কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩২৪৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یونس علیہ الصلوة والسلام
32420 ۔۔۔ کسی بندہ کے لیے مناسب نہیں کہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں (احمد بیہقی ابوداؤد نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا احمد مسلم بخاری نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ابوداؤد ابن عباس (رض) سے نقل کیا)
32421- لا ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى. "حم ق، د - عن ابن عباس؛ حم، م خ - عن أبي هريرة؛ د - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32421 ۔۔۔ کسی کے لیے مناسب نہیں یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یونس بن متی سے افضل ہوں۔ (طبرانی نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے)
32422- لا ينبغي لأحد أن يقول: أنا عند الله خير من يونس بن متى. "طب - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32422 ۔۔۔ کسی کے لیے مناسب نہیں یہ کہے کہ میں اللہ کے نزدیک یونس بن متی سے بہترہوں۔ (طبرانی نے عبدامید بن جعفر سے نقل کیا)
32423- لا ينبغي لنبي أن يقول: أنا خير عند الله خير من يونس ابن متى. "طب عن عبد الله بن جعفر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32423 ۔۔۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں یونس بن متی کو ان پر دو فطوانی جبے ہیں پہاڑ کو جواب دیتے ہوئے تلبیہ پڑھ رہے ہیں اللہ عزوجل کہہ رہے ہیں لبیک یا یونس میں آپ کے ساتھ ہوں۔ (دارقطنی افراد میں نقل کیا ابن عباس (رض) سے)
32424- كأني أنظر إلى يونس بن متى عليه عباءتان قطوانيتان يلبي تجيبه الجبال، والله عز وجل يقول له: لبيك يا يونس هذا أنا معك. "قط في الأفراد - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام)
32424 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ میرے بھائی یحییٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے جب ان کی بچپن میں لڑکوں نے کھیلنے کے لیے بلایا تو جواب دیا کہ میں کھیل کے لیے پیدا کیا گیا ہوں پس کیا حال ہوگا جو حانث ہو ان کی گفتگو سے۔ (ابن عساکر نے معاذ (رض) سے نقل کیا ضعیف الجامع 3098، الضعیفہ 2413)
32425- رحم الله أخي يحيى حين دعاه الصبيان إلى اللعب وهو صغير فقال: أللعب خلقت؟ فكيف بمن أدرك الحنث من مقاله. "ابن عساكر عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32426 ۔۔۔ کوئی یحییٰ بن زکریا (علیہا السلام) سے افضل نہیں ہوسکتا قرآن نے ان کے اوصاف یہ بیان فرمائے۔
نہ کبھی کوئی برائی کی نہ برائی کا ارادہ کیا ۔ (ابن خزیمہ اور کہا اس کی سند ہماری شرط کے مطابق نہیں وار قطنی نے افراد میں نقل کرکے کہا غریب ہے طبرانی ابن مردو یہ نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا)
نہ کبھی کوئی برائی کی نہ برائی کا ارادہ کیا ۔ (ابن خزیمہ اور کہا اس کی سند ہماری شرط کے مطابق نہیں وار قطنی نے افراد میں نقل کرکے کہا غریب ہے طبرانی ابن مردو یہ نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا)
32426- أما! إنه لا ينبغي لأحد أن يكون خيرا من يحيى بن زكريا، أما سمعتم الله تعالى حيث وصفه في القرآن: {وَسَيِّداً وَحَصُوراً وَنَبِيّاً مِنَ الصَّالِحِينَ} لم يعمل سيئة قط ولم يهم بها. "ابن خزيمة وقال: ليس إسناده من شرطنا، قط في الأفراد وقال: غريب، طب وابن مردويه عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32427 ۔۔۔ نبی آدم کا ہر فرد قیامت کے روز اس حالت میں آئے گا اس کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا کے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا جسم اس لکڑی کی طرح خشک تھا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرمایا سید اوحصود انبیامن الصالحین۔ (ابن جریر اور ابن عساکر نے عمرو بن العاص سے نقل کیا)
32427- كل بني آدم يأتي يوم القيامة وله ذنب إلا ما كان من يحيى بن زكريا وذلك أنه لم يكن له ما للرجال إلا مثل هذا العود ولذلك سماه الله سيدا وحصورا ونبيا من الصالحين. "ابن جرير وابن عساكر عن عمرو بن العاص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32428 ۔۔۔ قیامت کے روز ہر شخص اللہ تعالیٰ سے ملے گا اس کا کوئی نہ کوئی قصور ضرور ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ جو چاہے سزاء دیں یا رحم فرمائیں سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے کیونکہ وہ سید عورتوں کی خواہش سے پاک اور صالح بنی تھے ان کا الہ تناسل تنکے کی مثل تھا۔ (علدی ابن عساکر کرنے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا)
32428- كل بني آدم يلقى ربه بذنب قد أذنبه يعذبه عليه إن شاء أو يرحمه إلا يحيى بن زكريا فإنه كان سيدا وحصورا ونبيا من الصالحين، كان ذكره مثل هذه القذاة. "عد وابن عساكر - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
32429 ۔۔۔ ہر آدمی نے کوئی نے نہ کوئی گناہ کیا یا گناہ کا ارادہ کیا سوائے یحیی بن زکریا (علیہ السلام) کے۔ (اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے معاذ (رض) سے نقل کیا)
32429- ليس أحد من الآدميين إلا وقد عمل خطيئة أو هم بها إلا ما كان من يحيى بن زكريا. "إسحاق بن بشير وابن عساكر - عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32430 ۔۔۔ ہر بنی آدم نے کوئی خطاء کیا یا خطا کا ارادہ کیا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے۔ (طبرانی نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا)
32430- ما أحد من بني آدم إلا وقد أخطأ أو هم بخطيئة ليس يحيى ابن زكريا. "طب - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32431 ۔۔۔ ہر شخص اللہ تعالیٰ سے قیامت کی دن اس حال میں ملے گا کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے۔ (عبدالرزاق نے تفیر میں نقل لیا اور ابن عساکر نے قتادہ اور سعید بن مسیب سے مرسلا سے نقل کیا تمام اور ابن عساکر نے یحییٰ بن سعید اور سعید بن مسیّب نے عمرو بن العاص (رض) سے)
32431- ما أحد يلقى الله يوم القيامة إلا ذا ذنب إلا يحيى بن زكريا. "عبد الرزاق في التفسير وابن عساكر - عن قتادة عن سعيد بن المسيب مرسلا؛ تمام وابن عساكر - عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عمرو بن العاص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32432 ۔۔۔ جو بچہ ماں کے پیٹ میں حرکت کرے اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ دعوی کرے کہ وہ یحییٰ بن زکریا سے افضل ہے کیونکہ گناہ نے نہ ان کے دل میں حرکت کی نہ ہی گناہ کا قصہ کیا۔ (ٕابن عساکر نے علی بن ابی طلحہ سے مرسلا نقل کیا ہے)
32432- ما ارتكض في النساء من جنين ينبغي له أن يقول: أنا أفضل من يحيى بن زكريا، لأنه لم تحك في صدره خطيئة ولم يهم بها. "ابن عساكر - عن علي بن أبي طلحة مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32433 ۔۔۔ جو عورت بچہ کے ساتھ حاملہ ہوئی اس بچہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دعوی کرلے کہ میں یحییٰ بن زکریا سے افضل ہوں کیونکہ گناہ نے ان میں نہ حرکت کی نہ ہی گناہ کا ارادہ ہو۔ (ابن عساکر نے ضمرہ بن حبیب سے مرسلا نقل کیا)
32433- ما تعلت النساء عن ولد ينبغي له أن يقول: أنا أفضل من يحيى بن زكريا، لم تحك في صدره خطيئة ولم يهم بها. "ابن عساكر - عن ضمرة بن حبيب مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32434 ۔۔۔ نبی آدم کے ہر فرد نے کوئی گناہ کیا یا گناہ کا قصد کیا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے جو اس کا قصد کیا نہ ارتکاب کیا کسی کے لیے مناسب نہیں وہ یہ کہے کہ میں یونس بن امتی سے بہترہوں۔ (احمد، ابویعلی عدی بن کامل سعید بن منصور نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا) ۔
32434- ما من أحد من ولد آدم إلا وقد أخطأ أو هم بخطيئة إلا يحيى بن زكريا فإنه لم يهم بها ولم يعملها، وما ينبغي لأحد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى. "حم، ع، عد، ص - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32435 ۔۔۔ کسی کے لیے درست نہیں یہ دعوی کرے کہ میں یحییٰ بن زکریا سے بہتر ہوں نہ انھوں نے گناہ کا قصد کیا نہ ہی کسی عورت نے ان کے دل میں چکر کاٹا۔ (ابن عساکر نے یحییٰ بن جعفر سے مرسلا نقل کیا)
32435- لا ينبغي لأحد أن يقول: أنا خير من يحيى بن زكريا، ما هم بخطيئة ولا جالت في صدره امرأة. "ابن عساكر - عن يحيى بن جعفر مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32436 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو ماں کے پیٹ میں مومن بنایا اور فرعون کو ماں کے پیٹ میں کافر بنایا۔ ( عدی طبرانی نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ۔ (الجامع المصنف 102 ذخیرة الخفاظ 2787)
32436- خلق الله يحيى بن زكريا في بطن أمه مؤمنا وخلق فرعون في بطن أمه كافرا. "عد، طب - عن ابن مسعود"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32437 ۔۔۔ لوگ مختلف طبقات میں پیداکئے گئے بعض مومن پیدا ہوئے ایمان کی حالت میں زندگی گذاری اور ایمان کی حالت میں ہی ان کو موت آئی انہی میں سے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) ہیں بعض کافر پیدا ہوئے حالت کفر میں زندگی گذاری اور کفر کی حالت ہی میں مرے انہی میں سے فرعون میخوں والا ہے۔ (دارقطنی نے افراد میں اور ابن عساکر نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا)
32437- خلق الناس على طبقات شتى: منهم من يولد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت مؤمنا منهم يحيى بن زكريا، ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت كافرا منهم فرعون ذو الأوتاد. "قط في الأفراد ابن عساكر - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32438 ۔۔۔ بعض بندے مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہی زندگی گذارتے ہیں اور موت بھی ایمان کی حالت میں آتی ہے انہی میں سے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) میں اور بعض بچے کافر پیدا ہوتے ہیں اور حالت کفر میں زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی مرتے ہیں انہی میں ہے فرعون بھی دے۔ (ٕبیہقی نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا)
32438- يولد العبد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت مؤمنا منهم يحيى ابن زكريا، ويولد العبد كافرا ويحيا كافرا ويموت كافرا منهم فرعون. "هق - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32439 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو نبی اسرائیل کی طرف بھیجا پانچ کلمات دے کر جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تو فرمایا اے عیسیٰ یحییٰ بن زکریا سے کہو جو کلمات دے کر بھیجے گئے ہو یا تو تم ان کی تبلیغ کردیا میں کرتا ہوں یحییٰ (علیہ السلام) نکلے اور نبی اسرائیل کے پاس پہنچے اور کہا فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک غلام کو آزاد کیا اس پر خوب احسان کیا اور عطیہ دیا وہ چلا گیا اور نعمتوں کی ناشکری کی اور دوسرے سے دوستی کرلی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ نماز قائم کرو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو دشمنوں نے قیدی بنالیا اور قتل کرنا چاہا اس نے کہا کہ مجھے قتل مت کرو میرے پاس ایک خزانہ ہے جو میں اپنے نفس کے فدیہ کے طور پردے دیتاہوں وہ خزانہ دیدیا اور اپنے نفس کو ہلاکت سے بچا لیا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ صدقہ اداکرو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص دشمن کے مقابلہ میں گیا اور قتال کے لیے ڈھال سنبھال لیا اب اس کو پروا نہیں کہ دشمن کس طرف سے آدھا ہے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کرو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قوم قلعہ بند ہے ان کے پاس دشمن آپہنچا قلعہ کے ہر طرف گھوم پھر کر دیکھا لیکن ہر طرف پہریدار موجود ہے یہی مثال قرآن پڑھنے کی ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والا ہمیشہ حفاظت میں رہتا ہے۔ (بزار نے علی (رض) سے نقل کیا اور اس کے راوی سب ثقہ ہیں)
32439- بعث الله يحيى بن زكريا إلى بني إسرائيل بخمس كلمات، فلما بعث الله عيسى قال الله تبارك وتعالى: يا عيسى! قل ليحيى بن زكريا: إما أن تبلغ ما أرسلت به إلى بني إسرائيل وإما أن أبلغهم، فخرج يحيى حتى صار إلى بني إسرائيل فقال: إن الله تبارك وتعالى أمركم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا، ومثل ذلك كمثل رجل أعتق رجلا وأحسن إليه وأعطاه فانطلق وكفر نعمته ووالى غيره؛ وإن الله يأمركم أن تقيموا الصلاة، ومثل ذلك كمثل رجل أسره العدو فأرادوا قتله فقال: لا تقتلوني فإن لي كنزا وأنا أفدي نفسي، فأعطاهم كنزه ونجا بنفسه؛ وإن الله تبارك وتعالى يأمركم أن تصدقوا، ومثل ذلك كمثل رجل مشى إلى عدوه وقد أخذ للقتال جنته فلا يبالي من حيث أتى؛ وإن الله يأمركم أن تقرأوا الكتاب، ومثل ذلك كمثل قوم في حصنهم صار إليهم عدوهم وقد أعدوا في كل ناحية من نواحي الحصن قوما فليس يأتيهم عدوهم من ناحية من نواحي الحصن إلا وبين أيديهم من يدرؤهم عن الحصن، فذلك مثل من قرأ القرآن لا يزال في أحصن حصن. "ز - عن علي؛ ورجاله موثقون".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے کوئی خطا صا در نہیں ہوئی
32440 ۔۔۔ یحییٰ بن زکریا نے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اے رب مجھے ایسا بنادے کہ لوگ میری عیب جوئی نہ کریں اللہ تعالیٰ نے وحی کی اے یحییٰ یہ تو ایسی بات ہے کہ میں نے اپنے نفس کو بھی اس کے لیے خاص نہیں کیا آپ کے لیے کیسے کروں ؟ کتاب محکم پڑھئے آپ کو ملے گا وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ وقالو ید اللہ مغلولة وقالوا وقالوا یہ سن کر یحییٰ (علیہ السلام) نے کہا اے اللہ تعالیٰ دعاء سے پناہ مانگتا ہوں معاف فرمادیں آیندہ ایسی دعاء نہیں کروں گا۔ (دیلمی نے انس (رض) سے نقل کیا )
32440- إن يحيى بن زكريا سأل ربه فقال: يا رب! اجعلني ممن لا يقع الناس فيه، فأوحى الله إليه: يا يحيى! هذا شيء لم أستخلصه لنفسي كيف أفعله بك، اقرأ في المحكم تجد فيه: {وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ} وقالوا: {يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ} وقالوا وقالوا قال: يا رب! اغفر لي فإني لا أعود. "الديلمي - عن أنس".
তাহকীক: