কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৮৭৪২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٠۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا، اس وقت تک یہ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک امت میں دھنساؤ، بگڑاؤ اور پتھراؤ نہیں ہوجاتا، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ایسا کب ہوگا ؟ فرمایا : جب تم دیکھو کہ عورتیں (گھوڑوں کی) زینوں پر سوار ہیں، گانے والیاں عام ہیں، جھوٹی گوائیاں دی جارہی ہیں، شرابیں پی جارہی ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں اور نماز پڑھنے والے (یعنی دیندار) مشرکین کے برتنوں یعنی سونے چاندی میں پینے لگے، مرد، مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے لطف اندوز ہونے لگیں تو اس وقت ڈرو، تیاری کرو اور آسمانی پتھراؤ سے بچو۔ (حاکم وتعقب، ابن عدی بیھقی وضعفہ عن ابوہریرہ
38730- "والذي بعثني بالحق لا تنقضي هذه الدنيا حتى يقع بهم الخسف والمسخ والقذف، قالوا: ومتى ذلك يا نبي الله؟ قال: إذا رأيتم النساء قد ركبن السروج، وكثرت القينات، وشهد شهادات الزور، وشرب الخمر لا يستخفى بها، وشرب المصلون في آنية أهل الشرك من الذهب والفضة، واستغنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء، فاستذفروا واستعدوا واتقوا القذف من السماء." ك وتعقب، عد هب وضعفه - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣١۔۔۔ دھنساؤ، بگڑاؤ اور زلزلہ ضرور ہوگا، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا اس امت میں ہوگا ؟ فرمایا : ہاں ! جب گانے والیوں کو اپنایا جائے زناکو جائز سمجھا جائے، لوگ سود کھائیں، حرم کے شکار کو حلال جانیں (مرد) ریشم پہنیں، مرد، مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جی بہلائیں۔ (ابن النجار عن ابن عمر)
38731- "لا بد من خسف ومسخ ورجف! قالوا: يا رسول الله! في هذه الأمة؟ قال: نعم، إذا اتخذوا القيان، واستحلوا الزنا،وأكلوا الربا، واستحلوا الصيد في الحرم، ولبسوا الحرير، واكتفى الرجال بالرجال والنساء بالنساء." ابن النجار - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٢۔۔۔ میری امت میں دھنساؤ، بگڑاؤ اور پتھراؤ اس وجہ سے ہوگا کہ انھوں نے گانے والی رکھی ہوں گی اور شرابیں پی ہوں گی۔ (طبرانی وابن عساکر عن ابی مالک الاشعری، البغوی عن ہشام بن الغاز عن ابیہ عن جدہ ربیعہ)
38732- "يكون في أمتي الخسف والمسخ والقذف باتخاذهم القينات وشربهم الخمور." طب وابن عساكر - عن أبي مالك الأشعري، البغوي - عن هشام بن الغاز عن أبيه عن جده ربيعة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٣۔۔۔ اس امت میں اس وقت دھنساؤ، بگڑاؤ اور پتھراؤ ہوگا جب گانے والیاں اور آلات موسیقی عام ہوجائیں شراب کو حلال سمجھا جائے۔ (عبدبن حمید وابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی وابن النجار عن سھل بن سعد)
38733- "يكون في هذه الأمة خسف ومسخ وقذف إذا ظهرت القيان والمعازف واستحلت الخمور." عبد بن حميد وابن أبي الدنيا في ذم الملاهي وابن النجار - عن سهل بن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٤۔۔۔ بکثرت میری امت میں جب گانے والیاں، آلات موسیقی ظاہر ہوجائیں گے اور شرابیں پی جانے لگیں گی تو اس وقت دھنسنا، صورتیں بگڑنا اور پتھراؤ ہوگا۔ (ابن الدنیا فی ذم الملاھی عن عمران بن حصین)
38734- "تكون في أمتي قذف ومسخ وخسف إذا ظهرت المعازف وكثرت القينات وشربت الخمور." ابن أبي الدنيا في ذم الملاهي عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٥۔۔۔ میری امت کے آخر میں آخری زمانہ میں ایک قوم بندروں وخنزیروں کی صورت بگاڑدی جائے گی، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ اللہ کے معبود اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دیتے اور روزے رکھتے ہوں گے ؟ فرمایا : ہاں، عرض کیا گیا : ان کا قصور کیا ہوگا ؟ فرمایا : وہ آلات موسیقی رکھیں گے اور گانے والیاں، اور دفیں رکھیں گے شرابیں پیں گے، شراب خوری اور مستی میں رات بسر کریں گے صبح ہوگی تو ان کے چہروں بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل ہوچکے ہوں گے۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ )
38735- "يمسخ قوم من أمتي في آخر الزمان قردة وخنازير، قيل: يا رسول الله! ويشهدون أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله ويصومون؟ قال: نعم، قيل: فما بالهم يا رسول الله؟ قال: يتخذون المعازف والقينات والدفوف ويشربون الأشربة، فباتوا على شربهم ولهوهم فأصبحوا وقد مسخوا قردة وخنازير." حل - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٧٣٦۔۔۔ اس امت میں ضرور ایک قوم بندر وخنزیر ہوگی، وہ بہر صورت صبح کریں گے تو کہا جائے گا فلاں کے گھرانے والے اور فلاں کے گھرانے والے دھنسا دئیے گئے دو آدمی چل رہے ہوں گے، ایک کو شراب نوشی اور دوسرے کو ریشم پوشی کے سبب، بربط اور ستار بجانے کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ (نعیم بن حماد فی الفتن عن مالک الکندی)
38736- "ليكونن من هذه الأمة قوم قردة وخنازير، ليصبحن فيقال خسف بدار بني فلان ودار بني فلان، وبينما الرجلان يمشيان يخسف بأحدهما بشرب الخمور ولباس الحرير والضرب بالمعازف والزمارة." نعيم بن حماد في الفتن - عن مالك الكندي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٣٧۔۔۔ جہاں فتنہ دجال ہے تو ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے میں تمہیں اس سے اسے ڈراتا ہوں کہ اس طرح کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں ڈرایا، وہ کانا ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ کانے پن سے پاک ہے اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر ایماندار پڑھ لے گا، رہا قبر کا فتنہ تو تم لوگوں کو میری وجہ سے آزمایا جائے گا اور میرے بارے پوچھا جائے گا، جب اگر آدمی نیک ہوا تو اسے بےخوف وخطر قبر میں بٹھا کر کہا جائے گا : محمد اللہ کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، آپ ہمارے پاس اللہ کی جانب سے دلائل لائے جن کی ہم نے تصدیق کی، تو جہنم کے جانب سے معمولی سا شگاف ہوگا، وہ اسے دیکھے گا کہ لپٹ پر لپٹ کھائے جاتی ہے اس سے کہا جائے گا : اسے دیکھو جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچالیا پھر (اس کی قبر میں) جنت کی جانب کشادگی کی جائے گی وہ اس کی آب وتاب اور اس میں موجود نعمتیں دیکھے گا، اس سے کہا جائے گا یہ تیرا جنت میں ٹھکانا ہے، اس سے کہا جائے گا : تو (صحیح) یقین پر تھا، اسی پر میرا اور اسی پر انشاء اللہ تجھے اٹھایا جائے گا۔
اور جب کبھی وہ شخص برا ہوا توا سے خوف زدہ کرکے قبر میں بٹھا کر کہا جائے گا : تو کیا کہتا تھا : وہ کہے گا : مجھے کچھ پتہ نہیں، کہا جائے گا جو شخص تم میں (نبی) تھا اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ وہ کہے گا میں نے جیسا لوگوں کو کہتے سنا ویسا کہتا رہا، پھر اس کی قبر میں جنت کی جانب شگاف ہوگا، وہ اس کی ریل پیل دیکھے گا، کہا جائے گا : دیکھ جس چیز کو اللہ نے تجھ سے دور کردیا، پھر اس کی قبر میں جہنم کی طرف سے طاقچہ سا کیا جائے گا، وہ اس کی آگ کو پھنکارتے اور ایندھن کھاتے دیکھے گا کہا جائے گا : یہ تیرا جہنم میں ٹھکانا ہے تو شک پر تھا اسی پر میرا اور اسی پر تجھے انشاء اللہ اٹھایا جائے گا پھر اسے عذاب ہونا شروع ہوجائے گا (مسند احمد عن عائشۃ
اور جب کبھی وہ شخص برا ہوا توا سے خوف زدہ کرکے قبر میں بٹھا کر کہا جائے گا : تو کیا کہتا تھا : وہ کہے گا : مجھے کچھ پتہ نہیں، کہا جائے گا جو شخص تم میں (نبی) تھا اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ وہ کہے گا میں نے جیسا لوگوں کو کہتے سنا ویسا کہتا رہا، پھر اس کی قبر میں جنت کی جانب شگاف ہوگا، وہ اس کی ریل پیل دیکھے گا، کہا جائے گا : دیکھ جس چیز کو اللہ نے تجھ سے دور کردیا، پھر اس کی قبر میں جہنم کی طرف سے طاقچہ سا کیا جائے گا، وہ اس کی آگ کو پھنکارتے اور ایندھن کھاتے دیکھے گا کہا جائے گا : یہ تیرا جہنم میں ٹھکانا ہے تو شک پر تھا اسی پر میرا اور اسی پر تجھے انشاء اللہ اٹھایا جائے گا پھر اسے عذاب ہونا شروع ہوجائے گا (مسند احمد عن عائشۃ
38737- "أما فتنة الدجال فإنه لم يكن نبي إلا قد حذر أمته، وسأحذركموه تحذيرا لم يحذره نبي أمته، إنه أعور وإن الله ليس بأعور، ومكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن، وأما فتنة القبر فبي تفتنون وعني تسألون، فإذا كان الرجل الصالح أجلس في قبره غير فزع ثم يقال له: ما هذا الرجل الذي كان فيكم، فيقول: محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، جاءنا بالبينات من عند الله عز وجل فصدقناه فتفرج له فرجة قبل النار، فينظر إليها يحطم بعضها بعضا، فيقال له: انظر إلى ما وقاك الله عز وجل، ثم يفرج له فرجة إلى الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها، فيقال له: هذا مقعدك منها، ويقال له: على اليقين كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله تعالى، وإذا كان الرجل السوء أجلس في قبره فزعا فيقال له: ما كنت تقول؟ فيقول: لا أدري، فيقال: ما هذا الرجل الذي كان فيكم؟ فيقول: سمعت الناس يقولون قولا فقلت كما قالوا، فتفرج له فرجة من قبل الجنة، فينظر إلى زهرتها وما فيها، فيقال له انظر إلى ما صرف الله عنك، ثم يفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا، ويقال له: هذا مقعدك منها، على الشرك كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله تعالى، ثم يعذب." حم - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٣٨۔۔۔ اللہ کی قسم میں اپنی جگہ اس کسی ایسے کام سے کھڑا نہیں ہوا جس کا تمہیں رغبت یا خوف کی وجہ سے نفع ہوا البتہ تمیم الداری نے آکر مجھے ایک بات بتائی جس کی وجہ سے مجھے دوپہر کی نیند نہیں آئی خوشی اور آنکھ ٹھنڈی ہونے کی وجہ، میں نے چاہا کہ تمہیں تمہارے نبی کی خوشی سے آگاہ کروں تو سنو ! تمیم داری نے مجھے بتایا کہ (تیز تند) ہوانے انھیں ایک ناواقف جزیرے کے پاس پہنچادیا، تو وہ جہاز کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ تک چلے گئے کیا دیکھتے ہیں : ایک چیز ہے جس کے بال ہی بال ہیں انھوں نے اس سے پوچھا : تو کون ہے ؟ وہ کہنے لگی : میں حباسہ ہوں انھوں نے کہا : ہمیں کچھ بتاؤ ! وہ کہنے لگی : نہ میں تمہیں کچھ بتانے کی اور نہ تم سے پوچھنے کی، البتہ اس راہب گاہ (گرجے) میں جاؤ جو تمہیں نظر آرہا ہے تم وہاں چلے جاؤ، اس میں ایک آدمی رسیوں میں کسابندھا ہے وہ تمہیں تمہاری خبردے گا، چنانچہ وہ لوگ ادھر چل دئیے اندر گئے تو ایک بوڑھا شخص سختی سے کسا بندھا ہے جس پر غم عیاں، شکایت و تکلیف بےانتہا ہے، ان لوگوں سے کسی نے کہا : تم لوگ کہاں سے آئے ہو ؟ انھوں نے کہا : شام سے، وہ کہنے لگا : عربوں کا کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : ہم عرب کی قوم ہیں، تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو ؟ وہ کہنے لگا : اس شخص کا کیا ہوا جو تم میں (نبی بن کر) ظاہر ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : بہتر ہے اس نے ایک قوم سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے مقابلہ میں فتح دی اب ان میں اتفاق ہے (وہ اس طرح کہ) ان کا معبود ایک اور دین ایک ہے۔ وہ کہنے لگا : نہرزعر (نامی بستی) کا کیا بنا ؟ وہ کہنے لگے : ٹھیک ہے، لوگ اس سے اپنی فصلوں کو سیراب کرتے اور اپنے پینے کو لے جاتے ہیں۔ وہ کہنے لگا : عمان اور بیسان کے بیچ جو نخلستان (کھجوروں کا باغ) ہے اس کا کیا حال ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ ہر سال پھل دیتا ہے، وہ کہنے لگا : بحیرہ طبریہ کا کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : اس کا پانی بلیوں اچھلتا ہے تو اس نے تین چیخیں ماریں، پھر کہنے لگا : میں اگر اپنی ان رسیوں سے کھلا ہوتا تو سوائے مدینہ کے ہر بستی کو اپنے ان دونوں پاؤں سے روند دیتا، مجھے وہاں تک جانے کی جرات نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں تک میری خوشی پوری ہوئی، یہ مدینہ ہے اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! مدینہ کا جو تنگ و کشادہ راستہ، نرم وسخت پہاڑو میدان ہے اس پر ایک فرشتہ تاقیامت تلوار سونتے کھڑا ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ عن فاطمۃ بنت قیس)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٠٩٧۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٠٩٧۔
38738- "إني والله ما قمت مقامي هذا لأمر ينفعكم لرغبة ولا لرهبة ولكن تميما الداري أتاني فأخبرني خبرا منعنى القيلولة من الفرح وقرة العين فأحببت أن أنشر عليكم فرح نبيكم، ألا! إن تميما الداري أخبرني أن الريح ألجأتهم إلى جزيرة لا يعرفونها، فقعدوا في قوارب السفينة حتى خرجوا إلى الجزيرة فإذا هم بشيء أهلب كثير الشعر، قالوا له: ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة، قالوا: أخبرينا قالت: ما أنا بمخبرتكم شيئا ولا سائلتكم ولكن هذا الدير قد رمقتموه فأتوه، فإن فيه رجلا بالأشواق إلى أن تخبروه بخبركم، فأتوه فدخلوا عليه فإذا هم بشيخ موثق شديد الوثاق يظهر الحزن شديد التشكي، فقيل لهم: من أين؟ قالوا: من الشام؟ قال: ما فعلت العرب؟ قالوا: نحن قوم من العرب، عما تسأل؟ قال: ما فعل هذا الرجل الذي خرج فيكم؟ قالوا: خيرا، ناوى قوما فأظهره الله عليهم فأمرهم اليوم جميع إلههم واحد ودينهم واحد، قال: ما فعلت عين زغر 1؟ قالوا: خيرا: يسقون منها زروعهم ويستقون منها لسقيهم، قال: ما فعل نخل بين عمان وبيسان؟ قالوا: يطعم ثمره كل عام، قال: فعلت بحيرة الطبرية؟ قالوا: تدفق جنباتها من كثرة الماء، فزفر ثلاث زفرات ثم قال: لو انفلت من وثاقي هذا لم أدع أرضا إلا وطئتها برجلي هاتين إلا طيبة، ليس لي عليها سبيل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى هذا انتهى فرحي، هذه طيبة! والذي نفسي بيده! ما فيها طريق ضيق ولا واسع ولا سهل ولا جبل إلا وعليه ملك شاهر سيفه إلى يوم القيامة." حم، هـ- عن فاطمة بنت قيس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٣٩۔۔۔ یاد رکھنا ! خیر سے محروم دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے گویا اس کی آنکھ پچکا انگور کا دانہ ہے اور آج رات میں نے کعبہ کے پاس خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کا گندمی رنگ ہے جیسا گندم گوں اچھے قسم کے آدمی تم دیکھتے ہو، اس کی زلفیں کندھوں کے درمیان پڑتی ہیں، اس کے بالوں میں کنگھا ہوا ہے سر سے پانی ٹپک رہا ہے اس نے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ان کے درمیان بیت اللہ کا طواف کررہا ہے، میں نے کہا یہ کون ہے ؟ بتانے والوں نے کہا : مسیح بن مریم (علیہما السلام) ہیں۔
پھر اس کے پیچھے ایک اور شخص دیکھا جس کے بال گھنگھریالے چھوٹے ہیں اس کی داہنی آنکھ کانی ہے وہ (بھی) بیت (اللہ) کا طواف کررہا ہے میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ خیر سے محروم دجال ہے۔ (بیھقی عن ابن عمر)
پھر اس کے پیچھے ایک اور شخص دیکھا جس کے بال گھنگھریالے چھوٹے ہیں اس کی داہنی آنکھ کانی ہے وہ (بھی) بیت (اللہ) کا طواف کررہا ہے میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ خیر سے محروم دجال ہے۔ (بیھقی عن ابن عمر)
38739- "ألا! إن المسيح الدجال أعور العين اليمنى، كأن عينه عنبة طافئة، وأراني الليلة عند الكعبة في المنام فإذا رجل آدم كأحسن ما ترى من أدم الرجال، تضرب لمته بين منكبيه، رجل الشعر: يقطر رأسه ماء، واضعا يديه على منكبي رجلين وهو بينهما، يطوف بالبيت، فقلت: من هذا؟ فقالوا: المسيح ابن مريم، ثم رأيت رجلا وراءه جعدا قططا أعور عين اليمنى يطوف بالبيت، فقلت: من هذا؟ فقالوا: هذا المسيح الدجال." ق - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٠۔۔۔ میں دجال سے زیادہ تمہارے بارے خوفزدہ ہوں، اگر وہ نکل آیا اور میں تم میں ہوا، تو میں تمہاری طرف سے اس سے جھگڑوں گا، اور اگر وہ میری عدم موجودگی میں نکلا تو ہر آدمی اپنا آپ جھگڑا کرے گا اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔ وہ جوان گھنگھریالے بالوں والا ہوگا اس کی ایک آنکھ گویا پکا انگور کا دانہ ہے یوں لگتا ہے کہ وہ عبدالعزیز بن قطن کی طرح ہے تم میں سے جس کسی کو وہ مل جائے وہ اس کے سامنے سورة کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام و عراق کے درمیان خالی جگہ میں نکلے گا وہ دائیں بائیں پھرے گا، اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : چالیس دن، ایک دن سال بھرکا اور ایک دن مہینے کا، اور حصہ کی طرح کا، باقی دن تمہارے عام دنوں جیسے ہوں گے۔
ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ دن جو سال کے برابر ہوگا اس میں ہمیں ایک دن کی نماز کافی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، اس کا اندازہ لگالینا، لوگوں نے عرض کیا : زمین میں اس کی تیزی کیسے ہوگی ؟ فرمایا : جیسے بارش کہ ہوا اسے دکھیلتی ہے وہ ایک قوم کے پاس آئے گا انھیں بلائے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اس کی بات مانیں گے آسمان کو حکم دے گا وہ برسائے گا زمین کو کہے گا وہ اگائے گی تو ان کی مویشی بچوں سے جلدی بڑے ہو کر، تھن دار اور شکم بار ہوجائیں گے۔
پھر وہ ایک قوم کے پاس آکر انھیں بلائے گا وہ اس کی بات کی تردید کردیں گے تو وہ لوٹ جائے گا صبح وہ تہی دست ہوں گے ان کے مال میں سے کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہوگا، ایک ویرانے پر سے اس کا گزر ہوگا اسے کہے گا : اپنے خزانے نکال ! تو کئی طرح پے درپے اس کے خزانے نکلیں گے، اس کے بعد ایک نوجوان کو بلائے گا اسے تلوار مار کر دو ٹکڑے کردے گا جیسے نشانے پر وار کیا جاتا ہے، پھر اسے بلائے گا تو وہ اٹھ کر اس کی طرف آجائے گا اس کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ ہنس رہا ہوگا، وہ اسی حالت میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (علیہما السلام) کو بھیج دے گا چنانچہ وہ دمشق کی مشرقی جانب سفید مینارے پر دو شقوں کے درمیان دو فرشتوں کے (کندھوں) پروں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا جب وہ سرجھکائیں گے اور پانی موتیوں کی طرح ڈھلکے گا جب وہ سر اٹھائیں گے، کسی کافر کے لیے حلال نہیں جو آپ کی مہک پائے اور مرے نہیں، اور آپ کی مہک جہاں تک آپ کی نظر پہنچے گی وہاں تک ہوگی، آپ دجال کو تلاش کرنے لگیں گے اور بالاۤخر لد کے دروازے پر مل کر اسے قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) ایسی قوم کے پاس آئیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا ہوگا ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں اور انھیں ان کے جنتی درجات بتادیں گے آپ اسی حالت میں ہوں گے اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجے گا : میں نے اپنے بندے نکال لیے ہیں جن کے مقابلہ کا کسی کو یارا نہیں، تو میرے بندوں کو طور کی طرف محفوظ کرلو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا ” وہ ہر اونچی جگہ سے پھسل رہے ہوں گے “ ان کا اگلا ریلہ بحیرۂطبریہ سے گزرے گا اس کا سب پانی ہڑپ کرلیں گے ان کا آخری گروہ گزرے گا تو کہیں گے : لگتا ہے یہاں کبھی پانی تھا، پھر وہ چلتے چلتے جبل الخمر تک پہنچ جائیں گے وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے کہیں گے : ہم نے زمین والے مار ڈالے چلو آسمان والوں کو ماریں، تو وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون آلود کرکے ان کی طرف لوٹائیں گے، اللہ کے (رسول) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے لیے لہسن کا سر تمہارے آج کے کسی شخص کے سو دنیا سے بہتر ہوگا، اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف راغب کریں گے (یعنی دعاکریں گے) تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) پر ایک کیڑا بھیجے گا جو ان کے گردنوں سے چمٹ جائے گا، صبح وہ سب ایک آدمی کی موت کی طرح مرپڑیں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی (پہاڑ سے) زمین کی طرف اتریں گے، تو اس زمین کا ایک بالشت حصہ بھی اسا نہ ہوگا جہاں کی نعشیں، بدبو اور خون نہ ہوگا، اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو اللہ کی طرف رغبت دلائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) پر ایسے پرندے بھیجے گا جیسے بختی اونٹوں کی گردنیں ہوتی ہیں تو وہ انھیں اٹھا کر ایسی جگہ پھینکیں گے جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کوئی کچا پکا گھر نہیں بچے گا پس زمین کو دھوکر چمکدار چٹان کی طرح کردے گا۔
پھر زمین سے کہا جائے گا : اپنے پھل اگا اپنی برکات لا، چنانچہ اس روز ایک جماعت ایک انار کھائے گی اور اس کے چھلکے کے سایہ میں بیٹھے گی، اللہ تعالیٰ اونٹ بکری کے ریوڑ میں برکت دے گا، یہاں تک کہ ایک گابھن اونٹنی لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے کافی ہوگی، اسی حالت میں وہ لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو انھیں ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی اور ایماندار مسلمان روح قبض کرلے گی، اور برے لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ کریں گے انھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسند احمد، مسلم، ترمذی عن النواس بن سمعان)
ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ دن جو سال کے برابر ہوگا اس میں ہمیں ایک دن کی نماز کافی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، اس کا اندازہ لگالینا، لوگوں نے عرض کیا : زمین میں اس کی تیزی کیسے ہوگی ؟ فرمایا : جیسے بارش کہ ہوا اسے دکھیلتی ہے وہ ایک قوم کے پاس آئے گا انھیں بلائے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اس کی بات مانیں گے آسمان کو حکم دے گا وہ برسائے گا زمین کو کہے گا وہ اگائے گی تو ان کی مویشی بچوں سے جلدی بڑے ہو کر، تھن دار اور شکم بار ہوجائیں گے۔
پھر وہ ایک قوم کے پاس آکر انھیں بلائے گا وہ اس کی بات کی تردید کردیں گے تو وہ لوٹ جائے گا صبح وہ تہی دست ہوں گے ان کے مال میں سے کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہوگا، ایک ویرانے پر سے اس کا گزر ہوگا اسے کہے گا : اپنے خزانے نکال ! تو کئی طرح پے درپے اس کے خزانے نکلیں گے، اس کے بعد ایک نوجوان کو بلائے گا اسے تلوار مار کر دو ٹکڑے کردے گا جیسے نشانے پر وار کیا جاتا ہے، پھر اسے بلائے گا تو وہ اٹھ کر اس کی طرف آجائے گا اس کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ ہنس رہا ہوگا، وہ اسی حالت میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (علیہما السلام) کو بھیج دے گا چنانچہ وہ دمشق کی مشرقی جانب سفید مینارے پر دو شقوں کے درمیان دو فرشتوں کے (کندھوں) پروں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا جب وہ سرجھکائیں گے اور پانی موتیوں کی طرح ڈھلکے گا جب وہ سر اٹھائیں گے، کسی کافر کے لیے حلال نہیں جو آپ کی مہک پائے اور مرے نہیں، اور آپ کی مہک جہاں تک آپ کی نظر پہنچے گی وہاں تک ہوگی، آپ دجال کو تلاش کرنے لگیں گے اور بالاۤخر لد کے دروازے پر مل کر اسے قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) ایسی قوم کے پاس آئیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا ہوگا ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں اور انھیں ان کے جنتی درجات بتادیں گے آپ اسی حالت میں ہوں گے اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجے گا : میں نے اپنے بندے نکال لیے ہیں جن کے مقابلہ کا کسی کو یارا نہیں، تو میرے بندوں کو طور کی طرف محفوظ کرلو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا ” وہ ہر اونچی جگہ سے پھسل رہے ہوں گے “ ان کا اگلا ریلہ بحیرۂطبریہ سے گزرے گا اس کا سب پانی ہڑپ کرلیں گے ان کا آخری گروہ گزرے گا تو کہیں گے : لگتا ہے یہاں کبھی پانی تھا، پھر وہ چلتے چلتے جبل الخمر تک پہنچ جائیں گے وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے کہیں گے : ہم نے زمین والے مار ڈالے چلو آسمان والوں کو ماریں، تو وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون آلود کرکے ان کی طرف لوٹائیں گے، اللہ کے (رسول) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے لیے لہسن کا سر تمہارے آج کے کسی شخص کے سو دنیا سے بہتر ہوگا، اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف راغب کریں گے (یعنی دعاکریں گے) تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) پر ایک کیڑا بھیجے گا جو ان کے گردنوں سے چمٹ جائے گا، صبح وہ سب ایک آدمی کی موت کی طرح مرپڑیں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی (پہاڑ سے) زمین کی طرف اتریں گے، تو اس زمین کا ایک بالشت حصہ بھی اسا نہ ہوگا جہاں کی نعشیں، بدبو اور خون نہ ہوگا، اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو اللہ کی طرف رغبت دلائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) پر ایسے پرندے بھیجے گا جیسے بختی اونٹوں کی گردنیں ہوتی ہیں تو وہ انھیں اٹھا کر ایسی جگہ پھینکیں گے جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کوئی کچا پکا گھر نہیں بچے گا پس زمین کو دھوکر چمکدار چٹان کی طرح کردے گا۔
پھر زمین سے کہا جائے گا : اپنے پھل اگا اپنی برکات لا، چنانچہ اس روز ایک جماعت ایک انار کھائے گی اور اس کے چھلکے کے سایہ میں بیٹھے گی، اللہ تعالیٰ اونٹ بکری کے ریوڑ میں برکت دے گا، یہاں تک کہ ایک گابھن اونٹنی لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے کافی ہوگی، اسی حالت میں وہ لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو انھیں ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی اور ایماندار مسلمان روح قبض کرلے گی، اور برے لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ کریں گے انھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسند احمد، مسلم، ترمذی عن النواس بن سمعان)
38740- "غير الدجال أخوفني عليكم، إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم، إنه شاب قطط، إحدى عينيه كأنها عنبة طافئة، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن، فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف، إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا، يا عباد الله! فاثبتوا، قلنا: يا رسول الله! ما لبثه في الأرض؟ قال: أربعون يوما، يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم، قلنا يا رسول الله! فذلك اليوم كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم قال: لا، اقدروا له قدره، قالوا: وما إسراعه في الأرض؟ قال: كالغيث استدبرته الريح، فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له، فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت، فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كانت ذرى وأصبغه ضروعا، وأمده خواصر، ثم يأتي القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أموالهم، ويمر بالخربة فيقول لها: أخرجي كنوزك، فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل. ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض: ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك، فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين2 واضعا كفيه على أجنحة ملكين، إذا طأطأ رأسه قطر وإذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ، ولا يحل لكافر بحد ريح نفسه إلا مات. ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله. ثم يأتي عيسى قوما قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة، فبينما هو كذلك إذ أوحى الله عز وجل إلى عيسى عليه السلام: إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز1 عبادى إلى الطو، ويبعث الله عز وجل يأجوج ومأجوج {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها، ويمر آخرهم فيقولون: لقد كان بهذه مرة ماء ثم يسيرون حتى ينتهوا إلى جبل الخمر وهو جبل بيت المقدس فيقولون: لقد قتلنا من في الأرض فهلموا لنقتل من في السماء! فيرمون بنشابهم إلى السماء فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دما ويحصر نبي الله عيسى عليه السلام وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم، فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله عز وجل، فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم، فيصيحون فرسي كموت نفس واحدة، ثم يهبط نبي الله عيسى وأصحابه إلى الأرض فلا يجدون في الأرض موضع شبر إلا وقد ملأه زهمهمونتنهم ودماؤهم. فيرغب نبي الله عيسى عليه السلام وأصحابه إلى الله عز وجل، فيرسل عليهم طيرا كأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله تعالى، ثم يرسل الله عز وجل مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة، ثم يقال للأرض: أنبتي ثمرتك وردي بركتك، فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك الله في الرسل حتى أن اللقحةمن الإبل لتكفي الفئام من الناس، واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس، واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس، فبينما هم كذلك إذ بعث الله عز وجل ريحا طيبة فتأخذهم تحت آباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم، ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة." حم، م4 ت - عن النواس بن سمعان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤١۔۔۔ لوگو ! جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ؟ میں نے اللہ کی قسم ! تمہیں کسی رغبت یاترہیب کے لیے جمع نہیں کیا، البتہ اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری عیسائی آدمی تھے وہ بیعت ہوئے اور اسلام قبول کرکے انھوں نے مجھے ایک قصہ سنایا، جو خیر سے محروم دجال کے اس بیان سے موافقت رکھتا۔ ہے جو میں تمہیں بتاتا تھا، انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ بحری جہاز میں تیس آدمیوں کے ہمراہ سوار ہوئے، وہ آدمی قبیلہ لخم اور جذام سے تعلق رکھتے تھے، سمندر میں ایک ماہ تک ہوانا موافق رہی پھر انھوں نے غروب آفتاب کی جانب کسی جزیرہ سمندری کا رخ کیا چنانچہ وہ بحری جہاد کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوگئے، وہاں انھیں ایک جانور ملا جس کے بال ہی بال ہیں بالوں کی کثرت سے اس کے سر پیر کا آگے پیچھے کا پتہ نہ چلتا تھا، انھوں نے کہا : ارے تو کیا چیز ہے ؟ وہ بولا : میں جساسہ ہوں، انھوں نے کہا : جساسہ کیا بلا ہے ؟ وہ بولا : لوگو ! تم اس گرجے میں چلے جاؤ وہاں ایک شخص تمہاری اطلاع کا بڑا شوقین ہے، تمیم داری کہتے ہیں : جب اس نے آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، خیر ہم جلدی سے گئے اور گرجے میں داخل ہوگئے، کیا دیکھتے ہیں ایک بہت بڑا انسان جو ہم نے کبھی دیکھا نہ تھا اس کے دونوں ہاتھ گردن سے اور گھٹنے ٹخنے سے ملا کر لوہے سے بندھے ہیں ہم نے کہا : تیرا ناس ہو ! تو کون ہے ؟ وہ کہنے لگا تمہیں میری اطلاع مل چکی تو مجھے بتاؤ تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم عرب ہیں بحری جہاز میں سوار تھے سمندر کی تیز موجوں نے ہمارا سامنا کیا اور مہینہ بھر موجیں اٹکھیلیاں کرتی رہیں یہاں تک کہ ہم نے تمہارے اس جزیرے کا رخ کیا، بحری جہاز کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر ہم جزیرۃ میں داخل ہوگئے، پھر ہمیں بےحد بالوں والا ایک جانور ملا بالوں کی کثرت سے اس کا آگا پیچا معلوم نہ ہوتا تھا، ہم نے اس سے پوچھا : تو کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا : میں جساسہ ہوں، ہم نے کہا : جساسہ کیا بلا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا : اس گرجے میں اس شخص کے پاس جاؤ، وہ تمہاری اطلاع کا بڑا مشتاق ہے تو ہم جلدی سے تمہارے پاس آگئے۔ اور اس سے ڈرنے لگے کہ مبادا وہ شیطان ہو۔
وہ شخص کہنے لگا : بسیان کے نخلستان کا بتاؤ ؟ ہم نے کہا : تم اس کی کس چیز کی اطلاع چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگا : میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اس کی کھجوریں پھل دیتی ہیں ؟ ہم نے اس سے کہا : ہاں ، وہ بولا : میرا خیال ہے اب وہ پھل نہ دیں گے۔ کہنے لگا : بحیرہ طبریہ کا سناؤ ؟ ہم نے اس سے کہا : اس کی کس کیفیت کا حال پوچھتے ہو ؟ کہنے لگا : کیا اس میں پانی ہے ؟ ہم نے کہا : بےحد پانی ہے بولا : اس کا پانی عنقریب خشک ہوجائے گا، کہنے لگا : زغر (شام کی بستی) کی نہر کا کیا ہوا ؟ ہم نے کہا : اس کی کس چیز کے متعلق پوچھتے ہو ؟ کہنے لگا : کیا نہر میں پانی ہے اور لوگ نہر کے پانی سے آب پاشی کرتے ہیں ؟ ہم نے اس سے کہا : ہاں اس کا پانی بلیوں ہے اور لوگ اس کے پانی سے آبپاشی کرتے ہیں، کہنے لگا : (مکہ والوں ) ان پڑھوں کے نبی کا بتاؤ کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : وہ مکہ میں پیدا ہوئے اور یثرب میں بسیرا کیا ہے، کہنے لگا : کیا عربوں نے اس سے جنگ کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں، کہنے لگا : اس نے ان سے کیا برتاؤ کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریب کے عربوں پر غالب رہے اور انھوں نے آپ کی فرمان برداری قبول کرلی ہے، کہنے لگا : کیا یہ (سب) ہوچکا ؟ ہم نے کہا : ہاں، کہنے لگایہ ان کے لیے بہتر ہے کہ اس کی اطاعت کرلی ہے، میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں میں خیر سے محروم دجال ہوں، عنقریب مجھے جانے کی اجازت مل جائے گی میں نکل کر زمین میں پھروں گا، ہر بستی میں اتروں گا یہ چالیس راتوں کا عرصہ ہوگا صرف مکہ اور مدینہ میں نہ جاسکوں گا وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں جب میں ان میں سے کسی ایک میں جانے کا ارادہ کروں گا ایک فرشتہ ہاتھ میں تلوار سونتے میرے سامنے آجائے گا، جو مجھے اس سے روک دے گا اس کے ہر درے پر فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں یہ مدینہ ہے مدینہ، مدینہ خبردار ! کیا میں یہ بات تم سے بیان کرچکا ہوں، البتہ مجھے تمیم کی بات بھلی لگی کیونکہ وہ اس کے موافق تھی جو میں اس (دجال) کے مکہ اور مدینہ کے بارے میں تم سے بیان کرتا تھا، صرف اتنی بات ہے کہ وہ بحر شام یا یمن میں نہیں بلکہ وہ (دجال ) مشرق کی جانب ہوگا جب کہ یہ مشرق کی جانب نہیں، مشرق کی جانب نہیں آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا، (فاطمہ بن قیس) فرماتی ہیں : میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یاد کی ہے۔ (مسند احمد، مسلم عن فاطمۃ بنت قیس، میں کہتا ہوں : کہ شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے قسم الافعال میں فرمایا : کہ طبرانی نے اس حدیث کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ بلکہ وہ بحر عراق میں ہے وہ اس کے کسی اصبہان نامی دہشر سے نکلے گا، اس کا کوئی گاؤں ہوگا ج سے ” استقاباد “ کہیں گے، جب وہ نکلے گا تو اس کے لشکر کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے جن پر تاج ہوں گے اس کے ساتھ دونہریں ہوں گی، پانی اور آگ کی نہر، جسے یہ زمانہ ملے اور اس سے کہا جائے پانی میں داخل ہو تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ آگ ہوگی اور اگر کہا جائے آگ میں داخل ہو تو ہوجائے کیونکہ وہ پانی ہوگا۔ (ای اۤخر)
وہ شخص کہنے لگا : بسیان کے نخلستان کا بتاؤ ؟ ہم نے کہا : تم اس کی کس چیز کی اطلاع چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگا : میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اس کی کھجوریں پھل دیتی ہیں ؟ ہم نے اس سے کہا : ہاں ، وہ بولا : میرا خیال ہے اب وہ پھل نہ دیں گے۔ کہنے لگا : بحیرہ طبریہ کا سناؤ ؟ ہم نے اس سے کہا : اس کی کس کیفیت کا حال پوچھتے ہو ؟ کہنے لگا : کیا اس میں پانی ہے ؟ ہم نے کہا : بےحد پانی ہے بولا : اس کا پانی عنقریب خشک ہوجائے گا، کہنے لگا : زغر (شام کی بستی) کی نہر کا کیا ہوا ؟ ہم نے کہا : اس کی کس چیز کے متعلق پوچھتے ہو ؟ کہنے لگا : کیا نہر میں پانی ہے اور لوگ نہر کے پانی سے آب پاشی کرتے ہیں ؟ ہم نے اس سے کہا : ہاں اس کا پانی بلیوں ہے اور لوگ اس کے پانی سے آبپاشی کرتے ہیں، کہنے لگا : (مکہ والوں ) ان پڑھوں کے نبی کا بتاؤ کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : وہ مکہ میں پیدا ہوئے اور یثرب میں بسیرا کیا ہے، کہنے لگا : کیا عربوں نے اس سے جنگ کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں، کہنے لگا : اس نے ان سے کیا برتاؤ کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریب کے عربوں پر غالب رہے اور انھوں نے آپ کی فرمان برداری قبول کرلی ہے، کہنے لگا : کیا یہ (سب) ہوچکا ؟ ہم نے کہا : ہاں، کہنے لگایہ ان کے لیے بہتر ہے کہ اس کی اطاعت کرلی ہے، میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں میں خیر سے محروم دجال ہوں، عنقریب مجھے جانے کی اجازت مل جائے گی میں نکل کر زمین میں پھروں گا، ہر بستی میں اتروں گا یہ چالیس راتوں کا عرصہ ہوگا صرف مکہ اور مدینہ میں نہ جاسکوں گا وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں جب میں ان میں سے کسی ایک میں جانے کا ارادہ کروں گا ایک فرشتہ ہاتھ میں تلوار سونتے میرے سامنے آجائے گا، جو مجھے اس سے روک دے گا اس کے ہر درے پر فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں یہ مدینہ ہے مدینہ، مدینہ خبردار ! کیا میں یہ بات تم سے بیان کرچکا ہوں، البتہ مجھے تمیم کی بات بھلی لگی کیونکہ وہ اس کے موافق تھی جو میں اس (دجال) کے مکہ اور مدینہ کے بارے میں تم سے بیان کرتا تھا، صرف اتنی بات ہے کہ وہ بحر شام یا یمن میں نہیں بلکہ وہ (دجال ) مشرق کی جانب ہوگا جب کہ یہ مشرق کی جانب نہیں، مشرق کی جانب نہیں آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا، (فاطمہ بن قیس) فرماتی ہیں : میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یاد کی ہے۔ (مسند احمد، مسلم عن فاطمۃ بنت قیس، میں کہتا ہوں : کہ شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے قسم الافعال میں فرمایا : کہ طبرانی نے اس حدیث کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ بلکہ وہ بحر عراق میں ہے وہ اس کے کسی اصبہان نامی دہشر سے نکلے گا، اس کا کوئی گاؤں ہوگا ج سے ” استقاباد “ کہیں گے، جب وہ نکلے گا تو اس کے لشکر کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے جن پر تاج ہوں گے اس کے ساتھ دونہریں ہوں گی، پانی اور آگ کی نہر، جسے یہ زمانہ ملے اور اس سے کہا جائے پانی میں داخل ہو تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ آگ ہوگی اور اگر کہا جائے آگ میں داخل ہو تو ہوجائے کیونکہ وہ پانی ہوگا۔ (ای اۤخر)
38741- "يا أيها الناس! هل تدرون لم جمعتكم! إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة ولكن جمعتكم لأن تميما الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع وأسلم وحدثني حديثا وافق الذي كنت أحدثكم عن المسيح الدجال، حدثني أنه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام، فلعب بهم الريح شهرا في البحر ثم أرفؤا إلى جزيرة في البحر حين مغرب الشمس فجلسوا في أقرب السفينة فدخلوا الجزيرة، فلقيتهم دابة أهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر، فقالوا: ويلك ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة، قالوا: وما الجساسة؟ قالت: أيها القوم! انطلقوا إلى الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق، قال: لما سمت لنا رجلا فرقنا منها أن تكون شيطانة، فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فإذا فيه أعظم إنسانا رأيناه خلقا قط وأشده وثاقا مجموعة يداه إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد، قلنا: ويلك ما أنت؟ قال: قد قدرتم على خبري فأخبروني ما أنتم؟ قالوا: نحن ناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية فصادفنا البحر حين اغتلم1 فلعب بنا الموج شهرا ثم أرفأنا إلى جزيرتك هذه فجلسنا في أقربها فدخلنا الجزيرة فلقينا دابة أهلب كثير الشعر ما ندري ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقلنا: ويلك: ما أنت؟ قال: أنا الجساسة، قلنا: وما الجساسة؟ قالت: اعمدوا إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق، فأقبلنا إليك سراعا وفرقنا منها ولم نأمن أن تكون شيطانة. فقال: أخبروني عن نخل بيسان، قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال: أسألكم عن نخلها هل يثمر، قلنا له: نعم، قال: أما أنا يوشك أن لا تثمر، قال: أخبروني عن بحيرة طبرية، قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال: هل فيها ماء؟ قلنا: هي كثيرة الماء، قال: إن ماءها يوشك أن يذهب، قال: أخبروني عن عين زغر قلنا: عن أي شأنها تستخبر؟ قال: هل في العين ماء وهل يزرع أهلها بماء العين؟ قلنا له: نعم، هي كثيرة الماء وأهلها يزرعون من مائها، قال: أخبروني عن نبي الأميين ما فعل؟ قالوا: قد خرج من مكة ونزل بيثرب، قال: أقاتله العرب؟ قلنا: نعم، قال: كيف صنع بهم؟ فأخبرناه أنه قد ظهر على من يليه من العرب وأطاعوه قال: قد كان ذلك؟ قلنا: نعم، قال أما! إن ذلك خير لهم أن يطيعوه، وإني مخبركم عني! إني أنا المسيح الدجال، وإني أوشك أن يؤذن لي بالخروج فأخرج فأسير في الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها في أربعين ليلة غير مكة وطيبة هما محرمتان علي كلتاهما، كلما أردت أن أدخل واحدة منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها، وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها، ألا أخبركم هذه طيبة هذه طيبة هذه طيبة ألا! هل كنت حدثتكم ذلك؟ فأنه أعجبني حديث تميم، إنه وافق الذي كنت أحدثكم عنه وعن المدينة ومكة إلا أنه في بحر الشام أو بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو وأومى بيده إلى المشرق،" قالت: فحفظت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم، م عن فاطمة بنت قيس، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي رضي الله عنه في قسم الأفعال: زاد طب في آخر هذا الحديث: بل هو في بحر العراق، يخرج حين يخرج من بلدة يقال لها أصبهان من قرية من قراها يقال لها رستقاباد، ويخرج حين يخرج على مقدمته سبعون ألفا عليهم التيجان، معه نهران: نهر من ماء ونهر من نار، فمن أدرك ذلك منكم فقيل له: ادخل الماء، فلا يدخله فإنه نار، وإذا قيل له: ادخل النار، فليدخلها فإنه ماء" - انتهى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٢۔۔۔ لوگو ! اللہ تعالیٰ نے جب سے زمین پر نسل آدم کو پھیلایا اس وقت سے لے کر آج تک کوئی فتنہ، دجال کے فتنے سے بڑا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھیجا ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، میں اب آخری نبی ہوں اور تم آخر کی امت ہو وہ ضرور تم میں ظاہر ہوگا اگر میرے ہوتے ہوئے وہ نکل آیا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس سے جھگڑوں گا، اور اگر میرے بعد نکلا تو ہر آدمی اپنی طرح سے حجت پیش کرے گا، اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے وہ شام و عراق کے درمیانی علاقہ سے نکلے گا اور دائیں بائیں پھرے گا، اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا، میں تمہارے سامنے اس کا نقشہ بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اس کا نقشہ نہیں کھینچا، وہ کہنا شروع کرے گا : میں نبی ہوں، حالانکہ میرے بعد کوئی (ظلی بروزی کسی قسم کا نیا) نبی نہیں دوسری بات یہ کہنا شروع کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں اور تم بن میرے اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتے، وہ کانا ہوگا جب کہ تمہارا رب کانا نہیں، اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر پڑالکھا اور ان پڑھ ایماندار پڑھ لے گا۔
اور اس کے فتنے کا یہ حصہ ہے کہ اس کے ساتھ جنت و دوزخ ہوگا، جب کہ اس کی جنت جہنم ہے اور اس کا جہنم جنت ہے، سو جو کوئی جہنم میں مبتلا کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کہ مدد طلب کرے اور سورة کہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی، جیسے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے (گلزار) بن گئی۔ اور یہ بھی اس کا فتنہ ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے ماں باپ تیرے لیے اٹھاؤں جو میرے رب ہونے کی گواہی دیں (توتومان جائے گا) وہ کہے گا : ہاں، تو اس کے سامنے دو شیطان اس کی ماں باپ کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور کہیں گے بیٹا ! اس کی فرمان برداری کر یہی تیرا رب ہے۔
یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ ایک شخص پر مسلط ہوگا اسے قتل کرے گا آرے سے چیرے گایہاں تک کہ اس کے دوٹکڑے کردے گا دیکھو میں ابھی اپنے بندے کو اٹھاؤں گا پھر بھی وہ میرے علاوہ کسی اور کے رب ہونے کا گمان کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سے مبعوث کرے گا یہ خبیث اس سے کہے گا : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، میں تیرے بارے میں اللہ کی قسم آج سے زیادہ بصیرت پر نہ تھا، یہ بھی دجال کا فتنہ ہے کہ وہ آسمان کو برسنے کا اور زمین کو اگانے کا حکم دے گا پھر آسمان سے مینہ برسے اور زمین نباتات اگائے گی، یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ سے گزرے گا جو اس کی تکذیب کریں گے ان کا ایک جانور بھی نہ بچے گا، اور یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ قبیلہ سے گزرے گا جو اس کی تصدیق کریں گے تو وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ برسے اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اگائے گی تو اس دن سے ان کے مویشی پہلے سے زیادہ موٹے بڑے اور بھری کوکھوں اور تھنوں والے ہوں گے، اور وہ سوائے مکہ و مدینہ کے زمین کی ہر چیز پر پاؤں دھر کر غالب آجائے گا۔ وہ ان کے جس ذریعے پر آئے گا فرشتے تلواریں سونتے اسے ملیں گے، بالاۤخر وہ تلبیہ کے اختتام کی جگہ سرخ چھوٹے پہاڑ کے پاس اترے گا تو مدینہ اپنے باسیوں سمیت تین دفعہ لرزے گا تو ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کے پاس پہنچ جائے گی، تو مدینہ گندگی سے یوں پاک ہوجائے گا جیسے بھٹی خراب لوہے کو ختم کردیتی ہے اس دن کو ” یوم الخلاص “ کہا جائے گا۔
کسی نے عرض کیا : اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : اس دن وہ تھوڑے ہوں گے ان کی زیادہ تعداد بیت المقدس میں ہوگی، ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا، اسی اثنا میں کہ ان کا امام انھیں صبح کی نماز پڑھانے آگے ہوگا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) صبح کے وقت آسمان سے ان کے پاس اتریں گے۔ تو یہ امام الٹے پاؤں پیچھے پلٹ آئے گاتا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آگے ہوجائیں، عیسیٰ (علیہ السلام) اس کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے، آگے بڑھو کیونکہ اس نماز کی اقامت تمہارے لیے کی گئی، تو ان کا امام انھیں نماز پڑھائے گا جب نماز سے فارغ ہوگا تو عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے : دروازہ کھولو ! دروازہ کھولیں گے تو اس کے پیچھے دجال ہوگا اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ہر ایک کے پاس آراستہ تیز تلوار ہوگی، جب دجال آپ کو دیکھے تو یوں پگھلے گا جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور بھاگ پڑے گا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے میر ایک وار ہے جس سے تو بچ نہ سکے گا، تو آپ اسے باب اللہ کی مشرقی جانب پالیں گے اور قتل کردیں گے، اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا تو اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق نہیں بچے گی جس کے پیچھے یہودی چھپیں درخت ہو یا پتھر، دیوار ہو یا چوپایہ اللہ تعالیٰ اسے گویائی بخش دے گا سوائے غرقد کے کیونکہ یہ ان کا درخت ہے وہ نہیں بولے گا باقی ہرچیز کہے گی : اللہ کے بندے مسلمان ! یہ یہودی ہے آؤ اسے مار ڈالو ! اس کے دن چالیس سال ہوں گے ہر سال، آدھے سال جیسا ، اور سال مہینے جیسا، مہینہ جمعہ جیسے اور اس کے آخری دن انگارے کی طرح ہوں گے تم میں سے کوئی صبح مدینہ کے دروازے پر ہوگا ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچے گا تو شام ہوجائے گی۔
کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم ان چھوٹے دنوں میں نمازیں کیسے پڑھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ان ایام میں نماز کا ایسے ہی اندازہ لگالینا جیسے آج کے لمبے دنوں میں لگاتے ہو پھر نماز پڑھنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) میری امت میں منصف حاکم، اور عادل خلیفہ ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ ختم کردیں گے زکوۃ (لینا) چھوڑدیں گے پھر بکری اور اونٹ کے پیچھے نہیں دوڑایا جائے گا بغض و عداوت ختم ہوجائے گی، ہر زہریلے جانور کا زہر کھینچ لیا جائے گا، یہاں تک کہ بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو اسے نقصان نہیں دے گا، اور بچی شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے گی وہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔ اور بھیڑیا بکریوں میں یوں ہوگا جیسے ان کا (حفاظتی) کتا ہے اور زمین سلامتی سے یوں بھرجائے گی جیسے پانی سے برتن بھرجاتا ہے سب میں (عقائد کے لحاظ سے) اتفاق ہوگا صرف اللہ کی عبادت کی جائے گی، جنگ کا سازوسامان بکھرا رہ جائے گا قریش سے ان کی حکومت چھن جائے گی زمین چاندی کی طشتری جیسی ہوجائے گی اس کی نباتات آدم (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح اگیں گی، یہاں تک کہ کچھ لوگ انگور کے گچھے پر جمع ہوں گے جو انھیں سیر کردے گا، اور چند اشخاص ایک انار پر اکٹھے ہوں گے تو وہ ان کا پیٹ بھردے گا بیل اتنا ہوگا اور مال اتنا ہوگا گھوڑا چند درہموں میں مل جائے گا، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! گھوڑا کس وجہ سے سستا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : گھوڑے پر کبھی جنگ کے لیے سواری نہیں کی جائے گی، کسی نے عرض کیا : بیل کیوں گراں قیمت ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ساری زمین جوتی جائے گی اس لئے، اور دجال کے خروج سے پہلے تین سال بڑے سخت ہوں گے ان میں لوگ سخت بھوک میں مبتلا ہوں گے، اللہ تعالیٰ آسمان کو پہلے سال حکم دے گا کہ وہ اپنی تہائی بارش روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی تہائی پیداوار کھینچ لے، پھر دوسرے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ دوتہائی اپنا پانی روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ دوتہائی اپنی نباتات روک لے، پھر تیسرے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ساری بارش روک لے تو ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکے گا، اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی نباتات روک لے پس کوئی سبزہ نہ اگے گا، اس لیے کوئی کھر والا جانور زندہ نہیں رہے گا ہاں جو اللہ چاہے، کسی نے عرض کیا : اس زمانے میں لوگ کیسے زندہ رہیں گے ؟ آپ نے فرمایا : لاالٰہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ ان کے لیے کھانے کے طور پر ہوگا۔ (ابن ماجہ وابن خزیمہ، حاکم وایضاء عن ابی امامۃ)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٦٣٨٤۔
اور اس کے فتنے کا یہ حصہ ہے کہ اس کے ساتھ جنت و دوزخ ہوگا، جب کہ اس کی جنت جہنم ہے اور اس کا جہنم جنت ہے، سو جو کوئی جہنم میں مبتلا کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کہ مدد طلب کرے اور سورة کہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی، جیسے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے (گلزار) بن گئی۔ اور یہ بھی اس کا فتنہ ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے ماں باپ تیرے لیے اٹھاؤں جو میرے رب ہونے کی گواہی دیں (توتومان جائے گا) وہ کہے گا : ہاں، تو اس کے سامنے دو شیطان اس کی ماں باپ کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور کہیں گے بیٹا ! اس کی فرمان برداری کر یہی تیرا رب ہے۔
یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ ایک شخص پر مسلط ہوگا اسے قتل کرے گا آرے سے چیرے گایہاں تک کہ اس کے دوٹکڑے کردے گا دیکھو میں ابھی اپنے بندے کو اٹھاؤں گا پھر بھی وہ میرے علاوہ کسی اور کے رب ہونے کا گمان کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سے مبعوث کرے گا یہ خبیث اس سے کہے گا : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، میں تیرے بارے میں اللہ کی قسم آج سے زیادہ بصیرت پر نہ تھا، یہ بھی دجال کا فتنہ ہے کہ وہ آسمان کو برسنے کا اور زمین کو اگانے کا حکم دے گا پھر آسمان سے مینہ برسے اور زمین نباتات اگائے گی، یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ سے گزرے گا جو اس کی تکذیب کریں گے ان کا ایک جانور بھی نہ بچے گا، اور یہ بھی اس کا فتنہ ہے کہ وہ قبیلہ سے گزرے گا جو اس کی تصدیق کریں گے تو وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ برسے اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اگائے گی تو اس دن سے ان کے مویشی پہلے سے زیادہ موٹے بڑے اور بھری کوکھوں اور تھنوں والے ہوں گے، اور وہ سوائے مکہ و مدینہ کے زمین کی ہر چیز پر پاؤں دھر کر غالب آجائے گا۔ وہ ان کے جس ذریعے پر آئے گا فرشتے تلواریں سونتے اسے ملیں گے، بالاۤخر وہ تلبیہ کے اختتام کی جگہ سرخ چھوٹے پہاڑ کے پاس اترے گا تو مدینہ اپنے باسیوں سمیت تین دفعہ لرزے گا تو ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کے پاس پہنچ جائے گی، تو مدینہ گندگی سے یوں پاک ہوجائے گا جیسے بھٹی خراب لوہے کو ختم کردیتی ہے اس دن کو ” یوم الخلاص “ کہا جائے گا۔
کسی نے عرض کیا : اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : اس دن وہ تھوڑے ہوں گے ان کی زیادہ تعداد بیت المقدس میں ہوگی، ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا، اسی اثنا میں کہ ان کا امام انھیں صبح کی نماز پڑھانے آگے ہوگا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) صبح کے وقت آسمان سے ان کے پاس اتریں گے۔ تو یہ امام الٹے پاؤں پیچھے پلٹ آئے گاتا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آگے ہوجائیں، عیسیٰ (علیہ السلام) اس کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے، آگے بڑھو کیونکہ اس نماز کی اقامت تمہارے لیے کی گئی، تو ان کا امام انھیں نماز پڑھائے گا جب نماز سے فارغ ہوگا تو عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے : دروازہ کھولو ! دروازہ کھولیں گے تو اس کے پیچھے دجال ہوگا اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ہر ایک کے پاس آراستہ تیز تلوار ہوگی، جب دجال آپ کو دیکھے تو یوں پگھلے گا جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور بھاگ پڑے گا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے میر ایک وار ہے جس سے تو بچ نہ سکے گا، تو آپ اسے باب اللہ کی مشرقی جانب پالیں گے اور قتل کردیں گے، اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا تو اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق نہیں بچے گی جس کے پیچھے یہودی چھپیں درخت ہو یا پتھر، دیوار ہو یا چوپایہ اللہ تعالیٰ اسے گویائی بخش دے گا سوائے غرقد کے کیونکہ یہ ان کا درخت ہے وہ نہیں بولے گا باقی ہرچیز کہے گی : اللہ کے بندے مسلمان ! یہ یہودی ہے آؤ اسے مار ڈالو ! اس کے دن چالیس سال ہوں گے ہر سال، آدھے سال جیسا ، اور سال مہینے جیسا، مہینہ جمعہ جیسے اور اس کے آخری دن انگارے کی طرح ہوں گے تم میں سے کوئی صبح مدینہ کے دروازے پر ہوگا ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچے گا تو شام ہوجائے گی۔
کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم ان چھوٹے دنوں میں نمازیں کیسے پڑھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ان ایام میں نماز کا ایسے ہی اندازہ لگالینا جیسے آج کے لمبے دنوں میں لگاتے ہو پھر نماز پڑھنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) میری امت میں منصف حاکم، اور عادل خلیفہ ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ ختم کردیں گے زکوۃ (لینا) چھوڑدیں گے پھر بکری اور اونٹ کے پیچھے نہیں دوڑایا جائے گا بغض و عداوت ختم ہوجائے گی، ہر زہریلے جانور کا زہر کھینچ لیا جائے گا، یہاں تک کہ بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو اسے نقصان نہیں دے گا، اور بچی شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے گی وہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔ اور بھیڑیا بکریوں میں یوں ہوگا جیسے ان کا (حفاظتی) کتا ہے اور زمین سلامتی سے یوں بھرجائے گی جیسے پانی سے برتن بھرجاتا ہے سب میں (عقائد کے لحاظ سے) اتفاق ہوگا صرف اللہ کی عبادت کی جائے گی، جنگ کا سازوسامان بکھرا رہ جائے گا قریش سے ان کی حکومت چھن جائے گی زمین چاندی کی طشتری جیسی ہوجائے گی اس کی نباتات آدم (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح اگیں گی، یہاں تک کہ کچھ لوگ انگور کے گچھے پر جمع ہوں گے جو انھیں سیر کردے گا، اور چند اشخاص ایک انار پر اکٹھے ہوں گے تو وہ ان کا پیٹ بھردے گا بیل اتنا ہوگا اور مال اتنا ہوگا گھوڑا چند درہموں میں مل جائے گا، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! گھوڑا کس وجہ سے سستا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : گھوڑے پر کبھی جنگ کے لیے سواری نہیں کی جائے گی، کسی نے عرض کیا : بیل کیوں گراں قیمت ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ساری زمین جوتی جائے گی اس لئے، اور دجال کے خروج سے پہلے تین سال بڑے سخت ہوں گے ان میں لوگ سخت بھوک میں مبتلا ہوں گے، اللہ تعالیٰ آسمان کو پہلے سال حکم دے گا کہ وہ اپنی تہائی بارش روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی تہائی پیداوار کھینچ لے، پھر دوسرے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ دوتہائی اپنا پانی روک لے اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ دوتہائی اپنی نباتات روک لے، پھر تیسرے سال آسمان کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ساری بارش روک لے تو ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکے گا، اور زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی نباتات روک لے پس کوئی سبزہ نہ اگے گا، اس لیے کوئی کھر والا جانور زندہ نہیں رہے گا ہاں جو اللہ چاہے، کسی نے عرض کیا : اس زمانے میں لوگ کیسے زندہ رہیں گے ؟ آپ نے فرمایا : لاالٰہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ ان کے لیے کھانے کے طور پر ہوگا۔ (ابن ماجہ وابن خزیمہ، حاکم وایضاء عن ابی امامۃ)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٦٣٨٤۔
38742- "يا أيها الناس: إنها لم تكن فتنة على وجه الأرض منذ ذرأ الله تعالى ذرية آدم أعظم من فتنة الدجال، وإن الله لم يبعث نبيا إلاحذر أمته الدجال، وأنا آخر الأنبياء وأنتم آخر الأمم وهو خارج فيكم لا محالة، فإن يخرج وأنا بين أظهركم فأنا حجيج لكل مسلم، وإن يخرج من بعدي فكل حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم، وإنه يخرج من خلة بين الشام والعراق فيعيث يمينا ويعيث شمالا، يا عباد الله فاثبتوا! فإني سأصفه لكم صفة لم يصفها إياه نبي قبلي، إنه يبدأ فيقول: أنا نبي، ولا نبي بعدي، ثم يثني فيقول: أنا ربكم، ولا ترون ربكم حتى تموتوا، وإنه أعور وإن ربكم ليس بأعور، وإنه مكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن كاتب أو غير كاتب، وإن من فتنته أن معه جنة ونارا فناره جنة وجنته نار، فمن ابتلى بنار فليستغث بالله وليقرأ فواتح الكهف فتكون بردا وسلاما كما كانت النار على إبراهيم، وإن من فتنته أن يقول للأعرابي: أرأيت إن بعثت لك أباك وأمك أن تشهد أني ربك؟ فيقول: نعم، فيتمثل له شيطانان على صورة أبيه وأمه فيقولان: يا بني! اتبعه فإنه ربك وإن من فتنته أن يسلط على نفس واحدة فيقتلها فينشرها بالمنشار حتى يلقى شقين، ثم يقول: انظروا إلى عبدي هذا فإني أبعثه ثم يزعم أن له ربا غيري، فيبعثه الله فيقول له الخبيث: من ربك؟ فيقول: ربي الله وأنت عدو الله أنت الدجال، والله ما كنت قط أشد بصيرة بك مني اليوم، وإن فتنة الدجال أن يأمر السماء أن تمطر فتمطر، ويأمر الأرض أن تنبت فتنبت، وإن من فتنته أن يمر بالحي فيكذبونه فلا تبقى لهم سائمة إلا هلكت، وإن من فتنته أن يمر بالحي فيصدقونه فيأمر السماء أن تمطر فتمطر ويأمر الأرض أن تنبت فتنبت حتى تروح مواشيهم من يومهم ذلك أسمن ما كانت وأعظمه وأمده خواصر وأدره ضروعا، وإنه لا يبقى شيء من الأرض إلا وطئه وظهر عليه إلا مكة والمدينة، لا يأتيهما من نقب من أنقابهما إلا لقته الملائكة بالسيوف صلتة. حتى ينزل عند الظريب1 الأحمر عند منقطع السبحة، فترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات، فلا يبقى منافق ولا منافقة إلا خرج إليه، فتنفي الخبث منها كما ينفي الكير خبث الحديد، ويدعى ذلك اليوم يوم الخلاص قيل: فأين العرب يومئذ؟ قال: هم يومئذ قليل وجلهم ببيت المقدس وإمامهم رجل صالح، فبينما إمامهم قد تقدم يصلي بهم صلاة الصبح إذ نزل عليهم عيسى ابن مريم الصبح، فرجع ذلك الإمام ينكص يمشي القهقرى ليتقدم عيسى، فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له: تقدم فصلي فإنها لك أقيمت، فيصلي بهم إمامهم فإذا انصرف قال عيسى: افتحوا الباب، فيفتحون ووراءه الدجال معه سبعون ألف يهودي كلهم ذو سيف محلى وساج، فإذا نظر إليه الدجال ذاب كما يذوب الملح في الماء وينطلق هاربا ويقول عيسى عليه السلام إن لي فيك ضربة لن تسبقني بها، فيدركه عند باب اللد الشرقي فيقتله، فيهزم الله اليهود، فلا يبقى شيء مما خلق الله عز وجل يتواقى به اليهودي إلا أنطق الله ذلك الشيء لا حجر ولا شجر ولا حائط ولا دابة إلا الغرقدة فإنها من شجرهم، لا ينطق إلا قال: يا عبد الله المسلم! هذا يهودي فتعال اقتله، وإن أيامه أربعون سنة، السنة كنصف السنة، والسنة كالشهر، والشهر كالجمعة، وآخر أيامه كالشررة، يصبح أحدكم على باب المدينة فلا يبلغ بابها الآخر حتى يمسي قيل: يا رسول الله! كيف نصلي في تلك الأيام القصار؟ قال: تقدرون فيها الصلاة كما تقدرون في هذه الأيام الطوال ثم صلوا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكون عيسى ابن مريم عليه السلام في أمتي حكما عدلا وإماما مقسطا، يدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويترك الصدقة فلا تسعى على شاة ولا بعير، وترفع الشحناء والتباغض، وتنزع حمة كل ذات حمة حتى يدخل الوليد يده في في الحية فلا تضره وتغر الوليدة الأسد فلا يضرها، ويكون الذئب في الغنم كأنه كلبها، وتملأ الأرض من السلم كما يملأ الإناء من الماء، وتكون الكلمة واحدة فلا يعبد إلا الله، وتضع الحرب أوزارها، وتسلب قريش ملكها، وتكون الأرض كفاثور الفضة تنبت نباتها بعهد آدم، حتى يجتمع النفر على القطف من العنب فيشبعهم، ويجتمع النفر على الرمانة فتشبعهم، ويكون الثور بكذا وكذا من المال، ويكون الفرس بالدريهمات قالوا: يا رسول الله! وما يرخص الفرس؟ قال: لا تركب لحرب أبدا، قيل: فما يغلي الثور؟ تحرث الأرض كلها، وإن قبل خروج الدجال ثلاث سنوات شداد، يصيب الناس فيها جوع شديد، يأمر الله السماء السنة الأولى أن تحبس ثلث مطرها ويأمر الأرض فتحبس ثلث نباتها، ثم يأمر السماء في السنة الثانية فتحبس ثلثي مطرها ويأمر الأرض فتحبس ثلثي نباتها، ثم يأمر الله السماء في السنة الثالثة فتحبس مطرها كله فلا تقطر قطرة ويأمر الأرض فتحبس نباتها فلا تنبت خضراء فلا يبقى ذات ظلف إلا هلكت إلا ما شاء الله تعالى، قيل: فما يعيش الناس في ذلك الزمان؟ قال: التهليل والتكبير والتسبيح والتحميد ويجري ذلك عليهم مجرى الطعام." هـ وابن خزيمة، ك والضياء - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٣۔۔۔ دجال نکلے گا اور اس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی جو اس کی نہر میں داخل ہوگا اس کا گناہ لازم ہوجائے گا اور اجر گھٹ جائے گا اور جو اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر ثابت اور گناہ کم ہوجائے گا، اس کے بعد قیامت قائم ہوگی۔ (مسند احمد، ابوداؤد، حاکم عن حذیفۃ)
38743- "يخرج الدجال ومعه نهر ونار، فمن دخل نهره وجب وزره وحط أجره، ومن دخل ناره وجب أجره وحط وزره، ثم إنما هي قيام الساعة." حم، د، ك - عن حذيفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٤۔۔۔ دجال نکلے گا تو ایک مومن شخص اس کا رخ کرے گا توا سے دجال کے مسلح لوگ ملیں گے وہ اس سے کہیں گے : تیرا کہاں کا ارادہ ہے ؟ وہ کہے گا : میں اس شخص کا قصد کرتا ہوں جو نکلا ہے، وہ اس سے کہیں گے کیا تو ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتا ؟ وہ کہے گا : ہمارے رب میں کچھ کمی نہیں، وہ کہیں گے اسے مارڈالو، ان میں سے کوئی دوسرے سے کہے گا : کیا تمہارے رب نے تمہیں اپنی غیر موجودگی میں کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا ؟ چنانچہ وہ اسے دجال کے پاس لے چلیں گے، جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے : لوگو ! یہ وہی دجال ہے جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم سے ذکر کیا تھا، تو دجال حکم دے گا اسے چیرا جائے گا، کہے گا : اسے پکڑو اور اس کا سرزخمی کرو اس کی پیٹھ اور پیٹ بیحد پیٹے گا اور کہے گا : کیا تو مجھ پر ایمان نہیں رکھتا ؟ وہ کہے گا : تو خیر سے محروم بڑا جھوٹا ہے، چنانچہ اس کے بارے میں حکم ہوگا اسے آروں کے ذریعہ سرتاقدم چیز دیا جائے گا پھر دجال اس کے دونوں دھڑوں کے درمیان چل کر کہے گا : اٹھ ! تو وہ سیدھا کھڑا ہوجائے گا۔ دجال اس سے کہے گا : کیا تیرا مجھ پر ایمان ہے ؟ وہ کہے گا : تیرے بارے میں میری بصیرت بڑھ گئی ہے پھر وہ کہے گا : لوگو ! میرے بعد وہ کسی سے ایسا نہیں کرسکے گا، دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے ہنسلی تک کا حصہ تانبے کا بن جائے گا وہ کچھ نہ کرسکے گا اس کے پاتھ پاؤں سے پکڑ کر پھینک دے گا، لوگ سمجھتے ہوں گے کہ اس نے اسے آگ میں پھینکا جبکہ اسے جنت میں ڈالا گیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی گواہی اللہ کے ہاں سب سے بڑی ہوگی۔ (مسلم عن ابی سعید)
38744- "يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المؤمنين فتلقاه المسالح مسالح الدجال فيقولون له: أين تعمد؟ فيقول: أعمد إلى هذا الرجل الذي خرج فيقولون له: أو ما تؤمن بربنا؟ فيقول: ما بربنا خفاء، فيقولون: اقتلوه، فيقول بعضهم لبعض: أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه! فينطلقون به إلى الدجال، فإذا رآه المؤمن قال: يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم فيأمر الدجال به فيشبح فيقول: خذوه وشجوه، فيوسع ظهره وبطنه ضربا، فيقول: أو ما تؤمن بي؟ فيقول: أنت المسيح الكذاب، فيؤمر به فينشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه ثم يمشي الدجال بين القطعتين ثم يقول له: قم! فيستوي قائما، ثم يقول له: أتؤمن بي! فيقول: ما ازددت فيك إلا بصيرة، ثم يقول: يا أيها الناس إنه لا يفعل بعدي بأحد من الناس فيأخذه الدجال ليذبحه فيجعل ما بين رقبته إلى ترقوته نحاسا، فلا يستطيع إليه سبيلا، فيأخذه بيديه ورجليه فيقذف به، فيحسب الناس إنما قذفه في النار وإنما لقي في الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين." م - عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٥۔۔۔ دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس (دن) رہے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کو بھیجے گا گویا وہ عروہ بن مسعود ثقفی ہیں آپ اسے تلاش کرکے ہلاک کردیں گے پھر لوگ سات سال تک ایسی حالت میں رہیں گے کہ دو آدمیوں میں عداوت نہیں ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو زمین پر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کرلے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کی کھوہ میں بھی داخل ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی اور اس کی روح قبض کرلے گی، پھر برے لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح ہلکے اور درندوں جیسی عقل کے مالک ہوں گے، انھیں نہ کسی نیکی کا علم ہوگا نہ کسی برائی کی خبر، شیطان ان کے سامنے آکر کہے گا : کیا تم میرے بات نہیں مانتے ؟ وہ کہیں گے : تو ہمیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ تو وہ انھیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا چنانچہ وہ بت پوجنا شروع کردیں گے اسی حال میں ہوں گے ان کا رزق وافر ہوگا اور ان کی زندگی پر مسرت، پھر صور میں پھونک ماری جائے گی، جو بھی اس کی آواز سنے گا گردن کے کنارے سے کان لگائے گا اور سر اٹھائے گا سب سے پہلے جو شخص اس کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کررہا ہوگا وہ اور لوگ بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی مانند ایک بارش بھیجے گا جس سے لوگوں کے جسم اگیں گے، اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے پھر کہا جائے گا : لوگو ! اپنے رب کے حضور چلو انھیں کھڑا رکھو ان سے سوال ہوگا، پھر کہا جائے گا : آگ میں بھیجے جانے والے نکالو ! کہا جائے گا وہ کتنے ہیں ؟ کہا جائے گا : ایک ہزار میں سے نوسوننانوے، فرمایا : یہ ایسا دن ہوگا جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا اس دن پنڈلی کھولی جائے گی یعنی رب کا ظہور ہوگا۔ (مسند احمد، مسلم عن ابن عمر)
38745- "يخرج الدجال في أمتي فيمكث أربعين، فيبعث الله تعالى عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي، فيطلبه فيهلكه، ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة، ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه حتى تقبضه فيبقى شرار الناس في خفة الطير وإحلام السباع، لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا، فيتمثل لهم الشيطان فيقول: ألا تستجيبون؟ فيقولون فما تأمرنا فيأمرهم بعبادة الأوثان، فيعبدونها وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم، ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ورفع ليتا، وأول من يسمعه رجل يلوط حوض إبله، فيصعق أو يصعق الناس، ثم يرسل الله تعالى مطرا كأنه الطل، فينبت منه أجساد الناس، ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون، ثم يقال: يا أيها الناس! هلموا إلى ربكم وقفوهم إنهم مسئولون، ثم يقال: أخرجوا بعث النار، فيقال: من كم؟ فيقال: من ألف تسعمائة وتسعة وتسعين، قال فذاك يوم يجعل الولدان شيبا، وذلك يوم يكشف عن ساق." حم، م عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٦۔۔۔ دجال کی آنکھ سبز ہوگی۔ (بخاری فی التاریخ عن ابی)
38746- "الدجال عينه خضراء." تخ - عن أبي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٧۔۔۔ دجال کی آنکھ سپاٹ ہوگی اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا۔ (مسلم عن انس)
38747- "الدجال ممسوح العين، مكتوب بين عينيه: كافر، يقرؤه كل مسلم". "م - عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৬০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٨۔۔۔ دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی جس پر بہت بال ہوں گے اس کے ساتھ جنت وجہنم ہوگی، تو اس کی جنت جہنم ہے اور جہنم جنت ہوگی۔ (مسند احمد مسلم عن حذیفۃ)
38748- "الدجال أعور العين اليسرى جفال الشعر، معه جنة ونار، فناره جنة وجنته نار"."حم، م - عن حذيفة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৬১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٤٩۔۔۔ دجال کی نہ اولاد ہوگی نہ وہ مکہ مدینہ میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد عن ابی سعید)
38749- "الدجال لا يولد له ولا يدخل المدينة ولا مكة." حم - عن أبي سعيد".
তাহকীক: