কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৮০৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ازدوبکربن وائل “
٣٨٠٢٠۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چارسومرد اور چار سو قبیلہ ازد کے گھرانے کے لوگ آئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ازدیوں کو خوش آمدید، جن کے چہرے سب لوگوں سے اچھے ان کے دل سب سے بہادر، اور امانت میں سب سے عظیم ہیں، تمہارا شعار یا مبرور ہے۔ (ابن عدی، ابن عساکر
جنگ میں مجاہدین جو (شارٹ کٹ) مختصر نام آپس میں استعمال کرتے ہیں اسے شعار کہا جاتاے یہ لوگ ” یامبرور “ استعمال کرتے تھے۔ (عامر تقی ندوی)
جنگ میں مجاہدین جو (شارٹ کٹ) مختصر نام آپس میں استعمال کرتے ہیں اسے شعار کہا جاتاے یہ لوگ ” یامبرور “ استعمال کرتے تھے۔ (عامر تقی ندوی)
38020- عن ابن عباس قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعمائة رجل وأربعمائة أهل بيت من الأزد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مرحبا بالأزد! أحسن الناس وجوها، وأشجعهم قلوبا، وأعظمهم أمانة، شعاركم يا مبرور". "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ازدوبکربن وائل “
٣٨٠٢١۔۔۔ (مسند عبدالرحمن بن معاویہ) ابوعمران محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن اپنے و الد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں اور انھیں شرف صحابیت حاصل ہے فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جماعت دیکھی جو آئی تھی فرمایا : قبیلہ ازد مسلمان ہوگیا، ان کے چہرے خوبصورت، منہ میٹھے، اور ملاقات کے زیادہ مخلص ہیں، اور گھوڑوں کا ایک ریوڑ آتے دیکھا، تو فرمایا یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے عرض : کیا قبیلہ بکر بن وائل ہے فرمایا : اے اللہ ! ان کے شکستوں کو جوڑ، اور ان کے منتشر لوگوں کو پناہ دے اور ان میں سے کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ بھیج۔ (رواہ الدیلمی)
38021- "مسند عبد الرحمن بن معاوية" عن أبي عمران محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده وكانت له صحبة قال نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عصابة قد أقبلت فقال: "أسلم الأزدأحسن الناس وجوها ، وأعذبه أفواها ، وأصدقه لقاء ، ونظر إلى كبكبة قد أقبلت فقال من هذه ؟ قالوا : هذه بكر بن وائل فقال : اللهم اجبر كسيرهم ، وآو طريدهم ، ولا ترد منهم سائلا (الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” مزینہ “
٣٨٠٢٢۔۔۔ سعد بن ابی الغاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا، فرمایا : کس (قبیلہ) کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی تو دوسرا جنازہ گزرا، فرمایا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا پھر تھوڑی دیر تشریف فرما ہوئے کہ تیسرا جنازہ گزرا، فرمایا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مزینہ کا، فرمایا : عنقریب قبیلہ مزینہ دیکھ لے گا کہ اس کے جن نوجوانوں نے ہجرت کی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت یافتہ تھے وہ جلد ختم ہوجائیں گے، مزینہ دیکھ لے گا کہ دجال کا زمانہ ان میں سے کوئی بھی نہیں پائے گا۔ (ابن عساکر وقال غریب جدا، لم اکتبہ الامن ھذا الوجہ)
مضر جن کا تعلق بنی عدنان سے تھا ان کے دو بیٹوں تھے، قیس اور الیاس، ان میں سے الیاس کی اولاد، خندف کے نام سے بھی مشہور تھی جو الیاس کی بیوی کا نام تھا، الیاس کی اولاد میں، طابخہ، مدرکہ اور قمعہ تھے طابخہ کی اولاد میں مزینہ، ضبہ اور تمیم تھے۔ (جزیرہ عرب عامر تقی ندوی)
” جہینۃ “
سبا کے دوبیٹے تھے کہلان اور حمیر اور حمیر کے چار بیٹے تھے شعبان، زید الجمہور، مسکاسک اور قضاعہ (تبابعہ) پھر قضاعہ کے چھ بیٹے تھے، (١) مہرہ، (٢) جرم، (٣) جہینہ، (٤) تنوخ، (٥) عذرہ، اور نہد۔ (حوالہ بالاعامر تقی ندوی)
مضر جن کا تعلق بنی عدنان سے تھا ان کے دو بیٹوں تھے، قیس اور الیاس، ان میں سے الیاس کی اولاد، خندف کے نام سے بھی مشہور تھی جو الیاس کی بیوی کا نام تھا، الیاس کی اولاد میں، طابخہ، مدرکہ اور قمعہ تھے طابخہ کی اولاد میں مزینہ، ضبہ اور تمیم تھے۔ (جزیرہ عرب عامر تقی ندوی)
” جہینۃ “
سبا کے دوبیٹے تھے کہلان اور حمیر اور حمیر کے چار بیٹے تھے شعبان، زید الجمہور، مسکاسک اور قضاعہ (تبابعہ) پھر قضاعہ کے چھ بیٹے تھے، (١) مہرہ، (٢) جرم، (٣) جہینہ، (٤) تنوخ، (٥) عذرہ، اور نہد۔ (حوالہ بالاعامر تقی ندوی)
38022- عن سعد بن أبي الغادية عن أبيه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم في جماعة من أصحابه جالسا إذ مرت به جنازة فقال: "ممن الجنازة؟ " فقالوا: من مزينة، فما جلس مليا حتى مرت به الثانية؟ فقال "ممن الثانية" فقالوا: من مزينة، فما جلس مليا حتى مرت به الثالثة فقال: "ممن الجنازة؟ " فقالوا: من مزينة، فقال "سترى مزينة ما هاجرت فتيان قط كرموا على الله إلا كان أسرعهم فناء! سترى مزينة لا يدرك الدجال منها أحد". "كر وقال: غريب جدا، لم أكتبه إلا من هذا الوجه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” مزینہ “
٣٨٠٢٣۔۔۔ مسند بشربن عرفطۃ بن خشخاش الجہنی انھیں بشیر بھی کہا جاتا ہے ان سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبائل کو اسلام کی دعوت دی، تو قبیلہ جہینہ اور ان کے پیروکارہزار کی تعداد میں آئے، انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ اور جنگوں میں حاضر رہے، تو بشر بن عرفطۃ نے اپنے اشعار میں کہا :
فتح کی صبح ہم نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس، لوگوں کے آگے ہزار کی تعداد میں پیش پیش تھے، ہم نے مردوں کی تعداد میں اضافہ کردیا، ہم نے اپنے سے پہلے ہزار کی تعداد میں مسلمان ہونے والے نہ پائے، یہ باعزت عرش والے کی نعمت ہے سو ہمارے رب نے ہمیں ہدایت دی اور ہم پر اپنا فضل و کرم کیا، ہم سخت زمین میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے (لڑتے ہوئے) ایسے لشکروں کو تلواروں سے مار رہے تھے جو سرکش اور زیادہ ظالم تھے، جب ہم ان تلواروں کو جنگ کے لیے سونت رہے تھے تو وہ نیاموں سے باہر تھیں یا ان سے خون ٹپک رہا تھا، حنین کے روز کی سختی میں ہم موجود تھے وہ دن موت لانے والا تاریک تھا، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد ہمیں ایسے لشکر لے کر چلے جنہوں نے صرف نشان زدہ چتکبرے گھوڑے پائے تھے۔ (ابن ابی الدنیا فی المغازی والحسن بن سفیان و یعقوب بن سفیان، والبغوی، وقال : اسنادہ مجھول، ابونعیم، خطیب فی المؤتلف، ابن عساکر )
فتح کی صبح ہم نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس، لوگوں کے آگے ہزار کی تعداد میں پیش پیش تھے، ہم نے مردوں کی تعداد میں اضافہ کردیا، ہم نے اپنے سے پہلے ہزار کی تعداد میں مسلمان ہونے والے نہ پائے، یہ باعزت عرش والے کی نعمت ہے سو ہمارے رب نے ہمیں ہدایت دی اور ہم پر اپنا فضل و کرم کیا، ہم سخت زمین میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے (لڑتے ہوئے) ایسے لشکروں کو تلواروں سے مار رہے تھے جو سرکش اور زیادہ ظالم تھے، جب ہم ان تلواروں کو جنگ کے لیے سونت رہے تھے تو وہ نیاموں سے باہر تھیں یا ان سے خون ٹپک رہا تھا، حنین کے روز کی سختی میں ہم موجود تھے وہ دن موت لانے والا تاریک تھا، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد ہمیں ایسے لشکر لے کر چلے جنہوں نے صرف نشان زدہ چتکبرے گھوڑے پائے تھے۔ (ابن ابی الدنیا فی المغازی والحسن بن سفیان و یعقوب بن سفیان، والبغوی، وقال : اسنادہ مجھول، ابونعیم، خطیب فی المؤتلف، ابن عساکر )
38023- "مسند بشر بن عرفطة بن الخشخاش الجهني ويقال بشير) * عن بشر بن عرفطة بن الخشخاش الجهني أنه لما دعا النبي صلى الله عليه وسلم القبائل إلى الاسلام جاءت جهينة في ألف منهم ومن تبعهم ، فأسلموا وحضروا مع النبي صلى الله عليه وسلم مغازي ووقائع ، فقال بشر بن عرفطة في شعر له : ونحن غداة الفتح عن محمد طلعنا أمام الناس ألفا مقدما وزدنا فضولا من رجال ولم نجد من الناس ألفا قبلنا كان مسلما بنعمة ذي العرش المجيد وربنا هدانا لتقواه ومن فأنعما نضارب بالبطحاء دون محمد كتائبهم كانوا أعق وأظلما إذا ما استللناهن يوما لوقعة فلسن بمغمودات أو ترعف الدما ويوم حنين قد شهدنا هياجه وقد كان يوما ناقع الموت مظلما سرايا بنا حول النبي محمد ولم يجدوا إلا كميتا مسوما (ابن أبي الدنيا في المغازي والحسن بن سفيان ويعقوب بن سفيان والبغوي ، وقال : إسناده مجهول ، وأبو نعيم ، خط في المؤتلف ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” مزینہ “
٣٨٠٢٤۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ سب سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہینہ نے قبیلوں کو جمع کیا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38024 عن الشعبي قال : أول من ألف بين القبائل مع النبي صلى الله عليه وسلم جهينة (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” بنی عامر “
٣٨٠٢٥۔۔۔ (مسند ابی جحیفۃ) ہم بطحاء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سرخ خیمہ میں آپ کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے عرض کیا : بنی عامر (کے لوگ ہیں) فرمایا : خوش آمدید ! تم میرے لوگ ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38025- "مسند أبي جحيفة" أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأبطح في قبة له حمراء فقال: "من أنتم؟ " قلنا: بنو عامر، قال: "مرحبا! أنتم مني". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حمیر “
٣٨٠٢٦۔۔۔ عمروبن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے کسی کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر فرمایا : آج مجھ سے جو بھی اپنے نسب کے بارے میں پوچھے گا میں اسے اس کے نسب والوں کے ساتھ ملادوں گا۔ توہم لوگ دیکھتے ہوئے گردنیں بلند کرنے لگے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : عمروبن مرہ ہوسکتا ہے یہاں سے ایک قوم آئی جن سے تم ہو، تو جب بھی کوئی آتا تو میں ان کی طرف لپکنے کی کوشش کرتا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دویاتین بار فرمایا : وہ نہیں ہیں۔ پھر میری قوم سامنے ہوئی، تو آپ نے فرمایا : وہ یہی ہیں، میں ان کی طرف لپکا، میں نے کہا : یہ قوم کس (جد) سے ہے ؟ انھوں نے کہا : حمیر تو عمروبن مرہ اس پر قائم رہے۔ (رواہ ابن عساکر)
نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے، حام، سام، اور یافث تھے، سام سے آرام اور ارفخشد پیدا ہوئے ان سے ابراہیم اور قحطان پیدا ہوئے، قحطان سے سبا اور سبا سے کہلان اور حمیر پیدا ہوئے۔ (عامر تقی ندوی)
” قضاعہ “
(حمیر کے چار بیٹے تھے، شعبان، قضاعہ (بتابعہ) زید الجمہور اور سکاسک۔
نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے، حام، سام، اور یافث تھے، سام سے آرام اور ارفخشد پیدا ہوئے ان سے ابراہیم اور قحطان پیدا ہوئے، قحطان سے سبا اور سبا سے کہلان اور حمیر پیدا ہوئے۔ (عامر تقی ندوی)
” قضاعہ “
(حمیر کے چار بیٹے تھے، شعبان، قضاعہ (بتابعہ) زید الجمہور اور سکاسک۔
38026- عن عمرو بن مرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم وهو مستند إلى جذع من جذوع نخل خيبر: "لا يسألني اليوم أحد عن نسبه إلا ألحقته بأهله! " فجعلنا نتطاول فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يوشك يا عمرو بن مرة أن يطلع من ههنا - وأشار بيده - قوم أنت منهم،" فجعلت كلما طلع أحد أريد أن أثب إليه فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليسوا بهم" - مرتين أو ثلاثا، ثم طلع قومي فقال: "هم هؤلاء،" فقمت إليهم فقلت: ممن القوم؟ قالوا: من حمير، فأقام عمرو على ذلك."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” حمیر “
٣٨٠٢٧۔۔۔ عمروبن مرۃ جہنی سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں کوئی معد سے ہو تو کھڑا ہوجائے، میں اٹھا تو فرمایا : بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، میں نے عرض کیا : ہم کس (جد) سے ہیں ؟ فرمایا : تم مشہور نسب قضاعہ بن مالک بن حمیر سے ہو جو لوگوں میں اجنبی نہیں۔ (الشاشی، ابن عساکر وسندہ خسن)
38027- عن عمرو بن مرة الجهني قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم جالسا فقال : من كان ههنا من معد فليقم ، فقمت ، فقال : اجلس ، فجلست ، فقلت : ممن نحن ، فقال : أنتم ولد قضاعة بن مالك بن حمير النسب المعروف غير المنكر (الشاشي ، كر ، وسنده حسن).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٢٨۔۔۔ عمروبن عبسۃ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکون، سکاسک مدینہ کے بالائی حصہ کے آس پاس کے لوگوں، اور ردمان کے بادشاہوں کے لیے دعا کی۔(ابن عساکر، ابویعلی)
38028- عن عمرو بن عبسة قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على السكون والسكاسك وعلى حولان العالية - وفي لفظ: الغالية - وعلى الملوك ملوك ردمان. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٢٩۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی بکرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اقرع بن حابس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگے : آپ کے ہاتھ پر قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینۃ کے ان لوگوں نے بیعت کی ہے جو حاجیوں کی چوریاں کیا کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بتاؤبھلا اگر قبیلہ اسلم غفار اور جہینۃ، بنی تمیم بنی عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوجائیں تو پھر نقصان اور خسارہ اٹھائیں گے، وہ کہنے لگے جی نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ ان سے بہت بہتر ہے۔ (ابن ابی شیبہ)
38029- عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه أن الأقرع بن حابس جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنما بايعك سراق الحجيج من أسلم وغفار ومزينة وجهينة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أرأيت إن كان أسلم وغفار وجهنة خيرا من بني تميم ومن بني عامر واسد وغطفان أخابوا وخسروا" قال: نعم، قال: "فوالذي نفسي بيده! إنهم لأخير منهم". "ش
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٣٠۔۔۔ (اسی طرح) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بتاؤ اگر جہینۃ، اسلم اور غفار، بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن عظفان اور بنی عامر بن صعصعۃ سے اچھے ہوں، آپ نے آواز بلند کی۔ لوگوں نے کہا : وہ نقصان اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا : یقیناً وہ بنی تمیم بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعۃ سے بہتر ہیں۔ (ابن ابی شیبہ، مسند احمد، بخاری، مسلم
38030- "أيضا" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أرأيتم إن كان جهينة وأسلم وغفار خيرا من بني تميم ومن بني أسد ومن بني عبد الله بن غطفان ومن بني عامر بن صعصعة" - ومدبها صوته! قالوا: يا رسول الله! وقد خابوا وخسروا، قال: "فإنهم خير من بني تميم ومن بني أسد ومن بني عبد الله بن غطفان ومن بني عامر بن صعصعة". "ش، حم، خ، م"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٣١۔۔۔ (مسند ابوہریرہ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبائل کا ذکر ہوا، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ھوازن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : پھول ہے جو انتہائی سرخ ہوتا ہے، لوگوں نے عرض کیا : بنی عامر کے بارے کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمیم سے بھلائی کا ارادہ کیا ہے، وہ ثابت قدم، بڑی کھوپڑیوں والے عقل سے بھرے ہوئے، زمین پر پھیلے ہوئے سرخ پہاڑ کی مانند ہیں۔ لوگوں میں سے جس نے ان کا قصد کیا انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، آخری زمانہ میں دجال کے لیے سب سے سخت ہوں گے۔ (الرامھر مزی فی الامثال ورجالہ ثقات)
38031- "مسند أبي هريرة" ذكرت القبائل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! ما تقول في هوزان؟ "زهرة تينع"، قالوا: فما تقول في بني عامر؟ قال: "جمل أزهر يأكل من أطراف الشجر"، قالوا: فما تقول في تميم؟ قال: "يأبى الله لتميم إلا خيرا، ثبت الأقدام، عظام الهام، رجح الأحلام، هضبة حمراء، لا يضرها من ناواها، أشد الناس على الدجال آخر الزمان". "الرامهرمزي في الأمثال، ورجاله ثقات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٣٢۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : خلافت قریش میں، قضاء و فیصلہ انصار میں، اذان حبشہ میں، سختی قضاعہ میں اور جلدی یمینوں میں اور امانت دارازدیوں میں ہے۔ (رواہ ابن جریر)
38032- عن أبي هريرة قال: الخلافة في قريش، والقضاء في الأنصار، والأذان في الحبشة، والجفاء في قضاعة، والسرعة في أهل اليمن، والأمانة في الأزد."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملے جلے قبائل
٣٨٠٣٣۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، عرب کی ایک جماعت آپس میں فخر کررہی تھی، مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اندر آنے کی اجازت دی، میں اندر آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابودرداء ! یہ شور کیسا ہے ؟ جو میں سن رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا : یہ کچھ عرب ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحن میں فخر کررہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابودرداء جب فخر کروتو قریش پر کرو، اور تعداد میں تمیم پر، اور لڑائی میں قیس پر فخر کرنا، آگاہ رہنا، ان کے چہرے کنانہ، ان کی زبانیں اسد، اور ان کے گھڑ سوار قیس ہیں، ابودرداء ! اللہ تعالیٰ کے بہت سے گھڑ سوار آسمانوں میں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور (اس کے) بہت سے گھڑ سوار اس کی زمین میں ہیں جن سے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ ” قیس “ ہے، ابودرداء ! آخری شخص جو دین کا دفاع کرے گا جب کہ دین کا صرف نام اور قرآن کے صرف حروف رہ جائیں گے وقیس کا ہوگا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قیس میں سے کس قبیلہ سے ہوگا، فرمایا : سلیم سے۔ (ابن عساکر وقال : غریب جدا، ابن ابی شیبہ)
38033- عن أبي الدرداء قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فإذا جماعة من العرب يتفاخرون، فأذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخلت، فقال لي: "يا أبا الدرداء! ما هذا اللجب1 الذي أسمع؟ " قلت: هذه العرب تفتخر بفناء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "يا أبا الدرداء! إذا فاخرت ففاخر بقريش، وإذا كاثرت فكاثر بتميم، وإذا حاربت فحارب بقيس، ألا! وإن وجوهها كنانة، ولسانها أسد، وفرسانها قيس، يا أبا الدرداء! كان لله فرسانا في سمائه يقاتل بهم أعداءه وهم الملائكة وفرسانا في ارضه وهم قيس يقاتل بهم أعداءه، يا أبا الدرداء! إن آخر من يقاتل عن الدين حين لا يبقى إلا ذكره ومن القرآن إلا رسمه لرجل من قيس! قلت: يا رسول الله! ممن هو من قيس؟ قال: من سليم". "كر وقال: غريب جدا، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٤۔۔۔ موسیٰ بن عیسیٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب مکہ آتے ارکان ادا کرچکنے کے بعد فرماتے : (مکہ ! ) تو ٹھہرنے اور قیام کا گھر نہیں ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
38034- عن موسى بن عيسى قال: كان عمر بن الخطاب إذا أتى مكة فقضى نسكه قال: لست بدار مكث ولا إقامة."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٥۔۔۔ طلق بن حبیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مکہ والو ! اللہ تعالیٰ کے حرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! جانتے ہو اس شہر میں کون رہتا تھا ؟ اس میں فلاں کے بیٹے رہتے تھے تو انھوں نے اس کے حرم کو حلال کرلیا تو وہ ہلاک کردئیے گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا عرب کے قبائل کا ذکر کیا، پھر فرمایا : میں کسی گناہ کی جگہ دس برائیاں کروں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ یہاں حرم میں ایک گناہ بھی کروں۔ (ابن ابی شیبہ، ابن حبان)
38035- عن طلق بن حبيب قال: قال عمر: يا أهل مكة! اتقوا الله في حرم الله، أتدرون من كان ساكن هذا البلد؟ كان به بنو فلان فأحلوا حرمه فأهلكوا حتى ذكر ما شاء الله من قبائل العرب ثم قال: لأن أعمل عشر خطايا بركبة1 أحب إلي من أعمل ههنا خطيئة واحدة."ش، حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٦۔۔۔ خثیم سے روایت ہے کہ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور آپ مروۃ میں لوگوں میں جائیداد تقسیم کررہے تھے، عرض کرنے لگے : امیر المومنین ! میرے اور میری اولاد کے لیے ایک جگہ مخصوص کردیں، فرماتے ہیں : حضرت عمر نے ان سے چہرہ پھیرلیا اور فرمایا : یہ اللہ کا حرم ہے یہاں کا مجاور اور باہر سے آنے والا برابر ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
38036- عن خيثم أنه جاء عمر بن الخطاب وهو يقطع الناس عند المروة فقال: يا أمير المؤمنين! أقطعني مكانا لي ولعقبي، قال فأعرض عنه عمر وقال: هو حرم الله سواء العاكف2 فيه والباد3 "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٧۔۔۔ (اسی طرح) حضرت (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں کسی جگہ ستر گناہ کروں یہ مجھے مکہ میں ایک غلطی کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
38037- "أيضا" عن عمر قال: لأن أخطئ سبعين خطيئة بركبة أحب إلي من أن أخطئ خطيئة واحدة بمكة."الأزرق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٨۔۔۔ (اسی طرح) ابن الزبیر سے روایت ہے فرمایا : میں نے عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : مسجد حرام کی نماز دوسری مسجدوں میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلہ میں ہزار درجہ افضل ہے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد کیونکہ اس کی، اس کے مقابلہ میں سودرجہ فضیلت ہے۔ (سفیان بن عیینہ فی جامعہ)
38038- "أيضا" عن ابن الزبير قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: صلاة في المسجد الحرام أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإنما فضله عليه بمائة صلاة."سفيان بن عيينة في جامعه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٣٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے زمین میں اللہ کی سب سے محبوب جگہ کا علم ہے اور وہ بیت اللہ اور اس کا اردگرد (یعنی حرم) ہے۔ (الفاکھی)
38039- عن علي قال: إني لأعلم أحب بقعة في الأرض إلى الله وهي البيت وما حوله."الفاكهي".
তাহকীক: