কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৩১৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض)
33152 ۔۔۔ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے چلنے کی آواز سنی میں نے کہا یہ کیسی چلنے کی آواز ہے تو جواب ملا یہ بلال ہیں جو آپ کے آگے آگے چل رہے ہیں۔ (ٕطبرانی نے معجم کبیر اور ابن عدنی نے کامل میں ابواماتہ سے نقل کیا ہے)
33162- دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي فقلت: ما هذه الخشفة؟ فقيل: هذا بلال يمشي أمامك. "طب، عد - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلال (رض)
33153 ۔۔۔ اسراء کی رات میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جنت کی ایک جانب میں ایک آہٹ سی پس میں نے کہا اے جبرائیل یہ کیا ہے ؟ ان نے جواب دیا یہ بلال ہیں جو موذن ہیں۔ (احمد بن حنبل اور ابویعلی نے ابن عباس روایت کیا ہے)
33163- دخلت الجنة ليلة أسري بي فسمعت في جانبها وجسا 3 فقلت: يا جبريل! ما هذا؟ قال: هذا بلال المؤذن. "حم، ع - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
33154 ۔۔۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو مجھے براق پر سوار کیا جائے گا اور فاطمہ (رض) کو میرے اونٹنی قصواء پر سوار کیا جائے گا اور بلال کو جنت کی اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی پر سوار کیا جائے گا وہ کہہ رہے ہوں گے اللہ اکبر اللہ اکبر اذان کے آخر تک تمام مخلوقات کو سناتے ہوئے۔ (ابن عساکر نے علی سے روایت کیا ہے الضعیفہ 771)
33164 إذا كان يوم القيامة حملت على البراق ، وحملت فاطمة على ناقتي القصواء ، وحمل بلال على ناقة من نوق الجنة وهو يقال : الله أكبر الله أكبر - إلى آخر الاذان يصسمع الخلائق.(كر - عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
33155 ۔۔۔ ہلال بہت اچھے آدمی ہیں مومن آدمی ہی ان کی پیروی کرے گا اور یہ موذن کے سردار ہیں اور موذنین کی گردنیں قیامت کے دن سب سے لمبی ۔ (اونچی) ہوں گی ۔ (ابن عدی ابن ماجہ طبرانی حاکم ابن عساکر اور حلیة الاولیاء زید بن ارقم سے روایت کیا ہے اور اس سند میں حسان بن مصک بھی میں جو کہ متروک ہیں اور ابوالشیخ نے باب الاذات میں براء بن عازب کیا ہے۔ (ذخیرة الحفاظ 5759)
33165 نعم المرء بلال ! ولا يتبعه إلا مؤمن وهو سيد المؤذنين ،والمؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة.(عد ، ه ، طب ، ك ، كر ، حل عن زيد بن أرقم ، وفيه حسام بن مصك متروك ، وأبو الشيخ في الاذان - عن البراء بن عازب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
33156 ۔۔۔ قیامت کے دن موذنین کے سردار بلال ہوں گے اور موذنین ہی ان کے پیچھے چلیں گے اور قیامت کے دن موذنیں لمبی گردن والے ہوں گے ۔ (ابن ابی شیبة اور دہلمی نے زید بن ارقم سے روایت کیا ہے)
33166 بلال سيد المؤذنين يوم القيامة ، ولا يتبعه إلا المؤذنون ، والمؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة.(ش والديلمي - عن زيد بن أرقم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33157 ۔۔۔ قیامت کے دن بلال ایسی سواری پر سوار ہو کر آئیں گے جس کا کجاوہ سونے اور یاقوت سے تیار کیا گیا ہوگا ان کے ساتھ ایک جھنڈا ہوگا موذنین ان کے پیچھے پیچھے چلیں یہاں تک کہ وہ ان کو جنت میں داخل کردیں گے یہاں تک اس شخص کو بھی جنت میں داخل کردیں گے جس سے چالیس دن تک اللہ کی رضا کے لیے اذان دی ہو۔
ابن عساکر نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور اس میں ابوالولید خالد بن اسماعیل مخزومی ہیں جو کہ متروک ہیں ابن عدی نے کہا ہے کہ وہ حدیثیں گھڑ کے ثقات کی طرف منسوب کیا کرتا تھا۔ (الموضوعات 902)
ابن عساکر نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور اس میں ابوالولید خالد بن اسماعیل مخزومی ہیں جو کہ متروک ہیں ابن عدی نے کہا ہے کہ وہ حدیثیں گھڑ کے ثقات کی طرف منسوب کیا کرتا تھا۔ (الموضوعات 902)
33167 يجيئ بلال يوم القيامة على راجلة رحلها من ذهب وياقوت معه لواء يتبعه المؤذنون حتى يدخلهم الجنة حتى إنه ليدخل من أذن أربعين يبتغى بذلك وجه الله. (ابن عساكر - عن ابن عمر ، وفيه أبو الوليد بن اسماعيل المخزومي متروك ، قال عد : كان يضع الحديث على الثقات).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33158 ۔۔۔ مجھے دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہواہوں پس میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی میں نے کہا اے جبرائیل ! یہ کون ہے تو جبرائیل نے جواب دیا موذن بلال سو میں نے دیکھا کہ اہل جنت میں فقر اء مہاجرین اور مومنین کی اولاد بلند درجے پر ہے اور وہاں مالداروں اور عورتوں میں سے کوئی نہیں ہے تو میں نے کہا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ میں یہاں مالداروں اور عورتوں میں سے کسی کو نہیں دیکھ رہاتو جبرائیل نے مجھے جواب دیا کہ مالداروں کا تو دروازے پر حساب کتاب اور امتحان لیاجارہا ہے اور ہی بات عورتوں کی تو ان کی دوسری چیزوں یعنی سونا اور ریشم نے غافل کیا ہوا ہے پھر ہم جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے تو کیا دیکھتاہوں کہ میزان کے پاس ہوں پھر ایک پلڑے میں مجھے رکھ دیا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو تو میرا پلڑا امت کے مقابلے میں بھاری ہوگیا پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو تو ابوبکر کا پلڑا امت کے مقابلے میں وزنی ہوگیا پھر عمر کو لایا گیا اور ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے میں میری میری امت کو تو عمر کا پلڑا امت کے مقابلے میں بھاری ہوگیا پھر ان سب کو میری امت پر ایک ایک کرکے پیش کیا جانے لگا تو میں عبدالرحمن بن عوف کو بہت ست پایا میں نے ان کو ناامید ہوجانے کے بعد دیکھا پس جب انھوں نے مجھ کو دیکھا تو روپڑے۔ میں نے کہا : عبدالرحمن بن عوف تجھے کس چیز نے رلادیا ؟ تو اس نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں نے آپ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ اب میں آپ کو بڑھاپے سے پہلے کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا تو میں نے کہا وہ کیوں ؟ تو اس نے جواب دیا : آپ کے بعد میرے مال کی کثرت کی سے مسلسل میرا حساب وکتاب ہوتا رہا اور میری جانچ پڑتال ہورہی ہے (احمد بن حنبل ، ھناد حکیم ، طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عساکر نے ابی امامتہ سے روایت کیا اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا ہے)
33168 أريت أني دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي فقلت : من هذا يا جبريل ؟ فقال : بلال المؤذن ، فنظرت فإذا أعالي أهل الجنة فقراء المهاجرين وذراري المؤمنين ، وإذا فيها ليس أحد من الاغنياء والنساء فقلت : ما لي لا أرى فيها أحد أقل من الاغنياء والنساء ؟ فقال لي : أما الاغنياء فانهم على الباب يحاسبون ويمحصون ، وأما النساء فألهاهن الاحمران الذهب والحرير ، فخرجنا من أحد الثمانية أبواب ، فإذا أنا بالميزان فوضعت في كفة وأمتي في كفة فرجحت بها ، ثم جئ بأبي برك فوضع في كفة وأمتي في كفة فرجح بها ، ثم جئ بعمر فوضع في كفة وأمتي في كفة فرجح بها ، ثم جعلوا يعرضون على أمتي رجلال رجلا فاستبطأت عبد الرحمن ابن عوف فلم أره إلا بعد إياسه ، فلما رآني بكى ، قلت : عبد الرحمن بن عوف ما يبكيك ؟ قال : والذي بعثك بالحق ! ما رأيتك حتى ظننت أني لا أراك أبدا إلا بعد المشيبات ، قلت : وما ذاك ؟ قال : من كثرة مالي مازلت أحاسب بعدك وأمحص.(حم وهناد والحكيم ، طب ، كر - عن أبي أمامة ، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33159 ۔۔۔ میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سامنے ایک آہٹ سنی میں نے کہا جبرائیل یہ کون ہے تو جبرائیل نے جواب دیا : بلال میں نے کہا خوش رہوبلال۔ (ابوداوطیالسی حلیتہ الاولیاء اور ابن عساکر نے جابر سے روایت کیا ہے)
33169 دخلت الجنة فسمعت خشفة أمامي فقلت : من هذا يا جبريل ؟ فقال ، بلال ، فقلت : طوبى لبلال.(ط ، حل وابن عساكر عن جابر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33160 ۔۔۔ میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سامنے ایک آواز سنی تو میں نے کہا یہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بلال ہوں تو میں نے کہا : کس وجہ سے تو جنت کی طرف مجھ سے آگے بڑھ گیا تو اس نے جواب دیا میں جب بھی وضوہواتوفورا وضو کرلیا اور جب بھی وضو کرتا تو میں یہ خیال کرتا کے اللہ کی رضا کے لیے دو رکعتیں ادا کرلوں فرمانے لگے کہ اس وجہ سے (الرویانی اور ابن عساکر نے ابی امامتہ سے روایت کیا ہے)
33170 دخلت الجنة فسمعت خشخشة أمامي فقلت : من هذا ؟قال : أنا بلال ، قلت : بم سبقتني إلى الجنة ؟ قال : ما أحدثت إلا توضأت وما توضأة إلا رأيت أن لله علي ركعتين ، قال : بها.(الروياني وابن عساكر - عن أبي أمامة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33161 ۔۔۔ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایکآہٹ سنائی دی ہیں نے غور کیا تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ بلال ہیں۔ (طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عساکر نے سہل بن سعد سے روایت کیا ہے)
33171 دخلت فإذا حس فنظرت فإذا هو بلال.(طب وابن عساكر - عن سهل بن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33162 ۔۔۔ بلال حبشہ میں سے سبقت لے جانے والا ہے اور صہیب روم میں سے سبقت لے جانے والا ہے۔ (ٕابن ابی شبیبہ اور ابن عساکر نے حسن سے مرسلا روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے)
33172 بلال سابق الحبشة وصهيب سابق الروم.(ش وابن عساكر عن الحسن رمسلا ، وسنده جيد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33164 ۔۔۔ بلال نے جو بات بھی آپ کو میرے بارے میں بیان کی ہے تو انھوں نے آپ سے سچ بات کہی ہے بلا ل جھوٹ نہیں بولتا بلا سے ناراض مت ہو جب تک بلا ل سے ناراض رہوگی تمہاری عمر بھر کی عبادت قبول نہ ہوگی۔ ( ابن عساکر بروایت زوجہ بلال (رض))
33173 ما حدثك عني بلال فقد صدقك ، بلال لا يكذب ، لا تغضبي بلالا فلا يقبل منك عمر ما أغضبت بلالا.
(ابن عساكر عن امرأة بلال).
(ابن عساكر عن امرأة بلال).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33163 ۔۔۔ اے بلال کس وجہ سے جنت کی طرف تو مجھ سے سبقت لے گیا ؟ کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سامنتے تمہارے چلنے کی آواز سنی میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو آپ کے قدموں کی آہٹ سنی پھر میں ایک مربع نمامحل کے پاس آیا جو سونے سے مزین تھا تو میں نے کہا یہ محل کس کے لیے ہے ؟ تو ان (فرشتوں ) نے جواب دیا عرب کے ایک آدمی کے لیے ہے میں نے کہا میں بھی عربی ہوں پھر یہ محل کس کے لیے ہے ؟ تو انھوں نے جواب میں کہا قریش کے ایک آدمی کے لیے ہے تو میں نے کہا میں بھی قریشی ہوں پھر یہ محل کس لیے ہوا ؟ تو انھوں جواب دیا محمد کی امت میں سے ایک آدمی کے لیے ہیں میں نے کہا میں محمد ہوں یہ محل کس کے لیے ہے انھوں نے جواب دیا عمر بن خطاب کے لیے ہے بلال نے کہا میں نے جب بھی اذان دی تو دو رکعتیں اداکیں اور جب کبھی بھی مجد کو حدیث لاحق ہوا تو میں نے فوراً وضو کرلیا اور دو رکعت نماز پڑھی وہ کہنے لگے کہ اسی وجہ سے ۔ (ٕاحمد بن حنبل ترمذی نے حسن غرب قرردیا اور ابن خزیمہ ابن حبان حاکم عبداللہ بن بریدة نے اپنی باپ سے روایت کیا ہے)
33174 يا بلال ! بم سبقتني إلى الجنة ؟ ما دخلت الجنة إلا سمعت خشخشتك أمامي ، إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك فأتيت على عصر مربع شمرف من ذهب فقلت : لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من العرب ، فقلت : أنا عربي ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من قريش ، فقلت أنا قرشي ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من أمة محمد ، فقلت : أنا محمد ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لعمر بن الخطاب ، قال بلال : ما أذنت قط إلا صليت ركعتين وما أصابني حدث قط إلا توضأت وصلت ركعتين ، فقال : بهذا.(حم ، ت : حسن غريب ، وابن خزيمة ، حب ، ك - عبد الله
ابن بريدة عن أبيه).مر برقم [ 33158 ].
ابن بريدة عن أبيه).مر برقم [ 33158 ].
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33165 ۔۔۔ اے بلال حالت اسلام میں جو تو نے نفع کے اعتبار سے سب سے پر امید عمل کیا ہو مجھے بتاؤ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے سامنے آپ کے قدموں کی آواز سنی ہے تو بلال نے جواب دیا میں نے اس سے زیادہ پر امید کوئی عمل نہیں کیا کہ دن یا رات میں جب کبھی بھی وضو کیا توجتنا میرے مقدر میں تھا اس وضو سے میں نے نماز پڑھ لی ۔ (احمد بن حنبل بخاری اور مسلم نے ابوہریرة سے روایت کیا ہے)
33175 يا بلال ! حدثني بأرجى عمل عملته عندك في الاسلام منفعة فاني سمعت الليلة دف نعليك بين يدي في الجنة قال : ما عملت عملا أرجى عندي من أني لم أتطهر طهورا في ساعة من ليل أو نهارا إلا صليت بذلك الطهور ما كتب لي أن أصلي.(حم ، خ ، م - عن أبي هريرة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال (رض) کی سواری کا تذکرہ
33166 ۔۔۔ اے بریدة آپ کی نظر کمزور نہ ہو اور آپ کی سماعت زائل نہ ہو آپ اہل شرق کے لیے نور ہیں۔ (بیہقی اور حاکم نے اپنی تاریخ میں بریدہ سے روایت کیا ہے)
33176 يا بريدة ! لا يكل بصرك ولا يذهب سمعك ، أنت نور لاهل المشرق.(ق ، ك في تاريخه - عن بريدة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بشیربن خصاصیتہ (رض)
33167 ۔۔۔ اے ابن خصاصیة ! توکب تک اللہ تعالیٰ سے ناراض ہونے والا رہے گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلنے والا ہوگیا ہے۔ (احمد بن ماجہ بروایت بشیر ابن خصاصیہ) مطلب یہ ہے کہ صحبت رسول اختیار کرنے کے بعد اپنی حالت درست کرنا ضروری ہے۔
33177 يا ابن الخصاصية ! ما أصبحت تنقم على الله أصبحت تماشي رسول الله.(حم ، ه - عن بشير بن الخصاصة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بشیربن خصاصیتہ (رض)
33168 ۔۔۔ اے بشیر توای سے خدا کی تعریف کیوں نہیں کرتا جو تجھے ربیعہ جیسی قوم کے درمیان سے تیری پیشانی سے پکڑ کر اسلام کی طرف لے آیا جو ایسے لوگ ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اہل زمین پر الٹ جاتی ۔ (طبرانی بیہقی اور ابن عساکر نے بشیر بن خصاصیة سے روایت کیا ہے)
33178 يا بشير ! ألا تحمد الله الذى أخذ بناصيتك إلى الاسلام من بين ربيعة قوم يرون أن لولاهم لائتفكت الارض بمن عليه.(طب ، هق وابن عساكر - عن بشير بن الخصاصية).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفر الثاء۔۔۔ ثابت بن الدحداح (رض)
33169 ۔۔۔ ابن وحداحتہ کے لیے جنت میں بہت سے کھجور کے پھلدار درخت لگائے گئے ہیں۔ (ابن مسعد نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے)
33179 رب عذق مذلل لابن الدحداحة في الجنة. (ابن سعد عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفر الثاء۔۔۔ ثابت بن الدحداح (رض)
33170 ۔۔۔ کتنے ہی پھلداردرخت ابی وحداح کے لیے جنت میں لگادیئے گئے ہیں۔ (احمد بن حنبل ، مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی نے جابر بن سمرہ سے روایت کیا ہے)
33180 كم من عذق معلق أو مذلل لابي الدحداح في الجنة.(حم ، م ، د ، ت - عن جابر بن سمرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حفر الثاء۔۔۔ ثابت بن الدحداح (رض)
33171 ۔۔۔ ابی وحدا ح کے لیے جنت میں کھجور کے کتنے ہی بڑے بڑے پھلدار درخت لگادئیے گئے ہیں۔ (احمد بن حنبل بغوی ابن حباں، حاکم اور طبرانی نے معجم کبیر میں انس سے روایت کیا ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کیا ہے)
33181 كم من عذق رداح لابي الدحداح في الجنة.(حم والبغوي ، حب ، ك ، طب - عن أنس ، طب - عن عبد الرحمن بن ابزى).
তাহকীক: