কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৮৯০২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٨٩۔۔۔ عنقریب سیلاب کے بند سے ایک آگ نکلے گی وہ سست اونٹوں کی چال چلے گی صبح وشام دن کے وقت چلے گی اور رات کو قیام کرے گی، کہا جائے گا آگ چل پڑی لوگو ! چلو، آگے کہے گی : لوگو ! چلو، آگ کہے گی : لوگو ! قیلولہ کرلو، شام کو آگ چلے گی : کہا جائے گا : لوگو ! چلو وہ آگ جس تک پہنچ گئی اسے بھسم کردے گی۔ (مسند احمد وابو نعیم وتعقب، بیھقی عن رافع بشر السلمی عن ابیہ وقال لہ : بشیر قال البغوی : ولا اعلم لہ غیرہ)
38889- "توشك أن تخرج نار من حبس سيل، تسير سير بطيئة الإبل، تسير بالنهار وتقيم بالليل وتغدو وتروح، يقال: غدت النار أيها الناس اغدو، قالت النار أيها الناس فقيلوا، راحت النار أيها الناس، فروحوا، من أدركته أكلته." حم، ع والبغوي والباوردي وابن قانع، طب، ك، حب وأبو نعيم وتعقب، هق - عن رافع بن بشر السلمي عن أبيه ويقال له بشير، قال البغوي: ولا أعلم له غيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٠۔۔۔ اپنے گھر والوں کو نکال کرلے جاؤ عنقریب یہاں سے ایک آگ نکلے گی جو بصری یعنی سیلاب کے بند کے اونٹوں کی گردنیں روشن کردے گی۔ (حاکم وتعقب عن ابی البداح ابن عاصم عن ابیہ)
38890- "أخرج أهلك فإنه يوشك أن تخرج منه نار تضيء أعناق الإبل ببصرى - يعني حبس سيل." ك وتعقب - عن أبي البداح ابن عاصم عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩١۔۔۔ بندسیلاب سے اپنے گھروالوں کو نکال لو کیونکہ یہاں عنقریب ایک آگے نکلے گی جو بصری کے اونٹوں کی گردنیں روشن کردے گی۔ (طبرانی عن عاصم بن عدی الانصاری)
38891- "أخرج أهلك منها - يعني من حبس سيل فإنه يوشك أن تخرج منه نار تضيء أعناق الإبل ببصرى." طب - عن عاصم بن عدي الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٢۔۔۔ البتہ یہ اسے (مدینہ کو) اس سے اچھی حالت میں چھوڑ جائیں گے، کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ یمن کی جانب جبل وراق سے وہ آگ کب نکلے گی جو بصری میں بیٹھے اونٹوں کی۔ گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن کرے گی ؟ (مسند احمد، ابویعلی، ابن حبان والرویانی، حاکم، ضیاء عن ابی در)
38892- "أما إنهم سيدعونها أحسن ما كانت - يعني المدينة، ليت شعري متى تخرج نار من اليمن من جبل الوراق! تضيء منها أعناق الإبل بروكا ببصرى كضوء النهار." حم، ع، حب والروياني ك، ض - عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٣۔۔۔ اہل مشرق کی جانب ایک آگ بھیجی جائے گی جو انھیں مغرب کی طرف جمع کرے گی، جہاں وہ لوگ رات گزاریں، رات گزارے اور جہاں وہ قیلولہ کریں قیلولہ کرے گی۔ جو لوگ پیچھے گرے پڑے ہوں گے اس کی خوراک ہوں گے، وہ انھیں سست اونٹ کی رفتار ہانکے گی۔ (دارقطنی فی الافراد، طبرانی فی الکبیر، حاکم عن ابی عمرو)
38893- "تبعث نار على أهل المشرق فتحشرهم إلى المغرب، تبيت معهم حيث باتوا وتقيل معهم حيث قالوا، يكون لها ما سقط منهم وتخلف، تسوقهم سوق الجمل الكسير." قط في الأفراد، طب ك - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٤۔۔۔ جب تک رکوبہ سے ایک آگ نہیں نکلتی جس سے بصری کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوں گی قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (ابو عوانہ عن ابی الطفیل عن حذیفۃ ابن سید)
38894- "لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من ركوبة تضيء أعناق الإبل ببصرى". أبو عوانة - عن أبي الطفيل عن حذيفة ابن أسيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٥۔۔۔ ہوسکتا ہے تم اسے، اس سے اچھی حالت میں چھوڑ جاؤ، کاش مجھے پتہ چل جائے کہ جبل وراق سے وہ آگ کب نکلے گی جس سے بصری کے اونٹوں کی گردنیں اس طرح روشن ہوں گی جیسے لوگ دن کے وقت دیکھتے ہیں۔ (حاکم عن ابن ذر
38895- "يوشك أن تدعوها أحسن ما كانت، ليت شعري متى تخرج نار من جبل الوراق! تضيء لها أعناق البخت ببصرى، يرون كضوء النهار." ك - عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” سورج کا مغرب سے طلوع ہونا “
٣٨٨٩٦۔۔۔ پہلی نشانیوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ)

کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٢١٤٣، المشتھر ٤١۔
38896- "أول الآيات طلوع الشمس من مغربها." طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” سورج کا مغرب سے طلوع ہونا “
٣٨٨٩٧۔۔۔ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہولیتا قیامت قائم نہیں ہوگی، جب وہ طلوع ہوگا تو لوگ اسے دیکھ کر سب کے سب ایمان لے آئیں گے یہی وقت ہوگا جس میں کسی ایمان لانے والے کو جب پہلے سے مسلمان نہیں ہوا اور نہ اپنے ایمان میں کوئی بھلائی کی، اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، قیامت ضرور قائم ہوگی جب کہ دو آدمیوں نے (بھاؤ تاؤ کے لئے) کپڑا پھیلایا ہوگا تو نہ وہ اسے خرید بیچ سکیں گے اور نہ لپیٹ سکیں گے، قیامت قائم ہو کر رہے گی جب کہ آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دھوکر لوٹ رہا ہوگا پھر اے پی نہیں سکے گا، اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جب کہ ایک شخص اپنے حوض کی مرمت کررہا ہوگا تو اسے مزید (بھاگنے کا) موقع نہیں ملے گا، قیامت قائم ہو کر رہے گی جب کہ آدم نے منہ کی طرف لقمہ اٹھایا ہوگا لیکن اسے کھانہ سکے گا۔ (بخاری، ابن ماجہ عن ابوہریرہ )
38897- "لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت فرآها الناس آمنوا أجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا، ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما فلا يتبايعانه ولا يطويانه، ولتقومن وقد انصرف الرجل بلين لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسعى فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع أكلته إلى فيه فلا يطعمها." ق، ه عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” سورج کا مغرب سے طلوع ہونا “
٣٨٨٩٨۔۔۔ میری امت کے لیے طلوع فجر، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی نسبت امان ہے۔ (فردوس عن ابن عباس

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٦٢٨، المغیر ٩٠)
38898- "طلوع الفجر أمان لأمتي من طلوع الشمس من مغربها." فر - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٨٩٩۔۔۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا تو ابلیس سجدہ میں گرجائے گا اور چیخ و پکار کرک ہے گا : میرے معبود ! مجھے حکم دے جسے تو چاہے گا میں سجدہ کروں گا، اس کا لشکر اس کے پاس جمع ہو کر عرض کرے گا : سردار ! یہ کیسی آہ زاری ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے رب سے ایک مقررہ مدت تک مہلت مانگی تھی اب یہی وہ وقت ہے، پھر کوہ صفا کی پھٹن سے ایک جانور نکلے گا وہ پہلا قدم انطاکیۃ میں رکھے گا اور ابلیس کے پاس آکر اسے طمانچہ مارے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عمرو)
38899- "إذا طلعت الشمس من مغربها خر إبليس ساجدا ينادي ويجهر: إلهي! مرني أن أسجد لمن شئت، فيجتمع إليه زبانيته فيقولون: يا سيدي ما هذا التضرع؟ فيقول: إني سألت ربي عز وجل أن ينظرني إلى الوقت المعلوم وهذا الوقت المعلوم، ثم تخرج دابة الأرض من صدع في الصفا، فأول خطوة تضعها بأنطاكية فتأتي إبليس فتلطمه." طب - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٩٠٠۔۔۔ وہ ہوا آئے گی جس سے اللہ تعالیٰ ہر مومن کی روح قبض کرے گا، پھر مغرب سے سورج طلوع ہوگا یہ وہی نشانی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، حاکم عن ابی الطفیل عن حذیفۃ ابن اسید)
38900- "يجيء الريح التي يقبض الله فيها نفس كل مؤمن ثم طلوع الشمس من مغربها وهي الآية التي ذكرها الله تعالى في كتابه." طب، ك - عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أسيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٩٠١۔۔۔ وہ ہوا آئے گی جس سے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی روح قبض کرے گا پھر مغرب سے سورج طلوع ہوگا یہ وہی نشانی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ (حاکم عن ابی شریحۃ، حسن)
38901- "يجيء الريح التي يقبض الله فيها نفس كل مؤمن ثم طلوع الشمس من مغربها وهي الآية التي ذكرها الله تعالى في كتابه." ك - عن أبي شريحة، حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٩٠٢۔۔۔ جانتے ہو یہ (سورج) کہاں جاتا ہے ؟ یہ جاتا ہے اور عرش کے تلے سجدہ کرتا ہے پھر اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت مل جاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ سجدہ کرے گا تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا پھر وہ اجازت طلب کرے گا تو اسے اجازت بھی نہیں ملے گی (بلکہ) اسے کہا جائے گا جہاں سے آیا ہے وہاں لوٹ جا، تو (یوں وہ) مغرب سے طلوع ہوگا۔ (یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے یہی غالب علم والے کا نظام ٹھہرایا ہوا ہے۔ “(بخاری عن ابی ذر)
38902- "تدري أين تذهب؟ فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن فيؤذن لها، ويوشك أن تسجد فلا يقبل منها وتستأذن فلا يؤذن لها، يقال لها: ارجعي من حيث جئت، فتطلع من مغربها، فذلك قوله تعالى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ} . "خ - عن أبي ذر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” الاکمال “
٣٨٩٠٣۔۔۔ سورج عرش کے نیچے چھپتا ہے پھر اسے اجازت ملتی ہے تو وہ لوٹ جاتا ہے تو جس رات اس نے وہ صبح مغرب سے طلوع ہونا ہوگا اسے اجازت نہیں ملے گی صبح کے وقت اسے کہا جائے گا : اپنی جگہ سے طلوع ہو پھر آپ نے یہ آیت پڑھی، کیا انھیں فرشتوں، تیرے رب کے حکم اور تیرے رب کی فضل نشانیوں کے آنے کا انتظار ہے۔ “(مسند احمد عن ابی ذر)
38903- "تغيب الشمس تحت العرش فيؤذن لها فترجع، فإذا كانت تلك الليلة التي تطلع صبيحتها من المغرب لم يؤذن لها فإذا أصبحت قيل لها: اطلعي من مكانك، ثم قرأ {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} . "حم عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” صور میں پھونک “
٣٨٩٠٤۔۔۔ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، حاکم عن ابن عمرو)
38904- "الصور قرن ينفخ فيه." حم، د، ت،1 ك - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” صور میں پھونک “
٣٨٩٠٥۔۔۔ صور والے (فرشتے ) کی دائیں جانب جبرائیل اور بائیں جانب میکائیل ہے۔ (حاکم عن ابی سعید)

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٦٢۔
38905- "صاحب الصور جبرئيل عن يمينه وميكائيل عن يساره." ك عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” صور میں پھونک “
٣٨٩٠٦۔۔۔ میں کیسے خوش عیش رہوں جب کہ صور والے (فرشتے) نے صور کو منہ میں رکھا ہے پیشانی جھکائی اور کان لگایا ہوا ہے حکم کا منتظر ہے کہ اسے پھونک مارنے کا کب حکم ملتا ہے ؟ تاکہ اس میں پھونک مارے۔ لوگوں نے عرض کیا : ہم کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کہنا اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اللہ پر ہی ہم بھروسا کیا۔ (مسند احمد، ابن حبان، ترمذی، حاکم عن ابی سعید، مسند احمد، حاکم عن ابن عباس، مسند احمد، طبرانی عن زید بن ارقم وابو الشیخ فی العظمۃ عن ابوہریرہ حلیۃ الاولیاء عن جابر والضیاء عن انس)

کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٤٤٠٨۔
38906- "كيف أنعم وصاحب القرن قد التقم القرن وحتى الجبهة وأصغى السمع ينتظر متى يؤمر بالنفخ فينفخ! قالوا كيف نصنع؟ قال: قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل، على الله توكلنا." حم حب، ت، ك - عن أبي سعيد، حم، ك - عن ابن عباس، حم، طب - عن زيد بن أرقم، وأبو الشيخ في العظمة - عن أبي هريرة حل - عن جابر، والضياء - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯২০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” صور میں پھونک “
٣٨٩٠٧۔۔۔ صور پھونکنے والے اپنے ہاتھوں میں دونرسنگے تھامے انتظار کررہے ہیں صور والا اسے اپنے منہ میں، جب سے پیدا ہوا، رکھے ہوئے اس انتظار میں ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم ہو تو پھونک مارے۔ (خطیب عن البراء)
38907- "إن صاحبي الصور بأيديهما قرنان يلاحظان النظر، صاحب الصور واضع على فيه منذ خلق ينتظر متى يؤمر أن ينفخ فيه فينفخ." خط - عن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯২১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ” صور میں پھونک “
٣٨٩٠٨۔۔۔ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس (سال) کا فاصلہ ہے پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرے گا تو لوگ زمین سے ایسے نکلیں گے جیسے پودے اگتے ہیں انسان کی ہر چیز گل سٹر جائے گی صرف دم کی ہڈی باقی رہے گی اسی سے قیامت کے روز مخلوق کی ترکیب ہوگی۔ (بخاری عن ابوہریرہ )
38908- "ما بين النفختين أربعون، ثم ينزل الله من السماء ماء فينبتون كما ينبت البقل، وليس من الإنسان شيء إلا يبلى إلا عظم واحد وهو عجب الذنب، ومنه يركب الخلق يوم القيامة." ق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: