কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৮৭৮২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٠۔۔۔ ہر نبی نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ڈرایا، خبردار ! وہ کانا ہے اور تمہارا رب اس عیب سے منزہ ہے اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا : ک ف ر۔ (ترمذی عن انس)
38770- "ما من نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب، ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور، مكتوب بين عينيه "ك ف ر". "ت - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧١۔ جو دجال (کی آمد) کا سن لے وہ اس سے دور ہوجائے، اللہ کی قسم ! ایک شخص اس کے پاس یہ سمجھ کر آئے گا کہ وہ مومن ہے لیکن جو شبہات وہ پیدا کرے گا اس کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا (مسند احمد، ابوداؤد، حاکم عن عمران بن حصین)
38771- "من سمع بالدجال فلينبأ عنه، فوالله إن الرجل ليأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فيتبعه مما يبعث به من الشبهات." حم، د، ك - عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٢۔۔۔ دجال کی پیروی اصبہان کے یہودی کریں گے ان پر چادریں ہوں گی۔ (مسند احمد، مسلم عن انس)
38772- "يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة." حم، م - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٣۔۔۔ دجال کے ماں باپ تیس سال تک بےاولاد رہیں گے، پھر ان کے بیٹا ہوگا جو کانا ہے حدنقصان دہ اور بہت کم فائدے والا ہوگا، اس کی آنکھیں تو بند ہوں گی لیکن اس کا دل غافل ہو کر نہیں سوئے گا۔ اس کا باپ لمبا، پر گوشت ہوگا اس کی ناک ایسے ہوگی جیسے چونچ اور اس کی ماں بڑے ڈیل ڈول اور لمبے پستانوں والی ہوگی۔ (مسند احمد، ترمذی عن ابی بکرۃ)
38773- "يمكث أبو الدجال وأمه ثلاثين عاما لا يولد لهما ولد، ثم يولد لهما غلام أعور أضر شيء وأقله منفعة، تنام عيناه ولا ينام قلبه، أبوه طوال ضرب اللحم كأن أنفه منقار، وأمه امرأة فرضاخية طويلة الثديين." حم، ت - عن أبي بكرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٤۔۔۔ کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی ہنسلی سے آگے نہیں بڑھے گا۔ جب بھی ایک زمانہ گزرے گا تو ختم کردیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے اطراف سے دجال نکلے گا۔ (ابن ماجہ عن ابن عمر)

کلام :۔۔۔ المعلۃ ٢١١۔
38774- "ينشأ نشئ يقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم، كلما خرج قرن قطع حتى يخرج في أعراضهم الدجال". هـ - عن ابن عمر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٥۔۔۔ تم ایک شہر کے بارے میں سنو گے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری جانب سمندر میں ہے اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اولاد اسحاق (علیہ السلام) کے ستر ہزار افراد وہاں جنگ نہ کرلیں، جب وہ اس کے پاس آئیں گے تو ہتھیار سے جنگ نہیں کریں گے اور نہ تیر اندازی کریں گے وہ لوگ لاالہٰ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے تو اس کی سمندر کی جانب گرپڑے گی پھر دوسری مرتبہ ” لاالہٰ الا اللہ واللہ اکبر “ کہیں گے تو دوسری جانب بھی گرپڑے گی، اس کے بعد تیسری مرتبہ لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے تو وہ شہر کھل جائے گا چنانچہ وہ اس میں داخل ہو کر مال غنیمت پائیں گے اسی دوران کہ وہ مال غنیمت تقسیم کررہے ہوں گے ایک چیخ بلند ہوگی وہ کہے گا : دجال نکل آیا ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس چلیں گے (مسلم عن ابوہریرہ
38775- "سمعتم بمدينة جانب منها في البر وجانب منها في البحر، لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون ألفا من بني إسحاق، فإذا جاؤها نزلوا فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم، قالوا: لا إله إلا الله والله أكبر، فيسقط أحد جانبيها الذي في البحر، ثم يقول الثانية: لا إله إلا الله والله أكبر، فيسقط جانبها الآخر، ثم يقول الثالثة: لا إله إلا الله والله أكبر، فيفرج لهم فيدخلونها فيغنمون، فبينما هم يقتسمون المغانم إذ جاءهم الصريخ فقال إن الدجال قد خرج! فيتركون كل شيء ويرجعون." م - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٦۔۔۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ دجال کے ساتھ کیا کیا دھوکے ہیں اس کے ساتھ دونہریں چل رہی ہوں گی جو نظر آئیں گی ایک سفید پانی اور دوسری چلتی آگ، اگر تم میں سے کوئی یہ زمانہ پالے تو اس نہر میں آئے جو اسے آگ نظر آرہی ہے پھر اس میں کود پڑے پھر اپنا سر اٹھائے اور پانی پیئے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ سپاٹ ہوگی اس پر گہراناخنہ ہوگا، اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر پڑھا لکھا مسلمان پڑھے گا۔ (مسند احمد، مسلم، ابوداؤد عن حذیفۃ وابی مسعود معاً )
38776- "لأنا أعلم بما مع الدجال من الدجال، معه نهران يجريان أحدهما رأى العين ماء أبيض والآخر رأي العين نار تأجج فأما أدركن واحدا منكم فليأت النهر الذي يراه نارا ثم ليغمض ثم ليطأطئ رأسه فليشرب فإنه ماء بارد، وإن الدجال ممسوح العين اليسرى، عليها ظفرة غليظة، مكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب." حم، ق، د - عن حذيفة وأبي مسعود معا"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دجال کا ظہور
٣٨٧٧٧۔۔۔ دجال اس حال میں نکلے گا کہ اس کے لیے مدینہ کے دروں سے داخل ہونا حرام ہوگا، تو وہ مدینہ کے کسی ویران کھیت میں پڑاؤ کرے گا تو اس دن کوئی بہترین شخص اس کی طرف جا کر کہے گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کی بات ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہے۔ تو دجال کہے گا : بتاؤ ! میں اگر اسے مارکر پھر زندہ کروں تو تمہیں پھر بھی میرے بارے میں شک ہوگا ؟ وہ کہیں گے : نہیں، چنانچہ وہ اسے قتل کر کے زندہ کرے گا تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! مجھے تیرے بارے میں آج سے زیادہ بصیرت حاصل نہیں ہوئی پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا تو اس کا بس نہیں چلے گا۔ (مسند احمد، مسلم عن ابی سعید)
38777- "يأتي الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التي بالمدينة فيخرج إليه يومئذ رجل هو خير الناس أو من خير الناس فيقول له: أشهد أنك الدجال الذي حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثه، فيقول الدجال: أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون في الأمر؟ فيقولون: لا، فيقتله ثم يحييه فيقول حين يحييه، والله ما كنت فيك قط أشد بصيرة مني اليوم، فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه." حم، ق - عن أبي سعيد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٧٨۔۔۔ دجال کا سرپیچھے سے خالی خالی ہوگا وہ کہنے لگے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، تو جو کوئی یہ کہہ دے گا : تو میرا رب ہے تو وہ فتنہ میں پڑگیا اور جو کوئی کہے گا : تو نے جھوٹ کہا : میرا رب اللہ ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں تو وہ اسے نقصان نہ دے گا۔ (مسند احمد، طبرانی، حاکم عن ہشام بن عامر)

کلام :۔۔۔ المعلہ ٣١٨۔
38778- "إن رأس الدجال من ورائه حبك حبك وإنه سيقول أنا ربكم، فمن قال: أنت ربي افتتن، ومن قال: كذبت، ربي الله، عليه توكلت وإليه أنيب، فلا يضره." حم، طب، ك - عن هشام بن عامر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٧٩۔۔۔ میں تمہیں خیر سے محروم سے آگاہ کرتا اور ڈراتا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا، تو اے امت وہ تم میں ہوگا، میں تمہیں اس کا حلیہ بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت سے بیان نہیں کیا، اس کے خروج سے پہلے پانچ سال قحط سالی کے ہوں گے یہاں تک کہ رہ کھر والا جانور مرجائے گا، کسی نے عرض کیا : ایمان والے کیسے جئیں گے ! فرمایا : جیسے فرشتے زندہ ہیں۔

پھر وہ نکلے گا وہ کان ہے جب کہ اللہ اس عیب سے بالاتر ہے اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ ایماندار پڑھ لے گا اس کے اکثر پیروکار یہودی، عورتیں اور دیہاتی ہوں گے، وہ آسمان کو برستا دیکھیں گے جب کہ وہ برستا نہ ہوگا اور زمین کو اگاتا دیکھیں گے جب کہ وہ اگاتی نہ ہوگی وہ دیہاتیوں سے کہے گا : تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ کیا میں نے تم پر آسمان موسلا دھار نہیں بہایا اور تمہارے چوپائے تھن جھکے اور پیٹ نکلے ہوئے زیادہ مقدار میں دودھ والی زندہ نہیں کئے ؟ اس کے ساتھ شیاطین ان کے مردہ ماں باپ بہن بھائی اور عزیز رشتہ داروں کی صورت میں اٹھیں گے تو ان میں سے کوئی اپنے باپ یا بھائی کے پاس آکر کہے گا : کیا تو فلاں نہیں ہے، کیا مجھے نہیں پہچانتا ؟ یہ تیرا رب ہے اس کی پیروی کر، وہ چالیس عمر پائے گا، ایک سال مہینے کی طرح، مہینہ جمعہ کی طرح جمعہ دن کی طرح اور دن گھنٹے کی طرح اور گھنٹہ آگ میں چنگاری کی طرح گزرے گا وہ ہر جگہ اترے گا سوائے دومسجدوں کے، تمہیں بشارت ہوا گروہ میری موجودگی میں نکلا تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہیں اس کے شر سے کافی ہے اور اگر میرے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔ (طبرانی عن اسماء بنت یزید)
38779- "أحذركم المسيح وأنذركموه. وكل نبي قد حذر قومه وهو فيكم أيتها الأمة! وسأحكي لكم عن نعته ما لم يحك الأنبياء قبلي لقومهم، يكون قبل خروجه سنون خمس جدب حتى يهلك كل ذي حافر، قيل: فيم يعيش المؤمنون؟ قال: بما يعيش به الملائكة، ثم يخرج، وهو أعور وليس الله بأعور، بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب، أكثر من يتبعه اليهود والنساء والأعراب، يرون السماء تمطر وهي لا تمطر والأرض تنبت وهي لا تنبت، ويقول للأعراب: ما تبغون مني؟ ألم أرسل السماء عليكم مدارا وأحيي لكم أنعامكم شاخصة ذراها خارجة خواصرها دارة ألبانها؟ ويبعث معه الشياطين على صورة من قد مات من الآباء والإخوان والمعارف، فيأتي أحدهم إلى أبيه أو أخيه فيقول: ألست فلانا؟ ألست تعرفني؟ هو ربك فاتبعه، يعمر أربعين سنة، السنة كالشهر والشهر كالجمعة والجمعة كاليوم واليوم كالساعة والساعة كاحتراق السعفة في النار، يرد كل منهل إلا المسجدين، أبشروا، فإن يخرج وأنا بين أظهركم فالله كافيكم ورسوله، وإن يخرج بعدي فالله خليفتي على كل مسلم." طب - عن أسماء بنت يزيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٠۔۔۔ تم نے ایک شہر کے بارے میں سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری طرف سمندر میں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : جب تک اولاد اسحاق کے ستر ہزار افراد وہاں جنگ نہ کرلیں جب وہاں پہنچیں گے تو پڑاؤ کریں ہتھیار اور تیر اندازی سے جنگ نہیں کریں، لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے تو اس کی ایک جانب گرجائے گی پھر دوسری مرتبہ لاالٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے تو دوسری جانب گرجائے گی پھر تیسری مرتبہ لاالٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہیں گے تو وہ شہران کے لیے کشادہ ہوجائے گا تو اس میں داخل ہو کر غنیمت حاصل کریں گے اسی اثناء میں وہ غنیمتیں تقسیم کررہے ہوں گے تو ایک اعلان کرنے والا کہے گا : دجال نکل چکا ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لوٹ آئیں گے۔ (مسلم عن ابوہریرہ ، مر ٣٥٧٧٥
38780- "سمعتم بمدينة جانب منها في البر وجانب منها في البحر؟ قالوا: نعم يا رسول الله! قال: لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون ألفا من بني إسحاق، فإذا جاؤها نزلوا فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم، قالوا: لا إله إلا الله والله أكبر، فيسقط أحد جانبيها الذي في البحر، ثم يقول الثانية: لا إله إلا الله والله أكبر فيسقط جانبها الآخر، ثم يقول الثالثة: لا إله إلا الله والله أكبر فيفرج لهم فيدخلونها فيغنمون، فبينما هم يقتسمون المغانم إذ جاءهم الصريخ فقال: إن الدجال قد خرج! فيتركون كل شيء ويرجعون." م - عن أبي هريرة" مر برقم 38775.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨١۔۔۔ میں تمہیں تین دجالوں سے ڈراتا ہوں، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں کانے اور جھوٹے دجال کا حال تو بتادیا یہ تیسرا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک شخص کسی قوم میں نکلے گا جس کے پہلے اور پچھلے لوگ ہلاک ہوں گے ان پر لعنت فتنہ میں قائم رہے گی جسے خارقہ کہا جائے گا وہ چونے والا دجال ہے اللہ کے بندوں کو کھائے گا، محمد نے فرمایا : وہ سفیدی میں سب لوگوں سے جدا ہوگا۔ (ابن خزیمہ، حاکم وتعقب، طبرانی عن العداء بن خالد)
38781- "أحذركم الدجالين الثلاثة، قيل: يا رسول الله! قد أخبرتنا عن الدجال الأعور وعن أكذب الكذابين فمن الثالث؟ قال: رجل يخرج من قوم أولهم مثبور، وآخرهم مثبور عليهم اللعنة دائبة في فتنة يقال لها الخارقة وهو الدجال الأكلس، يأكل عباد الله، قال محمد: وهو أبعد الناس من شيبة." ابن خزيمة ك وتعقب، طب - عن العداء بن خالد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٢۔۔۔ دجال کی ایک آنکھ انگور کی طرح ہوگی گویا وہ سبز شیشہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی عذاب قبر سے پناہ مانگو۔ (ابوداؤد طیالسی، مسند احمد، ابن منیع والرویانی، ابن حبان، ابن ابی شیبہ عن ابی بن کعب)
38782- "إحدى عينيه عنبة يعني الدجال كأنها زجاجة خضراء، وتعوذوا بالله من عذاب القبر." ط، حم وابن منيع والروياني، حب، ش - عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٣۔۔۔ تمہارے بعد بےحد جھوٹا گمراہ کن ہوگا جس کا سر پیچھے سے لٹوں میں ہوگا تین مرتبہ فرمایا، اور وہ کہے گا : میں تمہارا رب ہوں جو کہے گا کہ تو جھوٹا ہے ہمارا رب نہیں البتہ اللہ ہمارا رب ہے ہمارا اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف ہم رجوع کرتے ہیں ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، تو وہ اس تک نہیں پہنچ سکے گا۔ (مسند احمد، والخطیب عن رجل من الصحابہ)
38783- "إن من بعدكم الكذاب المضل وإن رأسه من بعده حبك حبك حبك - ثلاث مرات - وإنه سيقول: أنا ربكم، فمن قال: كذبت لست ربنا ولكن الله ربنا عليه توكلنا وإليه أنبنا ونعوذ بالله منك فلا سبيل إليه." حم والخطيب - عن رجل من الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٤۔۔۔ خبردار ! ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے اور اس نے آج کھانا کھالیا، میں تم سے ایک اہم بات کررہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کی۔ وہ یہ کہ اس کی دائیں آنکھ سپاٹ ہوگی آنکھ ابھرے ہوئے ڈھیلے والی ہوگی مخفی نہیں ہوگی، گویا دیوار پر رینٹ ہے اور بائیں جیسے چمکتا ستارہ، اس کے ساتھ جنت وجہنم جیسی چیز ہوگی آگ سبز باغ اور جنت گرد آلود دھوئیں والی ہوگی۔

خبردار ! اس کے آگے وہ دو شخص ہوں گے جو دیہات والوں کو ڈرائیں گے جیسے ہی کسی بستی میں پہنچیں گے لوگوں کو ڈرائیں گے جب وہ نکل جائیں گے تو دجال کے (لشکرکے) پہلے لوگ داخل ہوجائیں گے وہ مکہ و مدینہ کے سواہر بستی میں داخل ہوگا وہ دونوں اس پر حرام ہیں۔ ایماندارزمین پر پھیلے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں اس کے لیے یکجا کردے گا۔ ان ایمانداروں میں سے ایک شخص اپنے ساتھیوں سے کہے گا : میں ضرور اس شخص کے پاس جاؤں گا اسے جانچوں گا کہ کیا یہ وہی ہے جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ڈرایا، یا وہ نہیں، تو وہ رخ پھیر کر چلنے لگے گا، اس کے ساتھ اسے کہیں گے اللہ کی قسم ہم تمہیں اس کے پاس نہیں لے جائیں اگر ہم جان لیں کہ وہ تجھے قتل کردے گا تو ہم تم ہاری راہ سے ہٹ جاتے ہیں لیکن ہمیں یہ کو ف ہے کہ وہ تمہیں فتنہ میں ڈال دے گا، تو مومن آدمی ان کی بات نہیں مانے گا اور اس کے پاس ہی جائے گا، چلتے چلتے اس کے مسلح افراد کے پاس پہنچے گا وہ اسے گرفتار کرلیں گے اس سے پوچھیں گے، تجھے کیا ہوا ہے اور تو کیا چاہتا ہے ؟ وہ ان سے کہے گا : میرا دجال کذاب (کے پاس جانے) کا ارادہ ہے، وہ کہیں گے : کیا تو ایسی بات ہے ؟ کہے گا : ہاں، تو وہ دجال کے پاس پیام روانہ کردیں گے : ہم نے ایسی ایسی بات کرنے والے کو پکڑ رکھا ہے اسے مار ڈالیں یا چھوڑدیں ؟ دجال کہے گا : اسے میرے پاس بھیج دو ، چنانچہ اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ دجال کے پاس پہنچ جائے گا جب اسے دیکھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتائی صورت کے مطابق اسے پہچان لے گا، دجال اس سے کہے گا : تجھے کیا ہے ؟ مومن بندہ کہے گا : تو وہی دجال کذاب ہے تیرے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈرایا ہے، دجال اس سے کہے گا : (اچھا) تو یوں کہتا ہے ! وہ کہے گا : ہاں۔ دجال اسے کہے گا : میری بات مان لے ورنہ میں تیرے دوٹکڑے کردوں گا۔

(یہ سن کر وہ) مومن بندہ باۤوازبلند کہے گا : لوگو ! یہ خیر سے محروم کذاب ہے جس نے اس کی نافرمانی کی اس کے لیے جنت ہے اور جس نے اس کی بات مانی وہ جہنمی ہے دجال اسے کہے گا : میں تجھے پھر کہتاہوں : میری بات مان لے ورنہ تیرے دوٹکڑے کردوں گا : پھر دجال اپنا پاؤں بڑھائے گا اور تلوار اس کی کمر پر رکھ کر اس کے دوٹکڑے کردے گا، دجال جب یوں کرلے گا تو اپنے ماننے والوں سے کہے گا : بتاؤ ! میں اگر اسے زندہ کرلوں تو تمہیں یقین نہیں ہوجائے گا کہ میں تمہارے رب ہوں ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں، چنانچہ وہ اس کے ایک ٹکڑے کو مارے گا یا اپنے پاس والی مٹی مارے گا تو وہ سیدھا کھڑا ہوجائے گا۔ جب اس کے ماننے والے اسے دیکھیں گے تو اس کی تصدیق کریں گے اور انھیں یقین ہوجائے گا کہ یہی ان کا رب ہے تو اس کی بات مانیں گے اور اس کی پیروی کرلیں گے۔

پھر وہ مومن سے کہے گا : کیا تیرا مجھ پر (اب بھی) ایمان نہیں ؟ مومن اس سے کہے گا : اب تو مجھے تیرے بارے میں پہلے سے زیادہ بصیرت حاصل ہوگئی، پھر لوگوں میں اعلان کرے گا : خبردار ! یہی خیر سے محروم دجال ہے جس نے اس کا کہا مانا وہ جہنم میں جائے گا اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا دجال کہے گا : اس کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے ! تم میری بات مان لوورنہ میں تمہیں ذبح کردوں گا یا جہنم میں ڈال دوں گا، مومن کہے گا : اللہ کی قسم ! میں کبھی تیری بات نہیں مانوں گا، تو اسے لٹانے کا حکم دیا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی گردن اور ہنسلی تک تانبے کے دوپترے بنادے گا (دجال) اسے ذبح کرنے لگے گا لیکن نہ کرسکے گا اور نہ قتل کے بعد اب اس پر اس کا بس چل سکے گا، تو اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑ کر جنت میں پھینک دے گا جو گرد و غبار اور دھواں ہوگا جسے وہ جہنم سمجھ رہا ہوگا۔ تو یہ شخص میری امت میں سے درجہ میں میرے سب سے زیادہ نزدیک ہوگا۔ (حاکم عن ابی سعید)
38784- "ألا إن كل نبي قد أنذر أمته الدجال، وإنه يومه هذا قد أكل الطعام، وإني عاهد عهدا لم يعهده نبي لأمته قبلي، ألا! إن عينه اليمنى ممسوحة والحدقة جاحظة فلا تخفى كأنها نخاعة في جنب حائطه، واليسرى كأنها كوكب دري معه مثل الجنة والنار فالنار روضة خضراء والجنة غبراء ذات دخان، ألا! وإن بين يديه رجلين ينذران أهل القرى، كما دخلا قرية أنذرا أهلها، فإذا خرجا منها دخلها أول أصحاب الدجال، ويدخل القرى كلها غير مكة والمدينة حرما عليه، والمؤمنون متفرقون في الأرض فيجمعهم الله له فيقول رجل من المؤمنين لأصحابه: لأنطلقن إلى هذا الرجل فلأنظرن أهو الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أم لا، ثم ولى، فقال له أصحابه: والله لا ندعك تأتية ولو أنا نعلم أنه يقتلك إذا أتيته خلينا سبيلك ولكنا نخاف أن يفتنك فأبى عليهم الرجل المؤمن إلا أن يأتيه، فانطلق يمشي حتى أتى مسلحة من مسالحه فأخذوه فسألوه: ما شأنك وما تريد؟ قال لهم: أريد الدجال الكذاب، قالوا: إنك تقول ذلك قال: نعم، فأرسلوا إلى الدجال: إنا قد أخذنا من يقول كذا وكذا فنقتله أو نرسله؟ قال: أرسلوه إلى، فانطلق به حتى أتى به الدجال فلما رآه عرفه لنعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له الدجال: ما شأنك؟ فقال العبد المؤمن أنت الدجال الكذاب الذي أنذرناك رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال له الدجال: أنت تقول هذا! قال: نعم، قال له الدجال: أتطيعني فيما أمرتك وإلا شققتك شقتين! فنادى العبد المؤمن فقال: يا أيها الناس! هذا المسيح الكذاب، فمن عصاه فهو في الجنة، ومن أطاعه فهو في النار، فقال له الدجال: والذي احلف به لتطيعني أو لأشقنك شقتين! فمد رجله فوضع حديدته على عجب ذنبه فشقه شقتين، فلما فعل به ذلك قال الدجال لأوليائه أرأيتم إن أحييته ألستم تعلمون أني ربكم؟ قالوا: بلى. فضرب إحدى شقيه أو الصعيد عنده، فاستوى قائما، فلما رآه أولياؤه صدقوه وأيقنوا أنه ربهم وأجابوه واتبعوه، وقال للمؤمن: ألا تؤمن بي؟ قال له المؤمن: لأنا الآن أشد فيك بصيرة من قبل! ثم نادى في الناس: ألا! إن هذا المسيح الكذاب، فمن أطاعه فهو النار، ومن عصاه فهو في الجنة، فقال الدجال: والذي أحلف به لتطيعني أو لأذبحنك أو لألقيك في النار! فقال له المؤمن: والله لا أطيعك أبدا! فأمر به فأضجع فجعل الله صفيحتين من نحاس بين تراقيه ورقبته فذهب ليذبحه فلم يستطع ولم يسلط عليه بعد قتله إياه، فأخذه بيديه ورجليه فألقاه في الجنة وهي غبراء ذات دخان يحسبها النار، فذاك الرجل أقرب أمتي مني درجة." ك - عن أبي سعيد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٥۔۔۔ ہر نبی نے اپنی امت سے دجال کا حال بیان کیا ہے اور (تم سے) ضرور اس کا ایسا حلیہ بیان کروں گا، جو مجھ سے پہلے کسی (نبی) نے بیان نہیں کیا : وہ کانا ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ (مسند احمد وابن منیع و ابونعیم فی المعرفۃ، سعید بن منصور عن داؤد بن عامر بن سعد ابن مالک عن ابیہ عن جدہ)
38785- "إنه لم يكن نبي إلا قد وصف الدجال لأمته ولاصفنه صفة لم يصفها أحد كان قبلي: إنه أعور والله تعالى ليس بأعور." حم وابن منيع وأبو نعيم في المعرفة، ص - عن داود بن عامر بن سعد ابن مالك عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٦۔۔۔ مجھ سی پہلے ہر نبی نے دجال کا حال اپنی امت سے بیان کیا ہے اور میں اس کا ایسا نقشہ تمہارے سامنے پیش کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں کیا وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے مبریٰ ہے اس کی داہنی آنکھ (گویا) پھولاانگور ہے۔ (مسند احمد عن ابن عمر)
38786- "إنه لم يكن نبي قبلي إلا وقد وصف الدجال لأمته ولاصفنه صفة لم يصفها من كان قبلي، إنه أعور والله تبارك وتعالى ليس بأعور، عينه اليمنى كأنها عنبة طافئة." حم - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٧۔۔۔ مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، اس کی بائیں آنکھ کافی ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ میں ناخنہ ہوگا اس کی محراب سر کی جگہ ” کافر “ لکھا ہوگا۔ اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی، ایک جنت، دوسری جہنم، تو اس کی جنت جہنم ہے اور جہنم جنت، نیز اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جو نبیوں کی طرح ہوں گے ایک اس کے دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف اور یہ لوگوں کے لیے فتنہ ہوگا۔

وہ کہتا پھرے گا : کیا میں تمہارا رب نہیں، کیا میں زندہ مردہ نہیں کرتا ؟ تو ایک فرشتہ کہے گا تو نے جھوٹ کہا، لیکن اس کی یہ بات کوئی بھی نہ سن سکے گا لوگ سمجھیں گے اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ فتنہ ہوگا، پھر وہ چلتے چلتے مدینہ کے پاس پہنچے گا لیکن اسے داخلے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ اس شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی بستی ہے پھر وہ چلتے چلتے شام تک پہنچ جائے گا وہاں اللہ تعالیٰ اسے افیق کے آخر میں ہلاک کردیں گے۔ (ابوداؤد طیالسی، مسند احمد والبغوی، طبرانی، ابن عساکر، عن سفینۃ)
38787- "لم يكن نبي قبلي إلا حذر أمته الدجال، وهو أعور عينه اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، بين عينيه مكتوب "كافر" يخرج معه واديان: أحدهما جنة والآخر نار، فجنته نار وناره جنة معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء: أحدهما عن يمينه، والآخر عن شماله، وذلك فتنة الناس، يقول: ألست بربكم ألست أحيي وأميت؟ فيقول أحد الملكين: كذبت، فما يسمعه أحد من الناس فيحسبون أنه صدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة ولا يؤذن له فيها فيقول: هذه قرية ذاك الرجل، ثم يسير حتى يأتي الشام فيهلكه الله عز وجل عند عقبة أفيق." ط، حم والبغوي، طب، كر - عن سفينة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٨۔۔۔ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، وہ کانا ہوگا اس کی آنکھ کا ڈھیلا ابھرا ہوگا مخفی نہیں ہوگا گویا کسی دیوار پر رینٹ ہے اور اس کی بائیں آنکھ گویا چمکتا ستارہ ہے اس کے ساتھ جہنم وجنت جیسی چیز ہوگی اس کی جنت گرد آلود دھواں دار ہوگی اور اس کا جہنم سبز باغ ہوگا۔ اس سے پہلے دو شخص ہوں گے جو بستی کے لوگوں کو ڈرائیں گے جب وہ کسی بستی سے نکلیں گے کہ (دجالیوں کے) پہلے لوگ داخل ہوجائیں گے پھر دجال ایک شخص پر مسلط ہوگا اس کے علاوہ کسی پر اس کا بس نہیں چلے گا، وہ اسے ذبح کرکے لاٹھی مار کے کہے گا : اٹھ ! وہ اٹھے گا، اپنے ساتھیوں سے (دجال) کہے گا : تمہارے کیا رائے ہے ؟ تو وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے توج سے ذبح کیا تھا وہ کہے گا : لوگو ! یہ خیر سے محروم دجال ہے جس سے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈرایا تھا اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں زیادہ بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔ تو دجال اسے دوبارہ ذبح کرکے اپنی لاٹھی سے مار کرک ہے گا : اٹھ ! وہ اٹھ کھڑا ہوگا، (دجال) اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے تو مذبوح شخص کہے گا : لوگو ! یہ وہی خیر سے محروم دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ڈرایا تھا، مجھے تیرے بارے زیادہ بصیرت حاصل ہوچکی ہے، تو دجال اسے چوتھی مرتبہ ذبح کرنے آگے بڑھے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی گردن پر تانبے کا پترا لگادے گا دجال ذبح کرنا چاہے گا لیکن ذبح نہ کرسکے گا۔ (عبدبن حمید، ابویعلی، ابن عساکر عن ابی سعد)
38788- "إنه لم يكن نبي إلا وقد أنذر بالدجال أمته وأني أنذركموه، إنه أعور ذو حدقة جاحظة لا تخفى كأنها نخاعة في جنب جدار، وعينه اليسرى كأنها كوكب دري، ومعه مثل الجنة ومثل النار، وجنته غبراء ذات دخان، وناره روضة خضراء، وبين يديه رجلان ينذران أهل القرى، كلما خرج من قرية دخل أوائلهم، ويسلط على رجل لا يسلط على غيره فيذبحه ثم يضربه بعصا ثم يقول: قم، فيقوم، فيقول لأصحابه: كيف ترون؟ فيشهدون له بالشرك ويقول المذبوح: يا أيها الناس، إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرناه رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله ما زادني هذا فيك إلا بصيرة! فيعود فيذبحه فيضربه بعصا معه فيقول: قم، فيقوم، فيقول لأصحابه: كيف ترون؟ فيشهدون له بالشرك، فيقول المذبوح: يا أيها الناس! إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرناه رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله ما زادني فيك إلا بصيرة، فيعود فيذبحه فيضربه بعصا معه فيقول: قم، فيقوم: فيقول لأصحابه: كيف ترون؟ فيشهدون له بالشرك، فيقول المذبوح: يا أيها الناس! هذا المسيح الدجال الذي أنذرناه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما زادني هذا فيك إلا بصيرة، فيعود كذا الرابعة ليذبحه، فيضرب الله على حلقة صفيحة من نحاس، فيريد أن يذبحه فلا يستطيع ذبحه." عبد بن حميد، ع، كر - عن أبي سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٨٩۔۔۔ اگر دجال نکلا اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے اس کا مقابلہ کرنے کو کافی ہوں، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ تو کانا نہیں ہے وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگا یہاں تک کہ مدینہ کے پاس آئے گا اور اس کے اطراف میں پڑاؤ کرے گا اس وقت مدینہ کے سات (داخلی) دروازے ہوں گے ہر درے پر دو فرشتے ہوں گے، پھر مدینہ کے برے لوگ اس کی طرف چلے جائیں گے یہاں تک کہ شام فلسطین کے شہر لد کے دروازے پر پہنچ جائے گا پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور اسے قتل کردیں گے عیسیٰ (علیہ السلام) زمین میں چالیس سال رہیں گے آپ کی حیثیت عادل بادشاہ اور منصف حاکم کی ہوگی۔ (مسند احمد عن عائشۃ)
38789- "إن يخرج الدجال وأنا حي كفيتكموه، وإن يخرج بعدي فإن ربكم عز وجل ليس بأعور، إنه يخرج في يهودية أصبهان حتى يأتي المدينة فينزل ناحيتها ولها يومئذ سبعة أبواب على كل نقب منها ملكان، فيخرج إليه شرار أهلها حتى يأتي الشام مدينة بفلسطين بباب لد، فينزل عيسى عليه السلام فيقتله، ويمكث عيسى في الأرض أربعين سنة إماما عدلا وحكما مقسطا." حم - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: