কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৮৮০২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٠۔۔۔ میرے ہوتے اگر وہ (دجال) نکل آیا تو میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری عدم موجودگی میں نکلا تو ہر آدمی خود مقابلہ کرے گا اور میری طرف سے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر خلیفہ ہے، سن رکھو ! اس کی آنکھ سپاٹ ہوگی جیسے وہ عبدالعزی بن قطن خزاعی کی آنکھ ہے، آگاہ رہنا ! اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، جو کوئی تم میں سے اس سے ملے تو وہ سورة کہف کی ابتدائی آیات اس کے سامنے پڑھ دے۔ خبردار ! میں نے اسے دیکھ لیا وہ شام و عراق کے درمیانی علاقہ میں نکلا، دائیں بائیں پھرا، اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا (تین بار فرمایا) کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ زمین میں کتنا رہے گا : آپ نے فرمایا : چالیس روز، ایک دن سال جیسا اور ایک دن جمعہ جیسا اور اس کے باقی دن تمہارے ان دنوں کی طرح ہوں گے۔ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس وقت ہم لوگ نمازیں کیسے پڑھیں گے، کیا ایک دن کی نماز ہوگی یا اندازہ لگائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : بلکہ اندازہ لگائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : بلکہ اندازہ لگاؤ گے۔ (طبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن عبدالرحمن بن جبیر ابن نفیر عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذکر الدجال فقال ۔ فذکرہ)
38790- "إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه، وإن يخرج ولست فيكم فكل امرئ حجيج نفسه، والله خليفتي على كل مسلم، ألا! إنه مطموس العين كأنها عين عبد العزى بن قطن الخزاعي، ألا! وإنه مكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مسلم، فمن لقيه منكم فليقرأ عليه بفاتحة الكهف، ألا! وإني رأيته خرج من خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا، يا عباد الله! اثبتوا - ثلاثا، قيل: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! ما لبثه في الأرض؟ قال: أربعون يوما يوم منها كسنة ويوم كجمعة وسائرها كأيامكم هذا، قالوا: يا رسول الله! فكيف نصنع بالصلاة يومئذ صلاة يوم أو نقدر؟ قال: بل تقدروا." طب وابن عساكر - عن عبد الرحمن بن جبير ابن نفير عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر الدجال فقال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩١۔۔۔ میں دجال کو اس کے حال سے زیادہ جانتا ہوں، اس کے ساتھ دونہریں ہوں گی ایک دیکھنے والے کو سلگتی آگ نظر آئے گی اور دوسری صاف پانی، اگر تم میں سے کوئی اس کا زمانہ پالے تو وہ اس میں غوطہ لگائے اور اس میں سے پیئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا، خبردار دوسری سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ فتنہ ہے اور یہ جان لو کہ اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا ج سے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا پڑھ لے گا۔ اس کی ایک آنکھ سپاٹ ہوگی اس پر ناخنہ ہوگا۔ اس کا آخری ظہور اردن کے میدان میں افیق کے کنارے سے ہوگا اور ہر وہ شخص جس کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہوگا وہ اردن کے میدان میں ہوگا، وہ تین تہائی مسلمان قتل کردے گا تین تہائی چھوڑ دے گا رات ہوگی تو مسلمان ایک دوسرے سے کہیں گے تمہیں کس بات کا انتظار ہے اپنے بھائیوں پر اپنے رب کی رضامندی کے اصرار کا ؟ جس کے پاس فالتو کھانا ہو وہ اپنے بھائی کو پہنچادے اور صبح ہونے تک نماز پڑھتے رہو نماز میں جلدی کرو اور دشمن کا سامنا کرو۔

جب وہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے، جو ان کے امام ہوں گے اور انھیں نماز پڑھائیں گے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمائیں گے میرے اور اللہ کے دشمن (دجال) کے درمیان والا دروازہ کھول دو ، تو وہ ایسے پگھلے گا جیسے دھوپ میں کھال پگھلتی ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان پر مسلط کردے گا جو انھیں قتل کریں گے یہاں تک کہ حجروشجر پکاریں گے، اللہ کے بندے رحمن کے بندے، اے مسلمان ! یہ یہود ہے اسے قتل کرو، اللہ تعالیٰ انھیں فنا کردے گا اور مسلمانوں کو غلبہ دے گا پھر وہ صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو مار ڈالیں اور جزیہ ختم کردیں گے وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو کھول دے گا ان کا پہلا گروہ بحیرہ سے پئے گا آخری ریلہ آئے گا تو وہ خشک کرچکے ہوں گے اس میں ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑیں گے وہ کہیں گے ہم اپنے دشمنوں پر چھاگئے، یہاں کبھی پانی کا نام ونشان تھا۔ پھر اللہ کے نبی آئیں گے آپ کے ساتھی آپ کے پیچھے ہوں گے یہاں تک کہ یہ لوگ فلسطین کے کسی شہر میں داخل ہوجائیں گے جسے لد کہا جائے گا۔ (یاجوج ماجوج) کہیں گے : ہم زمین والوں پر غلبہ پاچکے چلو اب آسمان والوں سے نمٹیں ! اس وقت اللہ کا نبی اللہ سے دعا کرے گا تو ان کے گلوں میں ایک پھوڑا نکلے گا تو ان میں سے کوئی بھی نہ بچے گا ان کی بدبو سے مسلمانوں کو تکلیف ہوگی تو عیسیٰ (علیہ السلام) ان

کے لیے بددعا کریں گے اللہ تعالیٰ ان پر ایک ہوا بھیجے گا جو ان سب کو سمندر میں پھینک دے گی۔ (ابن عساکر عن حذیفۃ)
38791- "أنا أعلم بما مع الدجال منه، معه نهران أحدهما نار تأجج في عين من رآه والآخر ماء أبيض، فإن أدركه أحد منكم فليغمض وليشرب من الذي يراه نارا فإنه ماء بارد، وإياكم والآخر! فإنه الفتنة، واعلموا أنه مكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه من يكتب ومن لا يكتب، وإن إحدى عينيه ممسوحة عليها ظفرة، إنه يطلع من آخر أمره على بطن الأردن على ثنية أفيق، وكل واحد يؤمن بالله واليوم الآخر ببطن الأردن، وإنه يقتل من المسلمين ثلثا ويهزم ثلثا، ويبقى ثلثا، يجن عليهم الليل فيقول بعض المؤمنين لبعض: ما تنظرون أن تلحوا بإخوانكم في مرضات ربكم؟ من كان عنده فضل طعام فليعد به على أخيه، وصلوا حتى ينفجر الفجر وعجلوا الصلاة ثم أقبلوا على عدوكم، فلما قاموا يصلون نزل عيسى ابن مريم أمامهم فصلى بهم، فلما انصرف قال هكذا فرجوا بيني وبين عدو الله، فيذوب كما تذوب الإهالة في الشمس، ويسلط الله تعالى عليهم المسلمين فيقتلونهم حتى إن الشجر والحجر لينادي: يا عبد الله يا عبد الرحمن يا مسلم! هذا يهودي فاقتله، فيفنيهم الله ويظهر المسلمون فيكسرون الصليب ويقتلون الخنزير ويضعون الجزية، فبينما هم كذلك إذ أخرج الله يأجوج ومأجوج فيشرب أولهم البحيرة ويجيء آخرهم وقد انتشفوه فما يدعون فيه قطرة فيقولون: ظهرنا على أعدائنا! قد كان ههنا أثر ماء فيجيء نبي الله وأصحابه وراءه حتى يدخلوا مدينة من مدائن فلسطين يقال لها لد فيقولون: ظهرنا على من في الأرض فتعالوا نقاتل من في السماء! فيدعوا الله نبيه عند ذلك فيبعث الله عليهم قرحة في حلوقهم فلا يبقى منهم بشر، فتؤذي ريحهم المسلمين فيدعو عيسى عليهم، فيرسل الله عليهم ريحا فتقذفهم في البحر أجمعين." كر - عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٢۔۔۔ میں تمہیں اس سے یعنی دجال سے ڈراتا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا، لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں کہی۔ تم جان لوگے کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی عن ابن عمر)
38792- "إني لأنذركموه - يعني الدجال - وما من نبي إلا قد أنذره قومه ولقد أنذره نوح قومه ولكن سأقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه: تعلمون أنه أعور وأن الله عز وجل ليس بأعور." خ، م، د، ت - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٣۔۔۔ میں اللہ کے دشمن خیر سے محروم (دجال) کی جگہیں دیکھ رہا ہوں، وہ ادھر رخ کررہا ہے یہاں تک کہ وہاں سے اترے گا، پھر ناکارہ لوگ اس کی طرف چل پڑیں گے مدینہ کے ہر درے پر ایک یا دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ دجال کے ساتھ جنت اور جہنم کی سی دو صورتیں ہوں گی اس کے ساتھ مردوں کے مشابہ شیاطین ہوں گے، جو زندہ آدمی سے کہیں گے : مجھے جانتا ہے میں تیرا بھائی ہوں تیرا باپ ہوں، تیرا رشتہ دار ہوں کیا میں مر نہیں گیا تھا ؟ یہ ہمارا رب ہے اس کی بات مان لے، پھر اللہ جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک مسلمان بھیجے گا جو اسے خاموش اور لاجواب کردے گا وہ کہے گا : یہ بےحد جھوٹا ہے لوگو ! تمہیں دھوکا نہ ہو یہ بڑا جھوٹا ہے غلط بات کہہ رہا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں، دجال اس سے کہے گا : کیا تو میری پیروی کرے گا ؟ تو وہ انکار کردے گا، دجال اس کے دو ٹکڑے کردے گا اسے یہ اختیار دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا کیا میں اسے تمہارے لیے لوٹادوں، تو اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا تو وہ پہلے سے زیادہ اس کی تکذیب و تردید کررہا ہوگا اور اسے برا بھلا کہہ رہا ہوگا، وہ کہے گا : لوگو ! تم ایک مصیبت اور فتنہ میں پھنسائے گئے ہو اگر یہ سچا ہے تو مجھے دوبارہ مار کر لوٹائے، ورنہ یہ بڑا جھوٹا ہے، وہ اس کے بارے میں حکم دے گا کہ اس کو آگ میں ڈال دیا جائے وہ جنت کی صورت میں ہوگی۔ دجال شام کی جانب نکلے گا (طبرانی عن سلمہ ابن الاکوع
38793- "إني لأنظر إلى مواقع عدو الله المسيح، إنه يقبل حتى ينزل من كذا، حتى يخرج إليه غوغاء الناس، ما من نقب من أنقاب المدينة إلا عليه ملك أو ملكان يحرسانه، معه صورتان صورة الجنة وصورة النار خضراء، معه شياطين مشبهون بالأموات، يقولون للحي: تعرفني أنا أخوك أنا أبوك أو ذو قرابة منه ألست قدمت؟ هذا ربنا فاتبعه، فيقضى الله ما يشاء منه ويبعث الله له رجلا من المسلمين فيسكته ويبكته ويقول: هذا الكذاب، أيها الناس، لا يغرنكم فإنه كذاب ويقول باطلا وليس ربكم بأعور، فيقول: هل أنت متبعي؟ فيأبى، فيشقه شقتين، ويعطى ذلك، فيقول أعيده لكم، فيبعثه الله أشد ما كان له تكذيبا وأشد شتما، فيقول: أيها الناس! إنما رأيتم بلاء ابتليتم به وفتنة أفتنتم بها، إن كان صادقا فليعدني مرة أخرى وإلا هو كذاب، فيأمر به إلى هذه النار وهي في صورة الجنة، فيخرج قبل الشام." طب - عن سلمة ابن الأكوع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھیجا اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، میں آخری نبی اور تم آخری امت ہو، وہ یقیناً تم میں نکلے گا اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد نکلا تو ہر آدمی خود مقابلہ کرے گا اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میری طرف سے خلیفہ ونگہبان ہے۔

وہ شام و عراق کے درمیانی علاقے سے نکلے گا، دائیں بائیں پھرے گا، اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا، کیونکہ وہ کہے گا : میں نبی ہوں، تو میرے بعد کوئی (نیا) نبی نہیں اور اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، جو کوئی تم میں سے اسے ملے تو وہ اس کے سامنے تھوک کر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ ایک انسان پر مسلط ہوگا اسے قتل کرنے کے بعد زندہ کرے گا، پھر وہ اس سے تجاوز کرے گا اور نہ کسی اور پر مسلط ہوگا۔

اس کا فتنہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی، تو اس کی جنت، جہنم ہے اور جہنم جنت ہے، تو جو جہنم میں مبتلا کیا جائے وہ اس میں اپنی آنکھیں ڈبوئے اور اللہ تعالیٰ سے مددطلب کرے، تو وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی۔ اور اس کے چالیس روز ہوں گے، ایک دن سال جیسا اور ایک دن مہینہ کی طرح، اور ایک دن جمعہ کی طرح اور ایک دن باقی دنوں کی طرح، اور اس کے آخری دن سراب (چمکتے ریت) کی طرح ہوں گے آدمی صبح کے وقت شہر کے دروازے پر ہوگا اور شام دوسرے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہوجائے گی۔

لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم ان چھوٹے دنوں میں نماز کیسے پڑھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ایسے اندازہ لگا لینا جیسے لمبے دنوں میں لگاتے ہو۔ (طبرانی عن ابی امامۃ )
38794- "إن الله تعالى لم يبعث نبيا إلا حذر أمته الدجال وأني آخر الأنبياء وأنتم آخر الأمم، وهو خارج فيكم لا محالة، فإن يخرج وأنا بين أظهركم فأنا حجيج كل مسلم، وإن يخرج فيكم بعدي فكل امرئ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم، وإن يخرج من خلة بين العراق والشام، عاث يمينا وعاث شمالا، يا عباد الله اثبتوا فإنه يبدو فيقول "أنا نبي" ولا نبي بعدي، وإنه مكتوب بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن، فمن لقيه منكم فليتفل في وجهه وليقرأ بفواتح سورة الكهف، وإنه يسلط من نفس من بني آدم فيقتلها ثم يحييها، وإنه لا يعدو ذلك ولا يسلط على نفس غيرها، وإن من فتنته أن معه جنة ونارا، فناره جنة وجنته نار، فمن ابتلي بناره فليغمض عينيه وليستعن بالله، تكون عليه بردا وسلاما كما كانت النار بردا وسلاما على إبراهيم، وإن أيامه أربعون يوما، يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة ويوم كالأيام، وآخر أيامه كالسراب، يصبح الرجل عند باب المدينة فيمسى قبل أن يبلغ بابها الآخر، قالوا وكيف نصلي يا رسول الله في تلك الأيام القصار؟ قال: تقدرون فيها كما تقدرون في الأيام الطوال." طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٥۔۔۔ دجال نکلنے والا ہے اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس پر سخت ناخنہ ہوگا وہ کوڑھی اور برص والے کو ٹھیک کرے گا، مردوں کو زندہ کرے گا، اور لوگوں سے کہے گا : میں تمہارا رب ہوں جس نے کہہ دیا کہ تو میرا رب ہے وہ فتنہ میں پڑگیا، اور جس نے کہا میرا رب اللہ ہے اور اسی پر اس کی موت ہوئی تو وہ بچا لیا گیا اب نہ اس کے لیے کوئی فتنہ ہے اور نہ عذاب، جتنا اللہ چاہے گا وہ زمین پر رہے گا، پھر مغرب کی جانب سے عیسیٰ (علیہ السلام) آئیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرتے اور ان کی ملت پر قائم رہتے ہوئے دجال کو قتل کریں گے، پھر قیامت قائم ہوجائے گی۔ (مسند احمد، طبرانی والرویانی، ضیاء عن سمرۃ )
38795- "إن الدجال خارج وإنه أعور عين الشمال، عليها ظفرة غليظة، وإنه يبرئ الأكمه والأبرص ويحيي الموتى ويقول للناس أنا ربكم، فمن قال: أنت ربي، فقد فتن، ومن قال: الله ربي، حتى يموت على ذلك فقد عصم من فتنة الدجال ولا فتنة بعده عليه ولا عذاب، فيلبث في الأرض ما شاء الله، ثم يجيء عيسى ابن مريم عليهما السلام من قبل المغرب مصدقا بمحمد صلى الله عليه وسلم وعلى ملته فيقتل الدجال، ثم إنما هو قيام الساعة." حم، طب والروياني، ض - عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٦۔ دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا اور اس پر سخت ناخنہ ہوگا (نعیم عن حماد فی الفتن عن انس)
38796- "إن الدجال أعور عين الشمال، بين عينيه مكتوب "كافر" وعلى عينة ظفرة غليظة".

"نعيم بن حماد في الفتن - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٧۔۔۔ دجال ہر جگہ پہنچ جائے گا سوائے چار جگہوں کے، مسجد حرام، مسجد نبوی مسجد طور سینا، مسجد اقصیٰ ۔ (نعم عن رجل
38797- "إن الدجال يبلغ كل منهل إلا أربعة مساجد مسجد الحرام ومسجد المدينة ومسجد طور سيناء ومسجد الأقصى." نعيم - عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٨۔۔۔ تمہارا رب کانا نہیں جب کہ دجال کانا ہے اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھا لکھا اور ان پڑھ، پڑھ لے گا۔ (طبرانی عن ابی بکرۃ)
38798- "إن ربكم تعالى ليس بأعور وإنه أعور - يعني الدجال - مكتوب بين عينيه "كافر" يقروؤه الأمي والكاتب." طب - عن أبي بكرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٧٩٩۔۔۔ دجال کے بال گھنگھریالے، رنگ انتہائی گورا چٹا ہوگا، اس کا سردرخت کی ٹہنی ہوگا۔ بائیں آنکھی سپاٹ ہوگی اور دوسری جیسا پھولا ہوا انگور کا دانہ، عبدالعزی بن قطن اس کے زیادہ مشابہ ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب اس عیب سے منزہ ہے۔ (ابوداؤد طیالسی، مسند احمد، طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس)
38799- "الدجال جعد هجان أقمر، كأن رأسه غصن شجرة، مطموس عينيه اليسرى - والأخرى كأنها عنبة طافئة، أشبه الناس به عبد العزى بن قطن، فأما هلك الهلك فإنه أعور وإن ربكم ليس بأعور." ط، حم، طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٠۔۔۔ میں نے دجال کو (خواب میں) گورا چٹا، موٹا اور بڑے ڈیل وڈول والا دیکھا، اس کے سر کے بال گویا کسی درخت کی شاخیں ہیں، کانا گویا اس کی آنکھ صبح کا ستارہ ہے خزاعہ کے آدمی عبدالعزی کے زیادہ مشابہ ہے۔ (طبرانی عن ابن عباس)
38800- "رأيت الدجال أقمر هجانا ضخما فيلمانيا، كأن شعر رأسه أغضان شجرة، أعور كأن عينه كوكب الصبح، أشبه بعبد العزى - رجل من خزاعة." طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠١۔۔۔ دجال موٹا بھاری بھرکم جسم والا اور گوراچٹا ہے اس کی ایک آنکھ قائم ہوگی جیسے چمکتا ستارہ، اور اس کے سر کے بال جیسے درخت کی شاخیں ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا وہ سفید رنگ کے نوجوان ہیں ان کے سر کے بال گھنگریا ہے، نظرتیز، ہلکا جسم اور موسیٰ (علیہ السلام) کو میں نے دیکھا لحیم شحیم، گندمی رنگ، زیادہ بالوں والے اور بھاری جسم والے ہیں میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا میں نے آپکے نمایاں اعضاء میں سے جسے دیکھا اسے اپنے جسم پر پایا گویا وہ تمہارے ساتھ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ہیں، جبرائیل نے مجھے کہا : کہ مالک (داروغہ جہنم) کو سلام کریں تو میں نے انھیں سلام کیا (مسند احمد عن ابن عباس)
38801- "الدجال فيلمانيا أقمر هجانا، إحدى عينيه قائمة كأنها كوكب دري، كأن شعرات رأسه أغصان شجرة، ورأيت عيسى شابا أبيض جعد الرأس حديد البصر مبطن الخلق، ورأيت موسى أشحم آدم كثير الشعر شديد الخلق، ونظرت إلى إبراهيم فلا أنظر إلى أرب منه إلا نظرت إليه مني كأنه صاحبكم، فقال جبريل: سلم على مالك، فسلمت عليه." حم - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٢۔۔۔ دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا پڑھ لے گا۔ (مسند احمد عن ابی بکرۃ
38802- "الدجال أعور عين الشمال. بين عينيه مكتوب "كافر" يقرؤه الأمي والكاتب." حم - عن أبي بكرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٣۔۔۔ دجال کو عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔ (ابن ابی شیبہ عم مجمع بن حارث)
38803- "الدجال يقتله عيسى ابن مريم على باب لد." ش - عن مجمع بن حارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٤۔۔۔ جزیرہ عرب میں تمہاری لڑائی ہوگی اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح دے گا پھر رومیوں سے تم لڑو گے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھی فتح دے گا، پھر اہل فارس سے تمہاری جنگ ہوگی ان پر بھی اللہ فتح دے گا پھر دجال سے تم لڑو گے اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح دے گا۔ (ابن ابی شیبہ، حاکم عن نافع بن عتبہ بن ابی وقاص)
38804- "تقاتلون جزيرة العرب فيفتحها الله، ثم تقاتلون الروم فيفتحهم الله، ثم تقاتلون فارس فيفتحهم الله، ثم تقاتلون الدجال فيفتحه الله." ش، ك - عن نافع بن عتبة بن أبي وقاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٥۔۔۔ اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تمہیں ایک بندے کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا جائے گا جس کے لیے زمین کی نہریں اور پھل مسخر کردئیے گئے ہوں گے جو اس کی پیروی کرے گا وہ اسے کھلا کر کافر بنادے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اسے محروم رکھ کر عذاب دے گا اس وقت اللہ تعالیٰ مومنوں کی اس سے حفاظت کرے گا جس سے فرشتوں کی حفاظت کرتا ہے یعنی سبحانہ اللہ سے، اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر پڑھا اور ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن اسماء بنت عمیس)
38805- "كيف بكم إذا ابتليتم بعبد قد سخرت له أنهار الأرض وثمارها، فمن اتبعه أطعمه وأكفره، ومن عصاه حرمه وعنه، إن الله تعالى يعصم المؤمنين يومئذ بما عصم به الملائكة من التسبيح، إن بين عينيه "كافر" يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب." طب - عن أسماء بنت عميس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٦۔۔۔ جنہوں نے مجھے دیکھا وہ ضرور دجال کا زمانہ پالیں گے یا وہ میری موت کے قریب (ظاہر ) ہوگا۔ (طبرانی عن عبداللہ بن بسر)
38806- "ليدركن الدجال من رآني أو ليكونن قريبا من موتي." طب - عن عبد الله بن بسر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٧۔۔۔ بہت سے لوگ یہ کہہ کر دجال کا ضرور ساتھ دیں گے : کہ ہم اسے بتائیں گے کہ وہ کافر ہے اس لیے ساتھ رہیں گے۔ لیکن ساتھ رہتے ہوئے اس کا کھانا کھائیں گے اور اس کے درختوں کا پھل کھائیں گے، جب اللہ کا غضب نازل ہوگا تو سب پر نال ہوگا۔ (نعیم بن حماد فی الفتن عن عبید ابن عمیر مرسلاً )
38807- "ليصحبن الدجال أقوام يقولون: إنا لنصحبه وإنا لنعلم أنه الكافر ولكنا نصحبه نأكل من طعامه ونرعى من الشجر، فإذا نزل غضب الله نزل عليهم كلهم." نعيم بن حماد في الفتن - عن عبيد ابن عمير مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮২০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٨۔۔۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اس سے قیامت کے قائم ہونے تک اللہ تعالیٰ نے دجال کے فتنے سے بڑا فتنہ نہیں بھیجا، میں نے اس کے متعلق ایسی دوٹوک بات کی ہے کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہیں کی، اس کا گندمی رنگ ہوگا، اس کی بائیں آنکھ سپاٹ ہوگی اس کی آنکھ پر ناخنہ ہوگا وہ کوڑھی اور برص والے کو بھلا کرے گا کہے گا : میں تمہارا رب ہوں، جو کہہ دے گا : میرا رب اللہ ہے اس کے لیے کوئی فتنہ نہیں اور جو کہے گا : تو میرا رب ہے تو وہ فتنہ میں پڑگیا جتنا اللہ نے چاہا وہ تم میں رہے گا، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کریں گے انہی کی شریعت پر ہدایت یافتہ حاکم اور عادل قاضی ہوں گے وہی دجال کو قتل کریں گے۔ (طبرانی عن عبداللہ بن مغفل)
38808- "ما أهبط الله عز وجل إلى الأرض منذ خلق آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أعظم من فتنة الدجال، وقد قلت فيه قولا لم يقله أحد من قبلي: إنه آدم جعد ممسوح عين اليسار، على عينه ظفرة غليظة، وإنه يبرئ الأكمه والأبرص ويقول: أنا ربكم فمن قال: ربي الله، فلا فتنة عليه، ومن قال: أنت ربي فقد افتتن يلبث فيكم ما شاء الله، ثم ينزل عيسى ابن مريم مصدقا بمحمد على ملته إماما مهديا وحكما عدلا فيقتل الدجال." طب - عن عبد الله بن مغفل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮২১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٠٩۔۔۔ تم اس کے بارے میں پوچھ رہے ہو ! تمہیں اس کا زمانہ نہیں ملے گا جب تک میراث تقسیم نہیں ہوتی اور غنیمت پر خوش نہیں ہوا جاتا دجال نہیں نکلے گا۔ (طبرانی عن المغیرۃ)
38809- "ما سؤالك عنه! إنك لا تدركه، أما! إنه لا يخرج حتى لا يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة - يعني الدجال." طب - عن المغيرة".
tahqiq

তাহকীক: