے بعد کسی قریشی کو قید کرکے قتل نہیں کیا جائے گا، صرف عثمان کے قاتل سے ایسا سلوک کیا جائے گا، اسے قتل کردینا، اگر اسے قتل نہ کرسکو، توا سے بکری کی طرح ذبح ہونے کی اطلاع دے دو (ابن عدی ، ابن عساکر)
37994- عن الزبير بن العوام أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قتل رجلا من قريش يوم فتح مكة وقال: "لا يقتل أحد من قريش بعد اليوم صبرا إلا قاتل عثمان فاقتلوه، فإن لم تقتلوه فأبشروا بذبح مثل ذبح الشاة". "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٥۔۔۔ (مسند انس) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ کسی انصاری کے گھر میں تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے کی چوکھٹیں پکڑ کر فرمایا : قائدین قریش سے ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37995- "مسند أنس" أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في بيت رجل من الأنصار فأخذ بعضادتي الباب ثم قال: "الأئمة من قريش". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٦۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے روز ہم سے خطاب کیا، فرمایا : لوگو ! قریش کو اپنا مقتدا اور رہنما بنانا خود ان سے آگے نہ ہونا، ان سے سیکھنا اور انھیں کچھ نہ سکھانا، قریش کے ایک آدمی کی طاقت دومردوں کے برابر ہے، ایک قریشی کی امانتداری دو آدمیوں کے برابر ہے لوگو ! میں تمہیں اپنے قریبی رشتہ دار علی بن ابی طالب کے ساتھ محبت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، جو میرے بھائی اور چچا زاد ہیں، کیونکہ ان سے صرف مومن محبت کرے گا اور منافق نفرت کرے گا، سو جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اسے اللہ تعالیٰ عذاب دے گا۔ (رواہ ابن النجار)
کلام :۔۔۔ ذیل اللآلی ٦٢۔
کلام :۔۔۔ ذیل اللآلی ٦٢۔
37996- عن أنس: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فقال: "يا أيها الناس! قدموا قريشا ولا تقدموها، وتعلموا منها ولا تعلموها قوة رجل من قريش قوة رجلين من غيرهم، وأمانة رجل من قريش تعدل أمانة رجلين من غيرهم، يا أيها الناس! أوصيكم بحب ذي أقربها أخي وابن عمي علي بن أبي طالب، فإنه لا يحبه إلا مؤمن، ولا يبغضه إلا منافق، من أحبه فقد أحبني، ومن أبغضه فقد أبغضني، ومن أبغضني عذبه الله عز وجل". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش
٣٧٩٩٧۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم انصار کے کسی گھر میں تھے، اتنے میں ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، ہم میں سے ہر شخص اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ گیا تاکہ آپ اس کے پاس تشریف فرماہوں، آپ دروازے میں ہی کھڑے ہوگئے چوکھٹ پر ہاتھ رکھ کر آپ نے فرمایا : مقتدا قریش سے ہیں، ہم پر ان کا حق ہے اور ان پر تمہارا حق ہے جب تک وہ تین چیز پر عمل پیرا رہیں گے۔ انصاف سے فیصلے کریں، وعدے پورے کریں ، اور رحم کی درخواست کی جائے تو رحم کریں، تو جو کوئی ان میں سے یہ کام نہ کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے (رواہ ابن جریر
37997- عن أنس قال: كنا في بيت من الأنصار فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكل إنسان منا أخر عن مجلسه ليجلس إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام على الباب فوضع يده على عضادتي الباب فقال: "الأئمة من قريش، ولهم عليكم حق ولكم عليهم حق مثل ذلك ما إن عملوا بثلاث: إن حكموا عدلوا، وإن عاهدوا وفوا، وإن استرحموا رحموا، فمن لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اولاد ہاشم)
٣٧٩٩٨۔۔۔ (مسند عثمان) سالم بن ابوالجعد سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی ہاشم کی عزت کیا کرتے تھے۔
(خطیب فی الجامع) چونکہ بنی ہاشم نے اس وقت بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا جب کہ یہ سب لوگ اسلام سے سرفراز نہیں ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصورونظر بند رہے۔ (عامر تقی ندوی)
(خطیب فی الجامع) چونکہ بنی ہاشم نے اس وقت بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا جب کہ یہ سب لوگ اسلام سے سرفراز نہیں ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصورونظر بند رہے۔ (عامر تقی ندوی)
37998- "مسند عثمان" عن سالم بن أبي الجعد قال: قال عثمان: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يكرم بني هاشم."خط في الجامع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اولاد ہاشم)
٣٧٩٩٩۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر میں سے رشتہ داروں کا حصہ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب میں تقسیم کیا، پھر میں اور حضرت عثمان (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چل کر آئے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے یہ ہاشمی بھائی، آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جو انھیں فضیلت دی ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے (لیکن) دیکھیں ! آپ نے ہمارے بھائیوں بنی عبدالمطلب کو ہمیں محروم رکھ کر انھیں دیا ہے جب کہ نسب میں ہم اور وہ یکساں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھوں نے جاہلیت واسلام میں میرا ساتھ نہیں چھوڑا، بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب ایک ہیں اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملالیں۔ (رواہ ابونعیم)
” ھذیل “
” ھذیل “
37999- عن جبير بن مطعم قال: قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم سهم ذوي القربى من خيبر على بني هاشم وبني المطلب، فمشيت أنا وعثمان بن عفان حتى دخلنا عليه فقلنا: يا رسول الله! هؤلاء أخوتك من بني هاشم لا ننكر فضلهم لمكانك الذي وضعك الله به منهم، أرأيت إخوتنا من بني المطلب أعطيتهم دوننا وإنما نحن وهم بمنزلة واحدة في النسب، فقال: "إنهم لم يفارقونا في الجاهلية ولا الإسلام". "ش" وفي لفظ: "إنهم لم يفارقوني في جاهلية ولا إسلام، وإنما بنو هاشم وبنو المطلب شيء واحد وشبك بين أصابعه". "أبو نعيم".
তাহকীক: