কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৮০৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٠۔۔۔ عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام مخزومی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حج کے دوران دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری کو روک کر ٹھہرے ہوئے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے

تھے : اللہ کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے۔ (ابن سعد، ابن عساکر)
38040- عن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام المخزومي عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته وهو واقف على راحلته وهو يقول: "والله! إنك لخير أرض الله". "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤١۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمارے صاع اور مد میں برکت عطا فرما، ہمارے دائیں بائیں اور ہمارے حجاز میں برکت عطا فرما، تو آپ کے سامنے ایک شخص کھڑے ہو کر کہنے لگا : اللہ کے رسول ! ہمارے عراق میں، آپ نے اس کی طرف کوئی التفات نہیں کیا، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے اسی طرح کی دعا کی،تو وہی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! ہمارے عراق ! تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا، وہ شخص روتا ہوا چل دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا اور فرمایا ! کیا تم عراقی ہو ؟ وہ عرض کرنے لگا : جی ہاں ! فرمایا : میرے والد ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے خلاف بددعا کرنا چاہی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ایسا نہ کریں، کیونکہ میں نے ان لوگوں میں اپنے علم کے خزانے رکھے اور ان کے دلوں میں رحمت کو بسادیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
38041- عن معاذ بن جبل قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم! بارك لنا في صاعنا ومدنا، وفي شامنا وفي يمننا وفي حجازنا"، فقام إليه رجل فقال: يا رسول الله! وفي عراقنا! فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فلما كان في اليوم الثاني قال مثل ذلك فقام إليه الرجل فقال: يا رسول الله! وفي عراقنا! فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فلما كان في اليوم الثالث قام إليه الرجل فقال: يا رسول الله! وفي عراقنا! فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فولى الرجل وهو يبكي، فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "أمن العراق أنت؟ " قال: نعم، قال: إن أبي إبراهيم عليه السلام هم أن يدعو عليهم، فأوحى الله إليه: لا تفعل، فإني جعلت خزائن علمي فيهم، وأسكنت الرحمة قلوبهم". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٢۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سب سے پہلے کون سی مسجد زمین میں بنائی گئی ؟ فرمایا : مسجد حرام، میں نے عرض کیا : پھر کون سی ؟ فرمایا : مسجد اقصیٰ ، میں نے عرض کیا ان کے دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے ؟ فرمایا چالیس سال، فرمایا : پھر جہاں تمہیں نماز کا وقت ہوجائے تو وہیں پڑھ لینا وہی مسجد ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38042- عن أبي ذر قلت: يا رسول الله! أي مسجد وضع في الأرض أول؟ قال: "المسجد الحرام،" قلت: ثم أي؟ قال: "المسجد الأقصى،" قلت: كم بينهما؟ قال: "أربعون سنة،" قال: "ثم حيثما أدركتك الصلاة فصل فهو مسجد". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ (مکہ) حرم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس روز سے حرمت عطا فرمائی جس دن آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا، اور یہ دو پہاڑ رکھ دئیے، یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا، اور میرے لیے صرف دن کی گھڑی بھر حلال ہوا، نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں، نہ اس کے شکار کو بدکایا جائے، اور نہ حلال کے لیے اس کی گھاس کاٹی جائے اور نہ گری پڑی چیز کوئی اٹھائے ہاں جو اعلان کرنے والا ہو، حضرت عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کے رسول ! مکہ والے اذخر گھاس کے بغیر گزارا نہیں کرسکتے، جو ان کے لوہاروں اور ان کے گھروں کے کام آتی ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں سوائے اذخر کے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38043- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هذه حرام - يعني مكة - حرمها الله يوم خلق السماوات والأرض ووضع هذين الأخشبين، لم تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي ولم تحل لي إلا ساعة من النهار، لا يعضد شوكها، ولا ينفر صيدها ولا يختلى خلاها، ولا ترفع لقطتها إلا لمنشد"، فقال العباس: يا رسول الله! إن أهل مكة لا صبر لهم عن الإذخر لقينهم وأبياتهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إلا الإذخر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٤۔۔۔ ابوجعفر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب پہلے آتے تو مقام ابطح میں اترتے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38044- عن أبي جعفر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينزل بالأبطح أول ما يقدم."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : لوگوں میں دو وادیاں بہترین ہیں، ایک مکہ کی اور دوسری ہندوستان کی وادی جس میں آدم (علیہ السلام) اترے جہاں سے خوشبو لائی جاتی ہے جو خوشبو تم لگاتے ہو، اور لوگوں میں دو وادیاں بری ہیں، احقاف کی وادی اور حضر موت کی وادی جسے برھوت بھی کہتے ہیں اور لوگوں کے لیے بہترین کنواں زمزم کا ے اور برا کنواں، برھوت کا ہے وہیں کفار کی ارواح جمع ہوتی ہیں۔ (الازرقی وابن ابی حاتم)
38045- عن علي قال: خير واديين في الناس وادي بكة وواد بالهند الذي هبط به آدم ومنه يؤتى بالطيب الذي تطيبون به، وشر واديين في الناس واد بالأحقاف وواد بحضرموت يقال له "برهوت"، وخير بئر في الناس بئر زمزم، وشر بئر في الأرض بئر برهوت وإليها يجتمع أرواح الكفار."الأزرقي وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مکہ والو ! اپنے گھروں کو دروازے نہ بناؤ تاکہ باہر سے آنے والا جہاں چاہے اتر پڑے۔ (مسددوابن زنجویہ فی الاموال)
38046- عن عمر قال: يا أهل مكة! لا تتخذوا دوركم أبوابا لينزل البادي حيث يشاء."مسدد وابن زنجويه في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ۔۔۔ جگہوں کے فضائل مکہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمائے
٣٨٠٤٧۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حاجیوں کے سامنے مکہ کے گھروں کو بند کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ وہ جس گھر کو فارغ پاتے ہیں اس کے بارے میں متردہوتے ہیں۔ (ابوعبید وابن زنجویہ وعبد بن حمید)
38047- عن ابن عمر أن عمر نهى أن تغلق دور مكة دون الحاج، فإنهم يضطربون فيما وجدوا منها فارغا."أبو عبيد وابن زنجويه وعبد بن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٤٨۔۔۔ (مسند الصدیق) حضرت ابو ہریرہ حضرت صدیق اکبر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمان دیا کہ اس سال کے بعد کوئی قریشی بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرے اور نہ اس سال کے بعد کوئی مشرک طواف کرنے پائے۔ (وسنہ فی الایمان)
38048- "مسند الصديق" عن أبي هريرة عن أبي بكر الصديق قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا يطوف بالبيت قرشي بعد هذا العام عريانا ولا بعد هذا العام مشرك." رسته في الإيمان"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٤٩۔۔۔ عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حج کے ایام میں مکہ میں کھڑے ہو کر فرمایا : یمن والو ! دوظلمتوں سے پہلے ہجرت کرلو ایک حبشی جو نکل کر میری اس جگہ تک پہنچ جائیں گے۔ (نعیم بن حماد)
38049- عن عبد الرحمن بن جبير قال: قام عمر بن الخطاب بمكة في الحج فقال: يا أهل اليمن! هاجروا قبل الظلمتين إحداهما الحبشة يخرجوا حتى يبلغوا مقامي هذا."نعيم بن حماد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٠۔۔۔ عمروبن دینار اور عبید اللہ بن ابی یزید لیثی سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بیت اللہ کے آس پاس کوئی دیوار نہیں تھی، لوگ بیت اللہ کے اردگرد نمازیں پڑھتے، پھر جب حضرت عمر (رض) کا زمانہ خلافت ہوا آپ نے اس کے آس پاس دیوار بنادی، عبید اللہ فرماتے ہیں : اس کی دیوار چھوٹی تھی، جسے عبداللہ بن زبیر (رض) نے بنایا : (بخاری)

فاکہی فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صدیق اکبر عمر (رض) کے دور میں مسجد حرام گھروں سے گھری ہوئی تھی جب لوگوں کے لیے تنگی ہوئی تو حضرت عمر نے اسے وسیع کردیا اور اس کے اردگرد معمولی لمبائی کی دیوار بنادی، دیواروں پر چراغ رکھے جاتے، پھر حضرت عثمان (رض) نے اور وسعت کردی، پھر حضرت عبداللہ بن زبیر نے وسعت کی، اس کے بعد ابوجعفر منصور اور پھر اس کے بیٹے مہدی نے وسعت کی۔ (علی تھانوی)
38050- عن عمرو بن دينار وعبيد الله بن أبي يزيد الليثي قالا: لم يكن على عهد النبي صلى الله عليه وسلم حول البيت حائط كانوا يصلون حول البيت حتى كان عمر فبنى حوله حائطا قال عبيد الله: جدره قصير فبناه ابن الزبير."خ"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے پر خطبہ دیا فرمایا : جو بھی اس گھر کے پاس آئے اور اسے صرف نماز کے لیے اٹھنا پڑے، یہاں تک کہ وہ حجر اسود کا استلام کرلے تو اس کے سابقہ گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38051- عن عمر أنه خطب عند باب الكعبة فقال: ما من أحد يجيء إلى هذا البيت لا ينهزه غير صلاته حتى يستلم الحجر إلا كفر عنه ما كان قبل ذلك."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٢۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کہ میں نے ارادہ کیا کہ کعبہ میں ہر زرد سفید چیز تقسیم کردوں، تو مجھ سے ابی بن کعب نے کہا : آپ کے لیے ایسا کرنا ٹھیک نہیں، میں نے کہا کیوں ؟ تو وہ بولے : کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مال کی جگہ بیان کردی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے برقرار رکھا۔ تو حضرت عمر (رض) فرماتے لگے : تم نے سچ کہا۔ (عبدالرزاق والازرقی فی اخبار مکۃ)
38052- عن الحسن أن عمر بن الخطاب قال: لقد هممت أن لا أدع في الكعبة صفراء ولا بيضاء إلا قسمتها، فقال له أبي بن كعب: والله ما ذاك لك! فقال عمر: لم؟ قال: إن الله قد بين موضع كل مال وأقره رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: صدقت."عب والأزرق في أخبار مكة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٣۔۔۔ ابو الجیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہر سال بیت اللہ کا غلاف اترواتے اور اسے حاجیوں میں تقسیم کردیتے۔ (الازرق، عبدالرزاق)
38053- عن أبي نجيح عن أبيه أن عمر بن الخطاب كان ينزع كسوة البيت في كل سنة فيقسمها على الحاج."الأزرق، عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٤۔۔۔ ابن المسیب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جب وہ بیت اللہ کو دیکھتے فرماتے سنا : اے اللہ ! تو سلامتی دینے والا ہے تیری طرف سے سلامتی ہے تجھ تک سلامتی ہے اے ہمارے رب ! ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ۔ (ابن سعد ابن ابی شیبہ، الازرقی، بیھقی)
38054- عن ابن المسيب قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول حين رأى البيت: اللهم! أنت السلام ومنك السلام وإليك السلام فحينا ربنا بالسلام."ابن سعد، ش والأزرقي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٥۔۔۔ عبدالعزیز بن ابی داؤد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے : اے قریش کی جماعت ! سبزہ زاروں سے مل جاؤ وہ تمہارے دودھ کو زیادہ بڑھانے اور تمہارے بوجھوں کو بہت کم کرنے کا باعث ہے۔ اور فرماتے : میں مکہ میں کوئی غلطی کروں وہ مجھے ان ستر غلطیوں سے جو مکہ سے باہر کروں زیادہ گراں بار لگتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
38055- عن عبد العزيز بن أبي داود أن عمر بن الخطاب كان يقول: يا معشر قريش! الحقوا بالأرياف فهو أعظم لأخطاركم وأقل لأوزاركم. وكان يقول: الخطيئة أصيبها بمكة أعز علي من سبعين خطيئة أصيبها بركبة."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٦۔۔۔ حسن سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب نے کعبہ کا ذکر کرکے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ تو صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے زندوں کے لیے بطور قبلہ نصب فرمایا ہے اور ہمارے مردے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ (المروزی فی الجنائز)
38056- عن الحسن قال: ذكر عمر بن الخطاب الكعبة فقال: والله! ما هي إلا حجار نصبها الله قبلة لأحيائنا وتوجه إليه موتانا."المروزي في الجنائز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو شخص اس گھر (بیت اللہ) کی طرف گیا، اور صرف اس کے پاس نماز اور حجراسود کے استلام (چومنے ) کے لیے اٹھا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ مٹادے گا۔ (رواہ عبدالرزاق)
38057- عن عمر قال: من خرج إلى هذا البيت لم ينهزه إلا الصلاة عنده واستلام الحجر كفر عنه ما قبل ذلك."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : سب لوگوں کے چلے جانے کے بعد صرف تین دن (مکہ) قیام کرو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38058- عن عمر قال: لا تقيموا بعد النفر إلا ثلاثا."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٥٩۔۔۔ (اسی طرح) مالک بن دینار سے روایت ہے فرمایا : سب سے پہلے بصرہ میں جس نے ایک گھرسجایا وہ خضیراء مجاشع بن مسعود السلمی کی بیوی تھی، حضرت عمر (رض) نے اس کے خاوند کو لکھا : مجھے پتہ چلا ہے کہ خضیراء نے کعبہ کی طرح ایک گھر سجایا ہے میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جیسے ہی تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے اور تم وہاں موجود ہو تو اس گھر کی توہین کرنا، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
38059- "أيضا" عن مالك بن دينار قال: أول من نجد بيتا بالبصرة الخضيراء امرأة مجاشع بن مسعود السلمي، فكتب عمر بن الخطاب إلى زوجها بلغني أن الخضيراء نجدت بيتا كما تنجد الكعبة فأقسم عليك إذا جاءك كتابي هذا لما قمت فهتكته! ففعل."هب".
tahqiq

তাহকীক: