কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩১৮৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31844 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا اس پر میں اور جبرائیل (علیہ السلام) سوار ہوئے ہمیں لے کر روانہ ہوئے جب بھی کوئی پہاڑ آیا دو پاؤں اوپر کرلیتے جب نیچے اترتے اگلے پاؤں اوپر کرلیتے یہاں ایک سایہ دار بدبودار زمین پر پہنچے پھر ایک صاف اور پاکیزہ سرزمین پر پہنچے میں نے جبرائیل سے پوچھا ہم نے پہلے ایک ابر آلود بدبودار زمین پر سفر کیا پھر صاف اور پاکیزہ سرزمین پر تو جواب دیا وہ جہنم کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے پھر میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے پوچھا اے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے ساتھ کون ؟ تو جواب دیا آپ کے بھائی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے برکت کی دعاء کی اور فرمایا اپنی امت کے لیے آسانی کی درخواست کرنا میں نے پوچھا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ کون ہیں بتایا آپ کے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) ہیں تو میں نے کہا کس کے سامنے آواز بلند کررہے تھے اور جرأت کررہا تھا اپنے رب کی سامنے ؟ انھوں نے بتایا ہاں وہ اپنے رب کی آواز سے واقف ہیں وہ ان سے ہم کلام ہوچکے ہیں پھر ہم چلتے رہے میں نے آگے کچھ چراغ اور روشنی دیکھی تو پوچھا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ کیا ہیں : تو بتایا یہ آپ کے والد ابراہیم (علیہ السلام) کے درخت ہیں میں پوچھا کہ اس کے قریب جاؤں ؟ تو بتایا ہاں ہم اس کے قریب ہوئے میرے خیر کی دعاء کی اور مرحبا کہا پھر ہم بیت المقدس پہنچے اور میں نے اپنے براق کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس سے انبیاء (علیہم السلام) اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے پھر مسجد میں داخل ہوگئے میرے لیے انبیاء (علیہم السلام) جمع کئے گئے ان کو بھی جن کا نام اللہ نے کتاب اللہ میں ذکر فرمایا اور وہ بھی جن کا نام مذکور نہیں میں نے ان کو نماز پڑھائی۔ مگر ان تین یعنی ابراہیم موسیٰ (علیہ السلام) البزار طبرانی مستدرک بروایت ابن مسعود (رض) تھوڑے لفظی تغیر کے ساتھ ابویعلی ضعیف الجامع 13 الضعیفہ 1798
31841- أتيت بالبراق فركبت أنا وجبريل فسار بنا فكان إذا أتى على جبل ارتفعت رجلاه وإذا هبط ارتفعت يداه حتى صار إلى أرض غمة منتنة ثم أفضينا إلى أرض فيحاء طيبة قلت: يا جبريل! كنا نسير في أرض غمة منتنة ثم أفضينا إلى أرض فيحاء طيبة، فقال: تلك أرض النار وهذه أرض الجنة، فأتيت على رجل وهو قائم يصلي فقال: من هذا معك يا جبريل؟ قال: أخوك محمد، فرحب بي ودعا لي بالبركة وقال: سل لأمتك اليسر، قلت: من هذا يا جبريل؟ قال: أخوك موسى، قلت على من كان صوته وتذمره 2 أعلى ربه؟ قال: نعم، إنه يعرف ذلك منه وحدته، ثم سرنا فرأينا مصابيح وضوءا فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال هذه شجرة أبيك إبراهيم، قلت: أدنو منها؟ قال: نعم، فدنونا منها فدعا لي بالبركة ورحب بي، ثم مضينا إلى بيت المقدس فربطت الدابة بالحلقة التي تربط بها الأنبياء ثم دخلت المسجد ونشرت لي الأنبياء من سمى الله في كتابه ومن لم يسم فصليت بهم إلا هؤلاء النفر الثلاثة: إبراهيم وموسى وعيسى. "البزار، طب، ك - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31845 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ اس دوران کے میں حطیم میں لٹیا ہوا تھا کہ ایک آنے والا آیا اور مجھے طولا چیرا اور میرے دل کو نکالا پھر میرے پاس سونے کی ایک تھالی لائی گئی جو ایمان سے بھری ہوئی تھی میرے دل کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر بھر دیا اور اس کو اپنی حالت میں لوٹا دیا پھر میرے پاس ایک سواری لائی گئی جو خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی سفید رنگ اس کو براق کہا جاتا ہے اور منتہائے نظر پر قدم رکھتی تھی۔ میں اس پر سوار کرایا گیا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) لے چلے یہاں تک آسمان دنیا پر لے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا کہ ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا ہاں پھر کہاں مرحباکتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں آگے بڑھا تو آدم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا یہ تمہارے باپ آدم ہیں میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے کہا مرحبا اے صالح بیٹے صالح بنی پھر مجھے دوسرے آسمان پرلے جایا گیا دروازہ کھلوایا تو پوچھا کون بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا تو کہا گیا مرحبا کتنے اچھا مہمان ہیں جب دروازہ کھولا گیا تویحیی اور عیسٰی (علیہم السلام) دونوں خالہ زاد بھائیوں سے ملاقات ہوئی جبرائیل نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا دونوں نے سلام کا جواب دیا پھر کہا مرحبا صالح بھائی صالح بنی پھر مجھے تیرے آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے بتایا ہاں تو کہا گیا مرحبا کتنے اچھے مہمان میں پھر دروازہ کھولا گیا جب داخل ہوا تو یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، کہا یہ یوسف (علیہ السلام) میں ان کو سلام کرو میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا مرحبا صالح بھائی صالح نبی ، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک چھو تھے آسمان پر پہنچا دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کیا ان کو بلوایا گیا جواب دیا ہاں کہا گیا کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں داخل ہوادریس (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی کہا یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیاپھرکہا مرحبا صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے پانچیں آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھلوایا پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوا گیا ہے ؟ بتایا ہاں تو کہا گیا کہ کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں داخل ہوا تو ہارون (علیہ السلام) سامنے موجود تھے کہا یہ ہارون (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا تو فرمایا مرحبا صالح بھائی صالح بنی پھر مجھے چھٹے آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھوایا پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا سان کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کہ ان کو بلوایا گیا ہے بتایا ہاں تو کہاں کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولاتو سامنے موسیٰ (علیہ السلام) تشریف فرما تھے کہا کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے جواب دیاتوکہا مرحبا صالح بھائی صالح نبی جب میں آگے بڑھا توروپڑے رونے کی کیا وجہ ؟ فرمایا ایک جواب جو میرے بعد مبعوث ہوئے ان کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے پھر مجھے ساتویں آسمان پرلے جایا گیا دروازہ کھلوایا ، پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون ؟ بتایامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا ہاں کہا کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھلوایا گیا جب میں داخل ہوا تو ابراہیم (علیہ السلام) موجود تھے کہا کہ یہ تمہارے والد ابراہیم ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا مرحبا صالح بیٹا صالح نبی مجھے سدرة المنتہی تک لے جایا گیا تو اس کے پھل مقام ہجر کے مٹکے کے برابر تھے اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر کہا کہ یہ سدرة المنتہی ہے وہاں چار نہریں جاری تھیں دوباطنی نہریں اور ظاہری میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہیں ؟ بتایا یہ جو باطنی نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں پھر مجھے بیت المعمور تک لے جایا گیا میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے ؟ بتایا بیت المعمور ہے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب نکلتے ہیں قیامت تک ان کی دوبارہ باری نہیں آتی پھر میرے پاس ایک پیالہ شراب کا اؤ ایک پیالہ دودھ اور ایک پیالہ شہد کا لایا گیا میننے دودھ کاپیالہ لے لیا تو فرمایا یہ فطرت کے مطابق ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہیں پھر میرے اوپر ہر روز کے پچاس نمازیں فرض ہوئیں واپسی پر موسیٰ (علیہ السلام) پر گذرہوا تو انھوں نے پوچھا کیا حکم ملا میں نے کہا ہر روز کی پچاس نمازیں تو فرمایا آپ کی امت ہر روز بچ اس نمازیں نہیں اداکرپائے گی واللہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکاہوں اور نبی اسرائیل کا خوب امتحان لیا لھذا اپنے رب کے پاس واپس جاکر تخفیف کی درخواست کریں میں واپس گیا تودس نمازیں ساقط فرمادیں میں واپس موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انھوں نے دوبارہ اس طرح کہا میں نے اللہ تعالیٰ سے دوبارہ درخواست کی تودس اور معاف کردیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا دوبارہ اس طرح فرمایا پھر یومیہ پانچ نمازوں کا حکم ملا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گذر ہواتوپوچھا کیا حکم ملا ؟ میں نے کہا یومیہ پانچ نمازیں انھوں نے فرمایا آپ کی امت یہ بھی ادا نہیں کرسکے گی میں نے آپ سے پہلے لوگوں کو آزمایا ہے نبی اسرائیل کا خوب اچھی طرح امتحان لیا اپنے رب سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں میں نے کہا میں رب تعالیٰ سے بار بار درخواست کر چکاہوں اب شرم آرہی ہے اس پر راضی ہوں اور تسلیم کرتا ہوں جب آگے بڑھا تو آواز دی میں نے اپنا فریضہ ادا کردیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کردی۔ (احمد بیہقی نسائی بروایت مالک بن صعصعہ)
31842- بينما أنا في الحطيم مضجعا إذ أتاني آت فقد 1 ما بين هذه إلى هذه فاستخرج قلبي ثم أتيت بطست من ذهب مملوءة إيمانا فغسل قلبي بماء زمزم ثم حشي ثم أعيد، ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض يقال له البراق يضع خطوة عند أقصى طرفه فحملت عليه فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا فاستفتح فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قال: ومن معك؟ قال محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا فيها آدم فقال: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام ثم قال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح، ثم صعد حتى أتى السماء الثانية فاستفتح فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا يحيى وعيسى! وهما ابنا الخالة، قال: هذا يحيى وعيسى فسلم عليهما، فسلمت فردا ثم قالا: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي إلى السماء الثالثة فاستفتح قيل: من هذا قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح، فلما خلصت إذا يوسف! قال: هذا يوسف فسلم عليه، فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال جبريل، قيل ومن معك؟ قال: محمد، قيل: أو قد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح، فلما خلصت وإذا إدريس، قال: هذا إدريس فسلم عليه، فسلمت فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي حتى أتى السماء الخامسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا هارون، قال: هذا هارون فسلم عليه، فسلمت عليه، فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح ثم صعد بي حتى أتى السماء السادسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا موسى! قال: هذا موسى فسلم عليه، فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! فلما تجاوزت بكى، قيل له: ما يبكيك؟ قال: أبكي لأن غلاما بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر من أمتي؛ ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال؛ محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت فإذا إبراهيم! قال: هذا أبوك: فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام فقال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح! ثم رفعت إلى سدرة المنتهى فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة! قال: هذه سدرة المنتهى، وإذا أربعة أنهار: نهران باطنان ونهران ظاهران: قلت: ما هذان يا جبريل؟ قال: أما الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات، ثم رفع لي البيت المعمور فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور يدخله كل يوم سبعون ألف ملك إذا خرجوا منه لم يعودوا إليه آخر ما عليهم، ثم أتيت بإناء من خمر وإناء من لبن وإناء من عسل فأخذت اللبن فقال: هي الفطرة التي أنت عليها وأمتك، ثم فرضت علي الصلاة خمسون صلاة كل يوم، فرجعت فمررت على موسى فقال: بم أمرت! فقلت أمرت بخمسين صلاة كل يوم، قال: إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاة كل يوم وإني والله قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لأمتك، فرجعت فوضع عني عشرا، فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا، فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فأمرت بخمس صلوات كل يوم، فرجعت إلى موسى فقال: بم أمرت؟ قلت: أمرت بخمس صلوات كل يوم قال: إن أمتك لا تستطيع خمس صلوات كل يوم وإني قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لأمتك، قلت: سألت ربي حتى استحييت ولكن أرضى وأسلم، فلما جاوزت ناداني مناد فأمضيت فريضتي وخففت عن عبادي. "حم، ق ، ن - عن مالك ابن صعصعة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31846 ۔۔۔ ارشاد فرمایا مجھے اوپر لے جایا گیا تو میں ایک کھلے میدان میں پہنچا جہاں قلم چلنے کی آواز آرہی تھی۔ (بخاری طبرانی بروایت ابن عباس (رض)
31843- عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام. "خ، طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31844 ۔۔۔ ارشاد فرمایا جھ اسراء کے سلسلے میں قریش نے میری تکذیب کی اور میں حطیم میں کھڑا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو سامنے فرمادیا اب میں اس کی علامات بتلانے لگا اس کی طرف دیکھ دیکھ کر ۔ احمد، بیہقی ، ترمذی، نسائی، بروایت جابر (رض)۔
31844- لما كذبتني قريش حين أسري بي إلى بيت المقدس قمت في الحجر فجلى الله لي بيت المقدس فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه. "حم، ق ، ت، ن - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31844 ۔۔۔ ارشاد فرمایا مجھے لؤلؤ کے پنجرے میں جس کا بچھونا سونے کا اسراء کروایا گیا۔ مسند فردوس بروایت عبدالرحمن بن اسعد بن زارہ (ضعیف الجامع 824)
31845- أسري بي في قفص من لؤلؤ وفراشه من ذهب. "فر - عن عبد الرحمن بن أسعد بن زرارة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31847 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے سدرة المنتی تک ساتویں آسمان پر لے جایا گیا اس کا پھل مقام ہجر کے مٹکے کے برابر تھا اور اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر تھے اس میں چار نہریں تھیں اور دوباطنی ظاہری دریانیل اور فرات ہیں اور باطنی جنت کی دونہریں پھر میرے پاس تین پیا لے لائے گئے ایک پیالہ میں دودھ دوسرے میں شہد تیرے میں شراب میں نے دودھ کا پیالہ لے کر پیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ اور آپ کی امت فطرت پر ہیں۔ (بخاری بروایت انس (رض))
31846- رفعت إلى سدرة المنتهى منتهاها في السماء السابعة نبقها مثل قلال هجر وورقها مثل آذان الفيلة فإذا أربعة أنهار: نهران ظاهران ونهران باطنان، فأما الظاهران فالنيل والفرات وأما الباطنان فنهران في الجنة، وأتيت بثلاثة أقداح: قدح فيه لبن وقدح فيه عسل وقدح فيه خمر، فأخذت الذي فيه اللبن فشربت فقيل لي: أصبت الفطرة أنت وأمتك. "خ - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31848 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات جب ہم بہت المقدس پہنچے جبرائیل (علیہ السلام) نے اشارہ سے پتھر میں سوارخ کیا اس سے براق کو باندھا ۔ (ترمذی ابن حبان مستدرک بروایت بریدہ (رض) و ضعیف الجامع 4768
31847- لما انتهينا إلى بيت المقدس ليلة أسري بي قال جبريل باصبعه فخرق بها الحجر وشد به البراق. "ت، حب، ك - عن بريدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31849 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میں نے معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا وہ ہلکے جسم کے مالک تھے گویا قبیلہ شنوہ کے ایک شخص ہے میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا وہ میانہ قد سرخ رنگ گویا کہ غسل خانہ سے نکلے اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا کہ میں ان کی اولاد میں ان کے سب سے زیادہ مشابہ ہوں پھر میرے پاس دوپیالے لائے گئے ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب مجھ سے کہا گیا کہ جو پیالہ چاہیں پی لین میں نے دودھ کا پیالہ لے کر پیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت پر عمل کیا اگر آپ شراب کاپیالہ اٹھاتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی ۔ (بیہقی بروایت ابوہریرہ (رض))
31848- ليلة أسري بي رأيت موسى وإذا هو رجل ضرب رجل كأنه من رجال شنوءة، ورأيت عيسى فإذا هو رجل ربعة 4 أحمر كأنما خرج من ديماس، ورأيت إبراهيم وأنا أشبه ولده به، ثم أتيتبإناءين في أحدهما لبن وفي الآخر خمر فقيل لي: إشرب أيهما شئت، فأخذت اللبن فشربته فقيل لي أصبت الفطرة، أما إنك لو أخذت الخمر غوت أمتك. "ق - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسراء معراج کا تذکرہ
31850 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میں حطیم میں تھا کہ قریش مجھ سے معراج کی رات کی سفر کے بارے میں سوالات کررہے تھے مجھ سے بیت المقدس کی مختلف چیزوں کے متعلق پوچھا جن کو میں نے دھیان کے ساتھ یاد نہیں رکھا تھا میں سخت کرب وبے چینی میں تھا اس جیسا پریشان پہلے کبھی نہ ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کا حجاب اٹھالیا تاکہ میں اس کو دیکھوں اب وہ جو بھی سوال کرتے تھے میں ان کو دیکھ کر بتا دیتا میں نے خود کو انبیاء (علیہم السلام) کی ایک جماعت کے ساتھ دیکھا اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے وہ گھنگر یا لے بالوں والے ہلکے جسم کے تھے گویا کہ قبیلہ شنوہ کا ایک شخص ہے اور عیسیٰ بن مریم کو بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کے سب سے زیادہ مشابہ تمہارے صاحب ہیں۔ (یعنی خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ) نماز کا وقت قریب ہوا میں نے ان کی امامت کروائی جب میں نماز سے فارغ ہوا ایک کہنے والے نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ جہنم کا دراوغہ ہے اس کو سلام کریں میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انھوں نے خود سلام کرنے میں پہل کی ۔ (مسلم بروایت ابی ہریرة (رض))
31849- لقد رأيتني في الحجر وقريش تسألني عن مسراي فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها فكربت كربا شديدا ما كربت مثله قط فرفعه الله لي أنظر إليه، ما يسألوني عن شيء إلا نبأتهم به، ولقد رأيتني في جماعة من الأنبياء فإذا موسى قائم يصلي فإذا رجل جعد ضرب كأنه من رجال شنوءة، وإذا عيسى ابن مريم قائم يصلي، أشبه الناس به صاحبكم - يعني نفسه، فحانت الصلاة فأممتهم فلما فرغت من الصلاة قال قائل: يا محمد! هذا مالك صاحب النار فسلم عليه، فالتفت إليه فبدأني بالسلام. "م - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31851 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میں معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گیا تو ان کو دیکھا کہ وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ۔ (ابن ابی شبیبہ بروایت انس یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے)
31850- أتيت على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر وهو قائم يصلي في قبره. "ش - عن أنس؛ وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31852 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے لے چلے تو میں نے دیکھا کہ گھر کے سامنے سواری کا جانور کھڑا ہے وہ خچر سے چھوٹا گدھے سے بڑا تھا مجھے اس پر سوار کرایا پھر چل پڑے یہاں تک بیت المقدس پہنچے میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا ان کے اخلاق میرے اخلاق کے مشابہ اور ان کی صورت میری صورت کے مشابہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا طویل القامت گھنگریالے بال والے وہ قبیلہ شنوہ کے لوگوں کے مشابہ ہے عیسیٰ بن مریم کو دیکھا مشابہ ہیں میانہ قدمائل بسرخی عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہیں دجال کو بھی دیکھا کہ اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہے قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ، میں چاہتا ہوں کہ قریش کے پاس جاؤں اور جو کچھ دیکھا وہ ان کو بتلاؤں۔ (طبرانی بروایت ام ہائی (رض))
31851- إن جبريل أتاني فأخذ بيدي فأخرجني فإذا على البيت دابة دون البغل وفوق الحمار فحملني عليها ثم انطلق حتى انتهى بي إلى بيت المقدس فأراني إبراهيم يشبه خلقه خلقي ويشبه خلقي خلقه، وأراني موسى آدم طويلا سبط الشعر، شبهته برجال، أزدشنوءة، وأراني عيسى ابن مريم ربعة أبيض يضرب إلى الحمرة، شبهته بعروة بن مسعود الثقفي، وأراني الدجال ممسوح العين اليمنى، بقطن بن عبد العزى، وأنا أريد أن أخرج إلى قريش فأخبرهم بما رأيت. "طب - عن أم هانئ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31853 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے ایک جانور پر سوار کرایا جو گدھے اور خچر کے درمیان کا تھا اس کے ران میں دوپر ہیں جن سے پاؤں کو سمیٹتے ہیں جب سوار ہونے کے لیے اس کے قریب ہوا تو اس نے دم ہلائی توجبرائیل نے پنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا پھر کہا اے براق تمہیں اپنے اس فعل پر شرم نہیں آرہی ؟ اللہ کی قسم اس سے قبل تجھ پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مکرم ومعظم شخص نے سواری نہیں کی وہ شرم کے مارے پسینہ گرانے لگاپھرٹہر گیا یہاں تک میں اس پر سوار ہوگیا میں نے اس کے دونوں کان پکڑ لیے اور زمین لپیٹ دی گئی اور منتہائے نظرپر اس کا قدم ہوتا تھا وہ لمبی پیٹھا اور لمبے کان والا تھا ۔ میرے ساتھ جبرائیل (علیہ السلام) بھی نکلے ایک دوسرے سے جدانہ ہوئے یہاں تک بیت المقدس پہنچ گئے براق وہاں جاکر روکا جہاں انبیاء (علیہم السلام) کے جانور روکتے میں نے اس کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا میں نے انبیاء کو دیکھا کہ میری خاطر جمع ہوئے ہیں میں نے ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا ، مجھے خیال ہوا کہ ان کے لیے امام کی ضرورت ہے مجھے جبرائیل نے آگے کیا میں نے ان کو نماز پڑھائی ہیں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ ہماری بعثت توحید باری کے لیے ہوئی۔ (ابن سعدبروایت عمرو بن شعیب وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا اس اور بروایت ام سلمہ (رض) د عائشہ (رض) دام ہانی (رض) وابن عباس (رض) ان میں بعض کی روایت کا بعض میں تداخل ہوگیا)
31852- حملت على دابة بيضاء بين الحمار وبين البغل في فخذيها جناحان تحفز بهما رجليها، فلما دنوت لأركبها شمست فوضع جبريل يده على معرفتها ثم قال: ألا تستحيين يا براق مما تصنعين؟ والله! ما ركب عليك عبد لله قبل محمد أكرم على الله منه، فاستحيت حتى ارفضت عرقا ثم أقرت حتى ركبتها فعملت بأذنيها وقبضت الأرض حتى كان منتهى وقع حافرها طرفها وكانت طويلة الظهر طويلة الأذنين، وخرج معي جبريل لا يفوتني ولا أفوته حتى انتهى بي إلى بيت المقدس فانتهى البراق إلى موقفه الذي كان يقف فربطته فيه وكان مهبط الأنبياء ورأيت الأنبياء جمعوا إلي فرأيت إبراهيم وموسى وعيسى فظننت أنه لابد من أن يكون لهم إمام فقدمني جبريل حتى صليت بين أيديهم وسألتهم فقالوا: بعثنا للتوحيد. "ابن سعد - عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده وعن أم سلمة وعن عائشة وعن أم هانئ وعن ابن عباس؛ دخل حديث بعضهم في حديث بعض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
31854 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور میری پیٹھ پر مجھے ایک درخت پرلے گئے اس میں پرندہ کے دو گھونسلے کی طرح تھے وہ ایک میں بیٹھے دوسرے میں میں بیٹھ گیا میری جانب اوپر کو اٹھ گئی جس نے افق کو بھردیا اگر میں آسمان کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اس کو پکڑسکتا تھا پھر کسی سبب سے جھک گیا نورکا نزول ہوا تو جبرائیل (علیہ السلام) مجھ سے پہلے ہی بیہوش ہو کر گرپڑے گویا کہ ٹاٹ ہیں مجھے معلوم ہوگیا ان کی خشیت میری خشیت سے بڑھی ہوئی ہے میری وحی کی گئی بندگی والا نبی ہوں گے یا بادشاہت والے نبی ؟ آپ جنت کے قریب ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے میری طرف اشارہ کیا وہ لیٹے ہوئے تھے میں نے کہا بندگی والا۔ (ابن المبارک بروایت محمد بن عمیر ابن عطار دین حاجب مرسلا)
31853- أتاني جبريل فنكت في ظهري فذهب بي إلى شجرة فيها مثل وكري الطائر فقعد في أحدهما وقعدت في الآخر، فنشأت بنا حتى ملأت الأفق فلو بسطت يدي إلى السماء لنلتها، ثم دلى بسبب فهبط النور فوقع جبريل قبلي مغشيا عليه كأنه حلس فعرفت فضل خشيته على خشيتي فأوحى إلي أنبيا عبدا أو نبيا ملكا؟ وإلى الجنة ها أنت، فأومى جبريل إلي وهو مضجع: بل نبيا عبدا. "ابن المبارك - عن محمد بن عمير ابن عطارد بن حاجب مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31855 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میں ایک درخت پر تھا جبرائیل (علیہ السلام) دوسرے درخت پر ہمیں اللہ کے خوف نے ڈھانپا جبرائیل (علیہ السلام) بہیوش ہو کر گرپڑے اور میں اپنی جگہ قائم رہا اس سے مجھے اندازہ ہوا جبرائیل کا ایمان میرے ایمان سے بڑھ کر ہے۔ (طبرانی بروایت عطا ردین حاجب)
31854- لما أسري بي كنت أنا في شجرة وجبريل في شجرة فغشينا من أمر الله ما غشينا فخر جبريل مغشيا عليه وثبت على أمري فعرفت فضل إيمان جبريل على إيماني. "طب - عن عطارد بن حاجب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31856 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات آسمان دنیا پر جب پہنچا وہاں کچھ لوگوں کو دیکھا ان کی زبانیں اور ہونٹ کاٹے جارہے تھے جہنم کی آگ کی قینچی سے ۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ میں کہا یہ آپ کی امت کے خطباء میں ۔ (بیہقی بروایت انس)
31855- أتيت على سماء الدنيا ليلة أسري بي فإذا فيها رجال تقطع ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت: يا جبريل! من هؤلاء؟ قال: خطباء أمتك. "هب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31857 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میرا گذر ایک قوم پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچی سے کاٹے جارہے تھے جب بھی کاٹا گیا دوبارہ صحیح ہوگئے میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا کہ آپ کی امت کے خطباء میں جو وعظ کہتے خود ان باتوں پر عمل نہیں کرتے اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں پھر اس کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ (ابن ابی داؤد بیہقی بروایت انس (رض))
31856- اتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت 1 فقلت يا جبريل! من هؤلاء؟ قال: خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون ويقرؤن كتاب الله ولا يعملون به. "ابن أبي داود في المصاحف، هب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31858 ۔۔۔ فرمایا معراج کی رات ایک قوم پر گذرا ہوا ان کے پیٹ کمرہ کے برابر تھے اس میں سانپ دوڑ رہے تھے جو باہر سے ہی نظر آرہے تھے میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ (ابن ماجہ بروایت ابوہریرہ (رض) ضعیف ابن جامع 496 ضعیف الجامع 133)
31857- أتيت ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا. "هـ - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31859 ۔۔۔ فرمایا میں سدرة المنتہیٰ تک پہنچا اس کے پھل مٹکے کے برابر تھے۔ (احمد بروایت انس (رض))
31858- انتهيت إلى سدرة المنتهى فإذا نبقها مثل الجرار. "حم - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31860 ۔۔۔ فرمایا معراج کی رات سدرة المنتہیٰ تک پہنچا تو اس کا پھل مٹکے کے برابر تھے۔ (طبرانی بروایت ابن عباس (رض))
31859- لما أسري بي انتهيت إلى سدرة المنتهى فإذا نبقها أمثال القلال. "طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان جبرائیل کا تذکرہ
31861 ۔۔۔ فرمایا معراج کی رات سدرة المنتہی تک پہنچا ساتویں آسمان میں اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر تھے اور پھل مقام ہجر کے مٹکوں کے برابر جب اللہ کی رحمت نے اس ڈھانپا تو یا قوت کا بن گیا۔ (الحکیم احمد بیہقی طبرانی مستدرک بروایت انس (رض))
31860- لما أسري بي انتهيت إلى سدرة المنتهى في السماء السابعة فإذا ورقها مثل آذان الفيلة وإذا نبقها مثل قلال هجر! فلما غشيها من أمر الله ما غشي تحولت ياقوتا. "الحكيم، حم، ق، ط، ك - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক: