কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩২৪১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32400 ۔۔۔ اللہ یوسف (علیہ السلام) پر رحم کرے وہ بڑے بردبار تھے اگر ان کی جگہ میں قید میں ہوتا پھر بادشاہ کی طرف سے رہائی کا پروا نہ آتا تو میں جلدی سے جیل سے نکل آیا ۔ (ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے ضعیف الجامع 3119)
32401- رحم الله يوسف! أن كان لذا أناة حليما، لو كنت أنا المحبوس ثم أرسل إلي لخرجت سريعا. "ابن جرير وابن مردويه - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32401 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اتنے طویل قید کے بعد اگر بادشاہ کا قاصد میرے پاس تو میں جلدی سے نکل آتا ہے اس آیت پر ارشاد فرمایا یوسف (علیہ السلام) کی حکایت قرآن نے نقل کیا ہے اور جع الی ربک سالہ مال بال النسوة (احمد نے زہر میں اور ابن مندر نے حسن سے مرسلا نقل کیا ہے)
32402- رحم الله أخي يوسف! لو أنا أتاني الرسول بعد طول الحبس لأسرعت الإجابة حين قال: {ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ} . "حم في الزهد وابن المنذر - عن الحسن مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32402 ۔۔۔ مجھے میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور شرافت پر تعجب ہوا اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس خواب کی تعبیر پوچھنے والا آیا اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو نکلنے سے پہلے تعبیر نہ بتلاتا مجھی ان کے صبر اور شرافت پر تعجب ہوا اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا کہ جیل سے نکلے پھر بھی نہیں نکلا یہاں تک اپنا عذر بتلایا اگر میں ہوتا تو جلدی دروازہ پر پہنچ جاتا اگر ایک بات تو نہ ہوتی توجیل میں نہ ہوتے کہ انھوں نے غیر اللہ کے پاس اپنی پریشانی کا علاج تلاش کیا۔ (طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس رضی عنہما سے نقل کیا)
32403- عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه والله يغفر له حيث أرسل إليه ليستفتي في الرؤيا، ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج، وعجبت لصبره وكرمه والله يغفر له أتي ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره، ولو كنت أنا لبادرت الباب، ولولا الكلمة لما لبث في السجن حيث يبتغي الفرج من عند غير الله عز وجل. "طب وابن مردويه عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32403 ۔۔۔ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (احمد اور بخاری نے ابن عمر سے نقل کیا ہے)
32404- الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم: يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم. "حم، خ - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32404 ۔۔۔ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ وہ رہے تو رہائی کے قاصد آنے کے بعدفورا جیل سے نکل آتا اور اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انھوں نے رکن شدید کا سہارا لینا چاہا جب کہا لوان لی بکم فوة آواوی الی رکن شدید اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اپنی قوم کے اونچے قبیلہ سے مبعوث فرمایا۔ (ترمذی حاکم ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا)
32405- الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم: يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم، ولو لبثت في السجن ما لبث ثم أتاني الرسول أجبت؛ ورحمة الله على لوط! إن كان ليأوي إلى ركن شديد إذ قال: {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} فما بعث الله نبيا إلا في ذروة من قومه. "ت، ك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32405 ۔۔۔ لوگوں میں مکرم یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اللہ ہیں۔ (طبرانی نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے)
32406- أكرم الناس يوسف بن يعقوب بن إسحاق ذبيح الله. "طب - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32406 ۔۔۔ لوگوں میں مکرم یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن خلیل اللہ ہیں۔ (بخاری مسلم نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے)
32407- أكرم الناس يوسف نبي ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله. "خ، م - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32407 ۔۔۔ اگر حاملہ عورت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتی تو اس کا حمل گرجاتا۔ (دیلمی نے ابی امامہ (رض) سے نقل کیا ہے تذکرہ الموضوعات 108 ترتیب الموضوعات 92)
32408- إن كانت الحامل لترى يوسف فتضع حملها. "الديلمي - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32408 ۔۔۔ میں نے معراج کی رات یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تیسرے آسمان پر اس طرح کہ ایک آدمی پر میرا گذرہوا کہ اس کے حسن نے مجھے تعجب میں ڈالا ایسا جوان جن کو حسن کے لحاظ سے لوگوں پر فوقیت حاصل ہے کہا کہ یہ آپ کے بھائی یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ (عدی اور ابن عساکر نے انس (رض) سے نقل کیا ۔ ذخیرة الحفاظ 3242)
32409- رأيت يوسف ليلة أسري بي في السماء الثالثة فإذا أنا برجل راعني حسنه شاب فضل على الناس بالحسن، قيل: هذا أخوك يوسف. "عد وابن عساكر - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32409 ۔۔۔ مجھے یوسف (علیہ السلام) کے صبر اور شرافت پر تعجب ہوا اللہ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس خواب کی تعبیر کے لیے بھیجا گیا اگر میں ہوتا تو نکلنے سے پہلے تعبیر نہ بتلاتا مجھے تعجب ہوا ان کے صبر اور شرافت پر اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے ان کے پاس قاصد آیا وہ جیل سے باہر نکلے لیکن وہ نہ نکلا حتی کہ ان کو اپنا عذر بتلایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دروازہ پر پہنچ جاتا اگر کلمہ صادر نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ رہتے غم کا علاج غیر اللہ کے پاس تلاش کیا کہ کہا : اذکرنی عند ربک (طبرانی ابن مردویہ اور ابن نجار نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے)
32410- عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه والله يغفر له حيث أرسل إليه ليستفتي في الرؤيا، ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج؛ وعجبت لصبره وكرمه والله يغفر له أتي ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره؛ ولو كنت أنا لبادرت الباب، ولولا الكلمة لما لبث في السجن حيث يبتغي الفرج من عند غير الله قوله: {اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ} . "طب وابن مردويه وابن النجار - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32410 ۔۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے اپنے بھائی یوسف کی قبرکا کون پتہ بتلائے گا ؟ لوگوں نے کہا ہم میں سے ان کی قبر سے کوئی واقف نہیں سوائے فلاں بوڑھے کے تو ان کے پاس پہنچے ان سے کہا کہ میرے بھائی یوسف کی قبر بتلائیں کہنے لگا اس وقت تک نہ بتلاؤ گا جب تک میری درخواست قبول نہ کروگے پوچھا کیا درخواست ہے ؟ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کے ساتھ بھیج دے جہاں کہیں آپ جائیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میرے ساتھ آپ کے جانے سے میرا کوئی نقصان ہے ؟ تو بتایا ہاں ان کو کوئی نقصان نہ پہنچتا اگر اس جیسے کلمات کہتے۔ (بغوی نے حسین سے اپنے والد سے نقل کیا اور کہا حدیث غریب ہے) ۔
32411- قال موسى عليه السلام: من يدلني على قبر أخي يوسف؟ قالوا: ما نعلم أحدا يعلمه ذلك إلا فلانة العجوز، فأتاها فقال: دليني على قبر أخي يوسف، قالت: لا أدلك إلا أن تعطيني ما سألتك، قال وما هو؟ قالت: تدعو الله تبارك وتعالى يجعلني معك حيث كنت، قال موسى: وما يضرني أن يجعلك الله معي حيث كنت، قال: نعم، فما ضر هذا لو قال مثل ذلك. "البغوي - عن الحسين عن أبيه؛ وقال: غريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32411 ۔۔۔ پوچھا کہ اعرابی کے سوال اور نبی اسرائیل کی بڑھیا میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو سمندر پار کرنے کا حکم ملا جب وہاں پہنچے تو ان کو جانوروں کے رخ پھرگئے اور واپس لوٹے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے رب اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو جواب ملا کہ تم یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہو ان کی ہڈیاں اپنے ساتھ اٹھا کرلے جاؤ قبر زمین کے برابر ہوچکی ہے اب موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ ہوسکا قبرکہاں ہے ہمیں تو معلوم نہیں البتہ بنی فلاں کی فلاں بڑھیا کو معلوم ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے پاس قاصد بھیجا تو اس نے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ قاصدنے جواب دیا کہ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لیے پوچھا کہ تمہیں کسی کو قبر کا علم ہے ؟ لوگوں نے بتایا ہے تمہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانا ہے۔ جب آگئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہیں یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا علم ہے ؟ تو اس نے جواب وہاں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمیں بتلاؤ توبوڑھیا نے جواب دیا نہیں پہلے میری درخواست قبول کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہاری درخواست قبول ہے تو اس نے کہا کہ میں درخواست کرتی ہوں کہ جنت میں مجھے تمہارے برابر مقام ملے تو موسیٰ علیہ اسلام نے کہا جنت کا سوال کرا س نے کہا کہ نہیں واللہ جنت میں آپ کی معیب سے کم درجہ پر راضی نہیں ہوں موسیٰ (علیہ السلام) اس سے روکداح فرماتے رہے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اس کی درخواست قبول کرلو تمہارا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا تو اس کی درخواست قبول کرلی اس نے قبر کا پتہ بتلایا ان کی ہڈیاں نکایں گئیں پھر دریا پار ہوگئے ۔ (الخوائطی فی مکارم الاخلاق بروایت علی (رض))
32412- كم بين مسألة الأعرابي وعجوز بني إسرائيل! إن موسى لما أمر أن يقطع البحر فانتهى إليه صرفت وجوه الدواب فرجعت، فقال موسى: ما لي يا رب؟ قال: إنك عند قبر يوسف فاحمل عظامه معك وقد استوى القبر بالأرض، فجعل موسى لا يدري أين هو فسأل موسى: هل يدري أحد منكم أين هو؟ فقالوا: إن كان أحد يعلم أين هو فعجوز بني فلان تعلم بني فلان تعلم أين هو؟ فأرسل إليها الرسول قالت: ما لكم؟ قالوا: انطلقي إلى موسى، فلما أتته قال لها: تعلمين أين قبر يوسف؟ قالت: نعم، قال: فدلينا عليه، قالت: لا والله حتى تعطيني ما أسألك! قال لها: لك ذلك، قالت: فإني أسألك أن أكون معك في الدرجة التي تكون فيها في الجنة، قال: سلي الجنة، قالت: لا والله لا أرضى إلا أن أكون معك! فجعل موسى يرادها، فأوحى الله إليه أن أعطها ذلك فإنه لا ينقصك شيئا، فأعطاها ودلته على القبر فأخرجوا العظام وجاوزوا البحر. "الخرائطي في مكارم الأخلاق - عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32412 ۔۔۔ اعرابی کے سوال اور نبی اسرائیل کی بوڑھیا کے سوال میں کتنا فاصلہ ہے ؟ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ سمندر پاررکردے تو جانور کے چہرے پھیردئیے گئے اور واپس ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا یارب اس کی کیا وجہ ہے تو فرمایا تم یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہو ان کی ہڈیاں اٹھا کرلے جاؤ لیکن قبر زمین کے برابر ہوچکی تھی اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پتہ نہ چل سکا کہ قبرکہاں ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں سے پوچھا کسی کو یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی جگہ معلوم ہے لوگوں نے کے بتایا ہمیں معلوم نہیں البتہ نبی فلاں کے فلانہ بڑھیا کو معلوم ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے پاس قاصد بھیاتو کہنے لگی تم کیا چاہتے ہو ؟ لوگوں نے بتایا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلنا ہے کو جب وہ آگئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہیں یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا علم ہے اس نے بتایا ہاں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ہمیں بتادو اس نے کہا کہ نہیں یہاں تک میرا حکم پورا کرو تو پوچھا گیا کہ کیا حکم ہے ؟ اس نے کہا میں جنت میں آپ کی بیعت چاہتی ہوں یہ سوال موسیٰ (علیہ السلام) پر بھاری گذرا تو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ اس کی درخواست قبول کرلی جائے ۔ چنانچہ قبول کرلی گئی تو وہ ان کو پانی جمع ہونے کے ایک چھوٹے سے سمندر کے پاس لے گئی اور اس نے کہا کہ اس پانی کو خشک ہونے دو جب وہ پانی خشک ہوگیا تو یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیاں نکالی گئیں جب زمین سے ہڈیوں کو اٹھا کرلے گئے تو وہ راستہ نہر کی شکل میں ہوگیا۔ (ٕطبرانی اور حاکم نے ابی موسیٰ سے نقل کیا ہے) ۔
32413- كم بين مسألة الأعرابي وعجوز بني إسرائيل؟ إن موسى لما أمر أن يقطع البحر إليه صرفت وجوه الدواب فرجعت، فقال موسى: ما لي يا رب؟ قال: إنك عند قبر يوسف فاحمل عظامه معك - وقد استوى القبر بالأرض، فجعل موسى لا يدري أين هو فسأل موسى هل يدري أحد منكم أين هو؟ فقالوا: إن كان أحد يعلم أين هو فعجوز بني فلان تعلم أين هو، فأرسل إليها الرسل قالت: ما لكم؟ قالوا: انطلقي إلى موسى فلما أتته قال لها: تعلمين أين قبر يوسف؟ قالت: نعم، قال: فدلينا عليه، قالت: لا والله حتى تعطيني حكمي! قال: وما حكمك؟ قالت: حكمي أن أكون معك في الجنة، فكأنه ثقل ذلك عليه، فقيل له: أعطها، فأعطاها حكمها فانطلقت بهم إلى بحيرة مستنقع ماء فقالت: انضبوا هذا الماء، فلما نضبوا قالت: احفروا في هذا المكان، فلما احتفروا أخرجوا عظام يوسف فلما استقلوها من الأرض فإذا الطريق مثل النهار. "طب، ك عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32413 ۔۔۔ اگر میرے پاس قاصد آتا تو جلدی سے نکل کر چل پڑتا کوئی عذر خواہی نہ کرتا (حاکم نے ابوہریرة سے نقل کیا)
32414- لو بعث إلي لأسرعت الإجابة وما ابتغيت العذر. "ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32414 ۔۔۔ اگر میں ہوتا توجلدی سے بلاواقبول کرتا اور عذر خواہی نہ کرتا۔ (احمد نے ابوہریرة (رض) سے نقل کیا ہے)
32415- لو كنت أنا لأسرعت الإجابة وما ابتغيت العذر. "حم - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32415 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے کسی بندہ کے لیے مناسب نہیں کہ یہ دعویٰ کرے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (مسلم نے ابوہریرة (رض) سے نقل کیا ہے)
32416- قال الله تعالى: لا ينبغي لعبد لي أن يقول: أنا خير من يونس بن متى. "م - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32416 ۔۔۔ گویا کہ میں یونس (علیہ السلام) کو دیکھ رہاہوں اونٹی پر سوار ہیں جس کا لگام لیف کا ہے اور ان پر ادنی جبہ ہے وہ کہہ رہے ہیں لبیک اللھم لبیک۔ (حاکم نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا)
32417- كأني أنظر إلى يونس على ناقة خطامها ليف وعليه جبة من صوف وهو يقول: لبيك! اللهم! لبيك. "ك - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32417 ۔۔۔ کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (احمد ابوداؤد نے عبداللہ بن جعفر سے نقل کیا )
32418- ما ينبغي لنبي أن يقول: أنا خير من يونس بن متى. "حم د - عن عبد الله بن جعفر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32418 ۔۔۔ جس نے دعوی کیا کہ میں یونس بن متی سے بہترہوں اس نے جھوٹ بولا۔ (بخاری ترمذی ابن ماجہ نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا) ۔
32419- من قال: أنا خير من يونس بن متى، فقد كذب. "خ، ت، هـ - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32419 ۔۔۔ کوئی نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (بخاری نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا)
32420- لا يقولن أحدكم: إني خير من يونس بن متي. "خ - عن ابن مسعود"
তাহকীক: