কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৮০৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٠۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو اطلاع ملی کہ بصرہ میں ایک عورت ہے جسے خضیراء کہا جاتا ہے اس نے ایک گھر آراستہ کیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا : حمد وصلاۃ کے بعد ! مجھے اطلاع ملی ہے کہ خضیراء نے ایک گھر سجایا ہے جب تم ہیں میرا یہ خط ملے تو اس کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ اس کی توہین کرے چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ (عبدالرزاق، بیھقی)
38060- عن الحسن قال: بلغ عمر أن امرأة بالبصرة يقال لها الخضيراء نجدت بيتا، فكتب عمر إلى أبي موسى الأشعري: أما بعد فإنه بلغني أن الخضيراء نجدت بيتها، فإذا جاءك كتابي هذا فاهتكه هتكه الله! ففعل."عب، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦١۔۔۔ نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خبر ملی کہ عبداللہ بن عمر کی بیوی صفیہ (رض) نے اپنے کمروں کو منقش کپڑوں وغیرہ سے ڈھانپ رکھا ہے، حضرت عمر (رض) نے اسے پھاڑنا چاہا، ان لوگوں کو پتہ چلا تو انھوں نے وہ کپڑے اتارلئے، جب حضرت عمر تشریف لائے تو کچھ بھی نہ پایا، فرمانے لگے : لوگوں کو ہمارے پاس جھوٹی خبریں لانے کو پتہ چلا تو انھوں نے وہ کپڑے اتار لئے، جب حضرت عمر تشریف لائے تو کچھ بھی نہ پایا، فرمانے لگے : لوگوں کو ہمارے پاس جھوٹی خبریں لانے سے کیا ملتا ہے ؟ عبدالرزاق، بیھقی)
38061- عن نافع قال: بلغ عمر أن صفية امرأة عبد الله بن عمر سترت بيوتها بقرام2 أو غيره، فذهب عمر وهو يريد أن يهتكه، فبلغهم فنزعوه، فلما جاء عمر لم يجد شيئا فقال: ما بال أقوام يأتوننا بالكذب."عب، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٢۔۔۔ مسند عمر ابن جریج سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) بیت اللہ پر قبطی غلاف چڑھاتے تھے۔ (الجندی فی فضائل مکۃ)
38062- "مسند عمر" عن ابن جريج قال: بلغني أن عمر بن الخطاب كان يكسو البيت القباطي."الجندي في فضائل مكة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے قریش سے فرمایا : کہ تم سے پہلے اس گھر کے ذمہ دار عمالقہ تھے تو انھوں نے اس کے بارے میں سستی کی اور اس کی عظمت نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا، پھر ان کے بعد جرھم اس کے ذمہ دار بنے تو انھوں نے بھی کسلمندی سے کام لیا اور اس کی عظمت نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی ہلاک کردیا، سو تم نہ سستی کرنا اور نہ اس کی بےحرمتی کرنا۔ (الازرقی وابن خزیمۃ بیھقی فی الدلائل)
38063- عن عمر أنه قال لقريش: إنه كان ولاة هذا البيت قبلكم العمالقة فتهاونوا به ولم يعظموا حرمته فأهلكهم الله، ثم وليه بعدهم جرهم فتهاونوا به ولم يعظموا حرمته فأهلكهم الله، فلا تهاونوا به وعظموا حرمته."الأزرقي وابن خزيمة، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٤۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے فرمایا : کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ حضرت عمر (رض) مکہ میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے : اے قریش کی جماعت ! اس گھر کے تم سے پہلے کچھ لوگ ذمہ دار ہوئے پھر جرھم کے افراد اس کے ذمہ دار ہوئے تو انھوں نے اس کے رب کی نافرمانی کی، اور اس کے حق کی ناقدری کی، اور اس کی حرمت کو حلال کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا، پھر تم لوگ قریش کی جماعت ! اس کے ذمہ دار ہوئے، سو تم اس کے رب کی نافرمانی نہ کرنا، اور نہ اس کی حق تلفی کرنا اور نہ اس کی حرمت کو حلال سمجھنا، اس میں ایک نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں دوسری سوجگہوں کی نماز سے افضل ہے اور جان لو ! کہ اس میں گناہوں کی بھی یہی مقدار ہے۔ (ابن ابی عروبۃ)
38064- عن قتادة قال: ذكر لنا أن عمر بن الخطاب قام بمكة فقال: يا معشر قريش! إن هذا البيت قد وليه ناس قبلكم، ثم وليه ناس من جرهم فعصوا ربه، واستخفوا بحقه، واستحلوا حرمته، فأهلكهم الله، ثم قد وليتم معاشر قريش! فلا تعصوا ربه، ولا تستخفوا بحقه، ولا تستحلوا حرمته، إن صلاة فيه عند الله خير من مائة بركة، وأعلموا أن المعاصي فيه على قدر ذلك."ابن أبي عروبة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٥۔۔۔ (اسی طرح) ابوالجحیح سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بیت مال سے کعبہ پہ کتان کے سفید باریک کپڑے کا غلاف چڑھایا، آپ اس کے بارے میں مصر لکھتے تو وہاں یہ کپڑے تیار کئے جاتے، پھر حضرت عثمان (رض) نے آپ کے بعد (بھی یہی طریقہ جاری رکھا) پھر جب امیر معاویہ بن ابی سفیان (رض) کا دور آیا تو آپ نے دوغلاف چڑھائے، ایک قبطی کپڑا حضرت عمر (رض) والا، اور ریشم کا کپڑا، چنانچہ ریشم کا غلاف دس محرم کے روز چڑھایا جاتا اور کتان کا باریک سفید قبطی غلاف رمضان کے آخر میں چڑھایا جاتا۔ (الازرقی)
38065- "أيضا" عن أبي نجيح أن عمر بن الخطاب كسا الكعبة القباطي1 من بيت المال وكان يكتب فيها إلى مصر فتخاط له هناك، ثم عثمان من بعده، فلما كان معاوية بن أبي سفيان كساها كسوتين: كسوة عمر القباطي، وكسوة الديباج، فكانت تكسى الديباج يوم عاشوراء، وتكسى القباطي في آخر شهر رمضان."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب جرھم کے بعد بیت اللہ منہدم ہوگیا تو قریش نے اس کی تعمیر کی، پھر جب انھوں نے حجراسود رکھنے کا ارادہ کیا تو اس کے رکھنے میں ان کا جھگڑا ہوگیا کہ اسے کون رکھے، اس کے بعد اس پر اتفاق ہوگیا کہ جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہوگا (وہی حجر اسود رکھے گا) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب بنی شیبہ سے داخل ہوئے، آپ نے ایک کپڑا منگوایا اور اپنے ہاتھ سے اس میں حجر اسود رکھا ، اور ہر قبیلہ کے سردار سے فرمایا کہ وہ کپڑے کے کنارے کو پکڑ کر اوپر اٹھائے پھر آپ نے دیوار میں وہ پتھر رکھ دیا۔ (حاکم، الدورقی)
38066- عن علي قال: لما انهدم البيت بعد جرهم فبنته قريش، فلما أرادوا وضع الحجر تشاجروا من يضعه، فاتفقوا أنه يضعه أول من يدخل من هذا الباب، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم من باب بني شيبة، فأمر بثوب فوضع فأخذ الحجر فوضعه في وسطه، وأمر كل فخذ أن يأخذوا بطائفة من الثوب فيرفعوه، وأخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه."ك والدورقي"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ارمینیہ سے متوجہ ہوئے آپ کے ساتھ سکینہ تھی جو بیت اللہ کی نشاندہی کررہی تھی جیسے مکڑی اپنا گھر بناتی ہے آپ نے سکینہ کے نیچے سے کھدائی کی، آپ نے بنیادوں کو ظاہر کیا ان میں ایک بنیادتیس آدمیوں سے کم حرکت نہیں کرتی تھی۔ (سفیان بن عیینہ فی جامعہ، سعیدبن منصور وعبد بن حمید، وابن المنذر وابن ابی حاتم والازرقی، حاکم)

یعنی اتنی مضبوط چٹانیں تھیں کہ انھیں سرکانے کے لیے تیس آدمی درکار ہوتے۔
38067- عن علي قال: أقبل إبراهيم من أرمينية ومعه السكينة تدله على موضع البيت كما يتبوأ العنكبوت بيتها، فحفر تحت السكينة فأبدى عن قواعد ما يحرك القاعدة منها دون ثلاثين رجلا."سفيان بن عيينة في جامعه، ص وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم والأزرقي، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت ابراہیم (بیت اللہ کی تعمیر کے لئے) متوجہ ہوئے اور فرشتہ، سکینہ اور لٹو رارہنما تھے، تو انھوں نے ایسے گھر بنایا جیسے مکڑی گھر بناتی ہے، آپ نے اس کی وہ بنیادیں جو ظاہر ہوئیں وہاں سے اونٹ کی پسلیوں جیسے کھدائی کی، اس چٹان کو حرکت دینے کے لیے تیس آدمی درکار تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرمایا : اٹھو اور میرے (احکام کی بجا آوری کے) لیے گھر تعمیر کرو، عرض کیا : میرے رب ! کہاں ؟ فرمایا : ہم تمہیں دکھا دیں گے، اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس میں سے ایک سرابراہیم (علیہ السلام) سے گفتگو کرکے کہنے لگا : ابراہیم ! تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس بادل کی مقدار نشان لگاؤ، چنانچہ آپ اسے دیکھتے گئے اور اس کے اندازے سے نشان لگاتے گئے، تو اس سر نے آپ سے کہا : کیا آپ نے نشان لگالئے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، تو وہ بادل چھٹ گیا، تو آپ نے زمین پر لگی بنیادوں کو صاف کیا، یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تعمیر کی۔ (رواہ الازرقی)
38068- عن علي قال: أقبل إبراهيم والملك والسكينة والصرد1دليلا حتى تبوأ البيت كما تبوأت العنكبوت بيتا، فحفر ما برز عن أسها أمثال خلف الإبل لا يحرك الصخرة إلا ثلاثون رجلا، ثم قال الله لإبراهيم: قم فابن لي بيتا: قال: يا رب! وأين؟ قال: سنريك، فبعث الله سحابة فيها رأس يكلم إبراهيم فقال: يا إبراهيم! إن ربك يأمرك أن تخط قدر هذه السحابة، فجعل ينظر إليها ويأخذ قدرها، فقال له الرأس: أقد فعلت؟ قال: نعم، فارتفعت السحابة، فأبرز عن أس ثابت من الأرض فبناه إبراهيم عليه السلام."الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٦٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو عرض کیا : میرے رب ! میں نے تعمیر کرلی، اب ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتائیں اور انھیں ظاہر کریں اور ہمیں سکھا دیں، تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے آپ کو حج کرایا۔ (ابن جریر فی تفسیرہ)
38069- عن علي قال: لما فرغ إبراهيم من بناء البيت قال: قد فعلت أي رب! فأرنا مناسكنا، أبرزها لنا، علمناها، فبعث الله جبريل فحج به."ابن جرير في تفسيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٧٠۔۔۔ (مسند جو یطب بن عبدالعزی) ابن ابی نجیح اپنے والد جو یطب بن عبدالعزی سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے تو ایک عورت بیت اللہ میں آکر اپنے خاوند سے پناہ طلب کرنے لگی، اتنے میں اس کا خاوند آگیا اس نے (اسے طمانچہ مارنے کے لئے) اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ خشک ہوگیا میں نے اسے جاہلیت میں دیکھا کہ اس کا ہاتھ شل ہوچکا تھا۔ (رواہ ابو نعیم)
38070- "مسند حويطب بن عبد العزى" عن ابن أبي نجيح عن أبيه عن حويطب بن عبد العزى قال: كنا جلوسا بفناء الكعبة في الجاهلية فأتت امرأة البيت تعوذ من زوجها، فجاء زوجها فمد يده إليها فيبست يده، فلقد رأيته في الجاهلية وإنه لأشل."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٧١۔۔۔ حضرت سلمان فارسی (رض) سے روایت ہے فرمایا : اس گھر میں آل زبیر کے ایک شخص کے ہاتھوں آگ لگے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
38071- عن سلمان الفارسي قال: ليحرقن هذا البيت على يدي رجل من آل الزبير."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٧٢۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : زمین میں حجر اسود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کی طرح ہے جس نے اسے چھوا گویا وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتا ہے۔ (ابن جریر فی تھذیبہ)
38072- عن ابن عباس قال: الحجر الأسود يد الله في الأرض، فمن مسه فإنما يبايع الله."ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ
٣٨٠٧٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) بیت اللہ کا طواف کررہے تھے تو فرشتوں کی آپ سے ملاقات ہوگئی تو وہ کہنے لگے : آدم ! کیا آپ نے حج کرلیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، وہ بولے : ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے حج کرلیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
38073- عن أنس قال: لقيت الملائكة آدم وهو يطوف بالبيت فقالت: يا آدم! حججت؟ فقال: نعم، قالوا: لقد حججنا قبلك بألفي عام."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ہاتھ تھام کر فرمایا : اگر تمہاری قوم میں (اس بات کی ) سمجھ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا کر (دوبارہ اس کی تعمیر کرتے وقت) مقام حجر کو اس کے ساتھ ملا دیتا کیونکہ یہ اسی کا حصہ ہے لیکن تمہاری قوم نے اس کی بنیاد سے زچ اور تنگ ہوگئے اور میں اس کے دو ٢ دروازے بنادیتا، اور اسے زمین کے ساتھ ملا دیتا، تمہاری قوم نے اس کا دروازہ اس لیے اونچا رکھا تاکہ جسے وہ چاہیں اسے داخل کریں اور میں اس کے خزانے خرچ کردیتا ۔ (رواہ ابن عساکر)
38074- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيدها يوما فقال: "لو فقه قومك هدمت الكعبة فألحقت فيها الحجر فإنه منها ولكن قومك استملوا من بنيانه، ولجعلت لها بابين فألصقتها بالأرض فإن قومك إنما رفعوا بابها لئلا يدخلها إلا من شاؤا، ولأنفقت كنزها". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٥۔۔۔ حضرت عائشہ رضی تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن ان کا ہاتھ تھام کر فرمایا : اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے تائب نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کو گراکر پھر سے اس کی تعمیر کرتا۔ اور اس جیسا مفہوم ذکر کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
38075- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيدها يوما فقال: "لولا حداثة قومك بالكفر لهدمت الكعبة" - وذكر مثله."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٦۔۔۔ (مسند السائب بن خباب) فرماتے ہیں میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عثمان بن طلحہ سے فرماتے سنا جب آپ انھیں کعبہ کی چابی دے رہے تھے : لو ! پھر چابی غائب کردی، فرماتے ہیں اسی وجہ سے چابی غائب ہوجاتی ہے۔ (طبرانی فی الکبیر)
38076- "مسند السائب بن خباب" سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لعثمان بن طلحة حين رفع إليه مفتاح الكعبة: "ها! ثم غيبه"، قال: فلذلك تغيب المفتاح."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٧۔۔۔ زھری سے روایت ہے کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے ان سے اپنے والد کے واسطہ سے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عثمان بن طلحہ سے فرماتے سنا جب آپ انھیں کعبہ کی چابی دے رہے تھے، ” لو “ پھر آپ نے چابی غائب کردی، فرماتے ہ یں اسی وجہ سے چابی گم ہوجاتی ہے۔ رواہ ابن عساکر)
38077- عن الزهري أن محمد بن جبير بن مطعم حدثه عن أبيه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعثمان بن طلحة حين دفع إليه مفتاح الكعبة: "ها ثم غيبه"، قال: فلذلك يغيب المفتاح."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری قوم نے بیت اللہ کی شان میں کوتاہی کی، اگر ان کا زمانہ شرک قریب نہ ہوتا تو میں ان کی چھوڑی ہوئی عمارت کو اس سے ملا دیتا، اگر تمہاری قوم کی رائے اسے تعمیر کرنے کی ہو تو میرے پاس آنا میں تمہیں بتاؤں گا کہ انھوں نے کیا چھوڑا تھا، تو آپ نے انھیں وہ جگہ دکھائی جو سات ہاتھ کے قریب تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں زمین سے ملے ہوئے اس کے دو دروازے بنادیتا جن میں ایک مشرق کی جانب ہوتا اور دوسرا مغرب کی جانب، تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے اس کا دروازہ اونچا کیوں رکھا ہے ؟ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : نہیں، فرمایا : اس بات کی عزت حاصل کرنے کے لیے کہ جسے وہ چاہیں صرف وہی داخل ہو، جب وہ کسی ایسے شخص کو بلاتے جس کا داخل ہونا انھیں ناگوار گزرتا تو جب وہ زینے پر داخل ہونے کے لیے چڑھتا تو یہ لوگ زینہ چھوڑ دیتے اور وہ گرپڑتا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
38078- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن قومك استقصروا من شأن البيت وإني لولا حداثة عهدهم بالشرك أعدت منه ما تركوا منه، فإن بدا لقومك أن يبنوه فتعالي أريك ما تركوا منه". فأراها قريبا من سبعة أذرع. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "واجعل لها بابين موضوعين في الأرض شرقيا وغربيا، وهل تدرين لما كان قومك رفعوا بابها؟ قالت: فقلت: لا، قال: تعززا لئلا يدخلها إلا من أرادوه. كان الرجل إذا كرهوا أن يدخلها يدعونه حتى يرتقي حتى إذا كاد يدخل دفعوه فسقط". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” ذیل فضائل کعبہ “
٣٨٠٧٩۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں داخل ہوئے اور اسے (عوام کے لیے ) کھولا آپ نے اپنے ہاتھ میں چابی لی پھر لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے : کیا کوئی بولنے والا ہے، کیا کوئی بات کرے گا ؟ تو حضرت عباس اور بنی ہاشم کے لوگوں نے گردنیں بلند کیں کہ ہوسکتا ہے کہ آپ انھیں سقایہ (پانی پلانے کی خدمت) کے ساتھ چابی ان کے حوالے کردیں، آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ سے فرمایا : ادھر آؤ، وہ آئے اور آپ نے چابی ان کے ہاتھ میں رکھ دی۔ (رواہ ابن عساکر)
38079- عن سعيد بن المسيب قال: لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة ففتحها، وأخذ المفتاح بيده ثم قام للناس فقال: "هل من متكلم! هل من أحد يتكلم؟ فتطاول العباس ورجال من بني هاشم رجاء أن يدفعها إليهم مع السقاية، فقال لعثمان بن طلحة: تعال، فجاء فوضعها في يده". "كر".
tahqiq

তাহকীক: