কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৮০১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اولاد ہاشم)
٣٨٠٠٠۔۔۔ (مسند الصدیق) حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : وہ بہترین جگہیں جنہوں نے اونٹوں کی گردنوں کو بوجھل کردیا ہے وہ ھذیل کی عورتیں ہیں (رواہ عبدالرزاق
38000- "مسند الصديق" عن أسماء بنت أبي بكر قالت: إن أبي أبا بكر قال: إن خير مواضع أثقلن رقاب الإبل نساء هذيل."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” عنزۃ “
٣٨٠٠١۔۔۔ (مسند عمر) حنظلۃ بن نعیم سے روایت ہے کہ ان سے حضرت عمر (رض) نے پوچھا تمہارا کس قبیلہ سے تعلق ہے ؟ تو انھوں نے کہا : عنزۃ سے، فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : کہ عنزہ یہاں کا قبیلہ ہے ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی مدد کی جائے گی۔ (مسند احمد، ابویعلی طبرانی فی الاوسط ، سعید بن منصور)
38001- "مسند عمر" عن حنظلة بن نعيم أن عمر سأله: ممن أنت؟ فقال: من عنزة، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "عنزة حي من ههنا مبغى عليهم منصورون". "حم، ع، طس، ص"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ربیعۃ “
٣٨٠٠٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے نہ سنا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ فرات کے کنارے ربیعہ قبیلہ کے نصاریٰ (عیسائیوں) کی وجہ سے دین کو مضبوط کرے گا، تو میں وہاں جو عربی بھی دیکھتا اسے قتل کردیتا یا وہ مسلمان ہوجاتا ۔ (ابوعبیدہ، نسائی، ابویعلی والشاشی وابن جریر، سعید بن منصور)
38002- عن عمر قال: لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الله سيمنع الدين من نصارى ربيعة على شاطئ الفرات،ما تركت بها عربيا إلا قتلته أو يسلم (أبو عبيد في الاموال ، ن ، ع والشاشي وابن جرير ، ص).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ربیعۃ “
٣٨٠٠٣۔۔۔ اسی طرح خالد بن معدان سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یزید بن ابی سفیان (رض) کو لکھا ایک لشکر بھیجو اور اس کا جھنڈا ربیعہ قبیلے کے کسی شخص کو دو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : وہ لشکر شکست نہیں کھائے گا، جس کا جھنڈا ربیعہ کے کسی شخص کے پاس ہو۔۔ (ابواحمد الدھقانی فی الثانی من حدیثہ ورجالہ ثقات)
38003 * (أيضا) * عن خالد بن معدان أن عمر بن الخطاب كتب إلى يزيد أن أبعث جيشا وادفع لواءهم إلى رجل من ربيعة ، فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا يهزم جيش لواؤهم مع رجل من ربيعه (أبو أحمد الدهقاني في الثاني من حديثه ، ورجاله ثقات).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” قیس “
٣٨٠٠٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ قیس عرب کے جنگجو لوگ ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38004- عن عمر قال: قيس ملاحم العرب."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” قیس “
٣٨٠٠٥۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! قیس کو ذلیل کر کیونکہ ان کی ذلت اسلام کی عزت ہے اور ان کی عزت و غلبہ اسلام کی ذلت و کمزوری ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
38005- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "اللهم: أذل قيسا، فإن ذلهم عز الإسلام وعزهم ذل الإسلام". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” العرب “
٣٨٠٠٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری سینے سے ٹیک لگا کر فرمایا : علی ! میں تمہیں عربوں سے خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ (البزار، طبرانی)
38006- عن علي قال: أسندت النبي صلى الله عليه وسلم إلى صدري فقال: "يا علي! أوصيك بالعرب خيرا". "البزار، طب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اولاد اسد “
٣٨٠٠٧۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ بنی اسد کی چھ عادتیں ایسی ہیں جو مجھے کسی عربی قبیلہ میں نظر نہیں آتیں، اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کی ایک عورت سے اپنے نبی (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی شادی کرائی، دونوں کے درمیان سفیر جبرائیل امین تھے، اور اسلام میں سب سے پہلا جھنڈا عبدالرحمن بن جحش اسدی کے لیے باندھا گیا، اور پہلی غنیمت جو اسلام میں تقسیم کی گئی وہ عبداللہ بن جحش کی غنیمت تھی، اور ان میں سے ایک شخص جو جھک کر چلتا تھا اور جنتی ہے وہ عکاشہ بن محصن اسدی ہیں۔ اور سب سے پہلی بیعت ابوسنان عبداللہ بن وھب نے کی، وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ بڑھائیے میں بیعت کرتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس بات پر ؟ عرض کیا : جو آپ کے دل میں ہے، آپ نے فرمایا : میرے دل میں کیا ہے ؟ عرض کیا : فتح یا شہادت، آپ نے فرمایا : ہاں، چنانچہ آپ نے انھیں بیعت کیا، پھر لوگ بیعت کرنے لگے اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے : ابوسنان کی بیعت کے مطابق، اور وہ سات مہاجر صحابہ (رض) تھے۔ (ابن عساکر وسندہ صحیح)
38007- عن الشعبي قال: كانت لبني أسد لست خصال لا أعلمها كانت لحي من العرب: كانت منهم امرأة زوجها الله نبيه صلى الله عليه وسلم والسفير بينهما جبريل، وكان أول لواء عقد في الإسلام لواء عبد الرحمن بن جحش الأسدي، وكان أول مغنم قسم في الإسلام مغنم عبد الله بن جحش، وكان منهم رجل يمشي بين الناس مقنعا وهو من أهل الجنة عكاشة بن محصن الأسدي، وكان أول من بايع بيعة الرضوان أبو سنان عبد الله بن وهب فقال: يا رسول الله! ابسط يدك أبايعك، قال: "على ماذا؟ " قال: على ما في نفسك، قال: "وما في نفسي! " قال: فتح أو شهادة، قال: "نعم،" فبايعه، فجعل الناس يبايعون ويقولون: على بيعة أبي سنان، وكانوا سبعا من المهاجرين."كر، وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اشعری “
٣٨٠٠٨۔۔۔ یعلی بن اشدق عبداللہ بن جراد سے وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم روانہ کی جس میں قبیلہ ازد اور اشعری تھے تو یہ لوگ صحیح سلامت اور غنیمت لے کر لوٹے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس، قبیلہ ازد اور اشعری آئے ہیں جن کے چہرے اچھے اور منہ خوشبودار ہیں وہ نہ خیانت کرتے ہیں اور نہ بزدلی سے کام لیتے ہیں۔ (ابونعیم وقال ھذا وھم وصوابہ : عبداللہ بن جراد انہ قال بعث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سریۃ)
38008- عن يعلى بن الأشدق عن عبد الله بن جراد عن أبيه قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية فيها الأزد والأشعريون فغنموا وسلموا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أتتكم الأزد والأشعريون حسنة وجوههم، طيبة أفواههم، لا يغلون ولا يجبنون". "أبو نعيم وقال: هذا وهم، وصوابه: عبد الله بن جراد أنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” اشعری “
٣٨٠٠٩۔۔۔ (مسند انس) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس ایک قوم آئے گی جن کے دل نرم ہوں گے چنانچہ اشعری آئے اور ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) تھے تو وہ لوگ اشعار پڑھنے لگے : ہم کل، دوستوں سے ملیں گے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی جماعت سے ملیں گے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38009- "مسند أنس" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يقدم عليكم قوم هم أرق أفئدة،" فقدم الأشعريون وفيهم أبو موسى فجعلوا يرتجزون ويقولون:غدا نلقى الأحبه ... محمدا وحزبه."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنو سلمۃ “
٣٨٠١٠۔۔۔ جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : جدبن قیس، باوجود یہ کہ ان میں بخل کی صفت ہے اور بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہوگی ! بلکہ تمہارا سردار سفید رنگ والا بشر بن البراء ہے۔ (روا ہ ابونعیم)
38010- عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من سيدكم يا بني سلمة؟ " قالوا: جد بن قيس على بخل فيه، وأي داء أدوأ من البخل! بل سيدكم الأبيض بشر بن البراء." أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بیعت عقبہ والے “
٣٨٠١١۔۔۔ (مسند حذیفہ بن یمان) ابوطفیل سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) اور بیعت عقبہ والے کسی شخص کے درمیان کوئی رنجش ہوگئی، فرمایا : میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں بتاؤ کہ بیعت عقبہ والے کتنے افراد تھے ؟ تو ابوموسیٰ اشعری (رض) کہنے لگے : ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ افراد تھے، حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : میں بھی ان لوگوں میں تھا وہ پندرہ آدمی تھے، اور میں اللہ تعالیٰ کی گواہی دے کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جماعت ہیں دنیا میں بھی اور (آخرت میں) اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)

حضرت حذیفہ (رض) نے اپنے آپ کو، اور دو اور افراد کو شمار نہیں کیا۔
38011- "مسند حذيفة بن اليمان" عن أبي الطفيل قال: كان بين حذيفة وبين رجل من أهل العقبة بعض ما يكون بين الناس فقال: أنشدك الله كم كان أصحاب العقبة؟ فقال أبو موسى الأشعري: قد كنا نخبر أنهم أربعة عشر، فقال حذيفة: فإن كنت فيهم فقد عشر ، أشهد بالله أن اثنى عشر منهم حزب الله ورسوله في الحياة الدنيا ويوم يقوم الاشهاد (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنو امیہ “
٣٨٠١٢۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : یہ حکومت بنی امیہ میں رہے گی جب تک ان کے درمیان دو تیر نہ ٹکرائے، اور جب دو تیر ٹکرا گئے تو پھر قیامت تک ان سے نکل جائے گی۔ (رواہ ابونعیم)
38012- عن ابن عباس قال: لا يزال هذا الأمر في بني أمية ما لم يختلف بينهم رمحان فإذا اختلف رمحان بينهم خرجت منهم إلى يوم القيامة."نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنو امیہ “
٣٨٠١٣۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہر دین کے لیے ایک آفت ہے اور اس دین کی آفت بنی امیہ ہے۔ (نعیم ابن حماد فی الفتن)
38013- عن ابن مسعود قال: إن لكل دين آفة، وآفة هذا الدين بنو أمية."نعيم ابن حماد في الفتن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنو امیہ “
٣٨٠١٤۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی امیہ کو منبروں پر دیکھا تو آپ کو ناگوار گزرا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی بھیجی کہ انھیں تو دنیا ہی ملی ہے چنانچہ آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی، اور یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا وہ لوگوں کے لیے آزمائش ہے “۔ (ابن ابی حاتم وابن مردویہ، فی الدلائل، ابن عساکر)
38014- عن سعيد بن المسيب قال: رأى النبي صلى الله عليه وسلم بني أمية على منابرهم فساءه ذلك فأوحى الله إليه إنما دنيا أعطوها، فقرت عينه وهو قوله تعالى {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} . "ابن أبي حاتم وابن مردويه، في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنو اسامۃ “
٣٨٠١٥۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو اسامہ مجھ سے اور میں ان سے تعلق رکھتا ہوں، جیسا تم ان کے لیے مناسب سمجھو ان کی قدر دانی کرو اور انھیں فضیلت دو ۔ (دارقطنی فی الافراد)
38015- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بنو أسامة مني وأنا منهم، حسبما رأيتموهم فاعرفوا لهم حقهم وفضلوهم". "قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنی مدلج
٣٨٠١٦۔۔۔ خالد بن عبداللہ بن حرملہ مدلجی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان میں کھڑے ہوئے، تو ایک شخص کہنے لگا : کیا آپ کو بنی مدلج کی عقلمند عورتوں اور اونٹوں کے چمڑوں کی ضرورت ہے ؟ اور لوگوں میں بنی مدلج کا ایک شخص تھا جس نے آپ کے چہرے سے یہ بات جانچ لی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی قوم کا دفاع کرنے والا بہترین شخص وہ ہے جو دفاع میں گناہ کی حد تک نہ پہنچے۔ (طبرانی، ابونعیم)
38016- عن خالد بن عبد الله بن حرملة المدلجي قال: وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعسفان فقال رجل: هل لك في عقائل النساء وأدم الإبل من بني مدلج؟ وفي القوم رجل من بني مدلج فعرف ذلك في وجهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خير القوم المدافع عن قومه ما لم يأثم". "طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلم و غفار
٣٨٠١٧۔۔۔ (مسند خفاف بن ایماء الغفاری) ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی جب دوسری رکعت (کے رکوع) سے سر اٹھایا تو فرمایا : قبیلہ اسلم اللہ اسے محفوظ رکھے، قبیلہ غفار اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے، پھر (ہم سے) مخاطب ہو کر فرمانے لگے : یہ میں نے نہیں کہا لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38017- "مسند خفاف بن إيماء الغفاري " صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رفع رأسه من الركعة الآخرة قال: "أسلم سالمها الله! وغفار غفر الله لها! " ثم أقبل فقال: "لست أنا قلت هذا ولكن الله قاله". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلم و غفار
٣٨٠١٨۔۔۔ (مسند سلمۃ بن الاکوع) ایاس بن سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کے لوگ بیمار پڑگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیہات میں چلے جاؤ وہ عرض کرنے لگے : ہم واپس لوٹنا پسند نہیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ہمارے دیہاتی ہو اور ہم تمہارے شہری، تم جب ہمیں بلاؤ گے تو ہم تمہیں جواب دیں گے اور ہم جب تمہیں بلائیں گے تو تم جواب دوگے تم جہاں بھی رہو مہاجر ہو۔ (رواہ ابونعیم)
38018- "مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة بن الأكوع قال: أصاب أسلم وجع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أسلم ابدوا، قالوا: يا رسول الله! نكره أن نرتد ونرجع على أعقابنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنتم باديتنا ونحن حاضرتكم، إذا دعوتمونا أجبناكم، وإذا دعوناكم أجبتمونا، أنتم المهاجرون حيث كنتم." أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فارس
٣٨٠١٩۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب تم مشرق کی جانب سے سیاہ پرچم آتے دیکھو تو فارس کے ان لوگوں کی عزت کرو، کیونکہ ہماری حکومت ان کے ساتھ ہے۔ (ابونعیم، فیہ داؤد ابن عبدالجبار الکوفی متروک)
38019- عن ابن عباس قال: إذا رأيتم الرايات السود تجيء من قبل المشرق فأكرموا الفرس، فإن دولتنا معهم."نعيم، وفيه داود ابن عبد الجبار الكوفي متروك".
tahqiq

তাহকীক: