কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩১৮৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق معجزات کا ذکر
31821 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کھجور کی اس ٹہنی کو لے لو اس سے ٹیک لگاؤ جب تونکلے گا تو تمہارے سامنے دس روشن ہوں گے اور پیچھے بھی دس جب گھر میں داخل ہو تو اس پر کھر دراپتھر ماروگھر کے پردوں پر کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (طبرانی بروایت قنادہ بن نعمان)
31821- خذ هذا العرجون فتخصر به، فإنك إذا خرجت أضاء لك عشرا أمامك وعشرا خلفك، وإذا دخلت بيتك فاضرب به مثل الحجر الأخشن في أستار البيت، فإن ذلك الشيطان. "طب - عن قتادة بن النعمان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق معجزات کا ذکر
31823 ۔۔۔ ایک موقع دشمن کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کوئی خوف اندیشہ کی بات نہیں اگر تم ارادہ کر بھی لیتے اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ پر مسلط نہ فرماتے ۔ (احمد مستدرک نسائی، جعدہ بن خالد)
31822- لم ترع لم ترع، ولو أردت ذلك لم يسلطك الله علي. "حم، ك، ن - جعدة بن خالد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفظہ من الاعداء
31824 ۔۔۔ ایک موقع پر دشمن کو قابو کرنے کے بعد) فرمایا اس نے میری تلوار اٹھائی تھی جب کہ میں سویا ہوا تھا میں جس وقت پیدا ہوا اس نے تلوار ہاتھ میں لے کر سونت لی تھی مجھ سے کہا ” من یمنعک منی “ یعنی تجھے مجھ سے کون بچائے گا میں نے کہا ” اللہ “ اب یہ میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ (احمد بیہقی نسائی بروایت جابر (رض))
31823- إن هذا اخترط سيفي وأنا نائم فاستيقظت وهو في يده صلتا فقال لي: من يمنعك مني؟ قلت: الله، فها هو ذا جالس. "حم، ق ، ن - عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفظہ من الاعداء
31825 ۔۔۔ (ایک موقع پر ) ارشاد فرمایا اگر وہ یعنی اوجھل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے۔ (احمد مسلم بروایت ابوہریرہ (رض))
31824- لو دنا مني لخطفته الملائكة عضوا عضوا - يعني أبا جهل. "حم، م عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلام النبوة
31826 ۔۔۔ ارشاد فرمایا تمہارے بھائی کا جھنڈا ہے۔ (احمد بروایت ابن مسعود (رض) ، ضعیف الجامع 4790)
تشریح :۔۔۔ اس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند 4161 پر نقل کی ہے پوری حدیث سمجھے بغیر اس فقرہ کا سمجھنا مشکل ہے۔
تشریح :۔۔۔ اس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند 4161 پر نقل کی ہے پوری حدیث سمجھے بغیر اس فقرہ کا سمجھنا مشکل ہے۔
31825- لوا أخاكم. "حم - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31827 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے میرے پیٹ کی اندرونی چیزوں کو باہر نکالا پھر ان کو دھویا اس میں حکمت اور علم بھردیا۔
کلام :۔۔۔ طبرانی بروات انس (رض) اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف ہے۔
کلام :۔۔۔ طبرانی بروات انس (رض) اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف ہے۔
31826- إن جبرئيل أخرج حشوتي في طست من ذهب فغسلها ثم كبسها حكمة ونورا أو حكمة وعلما. "طب - عن أنس؛ وفيه رشدين ابن سعد ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31828 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میں صحراء میں تھا دس سالہ کا یا دس مہینے کا اچانک سرکے اوپر سے کچھ گفتگو سنی اچانک دیکھا ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا اھوھو ؟ یعنی یہ وہی ہے ؟ دوسرے نے جواب دیاہاں وہ میرے سامنے نمودار ہوئے ایسے چہرے میں جو میں نے اس سے پہلے کبھی کسی مخلوق کا نہیں دیکھا تھا اور ایسی روحیں جو اس سے پہلے کسی کی نہیں دیکھی اور ایسے کپڑے جو کسی کے نہیں دیکھے تھے وہ دونوں میری طرف چلنے ہوئے آئے ہر ایک نے میرے بازو پکڑے لیکن مجھے ان کے پکڑنے کا احساس نہیں ہورہا تھا ایک نے دوسرے سے کہا کہ ان کو لٹاؤ انھوں نے مجھ لٹا دیا زبردستی کئے اور موڑے بغیر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ چیردوتو ایک ان میں سے میرے سینے کی طرف جھکا اور چیر دیا جو میں نے دیکھا اس میں نہ خون تھا نہ درد اس سے کہا اس میں سے حسد اور کینہ کو نکال دو ایک چیز نکالی جو بندھے ہوئے خون کی طرح تھی اس کو نکال کر پھینک دیا پھر اس سے کہا کہ اس میں مہربانی اور شفقت ڈالدو پھر جو چیز نکالی چاندی کی مثل تھی پھر میرے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کو حرکت دی پھر کہا صحیح وسالم ہوجا میں واپس ہواتوچھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کے لیے رحمت محسوس کررہا تھا ۔ ( ابن حبان مستدرک بیہقی سعید بن منصور بروایت معاذ بن محمد بن معاذ بن محمد بن ابی بن کعب اپنے والد سے وہ اپنے دادا معاذ بن محمد وہ ابی بن کعب سے)
31827- إني لفي صحراء ابن عشر سنين وأشهر وإذا بكلام فوق رأسي وإذا رجل يقول لرجل: أهو هو؟ قال: نعم فاستقبلاني بوجوه لم أرها لخلق قط وأرواح لم أجدها من خلق قط وثياب لم أرها على أحد قط فأقبلا إلي يمشيان حتى أخذ كل واحد منهما بعضدي لا أجد لأخذهما مسا، فقال أحدهما لصاحبه: أضجعه، فأضجعاني بلا قصر 2 ولا هصر 3 وقال أحدهما لصاحبه: افلق صدره، فهوى أحدهما إلى صدري ففلقه فيما أرى بلا دم ولا وجع، فقال له: أخرج الغل والحسد، فأخرج شيئا كهيئة العلقة ثم نبذها فطرحها، فقال له: أدخل الرأفة والرحمة، فإذا مثل الذي أخرج منه شبه الفضة! ثم هز إبهام رجلي اليمني فقال: اغد واسلم، فرجعت أغدو بها رقة على الصغير ورحمة للكبير. "عم، حب، ك، ق، ص - من طريق معاذ بن محمد بن معاذ بن محمد بن أبي بن كعب عن أبيه محمد عن جده معاذ بن محمد عن أبي بن كعب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31829 ۔۔۔ میں اس سے (یعنی چاند سے) باتیں کرنا تھا وہ مجھ سے باتیں کرتے تھے اور مجھے رونے سے غافل کردیتے ہیں ان کی دعاء کو سنتا ہوں جن وقت وہ عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ (بیہقی فی الدلائل وابوعثمان صابونی فی الماثین والحطیب وابن عساکر بروایت عباس بن عبدالمطلب عباس نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے لیے آپ کے دین میں داخل ہونے کا داعیہ آپ ایک نبوت کی علامت بھی ہے وہ یہ کہ میں نے آپ کو جولا جھولتے ہوئے دیکھا کہ آپ چاند سے باتیں کررہے تھے اور اس کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کررہے تھے جس طرف آپ نے ارشارہ کیا، چاند اسی طرف جھک گیا پھر آپ نے یہ حدیث ذکر کی۔
31828- إني كنت أحدثه ويحدثني ويلهيني عن البكاء وأسمع وجبته حين يسجد تحت العرش. "هق في الدلائل وأبو عثمان الصابوني في المائتين والخطيب وابن عساكر - عن العباس بن عبد المطلب" قال: قلت: يا رسول الله! دعاني إلى الدخول في دينك أمارة لنبوتك، رأيتك في المهد تناغي القمر وتشير إليه بأصبعك، فحيث أشرت إليه مال، قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31830 ۔۔۔ ارشاد فرمایا میں اپنے والد ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاعیسیٰ بن مریم کی بشارت ہوں اور میری والدہ نے خواب دیکھا کہ ان سے ایک نورنکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے (احمد ابن سعد والبغوی طبرانی بیہقی فی الدلائل بروایت ابی امامہ) یہ اس موقع پر ارشاد فرمایا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ آپ کی ابتدائی حالات کیا ہیں ؟
31829- دعوة أبي إبراهيم وبشرى عيسى ابن مريم، ورأت أمي أنه خرج منها نور أضاءت له قصور الشام. "ط، حم وابن سعد والبغوي، طب، هق في الدلائل - عن أبي أمامة" قال: قيل يا رسول الله! ما كان بدء أمرك؟ قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31831 ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ اپنے نفس کے بارے میں بتلائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں اور میری والدہ نے زمانہ جمل میں دیکھا کہ ان سے ایک نور ظاہر ہوا جس نے شام کے شہر بصری کو روشن کردیا۔ (مستدرک بروایت خالد ابن معدان وہ اصحابہ رسول اللہ ش)
31830- دعوة أبي إبراهيم وبشرى عيسى، ورأت أمي حين حملت بي أنه خرج منها نور أضاءت له بصرى من أرض الشام. "ك - عن خالد ابن معدان عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم" أنهم قالوا: يا رسول الله! أخبرنا عن نفسك، قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31832 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میری والدہ نے بوقت ولادت دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ (ابن سعد بروایت ابی العجفاء)
31831- رأت أمي حين وضعتني يسطع منها نور أضاءت له قصور الشام. "ابن سعد - عن أبي العجفاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31833 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے ۔ ابن سعد بروایت ابی امامہ
31832- رأت أمي كأنه خرج منها نور أضاءت منه قصور الشام. "ابن سعد - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31834 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعاکانتیجہ ہوں جو انھوں نے بیت اللہ کی دیوار اٹھاتے وقت دعا کی تھی۔
31833- أنا دعوة إبراهيم، قال وهو يرفع القواعد من البيت: ربنا وابعث فيهم رسولا منهم - حتى أتم الآية. "ابن سعد - عن الضحاك مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31837 ۔۔۔ ارشاد فرمایا میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاعیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں ۔ (ابن سعد بروایت عبدالبر بن عبدالرحمن بن معمر)
31834- أنا دعوة إبراهيم وبشرى عيسى ابن مريم. "ابن سعد - عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31838 ۔۔۔ ارشاد فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ بن مریم کی بشارت ہوں اور یہ کہ بوقت ولادت میری والدہ نے دیکھا ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے میں دودھ پلایا گیا ہوں نبی سعد بن بکر میں اس دوران کے میں اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ گھر کے پاس بکریاں چرا رہے تھے میرے پاس دو آدمی آئے جو سفید لباس میں ملبوس تھے ہاتھ میں سونے کی تھالی تھی جس میں برف بھری ہوئی تھی انھوں نے مجھے پکڑا اور میرے پیٹ کو چاک کیا میرے دل کو نکالا اس کو چیرا اس میں ایک بندھا خون کا ٹکڑا نکال کر باہر پھینک دیا پھر اس برف سے میرے پیٹ اور دل کو دھویا پھر کہا ان کو ان کی امت کے سو افراد کے مقابلہ میں وزن کرو مجھے ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میرا وزن بھاری تھا پھر کہا ہزار کے مقابلہ میں وزن کرو مجھے وزن کیا گیا تو میں بھاری نکالا پھر کہا ان کو چھوڑدو اگر مجھے پوری امت کے مقابلہ میں وزن کیا جاتا ہے تب بھی میرا وزن زیادہ ہوتا ۔ (ابن سعید بروایت خالد بن معدان مرسلا)
31835- أنا دعوة إبراهيم وبشرى عيسى ابن مريم، ورأت أمي حين وضعتني خرج منها نور أضاء له قصور الشام واسترضعت في بني سعد بن بكر فبينا أنا مع أخ لي خلف بيوتنا نرعى بهما لنا أتاني رجلان عليهما ثياب بيض بطست من ذهب مملوء ثلجا فأخذاني فشقا بطني فاستخرجا قلبي فشقاه واستخرجا منه علقة سوداء فطرحاها ثم غسلا قلبي وبطني بذلك الثلج ثم قال: زنه بمائة من أمته، فوزنني بهم فوزنتهم، ثم قال: زنه بألف من أمته، فوزنني بهم فوزنتهم، ثم قال: دعه، فلو وزنته بأمته لوزنها. "ابن سعد - عن خالد بن معدان مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31839 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میری والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ان کے پیٹ میں نور ہے پھر کہا کہ میں نے نور کو دیکھا کہ وہ پھیل گیا جس سے مشرق ومغرب روشن ہوگیا۔ (الدیلمی بروایت شداد بن اوس)
31836- إن أمي رأت في المنام أن الذي في بطنها نور، قالت: فجعلت أتبع بصري النور فسبق بصري النور حتى أضاءت لي مشارق الأرض ومغاربها. "الديلمي - عن شداد بن أوس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل الثانی فی المعراج معراج کا بیان
31840 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا وہ ایک سفید لمباجانور تھا منتہائے نظر پر اس کا قدم پڑتا تھا میں اور جبرائیل (علیہ السلام) اس کی پیٹھ پر جمے رہے یہاں تک بیت المقدس پہنچ گئے میرے لیے آسمان کے دروازئے کھولے گئے اور میں نے جنت جہنم کا دیدار کیا۔ (احمدابویعلی ابن حبان مستدرک ضیاء مقدسی بروایت حذیفہ)
31837- أوتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل يضع حافره عند منتهى طرفه، فلم نزايل ظهره أنا وجبريل حتى أتيت بيت المقدس ففتحت لي أبواب السماء ورأيت الجنة والنار. "حم، ع، حب، ك والضياء - عن حذيفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل الثانی فی المعراج معراج کا بیان
31841 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا مجھے پہلے زمزم کے کنویں پرلے جایا گیا میرے سینہ کو چاک کیا گیا پھر غسل دیا گیا ماء زمزم سے پھر اتارا گیا ۔ (مسلم بروایت انس (رض))
31838- أتيت فانطلقوا بي إلى زمزم فشرح عن صدري ثم غسل بماء زمزم ثم أنزلت. "م - عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل الثانی فی المعراج معراج کا بیان
31842 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے پھر میرے سینہ کو چاک کیا گیا پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر سونے کی ایک تھالی لائی گئی جو حکومت ایمان سے بھری ہوئی تھی اس کو میرے سینہ بھر میں بھرا گیا پھر اس کو بند کردیا گیا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان دنیا تک لے جایا گیا جب آسمان دنیا میں پہنچے توجبرائیل نے دربان سے کہا دروازہ کھولو تو دربان نے پوچگا کہ آپ کون فرمایا جبرائیل پوچھا آپ کے ساتھ کوئی ہے فرمایا ہاں میرے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں پوچھا کیا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ فرمایا ہاں ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا جب ہم آسمان چڑھے تو ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس کے دائیں طرف کچھ سیاہی تھی اور بائیں طرف بھی کچھ سیاہی جب دائیں طرف نظر کرتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف نظر کرتے توروپڑتے انھوں نے کہا مرحبا صالح نبی اور صالح بیٹا میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں فرمایا یہ آدم (علیہ السلام) ہیں یہ دائیں بائیں ان کی اولاد ہے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی جب دائیں طرف دیکھتے ہیں خوش ہو کرہنستے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں پریشان ہو کرروتے ہیں پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پرچڑھ گئے اور دربان سے کہا کہ دروازہ کھولو وہاں ہی سوال و جواب ہواجو پہلے آسمان پر ہوا تھا دروازہ کھولا گیا جب میرا گذر اور یس (علیہ السلام) پر ہوا تو فرمایا مبارک ہوصالح نبی اور صالح بھائی کو میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں فرمایا کہ یہ اور یس (علیہ السلام) میں پھر میرا گذر موسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا تو انھوں نے فرمایا مرحبا صالح نبی صالح بھائی میں نے پوچھا یہ کون فرمایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) میں پھر میرا گذر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا تو فرمایا مرحباصالح نبی صالح بھائی میں نے پوچھا کون ؟ فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھر میرا گذر ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوا، انھوں نے فرمایا مرحبا صالح نبی صالح بیٹا میں نے پوچھا یہ کون ؟ فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں پھر مجھے اور اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ ایک کشادہ میدان پر پہنچا جہاں قلم کے لکھنے کی آواز سنائی دے رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائی ان کو لے کر واپس ہوا تو راستہ میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پوچھا کہ تمہارے رب نے کیا فرض فرمایا تمہاری امت پر ؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں ہیں تو مجھ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے رب کے پاس واپس جاؤ کیونکہ آپ کی امت کو اس کی استطاعت نہیں ہے میں واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے آدھی معاف فرمادیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس گیا اور ان کو خبر دیں تو انھوں نے فرمایا اپنے رب سے اور مراجعت کرو کیونکہ آپ کی امت یہ بھی ادانہ کرسکے گی میں نے رب تعالیٰ سے دوبارہ درخواست کی تو فرمایا یہ پانچ نمازیں ہیں اور ثواب میں پچاس کے برابر میرے پاس میں قول تبدیل نہ ہوتا میں واپس موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچاتو انھوں نے اور کمی کی درخواست کے لیے فرمایا تو میں نے کہا کہ اب مجھے رب تعالیٰ سے شرم آرہی ہے پھر مجھے لے کر سدرة المنتہیٰ پہنچا جس کو مختلف رنگ ڈھانپ رہے تھے مجھے معلوم نہیں کیسے عجیب و غریب رنگ تھے مجھے جنت لے جایا گیا۔ اور اس کی مٹی مشک کی تھی ۔ (بیہقی بروایت ابی ذ(رض) مگر یہ الفاظ ابن عباس اور ابی حبہ بدری کی ہے کہ پھر مجھے کشادہ صحن میں لے جایا گیا جہاں مجھے قلم چنے کی آواز سنائی دے رہی تھی)
31839- فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم غسله بماء زمزم ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإيمانا فأفرغها في صدري ثم أطبقه، ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا، فلما جئنا السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء الدنيا: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل قال هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد، قال: فأرسل إليه؟ قال: نعم، فافتح فلما علونا السماء الدنيا فإذا رجل عن يمينه أسودة وعن يساره أسودة، فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى، فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح: قلت يا جبريل من هذا؟ قال: هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وعن شماله نسم بنيه، فأهل اليمين أهل الجنة، والأسودة التي عن شماله أهل النار، فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى؛ ثم عرج بي جبريل حتى أتى السماء الثانية فقال لخازنها: افتح، فقال له خازنها مثل ما قال خازن السماء الدنيا ففتح، فلما مررت بادريس قال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح! فقلت: من هذا: قال: هذا إدريس، ثم مررت بموسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح! فقلت: من هذا؟ قال: هذا موسى، ثم مررت بعيسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح، فقلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى ابن مريم، ثم مررت بإبراهيم فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح! قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم؛ ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام، ففرض الله عز وجل على أمتي خمسين صلاة فرجعت بذلك حتى مررت على موسى فقال موسى: ماذا فرض ربك
على أمتك؟ قلت: فرض عليهم خمسين صلاة، قال لي موسى: فراجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فوضع شطرها، فرجعت إلى موسى فأخبرته فقال: راجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فقال: هن خمس وهي خمسون، لا يبدل القول لدي، فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك، فقلت: قد استحييت من ربي؛ ثم انطلق بي حتى انتهي بي إلى سدرة المنتهى فغشيها ألوان لا أدري ما هي، ثم أدخلت الجنة فإذا جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك. "ق عن أبي ذر إلا قوله: ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام، فإنه عن ابن عباس وأبي حبة البدري".
على أمتك؟ قلت: فرض عليهم خمسين صلاة، قال لي موسى: فراجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فوضع شطرها، فرجعت إلى موسى فأخبرته فقال: راجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فقال: هن خمس وهي خمسون، لا يبدل القول لدي، فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك، فقلت: قد استحييت من ربي؛ ثم انطلق بي حتى انتهي بي إلى سدرة المنتهى فغشيها ألوان لا أدري ما هي، ثم أدخلت الجنة فإذا جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك. "ق عن أبي ذر إلا قوله: ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام، فإنه عن ابن عباس وأبي حبة البدري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل الثانی فی المعراج معراج کا بیان
31843 ۔۔۔ ارشاد فرمایا پاس براق لایا گیا وہ ایک سفید طویل جانور ہے جو گدھے سے تھوڑا بڑا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا منتہیٰ نظر پر قدم رکھتا ہے میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تک آیا اور اس کو اس حلقہ میں باندھ دیا جس سے انبیاء (علیہم السلام) اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر میں مسجد میں داخل ہواوہاں دو رکعت نماز پڑھی پھر جبرائیل (علیہ السلام) ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے میں نے دودھ کا انتخاب کیا توجبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا پھر مجھے آسمان پر لیجایا گیا تو دروازہ کھلوانا چاہا تودربان نے جبرائیل پوچھا آپ کے ساتھ کون ؟ کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کیا ان کو بلوایا ہے ؟ کہا ہاں بلوایا ہے ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو آدم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انھوں نے مرحبا کہا اور خیر کی دعا دی پھر مجھے دوسرے آسمان پر لے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلواتا جاہا کہا کون ؟ جواب دیاجبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا کہ ان کو بلوایا ہے کہاں ہاں بلوایا ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہمارے ملاقات دوخالہ زاد بھائی عیسیٰ بن مریم اور یحیی بن زکریا (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے تیسرے آسمان پرلے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا ساتھ کون ہے ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کہ ان کو بلوایا ہے بتایا ہاں تو ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہماری ملاقات ادریس (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی :۔
قال اللہ تعالیٰ ورفعا مکانا علیا
” ہم نے انھیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا۔ “
پھر مجھے پانچویں آسمان پر لے گیا جبرائیل نے دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیا ہاں پھر ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہماری ملاقات ہارون (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے چھٹے آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ جواب دیا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ جواب دیامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہماری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے ساتویں آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ جواب دیا جبرائیل پوچھا کہ ساتھ کون ؟ جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیاہاں تو ہمارے دروازکھولا گیا تو ہماری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی وہ بیعت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ ایساگھر ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتاپھر مجھے سدرة المنتہیٰ تک لیجایا گیا تو اس کے لیے ہاتھی کے کان کے برابر پتے تھے اور اس کا پھل مٹکے کے برابر جب اللہ کے حکم سے اس کو ڈھانپا گیا جس طرح ڈھانپا گیا تو اس میں اس طرح حسن پیدا ہوگیا کہ اللہ کے مخلوق میں سے کوئی اس کے حسن کو بیان کرنے پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانا تھی فرمائی اور میرے اوپر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔ میں واپسی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا انھوں نے مجھ سے پوچھا آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض فرمایا ؟ میں نے بتایا دن رات میں پچاس نمازیں تو فرمایا واپس جاکر اس میں تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت کو اس کی طاقت نہ ہوگی میں نے نبی اسرائیل کو آزمایا ہے اور امتحان لیا ہے میں نے واپس جاکر رب تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کی تو پانچ نمازیں معاف کیں میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا اور بتایا پانچ معاف ہوئی ہیں تو فرمایا واپس جاکر تخفیف کی درخواست کریں آپ کی امت یہ بھی نہیں ادا کرسکے گی اب میں رب تعاٰلی اور موسیٰ کے درمیان مراجعت کرتا رہا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد یہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز پر دس اس طرح ثواب میں پچاس کے برابر ہوں گی جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کو بھی ثواب ملے اگر عمل کرلیا تودس نیکیاں ملیں گی جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کے حق میں کچھ نہیں لکھا جائے گا اگر عمل کرلیا تو اس کے حق میں ایک ہی گناہ لکھاجائے گا میں واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور ان کو واقعہ بتایا تو انھوں نے دوبارہ فرمایا کہ جاکرمزید تخفیف کی درخواست کریں میں نے کہا اب بہت ہوگیا مزید جانے سے مجھے شرم آرہی ہے۔ (احمدبروایت انس (رض))
قال اللہ تعالیٰ ورفعا مکانا علیا
” ہم نے انھیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا۔ “
پھر مجھے پانچویں آسمان پر لے گیا جبرائیل نے دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیا ہاں پھر ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہماری ملاقات ہارون (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے چھٹے آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ جواب دیا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ جواب دیامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہماری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے ساتویں آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ جواب دیا جبرائیل پوچھا کہ ساتھ کون ؟ جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیاہاں تو ہمارے دروازکھولا گیا تو ہماری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی وہ بیعت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ ایساگھر ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتاپھر مجھے سدرة المنتہیٰ تک لیجایا گیا تو اس کے لیے ہاتھی کے کان کے برابر پتے تھے اور اس کا پھل مٹکے کے برابر جب اللہ کے حکم سے اس کو ڈھانپا گیا جس طرح ڈھانپا گیا تو اس میں اس طرح حسن پیدا ہوگیا کہ اللہ کے مخلوق میں سے کوئی اس کے حسن کو بیان کرنے پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانا تھی فرمائی اور میرے اوپر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔ میں واپسی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا انھوں نے مجھ سے پوچھا آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض فرمایا ؟ میں نے بتایا دن رات میں پچاس نمازیں تو فرمایا واپس جاکر اس میں تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت کو اس کی طاقت نہ ہوگی میں نے نبی اسرائیل کو آزمایا ہے اور امتحان لیا ہے میں نے واپس جاکر رب تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کی تو پانچ نمازیں معاف کیں میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا اور بتایا پانچ معاف ہوئی ہیں تو فرمایا واپس جاکر تخفیف کی درخواست کریں آپ کی امت یہ بھی نہیں ادا کرسکے گی اب میں رب تعاٰلی اور موسیٰ کے درمیان مراجعت کرتا رہا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد یہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز پر دس اس طرح ثواب میں پچاس کے برابر ہوں گی جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کو بھی ثواب ملے اگر عمل کرلیا تودس نیکیاں ملیں گی جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کے حق میں کچھ نہیں لکھا جائے گا اگر عمل کرلیا تو اس کے حق میں ایک ہی گناہ لکھاجائے گا میں واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور ان کو واقعہ بتایا تو انھوں نے دوبارہ فرمایا کہ جاکرمزید تخفیف کی درخواست کریں میں نے کہا اب بہت ہوگیا مزید جانے سے مجھے شرم آرہی ہے۔ (احمدبروایت انس (رض))
31840- أتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل فوق الحمار ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه فركبته حتى أتيت بيت المقدس فربطته بالحلقة التي يربط بها الأنبياء ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين ثم خرجت، فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن فقال جبريل: اخترت الفطرة، ثم عرج بنا إلى السماء الدنيا فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا بابني الخالة عيسى ابن مريم ويحيى بن زكريا فرحبا بي ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: قد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بإدريس فرحب بي ودعا لي بخير، قال الله تعالى {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} ، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بموسى فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا
بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى سدرة المنتهى وإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها فأوحى الله إلي ما أوحى ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فنزلت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك! قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، قال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم. فرجعت إلى ربي فقلت: يا رب خفف عن أمتي، فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقلت: حط عني خمسا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال: يا محمد! إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة لكل صلاة عشر فذلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا، ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا فإن عملها كتبت سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فأخبرته فقال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه. "حم، عن أنس"
بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى سدرة المنتهى وإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها فأوحى الله إلي ما أوحى ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فنزلت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك! قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، قال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم. فرجعت إلى ربي فقلت: يا رب خفف عن أمتي، فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقلت: حط عني خمسا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال: يا محمد! إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة لكل صلاة عشر فذلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا، ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا فإن عملها كتبت سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فأخبرته فقال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه. "حم، عن أنس"
তাহকীক: